نجیب نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہوگیا | Najib Na Raha Baqi Yar Ki Zaat Main Fana Ho Gya

نجیب نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہوگیا
(Najib Na Raha Baqi Yar Ki Zaat Main Fana Ho Gya)

نجیب نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہوگیا

عشق کی اک عجب داستاں سنو!
دستک پر دستک دے رہا اک قلندر
قدم کی آہٹ پر آوازِ دستک تھم سی جاتی ہے
دروازہ کھولتے ہی والدۂ سلطان العاشقین سلام کہتی ہیں
دہلیز پر مہمان قلندر کو جلدی ہے
ننھے مہمان کا دیدار کرنے وہ آیا ہے
بچے کو پلنگ پر دیکھتا ہے جب
پڑتی ہے اس کی نظر تقدیر پر تب
قلندر سہم سا جاتا ہے اب
اور نصیحت کر کے رخصت ہوا چاہتا ہے
’’اس ننھے مہمان کے ماتھے کو چھپانا
تقدیر عیاں ہے
کہ عاشقوں کا سلطان ہے‘‘

وقت گزر رہا ہے
یہ ننھا جولائی کی تپش میں کاشت کر رہا ہے
اسے جلدی جانا ہے
آخر چائے کے اسٹال پر بھی آنا ہے
دن بھر کا تھکا ہارا وہ گھر رواں ہوتا ہے
کبھی چاند کی روشنی، کبھی موم بتی کے قریب
وہ اپنی کتابوں میں اللہ اور اس کے محبوبؐ کو تلاش کر رہا ہے
صبح سکول، شام میں کام
اور رات کو اپنی کتابوں میں کھونا، ان کا مزاج
شرارتوں کا انہیں نہیں شوق
وقت تھمتا نہیں
اور غربت میں بچپن گزر ہی جاتا ہے
کتابیں ہاتھ میں لیے، وہ جواں ہوتا ہے
مفلسی کے اس دور میں پٹرول پمپ پر کام کرتا ہے
رقم جمع کر کے پرائیویٹ گریجویشن
فرسٹ ڈویژن میں وہ پاس کرتا ہے

کلرک کی پہلی نوکری ہے
پر لاہور خالی جیب ہجرت کرتا ہے
وقت بادِ بہار میں جھومتے ہوئے پھولوں کی طرح بدلتا ہے
اور اب ان کے پاس کثیر دولت ہے
پر دل مضطرب ہے
کہاں میرا ربّ ہے؟

یہ تھا زندگی کا سفر
اب وہ مبارک لمحہ آن پہنچا
جب تقدیر بدلنے کو ہے
وہ واقف اس حقیقت سے تھے

کہ حضرت بی بی فاطمہؓ
لاڈلی ہیں آقائے دو جہاںؐ کی
آقاؐ نے کبھی نہ کی تھی ان کی درخواست ردّ
بے حساب سلام ان کو بارگاہ میں روزانہ پیش تھا وہ کرتا
آخر ایک روز رحمت کا دروازہ کھلا
نور کی بارش ہوئی
مجلسِ محمدیؐ میں تھا وہ کھڑا
آنکھوں کا یقیں دل میں سما گیا

علی المرتضیٰؓ نے تھاما ہاتھ
اور دے دیا دست ِ اقدس رسولِؐ خدا
تلاش ہوئی مکمل
جو بیعت کا لمحہ آن پہنچا
بیعت ہوئی مکمل
اور جو نگاہ ملی سفر بھی مکمل ہوگیا
آقاؐ نے فرمایا ’’تو ہمارا فرزند ہے
ہمارا وارث ہے
ہماری لخت ِ جگر نورِ نظر کو راضی کیا
ہم بھی تجھ سے راضی ہو گئے‘‘
سجدہ شکر ادا کیا
غلام کو آقاؐ نے قبول کیا
قدم بوسی کی مجلس میں اہل ِ بیتؓ و خلفائے راشدینؓ کی
جنہوں نے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا

غوث الاعظمؓ نے اجازت لی
اور لے چلے سلطان العاشقین کو باطنی تربیت کے آغاز پر
مکمل ہوئی وہ لمحہ بھر میں
پر حیرت کا عالم تھا جب ظاہری مرشد کا حکم ملا
حکم کا گہنا بھاری ہے
اسلام میں ہے حکم کا اعلیٰ مقام
پاکستان میں تلاش کا سلسلہ شروع کیا
دل مطمئن نہ ہوا کسی مرشد پر
شیروں کا لبادہ اوڑھے بھوکے شکاری کتے ملے
ایک دن پریشانی کے عالم میں نیند کا غلبہ آن پڑا
نورانی صورت والے بزرگ کو خواب میں دیکھا
تو وہ نکل پرے اس چہرے کی تلاش پر
کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا
روتے روتے نماز میں عرضِ دعا کی
’’اب تو منزل پر پہنچا دے
طاقت سے زیادہ تو تکلیف نہیں دیتا‘‘

پیرانِ پیرؓ اور سلطان باھوؒ کی طرف سے ملا اشارہ
پہنچے وہ دربارِ سلطان باھوؒ پر
دعا کا دامن نہ چھوڑا
مدد کا طلب گار رہا
باھوؒ نے کی مدد اور لے چلے سلطان الفقر ششمؒ کی مجلس میں
کیا دیکھا کہ سلطان العاشقین حیران ہو گئے
بزرگ جو خواب میں تھے ملے، وہ تھے سامنے
اور ’’عشق نے نچایا کر کے تھیا تھیا‘‘ کا انوکھا سفر شروع ہوگیا
رازداری کی بات لکھی جا رہی ہے
اسے راز ہی رکھنا
سلطان الفقر ششمؒ کے دیدار پر
سلطان العاشقین نے کہہ دیا ’’اوّل آخر یکساں ہوگیا‘‘

جاں، مال و جائیداد قدموں میں لا کر رکھ دی
اپنی گاڑی بیچی، محبوب کی خریدی
اپنی جائیداد سے ان کی زمین خریدی اور گھر سجایا
لباس عمدہ خریدنا اور ادویات وقت پر پہنچانا ان کا معمول تھا
وقت بھی محبوب کے نام کیا
ان کی جماعت کے کام میں رضا کو تلاش کیا
سلطان العاشقین نے عشق کی داستاں رقم کی
اور ادب کا دامن کبھی نہ چھوڑا
سلطان الفقرؒ نے کہہ دیا ’’نجیب بھائی کا تو یہ حال ہے
کہ سر ِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے‘‘
آخر ایسا کیوں نہ ہوتا
سلطان العاشقین سے محبوب میں وقت کا اوّل آخر یکساں ہوتاجو دیکھ لیا
وہ وقت بھی آگیا
’’نجیب نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہوگیا‘‘ (Najib Na Raha Baqi Yar Ki Zaat Main Fana Ho Gya)

اللہ، خاتم النبیینؐ اور ان کے محبوبین نے
مال و خاندان بلکہ سب کچھ سلطان العاشقین کو کیا برکت والا دگنا عطا
پر رکھی ایک چیز اپنے پاس
او ر وہ تھی ان کی صحت

دیکھتا ہے خدا بھی بار بار
سلطان العاشقین کی گرتی ہوئی صحت
میں ہر وہ لمحہ
جو انہوں نے عشق میں اس کے نام کیا

(Najib Na Raha Baqi Yar Ki Zaat Main Fana Ho Gya)

اپنا تبصرہ بھیجیں