ایمان کی حقیقت | Iman ki haqeeqat

ایمان کی حقیقت (Iman ki haqeeqat)

تحریر: محترمہ فقیہہ صابر سروری قادری ۔ رائیونڈ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ  (سورۃ النسائ۔ 136)
ترجمہ: اے ایمان (Iman)  والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ 

اس دنیا میں سب سے قیمتی اثاثہ جو کسی کو عطا کیا گیا ہے وہ ہے دولتِ ایمان۔ اگر انسان کے پاس دنیا کی کوئی شے نہ ہو مگر ایمان ہے تو وہ کنگال نہیں۔ دنیا کی تمام آسائشیں اس کی دہلیز پر ہوں مگر ایمان سے محروم ہے تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔
آج کے اس پُرفتن دور میں ایمان کی حقیقت سے آشنا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں ایک صورت اور ایک حقیقت۔ ایمان(Iman) کی صورت یعنی لفظ ایمان (Iman) سے ہر کوئی واقف ہے مگر ایمان کی حقیقت کو کم ہی لوگ جانتے ہیں۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا فرمانِ عالیشان ہے:
میری امت پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اسلام کا صرف نام ہی رہ جائے گا، لو گ مسلمان تو ہوں گے مگر نام کے۔ حقیقتِ ایمان سے بہت دور چلے جائیں گے۔ صرف ان کو لفظ ایمان (Iman) سے آشنائی ہو گی۔

آج کل ہر کوئی خود کو ایمان (Iman) والا تصور کرتا ہے۔ علمائے ظاہر اپنے علم کی وجہ سے خود کو مومن سمجھتے ہیں اور عابد و زاہد اپنے اعمال اور عبادات کی وجہ سے خود کو ایمان (Iman) والا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایمان (Iman) کی بنیاد نہ ہی علم سے ہے اور نہ ہی عمل سے۔ البتہ ایمان (Iman) ہو تو علم مقبول ہو جاتا ہے۔ علم کو نور ایمان ہی بناتا ہے۔ اسی طرح عمل ایمان (Iman) کا ذریعہ نہیں بنتا بلکہ ایمان عمل کی مقبولیت کا ذریعہ بنتا ہے۔مطلب یہ کہ ایمان کے بغیر نہ تو علم کی کوئی حقیقت ہے نہ عمل کی۔یا یوں کہہ لیجئے کہ ایمان علم و عمل کی بے رنگ تصویر میں رنگ بھر دیتا ہے۔

ایمان اور علم

ایمان (Iman) کے لیے علم ضروری نہیں اور نہ ہی ہر عالم مومن ہوتا ہے مگر مومن صاحبِ علم ضرور ہوتا ہے۔
خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فرمایا ’’جاہل عالم سے ڈرو۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا ’’جاہل عالم کون ہوتا ہے؟‘‘ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad SAWW) نے فرمایا ’’جو زبان کا عالم ہو مگر دل کا جاہل ہو۔‘‘  (بحوالہ قربِ دیدار)

اگر ایمان (Iman) کا دار و مدار ظاہری علم پر ہوتا تو دنیا میں کوئی بھی صاحبِ علم کافر نہ ہوتا۔ کتنے ہی ایسے علم والے ہیں جو علم کی بدولت چاند پر پہنچ گئے، علم کی بدولت اس قدر ترقی کر لی کہ دنیا پر حکومت کرنے لگے لیکن یہ انتہائی علم بھی انہیں ایمان (Iman) کے قریب نہ لاسکا۔ علم جاننے کو کہتے ہیں اگر جاننے سے ایمان (Iman) آتا ہو تو ابوجہل ضرور ایمان (Iman) لے آتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صادق اور امین ہیں، اس لیے آپ کا نبوت کا دعویٰ سچا ہے لیکن یہ جاننا اسے مومن نہ بنا سکا۔

المنہاج السّوی میں لکھا ہے:
اگر ایمان (Iman) کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے حبیبؐ کو روم میں بھیجتا جہاں اُس وقت سب سے زیادہ علم تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اَن پڑھوں میں مبعوث فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًامِّنْھُمْ  (سورۃ الجمعہ۔2)
ترجمہ: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔

ایمان (Iman) کے بغیر تمام علم بے سود ہے۔ کئی مشرق سے مغرب تک کا علم حاصل کرنے والے ایمان سے محروم ہیں اور کئی اَن پڑھ سادہ لوگ صاحبِ ایمان ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے کسی اسکول یا مدرسے سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی مگر صاحبِ ایمان اور سلطان العارفین تھے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے متعلق فرماتے ہیں:
مجھے اور محمد عربیؐ کو ظاہری علم حاصل نہیں تھا لیکن وارداتِ غیبی کے سبب علم ِ باطن کی فتوحات اس قدر تھیں کہ اس کے لیے کئی دفاتر درکار ہیں۔ (عین الفقر)

آپ رحمتہ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

گرچہ نیست ما را علم ظاہر
ز علم باطنی جاں گشتہ طاہر

ترجمہ: اگرچہ میں نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا تاہم علم ِباطن حاصل کر کے میں پاک و طاہر ہو گیا اس لیے جملہ علوم میرے جسم میں سما گئے۔ (عین الفقر)

جس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم علم و حکمت اور دانش کا منبع ہیں بالکل اسی طرح حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری تعلیم و تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن آپؒ کی 140 تصانیف ہیں جو علمِ لدنیّ کا شاہکار ہیں۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ صرف ظاہری علم حاصل کرنے والوں کے لیے فرماتے ہیں:

پڑھ پڑھ علم کرن تکبر، حافظ کرن وڈیائی ھوُ
گلیاں دے وچ پھرن نمانے، وتن کتاباں چائی ھوُ
جتھے ویکھن چنگا چوکھا، اوتھے پڑھن کلام سوائی ھوُ
دوہیں جہانیں سوئی مٹھے باھوؒ، جنہاں کھادی ویچ کمائی ھوُ

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ظاہری علم سے تکبر پیدا ہوتا ہے۔ ایسے علم والے بس قیل و قال میں ہی پھنسے رہتے ہیں۔ ابلیس سب سے بڑا عالم تھا، فرشتوں کا استاد تھا لیکن علم، اَنَا اور تکبر نے اسے قربِ الٰہی اور حضوری سے دور کر دیا اور اسے لعنت کا طوق ملا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور بے شک تجھ (شیطان) پر روزِ قیامت تک میری لعنت رہے گی۔ (سورۃ صٓ۔78)

ایمان اور عمل 

ایمان (Iman) کی بنیاد اعمالِ صالح ہرگز نہیں کیونکہ اگر ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ صحابہ مومن پہلے تھے اور نماز، روزہ جیسی دیگر عبادات بعد میں فرض ہوئیں۔ اعمالِ صالح کی مقبولیت کا دار و مدار ایمان پر ہے ورنہ سب اعمال رائیگاں ہیں۔

بخاری و مسلم میں ہے:
حضرت ابو سعید خدریؓ روایت فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (جنگِ حنین کا مالِ غنیمت) تقسیم فرما رہے تھے اتنے میں بنی تمیم کا ذوالخویصرہ نامی ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فرمایا ’’افسوس! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو دنیا میں پھر کون انصاف کرے گا۔ اگر میں ظالم ہو جاؤں تب تو میری بھی تباہی اور بربادی ہو جائے۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! اس کے بارے میں مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے فرمایا ’’اسے چھوڑ دو۔ اس کے جوڑ کے کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل ناچیز سمجھو گے، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے زور دار تیر جانور سے پار ہو جاتا ہے۔  (صحیح بخاری3610)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet  Mohammad pbuh) کے زمانے میں عبداللہ بن ابی جو سب سے بڑا منافق تھا وہ ظاہری تمام اعمال کرتا تھا لیکن یہ اعمال اسے مومن نہ بنا سکے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam)نے فرمایا:
میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ مسجدوں میں جمع ہوں گے مگر خدا کی قسم ان میں مومن ایک بھی نہیں ہو گا۔ (مسلم و بخاری)
باطن کو روشن کئے بغیر صرف ظاہری اعمال ریاکاری کا درجہ رکھتے ہیں۔حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ظاہری اعمال سے دل ہرگز پاک و طاہر نہیں ہوتا جب تک اعمالِ باطن نہ کیے جائیں جیسا کہ تصور اسمِ اللہ ذات، جس سے اللہ کی نظر ِ رحمت حاصل ہوتی ہے۔ (قربِ دیدار)

آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

سے روزے سَے نفل نمازاں، سَے سجدے کر کر تھکے ھُو
سَے واری مکے حج گزارن، دل دی دوڑ ناں مکے ھُو
چلے چلہیے جنگل بھون، اس گل تھیں ناں پکے ھوُ
سبھے مطلب حاصل ہوندے باھوؒ، جد پیر نظر ایک تکے ھوُ

٭٭٭٭٭

باجھ حضوری نہیں منظوری، توڑے پڑھن بانگ صلاتاں ھوُ
روزے نفل نماز گزارن، توڑے جاگن ساریاں راتاں ھوُ
باجھو قلب حضور نہ ہووے، توڑے کڈھن سے زکاتاں ھوُ
باجھ فنا رب حاصل ناہیں باھو، ناں تاثیر جماتاں ھوُ

حضورِ قلب صرف مومن کو نصیب ہوتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ عمل نہ ایمان (Iman) کو لاتا ہے اور نہ بچاتا ہے ہاں اگر ایمان (Iman) ہو تو تمام اعمالِ صالح قبولیت کا درجہ رکھتے ہیں۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں 52مرتبہ یہ الفاظ دہرائے ہیں  اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰت  یعنی ایمان لاؤ اور اعمالِ صالح کرو۔ ان الفاظ کی ترتیب پر غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہر مرتبہ پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا پھر اعمالِ صالح کا یعنی پہلے مومن بنو پھر اعمالِ صالح اختیار کرو۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اعمالِ صالح تب ہی منظور و مقبول ہوں گے جب ایک مسلمان ایمان (Iman) کی دولت سے لبریز ہو کر مومن کے درجے پر فائز ہو جائے گا۔ مگر افسوس ہمارے ہاں بڑے بڑے عالم، فاضل،زاہد و متقی بھی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اپنے اعمال کو ایمان  (Iman)کی بنیاد سمجھتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ جتنی زیادہ عمل میں زیادتی ہوگی اتنا ہی ایمان مضبوط ہوگا جو کہ مذکورہ بالا قرآنی آیات کے برعکس ہے۔

ایمان کی حقیقت

ایمان (Iman) کی بنیاد محبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ یہ ایسا پاکیزہ جذبہ ہے کہ جب دل میں پیدا ہوتا ہے تو تمام غیر اللہ کو دل سے نکال دیتا ہے۔
ایک دن آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے ایک جوان صحابی سے پوچھا ’’اے حارثؓ! بتا تیری صبح کیسے ہوتی ہے؟‘‘حضرت حارث بن مالکؓ نے جواب دیا ’’آقا میں نے حقیقتِ ایمان کے ساتھ صبح کی۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فرمایا ’’اے حارث! سوچ کیا کہہ رہے ہو؟ بتا تیرے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟‘‘ جواب دیا ’’آقا! میرے ایمان (Iman) کی حقیقت یہ ہے کہ میرا نفس دنیا سے بے رغبت ہو گیا ہے۔ جب سے میرا دل دنیا سے بے رغبت ہوا ہے میں راتوں کو بیدار رہتا ہوں، نیند نہیں آتی، دنیا سے بیزار ہو گیا ہوں۔ میرا سارا دن پیاس میں گزرتا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ سر اٹھاتا ہوں تو اللہ کا عرش بھی صاف نظر آتا ہے۔ میں اہلِ جنت کو ایک دوسرے کی زیارت کرتا، ملاقات کرتا دیکھتا ہوں اور دوزخیوں کو تکلیف سے چلاتے دیکھتا ہوں۔‘‘ جب یہ بیان کیا تو آقاپاک علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فرمایا ’’اے حارث! تو عارف ہو گیا، صاحبِ معرفت ہو گیا۔ اب اس کو تھامے رکھ، چمٹ جا۔ ایمان (Iman) کی حقیقت کو تو نے پہچان لیا ہے۔‘‘ ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ (طبرانی، شعب الایمان)
دنیا سے بے رغبتی ہی مومن کی نشانی ہے۔ مومن جو بھی عمل کرتا ہے اس میں صرف رضائے الٰہی کی نیت ہوتی ہے اسی لیے وہ مقبول ہوتا ہے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
مومن وہ ہے جس کے ظاہر و باطن میں کوئی اختلاف نہ ہو اور جس کا دل عشق ِحقیقی کی لذت سے لبریز ہو۔ جب بندۂ مومن عشق  میں فنا ہو کر خود کو رضائے الٰہی میں غرق کر لیتا ہے تو پھر وہ ’’صبغۃ اللّٰہ ‘‘ یعنی اللہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا صفاتی رنگ اس پر اس قدر چڑھ جاتا ہے کہ وہ رہتا تو عبد ہی ہے لیکن اس کی ماہیت بدل جاتی ہے وہ بندہ رہتے ہوئے بھی دلیلِ حق بن جاتا ہے۔

آج کے پُر فتن دور میں لوگ اللہ اور اس کے حبیبؐ کی محبت جو کہ ایمان کا ذریعہ ہے، حاصل کرنے کی بجائے صرف ظاہری عبادات پر زور دیتے ہیں اور پھر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم مومن ہیں۔

امام بخاریؒ ’کتاب الایمان‘ میں ایک تابعی کا قول نقل کرتے ہیں ؔ’’میں نے تیس صحابہؓ سے ملاقات کی، میں نے ہر ایک کو ایمان (Iman) کے بارے میں سخت فکرمند پایا۔ ہر شخص کی آرزو تھی کہ ہمارا ایمان سلامت رہے۔‘‘

جنہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی صحبت کا نور پایا، آقا پاک علیہ الصلوٰۃوالسلام کے دامن سے نکلنے والی خاص نورانی تجلیات کو اپنے اندر جذب کیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی صحبت کے اجالوں میں زندگی کے قرینے سیکھے وہ بھی اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں معاملہ خراب نہ ہو جائے۔ صحابہ کرامؓ ہر وقت اپنے قلوب کو عشقِ رسولؐ سے مزیّن رکھتے تھے۔ یہی ایمان کی حقیقت ہے۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کا عشق کسی سکول و مدرسے سے نہیں ملتا بلکہ یہ مرشد کامل اکمل کی نگاہ سے ملتا ہے۔

علامہ اقبالؒ جاوید نامہ میں فرماتے ہیں:

دین نگردد پختہ بے آدابِ عشق
دین بگیر از صحبت اربابِ عشق

ترجمہ: آدابِ عشق کے بغیر دین کی کنہ حاصل نہیں ہوتی اور اصل دین اربابِ عشق(مرشد کامل) کی صحبت و نگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔

علامہ اقبالؒ مرشد کی صحبت کی اہمیت بیان فرماتے ہیں:

صد کتاب آموزی از اہل ہنر
خوشتر آں درسی کہ گیری از نظر

ترجمہ: اگر تو اہلِ علم سے سو کتابیں پڑھ لے تو اس کی نسبت وہ ایک درس بہت بہتر ہے جو تو کسی (مرشد کامل) کی نظر سے حاصل کرے۔ (فقر اقبالؒ)

ایمان (Iman) کا ذریعہ صرف مرشد کامل اکمل کی ذات ہے۔ یہی وہ ہستی ہے جو طالبانِ مولیٰ کے قلوب کو اسمِ اللہ ذات کے نور سے روشن اور منور فرماتی ہے۔

آج کے اس مادہ پرست دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اسمِ اللہ ذات کا فیض عام فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت سے عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نصیب ہوتا ہے جو کہ حقیقتِ ایمان کا ذریعہ ہے۔ اللہ ربّ العزت ہمیں مرشد کامل اکمل کی صحبت نصیب فرمائے۔ آمین

استفادہ کتب
۱۔ عین الفقر؛ تصنیف از سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۲۔ قربِ دیدار؛ تصنیف ایضاً
۳۔ فقر اقبالؒ؛ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۴۔ المنہاج السوّی؛ تصنیف ڈاکٹر طاہر القادری
٭٭٭٭٭٭

 
 

34 تبصرے “ایمان کی حقیقت | Iman ki haqeeqat

  1. ایمان (Iman) کا ذریعہ صرف مرشد کامل اکمل کی ذات ہے۔ یہی وہ ہستی ہے جو طالبانِ مولیٰ کے قلوب کو اسمِ اللہ ذات کے نور سے روشن اور منور فرماتی ہے۔

  2. حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا فرمانِ عالیشان ہے:
    میری امت پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اسلام کا صرف نام ہی رہ جائے گا، لو گ مسلمان تو ہوں گے مگر نام کے۔ حقیقتِ ایمان سے بہت دور چلے جائیں گے۔ صرف ان کو لفظ ایمان (Iman) سے آشنائی ہو گی۔

  3. آج کے پر فتن دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہی وہ واحد ہستی ہیں عصر حاضر کے مجدد و انسان کامل و فقیر کامل ہیں۔

  4. ایمان کی بنیاد محبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ یہ ایسا پاکیزہ جذبہ ہے کہ جب دل میں پیدا ہوتا ہے تو تمام غیر اللہ کو دل سے نکال دیتا ہے

  5. دنیا سے بے رغبتی ہی مومن کی نشانی ہے۔ مومن جو بھی عمل کرتا ہے اس میں صرف رضائے الٰہی کی نیت ہوتی ہے اسی لیے وہ مقبول ہوتا ہے۔

  6. ایمان (Iman) کے لیے علم ضروری نہیں اور نہ ہی ہر عالم مومن ہوتا ہے مگر مومن صاحبِ علم ضرور ہوتا ہے۔

  7. اس دنیا میں سب سے قیمتی اثاثہ جو کسی کو عطا کیا گیا ہے وہ ہے دولتِ ایمان۔ 

  8. ایمان کے لیے علم ضروری نہیں اور نہ ہی ہر عالم مومن ہوتا ہے مگر مومن صاحبِ علم ضرور ہوتا ہے۔

    1. حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
      ظاہری اعمال سے دل ہرگز پاک و طاہر نہیں ہوتا جب تک اعمالِ باطن نہ کیے جائیں جیسا کہ تصور اسمِ اللہ ذات، جس سے اللہ کی نظر ِ رحمت حاصل ہوتی ہے۔ (قربِ دیدار)

اپنا تبصرہ بھیجیں