سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ |Syedna Hazrat Ali R.A

خلیفہ راشد چہارم ، امیر المُتقین‘امیر العارفین ‘امیر المومنین بابِ فقر

سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ

تحریر: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس

امیرالمومنین‘ امام المتّقین‘ مشکل کشا‘ شیرِ خدا‘ امام عارفین‘ تاجدارِ اولیا‘ اسد اللہ غالب‘ مولودِ کعبہ‘ رفیق پیغمبر‘ دامادِ رسول‘ فاتح خیبر‘ زوجِ بتو ل رضی اللہ عنہا حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے والد ابوالحسن اور ابو تراب حضرت علی کرم اللہ وجہہ 30 عام الفیل کو پیدا ہوئے۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ 12 یا 13 رجب بروز جمعتہ المبارک پیدا ہوئے اس وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر مبارک تیس برس تھی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا شجرہ نسب حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہٗ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مل جاتا ہے شجرہ نسب اس طرح سے ہے:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن ابو طالب رضی اللہ عنہٗ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہٗ بن ہاشم ۔آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ ماجدہ بھی ہاشمی ہیں شجرہ نسب اس طرح سے ہے :فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت ِ اسد بن ہاشم ۔اس طرح آپ رضی اللہ عنہٗ نجیب الطرفین ہاشمی ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہٗ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تیس سال چھوٹے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد کا نام ابو طالب تھا اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد ابو طالب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ کے بعد حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہٗ کو بہت پیارے تھے۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہٗ کی وفات کے بعد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پرورش حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہٗ نے بڑی محبت اور جانثاری کے ساتھ کی۔ آپ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بہت پیار کرتے اور ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے۔ تجارت پر جاتے تو ساتھ لے جاتے اکیلا نہ چھوڑتے۔ شعب ابی طالب کے تین کٹھن سال آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ گزارے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی اس لیے آپ رضی اللہ عنہٗ کو مولودِ کعبہ بھی کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہؓ بنت ِ اسد بن ہاشم خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں کہ دردِ زہ شروع ہوگیا۔ اسی وقت خانہ کعبہ کی دیوار شق ہوئی جس کو کوئی اور نہ دیکھ سکا۔ آپؓ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوگئیں اور وہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ کرم اللہ وجہہ ماں باپ دونوں کی طرف سے ہاشمی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ ماجدہ ایمان کے نور سے منور ہوئیں۔ مدینہ طیبہ میں وفات پائی۔ جنت البقیع میں دفن ہیں۔ جب انہوں نے وفات پائی تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اپنے کرتے کا کفن پہنایا اور اُن کی میت کے سرہانے کھڑے ہو کر فرمایا:
’’اے میری ماں اللہ آپ پر رحم کرے آپ میری ماں کے بعد ماں تھیں‘ آپ کو خود لباس کی ضرورت ہوتی تھی‘ لیکن آپ مجھے پہناتی تھیں۔ آپ کو خود کھانے کی ضرورت ہوتی تھی لیکن آپ مجھے کھلاتی تھیں۔‘‘
آپ کا نام علی اور القاب اسد اللہ‘ حیدر اور مرتضیٰ اور کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے۔ تراب کے معنی مٹی کے ہیں‘ ابو تراب یعنی مٹی کا باپ۔ یہ کنیت آپ رضی اللہ عنہٗ کو بہت پسند تھی، اس کنیت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ زمین پر سو رہے ہیں اور پورا جسم گرد آلود ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’ابو تراب اٹھو‘‘ اس دن سے یہ کنیت مشہور ہوگئی۔
حضرت ابو طالب کثیر العیال تھے اور مالی حالت بھی کمزور تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اُم المومنین حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے بعد فارغ البالی نصیب ہوئی تو آپ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہٗ کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہٗ کی مالی حالت اچھی نہیں۔ کنبہ بڑا ہے‘ ان کا بوجھ بانٹ لینا چاہیے۔ پس فیصلہ ہوا کہ ایک بیٹے جعفر کی پرورش حضرت عباس رضی اللہ عنہٗ کریں گے اور علی رضی اللہ عنہٗ کی پرورش حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے ذمہ لے لی۔ اس طرح خوش بخت حضرت علی کرم اللہ وجہہ لڑکپن سے ہی آغوشِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مزے پانے لگے۔
آمنہ رضی اللہ عنہا کے لال تو ساری کائنات کے لیے رحمت بن کر آئے تھے‘ پھر حضرت ابو طالب کے حالات پر نظر ِ کرم کیوں نہ ہوتی جنہوں نے ماں اور دادا عبدالمطلب کے انتقال کے بعد آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کفالت کی۔ اپنے بچوں کے مقابلہ میں ہمیشہ ان کی ضروریات کو اہمیت دی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا، اپنی زبان چوسنے کے لیے ان کے منہ میں رکھی اور ان کا نام بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہی تجویر کیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عمر دس سال تھی اور وہ کاشانۂ نبوی میں ہی پرورش پارہے تھے۔ اس لڑکپن کی عظمتوں کا کیا ٹھکانہ جو حامل ِ وحی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زیر سایہ بسر ہوا!

قبولِ اسلام

حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک روز اپنے لڑکپن کے مشاغل سے فارغ ہو کر کاشانۂ نبوی ؐمیں حاضر ہوئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کی زوجہ حضرت خدیجہ طیبہ رضی اللہ عنہا طاہرہ عبادت میں مشغول تھے‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوئے اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھنے لگے: ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیا کر رہے تھے؟‘‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ہم عبادت کررہے تھے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ: ’’یہ کیسی عبادت ہے؟‘‘
رسول اللہ: ’’یہ اللہ کا دین ہے۔ اس نے اسے اپنے لیے پسند کیا ہے اور اس کی تبلیغ کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ میں تمہیں اللہ وحدہٗ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ(حیران ہو کر): ’’میں نے پہلے تو کبھی اس دین کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ اس بارے میں میرے لیے کچھ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ میں اپنے والد سے مشورہ کروں گا۔‘‘
رسول اللہ: ’’علی(رضی اللہ عنہٗ)! تمہیں اس بات کا حق حاصل ہے‘ لیکن تم اور کسی شخص سے اس بات کا ذکر نہ کرنا۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وعدہ کر لیا اور رات کو سو رہے۔ اپنے والد ابوطالبؓ سے اس کا تذکرہ نہ کیا۔ اگرچہ وہ سن ِ بلوغت کو تو نہ پہنچے تھے‘ لیکن سوجھ بوجھ خوب رکھتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فیضانِ صحبت سے قوتِ امتیاز بدرجہ اتم موجود تھی۔ سوموار کی شام کو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز ادا کرتے دیکھا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعوت پر اگرچہ انہوں نے اپنے والد سے مشورہ کرنے کا عندیہ دیا تھا‘ لیکن منگل کی صبح تک وہ دینِ اسلام کی حقانیت کے قائل ہو چکے تھے اور اس نتیجہ پر پہنچنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت اور عظمت ِ کردار نے بڑا کام کیا تھا‘ جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قلب پر نقش ہو چکا تھا۔ منگل کی صبح وہ خالق ِارض و سمٰوٰت کی توحید کا اقرار کر کے مشرف بہ اسلام ہوگئے اور اپنے والد سے مشورہ بھی ضروری نہ سمجھا۔ انہوں نے ابتدا میں اپنے ایمان کو اپنے والد سے پوشیدہ رکھا۔ آخر یہ راز ایک روز اس وقت فاش ہوگیا جب حضرت ابوطالبؓ نے اپنے بیٹے علی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو امام الانبیا کے ساتھ مکہ کی ایک وادی میں نماز ادا کرتے دیکھ لیا۔ پہلے تو وہ عا لمِ حیرانی میں دیکھتے رہ گئے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھنے لگے: ’’پیارے بھتیجے! یہ کیا دین ہے ؟ جو تو نے اختیار کر لیا ہے؟‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: عم ِ محترم! یہ اللہ، اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا دین ہے۔ یہ ہمارے باپ ابراہیم ؑ کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میرے چچا! آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو اس دین کی طرف بلاؤں اور اس دین ِحق کو قبول کرنا سب سے بڑھ کر آپ کا حق ہے۔ آپ اسے قبول کریں اور میری مدد بھی کریں۔‘‘
حضرت ابو طالبؓ نے جواب دیا: میرے بھتیجے! میں اپنے آباء و اجداد کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن بخدا! جب تک میں زندہ ہوں کوئی شخص تمہیں تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔‘‘
اس کے بعد حضرت ابوطالبؓ نے روئے سخن اپنے بیٹے کی طرف کرتے ہوئے کہا: ’’اے علیؓ! انہوں نے تمہیں خیر کی طرف بلایا ہے‘ ان کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہنا۔‘‘
اب حضرت علی کرم اللہ وجہہ پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ دین ِاسلام کی پاکیزہ راہوں پر گامزن ہوگئے کیونکہ دل میں والد کی طرف سے جو کھٹکا لگا ہوا تھا وہ ختم ہوگیا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا اعلانِ حق

تین سال متواتر خفیہ تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔ تین سال کے بعد ربِ قدوس نے اپنے پیارے حبیب کو فرمایا:’’(اے پیغمبر) اپنے رشتہ داروں کو عذابِ آخرت سے ڈرائیے۔‘‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تعمیل ِ ارشادِ باری تعالیٰ میں اپنے تمام قرابت داروں کو کاشانۂ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں دعوتِ طعام پر جمع کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب توحید ربانی سے اپنے خطاب کا آغاز کیا تو ابو لہب بن عبدالمطلب بُری طرح بھڑک اٹھا اور لوگوں کو بہلا پھسلا کر لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کچھ دنوں بعد دوبارہ دعوتِ طعام کا اہتمام فرمایا۔ کھانا کھانے کے بعد فرمایا: ’’اہل ِعرب میں سے آج تک کوئی شخص مجھ سے بہتر پیغام نہیں لایا۔ یہ پیغام دُنیا اور عقبیٰ دونوں کی بھلائی کا ضامن ہے‘ آپ میں سے کون اس پیغام کو قبول کرتا ہے۔‘‘
یہ سننا تھا کہ سب نے منہ پھیر لیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ ابن ِ ابی طالب رضی اللہ عنہٗ جو ابھی سن ِ بلوغت کو پہنچے تھے ، بھی وہاں موجود تھے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور بلاخوف و خطر کہنے لگے:
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!میں آپ کی مدد کروں گا اور جو شخص آپ سے جنگ کرے گا اس سے جنگ کروں گا۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ کلام سن کر لوگ از راہِ تمسخر سر ہلانے لگے۔ کچھ لوگ حقارت سے مسکرانے لگے۔ وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی کمسنی اور جسمانی کمزوری کا مذاق اڑا رہے تھے۔ ان کی نظر کمسنی اور جسمانی کمزوری پر تو تھی‘ لیکن وہ اس قوت ِایمانی کا ادراک نہ کر سکے جو اس بلوغت کی طرف بڑھتے ہوئے ابوطالبؓ کے لخت ِجگر نے صحبت ِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں رہ کر حاصل کی تھی۔ سب ہنستے، مذاق اڑاتے اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے۔

ہجرت مدینہ

اللہ تبارک تعالیٰ نے جب اپنے جلیل القدر رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ جانے کی اجازت دی اس وقت مشرکین مکہ نے اپنے ایک خفیہ اجلاس میں فیصلہ کر لیا تھا کہ تمام قبائل سے جوان منتخب کر کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گھر کا گھیراؤ کر لیا جائے اور یکبارگی حملہ کر کے قتل کر دیا جائے۔ جس رات آپؓ کو گھر چھوڑ کر رفیق ِ نبوت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ سفر ہجرت پر روانہ ہونا تھا، اس رات مشرکین ِمکہ نے کاشانہء نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس اہل ِمکہ کی امانتیں تھیں۔ آپ امانتیں مالکوں کو لوٹانا چاہتے تھے اس لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے بستر پر سونے کے لیے کہا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بلا ترددّ اس کے لیے تیار ہو گئے‘ حالانکہ ان کو علم تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چلے جانے کے بعد مشرکین ان کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ہدایت فرمائی کہ امانتیں مالکوں کو لوٹانے کے بعد تم بھی ہجرت کر کے مدینہ چلے آنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اندرونی کیفیات کا جائزہ لینے کے لیے فرمایا:
’’اے علی (کرم اللہ وجہہ) ! کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ دشمن مجھے تلاش کرے اور نہ پاسکے اور تجھے پالے اور شاید جاہل جلدی میں تمہاری طرف دوڑ کر آئیں اور تمہیں قتل کر دیں۔‘‘
عاشق ِ مصطفٰی حضرت علی کرم اللہ وجہہ عرض کرنے لگے : ’’جی! یا رسولؐ اللہ! میں اس بات پر راضی ہوں کہ میری روح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک کی حفاظت میں کام آجائے اور میرا نفس حضور کی ذات پر قربان ہو جائے۔ کیا میں زندگی سے بجز اس کے محبت کر سکتا ہوں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں گزرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکے اوامر و نواہی کی بجا آوری میں صرف ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دوستوں کی محبت اور دشمنوں سے جہاد کرنے میں گزر جائے۔ اگر یہ امور نہ ہوتے تو میں ایک لمحہ کے لیے بھی اس دنیا میں زندہ رہنا پسند نہ کرتا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ سن کر فرمایا:
’’تیرے اس کلام کی تصدیق لوحِ محفوظ کے موکلین نے کی ہے اور انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ جو ثواب دارالقرار میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تیار کر رکھا ہے‘ اس کی مثل نہ کسی نے سنی اور نہ دیکھی اور نہ کسی کے ذہن میں اس کا تصور آیا۔‘‘
اے مدعیانِ عشق و جنوں۔ پرستارانِ عقل و خرد! حضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا کے جذبہ فدائیت کو ملاحظہ کرو۔ لذتِ آشنائی کی اس آنچ کو محسوس کرو جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیرِخدا کو جسم تو کیا اپنی روح بھی شمع رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر پروانہ وار فدا کرنے پر آمادہ کر دیا۔ یہ دیکھ چکو تو یہ بھی دیکھو کہ خالق ِکائنات اور حبیب خالق ِ کائنات وفا شعاروں اور جانثاروں کی کس طرح پذیرائی فرمایا کرتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی چادر اوڑھ کر ان کے بستر پر سو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بستر پر جو لذتیں پائیں ان کا شمار حضرت علی رضی اللہ عنہٗ جانیں۔ صبح ہوئی تو مشرکین مکہ کو پتہ چلا کہ جس گوہر مقصود کے حصول کے لیے وہ رات بھر ننگی تلواریں لیے کاشانہ نبوی کو گھیرے رہے وہ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ وہ تو اس تصور میں سرمست کھڑے پہرہ دے رہے تھے کہ جونہی وہ قدم باہر نکالیں گے درجنوں تلواریں برق کی مانند کوندیں گی اور اپنا مقصد پالیں گی۔ لیکن گھر سے جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ برآمد ہوئے تو محاصرہ کرنے والوں کے اوسان خطا ہوگئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو ڈرایا دھمکایا۔ سخت سست کہا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں پوچھا لیکن شیر ِ خدا نے ان کو کچھ نہ بتایا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے لوگوں کی امانتیں ان کے سپرد کیں۔ذرہ ذرہ کا حساب بے باک کر دیا اور ایک رات پا پیادہ چھپ کر مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اتنی لمبی مسافت پا پیادہ اور تن ِ تنہا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ منزلِ عشق پر رواں دواں تھے اور بقول شاعر: کہ 

میں کہاں جاتا ہوں‘ مجھے عشق لیے جاتا ہے

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ابھی قبا میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا پہنچ گئے۔ اگرچہ پاؤں میں آبلے پڑ چکے تھے، لباس تار تار تھا، سفر کی صعو بتوں نے نڈھال کر رکھا تھا‘ لیکن روح مطمئن تھی کہ منزلِ عشق پاچکی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے راہر و منزلِ عشق کو دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ آنکھوں میں اشک امڈ آئے‘ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی محبت کے جذبات ان پر غالب آگئے‘ آنکھیں فرطِ محبت سے چمکنے لگیں۔ بھائی کو سینے سے لگا لیا اور بے شمار دعاؤں سے ان کا دامن بھر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی سفر کی ساری کلفتیں مٹ گئیں۔

حضرت علیؓ کا سیدۃ النساء حضرت فاطمہؓ سے نکاح

محسن ِانسانیت‘ سرور ِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی چار بیٹیاں تھیں‘ سب سے چھوٹی بیٹی کا نام فاطمہ رضی اللہ عنہا تھا۔ حضور کو ان سے بہت پیار تھا وہ سیدۃ النساء العالمین ہیں۔ ان کی ولادت کے بارے میں دو قول ہیں۔ اوّل یہ کہ ان کی ولادت بعثت سے پانچ سال قبل ہوئی اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکی عمر 35 سال تھی۔ دوسرے قول کے مطابق ان کی ولادت کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر 41 سال تھی۔ دوسرے قول کے مطابق ان کا سنہ ولادت ا۔بعثت بنتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بڑی صاحبزادی کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا اور منجھلی صاحبزادیوں حضرت رقیہ اور حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح یکے بعد دیگرے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ سے ہوا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خاتونِ جنت جب سن ِ بلوغ کو پہنچیں تو قریش کے اعلیٰ خاندانوں سے متعدد سرداروں نے رشتہ طلب کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سکوت فرمایا‘ یا یہ جواب دیا کہ جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ جوان تھے‘ ابھی کوئی نکاح نہ کیا تھا۔ ان کی دلی آرزو تھی کہ یہ سعادتِ عظمیٰ ان کے حصہ میں آئے‘ لیکن اپنی مفلوک الحالی اور تہی دامنی کا احساس کر کے دل مسوس کر رہ جاتے تھے‘ رشتہ طلب کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ باپ کا سایہ تو سر پر تھا نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آغوشِ شفقت میں پرورش پائی تھی۔ نبی رؤف رحیم کی خوئے بندہ نوازی سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر ِ رحمت بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ان پر ہی تھی۔
ایک روز چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں تشریف فرما تھے‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ محو ِگفتگو تھے۔ سیدنا صدیق ِاکبر رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا اکثر و بیشتر شرفاء قریش نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خاتونِ جنت کے رشتہ کے لیے دربارِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں درخواست کی ہے‘ لیکن کسی کو مثبت جواب نہیں ملا۔ ایک حضرت علی رضی اللہ عنہٗ باقی ہیں‘ جو خاموش ہیں۔ شائد وہ اپنی تنگ دستی کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائے۔ ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بھیجنا چاہیے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہٗ نے ان کے خیال کی تصدیق کی۔ تینوں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے گھر تشریف لے گئے پتہ چلا کہ اونٹنی لے کر کسی انصاری دوست کے باغ کو پانی دینے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کنوئیں پر چلے گئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضرہونے پر آمادہ کرنے لگے۔ ہمدرد اور غم گسار ساتھیوں کی باتیں سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں کہنے لگے ’’کون سا منہ لے کر جاؤں تہی داماں ہوں۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے مالی اعانت کی یقین دہانی کرا کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔
سیّدنا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ محسن ِانسانیت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سلام عرض کرنے کے بعد ادب و احترام سے سر جھکا کر بیٹھ گئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’علی رضی اللہ عنہٗ لگتا ہے تم کسی کام کے لیے آئے ہو۔ بتاؤ کیا کام ہے؟‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ادب و احترام کے ساتھ شرم و حیا میں ڈوبے ہوئے لہجہ میں بصد مشکل اپنا مدعا رک رک کر بیان کیا۔ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ دمکنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’علیؓ! مہر ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟‘‘حضرت علی کرم اللہ وجہہ عرض کرنے لگے: ’’میرے ماں باپ قربان! آپ میری حالت سے آگاہ ہیں۔ میرے پاس سوائے تلوار‘ زرہ اور اونٹنی کے اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’تلوار اور اونٹنی تمہاری اہم ضرورتیں ہیں۔ میں زرہ کے عوض فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کا نکاح تم سے کرنے کو تیار ہوں۔‘‘
یہ سننا تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ یہ مژدۂ جانفزاسن کر کاشانہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے باہر نکلے۔ سیدنا صدیق ِ اکبر رضی اللہ عنہٗ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہٗ شدت سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دے دیا ہے‘ تو ان کو بھی بے حد مسرت ہوئی۔ جب تینوں مل کر مسجد نبوی میں پہنچے تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وہاں تشریف لاچکے تھے۔ انصار و مہاجرین کو جمع کیا گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دونوں کا عقد فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم زرہ کو فروخت کرنے کے لیے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے وہ زرہ مہنگے داموں چار سو درہم میں خرید لی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ جب رقم ادا کر کے زرہ اپنے قبضہ میں لے چکے تو یہ کہتے ہوئے زرہ واپس حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دے دی کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے زرہ اور رقم دونوں چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدموں میں جا کر ڈال دیں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی محبت کا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے لیے دعائے خیر کی اور رقم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کے سپرد کر دی اور انہیں ہدایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ضروری اشیاء خرید لائیں۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہٗ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہٗ ان کے ساتھ گئے۔
سیدۃا لنساء خاتونِ جنت‘ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیاری بیٹی کو حضور کی طرف سے جو جہیز ملا اس میں ایک بان کی چارپائی‘ دو چکیاں‘ دو گھڑے‘ چمڑے کا گدا جس میں روئی کی بجائے کھجور کے پتے تھے، ایک مشکیزہ اور ایک چھا گل شامل تھی۔
نکاح رجب 1ھ میں ہوا اور رخصتی کئی ماہ بعد غزوۂ بدر کے بعد ہوئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس اپنا کوئی مکان نہیں تھا جس میں خاتونِ جنت کو لے جاتے اس لیے وہ کرایہ کے مکان میں سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لے گئے اور چند دن بسر کیے۔ ایک روز حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں کہ حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہٗ کے پاس کئی مکان ہیں‘ ان کا ایک مکان مسجد ِنبوی کے بالکل قریب ہے۔اگر ہو سکے تو آپ ان سے وہ مکان لے کر مجھے عطا فرمائیے۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’حارثہ نے پہلے کئی مکان میرے کہنے پر اللہ کی راہ میں دیئے ہیں۔ اب انہیں کہنا مناسب نہیں‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ بات حضرت حارثہ رضی اللہ عنہٗ تک پہنچ گئی، وہ بھاگے چلے آئے اور عرض کرنے لگے: ’’یا رسولؐ اللہ ! میں اپنے سارے مکان حضور کی خدمت میں پیش کرتا ہوں‘ جو پسند آئے لے لیجیے ٔ۔ وہ مکان جو آپ قبول فرما لیں گے مجھے اس مکان سے اچھا ہے جو میرے پاس رہ جائے گا‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک مکان قبول فرما لیا اور حارثہؓ کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس مکان میں منتقل ہوگئے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی دعاؤں کے ساتھ اس خوش بخت جوڑے کو نئے مکان میں آباد کیا۔

میدانِ بدر

بدر میں جب میدانِ کا رزار گرم ہوا تو مشرکین ِمکہ کی طرف سے ربیعہ کے بیٹے عتبہ اور شیبہ میدان میں نکلے۔ ان کے پیچھے ولید بن عتبہ بھی فخر و مباہات کے رجز گاتا ہوا نکلا۔ عتبہ نے اپنے بھائی شیبہ کو دائیں طرف اور بیٹے ولید کو بائیں طرف لیا اور مسلمانوں کو للکارنے لگا۔ ان کے مقابلہ میں انصار کے تین جوان اللہ ربّ العزت کی قدوسیت کے ترانے گاتے ہوئے نکلے۔ عتبہ کو جب معلوم ہوا کہ ان کے مقابلہ میں آنے والے قریش نہیں‘ بلکہ انصار ہیں تو انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے مقابلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ ‘ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہٗ اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہٗ کو بھیجا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے مدمقابلہ ولید کو تہ تیغ کر دیا۔ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہٗ نے شیبہ کی گردن اڑا دی۔ عتبہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہٗ ہنوز برسر پیکار تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم شیر کی طرح گرجتے ہوئے ان کی طرف بڑھے اور پھر گویا برق کوند گئی اور عتبہ کی تڑپتی ہوئی لاش میدانِ بدر میں نظر آئی۔

غزوہ احد

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے غزوہ احد میں پرچم ِ اسلام حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہٗ کو عطا فرمایا۔ وہ چٹان کی طرح مضبوط قدم جمائے عَلم تھامے شجاعت و جانثاری کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ دشمن نے آپ رضی اللہ عنہٗ کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے پرچم ِ اسلام بائیں ہاتھ میں تھام لیا۔ بایاں ہاتھ کٹ گیا تو پرچم اسلام کو سینے سے لگا لیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فدا کارِ اسلام کی جانبازیوں کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔ ان کو شہادت سے ہم کنار ہوتے دیکھا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو پرچم ِ اسلام تھام لینے کا حکم دیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے جھنڈا تھام لیا اور جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر نعرہ لگایا ’’انا ابو القصم‘‘ جس کا مطلب تھا ’’میں باطل کی پشت توڑنے والا ہوں۔‘‘ اسی دوران آپh کے کانوں میں مشرکین کے علمبردار طلحہ ابن ِ طلحہ کی آواز پہنچی‘ جو مسلمانوں کو للکار رہا تھا۔ شیرِ خدا کی غیرتِ اسلامی کو گوارا نہ ہوا کہ کفر کی للکار پر خاموش رہیں تیزی سے آگے بڑھ کر طلحہ کے سامنے جا پہنچے اور اسے سنبھلنے کا موقعہ دیئے بغیر تلوار کا ایک بھرپور وار کر دیا۔ چند لمحات قبل شیخیاں بگھارنے والا لات و عزیٰ کا پجاری اللہ کے شیر کی ضرب کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ پیکرِ نخوت کی شرم گاہ ننگی ہوگئی تھی۔ اس حالت میں شیر خدانے دوسرا وار کرنا مناسب نہ سمجھا لیکن وہ بدنصیب تو ایک وار کی بھی تاب نہ لاسکا تھا اور تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہوگیا۔

غزوہ خندق

لشکر ِکفار ایک طوفان کی مانند مدینہ منورہ کی طرف یلغار کرتا چلا آرہا تھا۔ اس مرتبہ کفار کے ارادے بڑے خطرناک تھے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ مدینہ کی بستی کو زبردست حملہ کر کے روند ڈالیں گے اور اہل ِ اسلام کو نیست و نابود کر کے رکھ دیں گے‘ لیکن جب انہوں نے اپنے سامنے ایک چوڑی اور گہری ناقابل عبور خندق دیکھی تو زہریلے سانپ کی طرح بل کھا کر رہ گئے۔ ان کے سارے منصوبے خاک میں مل گئے اور انہیں خندق کے پار ہی خیمہ زن ہونا پڑا۔
لشکر ِکفار کے شہسوار اکثر اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے خندق کی طرف بڑھتے لیکن اسے عبور نہ کر پاتے اور پیچ و تاب کھا کر رہ جاتے۔ ایک روز عرب کا مشہور و معروف شہسوار عمرو بن عبدود تیزی سے گھوڑا دوڑا کر خندق کے پار کود گیا۔ لشکر اسلام سے کچھ دور گھوڑا روک کر ’’ھل من مبارز‘‘ کی آوازیں لگانے لگا۔
عمرو ابن عبدود بہت بڑا جنگ جو تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اکیلا ایک سو سواروں پر بھاری ہے۔ یہ سب کچھ حضرت علیؓ شیرِ خدا کو بھی معلوم تھا لیکن اللہ کے شیر بھلا کسی سے ڈرا کرتے ہیں۔ انہوں نے عمرو ابن عبدود کو دیکھا اس کی للکار کو سنا اور ذوالفقار کو لہراتے ہوئے اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ’’اے عبدود کے بیٹے! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ قریش میں سے اگر کوئی شخص تجھ سے دو باتوں کا مطالبہ کرے گا تو‘ تو ایک بات ضرور مان لے گا۔‘‘
عمرو ابن ِعبدود (غرور و تکبر سے اکڑ کر): ’’ہاں! میں نے یہ اعلان کر رکھا ہے۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ : ’’میں تجھ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آ اور مسلمان ہو جا۔‘‘
عمرو ابن ِ عبدود (نخوت سے) ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ : ’’پھر آ میرا مقابلہ کر۔‘‘
عمرو ابن ِ عبدود: ’’تمہارے والد ابوطالب سے میرے قریبی دوستانہ مراسم تھے اس لیے میں نہیں چاہتا کہ تو میری تلوار کا لقمہ بنے۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ : ’’لیکن میں اس بات کو بہت پسند کرتا ہوں کہ میری ذوالفقار تیری گردن کاٹ ڈالے۔‘‘
یہ سنتے ہی کافر آپے سے باہر ہوگیا۔ عالم ِ دیوانگی میں گھوڑے سے کود گیا۔ اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور تلوار لہراتا ہوا شیرِ خدا کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ تلوار نکال کر عالمِ غیض و غضب میں لہراتا رہا اور پھر دیوانہ وار شیر خدا پر حملہ کر دیا۔ دونوں تلواریں آپس میں ٹکرانے لگیں۔ دونوں لشکر دیکھ رہے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ جنگ کی تیزی کا یہ عالم تھا کہ گردوغبار کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں لشکروں کو کچھ نظر نہیں آتا تھا‘ بس تلواروں کی جھنکار تھی یا نعرے تھے‘ ایک طرف اللہ وحدہٗ لاشریک کے نام کے اور دوسری طرف لات و عزیٰ کے۔ پھر تلواروں کی جھنکار کی آواز بند ہوگئی۔ آہستہ آہستہ گردوغبار کا بادل چھٹنے لگا۔ پھر نظر آنے لگا کہ اللہ کا شیر ابن ِ عبدود کی چھاتی پر سوار ہے۔ ادھر میدان اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھا ادھر ذوالفقارِ حیدری نے ابن ِعبدود کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے چند فی البدیہ اشعار کہے۔ ان کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے:
’’عمرو بن ِ عبدود نے اپنی حماقت کی وجہ سے پتھروں کی مدد کی اور میں نے عقل و ہوش سے کام لیتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پروردگار کی مدد کی۔‘‘
’’میں وہاں سے اس حالت میں نکلا کہ اس کو نرم ریت کے ڈھیروں اور ٹیلوں میں درخت کے مڈھ کی طرح مٹی میں لت پت چھوڑا۔‘‘
’’اے مشرکوں کے گروہو! تم ہرگز یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنے نبی کو بے یارومددگار چھوڑے گا۔‘‘

صلح حدیبیہ

یکم ذی قعدہ 6 ہجری کو سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چودہ سو عشاق کا ایک قافلہ لے کر عمرہ کے لیے مکہ کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ مشرکین مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ کسی بھی طور پر مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر قیام فرمایا جو مکہ سے کم و بیش دس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ نامہ و پیام کا آغاز ہوا‘ آخر دونوں فریق ایک صلح نامہ پر متفق ہوگئے۔ صلح نامہ تحریر کرنے کا شرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو نصیب ہوا۔ مشرکین ِمکہ کی طرف سے صلح نامہ تیار کرنے کے لیے جو وفد بھیجا گیا تھا‘ اس کا سربراہ سہیل بن عمرو تھا۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے لکھا کہ ’’یہ صلح نامہ وہ ہے‘ جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صلح کی ہے۔‘‘ تو سہیل تڑپ اٹھا اور کہنے لگا کہ یہ سارا جھگڑا ہی اس بات کا ہے کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے‘ اس لیے صلح نامہ پر رسول اللہ نہ لکھا جائے صرف ’’محمد بن عبداللہ‘‘ لکھا جائے۔ مسلمان بضد تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ضرور لکھا جائے گا۔ سہیل اڑ گیا کہ اگر ایسا ہوا تو معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دونوں فریقوں کو چپ رہنے کا اشارہ فرمایا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کہا کہ رسول اللہ کے الفاظ قلم زن کر دو۔ یہ سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ پریشان ہو گئے۔ ان کا ضمیر پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم اللہ کے رسول ہیں۔ ان الفاظ پر سیاہی پھیرنا تو ایک طرح سے انکار کے مترادف ہو جائے گا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تڑپ اٹھے اور ایسا کرنے سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قلم اپنے ہاتھ میں لے کر ان الفاظ پر سیاہی پھیر دی۔

خیبر شکن

خیبر میں یہودیوں کے کئی قبیلے آباد تھے اور انہوں نے مضبوط قلعے تعمیر کر رکھے تھے۔ وہ مدینہ میں آباد یہودی قبائل کی حمایت میں مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے تھے۔ بنو قریظہ کی شکست فاش کے بعد خیبر میں آباد یہودیوں کے سردار سلام بن مشکم نے فیصلہ کیا کہ تمام یہودی نوجوان پوری طرح مسلح ہو کر مدینہ پر حملہ کر دیں اگر ضرورت پڑی تو فکد اور وادی القریٰ میں آباد یہودی بھائیوں سے مدد طلب کر لیں گے۔ انہوں نے رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی سلول کے ساتھ مدینہ میں رابطہ قائم کیا۔ اس بدبخت نے یہودیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جب ان سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا علم ہوا تو محرم 7 ھ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے جانثاروں کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ لشکرِ اسلام کی تعداد 1600 تھی۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ آشوبِ چشم کی تکلیف کی وجہ سے لشکرِ اسلام کے ساتھ روانہ نہ ہو سکے تھے۔ جب لشکر روانہ ہو گیا تو وہ پریشان ہوگئے‘ جب بے چینیاں حد سے بڑھ گئیں تو اسی حالت میں روانہ ہوگئے۔ حالت یہ تھی کہ آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور اونٹنی پر سوار اسے ہنکائے لیے جاتے تھے‘ یہاں تک کہ خیبر کے علاقہ میں لشکرِ اسلام کے قریب پہنچ کر اپنی اونٹنی کو جا بٹھایا۔
خیبر میں سب سے مضبوط قلعہ ناعم تھا۔ یہودیوں کا بہت بڑا شہسوار اور پہلوان مرحب اسی قلعہ میں مقیم تھا۔ اس کے بھائی بھی بڑے بہادر تھے اور اس کے ساتھ قلعہ میں قیام پذیر تھے۔ سیّد ِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم درد ِشقیقہ کی وجہ سے خود فوج کی کمان نہ کر سکے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کو اپنا پرچم عطا فرمایا اور قلعہ ناعم پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے شدید جنگ کی لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ دوسرے روز مسلمانوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کی سربراہی میں شدید جنگ کی لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ سرور ِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو صورتِ حالات سے آگاہ کیا گیا تو فرمایا:
’’کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ یہ قلعہ فتح فرما دے گا۔ وہ شخص فرار نہیں ہوگا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کرنے والا ہوگا۔ وہ قوتِ بازو سے اس قلعہ پر قابض ہو جائے گا۔‘‘
حبیب ِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ فرمان سن کر سب مجاہدین کے دلوں میں یہ خواہش موجزن ہوگئی کہ کاش یہ سعادت ان کو نصیب ہو جائے۔ رات امید و بیم میں بیت گئی۔ صبح ہوئی تو سب مجاہدین بے تابی سے اس خوش بخت کا چہرہ دیکھنے کا انتظار کرنے لگے۔ جمعہ کا روز تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نماز جمعہ ادا فرمائی اور جھنڈا منگوایا۔ پہلے کھڑے ہو کر لوگوں کو وعظ فرمایا اور جہاد میں ثابت قدم رہنے کی تلقین کی پھر پوچھا: ’’علی(رضی اللہ عنہٗ)کہاں ہیں؟‘‘
عرض کی گئی: ’’وہ بیمار ہیں‘ ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔‘‘
فرمایا: ’’ ان کو میرے پاس لے آؤ۔‘‘
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہٗ گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر لے آئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’علی(رضی اللہ عنہٗ) تمہیں کیا تکلیف ہے؟‘‘
عرض کیا: ’’آقا! میری آنکھیں دکھتی ہیںا ور مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’میرے قریب آئو۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جب قریب ہوئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن لگا دیا۔ چشم زدن میں آنکھیں بالکل صحت مند ہوگئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کبھی دکھی ہی نہ ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں پرچم عطا فرمایا اور قلعہ ناعم پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب قلعہ ناعم کے سامنے جاکر جھنڈا گاڑا تو ایک یہودی نے قلعہ کی دیوار سے جھانک کر آپ کو دیکھا اور پوچھا:
یہودی: ’’آپ کون ہیں؟‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ : ’’میں ابن ِ ابی طالبؓ ہوں۔‘‘
یہودی: (بلند آواز سے) ’’اس خدا کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور تورات عطا فرمائی آپ یہودیوں پر غلبہ پالیں گے۔‘‘
قلعہ سے سب سے پہلے مرحب کا بھائی حارث نکلا اور مسلمانوں کو مقابلہ کی دعوت دینے لگا۔ اس کے ساتھ چند یہودی بھی میدان میں نکلے لیکن حارث نے انہیں دور کھڑا رہنے کو کہا او ر خود میدان میں کھڑا ڈینگیں مارتا رہا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خود اس کے مقابلہ میں نکلے اور اسے سنبھلنے کا مو قعہ دیئے بغیر پلک جھپکنے میں قتل کر دیا۔ جو یہودی اس کے ساتھ آئے تھے‘ عالم ِ مایوسی میں واپس لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور یہودی میدان میں نکلا۔ اس کا نام عامر تھا۔ وہ ایک طویل القامت شخص تھا۔ اس کے مقابلہ میں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ خود ہی نکلے۔ مقابلہ شروع ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بڑی خوبی سے اپنا دفاع کر رہے تھے اور خود بھی حملے کر رہے تھے‘ لیکن اپنے قدوقامت کی وجہ سے اس کو کوئی گزند نہ پہنچ رہی تھی۔ آخرحضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کی پنڈلیوں پر ایک زبردست وار کیا‘ جس سے وہ گھٹنوں کے بل گر گیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تلوار بجلی کی مانند کوند گئی اور کافر کا سر تن سے جدا ہوگیا۔ عامر کے بعد یاسر نکلا جو بڑا طاقتور اور بہادر یہودی تھا۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کے مقابلہ میں نکلنا چاہا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ بن عوام نے ان کواللہ کی قسم دے کر روک دیا اور خود یاسر کے مقابلہ میں نکلے اور اس کا کام تمام کر دیا۔
اپنے تین بہادر اور طاقتور ساتھیوں کو خاک و خون میں تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے دیکھ کر مرحب عالمِ غیض و غضب میں قلعہ سے برآمد ہوا۔ وہ تلوار لہراتا، رجز پڑھتا بڑھتا چلا آیا اور میدان میں آکر کہنے لگا۔
’’خیبر کے درودیوار جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیاروں سے مسلح ہوں۔ بہادر ہوں اور تجربہ کار ہوں۔ جب شیر مجھ پر حملہ کرتے ہیں‘ تو میں جوش سے بھڑک اٹھتا ہوں۔‘‘
اس کے مقابلہ پر عامر بن اکوع رضی اللہ عنہٗ نکلے۔ دونوں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے لگے۔ حضرت عامر رضی اللہ عنہٗ کی اپنی تلوار ان کے گھٹنے پر لگی اور وہ گر پڑے اور شہید ہوگئے۔ مرحب پھر شیر کی طرح دھاڑنے لگا۔ اب اس کے مقابلہ میںحضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا نکلے وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے:
’’میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے۔ جنگل کے شیروں کی طرح میں بڑا خوفناک ہوں۔ میں ان کو ایک صاع کے بدلے بہت بڑے پیالے سے ناپ کر دوں گا۔‘‘
مرحب نے جھپٹ کر آپ رضی اللہ عنہٗ پر وار کیا لیکن آپ نے اس کا وار خالی دے کر اپنی شمشیرِآبدار ذوالفقار کا ایسا زور دار وار اس نابکار کے سر پر کیا‘ جس نے فولادی خود کو کاٹ کر سر کو دوٹکڑے کر دیا۔ پھر دوسرا وار کر کے سر تن سے جدا کر دیا۔ مسلمانوں نے قلعہ پر یلغار کر دی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قلعہ کا دروازہ اکھاڑ پھینکا اور قلعہ فتح ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس قلعہ پر قبضہ کرنے کے لئے اہل ِ اسلام کو یہود کی زبردست مزاحمت کا مقابلہ کرنا پڑا اور کئی روز تک زور دار جنگ ہوئی۔ قلعہ ناعم کی فتح نے خیبر کی فتح کا دروازہ کھول دیا‘ کیونکہ یہی سب سے مضبوط قلعہ تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاوصال

صحابہ کرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں سرشار تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انتقال کے سانحہ سے وہ رنج و الم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دامن ِ شفقت میں پرورش پائی تھی‘ وہ چچا زاد بھائی بھی تھے اور داماد بھی۔ ان کا صدمہ بہت دل گداز تھا۔
قریب ترین عزیز ہونے کے ناطے آپ رضی اللہ عنہٗ کو یہ اعزاز نصیب ہوا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غسل دینے والے تین آدمیوں میں سے ایک تھے۔ ان کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہٗ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہٗ تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ غسل بھی دے رہے تھے اور ساتھ یہ بھی کہتے تھے:’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ زندگی میں بھی طیب و پاکیزہ تھے اور وصال کے بعد بھی طیب و پاکیزہ ہیں۔‘‘

خلافت ِحضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہٗ اورحضرت علی رضی اللہ عنہٗ

یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کی بیعت کی اور بلا جبر و اکراہ کی۔ حق کے معاملہ میں خوف یا مصلحت بینی شیر ِ خدا رضی اللہ عنہٗ کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے:

آئین جواں مرداں حق گو ئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

حضرت علی کرم اللہ وجہہ شیر ِ خدا نے کب بیعت کی؟
اس سوال کے جواب کے لیے علامہ طبری کا قول یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انتقال پُرملال کے چالیس روز بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بیعت کی۔
علامہ ابن ِخلدون (تاریخ ابن ِ خلدون حصہ اوّل میں) رقمطراز ہیں:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کے پاس گئے۔ اتفاق سے اس وقت آپ رضی اللہ عنہٗ کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں آپ سے کچھ گفتگو کرنے آیا ہوں اور تخلیہ چاہتا ہوں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کو ہٹا دیا۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ’’آپ نے سقیفہ میں میری عدم موجودگی میں بیعت کیوں لی؟ آپ نے مجھ سے مشورہ تک نہ لیا۔ آپ مجھ کو بلوا لیتے۔‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ نے جواب دیا: ’’میں سقیفہ میں بیعت لینے نہیں گیا تھا بلکہ مہاجرین و انصار کا جھگڑا دور کرنے گیا تھا۔ انصار کہتے تھے کہ ہم میں سے امیر ہو اور مہاجرین کہتے تھے کہ ہم میں سے ہو۔ دونوں اس بات پر لڑنے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ میں نے خود اپنی بیعت کی درخواست نہیں کی‘ بلکہ حاضرین نے بالاتفاق خود میرے ہاتھ پر بیعت کی۔ باقی رہا یہ امر کہ میں نے تم کو بلوایا نہیں اور میں نے مشورہ نہیں لیا اس کا انصاف تم خود کر سکتے ہو کہ تم تجہیز و تکفین میں مصروف تھے تو میں تم کو کیسے محض اس کام کے لیے وہاں سے بلواتا اور اس سلسلہ میں مشورہ کرتا۔ اگر میں ان لوگوں کے کہنے سے بیعت نہ لیتا تو بہت جلد اتنا فتنہ و فساد برپا ہو جاتا کہ جس کو ختم کرنا امکان سے باہر ہو جاتا۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ یہ بیان سن کر کچھ دیر سوچتے رہے۔ اس کے بعد ہاتھ بڑھا کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
علامہ ابن ِخلدون کے اس بیان میں یہ صراحت موجود نہیں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ ملاقات کب کی۔ البتہ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کی وضاحت سے یک گونہ اطمینان حاصل ہو گیا اور انہوں نے برضا و رغبت بیعت کر لی۔
سید امیر علی جو مشہور قانون دان اور جج تھے اور ان کا تعلق شیعہ فرقہ سے تھا اپنی مشہور انگریزی کتاب ’’سپرٹ آف اسلام‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’دین سے حقیقی وابستگی‘ اولوالعزمی اور اپنے آقا کے اطاعت شعاروں کو انتشار سے بچانے کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فوراً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کی بیعت کی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو تین بار نظر انداز کیا گیا لیکن آپ نے ہر بار رائے دہندگان کے فیصلہ کو بطیب خاطر قبول فرمایا۔ خود کو امیدوار کے طور پر کبھی پیش نہ کیا… آپ نے پہلے دونوں خلفاء کی ہر طرح معاونت کی اور مفید مشورے دیئے۔ خلفاء نے بھی انہیں عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کی طرف سے کی گئی احادیث نبوی کی وضاحتوں کو قبول کیا۔‘‘
سید امیر علی کے اس اقتباس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بلا تاخیر بیعت کر لی تھی اور شیخین کو بھرپور مشورے دیتے رہے اور تعاون جاری رکھا۔
اس سلسلہ میں حضرت ابو سعید خدری کی ایک حدیث بھی مطالعہ کے قابل ہے۔ امام بیہقی روایت کرتے ہیں:
’’حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہٗ منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ حاضرین میں اکابرین قوم کا جائزہ لیا حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ نظر نہ آئے انہیں بلانے کے لیے ایک آدمی بھیجا جب وہ آئے تو فرمایا:
’’اے اللہ کے رسول کے پھوپھی کے فرزند! اور
اے اللہ کے رسول کے حواری!
کیا تم مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہو؟‘‘
آپ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کی: ’’اے خلیفہ رسول اللہ! ناراض نہ ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اٹھے اور بیعت کر لی۔
آپ رضی اللہ عنہٗ نے حاضرین پر دوبارہ نظر ڈالی تو سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نظر نہ آئے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی خدمت میں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ آپ فوراً تشریف لائے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا:
اے اللہ کے رسول کے چچا کے فرزند! اور
اے اللہ کے رسول کے پیارے داماد!
کیا آپ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں؟
آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا: ’’اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! اس تاخیر پر ناراض نہ ہوں۔‘‘یہ کہہ کر اٹھے اور بیعت کر لی۔
علامہ ابن ِ کثیر نے کئی روایات بیان کی ہیں‘ جن سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے بیعت اور تعاون کی سند حاصل ہوتی ہے۔ لیکن طوالت کے ڈر سے ان سب کا احاطہ کرنے سے معذور ہوں‘ فرماتے ہیں:
یہ سچ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ لمحہ بھر کو بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ سے الگ نہ ہوئے۔ آپ کے اقتداء میں نمازیں ادا کیں اور مرتدین کے خلاف جہاد کے لیے تلوار لہراتے ہوئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ ذی القصہ تک گئے۔‘‘
حبیب ابن ثابت سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنے گھر میں قیام فرما تھے۔ ایک آدمی نے ان کو بتایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ بیعت کے لیے مسجد میں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک لمبی قمیض پہنے ہوئے تھے۔ اسی طرح اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ بیعت میں دیر نہ ہو جائے۔ آکر بیعت کر لی اور گھر سے کپڑے منگوا کر وہاں پہنے اور پھر وہیں تشریف فرما ہوگئے۔ (تاریخ الامم و لملوک جلد 3)
سیّدنا علی رضی اللہ عنہٗ ابن ابی طالبؓ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے دور خلافت میں:
مشیر ِ سلطنت کے منصب ِجلیلہ پر فائز رہے کوئی اہم کام ان کے مشورہ کے بغیر انجام نہ پاتا تھا۔
دورِ خلافت صدیق اکبرؓ میں ان کے اقتداء میں نمازیں ادا فرماتے رہے۔
ان کی طرف سے مقررہ وظیفہ وصول کرتے رہے۔
کتابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔
سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کی خیر خواہی کا دم بھرتے رہے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کی خلافت کے ابتدائی ایام میں جب شدید مشکلات نے مملکت اسلامیہ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور خاص طور پر ارتداد کی وبا اس تیزی سے پھیلی تھی کہ خلیفہ رسول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ اپنی پیرانہ سالی کی پرواہ کیے بغیر تلوار سونت کر مرتدین کا مقابلہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پیچھے بھاگے جاتے تھے‘ ذی القصہ کے قریب جا کر ان کی سواری کی لگام پکڑ لی اور کہنے لگے:
’’اے خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کہاں جارہے ہیں؟ میں آپ سے وہی کہتا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے احد میں کہا تھا۔ اللہ کے لیے اپنی تلوار کو نیام میں کر لیں۔ آپ بذا تِ خود لڑنے نہ جائیں مبادا کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائیں اور اگر ایسا ہوا تو نظام باقی نہ رہے گا۔‘‘ (تاریخ ابن ِ خلدون حصہ اوّل)
حضرت سید بن صفوان رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ جب سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ انتقال کر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا کو خبر ملی تو رنج و الم نے بے تاب کر دیا۔ دیکھا تو ہر آنکھ اشک بار تھی ہر قلب مضطرب تھا۔ مدینہ کی فضا نالہ و فغاں سے لرز اٹھی تھی۔ ہمت و بہادری کے کوہِ گراں شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ آنسو بہاتے تیز تیز قدم اٹھاتے اس مکان کے دروازہ پر جا کر کھڑے ہوئے جس میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا جسد پاک رکھا تھا اور ان الفاظ میں خراجِ عقیدت و محبت پیش کیا:
’’اے ابو بکر رضی اللہ عنہٗ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے‘ آپؓ ساری قوم سے پہلے ایمان لے آئے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا ایمان سراپا خلوص تھا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ یقین میں سب سے زیادہ تھے۔ غنا میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا کوئی ثانی نہ تھا اور اسلام کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہٗ سب سے زیادہ تیز تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت میں آپؓ سب سے زیادہ تیز تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں آپ ازحد محتاط تھے۔ حضور کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہٗ بہت امین تھے۔ صحبت اور سنگت کے لحاظ سے آپ رضی اللہ عنہٗ سب سے بہترین تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے مناقب سب سے بڑے تھے۔ نیکیوں میں آپ رضی اللہ عنہٗ سب پر سبقت لے جانے والے تھے آپ رضی اللہ عنہٗ کا درجہ سب سے بلند تھا اور اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آپ رضی اللہ عنہٗ سب سے زیادہ قریب تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ بارگاہ رسالت میں آپ رضی اللہ عنہٗ کی قدرومنزلت بڑی عظیم تھی‘ حضور کی نگاہوں میں آپ رضی اللہ عنہٗ سب سے زیادہ قابل ِ اعتماد تھے۔
پس اے ابوبکر رضی اللہ عنہٗ! اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام کی طرف سے، اس کے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے‘ تمام فرزندانِ اسلام کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔
آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس وقت تصدیق کی جب لوگوں نے جھٹلایا۔ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ کا نام ’’صدیق‘‘ رکھا۔ اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے (ترجمہ) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) صدق لے کر آئے اور (ابوبکرؓ) نے اس کی تصدیق کی۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا خطبہ گویا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جس میں انہوں نے اپنے دلی جذبات کا اظہار فرمایا ہے۔ خوفِ طوالت سے اسے مختصر کر دیا گیا ہے۔

خلافت ِ عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ

منصب ِ خلافت کے حصول سے قبل عہد ِ فاروقی اور عہد ِ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں بھی عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ دل کی گہرائیوں سے حضرت علی ؓشیر ِ خدا کو چاہتے تھے اور ان کی قدرومنزلت کو پہچانتے تھے۔ اس بیان کی صداقت کے ثبوت کے لیے متعدد شواہد پیش کیے جاسکتے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خاتونِ جنت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بے حد لاڈلی بیٹھی تھیں۔ روساء قریش میں سے اکثر ان کے ساتھ نکاح کے متمنی تھے‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی کو مثبت جواب سے نہ نوازا۔حضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا کی دلی آرزو تھی کہ یہ اعزاز ان کو نصیب ہو لیکن اپنی مفلوک الحالی کے خوف سے حرف ِمدعا زبان پر نہ لاتے تھے۔ شیخین حضرات ابوبکر رضی اللہ عنہٗ و عمر رضی اللہ عنہٗ نے اس امر کو محسوس کیا اور حضرت علیؓ شیر ِ خدا کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ جب حضور رسالت ماب نے اس رشتہ کو منظور فرما لیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ جوشِ مسرت سے سرشار شیخین رضی اللہ عنہم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے بھی بے حد اظہارِ مسرت کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے ذریعے مالی معاونت کا راستہ بھی ہموار کر دیا۔ (کشف الغمہ جلد اوّل)
غزوۂ خندق کے دوران جب حضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا نے عرب کے بہت بڑے جنگ جو اور شہسوار عمرو ابن ِ عبدود کا سر قلم کر کے اپنے آقا سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدموں میں لا ڈالا تو صدیق رضی اللہ عنہٗ و فاروق رضی اللہ عنہٗ مسرت سے سرشار ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا کا سر چوم لیا۔ اس طرح کا والہانہ اظہار محبت و مسرت ہمیشہ اعزہ کے لیے ہوتا ہے۔ (کشف الغمہ جلد اوّل)
سیّدنا صدیق اکبر خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب دارلفناہ سے دارالبقا کی طرف رخت ِسفر تیار کیا تو خلافت کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کو نامزد کر دیا اور اہل ِاسلام نے ان کی بیعت کر لی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا نے بھی بیعت کر لی۔
حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہٗ کی مجلس ِ شوریٰ کے رکن تھے۔ کوئی بھی سیاسی فقہی یا عسکری پیچیدہ مسئلہ ان کی رائے کے بغیر حل نہ کیا جاتا۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہٗ اکثر ان کی رائے کو دوسروں کی رائے پر ترجیح دیا کرتے تھے۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہٗ نے عوام الناس کو قانونی مشورے مفت فراہم کرنے کے لیے ایک محکمہ قائم کیا تھا جس کا نام محکمہ افتاء تھا۔ اس محکمہ کے ساتھ جلیل القدر قانون دان صحابہ رضی اللہ عنہم کو منسلک کیا گیا تھا جو بلامعاوضہ یا فیس سے قانونی مشورے دیا کرتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کے رکن تھے۔ حدود سلطنت اسلامیہ میں ان کے علاوہ کسی کو فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہ تھا۔
’’نہاوند‘‘ کے معرکہ کے دوران، جس میں ایرانی لاکھوںکی تعداد میں لشکر ِ جرار لے کر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لیے نکلے تھے اور ان کا مشہور سپہ سالار فیروز ان جو تجربہ کار اور گرگ باراں دیدہ تھا خم ٹھونک کر سامنے آگیا تو مقابلہ کے لیے امیر المومنین حضرت ابن خطاب  رضی اللہ عنہ  نے خود نکلنا چاہا اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس فیصلہ کی تصدیق کی لیکن جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے رائے لی گئی تو انہوں نے فرمایا:
’’اسلام کی فتح و شکست کا دارومدار کثرت و قلت پر نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے جس کو اس نے غالب کر دیا‘ یہ اللہ تعالیٰ کا لشکر ہے جس کو اس نے تیار کیا ہے اور اس کی امداد فرمائی ہے‘ اسی وجہ سے وہ کامیابی و ترقی کی اس منزل تک پہنچا ہے اور ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اور اپنے لشکر کی نصرت فرمائے گا… اہل ِعرب اگرچہ آج بلحاظ تعداد تھوڑے ہیں‘ لیکن وہ اسلام کی برکت سے بہت زیادہ ہیں اور اپنے اتفاق و اتحاد کے باعث طاقت ور اور غالب ہیں۔ (اے امیر المومنین) آپ قلب بن جائیے اور عربی لشکر کی چکی کو چلائیے۔ یہیں سے کفار کو جنگ کی آگ میں جھونکتے جائیں…‘‘(تاریخ الخلفاء جلد 2 تہران)
حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ نے جب بیت المال سے وظائف جاری کیے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کے مقام کا خیال رکھا۔ پہلا طبقہ جس کے لیے سب سے زیادہ وظیفہ (5000 درہم سالانہ) مقرر کیا اس میں سیدنا علیؓ ابن ابی طالبؓ کا نام نامی اسم ِگرامی شامل تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ دوران خلافت ِ فاروق اعظم رضی اللہ عنہٗ یہ وظیفہ وصول کرتے رہے۔ اس سے دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں‘ اوّل یہ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلافت ِ فاروق رضی اللہ عنہٗ کو جائز سمجھتے تھے دوم یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کے دل میں شیرِ خدا کی بے پایاں قدرومنزلت تھی۔
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ شیر ِ خدا سے ان کی صاحبزادی امِ کلثوم کا رشتہ طلب کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قبول فرمایا اور ماہ ذیقعدہ 17ھ میں نکاح کر دیا۔ تمام معتمد اور معتبر مورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں تصریح کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا ہے۔
ابن ِاثیر ’’تاریخ ِ کامل‘‘ میں تحریر کرتے ہیں:
’’عمر رضی اللہ عنہٗ نے اُمِ کلثومؓ بنت علیؓ ابن ابی طالبظ سے عقد کیا۔ اُمِ کلثوم کی ماں فاطمہ بنت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھیں۔ چالیس ہزار حق مہر ادا کیا گیا۔‘‘
بخاری شریف باب الجہاد میں بھی ضمناً اس واقعہ کا بیان موجود ہے۔
اس واقعہ سے بھی یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان بزرگوں میں قطعی طور پر کسی قسم کی مخاصمت، منافرت یا بداعتمادی نہیں پائی جاتی تھی۔ ( جن سے محبت ہوتی ہے اپنی اولاد کے نام بھی انہی کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی اپنے تین فرزندوں کے نام پہلے تین خلفاء کے نام پر رکھے جن کی تفصیل اس طرح ہے:
۱۔حضرت اُم البنین کے بطن سے چار فرزند پیدا ہوئے حضرت عباس علمدارؓ، حضرت جعفرؓ، حضرت عبداللہؓ اور حضرت عثمانؓ۔ اور یہ چاروں بھائی میدانِ کربلا میں شہید ہوئے۔
۲۔ لیلیٰ بنت ِ مسعود کے بطن سے دو فرزندوں کی ولادت ہوئی۔ ایک کا نام آپ کرم اللہ وجہہ نے ابوبکرؓ اور دوسرے کا نام عبید اللہؓ رکھا۔ یہ دونوں بھی میدانِ کربلا میں شہید ہوئے۔
۳۔ کتب ِ انساب اور کتب ِ تاریخ کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے پانچ فرزندوں سے چلی۔ حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ، حضرت ابو حنفیہؓ، حضرت عباس علمدارؓ اور حضرت عمرؓ سے جو عمر اطرفؓ کے نام سے مشہور ہوئے۔ )

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا دورِ خلافت
28ذوالحجہ 35 ھ تا 17 رمضان المبارک 40ھ 23( جون 656ء تا 27 جنوری 661ء)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد حالات بے حد پریشان کن صورت اختیار کر گئے تھے۔ تمام اکابر صحابہؓ اور امہات المومنین حج کی غرض سے مکہ گئے ہوئے تھے۔ باغی مدینہ منورہ میں دندناتے پھر رہے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی میت بے گورو کفن پڑی تھی۔ بلوائی کسی کو قریب پھٹکنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ تین روز اسی طرح گزر گئے۔ آخر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے باغیوں سے رابطہ قائم کیا لیکن انہوں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہٗ کے کفن دفن کی اجازت نہ دی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہیں سخت سست کہہ ڈالا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے کفن دفن کا انتظام کروا دیا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن نہ کیا جاسکا۔ جنت البقیع کے باہر ’’حس کوکب‘‘ میں دفن کیا گیا۔ اس وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی قبر جنت البقیع کے اندر ہے۔ قبرستان کی حدود حس کوکب کی سمت میں بڑھا کر قبر کو جنت البقیع کے اندر کر لیا گیا۔ جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ ‘ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت زید بن ثابت اور کعب بن مالک وغیرہ کفن دفن اور جنازہ میں شریک ہوئے۔ جنازہ اور تدفین کے وقت بھی بلوائیوں نے تعارض کیا لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ان کو بُری طرح جھڑک دیا۔
حضرت عثمان بن عفان  رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد انصار و مہاجرین کا ایک گروہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہو اور ان کی بیعت کرنا چاہی لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا: ’’میں امیر کے بجائے وزیر بننا بہتر سمجھتا ہوں۔ تم جس کو منتخب کرو گے میں بھی اس کو منتخب کروں گا۔‘‘
بیعت کے لیے آنے والوں نے بہت منت سماجت کی لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے انکار کو اقرار میں تبدیل نہ کر سکے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد بلوائیوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ جانتے تھے کہ عالم ِ اسلام قریش کے علاوہ کسی دوسرے کی خلافت پر متفق نہ ہوگا۔ انہوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت زبیررضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت عبداللہ ابن ِعمر رضی اللہ عنہٗاور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ابن ِ ابی طالب میں سے ہر ایک کو منصب خلافت پرمتمکّن کرنا چاہا لیکن کسی نے بھی اقرار نہ کیا۔ کوفہ والے حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے۔ بصرہ والے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے اور مصر والے حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر منصب خلافت قبول کرنے کے لیے دبائو ڈال رہے تھے۔
جب صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی منصب ِ خلافت کو قبول نہ کیا تو مفسدین پریشان ہو گئے۔ ان میں سے بے شعور اور شرپسند تو یہ چاہتے تھے کہ اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں اور مدینہ کو اس کے حالات پر چھوڑ دیں لیکن جو ذرا عقل و ہوش رکھتے تھے وہ دارالخلافت کو فتنہ و فساد کی نظر کر کے واپس نہیں جانا چاہتے تھے۔ ان میں اکثریت مصر کے بلوائیوں کی تھی۔ آخرکار انہوں نے اہل ِ مدینہ کو جمع کیا اور کہا تم لوگ اہل ِشوریٰ ہو۔ تمہارا حکم تمام امت ِمحمدیہ پر نافذ ہو سکتا ہے۔ اپنے میں سے کسی کو امام مقرر کر لو ہم اسی کی بیعت کر کے واپس چلے جائیں گے اور اگر دو دن کے اندر یہ کام نہ ہوا تو ہم فلاں فلاں اشخاص کو قتل کر کے واپس چلے جائیں گے۔ مدینۃ الرسول کے پاک باسیوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ تھا۔ وہ بلوائیوں کے ہاتھوں مظلوم عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کا انجام دیکھ چکے تھے۔ اہل ِمدینہ مل کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس گئے اور انہیں منصب ِخلافت قبول کرنے پر مجبور کرنے لگے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابتداً تو قطعی انکار کر دیا‘ لیکن جب اہل ِمدینہ کا تقاضہ زور پکڑ گیا تو انہوں نے ایک روز غور کرنے کے لیے مانگ لیا۔ اگلی صبح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے۔ اسی دوران مصر کے بلوائیوں کا ایک گروہ حکیم بن جبلہ کے ساتھ اور کوفیوں کا ایک گروہ اشتر کے ہمراہ پہنچ گیا۔ دباؤ اتنا بڑھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو منصب ِ خلافت قبول کرتے ہی بنی۔

بیعت اور خطبہ خلافت

حضرت علی کرم اللہ وجہہ مسجد میں تشریف لے گئے اور منبر پر چڑھ کر یہ ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! مجھ پر کسی کا کوئی حق سوائے اس کے نہیں ہے کہ مجھ کو تم نے امارت کے لیے منتخب کیا ہے۔ کل تم میرے پاس پریشان ہو کر آئے تھے اور میں خلافت و امارت سے گریز کر رہا تھا لیکن تم لوگ اس پر مصر ہوئے کہ میں تمہارا امیر بنوں اور تمہاری قسمت کا فیصلہ میرے ہاتھ میں ہو۔‘‘
لوگوں نے کہا: ’’بلاشبہ ہم نے ایسا کیا اور ہم لوگ اب تک اپنے خیال پر قائم ہیں۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا: ’’ اے اللہ! گواہ رہنا۔‘‘
اس کے بعد لوگوں نے بیعت کر لی۔ یہ واقعہ جمعۃ المبارک 28 ذوالحجہ 35 ہجری کا ہے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ نے بیعت کرتے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ سنت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مطابق حکم دیں گے اور حدود شرعی کو قائم کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ اور زبیر رضی اللہ عنہٗ نے بلوائیوں کے دبائو پر مسجد میں آنے سے قبل حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بیعت کر لی تھی۔ (تاریخ ابن ِ خلدون حصہ اوّل)

قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہٗ کا مطالبہ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ خطبہ سے فارغ ہو کر مکان پر تشریف لے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗاور حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ بن العوام بھی پہنچ گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے استقبال کیا اور آمد کی وجہ دریافت کی تو دونوں جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نے بیعت مشروط کی تھی اور ہماری شرط حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہٗ کے قاتلوں سے قصاص لینا ہے۔ اب ہم اسی لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ قصاص لیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ ابن ابی طالب نے فرمایا ’’مجھے عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے مظلومانہ طور پر قتل کیے جانے کا بے حد دکھ ہے۔ مجھے ان کے حقوق اور قصاص کی فکر ہے۔ میں ضرور قصاص لوں گا لیکن جلد بازی نہیں کروں گا۔ میں اس وقت تک تمہاری رائے پر عمل نہیں کر سکتا جب تک سلطنت کے امور منظم نہ ہو جائیں اور لوگ راہ ِراست پر نہ آجائیں۔‘‘ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ و زبیر رضی اللہ عنہٗ یہ سن کر واپس چلے آئے۔ مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں قاتلینِ عثمانؓ سے قصاص لیے جانے کے معاملہ پر سرگوشیاں ہونے لگیں۔ (تاریخ اسلام پروفیسر عبداللہ ملک)
جب امیر المومنین حضرت علی ابن ِ طالب رضی اللہ عنہٗ کو یہ خبر ملی کہ شہر کے گلی کوچوں میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت اور قصاص کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں بنارہے ہیں تو آپ مسجد نبوی میں تشریف لائے۔ منبر پر بیٹھ گئے اور لوگوں کو بلوا بھیجا۔ جب لوگ آگئے تو واشگاف الفاظ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے مظلومانہ قتل سے اپنی برأت کا اعلان کیا۔ عہدۂ خلافت کی ذمہ داریوں اور اپنے مسائل کا ذکر کیا۔ لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے یقین دلایا کہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
اگلے روز مروان اور خاندان بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ دوسرے لوگ شام روانہ ہوگئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ان کو نہ روک سکے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے قصاص کا مطالبہ

اُم المومنین سیّدہ عائشہ طیبہ طاہرہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے محاصرہ کے زمانہ میں حج بیت اللہ کے ارادہ سے مدینہ منورہ سے مکہ روانہ ہو گئی تھیں۔ مناسک ِحج کی ادائیگی کے بعد مدینہ واپس تشریف لارہی تھیں کہ اثناء سفر میں صُرف کے مقام پر ایک شخص عبیداللہ بن ابی سلمہ لیشی سے ملاقات ہوگئی۔ اس سے جب مدینہ منورہ کا حال دریافت کیا تو اس نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہٗ کی مظلومانہ شہادت کی خبر سنائی۔ یہ خبر سن کر آپ رضی اللہ عنہا کو بہت دکھ ہوا اور آپ ؓنے اعلان کیا کہ امیر المومنین کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ آپ ؓنے یہ بھی فرمایا ’’مفسدین نے وہ خون بہایا جس کو اللہ نے حرام کیا۔ اس مقدس ترین شہر کی عظمتوں کو داغدار کیا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہجرت گاہ تھا۔ اس مہینہ میں خون ریزی کی جس میں کشت و خون ممنوع تھا۔ وہ مال لوٹا جس کا لینا ان کے لیے جائز نہ تھا۔ اللہ کی قسم! عثمانؓ کی ایک انگلی بلوائیوں جیسے تمام عالم سے بہتر ہے۔ بلاشبہ وہ جس الزام کے ساتھ عثمانؓ کی عداوت پر کمر بستہ ہوئے تھے اس سے عثمانؓ اس طرح پاک و صاف ہوگئے جس طرح سونا کیٹ سے اور کپڑا میل سے پاک ہو جاتا ہے۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ عبداللہ بن حفرمی جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہا کی طرف سے مکہ کے عامل تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہا کے خون کا قصاص لینے والا پہلا شخص میں ہوں۔ یہ سن کر بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے تمام وہ لوگ جمع ہوئے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد مکہ چلے آئے تھے۔ ان میں دوسرے لوگوں کے علاوہ حضرت سعید رضی اللہ عنہٗبن العاص اور ولید بن عقبہ بھی تھے۔ مدینہ منورہ سے حضرات طلحہ رضی اللہ عنہٗ و زبیر رضی اللہ عنہٗ بھی مکہ پہنچ چکے تھے۔ بصرہ میں عبداللہ ابن ِ عامر اور یمن سے یعلی بن منیہ چھ سو اونٹ اور چھ لاکھ دینار لے کر آئے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ و زبیر رضی اللہ عنہٗ نے تفصیل کے ساتھ مدینہ منورہ کے حالات گوش گزار کیے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بیعت اور قصاص کا مطالبہ خاص طور پر زیرِ بحث آئے۔ کچھ لوگوں نے شام کی طرف جانے کا مشورہ دیا۔ ابن ِعامر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے بتایا کہ شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہٗ بلوائیوں کی روک تھام کے لیے کافی ہیں اور رائے دی ’’بصرہ کی طرف خروج کیا جائے۔ بصرہ کے لوگوں کا طلحہ رضی اللہ عنہٗ کی طرف رحجان طبع ہے‘ نیز میرے مراسم بھی وہاں بہت گہرے ہیں‘ جب ہم بصرہ پر قابض ہوگئے تو اہل ِ بصرہ بھی ہمارے ساتھ ’’قصاص‘‘ کا مطالبہ کرنے لگیں گے۔ اس طرح ہم زیادہ موثر انداز میں قاتلین ِ عثمانؓ کا مقابلہ کر سکیں گے۔‘‘ سب حاضرین نے اس رائے کو پسند کیا اور بصرہ کی طرف خروج کا فیصلہ ہو گیا۔
مکہ سے بصرہ کی طرف کوچ کا وقت آیا تو شہر میں اعلانِ عام کر دیا گیا کہ سیدہ عائشہؓ اور حضرات طلحہ رضی اللہ عنہٗ و زبیر رضی اللہ عنہٗ بصرہ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں‘ جو لوگ اسلام سے ہمدردی رکھتے ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے خون کا قصاص لینے کے حق میں ہیں وہ ساتھ مل جائیں جس کے پاس سواری نہ ہوگی اسے سواری فراہم کی جائے گی۔ مکہ مکرمہ سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کم و بیش سولہ سو افراد نکلے۔ اطراف و جوانب سے آ کر لوگ شامل ہوتے گئے۔ اس طرح فوجی دستے کی تعداد تین ہزار ہوگئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہٗ کی زوجہ محترمہ اُم الفضل رضی اللہ عنہا مکہ میں قیام پذیر تھیں۔ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ایک خط لکھا‘ جس میں مکہ کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان کیے اور خفیہ طور پر ایک نامہ بر کے ذریعے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بھیج دیا۔
جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئیں تو دیگر اُمہات المومنین ذاتِ عراق تک ان کے ہمراہ گئیں اور اس مقام سے رو رو کر ان کو الوداع کہی۔یہاں پر ایک حدیث مبارکہ کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ:
ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف فرما تھے۔ اکثر و بیشتر اُمہاۃ المومنین رضی اللہ عنہا حاضر خدمت تھیں۔ اچانک سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کاش مجھے پتہ چل جاتا کہ تم میں سے کس کو دیکھ کر چشمہ خواب کے کتے بھونکنے لگیں گے!‘‘
ذاتِ عرق سے قافلہ روانہ ہوا۔ اُم المومنین رضی اللہ عنہا کو ایک اونٹ پر سوار کیا گیا جس کا نام عسکر تھا۔ چلتے چلتے قافلہ چشمہ خواب کے قریب پہنچ گیا۔ قافلہ کو دیکھ کر چشمہ خواب کے کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یہ کون سا مقام ہے۔ عرض کی گئی یہ چشمہ خواب ہے۔ یہ سننا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بے تاب ہو کر فرمایا ’’مجھے لوٹاؤ۔ لوٹاؤ!‘‘
آپ رضی اللہ عنہا نے فوراً اونٹ کی گردن پر تھپکی دے کر اس کو بٹھا دیا اور اونٹ سے اتر پڑیں۔ قافلہ رک گیا۔ آپؓنے ایک رات اور ایک دن وہاں پر قیام فرمایا۔ فرمانِ نبویؐ یاد کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تذ بذب کا شکار ہوگئیں۔ طبع مبارکہ پر اضطراب کے آثار نظر آنے لگے۔ اسی عالم میں جب ایک دن گزر گیا تو کسی نے چِلا کر کہا: ’’جلدی کرو۔ جلدی کرو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ پہنچ گئے۔‘‘ یہ سننا تھا کہ قافلہ والے سوار ہو کر تیزی سے روانہ ہوگئے۔ ان کا رخ بصریٰ کی طرف تھا۔ آخر بصریٰ میں جا کر قیام کیا۔اور یوں بصرہ پر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ اور حضرت زبیررضی اللہ عنہٗ کا قبضہ ہو گیا اور حضرت عثمانؓ بن حنیف حاکم بصرہ کو وہاں سے نکال دیا گیا۔

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی بصرہ کو روانگی

آپ مطالعہ فرما چکے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو آپ کی چچی ام الفضلؓ زوجہ حضرت عباس ؓبن عبدالمطلب مکہ کے حالات اور مکہ سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ و زبیر رضی اللہ عنہٗ کی بصرہ کو روانگی کے بارے میں مطلع کر چکی تھیں۔ اس خبر سے امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے اور بصرہ کی طرف روانگی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ ربیع الثانی 36ھ کے آخری دنوں میں مدینہ‘ کوفہ‘ مصر اور مکہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر بصرہ کی سمت روانہ ہوئے۔ راستہ میں اچانک مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہٗ سے ملاقات ہوگئی۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہٗ نے آپ رضی اللہ عنہٗ کے گھوڑے کی عنان پکڑ کر روک لیا اور کہنے لگے:
’’اے امیر المومنین! آپ مدینہ سے تشریف نہ لے جائیں۔ واللہ! اگر آپ یہاں سے نکل گئے تو مسلمانوں کا امیر پھر لوٹ کر یہاں نہیں آئے گا۔‘‘
یہ سن کر لو گ سخت سست کہتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے لوگوں کو یہ کہہ کر ان پر دست درازی سے روک دیا کہ:’’ ان سے درگزر کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابی ہیں اور اچھے آدمی ہیں۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب ربذہ پہنچے تو بصرہ پر حضرات طلحہؓ و زبیرؓ کے قبضہ کی خبر ملی۔ تشویش میں اضافہ ہوگیا۔ ربذہ میں قیام کیا اور یہاں سے متعدد احکام جاری کیے۔ ربذہ میں قیام پذیر تھے کہ قبیلہ طے کی ایک جماعت امداد کے لیے آئی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے ان کی تعریف کی اور لشکر میں شامل کر لیا۔ ربذہ سے روانہ ہوئے تو راستہ میں کوفہ کا ایک شخص ملا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس سے حضرت ابوموسیٰ عامل کوفہ کے طرز عمل کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے جواب دیا کہ اگر آپ صلح کا قصد رکھتے ہیں‘ تو وہ آپ کی اطاعت کریں گے‘ لیکن جنگ کی صورت میں الگ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ’’اگر کسی حادثہ کا شکار نہ ہوا تو میرا صلح کے علاوہ اور کوئی قصد نہیں۔ ‘‘قید سے روانہ ہو کر ثعلیبہ پہنچے اور وہاں سے روانہ ہوئے تو ذیقار پہنچے۔ اسی مقام پر عثمان بن حنیف ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ ان کی حالت دیکھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بہت دکھ ہوا۔
امیر المومنین نے انہیں دعا دی اور فرمایا کہ انہیں اجر ملے گا۔
اس موقع پر امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے محمد بن ابو بکر اور محمد بن جعفر کو اپنا ایک خط دے کر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ کے پاس بھیجا۔ انہوں نے جنگ کی صورت میں حضرت ابو موسیٰ سے بھرپور تعاون اوراس میں شرکت کا وعدہ لینا چاہا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ’’جنگ کے لیے نکلنا دنیا کی راہ ہے اور بیٹھ رہنا آخرت کی۔‘‘
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہٗ کی بات سن کر کوفہ والوں نے امیر المومنین کے نمائندوں سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر محمد بن ابو بکر اور محمد بن جعفر نے سخت رویہ اختیار کیا لیکن حضرت ابوموسیٰ اشعری اپنے موقف سے سر مو منحرف نہ ہوئے اور فرمانے لگے ’’اگر جنگ ضروری ہے تو مفسدین سے جنہوں نے تشدد کی راہ اختیار کرتے ہوئے معصوم عثمان ؓذوالنورین کو شہید کر دیا‘‘۔ دونوں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کوفہ کے حالات گوش گزار کیے۔ امیر المومنین نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ اور اشتر کو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ کے پاس کوفہ بھیجا۔ اپنی بہترین صلاحیتوں کے باوجود وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ کو اپنے موقف سے نہ ہٹا سکے۔ ان کی واپسی پر امیر المومنین نے اپنے صاحبزادہ امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہٗ کو کوفہ بھیجا۔ ان کے آنے کی خبر پا کر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ مسجد میں تشریف لے گئے۔ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا تو آپ نے جواب دیا:
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ہے۔ آپ فرماتے تھے ’’عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا۔ کھڑا ہوا شخص پیدل چلنے والے سے بہتر ہوگا اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہو گا۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ان کا خون اور مال ایک دوسرے پر حرام ہے۔‘‘
یہ تقریر سن کر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہٗ کو سخت غصہ آگیا اور وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ کو بُرا بھلا کہنے لگے اور لعن طعن کرنے لگے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہٗ تو خاموش رہے لیکن موقع پر موجود ان کے خیر خواہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہٗ پر حملہ کر دیا‘ لیکن حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ نے ان کو بچا لیا۔
اسی وقت زید بن صوحان حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہٗ اور اہل ِکوفہ کے نام ام المومنین کا ایک خط لے کر پہنچا۔ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود اس نے خط پڑھنا شروع کر دیا۔ وہاں امیر المومنین کے خیر خواہ بھی موجود تھے‘ انہوں نے زید پر حملہ کرنے کی کوشش کی حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ لوگوں کو لڑنے سے منع کرتے رہے۔
اشتر دوبارہ کوفہ آیا اور اس مرتبہ اس نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ لوگوں کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ دارالامارت پر چڑھ دوڑا اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہٗ کے سامنے دو شرائط پیش کیں۔ اول یہ کہ ہر حال میں امیر المومنین کے ساتھ تعاون کریں اگر ایسا نہیں کر سکتے تو شام تک کوفہ سے نکل جائیں۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہٗ فوراًاسی وقت کوفہ چھوڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہٗ اور اشتر کوفہ والوں کو لے کر ذیقار کے مقام پر امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

حضرت قعقاع رضی اللہ عنہٗ ام المومنین رضی اللہ عنہٗ کے حضور… مصالحت کی کوشش

جب فریقین اپنی اپنی جمعیت کے ساتھ ہر طرح تیار ہوگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے حضرت قعقاع رضی اللہ عنہٗ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مصالحتی کوششوں کے سلسلہ میں ام المومنین کی خدمت میں بھیجا۔ ان کو مختلف امور کے بارے میں ضروری ہدایات دینے کے بعد اجازت دی کہ اگر دوران گفتگو کوئی نیا مسئلہ پیش آئے تو تمہیں اختیار حاصل ہوگا کہ اپنے اجتہاد کو کام میں لاؤ اور اس کا مناسب جواب دو۔ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہٗ ام المومنین رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے:
قعقاعؓ: ’’اے ام المومنین! آپ کو کس چیز نے خروج پر آمادہ کیا ہے؟‘‘
ام المومنینؓ: ’’لوگوں کے اختلاف اور ان کی اصلاح کے خیال نے۔‘‘
قعقاعؓ: ’’آپ حضرات طلحہ رضی اللہ عنہٗ و زبیر رضی اللہ عنہٗ کو بلوائیے تاکہ آپ کے روبرو ان سے گفت و شنید ہو سکے۔‘‘
اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے دونوں حضرات کو بلوا بھیجا۔ جب وہ تشریف لے آئے تو گفتگو کا یوں آغاز ہوا۔
قعقاع رضی اللہ عنہٗ : ’’میں نے ام المومنین سے سوال کیا تھا کہ کس چیز نے ان کو خروج پر آمادہ کیا۔ آپ سے بھی سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم: ’’اُم المومنین کا جواب ہی ہمارا جواب ہے۔‘‘
قعقاعؓ: ’’ام المومنین کا جواب تھا: اختلاف امت اور ان کی اصلاح۔
میرا سوال یہ ہے کہ آپ اصلاح کے لیے کیا طریق کار اختیار کرنا چاہتے ہیں؟
طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم: ’’ہم چاہتے ہیں کہ قاتلین عثمانؓ سے قصاص لیا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو تعلیماتِ قرآنی کے خلاف ہوگا۔‘‘
قعقاعؓ: ’’یہ حق بات ہے۔ ہم بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں‘ لیکن آپ نے جو طریق ِکار اختیار کیا وہ مناسب نہیں ہے۔ بصرہ کے جن چھ سو افراد کو آپ نے قتل کر ڈالا وہ عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہٗ کے قاتل نہیں تھے۔ اس طرح کی کاروائیوں سے اختلاف امت کم نہیں ہوگا زیادہ ہوگا۔‘‘
اُم المومنینؓ: (قعقاع کو مخاطب کرتے ہوئے) ’’پھر تمہاری رائے کیا ہے؟‘‘
قعقاعؓ: ’’آپ ام المومنین ہیں۔ ہمارے لیے خیرو برکت کی کلید ہیں۔ ہمیں اس خیر و برکت سے محروم کر کے فتنہ و بلا میں مبتلا نہ کریں ورنہ خود آپ کو آزمائش میں سے گزرنا پڑے گا۔ آئیے مصالحت سے کام لیں مل کر اختلافات کی خلیج کو پاٹ دیں۔ جب فتنہ دم توڑ جائے تو مل کر قصاص لیں تاکہ تعلیماتِ قرآنی پر بھی عمل ہو اور مسلمانوں کو عافیت حاصل ہو۔‘‘
اُم المومنینؓ: ’’تمہاری رائے صائب ہے‘ ہم اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ بھی آمادہ ہوں۔‘‘
قعقاعؓ: ’’میں ابھی جا کر ان سے بات کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ نہ صرف اس کو قبول کریں گے بلکہ خوش بھی ہوں گے۔‘‘
طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم: ’’اگر امیر المومنین کو خوشی ہوگی تو اتحاد بین المسلمین سے یقینا ہمیں بھی قلبی مسرت ہوگی۔‘‘

جنگ ِ جمل

جنگ ِجمل وہ جنگ ہے‘ جس سے تاریخ ِاسلام کا سینہ داغدار ہو گیا۔ فریقین ِجنگ میں سے ایک کی سربراہی وہ معزز و محترم خاتون کر رہی تھیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بے پناہ اعتماد حاصل تھا۔ جن کو ام المومنین ہونے کا شرف حاصل تھا۔ جن کے حجرہ میں ہادی برحق صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آخری ایام گزارے۔ جن کا حجرہ قیامت تک سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آرام گاہ قرار پایا۔ وہ خاتون اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ دوسرے فریق کی سربراہی اس مردذی و قار کے ہاتھ میں تھی‘ جنہوں نے زیر سایۂ رسولِ مقبول پرورش پائی۔ جنہیں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی لخت ِ جگر فاطمہ ؓبتول خاتونِ جنت کا رشتہ عطا فرمایا تھا۔ وہ مرد و فاسر شت حیدر ِکرارحضرت علی رضی اللہ عنہٗ ابن ِ ابی طالب تھے۔
انہیں آپس میں لڑنا زیبا نہیںتھا… انہیں جنگ نہیں کرنا چاہیے تھی… انہوں نے کب آپس میں جنگ کی۔
چشم ِزمانہ گواہ ہے‘ ان فیض یافتگان بزمِ رسالت نے اپنی مرضی سے جنگ نہیں کی۔ انہیں جدال وقتال کی بھٹی میں دغابازی اور فریب کاری سے جھونک دیا گیا۔ مصالحانہ کوششیں بار آور ہو چکی تھیں دونوں فریق ’’پہلے اتفاق و اتحاد اور اصلاحِ احوال اور پھر قصاص‘‘ کے فارمولہ پر متفق ہو چکے تھے لیکن اتحاد بین المسلمین شرپسندوں اور اسلام دشمنوں کو بھلا کب راس آتا تھا۔
عبداللہ ابن سبا کے پیروکار۔ امیر المومنین عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہٗ کے قاتل رات کی تاریکی میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر مصالحت ہو گئی تو ان پر عرصہ حیات تنگ ہو جائے گا۔ ان سے یقینا قصاص لیا جائے گا۔ ان کی گردنیں مار دی جائیں گی۔ بھلا ان کو یہ سب باتیں کب گوارا تھیں۔ پس انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے مکروفریب کا جال بچھا دیا‘ جس میں صیدِزبوں کی طرح پھنس کر ہزاروں مسلمان جانیں کھو بیٹھے۔ فریقین مہینوں کے تھکے ماندے مصالحت کی خوشی میں میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہے تھے کہ فریب کاروں نے بیک وقت دونوں پر حملہ کر دیا۔ نیندیں اچاٹ ہوگئیں۔ خواب بکھر گئے۔ اٹھے شمشیر و سناں کی طرف لپکے اور جدال و قتال کی چکی میں پستے چلے گئے۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گروہ نے یہ سمجھا کہ حیدرِ کرار کے گروہ نے عہد توڑ ڈالا اور امیر المومنین کے گروہ نے دوسرے گروہ کے بارے میں یہی خیال کیا۔ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم نے تیروں کی بوچھاڑ دیکھی اور شورو غوغہ کی وجہ دریافت کی تو انہیں بتایا گیا کہ اہل ِ کوفہ نے پو پھٹتے ہی حملہ کر دیا۔ دونوں یک زبان ہو کر پکار اٹھے: ’’افسوس! حضرت علی رضی اللہ عنہٗ خونریزی کیے بغیر نہ مانیں گے۔‘‘
دوسری طرف امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ شور و غل سن کر خیمہ سے باہر نکلے تو شرپسندوں کی طرف سے مقرر کیے گئے ایک فتنہ پرداز نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ بصرہ والوں نے حملہ کر دیا ہے اور ان کا گروہ تیر برساتا ہوا امڈا چلا آتا ہے۔ یہ سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہنے لگے: ’’افسوس! طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم خون ریزی کیے بغیر نہ مانیں گے۔‘‘
اس کے بعد امیر المومنین اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے اور افسران لشکر کو میمنہ اور میسرہ پر مامور کرنے لگے۔ پھر جنگ چھڑ گئی اور ایسی شدت اختیار کی کہ کسی کو سننے سنانے یا سمجھنے سمجھانے کا موقعہ ہی نہ ملا۔ البتہ کعب رضی اللہ عنہٗ بن سور اُ م المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے:
’’اے مومنوں کی ماں! جنگ پوری حشر سامانیوں کے ساتھ شروع ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کی تلواریں مسلما نوں کی گردنیں کاٹ رہی ہیں‘ مسلمانوں کے نیزے مسلمانوں کے سینے چاک کر رہے ہیں۔ اٹھییٔ! اور موقعہ جنگ پر تشریف لے چلییٔ ہو سکتا ہے آپ کو دیکھ اللہ مصالحت کی کوئی صورت پیدا کر دے۔‘‘
ام المومنین رضی اللہ عنہا کو ایک ہووج میں بٹھا کر اونٹ پر سوار کرایا گیا ہووج کوزر ہیں پہنا دی گئیں اور آپ رضی اللہ عنہا کی سواری کو ایک ایسے مقام پر لا کر کھڑا کیا گیا جہاں سے جنگ کا منظر بخوبی نظر آتا تھا۔ تھوڑی دیر جنگ جاری رہی اور بصرہ والوں کے پاؤں میدانِ جنگ سے اکھڑ گئے اور وہ پیچھے ہٹ گئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی فوج کو تعاقب کرنے سے منع کر دیا۔
مفسدین کی فریب کاری اور فتنہ پردازی کے نتیجہ میں جب دونوں لشکر یلغار کرتے ہوئے آمنے سامنے آگئے تھے تو اس قدر قریب ہوگئے کہ گھوڑوں کی گردنیں ایک دوسرے کو چھونے لگی تھیں۔ اس موقعہ پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب آنکھ اٹھا کر دیکھا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ کو اپنے سامنے پایا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ بھی قریب ہی نظر آئے۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہنے لگے: ’’تم لوگوں نے آلاتِ حرب‘ سواروں اور پیادوں کو جمع کر کے میرے ساتھ عداوت کی ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس عداوت کی کوئی وجہ ہے؟
کیا میں تمہارا دینی بھائی نہیں ہوں؟
کیا تم پر میرا خون اور مجھ پر تمہارا خون حرام نہیں ہے؟
کیا کوئی ایسا امر بتا سکو گے کہ جس کی وجہ سے میرا خون تم پر مباح ہو؟‘‘
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ:کیا قاتلین عثمانؓ تمہارے ساتھ نہیں مل گئے؟ کیا اس سے تم پر قتل کی سازش میں شریک ہونے کا الزام عائد نہیں ہوتا؟
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ: ’’اللہ کی پناہ جو اپنے دین کو پورا کرنے والا ہے۔ میں قاتلین ِعثمان رضی اللہ عنہٗ پر لعنت بھیجتا ہوں۔ اللہ بھی ان پر لعنت بھیجے گا۔‘‘
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ :بے شک اللہ اپنے دین کو پورا کرنے والا ہے!‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ: ’’اے طلحہ! کیا تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟‘‘
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ: ’’بیعت کی تھی لیکن مشروط اور بحالت مجبوری۔ کیا آپ نے ’’قصاص‘‘ کی شرط پوری کی؟‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ: اے زبیررضی اللہ عنہٗ! کیاتمہیں وہ دن یاد ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمہیں فرمایا تھا ’’بے شک! تم ایک ایسے شخص سے لڑو گے جس پر زیادتی کرنے والے تم ہی ہو گے۔‘‘
حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ : ’’ہاں ! مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وہ حکم یاد آگیا۔ کاش مجھے پہلے یاد آجاتا۔ اب میں ہرگز آپ کے ساتھ نہیں لڑوں گا۔‘‘
اس گفتگو کے بعد دونوں لشکر پیچھے ہٹ گئے اور مصالحت کی گفتگو کی راہ کھل گئی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ نے اپنی علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ اگرچہ ان کے گروہ کے بعض لوگوں نے انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بنایا لیکن انہوں نے پرواہ نہ کی کیونکہ انہیں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان یاد آچکا تھا اور اس سے سرموانحراف نہ کر سکتے تھے۔ وہ اپنے لشکر سے علیحدہ ہو کر ’’السباع‘‘ کی جانب چلے گئے۔ راستہ میں احنف بن قیس کے لشکر سے مڈبھیر ہوگئی اور کسی نے تعارض نہ کیا البتہ ایک کم ظرف‘ نصیب سوختہ‘ فتنہ پرور عمر بن الجرموز تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ نے اسے دیکھ لیا اور تعاقب کی وجہ پوچھی تو ایک مسئلہ پوچھنے کا بہانہ کر دیا۔ نماز کا وقت آیا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہٗ نماز کی ادائیگی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ظالم نے عین حالت ِ نماز میں حملہ کر کے شہید کر دیا۔ گھوڑا، ہتھیار اور انگوٹھی لے کر چلتا بنا۔ جب احنف کو جا کر فخریہ انداز میں بتایا تو وہ کہنے لگا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ تو نے اچھا کام کیا ہے یا بُرا۔ پھر وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خیمہ پر جا کھڑا ہوا اور کہلا بھیجا کہ زبیر رضی اللہ عنہٗ کا قاتل شرفِ ملاقات کا طالب ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے دربان کو فرمایا: ’’اسے باریابی کی اجازت دے دو لیکن جہنم کی بشارت کے ساتھ۔‘‘
ابتدائی حملوں کے دوران ہی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ کے پاؤں میں ایک تیر لگا جس سے خون کی رگ کٹ گئی اورخون تیزی سے بہنے لگا خون کی کمی کی وجہ سے نقاہت بہت زیادہ ہوگئی۔ درد نے بے حال کر دیا۔ غلام آپ کو بصرہ لے گیا لیکن بصرہ پہنچتے پہنچتے بے ہوشی طاری ہوگئی اور جلد ہی خون زیادہ نکل جانے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہٗ وفات پاگئے۔
حضرت کعب رضی اللہ عنہٗ از راہِ خلوص اہل ِ ایمان کی جانوں کے اتلاف کو روکنے کے لیے ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عماری میں سوار کر کے میدان جنگ میں ایک نمایاں مقام پر کھڑے ہوگئے۔ مخالف گروہ کے آبرو باختہ گروہ (مفسدین) نے اپنے تیروں کا رخ ان کی طرف پھیر دیا۔ یہ دیکھ کر بصرہ والے جو پیچھے ہٹ گئے تھے لوٹ آئے اور ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ ہزاروں جانیں تلف ہوگئیں۔
ام المومنین نے حضرت کعب رضی اللہ عنہٗ کو فرمایا:
’’ناقہ کو چھوڑ دو اور قرآن لے کر صف ِ لشکر سے نکل کر میدان میں جاؤ اور اس کے محاکمہ کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔‘‘
حضرت کعب رضی اللہ عنہٗ نے حکم کی تعمیل کی اور اللہ کے پاکیزہ ترین کلام کو ادب و احترام کے ساتھ سر سے بلند کیے میدان میں جا کھڑے ہوئے۔ مفسدین کو کب گوارہ تھا کہ قرآن کا فیصلہ مانا جائے‘ اس طرح تو وہ ’’قصاص‘‘ میں دھر لیے جاتے چنانچہ انہوں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہٗ کو تیروں کی باڑھ پر رکھ لیا اور وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، وہ خیر خواہِ امت ِ مسلمہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلوصِ نیت سے جنگ کے بھڑکتے ہوئے الاؤ کو ٹھنڈا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سوچا کر جب تک ام المومنین رضی اللہ عنہا کی ناقہ میدان میں موجود ہے‘ جنگ نہیں رکے گی کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ پروانہ وار ناقہ کے سامنے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک گروہ کو اس امر پر مقرر فرمایا کہ جانوں کی پرواہ کیے بغیر ناقہ کو بٹھانے کی کوشش کر و خواہ اس مقصد کے حصول کے لیے ناقہ کی کونچیں ہی کیوں نہ کاٹنا پڑیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان پا کر چند افراد نے ناقہ پر حملہ کر کے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ ناقہ چلا کر گر پڑا۔ ناقہ کے گرتے ہی جنگ کا زور ٹوٹ گیا اور آہستہ آہستہ جنگ ختم ہوگئی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت قعقاعؓ کے کہنے پر ایک شخص بجیر بن ولجہ نے ناقہ کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ بہرحال یہ عمل مخاصمانہ نہیں مصلحانہ تھا اور اس کا مقصد جنگ کو روکنا تھا۔ جب ناقہ گر گیا تو ام المومنین رضی اللہ عنہاکے بھائی محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہٗ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہٗ عماری کو اٹھا کر ایک ایسے مقام پر لے گئے جہاں کوئی شخص موجود نہ تھا۔
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ عماری کے قریب تشریف لے گئے اور پوچھا:
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ: ’’اے اماں! آپ کیسی ہیں؟‘‘
ام المومنین رضی اللہ عنہا: ’’الحمد اللہ خیریت سے ہوں۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ: ’’اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔‘‘
ام المومنین رضی اللہ عنہا: ’’اللہ تعالیٰ تمہاری بھی مغفرت فرمائے۔‘‘
حضرت قعقاع رضی اللہ عنہٗ نے بھی آگے بڑھ کر سلام عرض کیا جس کا آپ نے جواب دیا اور فرمانے لگیں:
ام المومنین رضی اللہ عنہا: ’’مجھے یہ زیادہ منظور و محبوب تھا کہ آج کے واقعہ سے بیس برس قبل میں مر گئی ہوتی۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ: (حضرت قعقاع نے جب ام المومنین کا یہ قول حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو جا کر سنایا تو انہوں نے فرمایا) ’’میرا بھی یہی خیال ہے۔‘‘
ام المومنین رضی اللہ عنہاکو بصرہ میں لے جا کر ٹھہرایا گیا اور سامان سفر درست کر کے رجب 36 ھ میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے محمد بن ابو بکر اور روساء بصرہ کی چالیس خواتین کے ہمراہ آپ کو مکہ معظمہ روانہ کیا۔ مشایعت کے لیے خود چند میل ساتھ چلے اور ایک روز کی مسافرت تک حضرت حسن ؓبن علی ؓساتھ گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ تشریف لے گئیں۔ فریضہ حج ادا کیا اور پھر مدینہ منورہ چلی گئیں۔
مقتولین ِ جنگ ِجمل کی تعداد کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دونوں اطراف سے کم و بیش دس ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ ان میں انصار و مہاجرین کے علاوہ کوفہ‘ بصرہ اور مصر کے لوگ بھی شامل تھے۔ ان میں کئی صحابہ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ جنگ کے خاتمہ کے بعد امیر المومنینؓ نے جب میدانِ جنگ کا جائزہ لیا اور وہاں حضرت کعب رضی اللہ عنہٗ بن سور، عبدالرحمن رضی اللہ عنہٗبن عتاب، طلحہ رضی اللہ عنہٗبن عبید اللہ وغیرہ صحابہؓ کو شہداء میں شامل پایا تو سخت افسوس کا اظہار فرمایا:
’’افسوس! لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم پر فقط عوام الناس نے خروج کیا حالانکہ ان میں ایسے لوگ موجود ہیں۔‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے دونوں فریقوں کے مقتولین کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا اور ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور اپنی نگرانی میں دفن کروایا۔ فریقین کے زخمیوں کو مقتولین سے علیحدہ کر کے شہر لے جایا گیا اور مرہم پٹی کا انتظام کیا گیا۔ تمام مال و اسباب جمع کر کے شہر کی مسجد میں ڈھیر کر دیا گیا اور اعلان کر دیا گیا کہ جو چاہے اپنا سامان پہچان کر اٹھا لے جائے۔
دو افراد یا دو گروہ جب آپس میں لڑ پڑتے ہیں‘ تو ضرور ی نہیں کہ ان میں سے ایک تو کلی طور پر راہ راست پر ہو اور دوسرا کلی طور پر گمراہ۔ جنگ جمل کے متحارب گروہوں کے متعلق بڑے حزم و احتیاط سے کوئی رائے قائم کرنا ہوگی۔ ایک گروہ کی سربراہی مسلمانوں کے منتخب امیر کے ہاتھ میں تھی جو فہم و فراست کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے مالک تھے۔ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شہر ِ علم کا دروازہ قرار دیا تھا۔ جو حکمت و دانائی میں اپنی مثال آپ تھے۔ جنہوں نے خلفاء ثلاثہ کے دور میں بڑے بڑے پیچیدہ اور گھمبیر مسائل کو خدا داد صلاحیتوں کے بل پر اپنے ناخن ِ تدبیر سے سلجھایا۔
دوسرے گروہ کی سربراہی جن تین شخصیات کو حاصل تھی ان کی دینداری، تقویٰ اور عقل و دانش بھی ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔ جو ہونا مقدر ہو چکا تھا وہ ہو کر رہا اور اس کی کلی ذمہ داری متحارب گروہوں میں سے کسی ایک کے سر پر ڈالنا قطعی ممکن اور مناسب نہیں۔ وہ لوگ سہو و خطا سے معصوم نہ تھے۔ اجتہادی غلطیاں سر زد ہوئی ہوں گی ہمیں یہاں ان کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہمیں زیب دیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر انگلی اٹھائیں جن کا مرتبہ امت میں سب سے بلند ہے۔ شرپسندوں اور فتنہ پردازوں نے حالات سے فائدہ اٹھایا۔ جو بات بلاخوف و تردید کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ قاتلین ِعثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہٗ نے ہی آتش ِجنگ کو بھڑکایا۔ انہوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ایسا کیا۔ انہیں یقین تھا کہ مصالحت کی صورت میں ان کی گردنیں مار دی جائیں گی۔
دونوں متحارب گروہ دل سے ایک دوسرے سے مخلص تھے اور ہرگز ایک دوسرے کا یا امت کا نقصان نہ چاہتے تھے جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
’’میں امید کرتا ہوں کہ ہمارا اور ان کا کوئی شخص قتل نہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے دلوں کو صاف کر دیا ہے اور اگر کوئی مقتول ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (تاریخ ابن ِ خلدون)
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ ابن ابی طالب نے یہ جواب ابو سلامہ دولانی کے سوال پر اس وقت دیا تھا جب مصالحت کی گفتگو ہو رہی تھی اور اس کی کامیابی کے امکانات بے حد روشن تھے۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ اپنے ساتھ لڑنے والوں کے بارے میں یوں فرمایا کرتے تھے:
’’ہماری لڑائی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ وہ ہمیں کافر کہتے تھے۔ وہ خود کو حق پر سمجھتے تھے اور ہم نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا۔‘‘(قرب الاسناد)

جنگ ِ صفین

جنگ صفین امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہٗ بن ابی سفیان کی فوجوں کے درمیان صفر 37 ھ میں لڑی گئی۔ اس جنگ کا آغاز ماہ ِصفر کی پہلی تاریخ کو ہوا۔

جنگ کی وجوہات

جنگ کی بڑی وجہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے خون کا قصاص تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ عنہٗ ابن ابی طالبؓ خلیفہ بنے تو مسلمانوں کی غالب اکثریت نے ان کی بیعت کر لی۔ البتہ ان میںسے بعض نے مشروط طور پر بیعت کی۔ مشروط طور پر بیعت کرنے والوں میں خاص طور پر حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم قابل ذکر ہیں۔ بیعت سے انکار کرنے والوں میں سے حضرت امیر معاویہؓ خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں۔ حضرت امیر معاویہؓ بیس بائیس سال سے شام کے والی چلے آتے تھے۔ ان کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ نے گورنر مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ نے بحال رکھا تھا۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے اعزہ میں ایک نامور مدبر سیاستدان اور مقتدر شخص تھے۔
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہٗ بلاشبہ قصاص لینا چاہتے تھے اور انہوں نے تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا تھا لیکن حالات دگرگوں اور مسئلہ بے حد پیچیدہ تھا۔ سب سے بڑی الجھن یہ تھی کہ کوئی عینی شہادت موجود نہ تھی۔ بعض لوگوں کی نشاندہی پر آپ نے محمد ابن ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کو گرفتار بھی کر لیا تھا لیکن انہوں نے قسم کھا کر اپنی برأت ظاہر کر دی تھی اور بیان دیا تھا کہ وہ مکان میں داخل ضرور ہوئے تھے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ پر حملہ نہیں کیا تھا اور ان کے ایک جملہ سے شرمندہ ہو کر مکان سے نکل گئے تھے۔ محمد ابن ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کے اس بیان کی تصدیق چشم دید گواہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہانے کی تھی‘ اس لیے ان کو چھوڑ دیا گیا۔ جن دو بدبختوں کی ضربوں سے شہادت واقعہ ہوئی ان کی شناخت کوئی نہیں کر رہا تھا۔ تحقیقات کا معاملہ چل ہی رہا تھا کہ قصاص کی تحریک کا آغاز ہوگیا۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ نے جب بیعت سے انکار کیا اور ’’قصاص‘‘ کے نام پر جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں تو جنگ ناگزیر ہوگئی۔
کاش! حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو تحقیقات کا موقع مل جاتا۔ حالات سازگار ہو جاتے تو اسلامی تاریخ کا یہ بڑا المیہ شائد وقوع پذیر نہ ہوتا جس نے دین متین پر فرقہ بندیوں کے راستے واکر دیئے اور فتوحاتِ اسلامی کے دروازے بند کر دیئے۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی خون آلود قمیض اور
حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا کی کٹی ہوئی انگلیاں 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے بعد ان کا خون آلود کرتہ اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا کی کٹی ہوئی انگلیاں لے کر نعمان بن بشیر ملک شام پہنچ گئے۔ ملک کے مختلف گوشوں سے بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ملک شام پہنچنا شروع ہو گئے۔ ان دونوں چیزوں کی ملک شام کے طول و عرض میں بھرپور تشہیر کی گئی۔ شعلہ نوا مقررین جب عثمان رضی اللہ عنہٗ ذوالنورین کی شہادت کے واقعات بیان کرتے تو لوگ زاروقطار رونا شروع کر دیتے اور انتقام لینے کی قسم کھانے لگتے۔ ابتداء میں دبی زبان سے اور بعد میں کھلے عام امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کو قتل کے معاملہ میں ملوث کیا جانے لگا۔ لوگوں کے جذبات کو اس حد تک ابھار دیا گیا اور سرد جنگ نے یہ صورت اختیار کر لی کہ لوگوں نے قسمیں کھانا شروع کر دیں کہ عثمان ذوالنورینؓ کا قصاص لینے سے قبل:
ٹھنڈا پانی نہ پئیں گے۔
سوائے جنابت کے غسل نہ کریں گے۔
نرم بچھونے پر نہ سوئیں گے وغیرہ۔

سفارتی کوشش

جنگ ِجمل  سے فراغت کے بعد امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ملک شام کی طرف ملتفت ہوئے۔ انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے خون کے قصاص کے مطالبہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کی جنگی تیاریوں سے تشویش پیدا ہو چلی تھی۔ قبل ازیں جب انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہٗ کو بیعت کے بارے میں لکھا تھا تو انہوں نے جواب میں جو خط حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو روانہ کیا اس میں خالی کاغذ تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جریر بن عبداللہ الجبلی گورنر ہمدان اور اشعت بن قیس گورنر آذربائیجان کو اپنا سفیر بنا کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے پاس بھیجا۔ جب دونوں سفراء حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے حضور شام پہنچے تو انہوں نے ان کی خوب پذیرائی کی اور چند یوم شام میں قیام کی دعوت دی۔ مدعا یہ تھا کہ وہ اپنی آنکھوں سے شام کے حالات کا مشاہدہ کریں۔ لوگوں کے خیالات و جذبات سے آگہی حاصل کریں اور واپس جا کر لوگوں کو اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو بتائیں۔ جریر نے تاخیر سے واپسی پر جب امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ سے شام کے حالات کا تذکرہ کیا تو اشتر نے اس پر بہت تنقید کی۔ اس نے جریر کے سفیر بنائے جانے کے فیصلہ کو بھی نامناسب قرار دیا۔ جریر وہاں سے افسردہ خاطر نکلے اور قرقسا چلے گئے۔ جب حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہٗ کو اس کی خبر ملی تو جریر کو اپنے پاس بلوا لیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کا کوفہ سے کوچ

سفارت کی ناکامی کے بعد جنگ ناگزیر ہوگئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کوفہ میں ابو مسعود انصاری کو اپنا نائب مقرر کیا اور نخیلہ تشریف لے گئے۔ وہاں لشکر کو ترتیب دینے میں مشغول ہوگئے۔ بصرہ سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ ابن عباس رضی اللہ عنہٗ ایک فوجی دستہ لے کر حاضر ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب امیر المومنین نے اپنے لشکر جرار کے ساتھ شام کا رخ کیا تو اسی ہزار جنگجو ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو چکے تھے۔ یہ 36 ہجری کا ماہ ذوالحجہ تھا جب آپ روانہ ہوئے تو آپ کے ہمراہ ستر بدری صحابہ اور سات سو وہ صحابہ تھے جنہوں نے بیعت ِ رضوان کا اعزاز پایا تھا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے زیاد بن نصر اور شریح بن ہانی کی قیاد ت میں ہر اول دستہ روانہ کیا اور ان کو ہدایت کر دی کہ:
’’خبردار جنگ نہ کرنا سوائے اس کے کہ وہ پہل کریں، ذاتی رنجش کے پیچھے نہ جانا۔ انہیں بار بار صلح کی دعوت دینا۔ ان کے زیادہ قریب بھی نہ جانا کہ وہ یہ سمجھیں کہ تمہارا ارادہ جنگ کا ہے اور نہ اس قدر دور رہنا کہ وہ تمہیں بزدل قرار دینے لگیں۔‘‘
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ اپنی فوجوں کے ساتھ کوچ کرتے ہوئے پہلے ہی دریائے فرات کے کنارے صفین کے میدان میں اتر چکے تھے‘ انہوں نے حالات کا اچھی طرح جائزہ لے کر اپنی مورچہ بندی کر لی تھی‘ انہوں نے دریائے فرات کے پانی پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی صفین کے میدان میں شامی لشکر کے سامنے فوجیں اتار دیں۔ ان کو پانی کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ شامی فوجوں نے ان پر پانی بند کر دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے پانی کی فراہمی کے لیے پیغام بھیجا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ پانی کی فراہمی پر آمادہ ہوئے تو ولید بن عقبہ اور ابن ِ ابی سرح نے مخالفت کرتے ہوئے کہا۔
’’ان پر پانی بند کر کے اسی طرح تڑپایا جائے‘ جس طرح انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کو پیاسا رکھ کر تڑپایا تھا۔‘‘
جب شامی پانی دینے پر آمادہ نہ ہوئے تو پانی کے گھاٹ پر قبضہ کے لیے شامی اور عراقی دستوں میں جھڑپ ہوگئی۔ شامیوں کو شکست ہوئی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پانی کے گھاٹ پر قبضہ کر لیا اور اسے دونوں لشکروں کے لیے کھلا قرار دے دیا۔ شامی اور عراقی یکساں طور پر اس سے سیراب ہوتے رہے۔

مصالحت کی کوششیں

دونوں فوجیں آمنے سامنے پڑائو ڈالے رہیں اور جنگ کا آغاز نہ ہوا۔ پانی کے مشترکہ گھاٹ کی وجہ سے شامیوں اور عراقیوں نے آپس میں ملنا جلنا شروع کر دیا تھا اس طرح دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بشیر بن عمرو اور شبت بن ربعی تمیمی کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے پاس بیعت و اطاعت کا پیغام دے کر بھیجا۔ بشیر بن عمر و نے حمد و ثنا کے بعد عرض کیا ’’امیر خد اکے لیے تفریق جماعت نہ کرو۔ خونریزی سے باز آؤ‘‘
معاویہ رضی اللہ عنہٗ: ’’کیا تم نے اپنے دوست کو بھی یہ نصیحت کی ہے؟‘‘
بشیر: ’’وہ تمہاری طرح نہیں ہے۔‘‘
معاویہ رضی اللہ عنہٗ : ’’کیا مطلب؟‘‘
بشیر: ’’مطلب یہ وہ سابق الاسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قرابت کی وجہ سے خلافت کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘
معاویہ رضی اللہ عنہٗ: ’’پھر تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
بشیر: ’’جس راہِ حق کی طرف وہ تمہیں بلاتے ہیں اسے قبول کرو۔‘‘
معاویہ رضی اللہ عنہٗ: او رکیا ہم خونِ عثمان رضی اللہ عنہٗ کے مطالبہ کو ترک کر دیں واللہ! ایسا ہرگز نہ ہوگا۔‘‘
اس گفتگو کے بعد فریقین میں بحث و تکرار شروع ہو گئی اور مصالحتی کوشش بے نتیجہ اختتام کو پہنچی۔
اس مصالحتی کوشش کی ناکامی کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں لیکن جنگ نہ چھڑی۔ اس طر ح ذی الحجہ کا پورا مہینہ گزر گیا اور 37 سنہ ھ کا آغاز ہوا۔
کچھ دن بعد امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے پاس ایک اور وفد مصالحت کے لیے گفت و شنید کرنے بھیجا جس میں عدی بن حاتم، زید بن قیس، شبت بن ربعی اور زیاد بن حفصہ شامل تھے لیکن بحث و تکرار کے بعد یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کی سفارت

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ نے بھی ایک سفارت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس روانہ کی جس میں حبیب بن مسلم‘ شرجیل اور معن بن یزید شامل تھے۔ جب وہ امیر المومنین کی خدمت میں باریاب ہوئے تو حبیب بن مسلم نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا:
حبیب: (حمد و ثنا کے بعد)’’عثمان رضی اللہ عنہٗ خلیفہ برحق تھے۔ کتاب اللہ پرعمل کرتے تھے اور اس کے موافق حکم دیتے تھے۔ ان کی زندگی تم کو ناگوار گزری اوران کی موت کو تم نے جلد بلا لیا۔ پس تم نے ان کو قتل کر ڈالا۔ اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے‘ تو ان کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کر دو اور مسلمانوں کی امارت چھوڑ دو مسلمان جس کو چاہیں گے اپنا امیر بنا لیں گے۔‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ: ’’تمہیں امارت کے بارے میں ایسا کلام کرنے کا حق کس نے دیا ہے۔ خاموش ہو جا۔ تو ایسی تقریر کرنے کا مستحق نہیں ہے۔‘‘
حبیب: ’’واللہ! مجھے تم عنقریب اس حالت میں دیکھو گے جو تم کو ناگوار گزرے گی۔‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ:’’ اللہ! اللہ! تیرا یہ دماغ اللہ تجھے اس دن کے لئے زندہ نہ رکھے۔ جا جو تیرے امکان میں ہو کر گزر۔‘‘

جنگ کا آغاز

اب جنگ ناگزیر ہوچکی تھی۔ محرم کا مہینہ گزر چکا تھا۔ یکم صفر 37 ھ کو جنگ ِ صفین کا باقاعدہ آغاز ہوگیا تھا۔ پہلے چھ یوم مختلف گروہوں میں جنگ ہوئی۔ ان چھ ایام میں اگرچہ جنگ محدود پیمانہ پر لڑی گئی پھر بھی فریقین کا کافی نقصان ہوا۔
جنگ شروع ہوئے ساتواں روز تھا بدھ کا دن تھا اور صفر کی 11 تاریخ تھی کہ فریقین میں بھرپور جنگ چھڑ گئی۔ دن بھر معرکہ کا رزار گرم رہا۔ جب سورج چھپ گیا تو تلواریں بھی نیاموں میں چلی گئیں۔
اگلے روز کا معرکہ بڑا شدید تھا جو شب و روز جاری رہا اور لیلۃ الہریر کے نام سے مشہور ہوا۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ ہزاروں خواتین بیوہ اور لاکھوں بچے یتیم ہو گئے۔ ایک اندازہ کے مطابق ستر ہزار کلمہ گو اس جنگ میں مارے گئے۔ اس روز امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فوجوں کا پلہ بھاری رہا۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کو جب اپنی فوج کی شکست کے واضح آثار نظر آنے لگے تو انہوں نے عمرو ابن العاص سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ’’گھبرانے کی ضرورت نہیں میں نے ایسے وقت کے لیے پہلے ہی تدبیر سوچ رکھی ہے۔‘‘ ہم لوگ عراقیوں کو قرآن کو حکم بنانے کی دعوت دیں گے۔ یہ دعوت ان پر بھاری پڑے گی۔ اس کے اقرار یا انکار کے لیے ان کی فوج میں پھوٹ ضرور پڑے گی اور ہم شکست سے بچ جائیں گے۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہزاروں شامی نیزوں پر قرآن اٹھائے میدان جنگ میں داخل ہوگئے وہ بلند آواز سے پکار پکار کر کہنے لگے:۔
’’اے عرب کے لوگو! خدارا اپنے بچوں اور عورتوں کو رومیوں اور ایرانیوں سے بچانے کی تدبیر کرو۔ اگر شامی ختم ہوگئے تو اہل ِعرب کو رومیوں کی یلغار سے کون بچائے گا؟ اور اگر عراقی ختم ہوگئے تو اہل ِعرب کو ایرانیوں کے جورو استبداد سے کون بچائے گا۔ قرآن ہم سب کے لیے واجب تعظیم و تکریم ہے‘ اس کو حکم مان لو اور اس کا فیصلہ قبول کر لو۔‘‘
شامیوں کی چال کامیاب ہوگئی۔ نیزوں پر قرآن دیکھ کر سب کے سر جھک گئے۔ ہاتھ رک گئے اور وہ پکار اٹھے:

’’ہمیں کتاب اللہ کا فیصلہ منظور ہے۔‘‘

یہ صورتِ حال دیکھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ پریشان ہوگئے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ فتح ہونے والی ہے اور خوب سمجھ رہے تھے کہ شامی محض ایک چال چل رہے ہیں ۔ انہوں نے لوگوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی‘ لیکن ان کی ایک نہ چلی۔ عراقی کہنے لگے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمیں قرآن کی طرف بلایا جائے اور ہم انکار کر دیں۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ مجبور ہوگئے۔ ان کا کوئی بس نہ چلتا تھا۔ لوگوں کے تیور دیکھ کر ان کو یقین ہو گیا تھا کہ اگر انہیں لڑنے کے لیے مجبور کیا گیا یا ان پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ باغی ہو جائیں گے اور ان کے ساتھ بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ جیسا سلوک کریں گے ۔ بعض لوگوں نے تو اس طرح کی باتیں کرنا بھی شروع کر دی تھیں۔
چنانچہ مسعر وغیرہ نے شوروغل برپا کر دیا کہ اگر جنگ فوری طور پر نہ روکی گئی تو ہم آپ رضی اللہ عنہٗ کو معزول کر دیں گے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سختی سے اشتر کو جو میدانِ جنگ میں فتح کے قریب پہنچ چکا تھا، واپس بلوا بھیجا۔ جب اس کو تمام صورتِ حال کا علم ہوا تو وہ مسعر وغیرہ سے کچھ وقت کی مہلت طلب کرنے لگا۔ اس پر وہ لوگ آپے سے باہر ہوگئے اور اشتر کے ساتھ جنگ پر آمادہ ہو گئے۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے اشتر کو سمجھا بجھا کر خاموش کر دیا۔ اس طرح جنگ ختم ہوگئی۔
صفین کے میدان میں کیسے کیسے جواہر خاک و خون میں تڑپائے گئے۔ وہ جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبتوں کے فیض پائے تھے‘ دریائے فرات کے کنارے وطن سے دور کٹے پڑے تھے۔ وہ جنہوں نے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سند ِ شرافت و امتیاز پائی تھی آج کوئی انہیں پوچھنے والا نہ تھا۔
شہدائے صفین کی تعداد کم و بیش ستر ہزار ہے۔ ان میں مہاجرین بھی ہیں انصار بھی، بدروالے بھی ہیں اور بیعت رضوان والے بھی، عمار ابن یاسرؓ بھی ہیں اور عبیداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہٗ ابن ِ خطاب بھی۔ جنگ صفین تاریخ ِاسلام کا ایسا المناک باب ہے‘ جو خون کی روشنائی سے قرطاسِ صفین پر تحریر کیا گیا۔

جنگ ِصفین کے نتائج

قتل و غارت کی اتنی وسعت کے باوجود فتح و شکست کا فیصلہ نہ ہو سکا۔
خلافت کے استحقاق اور عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہٗ کے خون کے قصاص کے مسئلہ کا کوئی حل نہ نکل سکا۔ خلافت دو حصوں میں بٹ گئی۔
مسلمانوں میں اختلافات کی خلیج زیادہ وسیع ہوگئی اور فرقہ بندیوں کا آغاز ہوگیا۔
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہٗ کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔
اسلامی فتوحات کے راستے مسدود ہو کر رہ گئے۔
بے شمار قیمتی جانیں تلف ہوگئیں۔

تحکیم کی تجویز

جنگ رکنے کے بعد جب چاروں طرف سکوت کا عالم طاری ہوگیا‘ نہ تلواروں کی جھنکار رہی نہ تیغ زنوں کی للکار البتہ زخمیوں کی آہ و بکا جاری تھی تو اشعت بن قیس کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کی طرف بھیجا گیا کہ ان سے معلوم کریں کہ لوگوں کو قرآن کے محاکمہ کی طرف بلانے کا مقصد کیا ہے؟ اشعت جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے پاس پہنچے تو انہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں فریق جنگ و جدل کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ ایک ایک شخص دونوں اطراف سے نامزد کیا جائے۔ ان سے حلف لیا جائے کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اشعت واپس لوٹے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہٗ کی تجویز پیش کی۔ عراقیوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا۔ شام والوں نے اپنی طرف سے عمرو ابن العاص کو منتخب کیا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ نے اس کی تصدیق کر دی۔ اشعت اور اس کے ساتھیوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہٗ کا نام تجویز کیا لیکن امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا:
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ: ’’میں اس انتخاب پر راضی نہیں ہوں۔‘‘
اشعت: ’’کیوں؟‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ: ’’اس لیے کہ انہوں نے میری رفاقت ترک کر دی تھی۔ لوگوں کو جنگ ِ جمل میں میرا ساتھ دینے سے روکا اور مجھ سے دور بھاگ گئے۔‘‘
اشعت: ’’کچھ بھی ہو ہم تو اسی کو منتخب کرتے ہیں۔‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ: ’’میں ابو موسیٰ اشعریؓ کو ہرگز حکم نہ بنائوں گا۔ میں ان کے بجائے عبداللہؓ ابن ِ عباس کا نام تجویز کرتا ہوں۔‘‘
اشعت: ’’یہ کس طرح ممکن ہے؟ وہ تو آپ کے عزیز ہیں۔ ہم ان کو ہرگز حکم نہ بنائیں گے۔‘‘
امیر المومنینؓ: ’’میری طرف سے اشتر کو حکم بنا دو۔ وہ تو میرا عزیز نہیں۔‘‘
اشعت: ’’کیا اشتر کے علاوہ روئے زمین پر کوئی شخص باقی نہیں بچا؟‘‘
امیر المومنین: ’’تو گویا تم ابو موسیٰؓ کے علاوہ اور کسی کو حکم نہ بناؤ گے؟‘‘
اشعت: ’’ہمارا فیصلہ یہی ہے کیونکہ ابو موسیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحبت یافتہ ہیں اور اشتر اس سے محروم ہے۔‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ: ’’(عالم ِ مجبوری و بے زاری میں) ’’اچھا جو چاہو کرو!‘‘
اس طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ کے حکم بنائے جانے کا فیصلہ ہو گیا۔

تحکیم نامہ کی تحریر

حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ تحکیم نامہ تحریر کرنے کے لیے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی محفل میں آئے۔ کاتب نے جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے نام کے ساتھ امیر المومنین لکھا تو عمرو ابن العاص نے اس پر اعتراض کر دیا اور کہا کہ ہم انہیں امیر المومنین نہیں مانتے اسے مٹا دیا جائے۔ احنف نے اس پر اعتراض کیا لیکن اشعت نے امیر المومنین کے الفاظ محو کروا دیئے۔ جو معاہدہ تحریر کیا گیا اس کے الفاظ یہ تھے:۔
’’یہ وہ تحریر ہے جس کوحضرت علی(رضی اللہ عنہٗ) ابن ابی طالب اور معاویہ(رضی اللہ عنہٗ) بن ابی سفیان نے باہم بطور اقرار نامہ لکھا ہے۔حضرت علی(رضی اللہ عنہٗ) نے اہل ِکوفہ اور ان لوگوں کی طرف سے جوان کے ہمراہ تھے حکم مقرر کیا اور معاویہؓ نے اہل ِ شام اور ان لوگوں کی طرف سے جوان کے ہمراہ تھے، حکم مقرر کیا۔ بے شک ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب کو منحصر علیہ قرار دیتے ہیں اور اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ سوائے اس کے دوسرے کو کوئی دخل نہ ہوگا اور قرآن مجید شروع سے اخر تک ہمارے درمیان میں ہے۔ ہم زندہ کریں گے اس کو جس کو اس نے زندہ کیا اور ماریں گے اس کو جس کو اس نے مارا ہے۔ پس جو کچھ حکمتیں کتاب اللہ میں پائیں اس پر عمل کریں۔ اور وہ حکم ابو موسیٰ‘ عبداللہ بن قیس اور عمرو ابن العاص ہیں اور جو کتاب اللہ میں نہ پائیں تو سنت ِعادلہ جامعہ وغیرہ مختلف فیہا پر عمل کریں۔‘‘
معاہدہ لکھا گیا تو اس پر فریقین کے سربرآوردہ افراد نے دستخط کیے۔ جب اشتر کو دستخط کرنے کو کہا گیا تو اس نے انکار کر دیا اس پر اشتر اور اشعت میں تکرار ہوگئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیچ بچاؤ نہ کرتے تو تلواریں بے نیام ہو جاتیں۔ یہ عہد نامہ 13 صفر 37 ھ کو لکھا گیا۔

حکمین کا اجتماع

حکمین کا اجتماع دومتہ الجندل کے قریب ایک مقام اذرج پر ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہٗکے ساتھ چار سو آدمی روانہ کیے ٔ۔ ان پر شریح بن ہانی کو سردار مقرر کیا اورا مامت کے لیے حضرت عبداللہؓ ابن عباسؓ کو ساتھ بھیجا۔ حضرت امیر معاویہ ؓنے بھی حضرت عمرو ابن العاص کے ساتھ چار سو آدمی روانہ کیے۔ مجلس حکم قائم ہوئی تو اس میں حکمین کے علاوہ عبداللہ ابن عمر‘ عبداللہ بن ابو بکر‘ عبداللہ ابن زبیر‘ مغیرہ بن شعبہ، سعد بن ابی وقاص‘ عبدالرحمن بن الحرث‘ عبدالرحمن بن عبدیغوث ابو جہم بن حذیفہ بھی موجود تھے۔ ان کی شمولیت محض مبصرین کی حیثیت سے تھی۔ فیصلہ میں ان کو دخل حاصل نہ تھا۔ گفتگو شروع ہوئی تو عمرو ابن العاص نے کہا:
عمرو ابن العاصؓ: ابو موسیٰ! تم جانتے ہو کہ عثمانؓ شہید ہوئے اور معاویہؓ ان کے یک جدی اور وارث ہیں۔‘‘
حضرت ابو موسیٰؓ: ’’ہاں! یہ سچ ہے‘‘
حضرت عمرو ابن العاصؓ: ’’پھر تمہیں ان کو خلافت کا حق دار قرار دینے سے کون سی چیز مانع ہے۔ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت حاصل کر چکے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے کتابت بھی کر چکے ہیں۔ ان میں ملک داری اور سیاست کا بھی بہت مادہ ہے۔ وہ احسان شناس ہیں اگر ان کو خلافت کے لیے منتخب کرو گے تو تمہیں تمہارے پسندیدہ شہر کی حکومت ضرور دیں گے۔‘‘
حضرت ابو موسیٰ ؓ: ’’اے عمرو! اللہ سے ڈرو۔ امارت اور خلافت کے استحقاق کی بنیاد تقویٰ ہے نہ کہ سیاست۔ اس لحاظ سے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ ابن ابی طالب زیادہ مستحق ہیں اور جہاں تک اپنے لیے کسی شہر کی حکمرانی کے حصول کا تعلق ہے تو میں اللہ تعالیٰ کے کاموں میں رشوت لینا پسند نہیں کرتا۔‘‘
حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ: ’’میں تمہاری رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔‘‘
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ: ’’تو پھر عبداللہ ابن عمرؓ کو خلیفہ منتخب کرلو۔‘‘
حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ: ’’میرے بیٹے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ تم اس کی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ ہو۔‘‘
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہٗ: ’’تمہارے لڑکے میں بلاشبہ نیکی اور راستی تھی لیکن تم نے اس کو بھی فتنہ میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘
حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ: ’’تو گویا یہ کام کسی ایسے شخص کے سپرد کرنا چاہیے جس کے منہ میں دانت نہ ہوں۔‘‘
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ: ’’اے عمرو! کافی کشت و خون کے بعد قوم نے یہ معاملہ تمہارے سپرد کیا ہے۔ اللہ کے لیے قوم کو پھر کسی آزمائش میں مبتلا نہ کر دینا۔‘‘
حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ: ’’تو پھر تمہاری رائے کیا ہے؟‘‘
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ ’’میرے خیال میں بہتر یہ ہے کہ ہم ان دونوں کو معزول کر دیں اور مسلمانوں کو اختیار دے دیں کہ وہ جسے چاہیں اپنا امیر منتخب کرلیں۔‘‘
حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ:(خوش ہو کر)’’ہاں! یہ مناسب ہے۔‘‘

فیصلہ کا اعلان

ایک فیصلہ پر اتفاق رائے ہو جانے کے بعد دونوں حکم باہر تشریف لے آئے جہاں لوگوں کا ایک جم غفیران کے لیے چشم براہ تھا۔ حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ کو کہا کہ آپ بزرگ اور سن رسیدہ ہیں مناسب ہوگا پہلے آپ اٹھ کر فیصلہ کا اعلان کر یں۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہٗ نے اٹھ کر اعلان کیا:
’’لوگو! ہم نے کافی غوروخوض کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہٗ دونوں کو معزول کر دیا جائے اور لوگوں کو امیر کے انتخاب کا حق دیا جائے چنانچہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہٗ دونوں کو معزول کرتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ کھڑے ہوئے اور اعلان کیا:
’’لوگو! تم نے سن لیا کہ ابو موسیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو معزول کر دیا۔ میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو معزول کرتا ہوں لیکن معاویہؓ کو معزول نہیں کرتا وہ عثمان ؓکے ولی ہیں اور ان کے قائم مقام ہونے کے مستحق ہیں۔‘‘
یہ اعلان سن کر حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہٗ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہٗ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ کو ملامت کرنے لگے اور وہ یہ کہہ کر معذرت کرنے لگے کہ عمروؓ ابن العاص نے ایک متفقہ امر پر اختلاف کیا اور دوسری روش اختیار کر لی۔ا س کے بعد لوگوں نے عمرو ابن العاص کے ساتھ تلخ کلامی کی‘ بلکہ کہا جاتا ہے کہ شریح بن ہانی نے ان پر تلوار چلا دی لیکن لوگوں نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہٗ عالم پریشانی میں مکہ روانہ ہوگئے۔ حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ نے شام جا کر خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے سپر دکی۔ حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہٗ نے تمام واقعہ واپس جا کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بتایا جس کو سن کر وہ قنوت پڑھنے لگے۔

تحکیم کے بعد

تحکیم کے بعد خلافت اسلامیہ عملی طور پر دو حصوں میں بٹ گئی حضرت عمرو ؓابن العاص کے شام پہنچنے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ نے اپنی خلافت کی بیعت لی۔ شام، فلسطین اور مقبوضہ رومی علاقوں پر ان کا تسلط تھا۔ بعد میں انہوں نے مصر پر بھی قبضہ کر لیا۔
دوسری طرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ منتخب خلیفہ تھے اور ان کا دارالخلافہ کوفہ تھا۔ بصرہ‘ حجاز اور ایرانی مفتوحہ علاقوں پر ان کا تسلط تھا۔
خلافت کے عملی طور پر دو حصوں میں بٹ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے وقار اور اتحاد کو جو دھچکہ لگا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانیوں نے بغاوتیں شروع کر دیں اور اس صورت حال سے مجبور ہو کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ نے اس امر پر مصالحت کر لی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں تک اپنی سرگرمیاں محدود رکھیں گے۔ اس معاہدہ کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایرانی علاقوں میں پھیلنے والی بغاوتوں کو کچل دیا۔

فتنہ خوارج

امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے گروہ کے وہ لوگ جو جنگ ِصفین کے بعد ان سے کٹ کر الگ ہوگئے تھے اور ان کی جماعت سے خارج ہوگئے تھے ’’خوارج‘‘ کے نام سے تاریخ میں مشہور ہوئے۔ اور یہ پہلا فرقہ یا گروہ ہے جو جماعت سے الگ ہوا۔
آپ گذشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ شامیوں نے جب قرآن مقدس کو نیزوں پر بلند کر کے اس کو حکم ماننے کی اپیل کی تھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے اس کی مخالفت کی تھی اور اپنی افواج کو ثابت قدمی سے جنگ جاری رکھنے کا مشورہ دیا تھا لیکن آپ رضی اللہ عنہٗ کے لشکریوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کی نافرمانی کرتے ہوئے بساطِ جنگ لپیٹ دی تھی۔ اشتر البتہ جنگ جاری رکھنے پر مصر تھا‘ لیکن اشعت بن قیس اور اس کے ساتھی مسعر بن فدک تمیمی اور زید بن حصین الطائی دھمکیوں پر اتر آئے اور امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کو جنگ بندی اور تحکیم قبول کرنا پڑی۔ بعد میں یہی لوگ مجبور کرنے لگے کہ حکم ماننے سے انکار کر دیں اور جنگ بندی ختم کر دیں۔ اب امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر جو لوگ ان سے الگ ہوگئے خوارج کہلائے۔ ابتدا میں بارہ ہزار افراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جماعت سے نکل کر حروراء چلے گئے‘ انہوں نے شبت بن عمر تمیمی کواپنا امام مقرر کیا۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن وہب کی بیعت کی تھی۔ خوارج میں سے زیادہ کا تعلق قبیلہ بنو تمیم‘ بنی بکر اور بنی ہمدان سے تھا۔

خوارج کے عقائد

معاملات دین میں انسان کو حکم (ثالث) بنانا کفر ہے۔ حکم مقرر کرنے والے اور اس کے فیصلہ کو قبول کرنے والے کافر ہیں۔
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ دائرہ اسلام سے خارج ہیں (نعوذ باللہ)۔ ان کے خلاف جہاد واجب ہے۔
مسلمان سب آپس میں برابر ہیں۔
خلافت ضروری نہیں۔ ایک منتخب مجلس عاملہ کو حکومت کا کاروبار چلانا چاہیے۔
حکومت صرف اللہ کی ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ خلیفہ برحق ہیں۔
عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے خلاف خروج جائز تھا۔

خوارج کے خلاف جنگ

ایک روز امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ مسجد میں خطبہ پڑھ رہے تھے کہ مسجد کے ایک کونے سے ایک خارجی نے نعرہ لگایا ’’لا حکم الا للّٰہ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی حکم نہیں)ا میر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے سن کر فرمایا: ’’اللہ اکبر! کلمہ حق سے باطن کا اظہار کرتے ہو۔‘‘
آپ پھر خطبہ دینے لگے پھر ایک اور خارجی نے مسجد کے دوسرے کونے سے یہی نعرہ لگایا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ’’تم لوگ ہمارے ساتھ ایسا بُرا سلوک کیوں کرتے ہو‘ حالانکہ ہم تمہارے خیرخواہ ہیں۔ تمہیں مساجد میں آنے سے نہیں روکتے تاکہ تم مساجد میں اللہ کا ذکر کرو، مالِ غنیمت سے تمہیں حصہ دیتے ہیں، تم سے جنگ نہیں لڑتے اور نہ ہی آئندہ ایسا کوئی ارادہ ہے‘ بشرطیکہ تم ہمیں مجبور نہ کر دو۔ہم نے تمہارا معاملہ اللہ پر چھوڑ رکھا ہے۔‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ تو ان کو سمجھا کر قصر امارت کی طرف چلے گئے اور خوارج مسجد سے نکل کر عبداللہ ابن وہب کے خیمہ میںداخل ہوگئے اور اسے خروج پر آمادہ کرنے لگے۔ وہ بدبخت امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کے نرم رویہ سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ عبداللہ ابن وہب نے ان کو سمجھایا کہ تمہاری جمعیت تھوڑی ہے‘ فی الحال یہاں سے نکل چلو۔ کہیں اور جا کر اپنے قدم جمائو اور اپنی قوت میں اضافہ کے بعد ان کے خلاف جہاد کرو۔ حرقوص بن زبیر اور حمزہ بن سنان نے عبداللہ کی رائے کی تصدیق کی اور یہ اقرار پایا کہ عبداللہ ابن وہب کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اورات کی تاریکی میں دو دو پانچ پانچ اور دس دس مل کر نکل چلو تاکہ اکٹھا نکلنے میں حکومت کو خروج کا شبہ نہ ہو۔ اس طرح وہ مدائن کی طرف نکل گئے۔

کرخ کی جھڑپ

جب امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کو خوارج کی مدائن کی طرف روانگی کی خبر ملی تو آپ نے مدائن کے عامل سعد بن مسعود کو ان کی روک تھام کے بارے میں لکھا۔ سعد نے جب ان کا راستہ روکا تو وہ راستہ تبدیل کر کے نہروان کی طرف مڑگئے۔ سعد نے تعاقب جاری رکھا اور کرخ کے مقام پر ان کو روک لیا۔ جنگ چھڑ گئی جو دن بھر جاری رہی۔ خوارج رات کے اندھیرے میں دریائے دجلہ عبور کر کے نہر وان کی طرف بڑھ گئے۔

بصرہ کے خوارج

بصرہ سے خوارج کا ایک گروہ جن کی تعداد پانچ صد تھی مشعر بن فد کی تمیمی کی سرکردگی میں خوارج کے ساتھ شامل ہونے کے لیے نکلا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہٗ کے فرمان پر ابو الاسود نے تعاقب کیا اور دریائے دجلہ کے بڑے پل پر جا کر ان کو گھیر لیا۔ عصر سے عشاء تک جنگ جاری رہی۔ خوارج رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر پل پار کر گئے اور عبداللہ ابن وہب سے جا ملے۔

نہروان کا معرکہ

بصرہ سے خروج کرنے والے خوارج کی حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہٗ سے نہروان کے نواح میں ملاقات ہوگئی۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور تین دوسری خواتین تھیں۔ جب ان درندوں کو معلوم ہوا کہ آپ عبداللہ ابن خباب رضی اللہ عنہٗ ہیں تو ان کو پکڑ لیا اور پوچھا:
خوارج: ’’تم ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ: ’’وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، صدیق اور خلیفہ برحق تھے۔‘‘
خوارج: ’’عمر رضی اللہ عنہٗ کیسے تھے؟‘‘
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ: ’’وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کے جانشین‘ صحابی اور خلیفہ برحق تھے۔‘‘
خوارج: ’’عثمان رضی اللہ عنہٗ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ: ’’وہ ذوالنورین رضی اللہ عنہٗ تھے اور خلیفہ برحق تھے۔‘‘
خوارج: ’’ان کے آخری دور کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان کے خلاف خروج جائز تھا یا ناجائز؟‘‘
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ: ’’وہ خلیفہ برحق کے خلاف ایک ظالمانہ کاروائی تھی۔‘‘
خوارج: ’’علی رضی اللہ عنہٗ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ: ’’وہ داماد رسول ہیں، خلیفہ برحق ہیں اور قدیم الاسلام ہیں۔‘‘
خوارج: ’’ابو موسیٰ رضی اللہ عنہٗ اور عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہٗ کو حکم تسلیم کرنے کے ان کے فیصلہ میں کیا جانتے ہو؟‘‘
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ: ’’امیر المومنین کا یہ اقدام ہر لحاظ سے درست تھا۔‘‘
یہ سن کر ان خونخوار بھیڑیوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ پر حملہ کر دیا اور ان کو ذبح کر ڈالا۔ ان کی بیوی اور دوسری تین خواتین کے پیٹ چاک کر ڈالے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ شام پر حملہ کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ خوارج کی کاروائیوں کی خبر ملی۔ خاص طور پر حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہٗ پر ڈھائے گئے ان کے مظالم کی خبر سن کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فوری طور پر تحقیق کے لیے حرث بن مرہ العبدی کو بھیجا۔ خوارج نے ان کو بھی شہید کر ڈالا۔
آپ رضی اللہ عنہٗ نے شام پر چڑھائی کا ارادہ ملتوی کر دیا اور خوارج کی طرف بڑھے۔ نہروان پہنچ کر خوارج سے مطالبہ کیا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ اور دوسرے شہداء کے قاتلوں کو ہمارے سپرد کر دو۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اور تم سب ہماری نظروں میں واجب القتل ہو اور ہم سب ان کے قاتل ہیں‘ امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے اتمامِ حجت کے طور پر حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو انہیں سمجھانے کے لیے بھیجا لیکن وہ راہ ِراست پر نہ آئے۔
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے فوجوں کو حملہ کرنے کا حکم دینے سے پہلے میدان میں اعلان کر دیا کہ اب بھی جو لوگ خوارج کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ساتھ آملیں گے ہم انہیں اپنا بھائی سمجھیں گے۔ خوارج سے لوگوں کی ایک بڑی تعدادالگ ہوگئی۔ فروہ بن نوفل پانچ سو افراد کو لے کر الگ ہوگیا کچھ لوگ کوفہ چلے گئے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ آملی۔
اب خوارج کی تعداد کم ہو کر نصف رہ گئی۔ دو ہزار خوارج امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کی افواج کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوگئے۔ جنگ شروع ہوئی تو وہ خوب جان توڑ کر لڑے۔ ان کے اعضاء کٹ کٹ کر الگ ہو جاتے تھے لیکن پھر بھی وہ لڑتے رہتے تھے۔ ایک خارجی شریح ابن ابی کی ٹانگ پر ایک کاری ضرب پڑی اور پاؤں کٹ کر الگ ہوگیا لیکن وہ اسی حالت میں لڑتا رہا۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کی فوج بھی خوب پامردی سے لڑی اور بالآخر خوارج کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ضدی لوگ ایک ایک کر کے کٹ مرے۔

جنگ ِنہروان کے نتائج

اس جنگ میں خوارج کو شکست ِفاش کا منہ دیکھنا پڑا اور وقتی طور پر خوار ج کا فتنہ دم توڑ گیا۔
خوارج کے دو ہزار سے زیادہ جنگ جو میدانِ جنگ میں مارے گئے جب کہ امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کی فوج کے صرف سات جنگ جو شہید ہوئے۔
اس جنگ کے نتائج اس لحاظ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے بھی زیادہ مفید ثابت نہ ہوئے کہ اس جنگ کے بعد جب آپ رضی اللہ عنہٗ نے شام کے خلاف فوج کشی کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آمادگی ظاہر نہ کی۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ نے لوگوں کی مخالفت کے باوجود شام کا رخ کیا تو آپ رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی رہ گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شام کی طرف لشکر کشی کا قصد ہمیشہ کے لیے التوا میں پڑ گیا۔

دارالخلافہ کی تبدیلی

جنگ ِجمل کے بعد 36 ہجری میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مدینہ منورہ کے بجائے کوفہ کو دارالخلافہ قرار دیا۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ کوفہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حامیوں کی تعداد زیادہ تھی اور کوفہ سے دمشق قریب تھا۔ یہاں سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کی کاروائیوں پر اچھی طرح نظر رکھی جاسکتی تھی۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس تبدیلی سے حرمِ مدینہ کو سیاسی ریشہ دوانیوں اور فتنہ و فساد کی کاروائیوں سے بھی محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ نے شہید ہونا قبول کر لیا تھا لیکن حرمِ مدینہ میں جنگ سے انکار کر دیاتھا۔ دار الخلافہ کی اس تبدیلی کا سیاسی نقصان یہ ہوا کہ سیاسی نقطہ نظر سے مدینہ منورہ پس پشت چلا گیا۔ مدینہ منورہ میں جو صحابہؓ اور تابعین کی بڑی جماعت موجود تھی اسلامی حکومت ان کی سرپرستی‘ تعاون‘ خیر خواہی اور خلوص اور دعائوں سے دور ہوگئی۔
کوفہ(عراق) والوں نے امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کی رفاقت کا حق ادا نہ کیا۔ اطاعت و جانثاری کے اس مقام کو نہ پاسکے‘ جس کا ان سے فطری طور پر تقاضا کیا جاسکتا تھا۔
حوالہ کے طور پر محض چند واقعات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔
جنگ ِصفین میں جب شامیوں کو اپنی شکست کا یقین ہوگیا تو وہ ہزاروں کی تعداد میں نیزوں پر قرآن اٹھا کر میدانِ جنگ میں نکل آئے اور صلح کے نعرے لگے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی فوج کو جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا اور انہیں سمجھایا کہ یہ شامیوں کی ایک چال ہے‘ کیونکہ جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اپنی شکست کا یقین ہو گیا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فوج کے ایک بڑے گروہ نے جنگ جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے کتاب اللہ کو حکم نہ مانا تو ان کا ساتھ چھوڑ دیا جائے گا۔ اشتر اور اس کے ساتھی جنگ جاری رکھنے پر مصر تھے۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ پر دباؤ ڈال کر اشتر کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو معزول کر دینے کی دھمکی بھی دی۔
جب تحکیم کا عہد نامہ لکھا جارہا تھا اور کاتب نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نام کے ساتھ امیر المومنین کے الفاظ تحریر کیے تو حضرت عمروؓ ابن العاص نے اعتراض کر دیا۔ وہ کہنے لگے ہم حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو امیرالمومنین نہیں مانتے اس لیے یہ الفاظ کاٹ ڈالے جائیں۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ امیر المومنین کے ساتھی اس اعتراض کو رد کر دیتے اور ان الفاظ کو محو کرنے سے انکار کر دیتے لیکن اشعت بن قیس نے اس اعتراض کو قبول کر لیا اور امیر المومنین کے الفاظ محو کر دیئے گئے۔
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی جانب سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ ابن عباس ؓیا اشتر کو حکم بنانے کی تجویز دی لیکن عراق والوں نے ان کی مرضی کے خلاف حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہٗ کو نامزد کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مجبوراً ان کا فیصلہ قبول کرنا پڑا۔
خوارج کو شکست دینے کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عراقیوں کو شام پر حملہ کرنے کے لیے تیاری کا حکم دیا تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگے۔ جب انہوں نے تھکان کا بہانہ تراشا تو امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے اسے مسترد کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے نخیلہ کے مقام پر قیام فرمایا اور حکم جاری کیا کہ کوئی آدمی اپنے مکان پر نہ جائے۔ اس کے باوجود رات کی تاریکی میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھروں کو چلی گئی۔

شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ

امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نہروان کی جنگ میں خوارج کو عبرتناک شکست دی تھی۔ سوائے گنتی کے چند افراد کے جو نکل بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تھے‘ خوارج کو نہروان کی جنگ میں موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ خوارج کے باقی بچ جانے والے لوگوں نے امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ کے قتل کا فیصلہ کیا اورا میر المومنین پر حملہ کرنے کے لیے عبدالرحمن ابن ملجم کوفہ گیا۔ یاد رہے کہ ابن ملجم خود مصر کا رہنے والا تھا۔ کوفہ جا کر وہ اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کرتا رہا اور حالات کا جائزہ لیتا رہا۔ اس نے اپنے راز سے کسی کو آگاہ نہ کیا۔ اسی دوران اس کی ملاقت شبیب بن شجرہ سے ہوئی۔ شبیب اسے کام کا آدمی نظر آیا۔ ابن ملجم نے کوفہ میں اپنی آمد کا مقصد اسے بتا دیا اور اعانت کی درخواست کی۔ شبیب پہلے تو اس کی بات سن کر غصے سے بے تاب ہو کر اسے بُرا بھلا کہنے لگا۔ لیکن ابن ملجم نے چکنی چپڑی باتوں سے اسے ایسا شیشے میں اتارا کہ وہ بھرپور تعاون پر آمادہ ہوگیا۔ ان دونوں نے ایک تیسرے آدمی وردان کو بھی ساتھ ملا لیا۔ 17 رمضان المبارک کو شب ِ جمعہ تھی۔ ابن ِ ملجم‘ شبیب اور وردان رات کے وقت مسجد کے دروازہ کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے۔ نماز فجر کے وقت امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ تشریف لائے۔ دروازہ سے داخل ہوئے اور فرمایا: ’’اے لوگو! نماز نماز‘‘۔
شبیب نے لپک کر تلوار کا وار کیا جو اوچھا پڑا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ آگے نکل چکے تھے تلوار دروازے پر لگی۔ ابن ملجم ظالم نے بڑھ کر پیشانی پر وار کیا۔ وردان یہ دیکھ بھاگ کھڑا ہوا اور گھر پہنچ گیا۔ جب اس نے اس واقعہ کا ذکر بعض دو ستوں سے کیا تو انہوں نے اسے مار ڈالا۔ شبیب بھی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ ابن ملجم پکڑا گیا۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ نے اپنے بھانجے ام ہانی کے بیٹے جعدہ کو نماز پڑھانے کی ہدایت کی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو لوگ اٹھا کر گھر لے گئے۔ اس دوران سورج طلوع ہو چکا تھا۔ ابن ملجم کو پیش کیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے ابن ملجم سے پوچھا:
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ: ’’ اے ظالم انسان! تجھے کس چیز نے میرے قتل پر آمادہ کیا؟‘‘
ابن ملجم: (سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے) ’’میں نے اس تلوار کو چالیس روز تک تیز کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کہ اس سے وہ شخص مارا جائے جو شرِ خلق ہے۔‘‘
امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ: ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ تو اسی سے مارا جائے گا۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اگر میں زندہ بچ گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک مناسب سمجھوں گا کروں گا‘ اگر میں جانبر نہ ہو سکا تو تم اسے قتل کر دینا اور اسی طرح قتل کرنا جس طرح اس نے مجھے قتل کیا… اے حسن! اگر میں مر جاؤں تو اسی تلوار سے ایک وار میں اس کو قتل کر دینا۔ مثلہ ہرگز نہ کرنا اور سوائے قاتل کے کسی کو نہ مارنا۔
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہٗ نے اپنے والد کی شہادت کے بعد ان کی ہدایت کے مطابق اسی تلوار سے ایک ہی وار میں اس کا سر قلم کر دیا۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ کے آخری لمحات

امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ جانبر ہوتے نظر نہ آتے تھے۔ جندب بن عبداللہ حاضر ہوا اور پوچھنے لگا۔ ’’اے امیر المومنین رضی اللہ عنہٗ! کیا ہم آپ کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کی بیعت کریں ؟‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ’’نہ میں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔‘‘
شیر خدا رضی اللہ عنہٗ نے جب محسوس کیا کہ حیاتِ مستعار کے چند آخری لمحات باقی ہیں تو اپنے بچوں کو طلب کیا اور پندو نصائح کے ایسے جواہرات سے ان کے دامن بھر دیئے جو دین ِمتین کی حقیقی اساس ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا:
میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
تم لوگ دنیا کی محبت کا شکار نہ ہوجانا خواہ وہ تمہیں پوری زیب و زینت کے ساتھ طلب کرے۔
دنیا کی کسی چیز کے حاصل نہ ہونے پر افسوس نہ کرنا۔
ہمیشہ حق کہنا اور حق کا ساتھ دینا۔
یتیم پر رحم کرنا۔
بے کسوں کو سہارا دینا
ظالم کے دشمن اور مظلوم کے معین و مددگار رہنا۔
کتاب اللہ پر عمل کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا۔
21رمضان المبارک 40ھ کو آخری لمحات میں آپ کرم اللہ وجہہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ‘حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو محمد بن حنیفہ کے ساتھ حُسنِ سلوک اور محمد بن حنیفہ کو بڑے بھائیوں کی تعظیم کی وصیت فرمائی اور پھر کچھ دیر سکوت اختیار فرمایا۔ پھر آنکھیں کھولیں اور زبان مبارک پر کلمہ توحید جاری ہوگیا اور کلمہ طیبہ کی رفاقت میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوگئے (انا للّٰہ وانا الیہ راجعون)۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا مزار مبارک نجف ِ اشرف (عراق) میں ہے۔

سرمہ میری آنکھوں کا ہے خاکِ مدینہ و نجف

سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ |Syedna Hazrat Ali R.A” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں