حقیقت ِنور | Haqiqat-e-Noor

حقیقتِ  نور (Haqiqat-e-Noor)

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَللّٰہُ وَلِیُّ  الَّذِیْنَ اٰمَنُوْالا  یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (سورۃ البقرہ۔257)
ترجمہ: اللہ مومنوں کا ایسا دوست ہے جو انہیں ظلمت سے نکال کر نور میں لے آتا ہے ۔
 تعلیماتِ فقر میں نور(Noor) سے کیا مراد ہے؟ نور کا اطلاق کن کن چیزوں پر ہوتا ہے؟ وہ نور (Noor) جو ظلمت سے نکالتا ہے اس سے مرادآنکھ کا نور ہے یا عقل کا نور؟ یا حقیقتِ نور (Haqiqat-e-Noor) اس سے بھی بلند و بالا ہے؟اس حقیقت سے پردہ کشائی کے لیے چند حقائق کو بیان کیا جا رہا ہے۔

  آنکھ کا نور

ہمارے ہاں اکثریت آنکھ کے نور کو ’’نور‘‘ (Noor)کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں جیسا کہ اکثر لوگ کہتے ہیں آفتاب کے نور (Noor) کی طرف دیکھنے سے آنکھ کا نور جاتا رہتا ہے، چمگادڑ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی آنکھ کا نور ضعیف ہے، اندھے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی آنکھ کا نور مفقود ہے وغیرہ۔ 

حضرت امام غزالیؒ اپنی تصنیف مبارکہ ’’مشکوٰۃ الانوار‘‘ میں نور کی تعریف یوں بیان فرماتے ہیں:
نور سے مراد یہ ہے کہ وہ خود بھی دیکھا جائے اور اس کے ساتھ غیر کو بھی دیکھ لے۔
نور کی جوتعریف بیان کی گئی ہے اس لحاظ سے آنکھ کے نور (Noor) کو ’’نور‘‘ کہنا کئی قسم کے نقصان کے ساتھ موسوم ہے جیسا کہ آنکھ غیر کو تودیکھ لیتی ہے لیکن اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتی، نہ اس کو دیکھ سکتی ہے جو اس سے زیادہ دور ہو، نہ اس کو جو زیادہ قریب ہو، نہ  اس کو جو پردے کے پیچھے ہو۔ آنکھ اشیا کے ظاہری حصوں کی پرکھ تو کر سکتی ہے لیکن باطن کا مشاہدہ نہیں کر سکتی۔ آنکھ اکثر بڑے کو چھوٹا اور بعید کو قریب سمجھ لیتی ہے، ساکن کو متحرک اور متحرک کو ساکن کہہ دیتی ہے۔ اس لحاظ سے جس نور کی حقیقت (Haqiqat-e-Noor) کی ہمیں تلاش ہے آنکھ کا نور ان حقیقتوں سے پردہ اٹھانے سے قاصر ہے۔ آنکھ جسم کا ایک انتہائی اہم حصہ ضرور ہے لیکن وہ نور(Noor) نہیں جو باطن کے بند قفل کو کھول دے اور ظلمت سے نکال کر ظاہر و باطن کو منور کر دے۔ 

علامہ اقبالؒ نے آنکھ کے نور(Noor) کے متعلق کیا خوب فرمایا ہے :

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں 

عقل کا نور 

کیا نور(Noor) کا اطلاق عقل کے نور پر کرنا بجا ہے؟ اگر آنکھ کے نور اور عقل کے نورکا موازنہ کیا جائے تو عقل کے نور کو آنکھ کے نور پر کئی طرح سے فضیلت اور برتری حا صل ہے۔ یہ عقل ہی ہے جو انسان کو جانوروں اور حیوانوں پر سبقت لے جانے کی وجہ بنتی ہے اور اسی کی بنا پر انسان کو ’اشرف المخلوقات‘ کا درجہ حاصل ہے۔ آنکھ جو مشاہدات کرواتی ہے اس کی راہیں تنگ ہیں، عقل کے مشاہدات میں وسعت ہی وسعت ہے۔ آنکھ غیر کو تودیکھ سکتی ہے لیکن اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتی اس کے برعکس عقل جس طرح کسی اور کو دیکھ سکتی ہے اسی طرح اپنے آپ کو بھی دیکھ سکتی ہے، اپنی قابلیتوں اور صفات کو جان سکتی ہے۔ آنکھ اپنے سے زیادہ قریب چیز اور اپنے سے زیادہ دور والی چیز کو معلوم نہیں کر سکتی لیکن عقل کے نزدیک بعید و قریب سب یکساں ہیں۔ پلک جھپکنے میں آسمانوں کی سیر کر لیتی ہے، ایک ہی دم میں زمین کی تہہ میں پہنچ جاتی ہے۔ بلکہ عقل اشیا کے باطنی حصوں، اسرار اور اس کے حقائق کو بھی معلوم کر سکتی ہے۔ یوں کہنا بہتر ہے کہ عقل بادشاہ ہے اور آنکھ اسکے ماتحت ہے جس کا کام عالمِ محسوسات میں جو چیز دیکھی جا سکتی ہے اس کی خبریں عقل کو پہنچانا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عقلمند حضرات اپنی رائے یا فیصلوں میں غلطی کر بیٹھتے ہیں لیکن اس کی بھی اصل وجہ اپنی عقل پر قیاس آرائیوں اور وہم و گمان کو ترجیح دینا ہے۔ عقل اللہ تعالیٰ کی عطا کی گئی لازوال نعمت ہے بلکہ ایک آلہ ہے جو صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

کیا عقل کی راہیں ہمیں اس منزل تک پہنچاتی ہیں جو بطور مسلمان ہماری حقیقی منزل ہے؟ کیا عقل کون ومکان کی قید سے رہائی حاصل کر کے مقامِ لامکان تک پہنچاتی ہے؟ کیا عقل جس تاریکی کو نور (Noor) میں تبدیل کرتی ہے وہ نور معرفتِ الٰہی کے عظیم اسرار سے پردہ اٹھاتا ہے؟ علامہ اقبالؒ اس ضمن میں فرماتے ہیں: 

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے

عقل کا انحصار کیوں، کیا، کیسے اور کتنا جیسے سوالات پر ہوتا ہے۔ عقل کی بدولت انسان ساتوں آسمان کی سیر اور اشیا کے ظاہر و باطن کی تحقیق کر سکتا ہے لیکن باطن جسے عالمِ کبیر کہا گیا ہے، اس کی سیر کرنے کے لیے جس نورِ حقیقی کی تلاش ہے یہ وہ نور (Noor) نہیں۔ کون و مکان کی تمام جہتوں پر قابو پانے کی صلاحیت تو عقل کے پاس ہے لیکن باطن کو ہدایت کے نور (Noor) سے منور کرنے کی طاقت نہیں بلکہ اولیا اور صوفیا کرام عشق کے راستہ میں عقل کی جہتوں سے باہر نکلنے کی تلقین کرتے ہیں۔ حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
اس ذات پاک کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے انتہائی سوچ بچار کرتے عقل کے ہزاروں ہزارو بے شمار قافلے سنگسار ہو گئے۔ (رسالہ روحی شریف )

مولانا رومؒ کا قول ہے:
ہم عشقِ اللہ کو علم و عقل سے بیان نہیں کر سکتے۔

آپؒ مزیدفرماتے ہیں:

رہِ عقل جز پیچ در پیچ نیست
رہِ عاشقاں جز خدا ہیچ نیست

ترجمہ: عقل کا راستہ بہت پیچیدہ اور مشکل ہے اور عاشقوں کا راستہ خدا کے سوا کچھ نہیں۔
خواجہ حافظ فرماتے ہیں:
حکایتِ عشق حرف و آواز سے بری و بالا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ عقل علم و حکمت کا منبع ضرور ہے لیکن اس کا دائرہ محدود ہے، چراغ ضرور ہے لیکن منزل نہیں ۔ 

قرآن ہدایت کا نور ہے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْٓ اَنْزَلْنَاط وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔  (سورۃ التغابن۔8)
ترجمہ: پس تم ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس نور (Noor) پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، اور اللہ ان تمام کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو۔ 

قرآنِ کریم میں کئی مقامات میں قرآن (Quran) کے لیے ’’نور‘‘(Noor) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ حضرت امام غزالیؒ ’’مشکوٰۃ الانوار‘‘ میں فرماتے ہیں:
سب سے بڑی حکمت خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے کلام میں سے خصوصاً قرآنِ مجید (Quran-e-majeed)۔ پس قرآن کی آیات کا مرتبہ عقل کی آنکھ کے نزدیک یہ مرتبہ ہے جیسا کہ آفتاب کا نور(Noor) ظاہری آنکھ کے نزدیک کیونکہ اسی کے ساتھ آنکھیں پورا کام کرتی ہیں۔ اب لائق ہے کہ قرآنِ مجید (Quran-e-majeed) کو نور کہا جائے جس طرح آفتاب کے نور(Noor) کو نور کہا جاتا ہے۔ قرآن (Quran) کی مثال آفتاب کے نور کی ہے اور عقل کی مثال آنکھ کے نور(Noor) کی ہے۔ (مشکوٰۃ الانوار)

یعنی نور سے مراد وہ روشنی ہے جس سے وجودِ انسانی ہدایت کے نور (Noor) سے منور ہو جائے اور بلاشبہ قرآن (Quran) کو اللہ تعالیٰ نے نوعِ انسانی کی ہدایت کے لیے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) پر اتارا اور یہی وہ برہان ہے جس کی بدولت ایک مومن حق و باطل میں امتیاز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ لیکن واضح رہے ایک مسلمان کے قلب پر قرآنِ کریم کے حقیقی معانی و اسرار تب ہی منکشف ہو سکتے ہیں جب اسے محض مقدس الفاظ و حروف کا مجموعہ سمجھنے کی بجائے باطن کے بند قفل اورعقل کے بند دریچوں کو کھولنے کی کلید سمجھا جائے، اس کے ظاہری و باطنی دونوں پہلوؤں سے واقف ہوا جائے۔ 

عبد الماجد دریا بادی اپنی تصنیف ’’تصوفِ اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں: 
دنیا میں ہر موجود کا ایک ظاہری پہلو ہے اور ایک باطنی، چنانچہ قرآن (Quran) کا بھی ایک ظاہر ہے ایک باطن۔ حدیث کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک باطن، کتاب اللہ و سنتِ رسولؐ کے باطنی پہلو کا نام طریقت ہے۔ طریقت کتابِ اللہ اور سنتِ رسولؐ سے الگ کوئی شے نہیں بلکہ انہی کے مغز و باطن کا نام ہے۔ (تصوفِ اسلام) 

قرآنِ کریم وہ روشن کتاب ہے کہ جس شخص کا باطن جس قدر منور ہو گا اسی قدر اس پر قرآن کے حقیقی معانی اور پہلو روشن ہوں گے۔ وہ لوگ جن کا باطن فقر ومعرفت سے بے بہرہ ہو وہ قرآنِ کریم جیسی لازوال نعمت سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟

سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
ترجمہ: اس (قرآن) کے ذریعہ وہ بیشتر کو گمراہ کرتا ہے اور بیشتر کو راہِ راست پر لاتا ہے اور گمراہ تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔ 26)

قرآنِ کریم منبع ہدایت و نور(Noor) ہے لیکن اب یہ بندے پر منحصر ہے کہ وہ اس سے نورِ خاص اخذ کرتا ہے یا تاریکیوں کی پستی میں الجھ کر ہدایت کے راستے سے گمراہ ہو جاتا ہے۔

اولیا اور صوفیا کے نزدیک ’’حقیقتِ نور(Haqiqat-e-Noor) ‘‘ سے کیا مراد ہے؟
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ(سورۃ النور۔35)
ترجمہ: اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا اور اسی کا نور(Noor) چار سو عالم میں پھیلا ہوا ہے۔ گل و لالہ کے رنگ و بو میں، کھیتوں و باغوں کی ہریالی میں، ستاروں کی چمک میں، چہچہاتی چڑیوں کے گیت میں، سمندروں کی لہروں کے شور میں، بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں میں، ہواؤں کی سرَسرَ میں، گیتوں میں، نغموں میں، قدرت کے حسین و دلکش مناظر میں، انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے، میں حق تعالیٰ کے ہی جلوے عیاں ہیں۔ اسی کے نور کی چادر زمین و آسمان کی ہر شے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ لیکن کائنات کی جھلکیوں میں اور قدرت کے مناظر میں جو تصرف اور بصیرت فقرائے کاملین کو حاصل ہے وہ عام انسانوں کو حاصل نہیں ہوتی۔ ان کی نظر میں ہر جانب عشقِ الٰہی کا رنگ سمویا ہوتا ہے، وہ ’’عبدہٗ ‘‘ کا لباس اوڑھے زمین و آسمان کے نور میں ’’ذاتِ الٰہی‘‘ کے جلووں میں منہمک ہوتے ہیں۔ فقرائے کاملین کے نزدیک نور سے مراد اللہ کی ذات ہے، اسی بصیرت کی بدولت انہیں وحدت اور توحید کا ایسا مرتبہ حاصل ہوتا ہے جہاں دوئی یا کثرت کی گنجائش نہیں ہوتی ۔

اس کے متعلق شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی ؒ اپنی کتاب فصوص الحکم میں فرماتے ہیں:
حق تعالیٰ مخلوقات میں سے ہر ایک کے اندر کسی نہ کسی رنگ میں ظہور کرتا ہے اور ہر مفہوم اور مدرک میں اس کا ظہور ہے اور اس کی تجلی لیکن چونکہ اس کی تمام تجلیات اور ظہورات اس کے مظاہر میں قابلِ فہم نہیں ہوتے لہٰذا وہ لوگوں کی عقل سے مخفی اور پنہاں ہے سوائے اس شخص کی فہم کے جویہ جانتا ہو کہ عالمِ ھویت حق کا مظہر اور اس کی صورت ہے۔ یہ لوگ تمام مظاہر میں مشاہدۂ حق کرتے ہیں ۔ (فصوص الحکم شرح نوحی)

حضرت سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra)فرماتے ہیں :

یقین دانم درین عالم کہ لاموجود  اِلاَّ ھوُ
و لاموجود فی الکونین لامقصود اِلاَّ ھوُ

ترجمہ: یقین جان کہ کائنات میں ھُو (ذاتِ حق تعالیٰ) کے سوا کوئی موجود نہیں بلکہ دونوں جہانوں میں ھُو کے سوا کچھ موجود نہیں اور اس کے سوا کوئی مقصود نہیں۔

 اور فرماتے ہیں:
ہمہ اوست در مغز و پوست، یعنی ہر چیز کے ظاہر و باطن میں وہی ایک ذات جلوہ گر ہے ۔ (عین الفقر) 

نور عین اللہ کی ذات ہے اور اسی کے جلوے ہر چارسو عالم میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اب اس نورِ حقیقی کی روشنی کس طرح زمین و آسمان کے نور (Noor) میں سمائی ہوئی ہے اس کو حضرت امام غزالی ؒ اپنی تصنیف ’’مشکوٰۃ الانوار‘‘ میں اس مثال کے ذریعہ سمجھاتے ہیں:
عالمِ شہادت میں اس (نور) کی ترتیب کی مثال کو انسان اسی طرح پا سکتا ہے کہ چاند کی روشنی کو کسی گھر کے سوراخ میں ایسے آئینہ پر گرتے ہوئے دیکھے جو کہ دیوار پر رکھا ہوا ہے جس کی روشنی دوسری دیوار پر پڑتی ہو جو اس کے بالمقابل ہے۔ پھر اس سے زمین پر پڑے کہ جس سے زمین روشن ہو جائے اب تم جان لو گے کہ جو زمین پر نور(Noor) ہے وہ اس نور کے تابع ہے جو دیوار پر ہے۔ اور جو دیوار پر ہے وہ اس کے تابع ہے جو آئینہ میں ہے اور جو آئینہ میں ہے وہ اس کے تابع ہے جو چاند میں ہے اور جو چاند میں ہے وہ اس کے تابع ہے جو آفتاب میں ہے کیونکہ اسی سے نورِ قمر چمکتا ہے اور یہ چاروں نور ترتیب وار ہیں۔ بعض بعض سے اعلیٰ و اکمل ہیں اور ہر ایک کے لیے ایک مقام و درجہ خاص معلوم ہوتا ہے جس سے تجاوز نہیں کرتا۔ (مشکوٰۃ الانوار)

یعنی حقیقت (Haqiqat) میں نورِ حقیقی واحد ہے جس کی روشنی دیگر ہر شے (زمین و آسمان) میں ظاہر ہے ۔ ہر شے میں تجلیات و انوار کااسی قدر اظہار ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ اسی نسبت سے بعض بعض سے اعلیٰ و اکمل ہیں۔ 

 اسی نقطہ نظر کو فتاویٰ رضویہ میں امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہٗ ایک مثال کے ذریعے بیان کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ عالی جاہ ایک آئینہ میں جلوہ فرماہے جس میں تمام اقسام و اوصاف کے آئینے نسب ہیں۔ آئینوں کا تجربہ کرنے والا جانتا ہے کہ ان میں ایک ہی شے کا عکس کس قدر مختلف طوروں پر متجلی ہوتا ہے، بعض آئینوں میں صورت صاف نظر آتی ہے، بعض میں دھندلی، کسی میں سیدھی کسی میں الٹی، ایک میں بڑی ایک میں چھوٹی، بعض میں پتلی بعض میں چوڑی، کسی میں خوشنما کسی میں بھونڈی، یہ اختلاف ان کی قابلیت کا ہوتا ہے ورنہ وہ صورت جس کا عکس ہے وہ خود واحد ہے۔ ان میں جو حالتیں پیدا ہوئیں متجلی ان سے منزہ ہے۔ ان کے الٹے، بھونڈے یا دھندلے ہونے سے اس میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔
یعنی نور کی تجلیات دنیا کی ہر شے میں موجود ہے اور جو شخص اپنی آنکھ سے بھینگے پن کی عینک اتار دیتا ہے وہ حقیقت میں ذات کو ہی ہر جانب جلوہ گر دیکھتا ہے۔

 جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ ژ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہ  (سورہ البقرہ۔115)
ترجمہ: اور مشرق و مغرب اللہ کے لیے ہے، پس تم جدھر بھی دیکھو گے تمہیں اللہ تعالیٰ کا چہرہ نظر آئے گا۔ 

 اسی نکتے کو مثال کے ذریعہ شاہ ولی اللہؒ یوں بیان کرتے ہیں:
توحیدِصفاتی سے مراد یہ ہے کہ سالک مختلف صورتوں اور مظاہر میں صرف ایک اصل کو جلوہ گر دیکھے اور بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات کو بداہتہً مان لے کہ سارے کے سارے اختلافات ایک ہی اصل میں ثابت اور موجود ہیں اور پھر وہ اس اصل کو نوع بہ نوع صورتوں میں جلوہ گر بھی دیکھے اور ہر جگہ اس کی اصل کو پہچانے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کوئی شخص نوعِ انسانی کے تمام افراد میں ایک انسانِ کلی کا مشاہدہ کرتا ہے یا وہ موم کی مختلف مورتوں میں ایک ہی موم کی جنس کو ہر مورت میں موجود پاتا ہے۔ الغرض ایک اصل ہے جو وجود کے ہر مظہر میں اور کائنات کی ہر شکل میں مشترک ہے۔ سالک کو چاہیے کہ وہ اس اصل کو ہر چیز میں بے رنگ دیکھے اور کسی مظہر کے مخصوص رنگ کو اس میں مؤثر نہ مانے۔ (ہمعات)  

حضرت سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra)رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں:
خاکی اجسام کے روپ میں اپنی قدرتِ کاملہ کے جمال و جلال کی نشانیوں کے اظہار کے لیے ہزاروں جلووں کو آئینہ با صفا بنا کر اپنے حسن کا نظارہ فرما رہا ہے۔ خود اپنے ساتھ عشق کا کھیل فرما رہا ہے۔ خود نظر، خود ناظر اور خود ہی منظور ہے، خود ہی عشق، خود ہی عاشق اور خود ہی معشوق ہے۔ اگر تو اپنے آپ سے پردہ ہٹا دے تو سب وہی ایک ذات ہے اور جو کثرت اور دوئی تجھے نظرآتی ہے وہ محض تیری آنکھ کے بھینگے پن کی وجہ سے ہے۔ (رسالہ روحی شریف)

نور (Noor) سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ نور ہر شے کے ظاہر و باطن میں منعکس ہے۔ اللہ واحد اور احد ہے اورہر شے میں ترتیب وار (یعنی ضرورت کے حساب سے) اس کی تجلیات و صفات کا اظہار موجود ہے۔ اب دل میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ایک ہستی تو ہو گی جس میں اللہ خود اپنے نور کے عین جمال کا دیدار کرتا ہوگا۔ کوئی ایسا آئینہ باصفا ہوگا جس کو دیکھ کر خود اپنے آپ سے عشق کرتا ہو گا، یا جس آئینہ حق میں خود کو دیکھتا ہے اس کو کبھی عشق کہتا ہو گا کبھی عاشق کبھی معشوق۔ اس پر فریفتہ ہوکر اس کی ہر ادا سے محبت کرتا ہو گا۔ اس کی تعریف کرکے خود اپنی حمدبیان کرتا ہو گا۔ 

وہ نور (Noor) یا وہ ذات کہ جس میں اللہ پاک نے خود کو دیکھا، جس کی محبت میں کائنات کو پیدا کیا، جس سے عشق کا نرالا کھیل رچایا اور جس کی محبت میں ہر شے پروانہ وار جل اٹھی، جس صورت کا نقاب اوڑھ کر خود اپنا دیدار کیا اور اس نور پر فریفتہ ہوا وہ نور ’’نورِ محمدی(Noor-e-Mohammadi)‘‘ ہے اور وہ صورت ’’صورتِ احمدی‘‘ ہے۔ اسی نور  (Noor)سے تمام ارواح اور عالمین کو پیدا کیا تاکہ جس ہستی کوخود ربّ العزت اپنا محبوب پکارتا ہے تمام مخلوق اس کی تعریف اور نعت بیان کرے۔ وہ نور جس میں اس کی تمام تجلیات و صفات کا اظہار ہے اسی نور سے ہر شے کو منور کیا۔ اسی  محبوب ہستی کی شان میں دنیا روشن ہے اور چمک دمک رہی ہے۔ اسی کے نور (Noor) سے دنیا پرُنور ہے۔ 

 حضرت سلطان باھوؒ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں:
جان لے جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشہ تنہائی سے نکل کر کثرت میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلی کی گرم بازاری سے (تمام عالموں کو) رونق بخشی۔ اس کے حسنِ بے مثال اور شمع جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدی اختیار کی۔ (رسالہ روحی شریف) 

 حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi) کے متعلق فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میری روح کو پیدا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا ۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا فرمایا۔

سیدّنا غوث الا عظم شیخ عبد القادر جیلانیؓ (Syedna Ghaus-Al-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jillani) فرماتے ہیں :
ان سب سے مراد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے حقیقت محمدیہ۔ جس کا نام نور (Noor) اس لیے رکھا کہ آپؐ کی ذات ظلماتِ جلالیہ سے بالکل پاک ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے ’’بے شک تمہارے پاس آیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور کتابِ مبین۔ ‘‘ (سرّ الاسرار)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:
اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللّٰہِ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنْ نُّوْرِیْ
ترجمہ: میں اللہ کے نور (Noor) سے ہوں اور تمام مومنین میرے نور سے ہیں۔

سورۃ النور کی آیت 35 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط مَثَلُ  نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْھَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط  اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ  
ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی ہے جس میں چراغ ہو اور وہ چراغ شیشے کی قندیل میں اور (قندیل کے اندر یہ چراغ) ایک درخشندہ ستارے کی مانند روشن ہے۔

’’مرآۃ العارفین‘‘ میں اس آیتِ مبارکہ کی شرح یوں بیان کی گئی ہے:
یہ آیت مبارکہ اللہ کے نور  (Noor)کے تمام مخلوقاتِ عالم میں نور و قلبِ محمدیؐ کے توسط سے پھیل جانے کی دلیل ہے۔ مصباح یعنی چراغ نورِ محمد (Noor-e-Mohammad) ہے جو تمام تر عالمین کی نورانیت کا منبع و مصدر ہے۔ یہ چراغ شیشے کی قندیل زجاجہ میں ہے زجاجہ قلبِ محمدؐ ہے۔ چراغ سے پھیل کر نور نے قندیل یا قلب کی صورت اختیار کی۔ یہ نور  (Noor)یا چراغ کا اجمال سے تفصیل کی طرف سفر ہے۔ یہ قندیل ایک طاق میں رکھی گئی ہے۔ نور قندیل میں سے نکل کر طاق میں پھیل رہا ہے۔ طاق عرش و کرسی ہے جہاں نور مزید پھیلا اور اسے اجمال سے تفصیل حاصل ہوئی اور پھر اس نور کو مزید پھیلاؤ اور تفصیل حاصل ہوئی اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد یہ زمین و آسمان اور تمام مخلوقات میں پھیل گیا۔ (مرآۃ العارفین: ترجمہ و شرح از مسز عنبرین مغیث سروری قادری)

حضرت سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) اپنی تصنیف مبارکہ عقلِ بیدار میں فرماتے ہیں :
چونکہ اللہ تعالیٰ کے نور مبارک سے جناب سرورِ کائناتؐ کا نور مبارک ظاہر ہوا اس لیے انسان کی اصل نور (Noor) ہے اور عمل کے مطابق جب نفس، قلب، روح تینوں نور بن جاتے ہیں اس کو انسانِ کامل کہتے ہیں ۔ (عقلِ بیدار )

حاصلِ کلام: 

وہ ازلی نور جس کے وصال کے لیے ہماری روح بے چین و بے قرار  ہے، جس نورِ عین کے ہم متلاشی ہیں، وہ نورِ بصیرت جسے حقیقت (Haqiqat) میں آنکھ کا نور کہا جاتا ہے، وہ عقلِ کل جو حقیقت (Haqiqat) میں عقل کو بیدار کرتی ہے، وہ کہ جسے اولیا اور صوفیا ’’نورِ حق اور آئینہ باصفا‘‘ کہتے ہیں وہ نور ’’نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi) ‘‘ ہے۔ اسی نورِ جمال اور نورِ عین سے وصال پا کر ہم نورِ حق تعالیٰ کی حقیقت (Haqiqat) کو پا سکتے ہیں۔ وہی نور ہمارے باطن کو ظلمت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں بدل سکتا ہے۔ اسی نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi) کی حقیقت (Haqiqat) سے آشنا ہو کر اور راہنمائی حاصل کر کے ہم باطن کے لازوال سفر کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ موجودہ دور میں حضور علیہ الصلوٰہ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) کے روحانی جانشین اور حاملِ امانتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اپنے طالبوں کو حقیقتِ نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi) جیسی لازوال نعمت سے روشناس کروانے کے لیے ہر آن مصروفِ عمل ہیں۔ تمام طالبانِ مولیٰ کو آپ مدظلہ الاقدس کے دستِ مبارک پر بیعت ہونے کی دعوتِ عام ہے۔ جو فیضِ نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi) سے مستفید ہونا چاہے اس کے لیے در کھلا ہے ورنہ ربّ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے۔ 

استفادہ کتب:
۱۔مرآۃ العارفین ؛ تصنیف لطیف سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ، ترجمہ و شرح مسز عنبرین مغیث سروری قادری
۲۔رسالہ روحی شریف؛ تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضر ت سخی سلطان باھوؒ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra)
۳۔عقلِ بیدار؛ ایضاً
۴۔عین الفقر؛ ایضاً
۵۔شمس الفقرا؛ تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۶۔فقرِاقبال ؛ ایضاً
۷۔مشکوٰہ الانوار؛ تصنیف حضرت امام غزالیؒ
۸۔فصوس الحکم؛ تصنیف شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربیؒ
۹۔ تصوفِ اسلام؛تصنیف عبد الماجد دریا بادی  

45 تبصرے “حقیقت ِنور | Haqiqat-e-Noor

  1. نور سے مراد وہ روشنی ہے جس سے وجودِ انسانی ہدایت کے نور سے منور ہو جائے

    1. ہمارے ہاں اکثریت آنکھ کے نور کو ’’نور‘‘ کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ تعلیماتِ فقر میں نور سے کیا مراد ہے؟ نور کا اطلاق کن کن چیزوں پر ہوتا ہے؟ وہ نور جو ظلمت سے نکالتا ہے اس سے مرادآنکھ کا نور ہے یا عقل کا نور؟ یا حقیقتِ نور اس سے بھی بلند و بالا ہے؟
      حقائق سے پردہ کشائی کرتے مضمون کے مطالعہ کے لیے یہ لنک وزٹ کیجئے:
      https://bit.ly/3wfSiqy
      #sultanulashiqeen #sultan_ul_ashiqeen #mahnamasultanulfaqr #markazefaqr #tehreekdawatefaqr #tdfblog #urdublog #spirituality #faqr #sufi #ishq #ashiq #iqbal #allamaiqbal #allah #prophetmohammad #quran #quran_e_majeed #ghaus_al_azam #noor #noor_e_mohammadi #haqiqat_e_noor #haqiqatenoorہمارے ہاں اکثریت آنکھ کے نور کو ’’نور‘‘ کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ تعلیماتِ فقر میں نور سے کیا مراد ہے؟ نور کا اطلاق کن کن چیزوں پر ہوتا ہے؟ وہ نور جو ظلمت سے نکالتا ہے اس سے مرادآنکھ کا نور ہے یا عقل کا نور؟ یا حقیقتِ نور اس سے بھی بلند و بالا ہے؟
      حقائق سے پردہ کشائی کرتے مضمون کے مطالعہ کے لیے یہ لنک وزٹ کیجئے:
      https://bit.ly/3wfSiqy
      #sultanulashiqeen #sultan_ul_ashiqeen #mahnamasultanulfaqr #markazefaqr #tehreekdawatefaqr #tdfblog #urdublog #spirituality #faqr #sufi #ishq #ashiq #iqbal #allamaiqbal #allah #prophetmohammad #quran #quran_e_majeed #ghaus_al_azam #noor #noor_e_mohammadi #haqiqat_e_noor #haqiqatenoor

  2. دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
    آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

  3. موجودہ دور میں حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کے روحانی جانشین اور حاملِ امانتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کو حقیقتِ نورِ محمدی جیسی لازوال نعمت سے روشناس کروانے کے لیے ہر آن مصروفِ عمل ہیں۔

  4. ماشااللہ ماشااللہ بہت ہی دل کش آرٹیکل ہے 💯❤❤❤❤❤❤❤❤🥰🥰🥰💝💝💝💝

  5. رہِ عقل جز پیچ در پیچ نیست
    رہِ عاشقاں جز خدا ہیچ نیست
    ترجمہ: عقل کا راستہ بہت پیچیدہ اور مشکل ہے اور عاشقوں کا راستہ خدا کے سوا کچھ نہیں۔

  6. اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا اور اسی کا نور(Noor) چار سو عالم میں پھیلا ہوا ہے

  7. نور سے مراد یہ ہے کہ وہ خود بھی دیکھا جائے اور اس کے ساتھ غیر کو بھی دیکھ لے

  8. یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ موجودہ دور میں حضور علیہ الصلوٰہ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) کے روحانی جانشین اور حاملِ امانتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اپنے طالبوں کو حقیقتِ نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi) جیسی لازوال نعمت سے روشناس کروانے کے لیے ہر آن مصروفِ عمل ہیں۔ تمام طالبانِ مولیٰ کو آپ مدظلہ الاقدس کے دستِ مبارک پر بیعت ہونے کی دعوتِ عام ہے۔ جو فیضِ نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi) سے مستفید ہونا چاہے اس کے لیے در کھلا ہے ورنہ ربّ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے۔

  9. نور کی حقیقت مرشد کامل کی صحبت کے بنا سمجھ نہیں آتی
    موجودہ دور کے مرشد کامل سلطان العاشقین ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں