خلوت اور گوشہ نشینی | Khalwat or Gosha Nasheeni

خلوت اور گوشہ نشینی  (Khalwat or Gosha Nasheeni)

سرّ الاسرار سے انتخاب

خلوت (Khalwat) دو طرح کی ہے ظاہری اور باطنی۔ ظاہری خلوت (Khalwat) یہ ہے کہ (انسان) اپنے نفس اور اپنے بدن کو لوگوں سے اس طرح الگ کرے کہ اپنے اخلاقِ ذمیمہ سے انہیں ایذا نہ پہنچا سکے اور نفسانی خواہشات اور ظاہری حواس کو ترک کر لے جس سے اخلاصِ نیت، ارادۂ موت اور قبر میں داخل ہونے کے تصور سے باطنی حواس کھل جائیں اور اس (خلوت) سے رضائے الٰہی کا حصول اوراپنے شر سے مومنین اور مومنات کو بچانے کی نیت ہو جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) نے فرمایا:
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ یَدِہٖ وَلِسَانِہٖ وَکَفَّ لِسَانَہٗ عَمَّا لاَیَعْنِیْہِ 
ترجمہ:مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کے شر) سے مسلمان محفوظ رہیں اور اس کی زبان لایعنی (بے مقصد اور فضول) باتوں سے رکی رہے۔
سَلاَمَۃُ الْاِنْسَانِ مِنْ  قِبَلِ اللِّسَانِ وَمُلاَمَۃُ الْاِنْسَانِ مِنْ قِبَلِ اللِّسَانِ وَکَفَّ عَیْنَیْہِ  عَنِ الْخِیَانَۃِ وَالنَّظْرِ اِلَی الْحَرَامِ وَکَذَاکَفَّ رِجْلَیْہِ وَاُذُنَیْہِ  
ترجمہ: انسان کی سلامتی زبان کی طرف سے ہے اور انسان کو ملامت بھی زبان کی طرف سے ہے اور (انسان کو چاہیے کہ) اپنی آنکھوں کو خیانت سے اور اپنی نظر کو حرام سے روکے اور اسی طرح اپنے پاؤں اور کانوں کو بھی۔

پس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) نے فرمایا:
اَلْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اِلٰی آخِرِ الْحَدِیْثِ
ترجمہ: آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں۔۔۔۔۔حدیث کے آخر تک۔ 
 (یہ ایک طویل حدیث ہے جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) نے جسم کے ہر ایک حصے کا نام لے کر فرمایا کہ یہ زنا کرتے ہیں مثلاً کان بھی زنا کرتے ہیں، زبان بھی زنا کرتی ہے، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور پاؤں بھی زنا کرتے ہیں۔)

ان اعضا سے زنا کا نتیجہ قبیح صورت حبشی شخص ہے جو قیامت کے دن اُس (زنا کار) کے ساتھ کھڑا ہوگا اور اللہ کے پاس اس (زنا کار) کے خلاف گواہی دے گا اور اس شخص کا مواخذہ کرے گا اور دوزخ میں عذاب دے گا۔ پس وہ شخص جو (ان گناہوں سے) توبہ کر لے اور اپنے نفس کو (اخلاقِ رذیلہ سے) روک لے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَنَہیَ النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی۔  (النازعات40-41)
ترجمہ:اور وہ (شخص) جس نے اپنے نفس کو ہواسے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنتِ  ماویٰ ہے۔
(توبہ کر لینے اور ہوائے نفس سے رکنے کے بعد) اس (حبشی) شخص کی صورت جنت کے غلمان کے بے ریش نوجوان کی خوبصورت صورت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ (توبہ کرنے والا) اس (حبشی) کے شر سے نجات پا لے گا۔خلوت گناہوں سے محفوظ رہنے کے لیے ایک قلعہ ہے (کیونکہ جب انسان گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے) تو نیک اعمال ہی باقی رہ جاتے ہیں اور وہ نیکوکار بن جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ (Allah) نے فرمایا:
فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا  لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَّلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا (سورۃ الکہف۔110)
ترجمہ: پس جو شخص اپنے ربّ کے لقا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اُسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے واحد رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔

اور باطن کی خلوت (Khalwat) وہ ہے جس میں نفسانی اور شیطانی تفکرات قلب میں داخل نہیں ہو سکتے جیسے کھانے، پینے اور پہننے کی محبت، اہل و عیال اور حیوانات مثلاً گھوڑے وغیرہ کی محبت اور ریا، بناوٹ اور شہرت کی محبت۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) نے فرمایا:
اَلشُّھْرَۃُ اٰفَۃٌ وَکُلُّ مَایَتَمَنَّا ھَا وَالْخُمُوْلُ رَاحَۃٌ وَکُلُّ مَا یَتَوَّقَاھَا 
ترجمہ:شہرت (میں) آفت ہے اور ہر شخص اس کا خواہشمند ہے اور گمنامی (میں) راحت ہے اور ہر کوئی اس سے بچتا ہے۔

اور نہ ہی (خلوت نشین) اپنے اختیار سے اپنے قلب میں کبر، عجب، بخل، حسد، غیبت، چغلی، کینہ، غصہ و غضب اور اس جیسے دوسرے ذمائم کو داخل ہونے دے کیونکہ جب خلوت میں ان ذمائم میں سے کچھ قلب میں داخل ہوتا ہے تو خلوت اور قلب اور اس قلب میں احسان اور اعمالِ صالحہ فاسد ہو جاتے ہیں اور قلب ہر طرح کی منفعت سے محروم رہ جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ (Allah) نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ (سورۃ یونس۔81)
ترجمہ:بے شک اللہ مفسدین کے اعمال کی اصلاح نہیں فرماتا۔

ہر وہ شخص جس کے قلب میں ان مفسدات میں سے کچھ ہو وہ مفسدین میں سے ہے بے شک ظاہر میں وہ اصلاح کاروں کی ہی صور ت والا ہو جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  (Prophet Mohammad pbuh) نے فرمایا:
اَلْکِبَرُ وَالْعُجَبُ یُفْسِدَانِ الْاِیْمَانَ 
ترجمہ: کبر اور عجب دونوں ایمان کو فاسد کر دیتے ہیں۔
اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزَّنَا 
ترجمہ: غیبت زنا سے بھی شدید (برائی) ہے۔
اَلْحَسَدُ یَاْ کُلُ الْحَسَنَاتِ  کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ 
ترجمہ: حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔
اَلْفِتْنَۃُ نَائِمَۃٌ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ اَیْقَظَھَا 
ترجمہ: سوئے ہوئے فتنے کو جگانے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔
اَلْبَخِیْلُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ وَلَوْ کَانَ عَابِدًا 
ترجمہ: بخیل جنت میں داخل نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ عابد ہی کیوں نہ ہو۔
اَلرِّیَائُ شِرْکٌ خَفِیٌّ وَشِرْکُہٗ کُفْرٌ 
ترجمہ: ریا خفی شرک ہے اور ایسا شرک کفر ہے۔
لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ نَمَّامٌ 
ترجمہ:چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

اور ان (احادیث) کے علاوہ اخلاقِ ذمیمہ کی مذمت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ پس یہ (باطنی خلوت نشین کے لیے) احتیاط کا مقام ہے اور تصوف میں سب سے پہلا مقصود ان (اخلاقِ ذمیمہ) سے قلب کا تصفیہ اور نفس کا خواہشات سے قلع قمع کرنا ہے۔ پس جو خلوت ، ریاضت، خاموشی، دائمی ذکر، محبت، توبہ و اخلاص اور صحیح سنی اعتقاد سے صحابہ کرامؓ میں سے اپنے سلف صالحین اور مشائخ میں سے تابعین او رعلمائے عاملین کی متابعت اختیار کرکے (ان برائیوں سے) اپنی اصلاح کر لیتا ہے اور توبہ و تلقین اور مذکورہ بالا شرائط کی ادائیگی سے مومن بن کر خلوت نشین ہوتا ہے تو اس کا علم اور عمل اللہ (Allah) کے لیے خالص ہو جاتا ہے، اس کا قلب منور ہو جاتا ہے، اس کی جلد نرم اور اس کی زبان پاک ہو جاتی ہے، اس کے ظاہری و باطنی حواس جمع ہو جاتے ہیں اور اس کے اعمال کو اللہ تعالیٰ اپنے حضور میں رفعت (بلندی) عطا کر کے قبول کر لیتا ہے اور اس کی دعا کو سنتا ہے جیسے وہ (نماز میں) کہتا ہے   سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ  ترجمہ:’’اور اللہ (Allah) سنتا ہے جو اس کی تعریف کی جائے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی دعا اور ثناء اور عاجزی کو قبول کرتا ہے اور اس کے صلے میں اپنے بندے کو اپنا قرب اور درجات عطا فرماتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ (Allah) نے فرمایا:
 اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ط (سورہ فاطر۔10)
ترجمہ:پاکیزہ کلام اسی کی طرف چڑھتا ہے اور وہی صالح اعمال کو بلند فرماتا ہے۔

پاک کلام سے مراد اپنی زبان کو ذکر اور توحید ِ حق تعالیٰ کا آلہ بن جانے کے بعد لغویات سے محفوظ کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ  ۔الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِھِمْ خَاشِعُوْنَ۔  وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ  ۔ (سورۃ المومنون 1-3)
ترجمہ:ان مومنین نے فلاح پائی جو اپنی نمازوں میں خشوع پیدا کرنے والے ہیں اور وہ جو فضول باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

پس اللہ تعالیٰ (Allah) ان کے علم اور عمل کو رفعت بخشتا ہے اور عامل (نیک اعمال کرنے والے) کو مغفرت اور اپنی رضا سے اپنی رحمت اور قرب و درجات عطا فرماتا ہے۔جب (باطنی) خلوت نشین کو یہ مراتب حاصل ہو جاتے ہیں تو اس کا قلب سمندر کی طرح (وسیع) ہو جاتا ہے اور لوگوں کی ایذارسانی سے اس میں تغیر نہیں آتا جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam)نے فرمایا:
کُنْ بَحْرًا لاَ تَتَغَیَّرُ 
ترجمہ:سمندر (کی مانند) ہو جاؤ جس میں کوئی تغیر نہیں آتا۔

نفسانی زمینیں اس (باطنی خلوت نشین کے قلب کے سمندر) میں ایسے فنا ہوتی ہیں جیسے فرعون اور اس کی آل سمندر میں غرق ہوئے۔ پس اس میں شریعت کی کشتی سلامتی سے جاری ہو جاتی ہے اور روحِ قدسی اس (سمندر) کی تہہ میں غوطہ لگا کر حقیقت کے جوہر، معرفت کے موتی اورلطائف کے مرجان نکال لاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ (Allah) نے فرمایا:
یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْ لُؤُ وَالْمَرْجَانُ(سورۃ الرحمن۔22)
ترجمہ:ان دونوں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں۔

اور یہ سمندر اس کو حاصل ہوتا ہے جو ظاہر اور باطن کے سمندر کو جمع کر لے جس کے بعد اس کے قلب کے سمندر میں کوئی فساد برپا نہیں ہوتا اور (باطنی خلوت نشین کی) توبہ خالص، علم نفع بخش اور عمل پاک ہو جاتا ہے اور وہ ارادۃً مناہی کی طرف مائل نہیں ہوتا اور اگر اس سے کوئی غلطی اور بھول چوک ہو بھی جائے تو استغفار، ندامت اور یقین کے باعث ان (گناہوں) کی معافی ہو جاتی ہے۔

(سرّ الاسرار۔ فصل نمبر 20)
(Sirr ul-Israr -Urdu translation : Ghaus al-Azam Shaykh Abdul Qadir al-Jilani)

 

26 تبصرے “خلوت اور گوشہ نشینی | Khalwat or Gosha Nasheeni

  1. ماشااللہ بہت ہی خوبصورت آرٹیکل ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔🤲❤

  2. ان مومنین نے فلاح پائی جو اپنی نمازوں میں خشوع پیدا کرنے والے ہیں اور وہ جو فضول باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

  3. حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) نے فرمایا:
    اَلشُّھْرَۃُ اٰفَۃٌ وَکُلُّ مَایَتَمَنَّا ھَا وَالْخُمُوْلُ رَاحَۃٌ وَکُلُّ مَا یَتَوَّقَاھَا
    ترجمہ:شہرت (میں) آفت ہے اور ہر شخص اس کا خواہشمند ہے اور گمنامی (میں) راحت ہے اور ہر کوئی اس سے بچتا ہے۔

  4. نفسانی زمینیں اس (باطنی خلوت نشین کے قلب کے سمندر) میں ایسے فنا ہوتی ہیں جیسے فرعون اور اس کی آل سمندر میں غرق ہوئے۔ پس اس میں شریعت کی کشتی سلامتی سے جاری ہو جاتی ہے اور روحِ قدسی اس (سمندر) کی تہہ میں غوطہ لگا کر حقیقت کے جوہر، معرفت کے موتی اورلطائف کے مرجان نکال لاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ (Allah) نے فرمایا:
    یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْ لُؤُ وَالْمَرْجَانُ(سورۃ الرحمن۔22)
    ترجمہ:ان دونوں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں

  5. سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خلوت اور گوشہ نشینی پر بہترین مضمون

  6. حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔

  7. شہرت (میں) آفت ہے اور ہر شخص اس کا خواہشمند ہے اور گمنامی (میں) راحت ہے اور ہر کوئی اس سے بچتا ہے۔ (حدیثِ مبارکہ)

  8. بہترین ارٹیکل ہے
    اللہ پاک ہم سب کو پڑھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں