رازِ پنہاں | Raaz-e-Pinha

رازِ پنہاں (Raaz-e-Pinha)

صاحبزادی منیزہ نجیب سروری قادری

ذاتِ حق تعالیٰ باطن کی تہہ یعنی بطون در بطون خزانے کی طرح اپنی ہی ذات کے پردوں میں پوشیدہ تھی۔ کوئی معرفت کے سمندر کو عبور کر کے اللہ ربّ العزت کو ’’ھوُ‘‘ کہنے والا نہ تھا۔ ذاتِ یزداں میں اپنے آپ کو دیکھنے کی خواہش کلی کی چٹخ کی مانند بصورتِ عشق ظاہر ہوئی۔ لاموجود کائنات کی کسی شے کی کیا مجال و بساط کہ ذاتِ حق تعالیٰ کا آئینہ کہلائے۔ تب ذاتِ باری تعالیٰ نے اپنے نور سے نور جدا کیا اور اس کامل و مکمل نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi saww)  کے سامنے آکر پہلی نعمت یعنی دیدار بخشا۔ ربّ العزت اس آئینہ پر فریفتہ ہوگیا جو ظلمت سے پاک اور سراپا جمال تھا۔ عشق کی تڑپ نے اس آتش فشاں منظر کو رنگت بخشی اور کائنات وجود میں آئی۔

ذاتِ کبریا کا نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi saww) کے آئینہ میں دیدار کرنا ہی کائنات کا اسرار ہے کیونکہ سوائے نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi saww) کے کسی کو بلاواسطہ دیدار کی طاقت نہ دی گئی۔ بالکل اسی طرح جیسے حضرت موسیٰؑ کے ہمراہ ان کے امتی دیدار کی خواہش کی بجائے دلوں میں بغض چھپا کر گئے تھے اس لیے وہ جل کر خاک ہو گئے اور کوہِ طور ریزہ ریزہ ہو گیا جبکہ حضرت موسیٰؑ نے پہلے مومن (بحوالہ سورۃ الاعراف۔143) ہونے کا اقرار کیا (یعنی ربّ کو دیکھا)۔(مزید تفصیلات کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کی تصنیف مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ کے باب ’’دیدارِ الٰہی‘‘ کا مطالعہ کریں۔)

دیدار کے کچھ اصول مخفی سیاہی سے تحریر کیے گئے۔ دنیا کی رنگینیوں اور عقبیٰ کے ڈر اور آرزو نے انسانی روح کو سیاہ کر ڈالا۔ ایک اصول اسی پوشیدہ سیاہی نے تزکیہ کا تحریر کیا۔ دل کی تاریکی کو دور کرنے کے لیے انبیا و مرسلین کی صورت میں انسانِ کامل بھیجے گئے اور ختمِ نبوت کے بعد فقرا کاملین۔ 

آقائے دوجہان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے جو امتی اُن کے عشق میں فریفتہ تھے ان کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق فنا کی نوری(Noori) تجلی بخشی اور اچھی بری شخصیت کا دھول و غبار دھو ڈالا۔ پھر آقائے دو جہان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے آئینے کا عکس ان فقرا کاملین کے آئینہ پر ڈال دیا یعنی بقا و دیدار کی نعمت عطا کی تو ان کو اپنے اپنے زمانے کا ولی بنا ڈالا جو عشق، عاشق اور معشوق کا فرق ختم کر کے طالبانِ مولیٰ کو سراپا تو حید بناتے ہیں اور وحدت الوجود کے آئینہ کا جام اپنی خانقاہوں میں عام کرتے ہیں۔

دیدار خاص کے لیے عام ہے
اعتراض شقی کا کام ہے

عشق کی تپش کی وجہ سے رحیم و کریم پروردگار عزوجل نے کائنات میں مومن کے قلب میں نزول فرمایا تو دوسری جانب سلطانِ معراج آقائے دو جہان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فانی دنیا کو سجدۂ عشق کی خاطر چھوڑ کر انسانی معراج کی انتہا کر دی کہ قلب ربّ العزت کے سوا کسی طرف مائل نہ ہوا۔ انبیا کی ارواح اور فرشتوں سے ملاقات کی۔ سدرۃ المنتہیٰ، جنت، عرش و فرش اور تخت کو سجا دیکھا لیکن نگاہ منزل پر ہی رہی حتیٰ کہ عاشقان کو بے آواز ندا آئی کہ معراج ایک راز تھا اور راز ہی رہے گا۔ گو حقیقتِ حال تو یہ ہے کہ جید صحابہ ؓاس سفرکے اسرار و رموز پر خاموشی کے ساتھ گفتگو فرماتے رہے اور یہی حال ان کے بعد فقرا کاملین کا رہا۔

فنا اور بقا کا یہ علم آج بھی زندہ ہے۔ آخر کیوں نہ ہو؟ یہ علم اس سے ہے، اس کا ہے اور اس میں ہے۔ یہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اگر دیکھا جائے تو فنا بظاہر بقا کی ضد معلوم ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ دونوں مراحل ایک دوسرے سے مربوط ہیں جو تکمیلِ باطن کے لیے ازحد ضروری ہیں۔ فنا کی تکمیل بقاسے ہے۔ اگر طالب فنا فی الشیخ کی منازل طے کرتا ہوا فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ ہو جائے اور بقا پا لے تب وہ حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کے الفاظ کے مطابق ’’ذات‘‘ ہو جاتا ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ:

عبد دیگر عبدہٗ چیزے دگر
ما سراپا انتظار او منتظر
(جاوید نامہ)

ترجمہ: ’عبد‘ (عام انسان) اور ہے اور ’عبدہٗ‘ اور ہے۔ ’عبد‘ اور ’عبدہٗ‘ میں فرق یہ ہے کہ عبد خدا کی توجہ کا منتظر رہتا ہے اور عبدہٗ کی شان یہ ہے کہ اللہ خود دیکھتا رہتا ہے کہ میرا عبدہٗ کیا چاہتا ہے۔

آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی شان یہ ہے کہ دورانِ معراج حضرت جبرائیلؑ کے ساتھ سفر کیا، انبیاؑنے آپؐ کی اقتدا میں نماز ادا کی، جہاں جبرائیلؑ رک گئے وہاں آپؐ نے اپنے جذبۂ عشق کی بدولت سفر کیا، دیدار ہوا لیکن اس سب کے باوجود آپؐ نے اپنے آپ کو ’’اَنا عبدہٗ‘‘ کہاجبکہ منصورؒ حلاج نے صرف فنا پرہی سکر و مستی میں گم ہو کر ’’انا الحق‘‘ کہہ ڈالا یعنی اس دنیا کی کوئی بھی برگزیدہ شخصیت آقائے دو جہان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی معراج کے اسرار کی پیچیدگیوں اور گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ انہی گہرائیوں میں کہیں لکھا ہے کہ انتہا ابتدا تک پہنچ جانے کا ہی نام ہے۔( حدیث مبارکہ  ’’اَلنِّھَایَۃُ ھُوَ الرُّجُوْعُ اِلَی الْبِدَایَۃِ ترجمہ: انتہا ابتدا کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ کی طرف اشارہ ہے۔)

 جیسے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اپنی ابتدا تک پہنچ چکے ہیں۔ آخر سفر ھاھویت سے شروع ہوا اور وہیں انسانِ کامل کاختم ہوتا ہے۔
بے شک سلطان العاشقین کی روح ذاتِ کبریا کے آئینہ کا عکس ہے اور یہ ان کے آقاؐ کا فیض ہے جسے چاہا عطا کر دیا۔ دیدار عام ہے۔ یہ سلطان العاشقین(Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کی لازوال مہربانیوں میں سے ایک بے انتہا کرم نوازی ہے۔ سلطان العاشقین(Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اللہ کی ذات میں ایسے فنا ہوئے کہ ’مرنے سے پہلے مرجاؤ‘ کی منازل طے کر ڈالیں۔ آپ کا صرف ظاہری جسم باقی رہا اور کچھ باقی نہ رہا۔ بقول حضرت سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)’’(یہ) جسم ایک ضعیف پردے کی طرح درمیان میں حائل ہے مگر وہ (ذاتِ باری تعالیٰ) اس کے درمیان عجیب راز اور نادر نکتے ظاہر فرما رہا ہے۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)

جیسے حضرت سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) ایک صادق طالبِ مولیٰ کو ہوشیار کہتے ہیں تو دوسری طرف اپنی کتب میں مرشد کو کلیدِکلُ لکھتے ہیں جو اسرار و رموز کا گنج ہے۔ سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) گنج کیسے نہ ہوں! حیران کن بات ہے کہ محبت رکھنے والے طالب کے سامنے مخلص تو کبھی مخلص کے سامنے دانا، کبھی نادان طالب کے سامنے نادان کی نازِ ادا تو کبھی دانا کے سامنے معصوم۔ ان کے کئی مزاج اور رنگ ہیں لیکن عشقِ مصطفیؐ کا رنگ ایسا پختہ ہے کہ عاشقوں کے سامنے گھونگھٹ اٹھ جاتا ہے، ذات بے پردہ دید کو رلا دیتی ہے۔ یہ کیسا کمال ہے، یہ کیسا بھید ہے۔

سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے پردہ میں ذاتِ کبریا کا پردہ اٹھنا پھر آپ کی نگاہوں کا نگاہوں سے ملنا۔ تزکیہ ہوگیا۔۔۔ سینہ روشن ہوگیا۔۔۔ ایک بے آواز نصیحت کاالہام کی صورت میں دل کو جکڑنا، ’’خاموش رہنا منصور حلاجؒ نہ بننا، آخر بقا کا سفر ابھی باقی ہے۔‘‘ بھید کو بھید تو رکھنا ہے، پر تھوڑا سا تو عام کرنا ہے۔ 

اگر کوئی طالبِ حق اس بات کاقائل ہے کہ خود شناسی میں ہی خدا شناسی ہے تب یقینا اسے مردِ مومن امامِ حق سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) سے بیعت کرلینی چاہیے کیونکہ اللہ عزوجل نے تقدیر لکھ کر قلم توڑ دیا ہے۔ کیا ہم اس ذات سے (نعوذ باللہ) زیادہ جانتے ہیں کہ ہمارے لیے اچھا کیا ہے اور برا کیا۔ ہرگز نہیں! یاد رکھیں کہ تقدیر بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک دنیاوی اوردوسری وہ جس کو ہم نے خود قلمبند کرنا ہے اور وہ کون سی تقدیر ہے؟ بلاشبہ اللہ کی پہچان، دیدار اور قرب ہی تو ہے۔

میرے آقا سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے قلب و روح پر وہ قدیم تجلی وارد ہے جس کے بارے میں مشہور بالمعروف ہے کہ وہ انسان کو کامل اور عالمِ کبیر بنا دیتی ہے اور عالم کو محض صغیر کر دیتی ہے۔ میرے مرشد سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) علامہ ابنِ عربی کے اس قول کا عکس ہیں ’’ہر عین ثابتہ پر تجلی خاص ہوتی ہے۔ اور وہ اس کے محاورے میں اس کا ربّ کہلاتی ہے۔ اور عین ثابتہ اس کا مظہر وبندہ کہلاتا ہے۔ تجلی الوہیت ربّ الارباب اور جامع جمیع صفات ہے تو اس کا بندہ اس کا مظہر بھی عین الاعیان اور عین محمدی ہے تمام اوصاف و تجلیاتِ الوہیت کے تفاصیل۔ تو تمام اعیان بھی عین الاعیان کے تفاصیل ہیں۔

مجھ کو میری بندگی مبارک
تجھ کو تیری شانِ کبریائی
(فصوص الحکم)

سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) دل کو بدلتے اور عشق کے حقائق دل پر کھولتے ہیں۔ پہلے یہ صرف خاص میں عام تھا، اب ہر عام کے لیے یہ خاص علم ہے۔ آپ معرفتِ صفاتی کی وادیوں سے گزارتے ہوئے معرفتِ ذاتی کے سمندر تک پہنچا کر اسرارِ توحید کو عیاں کر دیتے ہیں اور اس کے بند قفل کھول دیتے ہیں۔  

وصال و دیدار کا یہ علم سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے۔ اس دور میں اس خزانے کی کلید سلطان العاشقین ہی ہیں جو دیدار کے بعد مصور ہونے کا ہنر واپس لے لیتے ہیں، زبان گنگ رہ جاتی ہے اور الفاظ کے دریا خشک ہو جاتے ہیں۔ سوائے مثالوں کے کچھ نہیں رہتا۔ کائنات کو جو نور (Noor) روشن کیے ہوئے ہے وہ میرے مرشد کے دل میں چمک رہا ہے اور یہ نور، نورِ محمدی (Noor-e-Mohammadi saww) کا ہی پرتو ہے کیونکہ آپ قدمِ محمدیؐ پر ہیں۔ سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فقیر مالک الملکی ہیں۔ آپ ہی کامل اکمل مکمل مرشد جامع نور الہدیٰ ہیں۔ آپ نے زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فقر و تصوف کی دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے کہ عقل و شعور رکھنے والے انسان دنگ ہیں اور بے اختیار آپ کو اپنا مرشد و ہادی تسلیم کر لیتے ہیں۔ آخر ایسے مرشد کی تعریف کا حق کیسے ادا کریں جن کے احسانات بے پناہ ہیں۔ لیکن بدبخت اور بے ادب لوگوں کو اپنے اندھے پن اور بدنصیبی کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ 

بے ادباں ناں سار ادب دی، گئے ادباں توں وانجے ھوُ

مفہوم: بے ادب لوگوں کو مقامِ ادب کی خبر، پہچان اور شعور نہیں ہے۔ یہ وہ بدنصیب ہیں جو اپنی بے ادبی اور شقاوت کی وجہ سے وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں کر سکتے جو باادب حاصل کر لیتے ہیں۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

ہمیں اس بات کا تو یقین ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر لمحہ ہمیں دیکھ رہا ہے لیکن حق الیقین کے ساتھ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زندگی میں ہمیں اس ذات کی ایک جھلک بھی نصیب ہوئی۔
وَ مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی  (سورۃ بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ: جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) اندھا رہے گا۔

ابھی بھی وقت ہے۔ ایسی کامل ہستی کے دامن سے وابستہ ہو جانے میں ہی فلاح اور نجات ہے۔ اَتَصْبِرُوْنَ ج وَ کَانَ
رَبُّکَ بَصِیْرًا 
 ترجمہ: کیا تم صبر کیے بیٹھے ہو؟ اور تمہارا ربّ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

 

43 تبصرے “رازِ پنہاں | Raaz-e-Pinha

  1. اللہ پاک آقا پاک ﷺ کا صدقہ ہمیں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی پہچان نصیب فرمائے آمین❤

  2. سلطان العاشقین دل کو بدلتے اور عشق کے حقائق دل پر کھولتے ہیں۔ پہلے یہ صرف خاص میں عام تھا، اب ہر عام کے لیے یہ خاص علم ہے۔ آپ معرفت ِصفاتی کی وادیوں سے گزارتے ہوئے معرفتِ ذاتی کے سمندر تک پہنچا کر اسرارِ توحید کو عیاں کر دیتے ہیں اور اس کے بند قفل کھول دیتے ہیں۔ ❤❤❤❤😍😍😍😍🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

  3. سلطان العاشقین دل کو بدلتے اور عشق کے حقائق دل پر کھولتے ہیں۔ پہلے یہ صرف خاص میں عام تھا، اب ہر عام کے لیے یہ خاص علم ہے۔ آپ معرفت ِصفاتی کی وادیوں سے گزارتے ہوئے معرفتِ ذاتی کے سمندر تک پہنچا کر اسرارِ توحید کو عیاں کر دیتے ہیں اور اس کے بند قفل کھول دیتے ہیں۔

  4. سلطان العاشقین اللہ کی ذات میں ایسے فنا ہوئے کہ ’مرنے سے پہلے مرجاؤ‘ کی منازل طے کر ڈالیں۔ آپ کا صرف ظاہری جسم باقی رہا اور کچھ باقی نہ رہا۔

  5. سلطان العاشقین دل کو بدلتے اور عشق کے حقائق دل پر کھولتے ہیں۔ پہلے یہ صرف خاص میں عام تھا، اب ہر عام کے لیے یہ خاص علم ہے۔ آپ معرفت ِصفاتی کی وادیوں سے گزارتے ہوئے معرفتِ ذاتی کے سمندر تک پہنچا کر اسرارِ توحید کو عیاں کر دیتے ہیں اور اس کے بند قفل کھول دیتے ہیں۔

  6. سلطان العاشقین دل کو بدلتے اور عشق کے حقائق دل پر کھولتے ہیں۔ پہلے یہ صرف خاص میں عام تھا، اب ہر عام کے لیے یہ خاص علم ہے۔ آپ معرفت ِصفاتی کی وادیوں سے گزارتے ہوئے معرفتِ ذاتی کے سمندر تک پہنچا کر اسرارِ توحید کو عیاں کر دیتے ہیں اور اس کے بند قفل کھول دیتے ہیں۔

  7. عبد دیگر عبدہٗ چیزے دگر
    ما سراپا انتظار او منتظر
    (جاوید نامہ)
    ترجمہ: ’عبد‘ (عام انسان) اور ہے اور ’عبدہٗ‘ اور ہے۔ ’عبد‘ اور ’عبدہٗ‘ میں فرق یہ ہے کہ عبد خدا کی توجہ کا منتظر رہتا ہے اور عبدہٗ کی شان یہ ہے کہ اللہ خود دیکھتا رہتا ہے کہ میرا عبدہٗ کیا چاہتا ہے۔

  8. سلطان العاشقین دل کو بدلتے اور عشق کے حقائق دل پر کھولتے ہیں۔ پہلے یہ صرف خاص میں عام تھا، اب ہر عام کے لیے یہ خاص علم ہے۔ آپ معرفت ِصفاتی کی وادیوں سے گزارتے ہوئے معرفتِ ذاتی کے سمندر تک پہنچا کر اسرارِ توحید کو عیاں کر دیتے ہیں اور اس کے بند قفل کھول دیتے ہیں۔

  9. مضمون کا ایک ایک حرف مضمون نگار کی خدادادی بصارت و بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور حق اور سچ کی خوشبو سے مزین ہے

  10. تحریر میں ربط اور ولفظ کی ادائیگی بہت بہترین ہےاور شاندار اندازمیں سلطان العاشقین کا بلندمرتبہ بیان کیا گیا ہے۔

  11. بے شک سلطان العاشقین کی روح ذاتِ کبریا کے آئینہ کا عکس ہے ❤️

  12. ترجمہ: جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) اندھا رہے گا۔

  13. سلطان العاشقین دل کو بدلتے اور عشق کے حقائق دل پر کھولتے ہیں۔ پہلے یہ صرف خاص میں عام تھا، اب ہر عام کے لیے یہ خاص علم ہے۔ آپ معرفت ِصفاتی کی وادیوں سے گزارتے ہوئے معرفتِ ذاتی کے سمندر تک پہنچا کر اسرارِ توحید کو عیاں کر دیتے ہیں اور اس کے بند قفل کھول دیتے ہیں۔

  14. وصال و دیدار کا یہ علم سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے۔ اس دور میں اس خزانے کی کلید سلطان العاشقین ہی ہیں جو دیدار کے بعد مصور ہونے کا ہنر واپس لے لیتے ہیں، زبان گنگ رہ جاتی ہے اور الفاظ کے دریا خشک ہو جاتے ہیں۔ سوائے مثالوں کے کچھ نہیں رہتا۔ کائنات کو جو نور روشن کیے ہوئے ہے وہ میرے مرشد کے دل میں چمک رہا ہے اور یہ نور، نورِ محمدی کا ہی پرتو ہے کیونکہ آپ قدمِ محمدیؐ پر ہیں۔ سلطان العاشقین فقیر مالک الملکی ہیں۔ آپ ہی کامل اکمل مکمل مرشد جامع نور الہدیٰ ہیں۔
    Beshaq haq farmaya gai.

  15. ترجمہ: جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) اندھا رہے گا۔

  16. فنا اور بقا کا یہ علم آج بھی زندہ ہے۔ آخر کیوں نہ ہو؟ یہ علم اس سے ہے، اس کا ہے اور اس میں ہے۔ یہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اگر دیکھا جائے تو فنا بظاہر بقا کی ضد معلوم ہوتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں