قرآنِ مجید کا اسلوب Quran Majeed Ka Asloob

قرآنِ مجید کا اسلوب(Quran Majeed Ka Asloob)

تحریر: مسز عظمیٰ شکیل سروری قادری (اوکاڑا)

تیرے قلب پر جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف

بقول علامہ اقبالؒ (Allama Iqbal) جب تک انسان کے قلب پر قرآن کی تاثیر نہ ہو اور باطنی کیفیت یہ نہ ہو کہ قلب و روح اس میں گم ہو چکے ہیں تب تک رازی یا زمخشری (صاحبِ کشاف) اس کے راز نہیں کھول سکتے۔

ایک مرتبہ علامہ اقبالؒ (Allama Iqbal) تلاوتِ قرآن میں مشغول تھے کہ اس وقت ان کے والد محترم نے ان کو ایک نصیحت کی کہ بیٹا قرآن(Quran) کی تلاوت ایسے کیا کرو کہ گویا قرآن آپ پر نازل ہو رہا ہے یا آپ سے کلام کر رہا ہے۔ 

اس نصیحت میں دو اہم باتوں کا تذکرہ ہے:
اوّل: قرآن (Quran) کا قاری ہونا
دوم: قرآن (Quran) کا قاری سے کلام کرنا

قرآن (Quran) کے نازل ہونے سے مراد قرآن کی ہر آیت پر غور و فکر کرکے اسے صحیح و درست حالت میں سمجھنا ہے جیسا کہ فرمانِ الٰہی بھی ہے:
اَفلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ  (سورۃ محمد۔24)
ترجمہ: کیا یہ لوگ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے۔
قرآن (Quran) میں غور وفکر کرنے سے انسان پر قرآن کے ظاہری و باطنی معانی کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ قرآنِ مجید (Quran-e-Majeed Furqan-e-Hameed) کے ظاہری و باطنی معانی کے متعلق قرآن میں واضح طور پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جس میں سے کچھ آیتیں محکم (یعنی ظاہراًبھی صاف اور واضح معنی رکھنے والی) ہیں وہی (احکامِ) کتاب کی بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ (یعنی معنی میں کئی احتمال اور اشتباہ رکھنے والی) ہیں، سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اس میں سے صرف متشابہات کی پیروی کرتے ہیں (فقط) فتنہ پروری کی خواہش کے زیر اثر اور اصل مرا د کی بجائے من پسند معنی مراد لینے کی غرض سے، اور اس کی اصل مراد کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور علم میں کامل پختگی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، ساری (کتاب) ہمارے ربّ کی طرف سے اتری ہے اور نصیحت صرف اہلِ دانش کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ (سورۃ آلِ عمران۔7)

قرآنِ مجید (Quran-e-Majeed ) ہدایت کا سرچشمہ اور امت محمدیہ کی راہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اس امت میں تین قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں انہی گروہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ بھی اپنے بندوں سے تین مختلف انداز سے کلام فرماتا ہے:

۱۔مقطعات
۲۔متشابہات
 ۳۔محکمات

مقطعات

حروفِ مقطعات کی وضاحت کی غرض سے مندرجہ ذیل فرامین تحریر کئے جا رہے ہیں:
سورتوں کی ابتدا میں حروفِ مقطعات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے درمیان راز ہیں۔ (حضرت عمر فاروقؓ)
یہ اللہ تعالیٰ کا راز ہے اسے تم طلب نہ کرو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کوئی نہیں جانتا سوائے اولیا کے کیونکہ وہ انبیا کے علم کے وارث ہیں اور یہی ان کو پہچانتے ہیں۔ (علامہ سید محمود آلوسیؒ)

قرآنِ کریم (Quran-e-kareem) کی انتیس (29) سورتوں کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ حروف مرکب ہیں جیسےآلمّ، حٰم، یٰسٓ اور مفرد جیسے کہ ص، ن، ق۔ ان حروف کے معنی صرف اللہ اوراس کا رسولؐ یا ان کے باطنی خلفا اور وارثین ِ فقر ہی جانتے ہیں۔ یا وہ جن پر اللہ ان کے معنی کھول دے۔ (مرآۃ العارفین)
 اصل میں اللہ نے حروفِ مقطعات کی حقیقت عام لوگوں سے پوشیدہ رکھی ہے اوراسے حقیقی معنی خاص الخاص لوگوں کو عطافر مائے ہیں۔

مشتابہات

علامہ غلام رسول سعیدیؒ متشابہات کے حوالے سے علامہ عبدالعزیر بن احمد بخاری کا قول نقل فرماتے ہیں:
جب کسی لفظ سے اس کی مراد مشتبہ ہو اور اس کی معرفت کا کوئی ذریعہ نہ ہو حتیٰ کہ اس کی مراد کے حق ہونے کا اعتقاد واجب ہو تو اس کو متشابہ کہتے ہیں۔
متشابہ آیات ان آیات کو بھی کہا جاتا ہے جس میں اللہ کی صفات اور معاد کا ذکر بیان کیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ (اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے)، وَاللّٰہُ سَمِیْعُ الْعَلِیْم (اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے)۔

غرضیکہ جن کے معنی پیچیدہ ہوں اور جن کے بارے میں مختلف احتمالات دیے جا سکتے ہوں ان کومتشابہ کہا جاتا ہے۔ متشابہات کو سمجھنے کی غرض سے اگر یوں کہا جائے کہ یہ قرآن (Quran-e-Majeed Furqan-e-Hameed) میں پوشیدہ وہ علم ہے جو بذریعہ وحی اللہ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) پر نازل فرمایا اور اولیا کاملین کے قلوب پر القا فرمایا۔ قلوب پر قرآنی آیات کا القا ہونا، قلب پر قرآن کا نزول ہونا یا سادہ فہم میں قرآن کی اصل روح کی سمجھ بوجھ کا حاصل ہونا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی درج ذیل دعا سے ثابت ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ کے لیے دعا فرمائی:
’’اے اللہ! عبداللہ ابن عباسؓ کو دین میں فقاہت (سمجھ بوجھ) اور تاویل کا علم عطا فرما۔‘‘

محکمات

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں محکمات وہ آیات ہیں جو ناسخ ہیں اور ان میں حلال، حرام، حدود اور فرائض کا بیان ہے اور یہ کہ کس پر ایمان لایا جائے اور کس پر عمل کیا جائے۔

آیاتِ محکمات و متشابہات اور حروفِ مقطعات پر غور و فکر کریں تویہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حروفِ مقطعات اور متشابہات کا تعلق خالصتاً باطن سے ہے جو اہلِ باطن یا اہلِ بصیرت ہی اللہ کے فضل سے سمجھ سکتے ہیں۔ باطن کے اہل افراد بھی اپنی باطنی استعداد یا اپنے باطنی درجہ کے مطابق ہی ان احکاماتِ الٰہی کو اپنے قلب میں سمو سکتے ہیں کیونکہ کائنات کا ہر وجود ایک خاص مقام پر ہوتا ہے (خواہ وہ ظاہر ہو یا باطن)۔ آیاتِ محکمات کا تعلق انسان کے ظاہر سے ہے جس پر شریعت سے تمام احکامات لازم و ملزوم قرار پائے۔ امام فخر الدین رازی کے مطابق بھی اللہ اپنے بندوں سے کلام یا ان کو دعوتِ حق تین انداز سے فرماتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں ’حکمت کے ساتھ دعوت‘ کا تعلق حکما کے گروہ سے اور ’مواعظِ حسنہ کے ساتھ دعوت‘ کا تعلق فطرتِ سلیمہ کے حامل لوگوں (مقربین) سے اور ’مجادلہ حسنہ کے ساتھ دعوت ‘ان لوگوں کے لیے ہے جو راہِ حق سے ہٹ گئے ہیں۔

اللہ حکمت کے ساتھ دعوتِ دین طالبانِ عقبیٰ کو دیتا ہے جو شریعت پر ظاہری اعمال کے ذریعے اللہ کوخوش کر کے جنت تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ مواعظِ حسنہ کے ذریعے اللہ اپنے مقربین بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے اور انہیں اپنے پوشیدہ اسرار (حروفِ مقطعات) کا علم اپنے عشق کی بدولت عطا فرماتا ہے۔ بیشک اللہ کے مقربین وہ ہیں جو طلبِ مولیٰ رکھتے ہیں۔ پس جن کی طلب مولیٰ ہو وہی اس کے راز کے محرم بن سکتے ہیں۔ اور مجادلہ حسنہ کے ساتھ اللہ ان بندوں سے کلام فرماتا ہے جنہوں نے اس دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ وہ نہ تو آخرت کی زندگی کے متعلق سمجھتے ہیں اور نہ ہی آخرت کی بہتری کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ان کی طلب صرف اور صرف دنیا ہے۔

کسی بھی کلام کے تین پہلو ہوتے ہیں چاہے وہ کوئی انسان دوسرے انسان سے کر رہا ہو یا اللہ اپنے بندوں سے کر رہا ہو۔ وہ تین پہلو درج ذیل ہیں:
۱۔متشابہات ۲۔نوید ۳۔ وعید

کلام میں مشابہات کا تعلق مقربین سے ہوتا ہے جن سے ہر بات کھلی، صاف اور باطنی مفہوم کے ساتھ کی جاتی ہے۔ جیسا کہ اگر انسان اپنے دل کے قریب ہونے والے کسی بھی شخص سے کلام کرے گا تو ہر راز و نیاز کی بات بھی ظاہر کر دے گا جو سب سے پوشیدہ بھی رکھی جاتی ہو گی۔
اگر کلام میں خوشخبریوں اور انعامات کا ذکر ہو تو یہ نوید کہلائے گا جیسے کہ اللہ اپنے بندوں کو جنت کی خوشخبری سناتا ہے۔
جب اللہ کسی نافرمان بندے کو اپنے احکامات اور فرامین کے ذریعے ڈرائے وہ وعید کہلاتا ہے۔

کلام کے ان تین پہلوؤں کے علاوہ ایک حسین صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ سننے والے اور کلام کرنے والے کا رشتہ جتنا مضبوط اور قوی ہوتا ہے اتنا ہی سننے والے کے قلب پر کلام اثر انداز ہوتا ہے اور سننے والا آہستہ آہستہ ان پر عمل کرتا اور عروج کرتا ہوا کلام کرنے والے کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ جس کی بہترین مثال تمام انسانیت کے سامنے کلام کرنے والا اللہ تعالیٰ اور کلام کو قلب کے ذریعہ سننے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) ہیں۔
علامہ اقبالؒ جاوید نامہ میں فرماتے ہیں:

چون بجان در رفت جان دیگر شود
جان چو دیگر شد جہان دیگر شود

مفہوم: جب یہ (قرآن) کسی کے باطن میں سرایت کر جاتا ہے تو اس کے اندر انقلاب برپا کر دیتا ہے اور جب کسی کے اندر کی دنیا بدل جاتی ہے تو اسکی پوری کائنات ہی انقلاب کی زد میں آجاتی ہے۔ 

پس اگر قرآن (Quran-e-Majeed Furqan-e-Hameed) کی تاثیر قلب پر وارد نہ ہو یا کلامِ الٰہی باطن میں سرایت کر کے اعمال کی صورت اختیار نہ کرے تب تک دل میں نور داخل نہیں ہوتا اور نور ہی درحقیقت ہدایت ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ قرآنِ مجید (Quran-e-Majeed Furqan-e-Hameed) کے باطن پر غوروفکر کی بجائے انسان اسکے ظاہر میں ہی کھویا ہوا نظر آتا ہے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ اگر ہم مختلف علما کی تفاسیر اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہر مفسر نے ایک ہی کتاب کی مختلف تفسیریں کر رکھی ہیں۔ کیونکہ علما کرام اپنے باطنی درجے کے مطابق ہی قرآنی آیات کو اخذ کر کے اس کی وضاحت اپنی فہم کے مطابق درج کر دیتے ہیں۔ چونکہ قرآن ظاہر اور باطن دونوں معنی خود میں رکھے ہوئے ہے سو ہر شخص جس حد تک اس میں ڈوب کر دیکھے گا اتنا ہی علم حاصل کرے گا۔ قرآن کی مثال ایک سمندر کی سی ہے اور قاری کو تیراک تصور کیا جاتا ہے۔ جو جس حد تک باطن کے ذریعے اس سمندر کی گہرائی میں اترے گا وہ اسی حد تک فائدہ حاصل کرلے گا۔ اور سمندر کی گہرائی کو ناپنے کی غرض سے اللہ نے درجات مقرر فرما دیے ہیں اور یہی وہ درجے یا مراتب ہیں جن سے درجہ بدرجہ دین تکمیل پاتا ہے۔ دین کی اسی تکمیل کا نام درحقیقت قرآن ہے۔

یہ مراتب درج ذیل ہیں:
شریعت (ظاہری احکامات یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰہ وغیرہ کی پابندی)
طریقت (باطنی احکامات صبر و شکر، تسلیم و رضا وغیرہ کی پاسداری)
معرفت (اللہ کی پہچان کی جانب باطنی سفر)
حقیقت (بندے پر اللہ کے اسرار منکشف ہونا)

ان تمام مراتب کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق قربِ الٰہی سے ہے۔ اب جو شخص ان مراتب میں قربِ الٰہی کی بدولت عروج حاصل کرتا جائے گا اسی قدر اللہ اپنے بندے پر قرآن (Quran) میں درج علوم بطون در بطون ظاہر فرمانا شروع کر دے گا۔ مگر ان تمام علوم کے ظاہر ہونے کا تعلق اخلاص فی العمل سے ہے۔ جو جس حد تک اپنے تحقیق شدہ علم کو مشاہدے کے ذریعے اپنے عمل میں شامل کرے گا وہی اس علم سے آگے کا علم حاصل کر پائے گا۔

اس کی مثال کچھ یہی ہے کہ اگر ایک سائنسدان کسی ایک علم پر پریکٹس کرنا شروع کر دیتاہے تو اس میں پنہاں نت نئے علوم سے متعارف ہوتا جاتا ہے۔ اگر وہ اس علم پر عملی کام نہ کرے تواس کا یہ علم فاسد صورت اختیار کر جاتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا فرمان مبارک ہے علم کے بغیر عمل بے کار ہے اور عمل کے بغیر علم بے کار ہے۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ علم پر عمل کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

علم ِحق نور است روشن مثل او انوار نیست
علم باید با عمل عل ش کہ بر خر بار نیست

ترجمہ: علم ِ حق نور ہے اور کوئی بھی نور اس کی مثل روشن نہیں۔ علم عمل کی خاطر ہوتا ہے کیونکہ عمل کے بغیر علم گدھے پر رکھے بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ (عین الفقر)

 جب قاری اپنے ہر عمل کے لیے قرآن کے علم کو اپنا آئینہ بنا لیتا ہے تو اللہ اپنے فضل کے ذریعے سے قاری کو قرآن (Quran-e-Majeed ) کا آئینہ بنا دیتا ہے۔ اس حقیقت کو علامہ اقبالؒ اپنی شاعری میں انتہائی خوبصورت انداز سے بیان فرما تے ہیں:

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

حضرت علامہ اقبالؒ ارمغانِ حجاز میں فرماتے ہیں:

بہ مصطفیؐ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است

ترجمہ: تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) تک خود کو پہنچا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet  Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) ہی مکمل دین ہیں۔ اگر توان تک نہیں پہنچتا (اور ان کو نہیں پہچانتا) تو تیرا سارا دین ابولہب کا دین ہے۔

خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کو پہچاننے کی واحد صورت یہ ہے کہ انسان مجلس ِمحمدیؐ (Majlis-e-Mohammadi saww) تک پہنچے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ تک رسائی کا ذریعہ صرف اسم اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) اور اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Ism-e-Mohammad saww) کا تصور ہے بشرطیکہ یہ وہاں سے حاصل ہوا ہو جہاں پر اسے عطا کرنے کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے باطنی طور پر اجازت ہو یعنی مرشد کامل اکمل سے۔ جب طالب صدقِ دل سے اسم اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) کا ذکر و تصور کرتا ہے تو وہ پہلے ہی روز اس بات کی تحقیق کر لیتا ہے کہ جہاں سے اس نے یہ ذکر و تصور حاصل کیا ہے وہ مرشد کامل کا در ہے یا نہیں۔ در حقیقت مرشد کامل اپنی باطنی توجہ سے طالب کے باطن کو پاک اور درست حالت عطا فرماتا ہے اور پھر تصور اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Ism-e-Mohammad saww) سے طالب کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis-e-Mohammadi saww) کی حضوری نصیب فرما دیتا ہے۔

مجلسِ محمدی (Majlis-e-Mohammadi saww) کی حضوری کے لیے قلب یا باطن کا درست ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا باطن ہے اور جب تک انسان کا باطن درست و صحیح حالت میں نہ ہو گا وہ قرآن یعنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہیں سمجھ سکے گا۔ 

الغرض جو کوئی قرآن کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ خود کو مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis-e-Mohammadi saww) تک لے جائے۔ اور جو کوئی مجلسِ محمدی (Majlis-e-Mohammadi saww) تک رسائی چاہے وہ یہ جان لے کہ باطن/قلب کی صفائی کے بغیر ممکن نہیں کہ وہ اپنی منزل حاصل کر سکے۔ قلب کی صفائی کے لیے مرشد کامل اکمل کی نگاہ بہت ضروری ہے جو زنگ آلود قلوب کے لیے صیقل کا کام کرتی ہے اور دلوں سے دنیا اور حب دنیا کی ظلمت کو دور کر کے اس میں معرفتِ الٰہیہ کا نور بھر دیتی ہے۔ 

دورِ حاضر کے مر شد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد  نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)  اپنی نگاہِ کامل کی بدولت لاکھوں طالبانِ مولیٰ کے قلوب کو نورِ الٰہی سے منور فرما کر انہیں باطنی طور پر مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis-e-Mohammadi saww) کی حضوری عطا فرما رہے ہیں۔ اللہ پاک آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی میں برکت عطا فرمائے اور آپ کا سایہ مبارک ہمارے سروں پر قائم ودائم رکھے۔ 

 
 

35 تبصرے “قرآنِ مجید کا اسلوب Quran Majeed Ka Asloob

  1. قرآنِ مجید (Quran-e-Majeed ) ہدایت کا سرچشمہ اور امت محمدیہ کی راہنمائی کا ذریعہ ہے۔

  2. تیرے قلب پر جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
    گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف

    1. دورِ حاضر کے مر شد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اپنی نگاہِ کامل کی بدولت لاکھوں طالبانِ مولیٰ کے قلوب کو نورِ الٰہی سے منور فرما کر انہیں باطنی طور پر مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis-e-Mohammadi saww) کی حضوری عطا فرما رہے ہیں۔ اللہ پاک آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی میں برکت عطا فرمائے اور آپ کا سایہ مبارک ہمارے سروں پر قائم ودائم رکھے۔

  3. چون بجان در رفت جان دیگر شود
    جان چو دیگر شد جہان دیگر شود
    مفہوم: جب یہ (قرآن) کسی کے باطن میں سرایت کر جاتا ہے تو اس کے اندر انقلاب برپا کر دیتا ہے اور جب کسی کے اندر کی دنیا بدل جاتی ہے تو اسکی پوری کائنات ہی انقلاب کی زد میں آجاتی ہے۔ (اقبالؒ)

  4. جب قرآن کسی کے باطن میں سرایت کر جاتا ہے تو اس کے اندر انقلاب برپا کر دیتا ہے اور اگر قرآن کی تاثیر قلب پر وارد نہ ہو یا کلامِ الہٰی باطن میں سرایت کر کے اعمال کی صورت اختیار نہ کرے تب تک دل میں نور داخل نہیں ہوتا اور نور ہی درحقیقت ہدایت ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ قرآنِ مجید کے باطن پر غوروفکر کی بجائے انسان اسکے ظاہر میں ہی کھویا ہوا نظر آتا ہے۔

  5. قلب کی صفائی کے لیے مرشد کامل اکمل کی نگاہ بہت ضروری ہے جو زنگ آلود قلوب کے لیے صیقل کا کام کرتی ہے اور دلوں سے دنیا اور حب دنیا کی ظلمت کو دور کر کے اس میں معرفتِ الٰہیہ کا نور بھر دیتی ہے۔

  6. کسی بھی کلام کے تین پہلو ہوتے ہیں چاہے وہ کوئی انسان دوسرے انسان سے کر رہا ہو یا اللہ اپنے بندوں سے کر رہا ہو۔ وہ تین پہلو درج ذیل ہیں:
    ۱۔متشابہات ۲۔نوید ۳۔ وعید

  7. قرآنِ مجید (Quran-e-Majeed ) ہدایت کا سرچشمہ اور امت محمدیہ کی راہنمائی کا ذریعہ ہے۔ 

  8. و کوئی قرآن کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ خود کو مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis-e-Mohammadi saww) تک لے جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں