Ghazwa Badar غزوہ بدر

غزوہ بدر

17 -رمضان المبارک ۔ یومُ الفرقان. غزوہ بدر
تحریر: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

اللہ تعالیٰ نے یومِ الست جب تمام انسانوں کی ارواح سے اپنی ربوبیت اور وحدانیت کا اقرار لیا ۔

     اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ  کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟
تو سب ارواح نے بیک زبان اقرار کیا!
قَالُو بَلٰی ہاں اللہ تعالیٰ تو ہمارا رب ہے۔(سورہ اعراف)
یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلا عہد تھا جو انسانوں سے اپنی بندگی ، پہچان اور معرفت کے لیے لیا گیا اسی عہد کی یاد دہانی کے لیے لاکھوں انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا گیا تاکہ وہ تمام مخلوق کو ’’یومِ الست‘‘کا عہد یاد کراتے رہیں۔پھر تمام رسولوں اور انبیاء کرام سے یہ عہد لیا گیا کہ جب محبوب ِ خدا ، خاتم الانبیاء رحمت اللعالمین، سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت مبارک ہو تو تمام رسول اُن پر ایمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہر طرح سے اطاعت ، حمایت و نصرت کریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) وہ وقت یاد کریں جب اللہ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں اور تمہارے پاس وہ (سب سے عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تشریف لائے جو اِن کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لائو گے اور ضرور بالضرور اِن کی مدد کرو گے فرمایا! کیا تم نے اقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا سب (انبیاء) نے عرض کیا۔ہم نے اقرار کر لیا فرمایا کہ تم گواہ ہو جائو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔‘‘(آلِ عمران81)
اب اس آیت ِ مبارکہ میں حضو ر ِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کی طرف اشارہ مبارک ہے ۔یعنی روزِ ازل ہی تمام انسانوں سے اپنی خدائی، بندگی ، عبادت، پہچان اور معرفت ِ الٰہیہ کا وعدہ لے لیا گیا اور تمام انبیاء کرام ،رسولوں اور مذہبی پیشواوں سے بھی دین ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصدیق و توثیق اور نصرت و حمایت کا عہد لے لیا یا آپ یوں بھی خیال فرما سکتے ہیں کہ انبیاء کرام اور رسولوں کی وساطت سے تمام بنی نوع انسان سے دین ِ محمدی ؐ کی تصدیق اور حمایت کا عہد لیاگیاپھر کس طرح سابقہ انبیاء اور رسولوں کو ماننے والوں کے سامنے اس عہد سے انحراف ممکن ہے۔ اس عہد کو خالص حالت میں پورا کرنے والی صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہے۔اسی فخر کو حاصل کرنے کے لیے بعض جلیل القدر انبیاء کرام نے خود کو نبی آخرالزمان احمد ِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت میں سے ہونے کی خواہش کی تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا اعلان فرمایا تو دھیرے دھیرے ایک منظم جماعت بنتی چلی گئی جس کی تربیت آپ ؐ نے جہاد با لنفس (جسے باطنی جہاد بھی کہتے ہیں) سے فرمائی سب سے اعلیٰ جہاد انسان کا اپنے نفس اور اُس کی خواہشات کے خلاف جہاد ہے ۔ اس جہاد کو جہادِ اکبر کہا گیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا بیان ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میدانِ جنگ سے لوٹتے ہوئے مجاہدین سے فرمایا:
’’تمہارا آنا مبارک ہو۔ تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہو ۔ سب سے بڑا جہاد اپنی نفسانی خواہشات پر غلبہ پانا ہے۔‘‘
اپنے جسم و جان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرمانبرداری میں لگانا،اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کا مقابلہ کرنا، دِل کو ماسوٰی اللہ کے خیال اور تصورات سے پاک کرکے ذکر اللہ میں لگانا خصائل ِ رذیلہ ، لالچ، ہوس، طمع، غرور، تکبر، جھوٹ، فریب، مکر ، بغض، کینہ، حسد، خودی پسندی، عصبیت، قبیلہ پرستی، قوم پرستی، فرقہ پستی، مسلک پرستی نافرمانی، بے ادبی، گستاخی وغیرہ سے خود کو بچانا اور تزکیہ نفس ، تصفیہ قلب، تجلیہ روح کرنا یہ سب جہاد بالنفس ہے۔اس جہاد کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
٭اَلْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ۔(مسلم)
ترجمہ:مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے۔
قتال ، جہاد بالسیف یعنی مسلح جہاد سے پہلے جہاد بالنفس کرنا بے حد ضروری ہے ورنہ مسلح جہاد سے وہ نتائج کبھی بھی بر آمد نہ ہو سکیں گے جن کے لیے مسلح جہاد کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ سے تیرہ سال تک مکہ میں جہاد بالنفس (باطنی جہاد) کرایا گیا۔ کیونکہ جہاد بالنفس یا باطنی جہاد کے بعد دِل میں اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا اور اس جہاد کے بعد ہی وہ درجات حاصل ہوتے ہیں کہ فرشتے مدد کو اترتے ہیں، گھوڑے پانی پہ دوڑتے ہیں اور جانور جنگل خالی کر دیتے ہیں ۔ یہ جہاد با لنفس کیا تھا؟
قریش ِ مکہ خانہ کعبہ کے متولّی ہونے کے باعث جزیرۃ العرب کے تمام قبائل میں خود کو ذی عزت اور اعلیٰ ترین قوم تصور کرتے تھے۔ اپنی خاندانی عصبیت پر بہت مغرور تھے۔ سردارانِ قریش کے لیے اپنے اپنے بتوں کی پرستش ترک کرنا، خدائے واحد اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لاکر اللہ کے رسول کی حاکمیت تسلیم کر لینا ان کو بالکل گوارا نہ تھا۔ جیسے ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اعلانِ نبوت فرمایاتو مکہ مکرمہ میں سیّد ِعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے والوں کو جن مصائب و آلام سے دو چار ہونا پڑا وہ کسی سے قطعاً پوشیدہ نہیں۔ دشمنانِ اسلام کئی گروہوں میں بٹے ہوئے تھے ان کینہ فطرت درندوں کی ایک جماعت جسمانی تکلیفیں پہنچانے میں سر گرم تھی تو دوسری جماعت روحانی ایذائیں پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتی ۔ شاتمانِ رسول میں وہ بھی تھے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نقلیں اتارتے ، پتھر برساتے، راستہ میں کانٹے بچھاتے ، گڑھے کھودتے اور کئی وہ تھے کہ حضور ؐ جب خانہ کعبہ میں مصروف ِ عبادت ہوتے تو یہ لوگ شور مچاتے، سیٹیاں بجاتے ، بے حیائی کی بولیاں بولتے اور بعض بد بخت حضورِ اکرم ؐ کے گلے میں چادریں ڈال کر اذیتیں پہنچاتے، کبھی اونٹ کی اوجھڑی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پشت مبارک پر رکھنے سے دریغ نہ کرتے، تبلیغ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جھوٹا ، مجنون، جادو گر، دیوانہ (نعوذ بااللہ) کہنا اور مکہ میں باہر سے آنے والے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملاقات سے روکنا معمول تھا۔حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:
’’مجھے اللہ کی راہ میں اتنی اذیّت دی گئی کہ کسی اور کو نہیں دی گئی اور اللہ کی راہ میں مجھے اتنا خوفزدہ کیا گیا اور کسی کو نہیں کیا گیا مجھ پر تیس دِن اور راتیں اسی بھی گزریں کہ میرے لیے اور بلالؓ کے لیے کھانے کے لیے کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جسے کوئی جاندار کھا سکتا مگر قلیل مقدار میں۔‘‘ (ترمذی، ضیاء النبی)
دوسری طرف مسلمانوں کو دین سے بر گشتہ کرنے کے لیے اور دوسروں کو داخل ِ اسلام ہونے سے خوف زدہ کرنے کے لیے وہ مسلمانوں کو گوناں گوں ایذیتیں دیتے رہتے ، مارنا پیٹنا، رسی سے جکڑ کر پتھریلی زمین پر لٹا کر گھسیٹنا ، دوپہر کے وقت جلتی ریت پر لٹا کر سینہ پر گرم چٹان رکھنا، کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر نیچے سے دھواں پہنچانا ، شکنجوں میں کسنا، بھوکے پیاسے رکھنا، آگ سے داغنا، ہر طرح سے مبتلائے درد و کرب کرنا کہ کسی طرح سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے منہ موڑیں یہ کفار ِ مکہ کے روزمرہ کے اشغال بن گئے تھے حتیٰ کہ ایک مسلم خاتون امِّ عمّار سمیّہ زوجہ حضرت یاسرؓ کو شرم گاہ میں نیزہ مار کر شہید کر دیا گیا۔
تین سال تک بنی ہاشم کو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور رکھا گیا ۔ یاد رکھیں کہ یہ وہ دور تھا کہ صحابہ کرام نے مکہ مکرمہ میں ہتھیار تک نہ اٹھائے خاموشی سے قریش ِ مکہ کے ظلم و ستم برداشت کرتے رہے لیکن دوسری طرف حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خاموشی سے صحابہ کرام کی جہاد بالنفس کے ذریعے باطنی تربیت فرمارہے تھے جس سے کفار بالکل لا علم تھے۔
تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے جان نثار صحابہ نے سخت زندگی گزاری۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلائے کلمتہ الحق کیلئے جب آغاز فرمایا اور ظلمت کے پردوں پر نور کا عکس ڈال کر ان کو نورانی قندیلوں میں ڈھالا اور تاریک دلوں کو نورِ ایمان سے منور فرمایا بت کدہ تصورات کو ختم کیا‘ وحدانیت احدیت و صمدیت کا تصور عطا فرمایا اور واحدہ لاشریک ذات سے ٹوٹا ہوا رشتہ استوار فرمایا آپ کے انداز تربیت کو قرآن پاک نے یوں بیان فرمایا ہے ’’میرا محبوب ان پر آیات تلاوت کرتا ہے (یعنی ان کو اللہ کے احکام پہنچاتا ہے) اور اپنی نگاہ پاک سے ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت (علم ِ لدّنی) عطا فرماتاہے‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت احسن حکیمانہ اور مدبرانہ انداز میں تبلیغ کا سلسلہ فرد واحد اور پھر اپنے گھر سے شروع فرمایا۔ خاموشی سے اس کام کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور صحابہ کرام کی باطنی تربیت اس طرح فرمائی کہ’ آپؐ ‘صحابہؓ کی زندگی کا مرکز و محور بن گئے سب سے پہلے مکہ میں جہادِ اکبر یعنی جہاد بالنفس کا آغاز فرمایا کثرت ذکر سے نفسانی خواہشات ختم کر ا کر اور شیطان پر غلبہ عطا فرما کر طمانیت قلب عطا کر کے فقط ذاتِ احدیت کی طرف رجوع کروایا۔ غیر اللہ کی محبت دل سے نکال کر اور تمام رشتوں کو پس پشت ڈال کر ذات واحدہ لاشریک کا کامل تصور عطا فرمانے کے بعد ہجرت کا حکم ملا اور اپنی جان‘ مال‘ گھر‘ وطن سب سے اللہ کی رضا کیلئے جدائی اختیار فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے تیرہ سال کی سخت باطنی تربیت میں کامیابی کے بعد صحابہ کرام ؓکیلئے انعامات کے لئے مدینہ منورہ کی زمین کو پسند فرمایا اور حکم ہوا مدینہ کی طرف ہجرت کرجاؤ اب جو لوگ باطنی تربیت کے کٹھن مرحلوں‘آزمائشوں سے گزر کر دل کو آئینہ باصفا بنا چکے تھے ان کے ذریعے غلبہ اسلام کی ابتداء ہونے والی تھی۔پوری کائنات میں یہ وہ واحدگروہ تھا جس کے دِل میں سوائے ’’اللہ تعالیٰ‘‘ کے کوئی اور نہ تھا۔اگرچہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تھے۔ پھر بھی مشرکین کی نظر میں خار بن کر کھٹکتے تھے۔ مدینہ میں تحریک اسلامی کو جو تقویت حاصل ہوئی تھی۔ وہ ان سے برداشت نہ ہوتی تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لایا ہوا دین پروان چڑھے۔ شجرِاسلام پھولے پھلے۔اور اُن کی اجارہ داری جزیرۃ العرب پر ختم ہو۔
کفارِ مکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام کی بخیر و عافیت مدینہ کی طرف ہجرت کو اپنی مزید ذلت اور شکست تصور کرنے لگے تھے اور جب یہ خبریں مکہ پہنچتیں کہ مدینہ میں اسلام خوب ترقی کر رہا ہے اور میثاقِ مدینہ اور دوسرے قبائل سے معا ہدات ہورہے ہیں تو قریش ِ مکہ کا غم و غصہ اور حسد و بغض اور بڑھ جاتا اور آتش ِ انتقام دِل میں بھڑکنے لگتی نہ تو راتوں میں چین کی نیند آتی اور نہ دِن میں سکونِ قلب میسر تھا اوپر سے عرب میں قریش ِ مکہ کا دبدبہ اور اور اثرو رسوخ کم ہونے کا خدشہ علیحدہ جان لیوا بنا ہوا تھا۔ مدینہ منورہ کے یہودیوں اور اوس وخزرج کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مسلمانوں کو اپنے درمیان سے نکال دو۔ ورنہ ہم تمہارے شہر پر چڑھائی کر دیں گے مردوں کا قتل ِ عام کرکے عورتوں کو لو نڈیا ں بنائیں گے۔ اوس و خزرج کے لوگ اپنے بھائیوں سے جو مسلمان ہو چکے تھے لڑنا نہ چاہتے تھے اور یہودیوں میں تو ویسے بھی لڑنے کی جرأت نہ تھی ۔ اس کے علاوہ مدینہ منورہ کے گرد آباد مشرک قبائل سے بھی رابطہ جاری رکھا۔ اس کے علاوہ کفارِ مکہ گروہوں کی صورت میں نکلتے اور جہاں کہیں مسلمان نظر آتے لوٹ لیتے ۔ 2ھ میں جہاد کا حکم نازل ہوا۔
’’اے نبی(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اللہ آپ کے لیے کافی ہے اور مومنین۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اگر تم میں بیس صبر والے ہوں تو دوسو پر غالب ہوں گے۔ اگر تم میں سو ہوں تو ہزار کافروں پر غالب ہوں گے کیونکہ وہ بے سمجھ قوم ہے۔‘‘(سورہ انفال65-64)
ابو جہل اور اُن کے ساتھی سردارانِ قریش ِ مکہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے بے چین تھے لیکن اُن کو کوئی بہانہ نہیں مل رہا تھا ہوا یوں کہ قریش ِ مکہ کا ایک تجارتی قافلہ ابو سفیان کی قیادت میں شام گیا ہو اتھا جو واپس آرہا تھا کہ ابو جہل نے یہ مشہور کر دیا کہ قریش کے اس قافلہ کو جو ابو سفیان کی ماتحتی میں شام سے آرہا ہے جس کا سرمایہ تجارت پچاس ہزار دینار ہے مسلمان لوٹنا چاہتے ہیں لہٰذا قافلہ کی حفاظت کے لیے جلد آگے بڑھنا چاہیے اس کی تدبیر سریع الاثر ثابت ہوئی اور ایک ہزار کا لشکر جو خوب مسلح تھا اور تین سو گھوڑے اور سات اونٹ ان کے ساتھ تھے فراہم ہو گیا۔ قریش کے پندرہ سردار لشکر میں شامل ہوگئے اور ہر ایک نے وعدہ کیا کہ یکے بعد دیگرے تمام لشکر کی خوراک کے کفیل ہوں گے۔ ابو جہل مکہ سے چار پانچ منزل پر پہنچا تھا کہ اسے اطلاع مل گئی کہ ابو سفیان والا قافلہ بخریت مکہ پہنچ گیا ہے۔ اہل ِ لشکر نے ابو جہل سے کہا کہ اب ہم کو واپس چلنا چاہیے کیونکہ ہمارا قافلہ بلا کسی گزند کے گھر پہنچ چکا ہے۔ ابو جہل نے کہا ہاں یہ تو اچھا ہوا لیکن بہتر یہ ہے کہ یثرب کے قرب و جوار تک پہنچیں اور وہاں جشن منائیں۔ اس کا اثر گرد و نواح کے قبائل پر یہ پڑے گا کہ وہ مسلمانوں سے معاہدے کرنا پسند نہیں کریں گے اور مسلمان ہماری کثرت اور شوکت اور جشن کے حالات سن کر مرعوب ہو جائیں گے۔اہل ِ لشکر نے اس رائے سے اتفاق کر لیا اور اب یہ لشکر سمندر کا سا حل چھوڑ کر جدھر سے قافلہ کے لیے جارہے تھے۔ مدینہ کے رخ ہوئے۔ لشکر میں سات سو گھوڑے۔ چھ سو زِرہ پوش تھے۔ سردار سرخ اونٹوں پر سوار تھے اور سامانِ جنگ سے مکمل طور پر لیس تھے۔کچھ عورتیں بھی ہمراہ تھیں تاکہ وہ میدان جنگ میں دف بجا کر مردوں کو لڑائی پر اکسائیں۔
جب یہ اطلاع ملی توحضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مشاورت کے لیے مہاجر و انصار کی مجلس طلب فرمائی سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور بعد ازاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے گفتگو فرمائی ۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خاموش رہے دراصل حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا رُخِ مبارک انصار کی جانب تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ مدینہ منورہ پر حملہآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مہاجرین کو پناہ دینے کی وجہ سے ہو رہا ہے اس لیے انصار کی رائے کیا ہے مقداد بن عمرو انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خاموشی کی وجہ جان گئے اس لیے آپؓ کھڑے ہوئے اور کہا! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو حکم آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملا ہے اس کے لیے سوار ہو جائیے ہم لوگ بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ ’’آپ اور آپ کا خدا جائیں اور لڑیں ہم تو بیٹھے ہیں ۔‘‘ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے کہ اگر آپ برک الغماد (یمن کے آخر کا ایک مقام ہے) تک جائیں گے تو ہم ساتھ ساتھ ہوں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو درمیان میں لیتے ہوئے آگے پیچھے، دائیں بائیں جنگ کریں گے۔ حضورنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ مبارک اس تقریر سے روشن ہو گیا۔ انصار کے لیے شمولیت ِجنگ کا یہ پہلا موقعہ تھا اور انصار میں سے کوئی ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا تھا جو جنگ کو پسند نہ کرتا ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پھر انصار کی طرف رخ فرما کر دریافت کیا کہ کیا رائے ہے؟ تو سعد ؓ بن معاذ نے انصار کی جانب سے عرض کیا۔ کیا حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہماری رائے کی ضرورت ہے؟’’بخدا ہمارا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان ہے۔ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصدیق کی ہے اور شہادت دی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں وہ حق ہے۔ ہم نے قبل ازیں سمع و طاعت کے معاہدات بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کیے ہیں لہٰذا ہماری عرض یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جو ارادہ ہے اسی کے مطابق عمل فرمایا جائے۔‘‘
دوسری روایت میں حضرت سعدؓ بن معاذ کے یہ الفاظ ہیں ’’کہ میں انصار ہی کی طرف سے اور انہی کی عرض پیش کررہا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جو منشاء ہو اس پر عمل فرمائیں۔ جس کا رشتہ ملانا ہو ملا دیجیے ٔ جس کا رشتہ توڑ دینا ہو توڑ دیجیے ٔ ۔ جسے موجودہ حالت پر رکھنا ہو اسے اسی حالت پر چھوڑ دیجیے ٔ ہمارے اموال حاضر ہیں جس قدر منشاء ہو قبول فرمایئے اور جس قدر منشاء ہو ہمیں بطور عطیہ چھوڑ دیجیے ٔ ۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قبول فرمانا ہم کو زیادہ پسند ہو گا اور جو ہمارے پاس رہ جائے گا وہ ناپسند ہوگا۔ ہمارا معاملہ بالکل حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ میں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ’’برک الغماد‘‘ تک چلیں ہم سب ہمرکاب ہیں۔ اس خدا کی قسم جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سچی نبوت کے ساتھ بھیجا ہے کہ اگر ہم کو سمندر کو چیر کر نکل جانے کا حکم ہوگا تو ہم سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ چلیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہم لوگ جنگ میں جم جانے والے ہیں اور مقابلہ میں اپنی بات کو پورا کر دکھلاتے ہیں مجھے امید ہے کہ ہماری خدمات حضور کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوں گی۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ مبارک یہ تقریر سن کر چمک اٹھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انصار کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے مبارک دوپٹے سے اس غزوہ کا عَلم(جھنڈا) بنایا گیا اور حضرت مصعب بن عمیرؓ غزوہ بدر کے علمبردار مقر رہوئے۔
کفار ِمکہ کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ (313)تھی۔ ان کے پاس صرف ستر (70) اونٹ اور گھوڑے تھے۔ لشکر اسلام کے پاس سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اگر کسی کے پاس زِرہ ہے تو تلوار نہیں۔ تلوار ہے تو ڈھال نہیں لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قیادت میں بے سروسامانی کے باوجود ان کے دل جوشِ جہاد سے سرشار اور حوصلے بلند تھے۔ ان مجاہدوں میں معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جیسے نو عمر بھی شامل تھے اور عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہٗ جیسے کمسن بھی۔ لیکن سب کے سب اسلام کے شیدائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فدائی تھے۔بقول حفیظ جالندھری ؎

یہ پہلا جیش تھا دنیا میں افواجِ الٰہی کا
جسے اعلان کرنا تھا خدا کی بادشاہی کا
یہ لشکر ساری دنیا سے انوکھا تھا نرالا تھا
کہ اس لشکر کا افسر آپؐ کالی کملی والا تھا
نہ تیغ و تیر پر تکیہ نہ خنجر پر نہ بھالے پر
بھروسہ تھا انہیں سادہ سی کالی کملیؐ والے پر

مشرکین ِمکہ کا لشکر پہلے ہی بدر کے میدان میں پہنچ گیا تھا اور وہاں موجود چشمہ پر قبضہ کر لیا تھا اس کے علاوہ انہوں نے حوض بھی کھود لیے تاکہ دوسرے چشموں سے پانی لا کر وہاں جمع کر لیں۔خود پانی پئیں اور اپنے جانوروں کو پلائیں۔ وہ اپنی کثرتِ تعداد اور سامانِ جنگ پر مست و مغرور ہو رہے تھے۔ مسلمان نرم اور ریتلی زمین پر اترے۔ جس میں آدمیوں کے پاؤں اور چوپاؤں کے سم دھنسے جاتے تھے۔ تاہم یہ جگہ اونچی تھی۔ وہاں سے ان کی پانی تک رسائی ناممکن تھی۔ مگر اللہ نے مدد فرمائی اور بارش بھیجی۔ جس سے وادی لبریز ہوگئی۔
مسلمان اس سے سیراب ہوئے۔ حوض بنا کر پانی جمع کیا۔ اپنے اونٹوں و گھوڑوں کو پلایا۔ کچھ پانی مشکیزوں میں بھرا۔ بارش سے مسلمانوں کی ریتلی زمین جم کر بہتر ہوگئی۔ جبکہ کفارِ مکہ کی جگہ نشیبی اور چکنی مٹی تھی وہ کیچڑ میں تبدیل ہوگئی۔ سورج مسلمانوں کی پشت پر چمک رہا تھا۔ جبکہ کفار کے عین سامنے تھا۔ مسلمانوں کے قبضہ میں اونچی زمین تھی۔ جس کی وجہ سے کفار لشکرِ اسلام کا صحیح اندازہ نہ لگا سکتے تھے مگر اہل ِمکہ نشیبی جگہ پر صاف دکھائی دے رہے تھے۔
’’آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں پاک کردے اور شیطانی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دِلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے قدم مضبوطی سے جمادے۔‘‘(سورہ انفال11)
لشکر سے پیچھے ایک بلند ٹیلہ پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ایک عریش(چھپر) بنا دیا گیا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس بلندی سے دونوں لشکروں کو ملاحظہ کرسکیں۔صرف سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس چھپر کے سایہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان کا کام حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت بجا لانا اپنے لشکر کی حالت عرض کرتے رہنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام لشکر تک پہنچانا تھا۔جنگ سے ایک روز پیشتر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے میدانِ جنگ کا ملاحظہ فرمایا۔ صحابہ کرام ؓ ساتھ تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نور جگہ جگہ ٹھہر کر فرماتے جاتے تھے کل یہاں فلاح کافر کی لاش ہوگی اور یہاں فلاح کافر کی جملہ سردارانِ قریش کے نام اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے گنوا دیئے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دعا فرمائی:
’’یا اللہ یہ وہ اہل ِ ایمان ہیں کہ اگر آج ان کو تونے ہلاک کر دیا تو روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔‘‘بقول حفیظ جالندھری ؎

اگر اغیار نے ان کو جہاں سے محو کر ڈالا
قیامت تک نہ ہو گا کوئی تجھ کو پوجنے والا

اپنی فوج کے ملاحظہ سے فارغ ہوئے تو دشمن کی فوج کی طرف دیکھا اور زبانِ مبارک سے فرمایا ’’الٰہی یہ قریش ہیں جو فخرو تکبر سے بھر پور ہیں ۔ تیرے نافرمان۔ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جنگ آور۔ الٰہی تیری نصرت، تیری مدد کی ضرورت ہے، جس کا تونے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘
بعدازاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عریش میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز کی نیت باندھی ابو بکر صدیقؓ شمشیر برہنہ لے کر پہرہ پر کھڑے ہوگئے۔بعد نماز حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے طویل سجدہ فرمایا اور سجدہ میں یاحی یا قیوم بر حمتک استغیث پڑھتے رہے۔ سجدہ کے بعد بھی لمبی دعامیں مصروف رہے۔ دعا ایسے خشوع و خضوع کے ساتھ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کالی کملی (چادر مبارک) بھی کندھوں سے گر گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خشوع بڑھتا جاتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے آپ کو اتنا ہلکان نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فتح ونصرت کا وعدہ فرما چکا ہے۔اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اونگھ سی طاری ہوئی اور ادھر ساری فوج بھی اونگھ گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آنکھ کھولتے ہی فرمایا: ابوبکرؓ! تجھے بشارت ہوکہ’’ نصرت ِ الٰہی آپہنچی ۔ جبرئیل بھی آگئے ہیں‘‘
 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’میں آپ کو مدد پہنچاتا ہوں ہزار فرشتوں کی قطار سے ‘‘(سورہ انفال9)
پھر فرشتوں سے فرمایا:
’’اے فرشتوں میں تمہارے ساتھ ہوں اور تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو عنقریب میں کافروں کے دِلوں میں ہیبت ڈالوں گا پس کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کے ایک ایک پور پر ضرب لگائو۔‘‘(سورہ انفال13)
ابلیس لعین جو سراقہ سردار بنو کنانہ کی شکل میں ایک لشکر کے ساتھ قریش ِ مکہ کے ساتھ موجود تھا نزولِ ملائکہ دیکھتے ہی ہیبت زدہ ہو کر بھاگ نکلاجیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
’’جب دونوں لشکروں (مسلمانوں اور فرشتوں) کو دیکھا تو الٹے پائوں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا میں اللہ سے ڈرتا ہوں اللہ تعالیٰ سخت عذاب نازل کرنے والا ہے۔(سورۃ انفال48)
مسلمان فوج نے آنکھ جھپک جانے کے بعد دشمن کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان کی تعداد بہت کم ہے اور مسلمان کثرت میں بڑھے ہوئے ہیں ۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میدانِ جنگ میں تشریف لائے تو فوج سے فرمایا: اپنی جگہ قائم رہنا۔ دشمن حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے تو اسے آگے آنے دینا۔ جب وہ تمہارے تیروں کی زد میں آجائے تب تیر خوب بر سانا ۔ دشمن اور ہی قریب آجائے تو نیزوں کا استعمال کرنا۔ تلوار کا استعمال سب سے بعد ہو۔
اس وقت کفار کی طرف سے عتبہ بن ربیعہ بن عبد مناف اپنی فوج کے سامنے تقریر کے لیے نکلا اور ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ قوم میں یہ شخص سمجھ دار ہے۔ اگر لوگوں نے اس کی بات مان لی تو سیدھی راہ پر ہو جائیں گے۔ عتبہ بو لا: اے قریش! محمدؐ کے ساتھ جنگ کرنے کا کوئی نفع معلوم نہیں ہوتا ۔ اگر تم غالب بھی آگئے تب بھی کیا ہوگا ہم اپنے بھائیوں سے ہمیشہ آنکھ چراتے رہیں گے۔ کوئی چچازاد کو کوئی خالہ زاد کو قتل کرے گا۔ کوئی اپنے قبیلہ کے بھائی کو مار ڈالے گا۔ چلو واپس چلو۔ عرب والے خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سمجھ لیں گے۔ اگر کوئی قبیلہ ان پر غالب آگیا تو تمہارا مقصد پورا ہو گیا اور اگر وہ بھی غالب نہ آیا تو تم ندامت و شرمندگی سے بچے رہو گے۔ بعدازاں یہی پیغام ابو جہل کے پاس بھی بھجودیا۔ ابو جہل نے عامر بن حضرمی کو بلایا کہا دیکھو یہ عتبہ تیرا رقیب ہے اور تجھے بھائی کا انتقام لینے سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ بھی ہے کہ اس کا بیٹا (حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ) مسلمانوں کی طرف ہے اب تم کو لازم ہے کہ آگے بڑھو اور فوج کو گرمائو۔ اس نے اپنے بھائی کے نام کی دہائی دی اور فوج میں جوش پیدا ہو گیا۔اسود مخزومی کفار میں سے نکلا اور کہا کہ سب سے پہلے میں بڑھتا ہوں مسلمانوں کے حوض کا پانی پی کر آئوں گا یا وہیں مر جائوں گا۔وہ حوض کی طرف چلا تو سیّدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اس کا تعاقب کیا اور اس کی پیٹھ پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں واصل ِ جہنّم ہوا۔اب اپنی صف سے عتبہ نکلا(غالباً یہ ابو جہل کے طعن کا جواب تھا) اس کا بھائی شیبہ اور فرزند ولید بھی اس کے ساتھ تھے اس نے نعرہ لگایا کہ کوئی مقابلہ کو نکلے یہ سن کر معاذ اور معوذ پسران حارث باہر نکلے(ان کی ماں عفراء انصا ریہ ہیں اس خاتون کے سات فرزند میدانِ جنگ میں حاضر تھے۔ کوئی خاتون ان کی اس فضیلت کو نہ پاسکی) عبد اللہ بن رواحہ انصاریؓ جو نقیب محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور دربارِ محمدیؐ تھے ان کے ساتھ ساتھ تھے۔عتبہ نے کہا تم کون ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم انصاری ہیں۔ عتبہ بولا ہاں آپ ذی عزت ہیں برابر کے جوڑ ہیں۔ لیکن میں تو اپنی قوم کے اشخاص چاہتا ہوں۔ یہ سن کر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: عبیدہ ؓ بن حارث تم چلو۔ حمزہؓ تم چلو۔ علیؓ تم چلو(تینوں ہاشمی ہیں) حمزہؓ نے شیبہ کا اور علی ؓ ولید کا شکار جاتے ہی کر لیا۔عبیدہؓ اور عتبہ ایک دوسرے پر شمشیر زنی کر رہے تھے کہ حمزہ ؓ اور علیؓ نے بھی عتبہ پر حملہ کر دیا اور اسے خاک و خون میں سلادیا۔اسی جنگ میں امیہ بن خلف جو حضرت بلال ؓ کو کلمہ توحید پر ستایا کرتا تھا حضرت بلال ؓ کے ہاتھوں قتل ہوا۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے حضرت بلال ؓ کو مبارکباد دی۔
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں ہ صف بندی میں میرے دائیں بائیں دو نوجوان لڑکے تھے میں نے دِل میں کہا کہ میرے برابر کوئی آزمودہ کار ہوتا تو خوب ہوتا۔ یہ دونوں نوجوان معاذ و معوذ پسران عفراء تھے۔ ایک نے چپکے سے مجھے کہا کہ چچا آپ ابو جہل کو جانتے ہیں۔جب ہمارے سامنے آئے تو مجھے بتانا دوسرے نے بھی یہی بات آہستہ سے پوچھی۔ میں نے کہا کیا کرو گے؟ اگر اسے دیکھ لوگے۔ انہوں نے کہا ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گالیاںدیا کرتا ہے۔ ہم نے عہد کر لیا ہے کہ اسے ضرورقتل کریں گے یا اپنی جان دے دیں گے ۔ اتنے میں ابوجہل چکر لگاتا ہوا لشکر کے سامنے آیا میں نے دونوں لڑکوں سے کہا دیکھو! ابو جہل وہ ہے یہ سنتے ہی وہ دونوں ایسے جھپٹے جیسے شہباز کوے پر گرتا ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی تلواریں اس کے پیٹ میں بھونک دیں۔ وہ گر پڑا جان توڑ رہا تھا کہ ابن ِمسعود ؓ بھی پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس کی چھاتی پر پائوں رکھا سر کاٹا اور داڑھی سے پکڑ کر سر اٹھا لیا ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جب ابو جہل کے قتل کی اطلاع ملی تو ارشاد رمایا: کہ اس امت کا فرعون یہی ابو جہل تھا۔
جب کفار کے لشکر سے عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق مبارز طلب کرنے نکلا تو اس کے مقابلہ کو ابو بکر صدیق ؓ آمادہ ہوگئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کو روک لیا۔جب لشکرِ کفار سے جراح باہر آیا تو اس کے مقابلہ کے لیے ابو عبیدہ ؓ بن جراح ان کے فرزند لشکر ِ اسلام سے روانہ ہوگئے ۔ ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ ان مجاہدین فی سبیل اللہ کی نگاہ میں نہ باپ کی عظمت باقی رہی تھی اور نہ فرزند کی محبت۔ ان کو ایک وحدہ لا شریک ذات اور اپنے محبوب رسول اللہ کے علاوہ کسی رشتہ سے سروکار نہ تھا ’’اللہ بس ماسوٰی اللہ ہوس ‘‘ یہ ہے جہاد با لنفس کی تربیت۔پھر گھمسان کی جنگ شروع ہوئی اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو بھی اہل ِ ایمان کی مدد نصرت اور ثبات و اطمینان کے لیے نازل فرمایا۔ مسلمان فرشتوں کو انسانوں کی صورت میں چلتے پھرتے دیکھتے تھے اور فرشتے ہر ایک مومن سے کہہ رہے تھے کہ بہادر بنو۔ مضبوط رہو فتح اور نصرت ِ الٰہی تمہارے ساتھ ہے۔ جب مسلمانوں اور کافروں کا ہر شخص جنگ میں مصروف تھا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کنکریوں کی ایک مٹھی کفار کی جانب پھینک دی ۔آپؐ کا کنکریاں پھینکنا تھا کہ کفار بھاگ نکلے قرآن میں اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا گیا ہے: ’’وہ کنکریاں آپؐ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں(انفال17)
اس جنگ میں 70کفار واصل ِ جہنم اور چودہ مسلمان شہید ہوئے۔
کفار ایسے بھاگے تھے کہ انہوں نے اپنی فوج کے مُردوں کا بھی کچھ انتظام نہ کیا۔ حضور نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طبعاً عادت مبارک یہ تھی کہ جہاں کسی انسان کی لاش کو بلا تدفین دیکھ لیتے دفن کرنے کا حکم دیتے۔ بدر میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایسا ہی کیا۔24سردارانِ قریش کو ایک گڑھے میں الگ اور باقی کفار کو ایک گڑھے میں الگ زیرِ خاک کر دیا گیا۔ تیسرے روز حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس گڑھے کے کنارے تک تشریف لے گئے جہاں سردارانِ قریش کے ناپاک جثے گرائے گئے تھے اور باآواز بلند فرمایا: اے عتبہ بن ربعیہ اے شیبہ بن عتبہ اے امیہ بن خلف۔ اے ابو جہل بن ہشام اے فلاں اے فلاں۔ اللہ نے جو تمہاری بابت کہاتھا کیا اس کو تم نے ٹھیک پایا۔ مجھے تو جو اللہ نے وعدہ فرمایا تھا میں نے تو اسے بالکل درست دیکھ لیا۔عمر فاروق ؓ نے استفہامیہ لہجہ میں عرض کیا ۔ کیا آپؐ ان لاشوں سے جن میں روح نہیں تین روز کے بعد خطاب فرمارہے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ ہاں یہ لوگ اس وقت سن رہے ہیں ۔ یہ الفاظ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے سامنے روایت کیے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے الفاظ مبارک تو یہ تھے’’ ہاں وہ اس وقت خوب جان گئے ہیں۔‘‘
اس فتح نے جزیرۃ العرب میں اسلام کی حقانیت اور طاقت کو ثابت کر دیا اور قریش ِ مکہ کا صدیوں سے قائم رعب و دبدبہ اور شان و شوکت خاک میں مل گئی ۔ جب قریش ِ مکہ کا خوف دِل سے نکلا تو مکہ اور مدینہ کے گرد و نواح کے قبائل میں سے لوگ حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے اور عرب کے قبائل بھی بہ رضا و رغبت مسلمانوں سے معاہدے کرنے لگے اور اسلام ایک طاقت کی حیثیت سے عرب میں ابھرا اس لیے اس یوم کو قرآنِ کریم نے ’’یومُ الفرقان‘‘ (فیصلہ کا دِن)کے نام سے یاد کیا ہے:یَوْمَ الْفُرْقَانِ وَیَوْمَ التَقَی الْجَمْعٰنِ(سورہ انفال41)
ترجمہ:’’یعنی وہ فیصلے کا دِن جب دوفوجیں ملی تھیں (یعنی فیصلہ ہو گیا کہ اس خطہ میں سب سے بڑی طاقت مسلمان ہیں )
17۔رمضان المبارک 2ھ؁ بروز جمعتہ المبارک اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ اس کے نور کوبجھایا نہ جا سکے گا اور اللہ اپنا نور مکمل کرکے رہے گا۔
اہل ِ بدر کی فضیلت بیان نہیں کی جاسکتی اللہ تعالیٰ نے انہیں سب مسلمانوں سے افضل اور اِن کے مستقبل کی خطائوں تک کو بخش دیا۔
٭ ’’حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اہل ِ بدر کے مسلمانوں کو کیسا سمجھتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا سب مسلمانوں سے افضل سمجھتا ہوں جبرائیل ؑ نے بتایا کہ فرشتوں میں جو فرشتے بدر میں حاضر ہوئے ان کا درجہ ملائکہ میں بھی ایسا سمجھا جاتا ہے۔(بخاری شریف)
٭ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اہل ِ بدر کو دیکھا اور فرمایا جو چاہو کرو میں تم کو بخش چکا ہوں۔ (ابو دائود)
بدر کا میدان آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کو دعوت دے رہا ہے۔

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

اپنا تبصرہ بھیجیں