سلطان العاشقین اور عشق ِمرشد | Sultan-ul-Ashiqeen or Ishq-e-Murshid

سلطان العاشقین اور عشقِ مرشد ( Sultan-ul-Ashiqeen aur Ishq-e-Murshid)

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری ۔ لاہور

نجیبؔ ہوا انہی اداؤں سے گھائل، دلبر جانی
سلطان محمد اصغر علیؒ مظہر ذاتِ ربانی

حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)اپنی تصنیف ’’کلید التوحید کلاں‘‘ میں مرشد کامل کے متعلق فرماتے ہیں:
جان لو کہ مرشد کے چار حروف ہیں: م، ر، ش، د۔ حرف ’م‘ سے وہ مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور اس زندہ دل سے ایک ہی مراقبہ میں وحدانیت اِلَّا اللّٰہ  کا مشاہدہ اور مجلسِ محمدیؐ (Majlis-e-Mohammadi saww) تک پہنچاتا ہے۔ حرف ’ر‘ سے طالب کو ریاضت سے رہائی دلاتا ہے اور راز عطا کرتا ہے۔ حرف ’ش‘ سے مرشد (طالب کو) نفس، شیطان اور مخلوق کے شر سے دور رکھتا ہے۔ دنیا اور دل کی سیاہی کے شر سے اور دیگر ہر شر سے طالب کے وجود کو بچاتا ہے اور طالب کے ساتوں اندام، ہڈیاں اور مغز، گوشت و پوست، رگیں اورہر بال کی زبان اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) کا ذکر کرتی ہے اور طالب کے قلب و قالب میں ذکرِ الٰہی دریاکی مثل جاری ہو جاتا ہے۔ تمام اعضا اللہ اللہ پڑھتے ہیں اور طالب لب بستہ اللہ کے قرب میں غرق رہتا ہے۔ حرف ’د‘ سے مرشد کی نظر کی بدولت طالب کا دم اور دل اللہ کی ذات میں غرق ہو کر اس سے اثبات پا لیتے ہیں اور طالب دنیا و آخرت میں ابدی زندگی حاصل کر لیتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں )

اللہ تعالیٰ کی معرفت، وصال اور دیدار کے لیے مرشد کامل کے در سے وابستگی اور بیعت ضروری ہے۔ اگر کوئی طالب یہ خیال کرے کہ وہ ازخود فقر و تصوف کی لازوال روحانی منازل طے کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب و وصال پا سکتا ہے۔ اس کے لیے ساری عمر ریاضتوں اور چلہ کشی میں مصروف رہے تب بھی ہرگز اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ تصوف کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیا جائے ایسی بیشمار مثالیں موجود ہیں کہ بلند پایہ صوفی بزرگوں اور اہلِ تصوف نے نہ صرف ظاہری طور پر بیعت کی بلکہ اپنا ہر لمحہ مرشد (Murshid) کے عشق (Ishq) میں گزارا۔ ان صوفیا کرام نے اپنی تصانیف، شاعری اورکلام کے ذریعے بارہا اپنے مرشد سے عشق(Ishq) و محبت کا اظہار بھی کیا۔
اگر طالب کو مرشد کامل نصیب ہو جائے تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے ’’طالب کا اپنے مرشد (Murshid) سے عشق (Ishq) کیسا ہونا چاہیے؟‘‘

حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) اپنی تصنیف ’’نور الہدیٰ کلاں‘‘ میں فرماتے ہیں:
مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم شیخ کا جسم، طالب کی گفتگو شیخ کی گفتگو، طالب کے احوال شیخ کے احوال بن جاتے ہیں۔ عادات و خصائل میں، صورت میں، سیرت میں طالب اپنے شیخ جیسا ہو جاتا ہے اور سرسے لیکر قدموں تک طالب کا وجود شیخ کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
مرشد(Murshid) محبوب ہوتا ہے اور محبوب کے نام پر اپنی ہر شے تن،من، دھن قربان کر دینا یہی عشق (Ishq) کا تقاضہ ہے۔ اپنی خوشی پر اپنے یار کی خوشی کو مقدم رکھنا یہ تصور و عمل ایسا شعلہ ہے جو ہر لحظہ عاشق کے دل کو پُردرد اور وجود کو سوختہ رکھتا ہے۔

عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) صوفیا کرام کی نظر میں 

راہِ فقرکے عظیم اور روحانی سفر پر گامزن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طالب کو کسی مرشد (Murshid) کامل کی ظاہری و باطنی صحبت حاصل ہو۔ مرشد کامل صاحبِ مسمیّ فقیر فنا فی اللہ بقا باللہ ہوتا ہے۔ طالب کو بیعت کے پہلے ہی روز تصور کے لیے سنہری حروف سے لکھا ہوا اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) اور ذکر کے لیے سلطان الاذکار ھوُ عطا کرکے معرفت و فقر کی لازوال منازل تک پہنچا دیتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) نے جا بجا اپنی تصانیف میں مرشدِ کامل کی پہچان کا ذکر فرمایا ہے۔ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
عارف باللہ ، فنا فی اللہ فقیر اسے کہتے ہیں جو فنا فی الرسولؐ ہو، فنا فی فقر ہو اور فنا فی ھوُہو۔ 

 علامہ ابنِ عربیؒ اپنی کتاب فصوص الحکم میں فرماتے ہیں:
چونکہ اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) جامع جمیع صفات و منبع جمیع کمالات ہے لہٰذا وہ اصل تجلیات ربّ الارباب کہلاتا ہے اور اس کا مظہر جو عین ثانیہ ہو گا وہ عبد اللہ عین الاعیان ہو گا۔ ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمدؐپر رہتا ہے جو اپنے زمانے کا عبد اللہ ہوتا ہے۔ اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں جو عبد اللہ یا محمدی المشرب ہوتا ہے اور وہ بالکل بے ارادہ تحتِ امر و قرب و فرائض میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے اس کے توسط سے کرتا ہے۔ (فصوص الحکم )

جب طالبِ صادق کو ایسا مرشد کامل نصیب ہو جاتا ہے تو طالبی و مرشدی کا کام عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ مرشد (Murshid) کے عشق کے ذریعہ طالب کو ظاہری و باطنی تقویت حاصل ہوتی ہے اور یہی عشق درحقیقت روح کا لباس ہے۔ مرشد کامل سے عشق کا انتہائی مقام ’’مرتبہ فنا فی الشیخ‘‘ ہے۔ اس عظیم مرتبہ کے متعلق حضرت سلطان باھوؒ   (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)اپنے پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

الف اللہ چنبے دی بوٹی ، میرے من وچ مرشد لاندا ھوُ
جس گت اتے سوہنا راضی ہوندا ، اوہو گت سکھاندا ھوُ
ہر دم یاد رکھے، ہر ویلے آپ اٹھاندا بہاندا ھوُ
آپ سمجھ سمجھیندا باھوؒ، آپے آپ بن جاندا ھوُ

عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) طالب کو یارِ حقیقی کی صحبت کی طلب میں پرسوز رکھتا ہے۔  ہر آن اسے محبوب کے دیدار کے جلوؤں میں مست رہنے کی خواہش رہتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی ظاہری اور باطنی آنکھوں کی بصیرت بن جاتا ہے۔ نفس ایک شریف اور پاکباز غلام بن کر ہر لمحہ مرشد کی خدمت میں حاضر رہنا چاہتا ہے۔ اسی جذبہ محبت کااظہار فرماتے ہوئے حضرت سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)فرماتے ہیں :

ایہہ تن میرا چشماں ہووے، تے میں مرشد ویکھ نہ رجاں ھوُ
لوُں لوُں دے مڈ لکھ لکھ چشماں، ہک کھولاں تے ہک کجاں ھوُ
اتنا ڈٹھیاں صبر ناں آوے، میں ہور کتے ول بھجاں ھوُ
مرشد دا دیدار ہے باھوؒ، مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھوُ

عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) سے جہاں طالبِ مولیٰ پر بیشمار عنایات کی برسات ہوتی ہے وہاں ایک عنایت یہ بھی ہے کہ مرشد کا مل اپنے باطنی تصرف سے طالب کے قلب کو تجلیات و انوارِ الٰہی سے اس قدر منور کر دیتا ہے کہ طالب کو ہر لمحہ ذاتِ حقیقی کے جلوے دکھائی دینے لگتے ہیں جیسا کہ حضرت سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)فرماتے ہیں:

عشق اسانوں لسیاں جاتا، کر کر آوے دھائی ھوُ
جتول ویکھاں مینوں عشق دسیوے، خالی جگہ نہ کائی ھوُ
مرشد کامل ایسا ملیا، جس دل دی تاکی لاہی ھوُ
میں قربان اس مرشد باھُوؒ، جس دسیا بھیت الٰہی ھوُ

مفہوم: آپؒ فرماتے ہیں کہ عشقِ حقیقی (Ishq-e-Haqiqi) اس کمزور اور ناتواں جان پر پورے زور و شور سے حملہ آور ہو چکا ہے اور اس وجود پر اس حد تک غلبہ پا لیا ہے کہ جدھر نظر اٹھتی ہے ذاتِ الٰہی کے جلوے نظر آتے ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے مرشد کامل کی وجہ سے ہے جس نے دل کا دریچہ کھول کر ہمیں بھید ِ الٰہی سے آشنا کر دیا ہے۔ میں اس مرشد کے قربان جاؤں جس نے رازِ الٰہی سے ہمیں آگاہ کیا ہے۔ 

حضرت میاں محمد بخشؒ صحبتِ مرشد کے متعلق فرماتے ہیں : 

صحبت مجلس پیر میرے دی بہتر نفل نمازوں
ہک ہک سخن شریف انہاں دا کردا محرم رازوں
خشخش جتنا قدر نہ میرا، میرے صاحب نوں وڈیایاں
میں گلیاں دا روڑا کوڑا، محل چڑھایا سایاں 

سبحان اللہ! مرشد کامل کا ہر سخن اور عمل رازِ الٰہی کا خزانہ ہوتاہے۔ مرشد ِ کامل بغیر کسی امتیاز کے اپنے طالبوں پر رحمت اور انوارِ الٰہی کی برسات کر دیتا ہے۔  

علامہ اقبالؒ بھی اپنے روحانی مرشد (مولانا رومؒ) کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

صحبتِ پیرِ رومؒ سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سر بکف
حدیثِ دل کسی درویشِ بے گلیم سے پوچھ
اللہ کرے تجھے تیرے مقام سے آشنا

خواجہ حافظؒ فرماتے ہیں :

آناں کہ خاک را بہ نظر کیمیا کنند
آیا بود کہ گوشہ چشمے بما کنند

ترجمہ: جو لوگ اپنی نظر سے خا ک کو کیمیا کر دیتے ہیں کاش اپنی نظر کا ایک گوشہ ہماری طرف بھی کر دیں ۔ 

 سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) اپنے مرشد حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیزؒ کی شان میں بیان فرماتے ہیں :

جد دا مرشدحضور نوں پھڑیا، چھڈے سب جنجالِ
کیا کیا میں بیان کراں، تساں آپ ویکھن ہارِ
رضا مندی عطا فرماؤ، توں مالک دوجہانِ
کیا پرواہ اس عاجز نوں، جیندا مرشد عزیز سلطانِ

عشق، وفا، قربانی یہ صرف روایتی گفتگو یا کتابی باتیں نہیں بلکہ موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اس کی زندہ اور لازوال مثال ہیں۔ تلاشِ مرشد کامل ہو یامرشد کی جانب سے عطا کی گئی ذمہ داریاں ہوں، مالی خدمات ہوں یا جانی یا بطور مرشدِ کامل دینِ حق کا بول بالا کرنا ہو، ہر انداز میں عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ اپنے مرشد ِکریم کی حیات کے دوران اور ظاہری پردہ فرما جانے کے بعد جس طرح آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) کے مشن کو جاری رکھنے میں مصروف ہیں وہ ایک سچے طالبِ مولیٰ کے لیے عظیم نمونہ ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے طرزِ عشق کی شدت کو دیکھتے ہوئے طالب بے اختیار خود کوعشقِ الٰہی کے سمندر میں فنا کر دینا چاہتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا اپنے مرشد  (Murshid)سے عشق، وفا، اخلاص، قربانی کا جذبہ اور اس کی شدت اور گرفت اس قدر مضبوط ہے کہ ہر سچا طالب اس طرزِ عشق میں خود کوڈ ھالنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ بے شک عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) پر سب سے بہترین مثال، عنوان اور تفصیل آپ مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ کے اسی عشق کی صداقت کی بدولت آپؒ کے مرشد پاک نے آپ کو امانتِ الٰہیہ کے وارث کے طور پر منتخب فرمایا اور 21 مارچ 2001ء کی مبارک گھڑی میں بارگاہِ نبویؐ سے منظوری کے بعد آپ کو امانتِ الٰہیہ منتقل فرمائی۔

آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد کی شان میں فرماتے ہیں:

عشق کی ابتدا ہے دیدار و صحبت یار کی
عشق کا حاصل ہے محبت یار کی
عشق کی حقیقت، عشق ہے بس عشق
عشق کی انتہا ہے ذات یار کی 

عشق کی ابتدا اور انتہا مرشد کی ذات ہے۔ ہم نے بارہا یہ سنا ہو گا کہ عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا سفر عشقِ مجازی سے ہو کر گزرتا ہے۔ تو جان لینا چاہیے کہ عشقِ مجازی سے مراد عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) ہے۔ یہی عشق انسان کے وجود کو عشق کی بھٹی میں جلاتا ہے، اسے خالص سونا بناتا ہے، اسے اسرارِ الٰہی کے لطیف بھید اپنے اندر سمو لینے کے لائق بناتا ہے اور حیاتِ جاودانی بخشتا ہے لیکن اس کے لیے مرشد کا کامل، اکمل اور باکمال ہونا ضروری ہے۔

سلطان العاشقین اور تلاشِ مرشد

چونکہ بغیر رفیق کے طریقت کی کوئی منزل نہیں پائی جاسکتی اس لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو جنوری 1998ء میں باطنی طور پر سیدّنا غوث الاعظمؓ (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کی جانب سے ظاہری مرشد (Murshid) کی تلاش کا حکم ہوا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے ملک کے طول و عرض میں سفر فرمائے لیکن ایسا کوئی مردِ کامل نہ مل سکا جو خودمقامِ فنا فی اللہ بقا باللہ پر فائز ہو اور طالب کو بھی اس مرتبہ پر پہنچاسکے۔ خواب میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) نے زیارت سے مشرف فرمایا اور اپنے پاس آنے کی تلقین کی لیکن حد درجہ تلاش کے بعد وہ من موہنی صورت کہیں نظر نہ آئی۔ بالآخر سیدّنا غوث الا عظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ  (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کی جانب سے حضرت سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کے مزار پاک پر حاضر ہونے کا باطنی حکم ہوا۔ آپ مدظلہ الاقدس مزار شریف پر حاضر ہوئے اور حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی بارگاہ میں اپنی دلی مراد پیش کی۔ وہاں سے آپ کو سلطان محمد عبدالعزیزؒ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا حکم ملا۔ مریدِ کامل سلطان العاشقین جب من موہنی صورت کی تلاش میں مزار پاک پر حاضر ہوئے تو یارِ حقیقی کو ایک ہی نظر میں پہچان لیا گویا اپنا دل، جان، مال، ہستی سب محبوب کے قدموں میں ڈھیر کرنے کا فیصلہ اسی لمحہ کر لیا۔ یار نے یار کو پہچان لیا۔ اوّل تا آخر تمام منازل لمحہ بھر میں طے ہو گئیں۔ عشق کا رنگ، وفا کی طرز، محبوب کی خوشبو، لبوں سے نکلے پھولوں سے معطر الفاظ سب دل میں سمو گئے۔ یہ حسین اور خوبصورت صورت آپ کے مرشد پاک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمداصغر علیؒ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) کی تھی۔ اگر محبوب کی صورت دل میں نقش ہو اور روبرو چشمِ ظاہر ہو جائے، اس تصور کی تازگی عاشق کے دل سے کبھی کم نہیں ہوتی بلکہ ہر لمحہ اس کی مہک اور کشش میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اس پر مسرت دن کے متعلق فرماتے ہیں:

’’میں ہوں کون۔۔۔ میں کیا اور میری ذات کیا؟ اور زندگی کا مقصد صرف دنیا تک محدود!۔۔۔ شب و روز یکساں۔۔۔ صرف ضروریاتِ زندگی کا حصول مقصد ِ حیات۔۔۔ انسان کے مقصد ِ حیات سے بے خبر دنیاوی زندگی کو خوشحال اور آرام دہ بنانے کی جدوجہد۔۔۔ زیادہ سے زیادہ دنیاوی مال و متاع میں اضافہ کرنے کی فکر۔۔۔ یہ تھی میری زندگی۔۔۔ ایک دن اللہ پاک کی نگاہِ رحمت۔۔۔ اس گناہ گار پر پڑی۔۔۔ اور تقدیر نے پکڑ کر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کی بارگاہ میں پہنچا دیا۔۔۔۔ نگاہ سے نگاہ ملی۔۔۔ دنیا بدل گئی۔۔۔ یار نے یار کو پہچان لیا۔۔۔ 12 اپریل 1998 (15ذوالحجہ 1418ھ) اتوار کی شام۔۔۔ بعد نمازِ مغرب ۔۔۔۔آپؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کر کے آپؒ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالا۔۔۔ میری زندگی کا سب سے پرمسرت اور قیمتی لمحہ یہی تھا۔۔۔۔ آپ کی نگاہ پڑی اور میری زندگی کا زاویہ نظر تبدیل ہو گیا۔‘‘ (مجتبیٰ آخر زمانی)

 مرشد کامل کی پہچان اور بیعت کے بعد آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کااگلا مرحلہ عشق کی آزمائشوں میں سرخرو ہوتے ہوئے اپنے مرشد کی ذات میں فنا ہونا تھا۔ دراصل عشق کی صداقت کا امتحان آزمائشوں کی تلخیوں اور سختی سے ہی لیا جاتا ہے۔ جمال کو تو ہر کوئی محبوب رکھتا ہے لیکن عاشق صادق تو ہوتا ہی وہ ہے جو کڑی سے کڑی آزمائش پر سرِتسلیم خم کر دیتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے عشق اور وفا میں زندگی کے کسی موڑ پر رتی برابر کمی نہ آئی۔ ہر لمحہ محبوب کی خدمت اور ان کی رضا حاصل کرنے کے لیے کمربستہ رہتے۔ جہاں عاشق صادق کا یہ حال تھا وہاں آپ مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے مرشد بھی آپ کے عشق کی صداقت اورحالِ دل سے باخبر تھے۔ کچھ ہی عرصہ میں تمام آزمائشوں اور مخالفتوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس محبوبیت کے اعلیٰ ترین درجہ تک پہنچ گئے۔ راہِ عشق میں آنے والی آزمائشوں کے متعلق سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں ’’جو باطنی آزمائشیں ہم پر گزریں اگر وہ کسی پہاڑ پر گزرتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا۔‘‘

خدماتِ مرشد

عاشق صادق کے متعلق شاعر نے کیا خوب لکھاہے:

غالب نمازِ عشق کی قبولیت محال
جب تک جگر کے خوں سے وضو نہ ہو

نمازِ عشق کی قبولیت خونِ جگر سے وضو کرنے پر ہے۔ ایسی کون سی قربانی تھی جو آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشدِ کریم کی خدمت میں ادا نہ کی ہو۔ زندگی بھر کی جمع پونجی اپنے محبوب مرشد کے قدموں میں لاکر نچھاور کر دی۔ آپ ہر موسم، عیدین، محافل اور تقریبات کے لیے اپنے مرشد کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ لباس تیار کرواتے۔ آپ مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کو ماہنامہ مرآۃ العارفین کی اشاعت کے لیے منتخب کیا گیا آپ نے یہ ڈیوٹی نہایت احسن طریقہ سے سر انجام دی۔ اس کے علاوہ نشر و اشاعت کی ذمہ داری بھی دی گئی اور مکتبہ العارفین کے قیام کا حکم بھی دیا گیا۔ مکتبہ العارفین اپریل 2002 میں بڑی شان کے ساتھ ظاہر ہوا اور اس کے زیرِ اہتمام آپ مدظلہ الاقدس نے گلدستہ تعلیماتِ سلطان باھوؒ، ابیاتِ باھوؒ، سوانحِ حیات سلطان باھوؒ، رسالہ روحی شریف، حقیقت اسمِ اللہ ذات(Haqiqat e Isme Allah Zaat)، گلدستہ ابیات و مناجات پیر محمد بہادر علی شاہ ؒ شائع کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ اس کے علاوہ اصلاحی جماعت اور عالمی تنظیم العارفین کے بیت المال کی ذمہ داریاں بھی سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے آپ مدظلہ الاقدس کے حوالے کی تھیں۔ آپ نے تمام ذمہ داریاں نہایت خلوص اور قابلِ تحسین انداز میں سر انجام دیں۔ 

اپنے مرشد  (Murshid)سلطان الفقر ششمؒ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) کے سفر میں سہولت اور آرام کی خاطر آپ مدظلہ الاقدس نے نئی 1999ء ماڈل امپورٹڈ ٹیوٹا ہائی لکس (4×4 Double Cabin) مرشد کے نام سے خرید ی اور آپؒ کی بارگاہ میں پیش کی۔ اسی طرح 1999ء میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے فرمایا ’’ہمارے پاس دربار پاک کے لیے جو زمین زیرِ استعمال ہے اس میں سے 6-1/2 ایکڑ دوسرے صاحبزادگان کی ہے اور اب وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر انہوں نے یہ واپس لے کر کسی اور کو فروخت کر دی تو ہمارے دربار کی زمین تنگ ہو جائے گی اور ہمارے پاس راستہ بھی نہیں رہے گا۔ وہ فی ایکڑ ڈھائی لاکھ روپے مانگ رہے ہیں۔‘‘ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے یہ زمین خریدنے کے لیے چودہ لاکھ روپے آپؒ کی بارگاہ میں پیش کر دئیے ۔ 

جولائی 2000ء میں ایک بار آپ مدظلہ الاقدس گرمیوں کے موسم میں دربار شریف تشریف لے گئے تو دیکھا کہ مرشد (Murshid) پاک سلطان الفقر ششمؒ شدیدگرمی میں پسینے سے شرابور ہیں اور کمرے میں ایک ہی پنکھا ہے جو لوگوں کے رش کی وجہ سے ناکافی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس فوراً واپس آئے اور ائیر کنڈیشنر (A.C) خرید کر دربار پاک پر مرشد کریم کے کمرہ میں لگوایا۔ اس کمرہ کو کھلوانے کی اجازت کسی کو نہ تھی۔ شام کو آپ نے ڈرتے ڈرتے فون کیا اور مرشد پاک سے کہا کہ حضور مجھ سے غلطی ہو گئی؟ انہوں نے پوچھا کونسی؟ آپ مدظلہ الاقدس نے کہا ’’ائیر کنڈیشنر لگوانے کے لیے پہلی بار آپ ؒ کی اجازت کے بغیر آپ کا کمرہ کھلوایا ہے۔‘‘ سلطان الفقر ششمؒ نے خوش ہو کر فرمایا ’’بھائی نجیب الرحمن! ایسی غلطی روز کیا کرو۔‘‘ اس کے بعد جب مرشد  (Murshid)پاک  جون میں اوچھالی تشریف لے گئے تو وہاں سے خود فون کر کے فرمایا ’’بھائی نجیب الرحمن! یہاں اوچھالی میں بارش کے بعد بہت حبس ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی ایک اے سی بھجواؤ۔‘‘ تو آپ مدظلہ الاقدس نے وہاں بھی ایک اے سی لگوایا۔ 

2001ء میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) نے فریضۂ حج کی ادائیگی کا ارادہ فرمایا لیکن حج کے لیے زادِ راہ نہیں تھااور آپ مدظلہ الاقدس پہلے ہی اپنی تمام جمع پونجی اپنے مرشد (Murshid) کی خدمت میں صرف کر چکے تھے اس لیے فریضہ ٔ حج کی ادائیگی کے لیے اپنی گاڑی فروخت کر کے حج کے اخراجات کا انتظام کیا۔

آپ مدظلہ الاقدس کے خدماتِ مرشد سے متعلق بے شمار واقعات ہیں جنہیں ایک مضمون میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن مکمل مطالعہ کے لیے آپؒ کی حیاتِ مبارکہ پر مبنی تصنیف ’’سلطان العاشقین ‘‘کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ مرشد کی خدمت اور اطاعت میں اپنی جان اور مال و متاع کا نذرانہ پیش کرنا سنتِ صحابہ کرامؓ ہے۔ جس طرح انہوں نے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) سے محبت کی خاطر اپنوں کی مخالفت کا سامنا کیا، ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئی پھر بھی وہ استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ سیّدنا ابوبکرؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی خاطر اپنا گھربار اورمال و متاع راہِ خدا میں وقف کر دیا، بلالِ حبشیؓ کے لب سے ہر تکلیف اور ظلم و ستم کے باوجود احد احد نکلتا، سیّدنا عمر فاروق جو قبولِ اسلام سے قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے سخت مخالف تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعدآپؓ کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) سے محبت و عقیدت کی نظیر نہیں ملتی۔ حضرت عثمانِ غنی ؓ جن کا شمار مکہ کے انتہائی مالدار افراد میں ہوتا تھا انہوں دینِ اسلام کی خاطر ہر شے قربان کر دی۔ صحابہ کرامؓ کی سیرت کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر آن اپنے مرشد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی خدمت کے لیے حاضر رہتے، آپؐ کا دیدار اور صحبت اور آپؐ سے والہانہ عشق ان کا دین تھا۔ ایک سچے طالبِ مولیٰ کو بھی اپنے مرشد کی خدمت میں اسی طرح باوفا، مخلص اور اطاعت گزار ہونا چاہیے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کی زندگی ایسے عشق و محبت کی لازوال مثال ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)طالبِ مولیٰ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :
طالبِ مولیٰ کے کیامعنی ہیں؟ دِل کاطواف کرنے والا اہلِ ہدایت، دِل سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح صدق اختیار کرنے والا، حضرت عمربن خطابؓ  کی طرح صاحبِ عدل، حضرت عثمانِ غنیؓ کی طرح صاحبِ حیا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرح صاحبِ غزا و صاحبِ رضا اور تمام انبیا و اصفیا کے سرتاج خاتم النبیین امین رسول ربّ العالمین حضرت محمد رسول اللہؐ (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی طرح صاحب ِشریعت اور صاحبِ سرّ کہ یہ سب حقیقی طالبِ مولیٰ مذکر مرد ہیں۔  (عین الفقر)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)  نے اپنے مرشد سے اپنے عشق و محبت کا اظہار بڑے خوبصورت انداز میں شاعری میں بھی فرمایا ہے ۔آپ مدظلہ الاقدس بیان فرماتے ہیں:

میرے جسم کے لوُں لوُں میں سما گیا یار میرا
میں کھو گیا اور آگیا یار میرا
میں ظاہر میں تلاش کرتا رہا جسے
میرا قالب ہی بن گیا یار میرا

فنا فی الشیخ راہِ فقر کا سب سے اہم اور مشکل مرتبہ ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس جب اس انتہائی مقام پر پہنچے تو آپ فرماتے ہیں :

نجیب نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہو گیا
اپنے غیر سمجھ نہ سکے، کہتے ہیں کہ کیا سے کیا ہو گیا
سنو! نجیبؔ تو کب کا مر چکا اے دوستو
یار سے جب یار ملا، میں میں نہ رہا وہ ہو گیا 

حاصل تحریر:

 عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) ایک لازوال نعمت ہے اور انہی بندگانِ خاص کو نصیب ہوتی ہے جو دو جہانوں کی خواہشات سے منہ پھیر کر اپنا رخ اللہ کی جانب موڑ لیتے ہیں۔ عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) انہی کا ازلی نصیبہ ہے جو اپنے وجود سے غیر اللہ کا پردہ چاک کر کے اپنی ہستی کو اپنے محبوب مرشد کی ذات میں فنا کر دیتے ہیں۔ عشقِ مرشد (Ishq-e-Murshid) کا بیج انہی طالبانِ مولیٰ کے وجود میں پروان چڑھتا ہے جو راہِ فقر میں اپنی جان کی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور استقامت اور وفا کا سلوک اپنائے ہر دم اپنے مرشد کی رضا حاصل کرنے کے لیے سر گردان رہتے ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے مرشد کی رضا حاصل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے اور اس مرتبے اور مقام پر پہنچائے جہاں سرِتسلیم خم ہو جو مزاجِ یار میں آئے۔  

 استفادہ کتب :
کلید التوحید کلاں :تصنیف حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)
نور الہدیٰ کلاں :تصنیف  ایضاً
عین الفقر :تصنیف  ایضاً
شمس الفقرا؛تصنیف از سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
مرشد کامل اکمل؛  تصنیف  ایضاً
ابیاتِ باھوؒ کامل: تحقیق، ترتیب و شرح  ایضاً
سلطان العاشقین؛ ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز  

38 تبصرے “سلطان العاشقین اور عشق ِمرشد | Sultan-ul-Ashiqeen or Ishq-e-Murshid

  1. عشقِ مرشد انہی کا ازلی نصیبہ ہے جو اپنے وجود سے غیر اللہ کا پردہ چاک کر کے اپنی ہستی کو اپنے محبوب مرشد کی ذات میں فنا کر دیتے ہیں۔ ❤

    1. مرشد محبوب ہوتا ہے اور محبوب کے نام پر اپنی ہر شے تن،من، دھن قربان کر دینا یہی عشق کا تقاضہ ہے

  2. عشق کی ابتدا ہے دیدار و صحبت یار کی
    عشق کا حاصل ہے محبت یار کی
    عشق کی حقیقت، عشق ہے بس عشق
    عشق کی انتہا ہے ذات یار کی

  3. صحبت مجلس پیر میرے دی بہتر نفل نمازوں
    ہک ہک سخن شریف انہاں دا کردا محرم رازوں
    خشخش جتنا قدر نہ میرا، میرے صاحب نوں وڈیایاں
    میں گلیاں دا روڑا کوڑا، محل چڑھایا سایاں

  4. بلند پایہ صوفی بزرگوں اور اہل ِتصوف نے نہ صرف ظاہری طور پر بیعت کی بلکہ اپنا ہر لمحہ مرشد کے عشق میں گزارا۔ ان صوفیا کرام نے اپنی تصانیف، شاعری اورکلام کے ذریعے بارہا اپنے مرشد سے عشق و محبت کا اظہار بھی کیا۔
    اگر طالب کو مرشد کامل نصیب ہو جائے تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے ’’طالب کا اپنے مرشد سے عشق کیسا ہونا چاہیے؟‘‘

    حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنی تصنیف ’’نور الہدیٰ کلاں‘‘ میں فرماتے ہیں:

     مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم شیخ کا جسم، طالب کی گفتگو شیخ کی گفتگو، طالب کے احوال شیخ کے احوال بن جاتے ہیں۔ عادات و خصائل میں، صورت میں، سیرت میں طالب اپنے شیخ جیسا ہو جاتا ہے اور سرسے لیکر قدموں تک طالب کا وجود شیخ کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

  5. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی شان و عظمت پہ لاکھوں کروڑوں سلام

  6. عشقِ مرشد ایک لازوال نعمت ہے اور انہی بندگانِ خاص کو نصیب ہوتی ہے جو دو جہانوں کی خواہشات سے منہ پھیر کر اپنا رخ اللہ کی جانب موڑ لیتے ہیں۔

  7. نجیب نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہو گیا
    اپنے غیر سمجھ نہ سکے، کہتے ہیں کہ کیا سے کیا ہو گیا
    سنو! نجیبؔ تو کب کا مر چکا اے دوستو
    یار سے جب یار ملا، میں میں نہ رہا وہ ہو ہو گیا

  8. بہت ہی خوبصورت اور بہترین تحریر۔۔۔۔عشق مرشد ہی کل اثاثہ زندگی ہے ۔۔۔❤️❤️❤️😍😍

  9. عشق کی ابتدا اور انتہا مرشد کی ذات ہے۔ آپ نے بارہا یہ سنا ہو گا کہ عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا سفر عشقِ مجازی سے ہو کر گزرتا ہے۔ تو جان لینا چاہیے کہ عشقِ مجازی سے مراد عشقِ مرشد ہے۔ یہی عشق انسان کے وجود کو عشق کی بھٹی میں جلاتا ہے، اسے خالص سونا بناتا ہے، اسے اسرارِ الہٰی کے لطیف بھید اپنے اندر سمو لینے کے لائق بناتا ہے اور حیاتِ جاودانی بخشتا ہے۔
    عشقِ مرشد کی لازوال داستان سے پردے چاک کرتی مکمل تحریر کے مطالعہ کے لیے درج ذیل لنک وزٹ کریں:
    https://bit.ly/3tD7cpy
    #sultanulashiqeen #sultan_ul_ashiqeen #mahnamasultanulfaqr #markazefaqr #tehreekdawatefaqr #ishq #Allah #talibemola #murshidkamil #tdfblog #urdublog #spirituality #faqr #sufi #sufism #sultanulashiqeenorishqemurshid #sultan_ul_ahiqeen_or_ishq_e_murshid

  10. اللہ تعالیٰ کی معرفت، وصال اور دیدار کے لیے مرشد کامل کے در سے وابستگی اور بیعت ضروری ہے

  11. الف اللہ چنبے دی بوٹی ، میرے من وچ مرشد لاندا ھوُ
    جس گت اتے سوہنا راضی ہوندا ، اوہو گت سکھاندا ھوُ

  12. ہر دم یاد رکھے، ہر ویلے آپ اٹھاندا بہاندا ھوُ
    آپ سمجھ سمجھیندا باھوؒ، آپے آپ بن جاندا ھوُ

  13. ایہہ تن میرا چشماں ہووے، تے میں مرشد ویکھ نہ رجاں ھوُ

اپنا تبصرہ بھیجیں