826

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے فضائل–Allah-ki-rah-mein-maal-kharach-karney-kay-fazail

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے  فضائل

 انفاق فی سبیل اللہ 

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔
انفاقِ واجبہ: یہ فرض ہے اور اصطلاحِ شریعت میں اسے ’’زکوٰۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔ صوفیاء اور فقراء اسے زکوٰۃِ شریعت یا زکوٰۃِ شرعی کہتے ہیں۔ عشر بھی اس میں شامل ہے۔
انفاقِ نافلہ: ان میں وہ تمام صدقات اور خیرات شامل ہیں جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ فقراء اسے زکوٰۃِ حقیقی یا زکوٰۃِ حقیقت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جو چیز رضائے الٰہی کے لیے فی سبیل اللہ دی جائے صدقہ یا خیرات کہلاتی ہے۔

زکوٰۃِ شریعت (زکوٰۃِ شرعی)

زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں لیکن اصطلاحِ شریعت میں مقررہ نصاب کے مطابق معینہ وقت پر ہر سال اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ’’زکوٰۃ‘‘ کہلاتا ہے اور یہ ہر صاحب ِ نصاب مسلمان پر فرض ہے۔
زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور قرآنِ پاک اور احادیث ِ مبارکہ میں اس کی ادائیگی کا بار بار حکم آیا ہے۔جہاں نماز کا حکم ہے وہاں زکوٰۃ کی ادائیگی کا بھی حکم ہے۔ جہاں نماز بدنی عبادت ہے وہاں زکوٰۃ مالی عبادت ہے۔
قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ  (النور۔ 56)
ترجمہ: اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
ھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ لا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَo (النمل۔ 2,3)
ترجمہ: ہدایت و خوشخبری ہے ان مومنوں کے لیے‘ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔
ا لَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ط اُوْلٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo (لقمان۔ 4,5)
ترجمہ:جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃد یتے ہیں اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔
وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ ط فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ۔  (الاعراف۔156)
ترجمہ: اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ پس میں عنقریب اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔
وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَo (الروم۔39)
ترجمہ: اور جو زکوٰۃ تم اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال کی خاطر دیتے ہو تو وہی لوگ اپنا مال بڑھانے والے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ج وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَo (البقرہ۔ 277)
ترجمہ: بے شک جولوگ ایمان لائے اور اعمالِ صالح اختیار کیے اور نماز کو قائم کیا اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لیے ان کے ربّ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے اور ان کے لیے نہ کچھ خوف ہے اور نہ ہی کوئی غم۔

احادیثِ مبارکہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے احکامات

٭ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہٗ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’زکوٰۃ اسلام کا پُل ہے۔‘‘ (طبرانی)
٭ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے حکم ہے کہ ہم نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں۔ زکوٰۃ نہ دینے والوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ (طبرانی)
٭ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کے مال کو قیامت کے دن سانپ بنا کر اس کی گردن میں ڈال دے گا۔ (ترمذی)
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:
زکوٰۃ دے کر اپنے مال کو مضبوط قلعے میں محفوظ کر لو۔ اپنے بیماروں کا علاج صدقہ کے ذریعہ کیا کرو اور مصیبت کے نزول کے و قت دعا اور عاجزی سے مدد مانگو۔ (ابوداؤد)
٭ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہٗ روایت فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی اس مال کا شر اس سے جاتا رہا۔‘‘ (الحاکم فی المستدرک، طبرانی)
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب تُو نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تُو نے فرض ادا کر دیا۔‘‘ (بخاری)
٭ حضرت عمار ابن ِ حزم رضی اللہ عنہٗ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ نے اسلام میں چار چیزیں فرض کی ہیں جو شخص ان میں سے تین ادا کرے گا وہ اسے کچھ کام نہ دیں گی جب تک کہ پوری چار ادا نہ کرے۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں: نماز، زکوٰۃ، ماہِ رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔‘‘ (مسند ِ احمد)
٭ حضرت عبد اللہ ابن ِ عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مانتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ دے۔‘‘ (طبرانی)
٭ حضرت عقلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمیں فرمایا ’’تمہارے اسلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم اپنے مال کی (کامل) زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘ (طبرانی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مال میں سے زکوٰۃ نہ نکالی جائے اور اس میں ملی جلی رہے تو وہ مال کو تباہ کر کے چھوڑتی ہے۔ (مشکوٰۃ)

نصابِ زکوٰۃ

مال و دولت کی وہ خاص مقدار جس پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے اصطلاحِ شریعت میں اسے ’’نصابِ زکوٰۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جس شخص کے پاس نصاب کے مطابق مال و دولت موجود ہو اسے ’’صاحب ِ نصاب‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب تک مال بقدرِ نصاب نہ ہو گا زکوٰۃ فرض نہ ہو گی۔ مختلف انواع کے مال کا نصاب بھی مختلف ہے:
1 ساڑھے سات تولے (87.22 گرام) سونا۔ خواہ کسی بھی شکل میں ہو یا اس کی قیمت کے برابر رقم۔
2 ساڑھے باون تولے (611 گرام) چاندی۔ خواہ کسی بھی شکل میں ہو یا اس کی قیمت کے برابر رقم۔
3 مالِ تجارت کا نصاب یہ ہے کہ اس کی قیمت باون تولے چاندی کے برابر ہو۔
4 اونٹ کا نصاب پانچ اونٹ۔
5 گائے و بھینس کا نصاب تیس گائے و بھینس۔
6 بھیڑ بکریوں کا نصاب 40 بھیڑیں یا بکریاں۔
7 سواری کے گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
8 کرائے پر دی جانے والی چیزوں پر زکوٰۃ نہیں ہے لیکن ان سے حاصل ہونے والی آمدنی پر زکوٰۃ ہے۔
ادائیگی زکوٰۃ کی شرح اڑھائی فیصد ہے۔
نصابِ زکوٰۃ پر مزید تفصیلات کے لیے شریعت کی کتب ملاحظہ فرمائیں یا علماء سے رجوع فرمائیں۔

زکوٰۃ نہ دینے پر وعید

قرآن و حدیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو مشرکین میں شامل فرمایا ہے۔

وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ لا الَّذِیْنَ لَایُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (حٰم ٓ السجدہ۔ 6,7)
ترجمہ:اور مشرکین پر افسوس‘ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج کی شب ایسے لوگوں کے قریب سے گزرے کہ جن کے پیچھے اور آگے دھجیاں تھیں، وہ اس طرح چر رہے تھے جس طرح جانور اور بکریاں ہوں اور وہ جہنم کی گرم اور کانٹے دار جھاڑی چرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا ’’اے جبرائیل ؑ! یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ عرض کیا ’’یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرتا بھی نہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ جناب رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو بھی سونے اور چاندی کا مالک اس میں سے حق (زکوٰۃ) ادا نہ کرے قیامت کے دن اس کے لیے آگ کے سات پڑے بنائے جائیں گے اور انہیں دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا، پھر اس کے پہلو اور اس کی پشت کو داغا جائے گا۔ اس کا بدن (اس قدر) وسیع کر دیا جائے گا کہ سارے پڑوں کو کافی ہو جائے گا۔ اگر زیادہ ہو جائے تو (بدن بھی) بڑھا دیا جائے گا۔ جب ٹھنڈے ہونگے تو دوبارہ گرم کیا جائے گا۔ یہ کام دن بھر ہو گا جو پچاس ہزار سال طویل ہو گا۔ آخر کار بندوں کے درمیان (میزان سے) فیصلہ ہو جائے گا اور وہ اپنی راہ چلے گا، جنت یا دوزخ۔‘‘

زکوٰۃِحقیقت (زکوٰۃِ حقیقی)

قرآن و حدیث میں اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے مال خرچ کرنے کا حکم باربار آیا ہے بعض جگہ مال کمانے کے فضائل بھی آئے ہیں لیکن مال جمع کرنے کا حکم کہیں بھی نہیں آیا اور نہ ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مال جمع کرنے کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ بلکہ ضرورت سے زائد مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے۔ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جائز ضرورت سے زائد مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو ’’انفاق بالعفو‘‘ کہا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط قُلِ الْعَفْوَط(البقرہ۔ 219)
ترجمہ: اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا مال خرچ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرما دیجیے جتنا (ضرورت سے) زائد ہو۔
اس آیت کی شرح میں سلطان المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ اپنے اہل وعیال کے خرچ کے بعد جو بچے وہ عفو ہے۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہٗ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں ’’اے آدمی! جو تجھ سے زائد ہے اس کو تو خرچ کر دے یہ بہتر ہے تیرے لیے اور تو اس کو روک کے رکھے یہ تیرے لیے بُرا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا دوست، ولی اور حبیب نہ بنائیں جو اپنا گھر بار اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دے۔
فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط ( النسا۔ 89)
ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان میں سے کسی کو اپنا ولی (دوست) نہ بنائیں جب تک اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار نہ چھوڑیں۔
قرآنِ پاک میں ضرورت سے زائد مال کو اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے کے بے شمار احکامات ہیں:
الٓمّٓ ج  ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ج فِیْہِ ج ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ لا۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ لا۔ (البقرہ۔1-3)
ترجمہ: الٓمٓ۔ (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں، (یہ) تقویٰ والوں کے لیے اس میں ہدایت ہے۔ جو غیب (باطن) پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْق ف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا ط وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۔ (آلِ عمران۔ 186)
ترجمہ: بے شک ضرور ضرور تمہاری آزمائش ہو گی تمہارے مال اور تمہاری جانوں سے اور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ بُرا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بہت بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلاَِنْفُسِکُمْ ط وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغآئَ وَجْہِ اللّٰہِ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۔ (البقرہ۔ 272)
ترجمہ: اور تم جو مال بھی خرچ کرو، سو وہ تمہارے اپنے فائدے میں ہے اور اللہ کی رضا کے سوا تمہارا خرچ کرنا مناسب ہی نہیں ہے اور تم جو مال بھی خرچ (اللہ کی راہ میں) کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا اجر دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیںکیا جائے گا۔
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ (آلِ عمران۔ 92)
ترجمہ: جب تک تم اپنی محبوب چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہیں کرو گے ہر گز نیکی (بھلائی) کو نہ پاؤ گے اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ صلی ج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔(البقرہ۔ 195)
ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور احسان کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ محسنین سے محبت کرتا ہے۔
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ط وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُطُ ص وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔ (البقرہ۔ 245)
ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے پھر وہ اس کے لیے اسے کئی گنا بڑھا دے اور اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
وَمَا لَکُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط (الحدید۔ 10)
ترجمہ:اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت اللہ ہی کی ہے۔
اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌo  (الحدید۔ 18)

ترجمہ: بے شک صدقہ و خیرات دینے والے مرد اور صدقہ و خیرات دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دیا یہ ان کے لیے کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لیے بہت بڑا عزت والا اجر ہے۔

     مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ط وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ (البقرہ۔ 261)
ترجمہ: جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اُگیں، ہر بالی کے اندر سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ اضافہ فرما دیتا ہے اللہ بڑی وسعت والا اور علم رکھنے والا ہے۔
 وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍلا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَo (المنافقون۔ 10)
ترجمہ: اور خرچ کرو (اللہ کی راہ میں) اس میں سے‘ جو رزق ہم نے تم کو عطا کیا ہے قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے پھر وہ کہنے لگے اے میرے ربّ! تُو نے مجھے تھوڑی مدت تک کی مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں صدقہ و خیرات کر لیتا اور صالحین میں سے ہو جاتا۔
 اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْ مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْ لَھُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ ۔ (الحدید۔7)
ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں سے اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے پس تم میں سے جو ایمان لائیں اور خیرات کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
   یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌط (البقرہ۔254)
ترجمہ:اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی نہ شفاعت۔

وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَo (الانفال۔60)
ترجمہ: جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔
  یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ط(البقرہ۔ 276)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔

 

احادیثِ مبارکہ میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے احکامات

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’صدقہ مال کو کم نہیں ہونے دیتا (خواہ آمدنی بڑھ جائے یا برکت بڑھ جائے یا ثواب بڑھتا رہے)۔‘‘ (مسلم)
٭ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’خیرات کرنے میں جلدی کیا کرو۔‘‘
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے آدم کے بیٹے! تُو نیک کام میں خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
٭ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اپنی حیات میں ایک درہم خرچ کرنا مرتے وقت سو درہم خیرات کرنے سے افضل ہے۔‘‘ (ابوداؤد)
٭ حضرت اسماء بنت ِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ (خوب) خرچ کیا کر (اللہ کی راہ میں) اور شمار نہ کر یعنی گنتی نہ کیا کر (اگر ایسا کرو گی) تو اللہ بھی تجھ پر شمار کرے گا اور محفوظ کر کے نہ رکھ (اگر ایسا کرے گی) تو اللہ تعالیٰ تجھ پر بھی محفوظ کر کے رکھے گا (یعنی کم عطا کرے گا)، خرچ کر جتنا بھی تجھ سے ہو سکے۔ (کنز العمال)
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص ایک کھجور کے برابر پاک کمائی سے خرچ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کو داہنے ہاتھ میں لیتا ہے پھر اس کو بڑھاتا ہے جیسا کہ تم سے کوئی اپنے بچھڑے کو پا لیتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
٭ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اپنے مال و دولت کو زکوٰۃ کے ذریعے بچاؤ اور اپنی بیماریوں کا علاج صدقے کے ذریعے کرو۔‘‘ (طبرانی۔ بیہقی)
٭ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بے شک صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بُری موت سے بچاتا ہے۔‘‘ (ترمذی)
٭ ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا جب تک کہ حساب کا فیصلہ نہ ہو۔ 
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ روزانہ صبح کے وقت دو فرشتے اُترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے ’’اے اللہ! خرچ کرنے والوں کو بدل عطا فرما۔‘‘ دوسرا دعا کرتا ہے ’’اے اللہ! روک کے رکھنے والوں کا مال برباد کر۔‘‘ (متفق علیہ۔ مشکوٰۃ المصابیح)
٭ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو اس لیے کہ بلا صدقہ کو نہیں پھاند سکتی۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
٭ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ ستر بلاؤں کو دور کرتا ہے جن میں کم سے کم درجہ جزام کی اور برص کی بیماری ہے۔ (کنز العمال)
٭ حدیث شریف میں ہے کہ اپنے تفکرات اور غموں کو صدقہ سے دور کیا کرو اس سے اللہ تعالیٰ تم سے ضرر پہنچانے والی چیزوں کو بھی دور کرے گا اور تمہاری دشمن پر مدد کرے گا۔ ( کنز العمال)
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو دور کرتا ہے اور بُری موت کو ہٹاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)
٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو بے شک مصیبتیں صدقہ کونقصان نہیں پہنچا سکتیں (یعنی صدقہ بلاؤں سے انسان کے لیے ڈھال ہے)۔‘‘ 
حدیث ِ مبارکہ میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
’’اے آدم کے بیٹے! تُو ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور اگر تو اس کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لیے بُرا ہے اور بقدرِ کفایت روکنے پر ملامت نہیں۔‘‘ (مسلم، مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ میں نے مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سلام پھیرا اور تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر نہایت عجلت کے ساتھ لوگوں کے کندھوں پر سے گزرتے ہوئے ازواجِ مطہرات کے گھروں میں سے ایک کے گھر تشریف لے گئے۔ لوگوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس طرح جلدی تشریف لے جانے سے تشویش پیدا ہوئی کہ نا معلوم کیا بات پیش آگئی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم واپس تشریف لائے تو لوگوں کی حیرت کو محسوس کیا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مجھے سونے کا ایک ٹکڑا یاد آ گیا تھا جو گھر میں رہ گیا تھا، مجھے یہ بات گراں گزری کہ (موت آ جائے اور وہ رہ جائے اور میدانِ حشر میں اس کی جواب دہی اور حساب ہو) مجھے روک لیا جائے اس لیے اس کو جلدی خیرات کر دینے کے لیے لے آیا ہوں۔‘‘ (بخاری۔ مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیماری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس چھ سات اشرفیاں آئیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ان کو جلدی سے خیرات کر دو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیماری کی وجہ سے مجھے ان کو خیرات کرنے کی مہلت نہ ملی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کچھ دیر بعد دریافت فرمایا ’’وہ اشرفیاں تقسیم کر دیں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیماری نے بالکل مہلت نہ دی۔‘‘ فرمایا ’’اُٹھا کر لاؤ۔‘‘ ان کو لے کر ہاتھ پر رکھا اور فرمایا کہ اللہ کے نبی کا کیا گمان ہے اگر وہ اس حال میں اللہ سے ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ’’ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرانی کا اثر تھا۔ میں سمجھی طبیعت ناساز ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ کے چہرہ مبارک پر کچھ گرانی ہے کیا طبیعت خراب ہے؟ فرمایا سات دینار رات آگئے تھے وہ بستر کے کونے پر پڑے ہیں اب تک خرچ نہیں ہوئے۔‘‘ (احیاء العلوم)
اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکامات کے مطابق اپنی اور اپنے اہل وعیال کی ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنا عذاب کا موجب ہے اور اللہ کی راہ میںبے ریا خرچ کرنا اللہ کی رضا کا موجب اور زکوٰۃِ حقیقی ہے۔

بیوی کا خاوند کے مال سے صدقہ و خیرات 

٭ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب عورت اپنے گھر کے کھانے میں سے اس طرح صدقہ کرے کہ اس کو خراب نہ کرے تو اس کو خرچ کرنے کا ثواب ہے اور خاوند کو اس لیے ثواب ہے کہ اس نے کمایا تھا اور کھانے کا انتظام کرنے والے (مرد یا عورت) کو ایسا ہی ثواب ہے اور ان تینوں میں سے ایک کے ثواب کی وجہ سے دوسرے کے ثواب میں کمی نہ ہو گی‘‘۔( متفق علیہ ۔مشکوٰۃ المصابیح)
اس حدیث شریف میں دو مضامین کا بیان ہے ایک بیوی کے خرچ کرنے کے متعلق ہے دوسرا سامان کے محافظ، خزانچی اور منتظم کے متعلق ہے اور دونوں مضامین پر روایات بکثرت آتی ہیں۔ شیخین کی ایک اور روایت میں حضورا کرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے ’’جب عورت خاوند کی کمائی میں سے اس کے حکم کے بغیر خرچ کرے تو اس عورت کو آدھا ثواب ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)
٭ حضرت سعد رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عورتوں کی جماعت کو بیعت کیا تو ایک عورت کھڑی ہوئی جو بڑے قد کی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا کہ قبیلہ مُضَر کی ہو کہ ان کے قد لانبے ہوتے ہوں گے اور عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم عورتیں اپنے والدوں پر بھی بوجھ ہیں، اپنی اولاد پر بھی اور اپنے خاوندوں پر بھی بوجھ ہیں۔ ہمیں ان کے مال میں سے کیا چیز لینے کا حق ہے؟‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’تروتازہ چیزیں (جن کے روکنے میں خراب ہونے کا اندیشہ ہو) کھا بھی سکتی ہو اور دوسروں کو دے بھی سکتی ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)
٭ ایک اور حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے ’’اللہ تعالیٰ روٹی کے ایک لقمہ اور کھجور کی ایک مٹھی کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے۔ ایک گھر کے مالک کو یعنی خاوند کو ، دوسرا بیوی کو جس نے یہ کھانا پکایا، تیسرے اس خادم کو جو دروازہ تک مسکین کو دے کر آیا۔‘‘ (کنز العمال)
٭ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، بجز اس کے جو (میرے خاوند) حضرت زبیر (رضی اللہ عنہٗ) مجھے دے دیں۔ کیا میں اس میں سے خرچ کر لیا کروں؟‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاـ: ’’خوب خرچ کیا کرو، باندھ کر نہ رکھو کہ تم پر بھی بندش کر دی جائے گی۔‘‘ (کنز العمال)

اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال نہ خرچ کرنے پر وعید

اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ نہ کرنے اور بخل پر اللہ تعالیٰ نے سخت وعید فرمائی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ  لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ (آلِ عمران۔ 180)
ترجمہ: اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں سے دینے میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے، اسے ہرگز اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے بُرا ہے۔ عنقریب وہ مال جس میں انہوں نے بخل کیا تھا (اور راہِ خدا میں خرچ نہیں کیا تھا) قیامت کے دن ان کے گلے میں طوق ہو گا۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ  کَانَ  مُخۡتَالًا  فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ وَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ  عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿ۚ۳۷﴾ (النسا۔36,37)

ترجمہ: بے شک اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی اترانے والا اور بڑائی مارنے والا، جو خود بھی بخل کرے اور دوسروں کو بھی بخل کا سبق دے۔ اور اللہ نے جو اسے اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائے اور کافروں کے لیے ہم نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَایُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍoلا یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوبُھُمْ وَظُہُوْرُھُمْ ط ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْ قُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ  (التوبہ۔ 34,35)
ترجمہ: اور وہ جو جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں خوشخبری سنا دو درد ناک عذاب کی، جس دن وہ (سونا اور چاندی) تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں، پھر اس سے داغی جائیں گی ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں۔ یہ ہے وہ جسے تم نے اپنے لیے جوڑ رکھا تھا اب مزہ چکھو اپنے جوڑے ہوئے خزانے کا۔

زکوٰۃِ شریعت فرض ہے سنت نہیں

زکوٰۃِ شریعت اور زکوٰۃِ حقیقت کے فضائل اور احکامات کو قرآن و احادیث کی روشنی میں کھول کر بیان کر دیا گیا ہے زکوٰۃ فرض ہے سنت نہیں۔ گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس کبھی اتنا مال جمع ہوا ہی نہیں تھا کہ کہ نصاب کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنے کی نوبت آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ضرورت سے زائد مال فوراً اللہ کی راہ میں خرچ فرما دیتے تھے۔ لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع میں ضرورت سے زائد تمام مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دینا سب سے اعلیٰ ترین سنت ہے اور یہی زکوٰۃِ حقیقی یا زکوٰۃِ حقیقت ہے۔ گویا زکوٰۃِ حقیقت کا مرتبہ زکوٰۃِ شریعت سے اعلیٰ ہے۔

سنتِ خلفاء راشدین اور صحابہ کرامؓ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ:

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ جب ایمان لائے تو آپ رضی اللہ عنہٗ کے پاس چالیس ہزار اشرفیاں تھیں جو سب کی سب آپ رضی اللہ عنہٗ نے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر دیں۔ قرآنِ پاک میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کو یوں بیان کیا گیا ہے:

وَ  سَیُجَنَّبُہَا  الۡاَتۡقَی ﴿ۙ۱۷﴾ الَّذِیۡ یُؤۡتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴿ۚ۱۸﴾ وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ  مِنۡ نِّعۡمَۃٍ  تُجۡزٰۤی ﴿ۙ۱۹﴾ اِلَّا ابۡتِغَآءَ  وَجۡہِ  رَبِّہِ الۡاَعۡلٰی ﴿ۚ۲۰﴾وَ  لَسَوۡفَ یَرۡضٰی ﴿٪۲۱﴾  (سورۃ الیل 17-21)

ترجمہ: آگ سے بچے گا وہ متقی، جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے مگر ربّ ِ اعلیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا۔
غزوہ تبوک کے وقت آپ رضی اللہ عنہٗ نے جو کچھ گھر میں تھا، سب لا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دریافت فرمانے پر کہ گھر میں کیا چھوڑا؟ عرض کیا ’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یعنی ان کی رضا کو۔‘‘
وصال کے بعد آپ رضی اللہ عنہٗ کو کفن بھی پرانے کپڑے کا پہنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا زکوٰۃ کے بارے میں فرمان ہے:
’’سو درہم میں سے اڑھائی درہم بخیلوں اور دنیا داروں کی زکوٰۃ ہے اور صدیقوں کی زکوٰۃ تمام مال کا صدقہ کر دینا ہے۔‘‘
آپ رضی اللہ عنہٗ کا فرمان ہے:
’’صدقہ فقیر کے سامنے عاجزی سے اور باادب پیش کر کیونکہ خوش دلی سے صدقہ دینا قبولیت کا نشان ہے۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ:

غزوہ تبوک کے موقع پر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صدقہ طلب فرمایا تو گھر کا آدھا مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ 
دورانِ خلافت صرف ایک جوڑا کپڑے کا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے پاس گیا آپ رضی اللہ عنہٗ اپنی سواری پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے میں بھی ساتھ ہو لیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ ایک قمیض اور ایک تہمد پہنے ہوئے تھے تہمد کا یہ عالم تھا کہ پنڈلیوں سے اوپر جا رہا تھا میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو امیر المومنین فرمانے لگے اس کا ذمے دار یہ واحد جوڑا ہے جسے میں دھو کر ڈالتا ہوں تو سوکھنے میں دیر لگاتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہٗ کے لباس میں اکتیس پیوند چمڑے کے اور ایک پیوند کپڑے کا دیکھا۔
یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تربیت یافتہ ہستیاں تھیں جن پر کبھی زکوٰۃ فرض ہی نہیں ہوئی۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ:

آپ رضی اللہ عنہٗ جب مسلمان ہوئے تو مسلمانوں میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ قبولِ اسلام کے بعد آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنا تمام مال اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ غزوہ تبوک ہو، مدینہ کا قحط ہو، مسجد ِ نبوی کی زمین کی خریداری ہو، مدینہ میں میٹھے پانی کے کنویں کی خریداری ہو یا ازواجِ مطہرات کے حج کے اخراجات ہوں، آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنامال ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا۔ غرض کہ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا اور شہادت کے دن آپ رضی اللہ عنہٗ کی ملکیت صرف ایک اونٹنی تھی جو آپ رضی اللہ عنہٗ نے سفر ِ حج کے لیے رکھی ہوئی تھی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ:

حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور آپ کے گھرانہ کو کبھی پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہ ہوا اگر مال آیا بھی تو تقسیم ہونے تک چین نہ لیا۔ آپ کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:

فَمَا وَجَبَتْ عَلَیَّ زَکٰوۃُ مَالِ

وَھَلُ تَجِبُ الزَّکٰوۃُ عَلَی جَوَّادِ
ترجمہ: مجھ پر کبھی بھی مال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوئی کیا سخی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟

صحابہ کرامؓ اور زکوٰۃ:

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی یہی حالت تھی کہ ان پر کبھی زکوٰۃِ شرعی واجب ہی نہیں ہوئی تھی کیونکہ زکوٰۃِ حقیقی کی ادائیگی کی وجہ سے صاحب ِ نصاب ہی نہیں ہوتے تھے۔

 

زکوٰۃِ حقیقی اور اولیاء کرام

مسلم بن یسار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازیں دو ہیں۔ ایک فرض، ایک نفل۔ اسی طرح زکوٰۃ بھی دو طرح کی ہے۔ ایک فرض ، ایک نفل۔ اور قرآن پاک میں دونوں مذکور ہیں۔ (درِ منشور)
٭ ایک بزرگ سے کسی نے دریافت کیا کہ کتنے مال میں کتنی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا عوام کے لیے دو سو درہم میں سے پانچ درہم یعنی چالیسواں حصہ شریعت کا حکم ہے لیکن ہم لوگوں پر سارا مال صدقہ کر دینا واجب ہے۔ (احیاء العلوم)
 حضرت داتا گنج بخش علی بن عثمان ہجویری ؒ فرماتے ہیں:
دنیا کی نعمت جو کہ زکوٰۃ ہے‘ اولیاء اللہ کے نزدیک محمود اور بہتر بات نہیں ہے۔ کیونکہ بخل (کنجوسی) مردوں (طالبانِ مولیٰ) کے لیے منع ہے جب کوئی شخص دو سو درہم کو اپنے قبضہ میں رکھے اور ایک سال مکمل انہیں اپنے تصرف میں پابند کرے اور پھر پورے سال کے بعد پانچ درہم زکوٰۃ نکال دے تو صوفیاء کرام کے نزدیک یہ مقامِ بخل (کنجوسی) ہے۔ جبکہ سخی اور کریم احباب کا کام مال کو خرچ (اللہ کی راہ میں) کر دینا اور ان کی عادت مبارکہ سخاوت کرنے کی ہوتی ہے۔ پس ان پر زکوٰۃ کہاں واجب ہوتی ہے۔ (کشف المحجوب)
٭ کشف المحجوب میں بیان کیا گیا ہے کہ علمائے ظاہر میں سے ایک نے آزمائش کے طور پر حضرت ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ سے زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا کہ کتنی ادا کرنی چاہیے؟ آپؒ نے فرمایا ’’جب بخل موجود ہو اور مال حاصل ہو تو ہر دو سو درہم میں سے پانچ درہم اور ہر بیس دینار میں سے نصف دینار زکوٰۃ ادا کرنا تمہارا مذہب ہے۔ لیکن میرا مذہب یہ ہے کہ کوئی چیز بھی ملکیت میں نہیں ہونی چاہیے تاکہ زکوٰۃ کے مشغلے سے چھٹکارا ملا رہے۔‘‘ اس نے کہا اس مسئلہ میں آپ کا امام کون ہے؟ آپؒ نے جواب دیا ’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ ‘‘ کہ جو کچھ آپؓ کے پاس تھا راہِ خدا میں دے دیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے پوچھا کہ مَا خَلَفْتُ بِعِیَالِکَ (گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہو؟) تو انہوں نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کا رسول۔‘‘

٭ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ زکوٰۃِ شریعت، زکوٰۃِ طریقت اور زکوٰۃِ حقیقت کے بارے میں سرّالاسرار میں فرماتے ہیں:
زکوٰۃِ شریعت یہ ہے کہ دنیا میں جو مال کمائے تو مقررہ نصاب میں سے ہر سال معینہ وقت پر مصارفِ زکوٰۃ (طلب و فکرِ حق تعالیٰ) کو عطا کرے اور زکوٰۃِ طریقت یہ ہے کہ آخرت کی کمائی (نیک اعمال) سے فقرائے دین اور مساکین ِ اُخروی کو عطا کرے اور اس زکوٰۃ کو قرآن میں صدقہ کا نام دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ (التوبہ۔60)
ترجمہ: بے شک صدقات فقراء کے لیے ہیں۔
یعنی یہ فقیر کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاتھ میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا (اس صدقہ کو) قبول کر لینا ہے اور یہ (زکوٰۃ) دائمی ہے اور (زکوٰۃِ طریقت سے مراد) ایصالِ ثواب ہے۔ پس جب (انسان) اللہ کی رضا کے لیے آخرت کی کمائی (یعنی نیک اعمال) میں سے گناہگاروں کو (ثواب) بخش دیتا ہے تو اللہ اس کے وہ سب گناہ جو اس نے صدقہ، نماز، روزہ، حج، تسبیح، تحلیلا، تلاوتِ قرآن اور سخاوت اور دیگرنیک اعمال کی ادائیگی میں کیے تھے، معاف فرما دیتا ہے تو اس کی اپنی نیکیوں میں سے اس کی اپنی ذات کے لیے کچھ ثواب نہیں بچتا۔ پس وہ مفلس ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسی سخاوت اور مفلسی کو پسند کرتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اَلْمُفْلِسُ فِیْ اَمَانِ اللّٰہِ تَعَالٰی فِی الدَّارَیْنِ
ترجمہ:مفلس دونوں جہان میں اللہ کی امان میں ہوتا ہے۔
اور حضرت رابعہ عدویہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

اِلٰھِیْ مَا کَانَ نَصِیْبِیْ مِنَ الدُّنْیَا فَاَعْطِہُ لِلْکَافِرِیْنَ وَمَا کَانَ نَصِیْبِیْ مِنَ الْعُقْبٰی فَاَعْطِہُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ فَلاَ اُرِیْدُ مِنَ الدُّنْیَا اِلاَّ ذِکْرَکَ وَلاَ مِنَ الْعُقْبٰی اِلاَّ رُؤْیَتَکَ

ترجمہ:الٰہی! دنیا میں جو کچھ میرے نصیب میں ہے وہ کافروں کو عطا کر دے اور جو کچھ آخرت میں میرے نصیب میں ہے وہ مومنین کو عطا کر دے کیونکہ میں دنیا میں تیرے ذکر اور آخرت میں تیرے دیدار کے سوا کچھ نہیں چاہتی۔
پس بندہ وہ ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے وہ اللہ کی راہ میں دے دے تو قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی تمام نیکیوں کے بدلہ میں اُس جیسی دس نیکیاں عطا کرے گا جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِہَا ۚ (الانعام۔160)
ترجمہ:جو کوئی ایک نیکی لائے گا اس کے لیے اُس جیسی دس (نیکیاں) ہوں گی۔
اور اس زکوٰۃ کا مقصد یہ بھی ہے کہ قلب کو نفسانی صفات سے پاک کیا جائے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
قَدۡ  اَفۡلَحَ  مَنۡ  زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾ (الشمس۔9)
ترجمہ:فلاح پائی انہوں نے جنہوں نے اپنا تزکیہ کر لیا۔
اور فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ  قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضۡعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ(البقرہ۔245)
ترجمہ:کون ہے وہ جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے لیے اس دینے کو مزید بڑھا دے۔
اس دائرہ میں قرض سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال اور نیکیوں میں سے بغیر منت کے محض ربّ کریم کی شفقت کے لیے اس کی مخلوق پر احسان کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَ الۡاَذٰی ۙ (البقرہ۔264)
ترجمہ:اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور ایذا دے کر باطل نہ کر لیا کرو۔
یعنی اللہ کی راہ میں اس خرچ کے بدلے میں دنیا نہ طلب کرو جیسا کہ اللہ عزّوجل نے فرمایا:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْامِمَّا تُحِبُّوْنَ   (آلِ عمران۔92)
ترجمہ:تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک تم اس میں سے خرچ نہ کرو جسے تم محبوب رکھتے ہو۔
 حجۃ ُ الاسلام حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ زکوٰۃِ حقیقی کے اسرار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
واضح ہو کہ نما زکی طرح زکوٰۃ کی بھی ایک صورت ہے اور ایک روح ہے۔ جو شخص زکوٰۃ کی روح اور حقیقت سے بے خبر ہے اس کی زکوٰۃ بھی بے روح ہو گی۔ زکوٰۃ کے اسرار تین ہیں:
اوّل یہ کہ خلق کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر مامور کیا گیا ہے اور کوئی مسلمان ایسانہیں ہے جو اس بات کا مدعی نہ ہو کہ اسے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے لیکن اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی شے محبوب نہیں ہونی چاہیے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ ط وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَo (التوبہ۔ 24)
ترجمہ: (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) آپ (ان سے) فرمادیں کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں، تمہارے عزیزو اقارب ،تمہارے کمائے ہوئے مال، تمہارے وہ کاروبار جن کے کمزور ہو جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے پسندیدہ مکانات و گھر تم کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اسکی راہ میں مجاہدہ و ریاضت سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ(عذاب) تمہارے سامنے لے آئے ۔اور اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔
اور کوئی مومن ایسانہیں ہے جو یہ دعویٰ نہ کرتا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز سے زیادہ محبوب رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ واقعی وہ اس پر عمل پیرا بھی ہے۔ لہٰذا ان کے اس دعویٰ کے ثبوت کی ضرورت پیش آ جاتی ہے تا کہ ہر کوئی اپنے بے حاصل دعویٰ پر مغرور و نازاں نہ ہو بیٹھے۔ اور مال و دولت چونکہ آدمی کے محبوبوں میں سے ایک محبوب ہے لہٰذا آدمی کو اس کے ذریعے آزمایا گیا ہے اور کہہ دیا گیا ہے ’’اگر تُو اپنے دعویٰ ٔ محبت میں سچا ہے تو آ! اور اللہ کی دوستی کی راہ میں اس ایک محبوب ہی کو قربان کر کے تو دکھا۔‘‘ پس جو لوگ اس راز سے آگاہ ہو گئے وہ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ صدیقوں کا ہے کہ جو کچھ پاس تھا قربان کردیا اور کہا کہ نصاب کے مطابق دوسو درہم میں سے صرف پانچ درہم دینا تو بخیلوں کا کام ہے، ہم پر تو یہی واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی پر وہ سب کچھ قربان کر دیں جو کچھ پاس ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے کیا کہ سارا مال و اسباب اٹھا لائے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا کہ اپنے بیوی بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ تو کہا ’’اللہ اور اس کا رسول‘‘۔
اور ایک گروہ وہ تھا کہ جنہوں نے آدھا مال دیا جیسے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ آدھا مال لائے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ بیوی بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ تو کہا اتنا ہی جتنا یہاں لایا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’تم دونوں کے درجوں میں بھی وہی فرق ہے جو تمہارے کلمات میں ہے۔‘‘ اس دوسرے گروہ میں وہ لوگ آتے ہیں جو بیک وقت سب کچھ خرچ نہیں کرتے اور نہ اس کی طاقت ان میں ہوتی ہے۔ لیکن وہ ہمیشہ خیال رکھتے ہیں اور فقراء کی حاجت روائی کے منتظر رہتے ہیں اور کسی نہ کسی وجہ سے خیرات کرتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو درویشوں کے برابر تصور کرتے ہیں اور زکوٰۃ دینے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جو درویش بھی ان کے ہاں چلا آئے اسے اپنے بال بچوں کے برابر سمجھتے ہیں۔ اور ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جن میں اس سے زیادہ استطاعت نہیںہوتی کہ نصاب کے مطابق اپنے مال میں سے مقرر شدہ زکوٰۃ دے دیں۔ وہ صرف زکوٰۃ کے فریضہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور زکوٰۃ کے حکم کو خوشی خوشی بلاتاخیر بجا لاتے ہیں اور درویشوں پر کسی طرح کا احسان نہیں دھرتے۔ اگرچہ زکوٰۃ دینے والوں کا یہ آخری (یعنی کمترین) درجہ ہے۔
اور وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے صاحب ِ نصاب بنایا ہے لیکن اس کا دل دو سو درہم میں سے پانچ درہم بھی راہِ خدا میں دینے کے اجازت نہیںدیتا، اللہ تعالیٰ کی دوستی اور محبت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ محبت ِ الٰہی سے بالکل محروم ہے۔
ویسے جو شخص نصاب کے مطابق زکوٰۃ دینے سے زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کر سکتا اس کی تو دوستی بھی بہت ضعیف ہے اور اللہ تعالیٰ کے دوستوں میں وہ سب سے بخیل دوست ہے۔
زکوٰۃ کے اسرار میں سے دوسرا بھید دل کو بخل کی نجاست سے پاک کرنا ہے کیونکہ دل میں بخل کا ہونا ایک نجاست ہے جو اسے قربِ حق تعالیٰ کے لائق نہیں رہنے دیتی۔ دل اس وقت تک بخل کی نجاست سے پاک نہیں ہو سکتا جب تک مال راہِ خدا میں خرچ نہ کیا جائے۔ چنانچہ زکوٰۃ بخل کی نجاست کو ایسے دور کر دیتی ہے جیسے کہ پانی ظاہری نجاست کو دھو ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اہل ِ بیت ؓ پر حرام ہے۔ کیونکہ ان کے مراتب کو لوگوں کے مال کی میل سے محفوظ رکھنا لازمی ہے۔
زکوٰۃ کا تیسرا بھید یہ ہے کہ اس سے شکر ِ نعمت بجا لانا سیکھا جائے۔ چونکہ مال بھی ایک نعمت ہے جو مسلمان کے حق میں دنیا و آخرت کی راحت کا باعث ہے اس لیے جس طرح نماز، روزہ اور حج کی ادائیگی گویا جسم کی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے اسی طرح زکوٰۃ وہ شکر ہے جو نعمت ِ مال پر ادا کیا جاتا ہے تاکہ جب کوئی مومن اس نعمت کی وجہ سے اپنے آپ کو بے نیاز پائے اور اپنے جیسے کسی دوسرے مومن کو خستہ حالت میںدیکھے تو چاہیے کہ اپنے آپ سے یہ کہے ’’وہ بھی میری ہی طرح اللہ کا بندہ ہے۔ پس شکر ہے اس پاک ذات کا جس نے مجھے بے نیاز کر دیا اور اس کو میرا محتاج بنا دیا کیوں نہ میں اس سے نیک سلو ک کروں کہ ممکن ہے کہ یہ میری آزمائش ہی ہو، اور اگر میں اس میں پورا نہ اتروں تو ہو سکتا ہے کہ مجھے اس جیسا بنا دیا جائے اور اسے میری طرح بنا دیا جائے۔‘‘ ہر کسی پر لازم ہے کہ زکوٰۃ کے ان اسرار کو جانے اور پہچانے تاکہ اس کی عبادت صورتِ بے روح بن کر نہ رہ جائے۔ (کیمیائے سعادت)
 ’’اسرارِ حقیقی‘‘ جو کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے خلیفہ ٔ اکبر خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے نام ایک مکتوب ہے،میں آپؒ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے وہ خاص گفتگو درج فرمائی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام عبادات کے احکام کی حقیقت بیان فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زکوٰۃ کے متعلق فرماتے ہیں ’’اے عمرؓ سنو! از روئے شریعت دو سو دینار میں سے پانچ دینار زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے اور اہل ِ طریقت کے نزدیک دوسو دینار میں سے پانچ اپنے پاس رکھنے چاہیے باقی سب کے سب زکوٰۃ کی مد میں صَرف کر دینے لازم ہیں۔ لیکن یاد رہے زکوٰۃ آزاد پر فرض ہے غلام پر فرض نہیں ہے۔ جب تک بندہ بندگی ٔ نفس سے نجات نہ پائے اس وقت تک آزادوں کے زمرے میں داخل نہیں ہو سکتا اور جب آزاد ہی نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ (حقیقی) کیونکر فرض ہو سکتی ہے۔ بندۂ نفس کو سب سے پہلے بندگی ٔ نفس سے آزادی حاصل کرنی چاہیے تا کہ وہ زکوٰۃِ حقیقی ادا کرنے کے قابل بن جائے۔
نیز زکوٰۃ عاقل و بالغ پر فرض ہے دیوانہ و نا بالغ پر فرض نہیں۔ پس جس شخص پرغفلت و نفسانیت کا دیوسوار ہو اور وہ ہمہ تن نفس و شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہو، عارفانِ الٰہی کے نزدیک وہ کالعدم سمجھا جاتا ہے۔ اس پر زکوٰۃِ حقیقی کیونکر فرض ہو سکتی ہے۔ پس سب سے پہلے یہ لازم ہے کہ بندہ نفس کی بے شعوری سے نجات حاصل کر لے تا کہ وہ معرفت ِ الٰہی کی آزادی اور عقل سے سرفراز ہو کر حقیقی زکوٰۃ ادا کرنے کے قابل بن جائے۔
زکوٰۃِظاہری جو شرعاً مالِ دنیوی پر فرض ہوتی ہے اس میں محض یہ حکمت ہے کہ امیر لوگ زکوٰۃ کے بہانے سے غریبوں اور مفلسوں کی مدد کر سکیں اور غرباء اپنے خوردونوش کا انتظام سہولت اور آسانی سے کر سکیں۔ اے عمرؓ! گنج ِ حقیقی کی بجز عارفانِ الٰہی کے کسی کو خبر نہیں ہے۔ گنج ِ حقیقی دراصل سرِّ ربوبیت ہے اور عارفین کے دل اس سرِّ ربوبیت کے گنجینے ہوتے ہیں۔ ان غرباء (فقراء کاملین) پر فرض ہے کہ وہ اپنے گنجینۂ حقیقی میں سے اسرارِ الٰہی کی زکوٰۃ گمراہوں اور نادانوں کو عطا فرما دیں اور گم گشتگانِ بادیۂ ضلالت کی رہنمائی فرما دیں کیونکہ مستحق کو اس کا حق دینا عین زکوٰۃ ہے۔‘‘ (اسرارِ حقیقی)

زکوٰۃِ شرعی اور زکوٰۃِ حقیقی کے آداب

1۔ پہلا ادب یہ کہ زکوٰۃ (شرعی اور حقیقی) اور صدقہ و خیرات کی ادائیگی میں جلدی کی جائے تاکہ خلوص اور ذوق و شوق ظاہر ہو۔ ٹال مٹول یا سستی سے کام لینے سے شیطان کو دل میں وسوسے ڈالنے کا موقع مل جائے گا۔ ابو الحسن بوشیخی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید سے مروی ہے کہ ابو الحسن بوشیخی بیت الخلاء میں تھے کہ انہیں خیال آیا کہ فلاں فقیر کو قمیض کی ضرورت ہے لہٰذا انہوں نے اپنے مرید کو بلا کر کہا کہ یہ قمیض اتار لو اور فلاں شخص کو دے آؤ۔ کسی نے کہا کہ آپ نے قضائے حاجت سے فارغ ہونے تک صبر کر لیا ہوتا؟ فرمایا مجھے ڈر تھا کہ میں اس وقت اسے قمیض نہ دیتا تو ہو سکتا تھا میری نیت بدل جاتی۔ (رسالہ قشیریہ)
2۔ مال کی زکوٰۃ کو چھپا کر دے‘ بر ملا نہ دے تا کہ ریا سے دور اور اخلاص سے نزدیک رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ ج وَاِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَآءَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط وَیُکَفِّرُ عَنْکُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِکُمْ ط(البقرہ۔ 271)
اگر صدقات (خیرات) اعلانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اگر چھپا کر فقراء کو دو یہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے اور اس میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں (کم) گے۔
حدیث شریف میں ہے کہ پوشیدہ صدقہ دینا حق تعالیٰ کے غصہ کو دور کرتا ہے۔ اور حدیث شریف میں آیا ہے ’’قیامت کے دن سات آدمی عرش کے سایہ میں ہونگے ایک عادل بادشاہ، دوسرا وہ شخص جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ اس طرح دے کہ بائیں کو بھی خبر نہ ہو۔‘‘
3۔ اگر ریا کا بالکل اندیشہ نہ ہو اور مرشد کی مہربانی سے اپنے باطن کو ریا سے بالکل پاک دیکھے تو اس نیت سے برملا صدقہ و زکوٰۃ دے سکتا ہے کہ برملا صدقہ دینے سے دوسروں کو بھی رغبت ہو گی۔ ایسے طالب کے لیے برملا صدقہ دینا بہتر ہے جس کے لیے تعریف و مذمت سب حالتوں میں یکساں ہو اور جو سب کاموں میں صرف اللہ کے قرب و معرفت کا طلبگار ہو۔
4۔ صدقہ و زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد اس کو نہ باطن میں کسی پر اپنا احسان سمجھے نہ ظاہر میں اس احسان کو جتائے۔ اسے صرف اللہ کا فضل و احسان جانے کہ اس کی مہربانی سے اس کو وہ نعمت حاصل ہوئی جس کی اس نے زکوٰۃ ادا کی۔ اگر اللہ اس کو وہ نعمت ہی عطا نہ کرتا یا زکوٰۃ کی عبادت ادا کرنے کی توفیق نہ دیتا تو وہ یہ عبادت کیسے بجا لاتا۔ پس جو بھی ہے اللہ کا احسان ہے۔ اللہ فرماتا ہے لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَ الۡاَذٰی ۙ (البقرہ۔ 264) ترجمہ: ’’اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور ایذا دے کر باطل نہ کر لیا کرو۔‘‘
5۔ زکوٰۃ لینے والے کو خود سے قطعاً کمتر نہ جانے اگرچہ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ   اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنْ یَدِ السُّفْلٰی ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ لیکن یہ اللہ کی مرضی ہے کہ کس کو اوپر والا ہاتھ یعنی دینے والاہاتھ بنانے کے لیے چن لے اور کسے نیچے والا ہاتھ یعنی لینے والا ہاتھ بنا دے۔
6۔ حدیث ِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے ’’ہو سکتا ہے کہ صدقہ کا ایک درہم ہزار درہم پر سبقت لے جائے، وہ درہم وہ ہے جو صدقِ دِل سے دیا جائے۔‘‘ صدقہ و زکوٰۃ دیتے وقت اپنے مال کا بہتر حصہ دیا جائے۔ زکوٰۃ و صدقہ اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں دیا جاتا ہے۔ اللہ کی راہ میں کمتر چیز دینا بخل اور خودغرضی کی علامت ہے۔ بہترہے کہ اپنی ذات کے لیے کمتر چیز رکھ لی جائے اور اللہ کی راہ میں بہتر چیز دے دی جائے۔

ہر نعمت پر زکوٰۃ ہے

واضح ہو کہ زکوٰۃ صرف مال ہی کی نہیں بلکہ ہر نعمت کی زکوٰۃ انسان پر واجب ہے جب کہ وہ نعمت ایک خاص حد تک انسان کے پاس موجود ہو۔ جیسا کہ بدنی صحت و تندرستی کی زکوٰۃ یہ ہے کہ جسم کو اطاعت و عبادتِ الٰہی کے ساتھ ساتھ اللہ کے بندوں کی بھلائی کے کاموں میں مشغول رکھا جائے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اِنَّ اللّٰہ تعالٰی فرض علیکم زکٰوۃ جاھکم کما فرض علیکم  زکٰوۃ مَالکم ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے مرتبے کی زکوٰۃ اس طرح فرض کی ہے جس طرح تم پر تمہارے مال کی زکوٰۃ فرض ہے۔‘‘ نیز فرمایا اِن لِکُلِّ شیئٍ زکوٰۃ الدار بیت الفیافۃ  ترجمہ: ’’بے شک ہر چیز کی ایک زکوٰۃ ہے اور گھر کی زکوٰۃ مہمان خانہ ہے۔‘‘ یونہی علم کی زکوٰۃ اس کو آگے بڑھانا، مقام و مرتبے کی زکوٰۃ اس مقام و مرتبے کو امربالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے استعمال کرنا ہے۔ پس اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ کے شکرانے کے طور پر اللہ ہی کے بندوںکی بھلائی کے لیے اپنی بساط کے مطابق خرچ کرنا زکوٰۃ ہے اور یوں زکوٰۃ لینے والے اور دینے والے دونوں کی بھلائی کا باعث ہے۔دینے والے کا دل بخل اور طمع سے پاک ہوتا ہے، اللہ کی نعمت کا شکرانہ ادا ہوتا ہے اور لینے والے کی مشکلات اور کمیاں دور ہوتی ہیں۔ اس طرح زکوٰۃ انسان کی باطنی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ظاہری فلاح و بہبود کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

مصارفِ زکوٰۃ

زکوٰۃِ شرعی اور زکوٰۃِ حقیقی کے مصارف ایک ہی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ اور خیرات کن لوگوں پر خرچ کرنا ہے اس کا اعلان بھی قرآنِ پاک میں کر دیا گیا ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (التوبہ۔ 60)
ترجمہ: بے شک صدقات تو فقراء، مساکین اور عاملین (زکوٰۃ اکھٹا کرنے والے)، قلوب کی تالیف، گردنیں چھڑانے، قرض داروں کے قرض ادا کرنے میں، اللہ کی راہ اور مسافروں کے لیے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فرض کئے گئے ہیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
اس حکم کے تحت زکوٰۃ و صدقات کے خرچ کے آٹھ مصارف بنتے ہیں:
1) لِلْفُقَرَآءِ ۔۔۔ فقراء فقیر کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ولی ٔ کامل ہے جو فنا فی اللہ ہو چکا ہو جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 273 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ ج یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ج تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ  بِہٖ عَلِیْمٌ  ترجمہ:’’صدقات تو ان فقراء کے لیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں وقف کر دی ہے اور زمین میں چل پھر کر کسب ِ معاش نہیں کرتے۔ تم نادان ہو جو انہیں صورت دیکھ کر پہچان نہیں سکتے (یعنی تمہارے پاس نورِ بصیرت نہیں ہے جس سے انہیں پہچان سکو) کہ وہ خوشحال ہیں۔ لوگوں سے لپٹ کر اور گڑگڑا کر سوال نہیں کرتے دراصل صدقہ و خیرا ت کے مستحق یہی لوگ ہیں اور اللہ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کی ہے فقراء مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (ترمذی۔ ابن ِ ماجہ)
حدیث شریف میں ہے کہ فقراء کی جان پہچان کثرت سے رکھا کرو اور ان کے اوپر احسانات کیا کرو۔ ان کے پاس بڑی دولت ہے۔ کسی نے عرض کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! وہ دولت کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا! ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جس نے تمہیں کوئی ٹکڑا کھلایا ہو، پانی پلایا ہو، کپڑا دیا ہو، اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں پہنچا دو۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فقیر سے قیامت کے دن ایسی کوئی معذرت کریں گے جیسا کہ آدمی آدمی سے کیا کرتا ہے۔ اور فرمائیں گے میری عزت و جلال کی قسم! میں نے دنیا کو تجھ سے اس لیے دور نہیں کیا تھا کہ تو میرے نزدیک ذلیل تھا بلکہ اس لیے ہٹایا تھا کہ تیرے لیے آج بڑا اعزاز ہے۔ اے میرے بندے! ان جہنمی لوگوں کی صف میں چلا جا۔ جس نے میرے لیے کھانا کھلایا ہو، کپڑا دیا ہو، وہ تیرا ہے۔ وہ اس حالت میں ان میں داخل ہو گا کہ لوگ منہ تک پسینہ میں غرق ہوں گے وہ پہچان کر ان کو جنت میں داخل کرے گا۔(ریاض الریاحیق)
حدیث شریف میں ہے قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے فقراء اور مساکین کا اکرام اور احترام کیا؟ آج تم جنت میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ نہ تم پر کسی قسم کا خوف ہے اور نہ غم۔ (کنز العمال)
حدیث شریف میں ہے قیامت کے دن ایک اعلان ہو گا اُمت ِ محمدیہ کے فقراء کہاں ہیں؟ اُٹھو اور لوگوں کو میدانِ قیامت میں سے تلاش کر لو جس شخص نے تم میں سے کسی کو میرے لیے ایک لقمہ دیا ہو یا میرے لیے کوئی گھونٹ پانی کا دیا ہو، میرے لیے کوئی نیا کپڑا دیا ہو ان کے ہاتھ پکڑ کر ان کو جنت میں داخل کر دو۔ اس پر فقرا اُمت ِ محمدیہ اُٹھیں گے اور کسی کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے یااللہ! اس نے مجھے کھانا کھلایا تھا، اس نے مجھے پانی پلایا تھا، کوئی بھی فقرائے اُمت میں سے چھوٹا یا بڑا شخص ایسا نہ ہو گا جو ان کو جنت میں داخل نہ کرائے۔ (کنز العمال)
٭ رسالہ قشیریہ میں ہے:
فقر اللہ کے ولیوں کا شعار اور خواص کا زیور ہے۔ اسے اللہ نے اپنے خاص بندوں مثلاً اتقیاء اور انبیاء کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے اور فقراء وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے منتخب کر رکھا ہے۔ یہ لوگ مخلوق میں سے اللہ کے راز کے متحمل ہوتے ہیں، انہی کی بدولت اللہ تعالیٰ مخلوق کی حفاظت کرتا ہے اور انہی کی برکت سے اللہ انہیں رزق میں وسعت دیتا ہے اور صابر فقیر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہم نشین ہوں گے۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ فقیر رازِ خداوند ی ہے۔ (قربِ دیدار)
٭ فقیر اللہ تعالیٰ کا ایک راز ہوتا ہے جس کے دل میں محبتِ الٰہی سمائی رہتی ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)
٭ فقیر ِ کامل اسے کہتے ہیں جو اللہ کی نظر میں منظور ہو کر ہر لمحہ مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہے۔ (کلید التوحید کلاں)
٭ فقراء کے حکم کی تعمیل کر کہ ان کی مخالفت آدمی کو دونوں جہانوں میں خوار کرتی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
یہ فقراء فنا فی اللہ ہیں جو اللہ کی ذات میں فنا ہو کر ’’مرنے سے پہلے مر جاؤ‘‘ کے مرتبہ پر پہنچ چکے ہیں۔
انہی کے بارے میں غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا قول ہے کہ فقیر وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ فقیر وہ ہے جو کہے کہ ’ہو جا‘ تو ہو جائے۔ (الرسالۃ الغوثیہ)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جب لوگ فقراء سے دشمنی رکھیں، دنیاوی شان و شوکت کا اظہار کریں اور مال و زر کے جمع کرنے میں حریص ہو جائیں تو اللہ ان پر چار مصیبتیں نازل کر دیتا ہے:
۱۔ قحط سالی
۲۔ ظالم حکمران یا بادشاہ
۳۔ بددیانت حاکم
۴۔ دشمنوں کا غلبہ
2) وَالْمَسٰکِیْنِ ۔۔۔۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہٗ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی ہے ’’ہر چیز کی کنجی ہوتی ہے اور جنت کی کنجی مسکینوں کی محبت ہے۔‘‘ (کنز العمال۔ رسالہ قشیریہ)
حضرت عبداللہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کی ہے:
مسکین وہ شخص نہیں جو چکر (مانگنے کے لیے۔ بھیک کے لیے) لگاتا رہتا ہے اورا سے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں مل جاتی ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا! مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس اتنا پیسہ نہ ہو کہ وہ مالدار کہلائے مگر لوگوںسے سوال کرنے سے شرماتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو اس کا پتہ ہوتا ہے کہ اسے صدقہ دیں۔ (مسند احمد)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
عائشہؓ! مسکین کو نامراد واپس نہ کرو چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، عائشہ ؓ مساکین سے محبت رکھا کرو، ان کو اپنا مقرب بنایا کرو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں اپنا مقرب بنائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
مساکین سے مراد ساکن مع اللہ۔ یعنی ہر وقت اللہ کی یاد میںرہنا۔ اس لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اے اللہ! زندگی میں بھی مجھے مسکین بنا کر رکھ اور مسکینی کی حالت میں مجھے موت عطا فرما اور میرا حشر بھی مسکینوں کی جماعت میں فرما۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح) قرآنِ کریم میں مسکینوں کا ذکر کم و بیش 23 مرتبہ آیا ہے۔ ان میں مساکین کو صدقہ دینے اور نیک سلوک کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
3)وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا۔۔۔کسی اسلامی حکومت میں زکوٰۃ اکٹھی کرنے والے عملہ پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا بھی جائز ہے یعنی اکٹھی ہونے والی زکوٰۃ سے ان کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔
4)وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ۔۔۔ کسی غیر مسلم کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے اس کی تالیف ِ قلب کے لیے زکوٰۃ اور صدقات خرچ کرنے کا حکم ہے۔
5)وَ فِی الرِّقَابِ ۔۔۔۔ گردنیں چھڑانے، غلام یا باندی کو آزاد کرانے کے لیے زکوٰۃ، صدقات خرچ کرنے کا حکم ہے۔
6)   وَالْغَارِمِیْنَ۔۔۔۔اگر کوئی قرض میں مبتلا ہو تو زکوٰۃ کی رقم سے اس کا قرض ادا کرکے اس کی جان اس مصیبت سے چھڑائی جا سکتی ہے۔
7) وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔۔۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کسی بھی مد میں۔ جہاد میں، علم ِ حق کی اشاعت میں، دین ِ الٰہی کی تبلیغ میں، کسی کے مددکے لیے، دین کی سربلندی کے لیے، اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے، لوگوں کو صراطِ مستقیم کی طرف راغب کرنے کے لیے، اسی طرح کے کسی بھی شعبہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے۔
8)وَابْنِ السَّبِیْلِ ط۔۔۔ مسافروں کی امداد کے لیے خرچ کرنے کا حکم ہے۔

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا حقیقی مقصد

جس طرح نماز قربِ الٰہی کا ذریعہ بننے والی بہترین بدنی عبادت ہے لیکن ہر عبادت قربِ الٰہی کا ذریعہ تب ہی بنتی ہے جب اس کی روح کو سمجھ کر اسے دل سے ادا کیا جائے۔ نماز کی ایک ظاہری صورت اور آداب ہیں اور ایک حقیقت ہے۔ نما ز کی روح حضوریٔ قلب ہے یعنی تما م دنیاوی رشتوں اور علائق سے ٹوٹ کر صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔ اسی طرح زکوٰۃ کی بھی ایک صورت اور روح ہے اور زکوٰۃ کی روح دنیاوی مال کی محبت سے آزادی ہے جو بے شک تزکیۂ نفس اور تصفیہ ٔ قلب میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے۔ اگر زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کی ادائیگی اس کے تمام ظاہری آداب کے ساتھ کی جائے لیکن اس کی روح کو شامل نہ کیا جائے تو فرض کی برائے نام ادائیگی تو ہو جائے گی لیکن نہ قلب کی پاکیزگی میں یہ عبادت کوئی کردار ادا کرے گی اور نہ ہی قربِ الٰہی کا باعث بن سکے گی۔ اگر زکوٰۃ کی ادائیگی میں اس کی روح بھی شامل ہو گی تو ہی اس کا حقیقی مقصد اور معنی پورے ہوں گے یعنی پاک ہونا، نشوونما پانا اور بڑھنا۔ اس طرح قربِ الٰہی حاصل ہو گا اور مسلمان مومن بن کر زکوٰۃِ حقیقی کے اسرار کو سمجھ کر ضرورت سے زیادہ مال اپنے پاس نہیں رکھے گا۔ بعض علمائے ظاہر زکوٰۃ اور صدقات کی ادائیگی کی حقیقت یعنی ’’حبِّ مال‘‘ سے نجات کو قطعاً نظر انداز کر کے زکوٰۃ کے ان معنوں (یعنی پاک ہونا، نشوونما پانا، بڑھنا) کو یوں بیان کرتے ہیں کہ زکوٰۃ او ر صدقات کی ادائیگی سے مال پاک ہوتا اور مزید بڑھتا ہے۔ اور یوں عوام الناس کو مال کی محبت میں مزید گرفتار کرتے ہیں۔ وہ زکوٰۃ اور صدقات بھی قربِ الٰہی کی خاطر نہیں بلکہ اپنے دنیاوی مال کو بڑھانے اور ناپاک طریقے سے کمائے گئے مال کو پاک بنانے کی خاطر ادا کرتے ہیں۔ پس اس عظیم مالی عبادت کی روح کو مجروح کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ ہمیں زکوٰۃِ شرعی‘ حقیقی، صدقہ، خیرات اور عطیات کی ادائیگی اس کی روح کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

عطیات،زکوٰۃ، صدقات اور تحریک دعوت فقر

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے 23 اکتوبر 2009ء کو تحریک دعوتِ فقر کا قیام عمل میں لا کر اس تاریک دور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی ورثہ فقر کی نعمت عام کی ہے۔

تحریک دعوتِ فقر کا اصول ہے کہ اس میں عام لوگوں سے چندہ وصول نہیں کیا جاتا۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہے وہ خود بخود ہی اور نام نمود سے بے نیاز ہو کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اب عوام الناس سے عطیات اور زکوٰۃ کے حصول کے لیے درخواست کی جا رہی ہے اور آپ کو ہماری امداد دل کے مطمئن ہونے کے بعد کرنی ہے کیونکہ دل کے اطمینان کے بعد کیا جانے والا کام ہی اعلیٰ مراتب کا حامل ہوتا ہے۔ یہ یاد رکھیے کہ تحریک دعوتِ فقر کے کسی شعبہ میں اعانت یا مدد کرنا ’’صدقہ جاریہ‘‘ ہے یعنی آپ کسی بھی شعبہ میں جب اعانت یا امداد کریں گے تو آپ کو اس وقت تک اس کا ثواب ملتا رہے گا جب تک وہ چیز اس فانی دنیا میں موجود رہے گی۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:

 

تعمیر مسجد و خانقاہ

تحریک دعوتِ فقر کے تمام شعبہ جات کے دفاتر، مریدین اور عقیدتمندوں کی ظاہری و باطنی تربیت و رہائش کے لیے ایک وسیع و عریض خانقاہ اور مسجد کی ضرورت ہے۔  خانقاہ و مسجد کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فِیْ بُیُوْتٍ أَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ یُسَبِِّحُ لَہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ(سورۃ النور۔36)

ترجمہ:یہ وہ گھر ہیں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اسم  اللہ کا ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ ان میں (اللہ والے) صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ 

اس آیت ِ مبارکہ میں ـــ’’یہ وہ گھر ‘‘ سے مراد مسجد اور خانقاہ ہیں۔خانقاہ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مرشد کامل اکمل اپنی نگاہ ،صحبت اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے ذریعے طالبانِ مولیٰ کے نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں اور ان کی ارواح کو حیاتِ جاوداں عطا کرتے ہیں۔تاریخ ِاسلام کی پہلی خانقاہ اصحابِ صُفَّہ کاوہ مبارک چبوترہ ہے جہاں صحابہ کرامؓ قیام پذیر رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت ِ پاک میں تزکیۂ نفس اور قربِ الٰہی کی دولت حاصل کرتے رہے۔

 اس وسیع و عریض خانقاہ میں عورتوںاور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ پورشن قائم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریک دعوتِ فقر کے دیگر شعبہ جات مثلاً نشرو اشاعت، شعبہ ڈیجیٹل پروڈکشن، آئی ٹی (I.T)ڈیپارٹمنٹ کے لیے علیحدہ علیحدہ دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ اس وسیع و عریض خانقاہ میں خانقاہ نشینوں کی رہائش گاہیں، جدید طرز کی لائبریری اور محافل کے لیے ایک بڑا ہال اور لنگر خانہ اور دیگر شہروں سے تشریف لانے والے مہمانوں کے لیے رہائشی کمرے بنائے جائیں گے۔ سب سے بڑھ کر خانقاہ سے ملحقہ ایک خوبصورت اور وسیع مسجد قائم کی جائے گی جس میں خانقاہ نشین اور مریدین عبادت ادا کر سکیں گے۔

 

اسمِ اللہ ذات

سلسلہ سروری قادری میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن بیعت کے بعد ذکر و تصور اسمِ  اللہ  ذات عطا فرماتے ہیں اور روحانی ترقی اور بلندی کے لیے اسم محمد عطا کیا جا تا ہے۔ یہ اسمِ  اللہ  ذات اور اسمِ محمد کثیر رقم سے تیار ہوتا ہے۔ صرف اس کے فریم اور شیشہ کی تیاری پر تین سو (300) روپے خرچ آتا ہے۔ اس کی تیاری میں مدد کرنا بھی صدقہ جاریہ اورعبادت ہے یعنی جو آدمی اسمِ  اللہ  ذات لے جائے گا وہ جب تک اس کا ذکر و تصور کرتا رہے گا اس کا ثواب آپ کو ملتا رہے گا اور جب تک وہ  اسمِ  اللہ  ذات اس دنیا میں موجود رہے گا اس کا ثواب آپ کو پہنچتا رہے گا۔ اس کے علاوہ بغیر بیعت کے جو چھپا (Printed) ہوا اسمِ  اللہ  ذات عطا کیا جاتا ہے اس پر کم و بیش  200 روپے لاگت آتی ہے۔

 t

مفت کتب کی تقسیم

 ادارہ دعوت و تبلیغ اور تعلیماتِ فقر کو عام کرنے کے لیے اب تک تقریباً60 سے زائد کتب شائع کر چکا ہے جن کی قیمت لاگت سے بھی کم رکھی گئی ہے اور دو کتب ’’حقیقت ِ اسمِ اللہ ذات‘‘ اور ’’مرشد کامل اکمل‘‘ اس سلسلہ میں شائع ہو کر ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم ہو چکی ہیں۔ ایک کتاب کا خرچہ تقریبا 125 روپے ہے۔ ان کتب کی اشاعت میں مدد بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کیونکہ جب تک یہ کتاب موجود رہے گی اور اس کا مطالعہ ہوتا رہے گا اس کا ثواب آپ کو پہنچتا رہے گا۔ اس کے علاوہ ادارہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی کتب اردو اور انگلش زبان میں بھی شائع کر چکا ہے جس کی قیمت اس کی لاگت کے برابر رکھی گئی ہے تا کہ علمِ معرفت عوام الناس تک پہنچ سکے۔ ان کی اشاعت میں تعاون بھی صدقہ جاریہ ہے۔ ان کے علاوہ بہت سے کتب مالی کمی کی وجہ سے ابھی چھپ نہیں ہوسکیں اور ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

ڈاک کے اخراجات:

ایک کتاب کی ترسیل پر تقریباً 55 روپے ڈاک خرچ آتا ہے جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس شعبہ میں آپ کی مالی اعانت سے یہ روحانی کتب عوام الناس تک آسانی سے دستیاب ہوں گی۔

 

ماہنامہ سلطان الفقر

فقر اور دینِ حق کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے اگست 2006ء سے ماہنامہ سلطان الفقر کا اجرا کیا گیا ہے جس کی قیمت اور سالانہ چندہ لاگت سے بھی کم رکھا گیا ہے۔ یہ ’’جہاد بالقلم‘‘ ہے کیونکہ قلم کے ذریعے دین ِ حق کو عام کیا جا رہا ہے۔ اس کی اعانت اور امداد بھی صدقہ جاریہ ہے۔ اس رسالہ کی کثیر تعداد مختلف سکولز، کالجز، یونیورسٹیز، ریسرچ سینٹرز اور غریب و مفلس لوگوں کو اعزازی طور پر بھیجی جاتی ہے۔ اس میں بھی آپ کا تعاون صدقہ جاریہ ہے۔

مرکزی دفتر اور خانقاہ سلسلہ سروری قادری کے اخراجات

خانقاہ سلسلہ سروری قادری میں ہر وقت کثیر تعداد میں طالبانِ مولیٰ مقیم رہتے ہیں جو ہمہ وقت دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کے لیے مصروفِ عمل ہیں اور ملک بھر سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ مرکزی دفتر اور خانقاہ شریف میں لنگر ہر لمحہ جاری رہتا ہے اور ہر اتوار کو ملک بھر سے آنے والے مہمانوں کے لیے خصوصی لنگر تیار کیا جاتا ہے۔ محافل ِ میلادِ مصطفی، عرس پاک اور دیگر سالانہ تقریبات پر بھی وسیع اخراجات ہوتے ہیں۔ ان اخراجات میں امداد بھی بہت بڑا ثواب ہے۔

 

آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ

دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں تک دعوتِ اسمِ اللہ ذات پہنچانے کے لیے اس شعبہ نے درج ویب سائٹس تیار کی ہیں:

www.sultan-bahoo.com

www.sultan-ul-arifeen.com

www.sultanulfaqr.com

https://sultanulfaqr.tv

www.tehreekdawatefaqr.com

www.sultan-ul-faqr-publicatiosn.com

www.sultan-ul-faqr-digital-productions.com

www.mahnama-sultan-ul-faqr-lahore.com

www.sultan-ul-ashiqeen.com

http://sultan-bahoo.tv

http://sultan-ul-ashiqeen.tv

ان ویب سائٹس کی ہمہ وقت نگرانی اور ان کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے ادارہ کو وسیع اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس شعبہ میں آپ کا مالی تعاون دین ِ اسلام کو دنیا بھر میں عام کرنے میں مددگار ہوگا۔

داعی

تحریک دعوتِ فقر میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مستقل طور پر اپنے آپ کو اللہ کے دین کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ہر لمحہ ہر آن دین ِ حق کی تبلیغ اور دعوت میں مصروفِ کار ہیں اور وہ زمین پر چل پھر کر رزق تلاش نہیں کرتے نہ وہ کسی سے کچھ مانگتے ہیں ان کی امداد بھی صدقہ جاریہ ہے۔

دین کے لیے زندگی وقف کرنے والے

تحریک دعوتِ فقر میں کثیر تعداد میں ایسے لوگ شامل ہیں جنہوں نے دین کی تبلیغ کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے اور ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے ہر لمحہ دین کی خدمت کے لیے حاضر رہتے ہیں ان کی ضروریات کے لیے بھی ہر ماہ کثیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی امداد کرتا ہے ان کی امداد کے لیے بھی آپ حصہ ڈال سکتے ہیں۔

رمضان المبارک میں آپ زکوٰۃ، عطیات، صدقات اور فطرانہ جس کو آپ کا دل چاہے دیں یہ آپ کی مرضی، منشا اور آپ کے دل مطمئن ہونے پر منحصر ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ جات میں لگانا چاہیں تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ ان کو اپنے پسندیدہ شعبہ میں لگوائیں یا ادارہ کی مرضی پر چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ اجر ِ عظیم عطا فرمائے گا۔ یاد رکھیں قطرہ قطرہ مل کر سمندر بنتا ہے۔

اپنی زکوٰۃ، عطیات اور صدقات منی آرڈر کے ذریعے سلطان الفقر پبلیکیشنز  (رجسٹرڈ)کے نام مرکزی دفتر کے پتہ پر بھجوائیں۔

پتہ: سلطان الفقر ہاؤس، 4-5/A۔ ایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہور پاکستان

آپ اپنے عطیات ایزی پیسہ (Easypaisa)یا موبی کیش (Mobicash) کے ذریعے بھی بھجوا سکتے ہیں اس کے لیے ادارہ کے مندرجہ ذیل نمبروں پر رابطہ کریں:

0321-4507000

0322-4722766

92-42-35436600

 

خانقاہ میں رمضان المبارک کے ماہ میں اتوار کے دن آپ براہِ راست عطیات ، صدقات اور زکوٰۃ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں پیش کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ فقرا کی خدمت کرنے اور راہِ حق میں مال خرچ کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے تاکہ اللہ کا قرب پایا جا سکے۔ (آمین)

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں