شرح عشق | Shahrah-e-Ishq

شرح عشق (Sharah Ishq)

تحریر: مسز عظمیٰ شکیل سروری قادری

عشق (Ishq) ایک ابدی وجود ہے جس سے عاشق کو اصل حیات ملتی ہے۔ عشق (Ishq) خود میں ایک شوق اور توانائی رکھتا ہے۔ عشق جذبۂ ایثار کا نام ہے۔ عشق قلبِ انسانی کا گوہر ِنایاب ہے جس کا متبادل عاشق کی نظر میں کچھ نہیں۔ عشق (Ishq) ہی کائنات اور دین کی ابتدا اور اصل ہے۔ کیونکہ عشق عین اللہ کی ذات ہے۔ جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ (Allah) نے جب عالمِ احدیت سے نکل کر عالمِ کثرت میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدی اختیار کی اور اس کے لیے تعینات میں نزول (ظہور) فرمایا۔ 

حدیثِ قدسی ہے:
میں ایک مخفی خزانہ تھا، میں نے ارادہ کیا کہ پہچانا جاؤں پس میں نے مخلوق کو تخلیق فرمایا۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) نے نہ صرف اس حدیثِ قدسی کے ایک ایک لفظ کو مراتب کے ساتھ بیان فرمایا ہے بلکہ اس حدیث قدسی میں یہ خوبصورت اضافہ فرمایا ہے ’’اور میرا ظہور مکمل ہوا اس ذات (انسانِ کامل) میں جو حقیقتِ ھاھویت کی آنکھوں کا سرچشمہ ہے۔‘‘

پہچان کا یہ جذبہ اور چاہت ذاتِ احد میں اس شدت سے ظہور پذیر ہوئی کہ اس نے عشق (Ishq) کی صورت اختیار کر لی۔ محبت میں اگر شدت پیدا ہو تو عشق (Ishq) بن جاتا ہے۔ یہ عشق  (Ishq)اور چاہے جانے کا جذبہ ہی تھا جس نے اللہ واحد کو گوشۂ تنہائی سے نکل کر کثرت میں ظہور پر مائل کیا۔ پھر اپنے ظہور اور پہچان کے لیے تعینات میں نزول فرمایا اور عشق کا بازار گرم کیا۔ (از کتاب رسالہ روحی شریف)

الغرض عشق نظامِ کائنات ہے اور جیسے ہر نظام کو درست حالت میں رکھنے کی غرض سے اس کے قوانین طے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح عشق (Ishq) کے بھی اپنے ہی اصول و ضوابط ہیں۔ عشق (Ishq) میں عاشق پر اپنے کسی بھی باطنی مقا م پر ٹھہر کر اس کی لذت محسوس کرنا حرام ہے کیونکہ عشق وہ تڑپ ہے جو مزید قرب کے لیے ہر پل قدم بڑھانے میں کوشاں رہتا ہے۔ عشق باطنی تکالیف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے خونِ جگر پی کر سکون حاصل کرنے کا نام ہے۔ اپنا سب کچھ محبوب پر لٹا کر اسکے عوض کچھ بھی طلب نہ کرنا ہی عشق میں کمال کی صورت ہے۔ 

اکثر لوگ عشق (Ishq) جیسی نعمت سے منہ موڑ کر علم کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں تو وہ سمجھ لیں کہ علم،عشق کی کتاب سے پیدا ہونے والا وہ نقطہ ہے جو اہلِ دانش کو اپنے ذریعہ عشق کی منزل کا پتہ دیتا ہے۔ دلیل یہ کہ عشق (اللہ) ہی وہ کتاب ہے جس سے تمام علوم وجود میں آئے۔ 

عشق (Ishq) کی راہ میں علم زادِ راہ ہے جس کے متعلق حضرت سخی سلطان باھوؒ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) نور الہدیٰ خورد میں فرماتے ہیں: 

علم را آموز اوّل آخر اینجا بیا
جاہلان را پیش حضرت حق تعالیٰ نیست جا

ترجمہ: پہلے علم حاصل کر پھر اس راہ پر چل کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جاہلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
جس طرح کسی بھی کام یا ہنر کو سیکھنے کے لیے اس کا علم ضروری ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان عشقِ حقیقی کی راہ پر بغیر علم کے چل سکے۔
حدیث مبارکہ ہے:
اللہ (Allah) نے کسی جاہل کو اپنا ولی نہیں بنایا۔ (بحوالہ نور الہدیٰ خورد)
 اور جو علم کے بغیر زہد کرتا ہے وہ آخری عمر میں یا تو شیطان بن جاتا ہے یا کافر ہوکر مرتا ہے۔ (بحوالہ امیر الکونین)

پس جب انسان جان لیتا ہے کہ عشق ایک باطنی علم ہے جو قلب سے منسلک ہے اور عقل اسکی منافی ہے تو وہ اس راہ میں قلب کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے کیونکہ عشق (Ishq) آفاقی و سماوی جذبہ ہے جو صرف اپنے محبوب کی طلب کرتا ہے اور اسے محبوب سے بھی محبوب کے سوا کوئی غرض نہیں ہوتی۔ حدیث ِقدسی میں اللہ تعالیٰ (Allah) فرماتا ہے:

جو میری طلب کرتا ہے پس تحقیق وہ مجھے پالیتا ہے اور جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے اور جو مجھے پہچان لیتا ہے اسے مجھ سے محبت ہوجاتی ہے اور جسے مجھ سے محبت ہوجاتی ہے وہ مجھ سے عشق(Ishq) کرنے لگتا ہے اور جو مجھ سے عشق (Ishq) کرنے لگتا ہے اسے میں قتل کر دیتا ہوں اور جسے میں قتل کر دیتا ہوں اسکی دیت میرے ذمے ہوتی ہے اوراسکی دیت میں خود ہوں۔ (بحوالہ الرسالۃ الغوثیہ)

عام فہم الفاظ میں اگر عشق (Ishq) کی کیفیت کو بیان کیا جائے تو اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ عاشق کی سوچ،عمل حتیٰ کہ عبادت بھی بس معشوق کے گرد طواف کرنے کو مانا جاتا ہے۔

عشق کے تقاضے 

1۔ تسلیم و رضا
2۔ وفا و قربانی
3۔ شرک اور شریک سے نجات 

تسلیم و رضا

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور لوگوں میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ (Allah) کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بھی بیچ ڈالتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔ 207)
اس آیت مبارکہ میں اللہ اپنے ان خاص بندوں کا ذکر فرما رہا ہے جو اللہ کے عشق (Ishq) میں اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ ہر دم محبوب (اللہ) کی رضا کو مدنظر رکھتے ہیں اور محبوبِ حقیقی کی خاطر ہر طرح کے غم و تکالیف کو برداشت کرتے ہیں۔ عشق (Ishq) کے اس جذبے کو علامہ اقبالؒ کیا خوب الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

تسلیم و رضا کا معاملہ معشوق کو مزید حسین و جمیل اور عاشق کو قلب کی توانائی عطا کرنے کا عمل ہے جس میں معشوق کا اشارہ بھی عاشق کے لیے حرفِ آخر کا درجہ رکھتا ہے۔ اور وہ ہر حال کو اپنے محبوب (اللہ) کی رضا جان کر اسے دل و جان سے قبول کر کے اس پر شکر گزار رہتا ہے۔

تسلیم و رضا کی سب سے اعلیٰ مثال امام عالی مقام سیدّنا امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ آپؓ نے کامل تصرف رکھتے ہوئے بھی اللہ کی رضاکے سامنے سر جھکا دیا۔ آپؓ بچپن سے جانتے تھے کہ کربلا میں شہید کیے جائیں گے۔ اگر آپؓ چاہتے تو اللہ سے دعا کر کے فوراً اس قضا سے فرارحاصل کر لیتے مگر آپؓ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپؓ کی نظر اور عشق (Ishq) کی کیفیت کے مطابق اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی تسلیم و رضا مقدم تھی۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

عاشق سوئی حقیقی جیہڑا، قتل معشوق دے منے ھوُ
عشق نہ چھوڑے مکھ نہ موڑے، توڑے سے تلواراں کھنے ھوُ
جت ول ویکھے راز ماہی دے، لگے اُوسے بھنیّ ھوُ
سچا عشق حسینؓ ابنِ علی دا باھوؒ، سر دیوے راز نہ بھنے ھوُ

عشق (Ishq) کا بنیادی قانون یار کی رضا میں راضی رہنا ہے، حقیقی عاشق وہی ہوتا ہے جس کی اپنی کوئی مرضی نہ ہو۔ عاشقِ حقیقی وہی ہوتا ہے جو معشوقِ حقیقی (اللہ) کے ہاتھوں اپنا مرنا قبول کرے اسکی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کردے اور باوجود تکالیف اور مصائب کے نہ تو راہِ عشق (Rah-e-Ishq) سے منہ موڑے اور نہ ہی تسلیم و رضا کی راہ میں اس کے قدم متزلزل ہوں خواہ سینکڑوں تلواریں اس کے جسم کو چھلنی کر دیں۔ اصولِ عشق تو یہی ہے کہ اسکی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا جائے۔ عشق (Ishq) اور تسلیم و رضا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ جیسا کوئی نہیں جنہوں نے سر دے دیا مگر اپنے محبوب کے راز کو آشکار نہ کیا۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

وفا و قربانی:

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
 تم اس وقت تک بَرُّ (اللہ تعالیٰ) کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی سب سے پیاری چیز خدا کی راہ میں قربان نہ کر دو۔ (سورۃ آلِ عمران۔ 92)
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) (Prophet Mohammad pbuh) ان میں سے کسی کو اپنا ولی نہ بنائیں جب تک وہ راہِ خدا میں اپنا گھربار نہ چھوڑ دیں۔ (سورۃ النسا۔ 89)
راہِ عشق (Rah-e-Ishq) میں کامیابی تب تک ممکن نہیں جب تک طالب اپنی ہر شے کو راہ حق میں قربان نہیں کر دیتا۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کا فرمانِ عالی شان ہے:
راہِ عشق (Rah-e-Ishq) میں وفا و قربانی کا تقاضا ہے کہ نہ تو وفا میں لغزش آئے اور جب قربانی کا وقت آئے تو منہ نہ موڑا جائے۔
عشق میں نظرجان و مال کے بجائے محبوب پر جمی رہتی ہے خواہ پھر کوئی کتنے بھی مشورے دے عاشق کو تو اپنے محبوب کی رضا مقصود ہوتی ہے اور وہ اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے مگر اسکے متبادل یا عوض اپنے محبوب سے کوئی تقاضا نہیں کرتا ماسوائے قرب و دیدار کے۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) کیا خوب فرماتے ہیں:

عاشق نیک صلاحیں لگدے، تاں کیوں اجاڑ دے گھرنوں ھوُ
بال مواتا برہوں والا، نہ لاندے جان جگرنوں ھوُ
جان جہاں سب بھل گیونیں، پٹی لٹی ہوش صبر نوں ھوُ
میں قربان تنہا توں باھوؒ جنہاں خون بخشیا دلبر نوں ھوُ

اگر عاشقوں نے لوگوں کے مشوروں پر عمل کرنا ہوتا تو وہ کبھی اپنا گھر بار راہِ حق میں قربان نہ کرتے اور دل میں عشق (Ishq) کی شمع کو روشن کر کے اپنی جان و جگر کو نہ جلاتے رہتے۔ جب سے دیدار کی لذت سے آشنائی حاصل ہوئی ہے ان کے ہوش وحواس کھو چکے ہیں۔ میں ان کے قربان جاؤں جنہوں نے راہِ عشق (Rah-e-Ishq) میں سر بھی قربان کردیا اور اپنا خون بھی محبوب کو بخش دیا۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

درحقیقت عشق (Ishq) کی طلب ہی قربانی ہے۔ جیسے عاشق کی طلب معشوق ہے تو عشق کی طلب قربانی تاکہ عاشق کی حقیقت واضح ہوسکے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ (Sultan-ul-Faqr VI Sultan Mohammad Asghar Ali ra) فرماتے ہیں:
عشق (Ishq) قربانی کا طلبگار ہے اور اس راہ میں اس وقت تک کامیابی نہیں ہوتی جب تک طالب اپنا سب کچھ اور ہر شے اللہ (Allah) کی راہ میں قربان نہیں کر دیتا اس سلسلہ میں طالب کو صحابہ کرامؓ کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے ساتھ قربانی اور وفا کی مثالیں سامنے رکھنی چاہئیں کیونکہ طالبانِ مولیٰ کے لیے یہ مثالیں مشعلِ راہ ہیں۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ فرماتے ہیں:
جب تک تو اپنی اولاد کو یتیم اور اپنی بیوی کو بیوہ نہیں کر لیتا اورخود کو کتے کی مانند خاک پر نہیں لٹاتا، اپنے گھر بار کو راہِ خدا میں خرچ نہیں کر دیتا، لن تنالوا البر  کو اپنا ورد نہیں بنا لیتا۔ یحبھم و یحبونہ(اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں) کے مصداق اللہ سے ظاہری و باطنی دوستی اختیار نہیں کر لیتا، رضی اللّٰہ عنہم و رضوا عنہ (اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے) کا خطاب نہیں پالیتا تجھ پر تیرا یار جانی کہاں راضی ہو سکتا ہے۔ (عین الفقر)

شرک اور شریک سے نجات:

عاشق کے لیے راہِ عشق (Rah-e-Ishq) میں شراکت یا دوئی حرام ہے یہاں تک کہ محبوب کے قرب و دیدار کے علاوہ کچھ طلب کرنے کی خواہش کا معمولی خیال بھی شرک سمجھا جاتاہے۔
سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-Al-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jillani)اور اللہ (Allah) کے درمیان الہامی گفتگو کے دوران اللہ (Allah) نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے فرمایا :
اے غوث الاعظمؓ! محبت محب اور محبوب کے درمیان حجاب ہے۔ پس جب محب محبت سے فنا حاصل کر لیتا ہے تب وہ محبوب سے وصال پالیتا ہے۔ 

اس کا مفہوم یہ ہے کہ محبت کا عنصر محب کے اندر غالب ہوتا ہے۔وہ اپنی محبت کی بنا پر اپنے محبوب کے لیے ہر وقت بے چین رہتا ہے اورجب تک وہ اپنے محبوب کو دیکھ نہ لے اسے سکون نہیں ملتا۔ محب اپنی جگہ تڑپ رہا ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنے محبوب کا قرب میسر نہیں ہوتا۔ اس محبت کے تعلق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہستیاں ایسی ہیں جس میں سے ایک دوسرے کو چاہتا ہے یعنی دوئی موجود ہے جب کہ راہِ فقر (عشق) میں جب تک محب اور محبوب ایک نہیں ہوجاتے تب تک محبت کامل نہیں ہوتی اور اس کامل محبت کو عشق (Ishq) کہتے ہیں جس میں دوئی کانظریہ ختم ہوچکا ہو۔اسی لیے اللہ پاک نے سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghaus-Al-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jillani)سے فرمایا کہ محبت کا جذبہ محب اور محبوب کے درمیان حجاب ہے۔ (شرح الرسالۃ الغوثیہ)

جب تک طالب حضرت بلھے شاہؒ کے اس شعر کی تشریح عملی طور پر نہیں کر دیتا تب تک وہ رمز عشق تک نہیں پہنچ سکتا۔

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
آکھو نی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھے کوئی

پس طالب پر فرضِ عین ہے کہ ہر مقام پر عروج حاصل کرتا ہوا اپنے محبوبِ حقیقی کی صورت اختیار کر جائے تاکہ اس کے باطن سے دوئی مٹ سکے اور قرب کی انتہا حاصل ہوسکے۔

جس طرح تمام تر نظام پر علیحدہ قوانین لاگو ہوتے ہیں اور عشق پر علیحدہ اسی طرح عشق (Ishq) کے حصول کا بھی انداز جدا ہے۔ جیسا کہ علم کے حصول کے لیے طالب کو عالم کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح عشق کا سبق عاشق صادق سے حاصل ہوتاہے جس کو تصوف میں صوفی، پیر یا مرشد کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور طالب پر لازم ہے کہ وہ اس عشق (Ishq) کی راہ میں کسی کو اپنے اوپر استاد کی صورت میں مقرر کرے جسکی اطاعت سے وہ راہِ عشق کی کنہ تک خود کو پہنچا سکے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اطاعت کرو اللہ (Allah) کی اور رسولؐ (Prophet Mohammad pbuh) کی اور اسکی جو تم میں اولی الامر ہو۔ (سورۃ النسا۔59)

اس آیت میں اولی الامر سے مراد وہ کامل ہستی ہے جو فنا فی اللہ اور فنا فی الرسولؐ کے مرتبہ پر فائز ہو، جس کا ہر اندازِ تربیت خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Prophet Mohammad pbuh) سے ملتا ہو اور یہی کامل ہستی انسان کو اپنی صحبت کے طفیل دنیا و آخرت میں کامیابی اور کا مرانی عطا کرتی ہے ۔

ایسی کامل ہستی کے متعلق شیخ محمد ہاشمیؒ فرماتے ہیں:
کسی ایسے شیخ کے دستِ اقدس میں ہاتھ دو جو باحیات ہو، عارف باللہ مخلص اور صادق ہو، علمِ صحیح اور ذوقِ سلیم کا مالک ہو، اس نے منازلِ سلوک کسی مرشد کامل کے ہاتھ پر طے کی ہوں، طریقت کے راستے کے پیچ و خم جاننے والا ہو تاکہ تجھے اس راستہ میں آنے والی مصیبتوں، پریشانیوں او ر ہلاکت سے بچائے اور ماسویٰ اللہ سے فرار کی تعلیم دے۔ نفس کے عیوب کو ختم کرے اور جب تجھے اس کا عرفان حاصل ہوجائے تو تو اس سے محبت کرنے لگے اور جب تو اس سے محبت کرنے لگے گا تو اسکے احکام کی بجا آوری میں ہچکچاہٹ نہیں کرے گا۔ اور اس طرح وہ تجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچا دے گا۔ (شمس الفقرا)

علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے ہیں:
پیر کامل کی صحبت اور غلامی کے بغیر کوئی شخص صوفی اور عارف باللہ نہیں بن سکتا۔ (کشف المحجوب)

واضح رہے کہ مرشد کامل ہی وہ ہستی ہے جسکی صحبت سے انسان عشق ِ حقیقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور مرشد کامل کی نظر ہی انسان کو اس راہ میں منزلِ مقصود تک پہنچا سکتی ہے۔ مرشد کامل ایسے مرشد کو کہتے ہیں جو صاحبِ مسمٰی ہو اور کتابِ عشق (بارامانت ) سینے میں چھپائے ہو۔ ایسے صاحبِ کمال مرشد کو ہی علامہ اقبال نے ام الکتاب کہا ہے۔ حضرت شاہ سید محمد ذوقیؒ فرماتے ہیں:
انسان کامل تمام موجودات کاخلاصہ ہے باعتبار اپنی عقل و روح کے اُمُّ الکتاب ہے۔

پس جب ایسے اُم الکتاب کی بارگاہ نصیب ہو جائے توسمجھ لیا جائے کہ انسان فلاح کی طرف گامزن ہے اور توجہ رہے کہ ہرزمانہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کا باطنی و حقیقی وارث موجود ہوتا ہے جو اسمِ اللہ ذات  (Personal Name of Allah -Ism e Allah Zaat, Ism e Azam) کے ذریعہ طالبانِ حق (عاشقان) کو عشقِ حقیقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ موجودہ دور کے مرشد کامل امام الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) ہیں جو ہر خاص و عام کو ظلمت اور بت پرستی کے اس دور میں راہِ حق دکھا کر اپنی باطنی نگاہ کے کرم سے اس قابل بنا رہے ہیں کہ طالبان راہِ عشق میں کامیاب ہو سکیں۔ جو سچے طالب ہیں ان کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ آئیں اور سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے دست اقدس پر بیعت ہو کر سلطان الاذکار ھوُ، تصور اسمِ اللہ ذات  (Personal Name of Allah -Ism e Allah Zaat, Ism e Azam)اور مشق مرقومِ وجودیہ حاصل کریں۔

استفادہ کتب:
۱۔الرسالۃ الغوثیہ؛ تصنیف لطیف سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Syedna Ghaus-Al-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jillani)
۲۔ رسالہ روحی شریف؛ تصنیف لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra)
۳۔ عین الفقر؛ ایضاً
۴۔ شمس الفقرا؛ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۵۔ کشف المحجوب؛ تصنیف لطیف حضرت علی بن عثمان الہجویریؒ 

44 تبصرے “شرح عشق | Shahrah-e-Ishq

    1. رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
      آکھو نی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھے کوئی

  1. رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
    آکھو نی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھے کوئی

    1. ❤❤❤🌹🌹🌹اللہ پاک ہمیں اپنا حقیقی عشق عطا فرمائے آمین

  2. علم را آموز اوّل آخر اینجا بیا
    جاہلان را پیش حضرت حق تعالیٰ نیست جا
    ترجمہ: پہلے علم حاصل کر پھر اس راہ پر چل کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جاہلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

  3. اگر عاشقوں نے لوگوں کے مشوروں پر عمل کرنا ہوتا تو وہ کبھی اپنا گھر بار راہِ حق میں قربان نہ کرتے اپنی کوئی مرضی نہ ہو۔ عاشقِ حقیقی وہی ہوتا ہے جو معشوقِ حقیقی (اللہ) کے ہاتھوں اپنا مرنا قبول کرے اسکی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کردے اور باوجود تکالیف اور مصائب کے نہ تو راہِ عشق (Rah-e-Ishq) سے منہ موڑے اور نہ ہی تسلیم و رضا کی راہ میں اس کے قدم متزلزل ہوں خواہ سینکڑوں تلواریں اس کے جسم کو چھلنی کر دیں۔ اصولِ عشق تو یہی ہے کہ اسکی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا جائے۔ عشق (Ishq) اور تسلیم و رضا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ جیسا کوئی نہیں جنہوں نے سر دے دیا مگر اپنے محبوب کے راز کو آشکار نہ کیا۔ 

  4. عشق آفاقی و سماوی جذبہ ہے جو صرف اپنے محبوب کی طلب کرتا ہے اور اسے محبوب سے بھی محبوب کے سوا کوئی غرض نہیں ہوتی۔

  5. تسلیم و رضا کی سب سے اعلیٰ مثال امام عالی مقام سیدّنا امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی

    1. واضح رہے کہ مرشد کامل ہی وہ ہستی ہے جسکی صحبت سے انسان عشق ِ حقیقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور مرشد کامل کی نظر ہی انسان کو اس راہ میں منزلِ مقصود تک پہنچا سکتی ہے۔

  6. جیں دل عشق خرید نہ کیتا, کتے اس تھیں چنگے
    اللہ پاک عشق کی دولت سے قلب کو سرفراز فرمائے

  7. جو میری طلب کرتا ہے پس تحقیق وہ مجھے پالیتا ہے اور جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے اور جو مجھے پہچان لیتا ہے اسے مجھ سے محبت ہوجاتی ہے اور جسے مجھ سے محبت ہوجاتی ہے وہ مجھ سے عشق(Ishq) کرنے لگتا ہے اور جو مجھ سے عشق (Ishq) کرنے لگتا ہے اسے میں قتل کر دیتا ہوں اور جسے میں قتل کر دیتا ہوں اسکی دیت میرے ذمے ہوتی ہے اوراسکی دیت میں خود ہوں۔ (بحوالہ الرسالۃ الغوثیہ)

  8. بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
    عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

اپنا تبصرہ بھیجیں