غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اور شبیہ غوث الاعظم مدظلہ الاقدس | Ghous Al-Azam Shabih Ghous Al-Azam

غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اور شبیہ غوث الاعظم مدظلہ الاقدس

(Ghous al-Azam or Shabih Ghous al-Azam)

تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

تولد عاشق و کامل سنینش
وصالش دان ز معشوقِ الٰہی

سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-ul-Azam)کی تاریخِ پیدائش لفظ ’عاشق‘ کے اعداد کے مطابق 471 ہجری ہے اور آپؓ کے وصال کا سال’معشوقِ الٰہی‘ کے اعداد کے مطابق 562 ہجری ہے۔
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani)قطبوں کے قطب، محبوبِ خدا کے محبوب، محبوبوں کے تاج، جن و انس و ملائکہ کے بادشاہ اور خوفزدوں کی جائے پناہ ہیں۔ آپؓ کے مناقبِ ِجلیلہ درختوں کے پتوں سے بھی زیادہ اور آپؓ کے اوصافِ حمیدہ صحراؤں میں موجود ریت کے ذروں سے بھی زیادہ ہیں۔ آپؓ کی تعریف کرنے والے آپؓ کی تعریف کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر قلم انہیں لکھیں تو وہ ٹوٹ جائیں، اگر انگلیاں شمار کریں تو وہ تھک جائیں مگر آپ کے اوصاف ختم نہ ہوں۔ توفیق آپؓ کی چادر، تائید ِایزدی آپؓ کی معاون، علم آپؓ کی تہذیب، قربِ الٰہی آپؓ کا ادب، معرفت آپؓ کی خدمتگار، خطاب معتبر، دیدار سفیر، حق آپؓ کی اصل، صدق آپؓ کا جھنڈا، فتح آپؓ کی پونجی، حکم آپؓ کا کام، ذکر آپؓ کا وزیر، فکر آپؓ کا قصہ گو، مکاشفہ آپؓ کی غذا، مشاہدہ شفا، شریعت آپؓ کا ظاہر اور فقر آپؓ کا باطن ہے۔
حضرت شاہ ابو المعالیؒ فرماتے ہیں:

گر کسے واللہ بعالم از مے عرفانی است
از طفیل شاہ عبدالقادر جیلانیؓ است

ترجمہ: اگر دنیا میں کسی کو شرابِ عرفان حاصل ہوئی ہے تو واللہ وہ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے طفیل ملی ہے۔

اس سے یہ پتہ چلا کہ کوئی بھی طالبِ مولیٰ آپؓ کے وسیلے کے بغیر معرفتِ حق تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) صادق طالبانِ مولیٰ کی خود تربیت فرمانے کے بعد ان کو سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-Al-Azam)کے حوالے فرما دیتے ہیں۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ فرماتے ہیں:

قبلہ اہلِ صفا غوث الثقلین

یعنی سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-al-Azam) تمام اہلِ اللہ کا قبلہ ہیں۔

عام مسلمان کی نماز تب قبول ہوتی ہے جب وہ قبلہ کی طرف رُخ کرتا ہے۔ اسی طرح باطن کا سفر تب شروع ہوتا ہے جب باطن کا رخ سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-al-Azam)کی طرف کیا جائے یا ان سے مدد طلب کی جائے۔

غوث الاعظمؓ درمیان اولیا
چوں محمدؐ درمیان انبیا

یعنی سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-al-Azam) کا اولیا میں مقام ایسا ہے جیسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کا مقام انبیا کے درمیان ہے۔ پہلا مطلب تو واضح ہے کہ آپ کا اولیا میں ویسا ہی بلند مقام ہے جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کا دیگر انبیا کے درمیان ہے۔ اس معنی کے پیچھے ایک واقعہ ہے۔ 

بعض سادات صوفیا سے بھی سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-Al-Azam) کی حکایت منقول ہے کہ آپؓ نے فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) کی زیارت کا شرف بخشا اور ان کے الہام پر مجھے اطلاع دی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) کو فرمایا ’اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! (Prophet Mohammad pbuh) اسے جانتے ہو؟‘ میں نے عرض کی ’پروردگار! تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔‘ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’یہ حسنؓ بن علیؓ کی نسل سے تیرا بیٹا ہو گا، اس کا نام عبد القادر ہے اور میں نے تیرے بعد اس کو اپنا محبوب بنایا اور عنقریب اس کی شان و شوکت اولیا میں ایسی ہوگی جیسی آپ کی انبیا میں ہے۔‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) نے ارشاد فرمایا ’اے میرے بیٹے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک! ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوئے ہیں، بس تم میرے اور اللہ کے محبوب ہو اور میرے بعد میری ولایت اور محبوبیت کے وارث ہو‘۔‘‘ (تفریح الخاطر فی مناقب شیخ سیدّ عبدالقادر جیلانیؓ)

شعر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) کے دنیا میں ظاہر ہونے سے پہلے تمام انبیا آپؐ کی بعثت کی خبر دیتے رہے اسی طرح حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی پیدائش سے پہلے تمام اولیا کاملین آپؓ کے مقام و مرتبہ کی خبر دیتے رہے۔ یہ بات واضح ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی آپؓ کے چرچے تھے۔ امام محمد بن سعید بن احمد سعید فرماتے ہیں ’’تمام مشائخ نے اپنے اپنے زمانہ میں آپ کے مرتبہ کی شہادت دی اور ان میں کوئی منکر نہ تھا۔ جو آپ سے پہلے تھے انہوں نے آپ کی تشریف آوری کی بشارت دی۔ جو بھی اولیا گزرے ہیں سب نے شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ (Ghous-al-Azam Sayyiduna Hazrat Abdul Qadir Jilani)  کی خبر دی تھی۔‘‘ (النواظر و نزہتہ الخواطر)

منازل الاولیا فی فضائل الاصفیا میں لکھا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ (Hazrat Umar Farooq ra) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Hazrat Ali ra) کو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہٗ (Hazrat Owais Qarni ra) کے پاس جانے کی وصیت فرمائی تھی اور فرمایا کہ اویس قرنی کو میرا سلام کہنا، میری یہ قمیض انہیں دے دینا اور میری امت کے لیے ان سے دعا کرانا۔ چنانچہ محبوبِ کبریا کے وصال کے بعد یہ دونوں حضرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کی قمیض مبارک لے کر اویس قرنی رضی اللہ عنہٗ کے پاس گئے اور ایک وادی میں آپ سے ملاقات کی۔ اس وقت آپؓ سربسجود بارگاہِ الٰہی میں خشوع و خضوع سے زاری کر رہے تھے۔ جب آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو ان دونوں حضرات نے سلام کہا۔ آپ نے ان حضرات سے مصافحہ کرتے ہوئے سلام کا جواب دیا اور ان سے سیدّ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) کی قمیض کو باکمالِ ادب لیا اور پہلے سر پر رکھی پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) کے حکم کی فرمانبرداری کرتے ہوئے پہن لیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سلام کہا اور آپ کی امت کے لیے دعا مانگنے کا سوال کیا۔ حضرت اویس قرنیؓ سجدہ میں گر پڑے اور امتِ محمدیہ کی مغفرت کے لیے دعا مانگی پھر سر اٹھایا اور ان حضرات سے کہا  ’’میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) کی تمام امت کے لیے مغفرت کی دعا مانگی تھی لیکن ندا آئی کہ اپنا سر اٹھا لے۔ میں نے تیری شفاعت سے نصف امت کو بخش دیا اور دوسری نصف کو اپنے محبوب غوث الاعظمؓ  (Ghous-al-Azam Sayyiduna Hazrat Abdul Qadir Jilani)کی شفاعت سے بخشوں گا جو تیرے بعد پیدا ہوگا۔ میں نے عرض کی کہ اے پروردگار! تیرا وہ محبوب کون ہے اور کہاں ہے تاکہ میں اس کی زیارت کر لوں۔ خطاب ہوا وہ مَقْعَدٍ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ  اور دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی  کے مقام پر ہے وہ میرا محبوب ہے اور میرے محبوب کا بھی محبوب ہے۔ وہ قیامت تک اہلِ زمین کے لیے حجت ہوگا۔‘‘

اللہ کے اس کلام سے متعلق ایک اور واقعہ قوائد الجواہر میں درج ہے۔ صاحبِ قلائد الجواہر نے نقل کیا ہے ’’میں نے بہت سے مشائخ سے سنا کہ ہمارے شیخ سیدّ عبدالقادر جیلانیؓ غوث الاعظم (Ghous-al-Azam Sayyiduna Hazrat Abdul Qadir Jilani) ہیں اس لیے کہ جب بھی مطلقاً اس کا ذکر کیا جائے تو اس سے مراد آپ کی ذات گرامی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لفظ سے مخاطب فرمایا۔ آپ نے شبِ معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کی زیارت کی اور ولایتِ محمدیہ اور وراثتِ محبوبیہ کی حلت سے بہرہ اندوز ہوئے جیسا کہ آپ سے منقول ہے جب میرے نانا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو معراج ہوئی اور سدرۃ المنتہی پر پہنچے تو جبرائیل امین علیہ السلام پیچھے رہ گئے اور عرض کی اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم(Prophet Mohammad pbuh)!اگر میں ذرا بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ میری روح کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ میں نے زیارت کی نعمتِ عظمیٰ حاصل کی اور وراثت و خلافتِ کبری سے بہرہ اندوز ہوا۔ میں جب حاضر ہوا تو مجھے براق کی جگہ کھڑا کیا گیا اور میرے نانا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) میری لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ کر سوار ہوئے اور مقامِ قابَ قوسین او ادنیٰ پر جا پہنچے اور مجھے ارشاد فرمایا ’میرا قدم تیری گردن پر ہے اور تیرا قدم تمام اولیااللہ کی گردن پر ہے‘۔‘‘

جس کی منبر ہوئی گردنِ اولیا
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام

پھر وہ لمحہ آن پہنچا جب آپؓ نے اعلان فرمایا:
قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ 
ترجمہ: میرا یہ قدم تمام اولیا اللہ کی گردن پر ہے۔
سب اولیا کرام نے گردنیں جھکا لیں۔ جنہوں نے گردنیں جھکا لیں ان کے مراتب کو اللہ تعالیٰ نے مزید بلند فرما دیا۔
جس وقت سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ (Ghous-al-Azam Sayyiduna Hazrat Abdul Qadir Jilani) نے بحکمِ الٰہی یہ ارشاد فرمایا اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ خراسان کے ایک پہاڑ کے غار میں مجاہدہ کر رہے تھے، آپ نے یہ حکم سنتے ہی جلدی سے تمام اولیا کرام سے پہلے اپنے سر کو اتنا جھکا دیا کہ سرزمین پر لگ گیا اور فرمایا ’’بلکہ آپ کا قدم میرے سر پر ہے۔‘‘

اس حالت کو دیکھ کر سیدّنا غوث الاعظمؓ (Ghous-al-Azam Sayyiduna Hazrat Abdul Qadir Jilani) نے بھری محفل میں اسی وقت فرمایا ’’غیاث الدین کا لڑکا اولیا کرام اور اپنے احباب سے گردن جھکانے میں سبقت لے گیا ہے۔ وہ تواضع اور حسنِ ادب کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسولؐ کا محبوب بن گیا اور عنقریب اس کو ہندوستان کی حکومت کی باگ ڈور دی جائے گی۔‘‘ (لطائف الغرائب)

جب سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani)نے اللہ کے حکم سے فرمایا کہ میرا یہ قدم تمام اولیا کی گردنوں پر ہے تو سوائے شیخ صنعان اصفہانی کے تمام اولیا کرام نے اپنی اپنی گردنوں کو آپ کی تعظیم اور فرمانبرداری کرتے ہوئے جھکا لیا۔ آپؓ کو شیخ صنعان کی عدم فرمانبرداری کا کشف کے ذریعے علم ہو گیا تو آپؓ نے اس کے بارے میں فرمایا ’’میرا قدم خنزیروں کے چرانے والے کی گردن پر بھی ہے۔‘‘ کچھ مدت کے بعد شیخ صنعان بیت اللہ شریف کی زیارت کے لیے اپنے کامل مریدین کے ہمراہ نکلے۔ شیخ محمود مغربی اور شیخ فرید الدین عطار بھی ان مریدوں میں سے ہیں۔ چلتے چلتے ان کا کفار کے شہروں میں سے ایک شہر پر گزر ہوا تو شیخ صنعان کی اچانک ایک ایسی لڑکی پر نظر پڑ گئی جس کی حسن و جمال میں کوئی مثال نہ ملتی تھی۔ وہ اپنے محل میں کھڑی اطراف و جوانب کا نظارہ دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں جھانکنے والوں کو صرف ایک نظر سے شکار بنا لیتی تھیں۔ شیخ یہ دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے، عقل کا جنازہ نکل گیا اور اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر یہ جگہ چھوڑ کر آگے چلنے کی طاقت نہ رہی۔ یہ دیکھ کر لڑکی بھی اپنا دل دے بیٹھی، اس نے بھی اپنی جگہ نہ چھوڑی اور کھانا پینا تک بھول گئی۔ اس کے والد کو خبر ہوئی تو فکرمند ہوا کہ اب اس کا کیا حال ہوگا۔ وہ سخت گھبرایا اور سوائے شیخ سے نکاح کر دینے کے اور کچھ نہ سوجھی۔ پھر اپنے ارادہ سے ان کو مطلع کیا تو شیخ نے گمراہی کا راستہ اختیار کر لیا۔ لڑکی کے والد نے بتایا ہمارے نکاح کرنے کا یہ دستور ہے کہ لڑکی دینے سے (چند دن پہلے) وہ خنزیر چراتا ہے اور روزانہ لڑکی والوں کو ایک خنزیر کا بچہ لا کر دیتا ہے تاکہ وہ اپنے دستور کے مطابق نکاح تک کھائیں۔ پھر وقتِ نکاح چراغ روشن کرتے ہیں اور مرد کے ایک ہاتھ میں خنزیر کا گوشت اور شراب رکھتے ہیں اور دوسرے ہاتھ میں دلہن کا پلہ بغیر کسی پردہ کے پکڑا دیا جاتا ہے۔ یہ خبر سن کر شیخ بہت خوش ہوئے اور اس خدمت کو بغیر کسی پرہیز کے پورا کر دیا اور ہر روز صبح خنزیر کا بچہ اپنی گردن پر اٹھا کر لاتے اور انہیں دیتے۔ مدت پوری ہونے کے بعد انہوں نے اس کے ایک ہاتھ میں خنزیر کا گوشت اور شراب رکھی اور دوسرے ہاتھ میں اس کی حبیبہ کا پلہ خوشی سے پکڑایا۔ جب شیخ نے شراب پینے اور خنزیر کا گوشت کھانے کا ارادہ کیا تو مریدین حضرات اس حالت ِعجیبہ کو دیکھ کر بداعتقاد ہو کر چھوڑ گئے مگر اس کے دو مرید ِصادق شیخ محمد فرید الدین اور شیخ محمود مغربی جادۂ اعتقاد سے نہ ہلے۔ بلکہ انہوں نے کہا اس مصیبت کی بھڑکتی ہوئی آگ کو اس کے اُٹھنے کی جگہ سے بجھانا ضروری ہے اور یہ دونوں حضرات جانتے تھے کہ یہ مصیبتِ عظمیٰ سیدّنا غوث الاعظمؓ کی نافرمانی کا ثمرہ ہے۔ شیخ محمود اپنے مرشد کی خدمت میں ہی رہے اور شیخ فرید الدین بغداد کی طرف روانہ ہوئے۔ جب بغداد میں سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani)کی خانقاہ میں پہنچے تو خدمت کا کوئی محل تلاش کیا مگر خالی کوئی بھی نہ پایا تو شیخ فرید نے آپؓ کے پاخانہ کا ٹوکرا اٹھا کر جنگل میں پھینکنا ہی غنیمت جانا۔ اس کے بارے میں خادموں میں سے کسی خاص کی ڈیوٹی نہ تھی اس لیے کچھ عرصہ بعد یہ خدمت مستقل آپ کے حوالہ ہو گئی۔ پھر کچھ دن بعد پہلے خادموں نے سیدّنا غوث الاعظمؓ کی بارگاہ میں شکایت کی کہ ہم آپ کی خدمت سے محروم ہو گئے ہیں۔ پوچھا ’’کیا تم میں کوئی غریب درویش نیا آگیا ہے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ اس نے ہم سے یہ خدمت لے لی ہے۔ فرمایا ’’وہ اس خدمت پر ہے۔‘‘ پھر آپ وضو کے لیے اُٹھے۔ دیکھا کہ ایک نوجوان اپنے سر پر ٹوکرا اٹھائے لے جا رہا ہے۔ بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے پاخانے کے قطرے اس پر ٹپک رہے تھے۔ آپ نے استفسار فرمایا ’’توُ کون ہے؟‘‘ عرض کی ’’میں شیخ صنعان کا مرید ہوں۔‘‘ آپؓ کو نوجوان کی حالت پر رحم آیا اور فرمایا ’’مانگ جو مانگتا ہے۔‘‘ عرض کی ’’آپ میری خواہش جانتے ہی ہیں۔‘‘ آپؓ نے فرمایا ’’مجھ سے کوئی تو اعلیٰ مقام مانگ۔‘‘ عرض کی ’’میرے نزدیک اس سے اعلیٰ مقام نہیں کہ آپ میرے شیخ کا قصور معاف فرما دیں۔‘‘ فرمایا ’’تمہاری خاطر میں نے تمہارے شیخ کا قصور معاف کر دیا۔‘‘ آپؓ کے ارشاد کے ساتھ ہی شیخ صنعان کی آنکھ سے پردہ اٹھ گیا، دل سے نصرانیہ کی محبت کا جنازہ نکل گیا اور سابقہ حالات حاصل ہو گئے۔

شیخ صنعان سب چھوڑ کر جب فوراً بغداد پہنچے تو چہرے پر سیاہی مل لی۔ دونوں ہاتھوں کو بیڑیوں سے مضبوط باندھ لیا، خادموں کے ساتھ سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani)کی چوکھٹ پر کھڑے ہو گئے اور آپؓ کے سامنے رونے لگے۔ آپؓ کو اس کی حالت پر رحم آیا اور اس کا قصور معاف کر دیا۔ چہرہ دھونے اور ہاتھ کھولنے کا حکم فرمایا اور بارگاہِ الٰہی میں اس کے گناہ معاف کرنے کی دعا کی۔ اللہ جل شانہٗ کی طرف سے خطاب ہوا ’’یہ تیری شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے مردود ہو چکا ہے۔‘‘ سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) نے اس کے حق میں زاری کرتے ہوئے دعا کی یہاں تک کہ بارگاہِ الٰہی سے ندا آئی ’’اس کے حق میں کسی کی بھی سفارش قبول نہیں کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی آپ دنیاوی تصرفات اور مراسمِ غوثیہ سے دست بردار ہو گئے اور عرض کیا ’’الٰہی! جب تو نے اس کے حق میں میری اور دوسرے ولیوں کی شفاعت قبول نہیں کی تو میرے مریدوں کا قیامت میں کیا حال ہوگا۔ اس عظیم آفت کی وجہ سے میں ان امور سے دست بردار ہوتا ہوں اور تیرے بندوں کے کام تیرے سپرد کرتا ہوں۔ تو جاننے والا قادر ہے اور تجھے تمام اختیار ہے۔‘‘ خالق و مالک کی طرف سے خطاب ہوا ’’میں نے اس کی توبہ قبول کی اور تیرے لیے اس کو معاف کر دیا اور یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ تیرے مریدوں کو توبہ کے بغیر نہ ماروں گا اور ان کا خاتمہ بالخیر ہوگا۔‘‘ (تفریح الخاطر فی مناقب شیخ عبدالقادر جیلانیؓ)

سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) نے فرمایا ’’مجھے ایک بہت لمبی کتاب دی گئی ہے جس میں میرے مصاحبوں اور قیامت تک جتنے بھی مریدین ہوں گے تمام کے نام درج ہیں۔ مجھ سے کہا گیا ہے یہ تمام آدمی تمہارے حوالے کیے گئے ہیں۔ میں نے دوزخ کے دربان سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس دوزخ میں کوئی میرا مرید بھی ہے اس نے کہا نہیں۔‘‘ پھر آپؓ نے فرمایا:
’’مجھے اپنے ربّ کے عزت و جلال کی قسم! میرا ہاتھ میرے مرید پر ایسے ہے جیسے آسمان زمین پر حاوی ہے۔ اگر وہ اچھا نہیں ہے تو میں تو اچھا ہوں۔ مجھے اپنے پروردگار کی عزت و جلال کی قسم! اس کی بارگاہ سے اس وقت تک نہ ہٹوں گا جب تک وہ تمام مریدوں کو جنت میں نہ جانے دے۔‘‘ (بہجتہ الاسرار)

اب اس واقعہ سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے جس کا جواب ہر کسی کے پاس ہونا ضروری ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ آپؓ کو مریدین کے نام دئیے گئے جس میں آپؓ کے زمانہ کے علاوہ قیامت تک آنے والے مریدین کے نام تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ دور میں بھی آپؓ کا مرید ہوا جا سکتا ہے۔تو سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب نہایت آسان ہے۔ جو بھی آپؓ کے سلسلے کا مرید ہوگا وہ قیامت تک دراصل آپؓ کا ہی مرید ہے۔

اب اس جواب سے مزید ایک سوال نکلتا ہے اس کا جواب جاننا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ سیدّنا غوث الاعظمؓ کا اس دور میں مرید ہوا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ اس دور میں آپؓ کا اصل سلسلہ کونسا ہے جس میں آپؓ کا فیض جاری ہے۔اس سوال کا جواب آپ کو حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات سے مل جائے گا کہ سلسلہ سروری قادری (Sarwari Qadri Order) ہی اصل میں سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کا سلسلہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدّنا غوث الاعظمؓ کے پردہ فرمانے کے بعد ہر کسی نے قادری ہونے کا دعویٰ شروع کر دیا تھا کہ اس کے پاس سیدّنا غوث الاعظمؓ کا اصل فیض ہے۔ جب حضرت سخی سلطان باھوؒ کا زمانہ آیا تو اس وقت تک اس کی انتہا ہو چکی تھی کہ لٹیرے اور چور قادری سلسلے کا نام استعمال کر کے لوگوں کو لوٹ رہے تھے۔ اتنے سارے لوگوں کو یہ نام استعمال کرنے سے روکنا تو ناممکنات میں سے تھا اس لیے حضرت سخی سلطان باھوؒ نے حق کو سب سے جدا کرنے کے لیے قادری سلسلے کو سروری قادری (Sarwari Qadri ) سلسلے کے نام سے منظم کیا۔ یوں سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کا اصل فیض سلسلہ سروری قادری (Sarwari Qadri Order) میں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ سلسلہ سروری قادری (Sarwari Qadri Order) میں اُس وقت کے امام کے ہاتھ پر بیعت ہونے سے سیدّنا غوث الاعظمؓ کا فیض ملتا ہے یا دوسرے الفاظ میں سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani)  کا مرید ہو جاتا ہے کیونکہ فیض تو اسی کو ملتا ہے جو مرید ہو۔

اب اسی بات کو ایک اور طریقہ سے سمجھتے ہیں کہ سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کا اصل فیض کدھر ہے۔ رسالہ روحی شریف حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra)کی تصنیف مبارکہ ہے جس میں آپؒ نے اسرارِ الٰہی بیان فرمائے ہیں۔ رسالہ روحی شریف میں آپؒ نے پانچ سلطان الفقر ہستیوں کا ذکر فرمایا جو فقر کے سب سے اعلیٰ مقام پر ہیں۔ ان ہستیوں کے نام یہ ہیں: حضرت فاطمہؓ، حضرت خواجہ حسن بصریؓ، سیدّنا غوث الاعظمؓ حضرت پیر عبدالرزاقؒ اور حضرت سخی سلطان باھوؒ۔ وہ فیض جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) سے چلا وہ حضرت فاطمہؓ کے ذریعے سیدّنا غوث الاعظمؓ تک پہنچا اور پھر سلسلہ در سلسلہ حضرت سخی سلطان باھوؒ تک۔ رسالہ روحی شریف میں آپ نے ان پانچ ہستیوں کے نام مبارک لینے کے بعد فرمایا کہ دو سلطان الفقر ہستیاں ابھی ظاہر ہونی ہیں۔

تمام مسلم امہ میں اتفاقِ رائے ہے کہ چھٹی ہستی حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ (Sultan-ul-Faqr VI Sultan Mohammad Asghar Ali ra) ہیں جو ہمارے مرشد کے مرشد ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کا اصلی فیض سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ  (Sultan-ul-Faqr VI Sultan Mohammad Asghar Ali ra) کے پاس تھا جو اس دنیا سے پردہ فرماتے وقت وہ فیض ہمارے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے حوالے فرما گئے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس نے بھی دنیا میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا فیض پانا ہے اسے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دستِ مبارک پر بیعت ہونا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو مجلسِ محمدیؐ سے شبیہ غوث الاعظم ( Shabih Ghous Al-Azam) کا لقب عطا ہوا۔ اس لقب کا مطلب ہے کہ سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghaus-al-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کا عکس۔ آسان الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ سیدّنا غوث الاعظمؓ کے سلسلے کے امام۔

جو یہ مضمون پڑھ رہے ہیں لیکن سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے دستِ مبارک پر بیعت نہیں ہیں ان کو مشورہ ہے کہ ایک مرتبہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دستِ مبارک پر بیعت ہو کر تو دیکھیں پھر آپ پر انوارِ الٰہی کی ایسی برسات ہوگی کہ آپ دنگ رہ جائیں گے کیونکہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے ہی روز اسمِ اعظم کا نہ صرف ذکر بلکہ تصور بھی عطا فرماتے ہیں۔ اولیا اللہ کی صحبت کے فیوض و برکات کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ اصحابِ کہف اللہ کے طالب تھے۔ ایک کتا ان کی صحبت کی وجہ سے فیض پا گیا تو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کے اولیا اللہ ہیں ان کی صحبت کا کیا حال ہوگا۔ پھر مزید آپؐ کی امت کے اولیا میں سے وہ جو غوث الاعظمؓ کے سلسلے کے امام ہیں ان کی صحبت کا کیا عالم ہوگا اس کا اندازہ بیعت کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔

استفادہ کتب:
۱۔ بہجتہ الاسرار
۲۔تفریح الخاطر فی مناقب شیخ سیدّ عبدالقادر جیلانیؓ
۳۔ لطائف الغرائب
۴۔ قوائد الجواہر
۵۔منازل الاولیا فی فضائل الاصفیا
۶۔النواظر و نزہتہ الخواطر

(Ghous al-Azam or Shabih Ghous al-Azam)

 
 

38 تبصرے “غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اور شبیہ غوث الاعظم مدظلہ الاقدس | Ghous Al-Azam Shabih Ghous Al-Azam

  1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سیدّنا غوث الاعظمؓ کے سلسلے کے موجودہ امام ہیں۔

  2. یا غوث صمدانی سیدنا شیخ مح الدین عبد القادر جیلانی شیی للہ امددنی فی سبیل اللہ

    1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سیدّنا غوث الاعظمؓ کے سلسلے کے موجودہ امام ہیں۔

      Reply

  3. گر کسے واللہ بعالم از مے عرفانی است
    از طفیل شاہ عبدالقادر جیلانیؓ است
    ترجمہ: اگر دنیا میں کسی کو شرابِ عرفان حاصل ہوئی ہے تو واللہ وہ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے طفیل ملی ہے۔

  4. قبلہ اہلِ صفا غوث الثقلین
    یعنی سیدّنا غوث الاعظمؓ تمام اہلِ اللہ کا قبلہ ہیں۔

    عام مسلمان کی نماز تب قبول ہوتی ہے جب وہ قبلہ کی طرف رُخ کرتا ہے۔ اسی طرح باطن کا سفر تب شروع ہوتا ہے جب باطن کا رخ سیدّنا غوث الاعظمؓ کی طرف کیا جائے یا ان سے مدد طلب کی جائے۔

  5. جس نے بھی دنیا میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا فیض پانا ہے اسے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دستِ مبارک پر بیعت ہونا پڑے گا۔

  6. گر کسے واللہ بعالم از مے عرفانی است
    از طفیل شاہ عبدالقادر جیلانیؓ است
    ترجمہ: اگر دنیا میں کسی کو شرابِ عرفان حاصل ہوئی ہے تو واللہ وہ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے طفیل ملی ہے۔

    1. شبیہ غوث الاعظم مدظلہ الاقدس کے وسیلے کے بغیر معرفتِ حق تعالیٰ تک نہیں پہنچا جاسکتا ۔

  7. سیدنا غوث الاعظم امام الاولیا ہیں اور آپ کا فیض دورِ حاضر میں سلطان العاشقین کی صورت میں جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں