سولی یا دائمی حیات! منصور حلاجؒ | Soli ya Daimi Hayat Mansur Al-Hallaj

سولی یا دائمی حیات!منصور حلاجؒ
(Soli ya Daimi Hayat Mansur Al-Hallaj)

(حصہ دوم)                                    تحریر: صاحبزادی منیزہ نجیب سروری قادری

باب سوم۔ طاسین الصفا

طاسین الصفا میں منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) لکھتے ہیں کہ ربّ العزت تک رسائی کٹھن ہے۔ مگر مانند آگ اور بیابان ممکن ہے۔ مصنف نے چالیس مقامات بتلائے ہیں جن کو عبور کر کے اہلِ صفا کی صفات سے ایک سالک موصوف ہوتا ہے۔ ان مقامات کے علوم کچھ تو سمجھ میں آ جاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ حقیقت یعنی ذاتِ رب العزت کی طرف سفر کو بیابان کے سفر سے تشبیہہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک سالک ان چالیس مقامات سے گزرتے ہوئے جب حقیقت کے بیابان اور پہاڑوں سے گزر کر ہموار زمین تک پہنچتا ہے تب معرفت کا کچھ حصہ حاصل کرتا ہے کیونکہ کامل معرفت صرف آقائے دوجہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نصیب ہے ۔ایک عام سالک کو سمجھ لینا چاہیے کہ چونکہ اللہ کی ذات لامحدود ہے اس لیے اس کی معرفت کا بھی کوئی کنارہ نہیں اور اس تک صرف وہی پہنچ سکتا ہے جو قدمِ محمدؐ پر کامل ہو۔

مقامِ نظر (حق الیقین) مقام خبر (علم الیقین اور عین الیقین) سے اعلیٰ مقام ہے اور ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) مقامِ نظر پر فائز ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مقام خبر پر۔ اس نکتہ کو منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) بیان کرنے کے بعد کوہِ طور پر درخت کو اپنی مثل کہتے ہیں کہ جو کچھ کہا درخت یا انہوں نے نہیں کہا۔ یہ اُس (اللہ) کا کلام ہے۔

ہاں اگر اس مقام کو عقل کے ترازو میں تولا جائے تب زمان ومکان کی گرفت میں ایک محدود معائینہ ہو گا مگر انسان کی انتہا صرف عقل کی سیڑھیاں چڑھنا نہیں بلکہ زمان و مکان کی قید سے باہر ھو یعنی حقیقت تک پہنچنا ہے۔ بقول منصور حلاجؒ(Mansur Al-Hallaj):
تو مخلوق کو چھوڑ دے تا کہ تو ھو یا ھو تو ہو جائے۔
حقیقت (یعنی اللہ) حقیقت ہے اورمخلوق (صرف) مخلوق ہے۔

وحدت الوجود کی ایک جہت کو ان الفاظ میں لکھتے ہیں :
میرا کوئی وصف نہیں ہے، حقیقت میں موصوف ہی ہے جو مختلف پردوں میں اپنا وصف بیان کر رہا ہے۔

منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) لکھتے ہیں:
’’حق نے کہا کہ تو دلیل کے لیے رہنما ہے‘‘ یعنی وہ اس راستہ پر چلنے والوں کے لیے ایک شمع ہیں اور آخر منصور حلاجؒ راہِ عشق کے رہنما کیسے نہ ہوں، صرف آپ ہی تو ہیں جو عشق (حق) کا راز فاش کرنے پر سولی لٹکا دیئے گئے۔ اگر وحدت الوجود کے آئینہ میں دیکھا جائے تو اگر حق چاہتا تو اس سزا سے بچا سکتا تھا یا وہاں تک بات ہی نہ پہنچتی۔
رہنمائی کے بہت سے پہلوؤں میں ایک یہ بھی ہے کہ فنا کامل مل جائے پھر بھی کامل نہیں جب تک بقا نہ مل جائے۔

مزیدلکھتے ہیں ’’حق نے کہا میں دلیل کے لیے بھی دلیل ہوں‘‘ کیونکہ اللہ اپنے چاہنے والوں کا رہنما اور دلیل ہے اور مدلول (بقاباللہ) کے مقام پر انسان نہیں انسانِ کامل ہوتا ہے۔

باب چہارم۔ طاسین الدائرہ

منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) تین دائروں (عالموں) کا تذکرہ کرتے ہیں جو کہ غیبی عالم کی طرف اشارہ ہیں۔ باطنی عالم جو کہ پانچ ہیں (ھاھویت، یاھوت، لاھوت، جبروت اور ملکوت) اور چھٹا عالمِ ناسوت یعنی یہ کائنات ہے۔ اس لیے اندازہ لگانا کہ تین دائروں سے وہ کون سے عالم مراد لیتے ہیں کٹھن ہے البتہ طاسین الدائرہ پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ پہلا دائرہ ملکوت، جبروت اور لاھوت ہے۔ چونکہ منصور حلاجؒ نہایت ریاضت و عبادت کے بعد فنا فی الشیخ جیسے اعلیٰ مقام تک پہنچے تھے اس لیے انہوں نے پہلے دائرہ کو قابلِ رسائی قرار دیا ہے جو کہ مرشد کے فیض کی بدولت ممکنات میں سے ہے۔

دائرہ دوم جس کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ وہاں تک رسائی ممکن ہے مگر وہاں واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے عالمِ یاھوت معلوم ہوتا ہے۔

دائرہ سوم جس کو حقیقت الحقیقہ لکھا گیا ہے یقینا ھاھویت ہے جہاں تعلیماتِ فقر کے مطابق صرف ایک خالص طالبِ مولیٰ پہنچ سکتا ہے جو ’’ہمہ اوست در مغز و پوست‘‘ ہو۔ اسی مقام کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra)لکھتے ہیں:

اَحد جد دِتی وِکھالی، از خود ہویا فانی ھوُ
قرب وِصال مقام نہ منزل، ناں اوتھے جسم نہ جانی ھوُ
نہ اوتھے عشق محبت کائی، نہ اُوتھے کون مکانی ھوُ
عینوں عین تھیوسے باھوؒ، سرّ وحدت سبحانی ھوُ

میرے ہادی سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اس بیت کی شرح میں لکھتے ہیں:
مقامِ احدیت (ھاھویت) میں جب اللہ تعالیٰ نے تجلیٔ ذات وارد فرمائی تو دوئی ختم ہو گئی اور میں ذات میں فنا ہو کر فانی اور توحید میں فنا ہو کر ہمہ تن تو حید ہو گیا یعنی فنا فی ھُو ہو گیا۔ یہاں پر قرب و وصال، مقام و منزل، عشق و محبت، جسم و روح اور کون و مکان کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) فرماتے ہیں کہ اس حال میں ہم وحدتِ سبحانی کا عین اور اس کا سرّ ہو گئے۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) کا کہنا ہے کہ دائرہ حقیقت میں چار وارداتیں گزرتی ہیں:

۱۔ غیرت     ۲۔ غیبت     ۳۔ ہیبت     ۴۔ حیرت

ان کو طالب دور سے نہیں بلکہ دائرہ کے اطراف سے دیکھتا ہے اور اس دائرہ تک پہنچنا بقول منصور حلاجؒ ناممکن ہے جبکہ اسی دائرہ کی وہ واردات بھی لکھتے ہیں یعنی وہ اس دائرہ تک پہنچے۔ ہر دائرہ تک رسائی ہمت سے ہی ممکن ہے۔

اس باب کا اختتام منصور حلاجؒ اس قول سے کرتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) کی ذات مخلوقات سے ماورا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خدا سے ڈرنے والے اور مخلوقات پر نرم دل ہیں۔‘‘

باب پنجم۔ طاسین النقطہ

اس باب میں منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) لکھتے ہیں کہ جو شخص اس دنیا تک محدود رہا اُس نے اُن (منصور حلاجؒ) کا انکار کیا اور ان پر زندقہ و الحاد جیسے تیر چلائے۔ جو پہلے دائرہ میں داخل ہو گیا اس کے لیے اُن کا مقام کہیں بلند و ارفع ہے۔ جو شخص دوسرے دائرہ میں داخل ہو گیا وہ ان کو عالمِ ربانی تصور کرتا ہے اور تیسرے دائرے والے ان کو کامیاب کہتے ہیں۔ اور جو حقیقت تک پہنچا وہ ان کو بھول جاتا ہے، آخر ذاتِ ربانی میں گم جو ہو گیا۔

منصور حلاجؒ  (Mansur Al-Hallaj) نے یہ سب مقام بڑی زہد و ریاضت سے حاصل کیے۔ ایک تمثیلی انداز اپناتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ ایک تصوف کا پرندہ (صوفی) اُڑ رہا تھا مگر جب اڑ نے کی مزید ہمت نہ رہی تب منصور حلاجؒ کے حال کا انکاری ہو گیا۔ اس پرندے کے ساتھ اپنا کلام تحریر کرتے ہیں کہ انہوں نے اس پرندے کو نصیحت کی کہ فنا ہو جا اور اپنے پر کاٹ دے۔ مگر وہ نہ مانا اور فہم کے سمندر میں ڈوب گیا۔
جہاں تک دائرہ فہم کی بات ہے جب ربّ العزت ’کہاں‘ اور ’کب‘ سے ماورا ہے تو وہ دائرہ فہم میں کیسے سما سکتا ہے!

واقعہ معراج

طاسین النقطہ کا بیشتر حصہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) کا واقعہ معراج ہے۔ منصور حلاجؒ  (Mansur Al-Hallaj)کے چند نکات درج ہیں:
آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) نے اپنے قلب پر رات گزاری یعنی آپ معرفت کی بنا پر مقامِ حضور میں رہے۔ آپ نے اپنے نفس سے دوری اختیار کی اور اپنے ربّ کے قریب ہو گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) اپنے اوصاف و صفات کی بنا پر عالمِ قدس کے نزدیک ہوئے اور اپنی ذاتِ عالی کی وجہ سے قربِ خداوندی کے مستحق ہو گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) پر تجلیات و صفاتِ الٰہی کا غلبہ ہوا۔ پہلے آپؐ کو مقامِ حضور عطا کیا گیا، پھر آپ نے تجلیٔ ذات کا مشاہدہ کیا۔ آپ کو قرب اور وصل نصیب ہوا۔ پھر آپ جدا ہوئے یعنی اپنی مراد سے وابستہ ہو گئے اور اپنے دل (نفس) سے الگ ہو گئے۔ اس عالم میں ’’جو کچھ آپ نے دیکھا‘‘ آپ کے دل نے اس کو جھٹلایا نہیں۔ (سورۃ النجم۔11)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) ہر گھڑی اور ہر لمحہ حق تعالیٰ کے ذاکر رہے اور اس کی طرف سے انعامات ہوں یا تکالیف، دونوں پر ہر صورت شاکر رہے۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) اس طرح اللہ کے قریب ہوئے جس کو معنوی (حقیقی) قرب کہتے ہیں۔

باب ششم۔ طاسین الازل و الالتباس

آسمان والوں میں ابلیس سب سے بڑا عابد تھا مگر آدم ؑکو سجدہ نہ کرنے پر اپنے مقام سے گر گیا اور اس پر لعنت ہوئی۔ اس نے اپنے آگ ہونے پر بھی تکبر کیا۔ ابلیس کا کہنا تھا کہ وہ غیر اللہ کو کس طرح سجدہ کرے (مگر وہ حضرت آدم ؑ میں روحِ قدسی کو نہ پہچان سکا)۔
ایک وہ وقت تھا جب ابلیس آسمانوں میں فرشتوں کو اچھائی کی طرف بلاتا تھا اور ایک یہ جب وہ زمین پر انسانوں کو برائی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہاں مخلص لوگوں تک اس کی رسائی نہیں ہے۔

باب ہفتم۔ طاسین المشیئہ

طاسین المشیئہ میں منصور حلاجؒ پانچ دائروں کا ذکر کرتے ہیں کہ پہلا دائرہ مشئیتِ خداوندی کا ہے، دوسرا اس کی حکمت کا، تیسرا قدرت کا، چوتھا معلومات اور ازلیت کا اور پانچواں اس کی احدیت کا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ ابلیس پہلے عالم یعنی مشیئت میں پھنس گیا اور سجدہ کا حکم نہ مان کر لعنتی و ملعون ہوا۔ اور اگر وہ پہلے دائرہ سے نکل بھی جاتا پھر بھی اس نے حکمت یا قدرت کے دائرے میں پھنس ہی جانا تھا۔

باب ہشتم۔ طاسین التوحید

اس باب کو منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں :
 حق سبحانہ تعالیٰ ایک ہے، یکتا ہے اور یگانہ ہے اور اس کا ایک ہونا مسلمّ ہے۔
پھر وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا ذکر کر کے لکھتے ہیں ’’توحید کا علم مفرد اور مجرد ہے۔‘‘ مفرد سے مراد توحیدِتشبیہ اور مجرد سے مراد توحیدِتنزیہہ معلوم ہوتی ہے۔

میرے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) توحید ِتشبیہ اور توحید ِتنزیہہ کے متعلق شمس الفقرا میں لکھتے ہیں:
توحیدِ تنزیہہ اور توحید ِ تشبیہ کا نظریہ آیتِ قرآنی لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ ج وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر  ترجمہ:’’کوئی شے اس کی مثل نہیں،وہی سننے اور دیکھنے والا ہے‘‘ سے اخذ شدہ ہے۔ اس آیت میں لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ   توحیدِ تنزیہہ ہے کہ ’’اللہ کی مثل کوئی شے نہیں‘‘ اور وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر توحیدِ تشبیہ ہے کہ ’’وہی سننے اور دیکھنے والا ہے‘‘ اور ہر شے کی ہر صفت اس کی ہے۔ جس نے توحید کی ان دونوں صورتوں کو جمع کیا اسی نے اصل توحید کو پایا ورنہ جس نے صرف توحیدِ تنزیہہ کو کافی سمجھا اس نے ذات کو مقید سمجھا اور جس نے محض تشبیہ پر اکتفا کیا اس نے ذات پر حد لگائی اور اسے محدود سمجھا۔ (شمس الفقرا)

منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) کا اس باب میں کہنا ہے ’’میں اگر ’انا‘ کہوں تو وہ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ ’انا‘ میرے لیے ہے۔ پس اس میں تیرے (منصور حلاجؒ کے) لیے ’لا‘ ہے اور ’انا‘ اُسی(اللہ) کے لیے ہے۔‘‘ یعنی منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) مقامِ فنا پر ہیں جہاں انہوں نے غیر ماسویٰ اللہ کی نفی کی یعنی اپنے نفس و ذات کی بھی اور ایسے فنا ہوئے کہ موجود ہو کر بھی نہیں موجود۔

باب نہم۔ طاسین الاسرار فی التوحید

توحید ایک بھید ہے اور اللہ خود الہام کے ذریعہ اپنے اسرار دلوں پر منکشف کرتا ہے۔ وہ ذات ہمارے توحید بیان کرنے سے ایک نہیں بنی بلکہ ہمیشہ ایک ہے۔ اس کی طرف اشارہ کیسے کیا جائے۔ وہ تو اس سے بھی ماورا ہے اور اس کی تعریف کا حق ادا کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ توحید کا پتہ گفتگو سے نہیں چلتا، وہ تو حقیقت ہے۔ اللہ نے خود کو پوشیدہ کیا ہوا ہے مگر ایسی کون سی جگہ ہے جہاں وہ موجود نہیں۔ وہ تو ہر جگہ موجود ہے۔ وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے اور اس کی مخلوق قید ہے۔ بے شک کعبہ کے رُخ سجدہ کیا جاتا ہے اور وہ اس قدیم ذات کا بتاتا ہے مگر کعبہ مقصود یا معبود نہیں۔ اللہ تک عقل کی رسائی نہیں (صرف عشق کی ہے)۔

باب دہم۔ طاسین التنزیہہ

اس باب میں منصور حلاجؒ لکھتے ہیں کہ اگر وہ کہیں کہ توحید درست ہو گئی تب لوگ تعجب کریں گے۔ ’’توحید درست‘‘ ہونے سے مراد ان کا توحید کے حال تک پہنچنا ہے۔ بقول امام غزالیؒ:
توحید کے چار مدارج ہیں:
1۔توحیدِ لسانی: صرف زبان سے توحید کا اقرار کرنا۔ یہ منافقین کا طریقہ ہے۔
2۔توحیدِقلبی: تصدیقِ قلب سے توحید کا اقرار کرنا۔ یہ مومنین کا طریقہ ہے۔
3۔توحیدِکشفی:نورِ حق کے ذریعے سے بطور کشف اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ کرنا یعنی تمام اشیائے کائنات کو وحدت سے صادر شدہ دیکھے۔ یہ مقربین کا درجہ ہے۔
4۔ توحیدِ حالی:ساری کائنات میں اسے وحدت ہی نظر آئے۔ یہ صدیقین کا مرتبہ ہے۔

اگر ذاتِ باری تعالیٰ کو زمانہ کی قید سے آزاد کہا جائے تب لوگ کہتے ہیں کہ توحیدِتشبیہ حق تعالیٰ کے لائق نہیں مگر آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم توحیدِتشبیہ کے کامل مظہر، انسانِ کامل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔‘‘
کلام ہو یا ذات کا ارادہ، یہ دونوں صفات ہیں۔ اصل توحید تو ذات ہے اور وہ اسم و مسمٰی میں بھی واحد ہے۔ منصور حلاجؒ  (Mansour Hallaj)لکھتے ہیں:
تمام عزت اللہ کے لیے ہے جو اپنی پاکیزگی کی وجہ سے معارف والوں کے طریقوں اور کشف و کرامات والوں کی سمجھ سے بری اور پاک ہے۔

عوام کا فکر توہمات کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے، خواص کا فکر عقل و فہم کے سمندر میں شناوری کرتا ہے۔ مگر بالآخر یہ دونوں سمندر خشک ہو جاتے ہیں، راستے فرسودہ ہو جاتے ہیں اور دونوں فکریں راہ سے ہٹ جاتی ہیں۔ اب وہ دونوں حامل مضمحل اور کمزور پڑ جاتے ہیں۔دونوں جہان فنا ہو جاتے ہیں، محبتیں دم توڑ دیتی ہیں اور علم لاشے ہو جاتے ہیں۔
الوہیتِ رحمن پاک ہے اور وہ حادث نہیں ہے۔

باب یازدہم۔ طاسین المعرفتہ

’’معرفت کی صورت یہ ہے کہ وہ عقلوں سے غائب ہونے والی اور نظروں سے پوشیدہ ہونے والی چیز ہے۔ ‘‘ (منصور حلاجؒ)(Mansour Hallaj)
کیا اللہ کی معرفت نہیں ہو سکتی؟
جو شخص فنائے نفس کے حال میں یہ دعویٰ کرے کہ اس نے ذاتِ رباّنی کو پہچان لیا تب یہ ناممکن ہے کیونکہ ایک فانی کس طرح ایک باقی اور موجود کو پہچان سکتا ہے۔
جو شخص یہ کہے کہ اس نے اپنی ہستی کے ذریعے ذات کی معرفت حاصل کی تب کیسے کوئی دوئی میں یکتا ذات کو پہچان سکتا ہے۔
جس شخص نے یہ مان لیا کہ وہ خدا کی پہچان سے جاہل ہے تب وہ معرفت کیسے حاصل کر سکتا ہے۔
اور جو اسم کو پہچانتا ہے اور مسمٰی کو نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ اسم و مسمٰی یکتا اور ایک ہے۔ یہ معرفت نہ ہوئی۔
جو یہ کہے کہ اس نے اس کو اسی کی ذات کے ذریعے پہچانا تب یہاں بھی دوئی ہے۔
اور جو ذات کی صنعت گری اور قدرت کے ذریعے پہچاننے کا دعویٰ کرے تب ذات کی معرفت نہیں بلکہ اس نے صنعت پر اکتفا کر لیا۔
اور جو آدمی عجز کے ذریعے پہچاننے کا یعنی معرفت کا دعویٰ کرے تب عجز صرف ذات کی بارگاہ میں ہوتا ہے نہ کہ مخلوق کی اور جو معرفت کو ناممکن سمجھے پھر معرفت اس کے لیے ناممکن رہی۔
جس نے علم سے پہچاننے کا دعویٰ کیا تو علم صرف عقل اور ناسوت تک محدود ہے اور اس ذات کا کوئی زمان و مکان نہیں۔
 جو یہ کہے کہ ذات نے خود اپنی ذات کا وصف بیان کیا ہے تو یہ علم الیقین ہے نہ کہ حق الیقین۔
جس نے کہا اس نے خود اپنے آپ کو پہچانا ہے تب یہ کہنا بجا ہے کہ وہ شخص نفس کی قید میں مبتلا ہے۔
جو شخص یہ کہے کہ اس نے حقیقتاً پہچان لیا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اللہ کی معرفت کا سمندر کامل عبور کرنا ناممکنات میں سے ہے۔

منصور حلاجؒ  (Mansour Hallaj)لکھتے ہیں:
عجیب بات ہے کہ ایک ایسا شخص جو یہ نہیں جانتا ہے کہ اس کے بدن پر کالا بال کیوں اور سفید بال کس لیے اگتا ہے وہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کے خالق کو پہچان سکتا ہے۔
بات یہ ہے کہ حق، حق ہے اور مخلوق (صرف) مخلوق ہے۔ اس کو جوں کا توں تسلیم کر لینا چاہیے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرب، معرفت کا راستہ ہے اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس راستہ پر چلنا ضروری ہے۔ مایوسی کی گنجائش نہیں۔ اس راستہ کو ناممکن سمجھ کر چھوڑنا جہالت ہے۔

استفادہ کتب:
۱۔شمس الفقرا ؛ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۲۔ابیاتِ باھو کامل؛ تحقیق، ترتیب و شرح  ایضاً
۳۔طواسین؛ تصنیف منصور حلاج، مترجم عتیق الرحمن
۴۔حسین بن منصور حلاجؒ(Mansour Hallaj)۔ شہید عشق ؛ تصنیف محمد اکرام چغتائی

(جاری ہے)

 

41 تبصرے “سولی یا دائمی حیات! منصور حلاجؒ | Soli ya Daimi Hayat Mansur Al-Hallaj

  1. ❤❤❤🌹🌹🌹عشقِ حقیقی سے بھرا مضمون ہے ماشاءاللہ

  2. حق سبحانہ تعالیٰ ایک ہے، یکتا ہے اور یگانہ ہے اور اس کا ایک ہونا مسلمّ ہے۔

    1. مقامِ نظر (حق الیقین) مقام خبر (علم الیقین اور عین الیقین) سے اعلیٰ مقام ہے اور ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) مقامِ نظر پر فائز ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مقام خبر پر۔ اس نکتہ کو منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) بیان کرنے کے بعد کوہِ طور پر درخت کو اپنی مثل کہتے ہیں کہ جو کچھ کہا درخت یا انہوں نے نہیں کہا۔ یہ اُس (اللہ) کا کلام ہے۔

  3. ’’معرفت کی صورت یہ ہے کہ وہ عقلوں سے غائب ہونے والی اور نظروں سے پوشیدہ ہونے والی چیز ہے۔ ‘‘ (منصور حلاجؒ)(Mansour Hallaj)

  4. بات یہ ہے کہ حق، حق ہے اور مخلوق (صرف) مخلوق ہے۔ اس کو جوں کا توں تسلیم کر لینا چاہیے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرب، معرفت کا راستہ ہے اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس راستہ پر چلنا ضروری ہے۔ مایوسی کی گنجائش نہیں۔ اس راستہ کو ناممکن سمجھ کر چھوڑنا جہالت ہے۔

  5. ایک وہ وقت تھا جب ابلیس آسمانوں میں فرشتوں کو اچھائی کی طرف بلاتا تھا اور ایک یہ جب وہ زمین پر انسانوں کو برائی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہاں مخلص لوگوں تک اس کی رسائی نہیں ہے۔

  6. منصور حلاج نے واقعی ہی توحید اور معرفت کے انتہائی اسرار بیان کیے ہیں

  7. بات یہ ہے کہ حق، حق ہے اور مخلوق (صرف) مخلوق ہے۔ اس کو جوں کا توں تسلیم کر لینا چاہیے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرب، معرفت کا راستہ ہے اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس راستہ پر چلنا ضروری ہے۔ مایوسی کی گنجائش نہیں۔ اس راستہ کو ناممکن سمجھ کر چھوڑنا جہالت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں