مجددِ دوراں | Mujaddid e Doran


5/5 - (1 vote)

مجددِ دوراں (Mujaddid e Doran)

تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

میرے پیر و مرشد، ہادی و راہبر، میرے آقا و مولیٰ، قرارِ قلب و سینہ، باعث ِنزولِ سکینہ، وارثِ علومِ شریعت و طریقت، واقفِ اسرارِ حقیقت و معرفت سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کو 21 مارچ 2001ء کے بابرکت روز آپ کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے مدینہ منورہ میں روضہ رسولؐ کے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی اجازت سے امانتِ الٰہیہ منتقل فرمائی اور آپ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ 

آپ مادر زاد ولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قطبیتِ کبریٰ اور ولایتِ عظیمہ کا مرتبہ عطا فرمایا یہاں تک کہ تمام عالم کے فقرا، اولیا، فقہا، علما اور طلبا کی توجہ آپ کی طرف ہے۔ حکمت و دانائی کے چشمے آپ کی زبان سے جاری ہیں اور عالم ِملکوت سے عالم ِلاھوت تک آپ کے کمال و جمال کا شہرہ ہے۔

آپ عیوب پر پردہ ڈالنے والے، گناہوں کی دلدل سے نکالنے والے، طالبانِ مولیٰ کے دلوں کے سرور اور باطن کے نور ہیں۔ راہِ فقر میں آپ کا قدم محکم، اپنے زمانے کے اولیا کے امیر، حق کے علمبردار، معرفت کے آسمان میں رازِ الٰہی کے آفتاب، تحقیق و کرامت کا سفینہ، ولایت کے شرف کی تلوار، زاہدوں کے سردار، درگاہِ وصال کے بادشاہ، مقامِ مشاہدہ میں پختہ، ریاضت و مجاہدے میں باکمال، زہدوتقوی کا سرمایہ، ہمت اور قدر و منزلت میں بلند پایہ، دنیا میں فقر کو عام کرنے والے، موجودہ دور میں دعوتِ حق دینے والے، اسرارِ معرفت کا عمیق سمندر، معرفت ِالٰہی کے پیامبر، ہدایت کے چراغ، تمام علوم کے جاننے والے، نکتہ پردازوں کے امام، اہلِ صفا کے پیشوا، حق پرستوں کے راہنما، علم ِلدنیّ میں یکتا، محققوں کے شاہد، آسمانِ محبت کے سورج، صوفیا کے بادشاہ، محبت و وفا کے پیکر، درگاہِ رضا سے وابستہ، اپنے زمانے کے برگزیدہ، سلطان الفقر ششمؒ کے محرم راز اور عاشقوں کے سلطان ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ آپ کے فضائل و مناقب بیان کرنا ناممکن ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے علاماتِ قدرت و کرامت کو آفتاب سے زیادہ واضح فرمایا اور جود و سخا کے خزانوں کی کنجیاں اور قدرت و تصرفات کی لگامیں آپ کے قبضہ اقتدار اور دستِ اختیار کے سپرد فرمائیں۔ تمام مخلوق کے قلوب کو آپ کی عظمت کے سامنے سرنگوں کر دیا۔

عشقِ الٰہی میں آپ مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اس مقام تک پہنچے کہ مجلسِ محمدیؐ سے آپ کو ’’سلطان العاشقین‘‘ کا لقب ملا۔ دینِ اسلام میں اس طرح جان ڈالی کہ مجلسِ محمدیؐ سے آپ کو شبیہِ غوث الاعظم کا لقب ملا، آپ مدظلہ الاقدس نے دیدارِ الٰہی کو اس طرح عام کیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی حدیث سچ کر دکھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فرمایا کہ جلد ہی تم اپنے ربّ کو ایسے دیکھو گے جیسے چودھویں کے چاند کو دیکھتے ہو۔ اسی بنا پر آپ کو آفتابِ فقر کے لقب سے نوازا گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اللہ کے چھپے ہوئے خزانے کو ایسے عام کیا کہ آپ شانِ فقر کہلائے، آپ نے وہ فقر عام کیا جس کو پانے کے لئے تمام انبیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت میں شامل ہونا چاہتے تھے، جس اسمِ اعظم کو ڈھونڈنے کے لئے پہلے اولیا کرام پوری زندگی مجاہدے اور ریاضت میں گزار دیتے، وہی اسمِ اعظم آج آپ بیعت کے پہلے روز ہی اپنے مریدین کو عطا فرما دیتے ہیں، اسی وجہ سے آپ کو سلطان الذاکرین بھی کہا جاتا ہے۔ جس اسمِ اعظم کی تلاش میں حضرت شیخ بہاؤ الدینؒ سولہ سال تک جنگلوں اور بیابانوں میں سرگرداں رہے وہی اسمِ اعظم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس(Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)، سیدّنا غوثِ الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) اور حضرت سخی سلطان باھوؒ کی نظر ِخاص سے پہلے روز ہی طالبانِ مولیٰ کو عطا فرماتے ہیں۔

 بیدم شاہ وارثی نے کیا خوب کہا ہے:

ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے
بس اک نگاہِ مرشدِ مے خانہ چاہئے

جملہ اولیا کرام خاص الخاص سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کا تذکرہ کرتے ہوئے عموماً ہمارے زیرِ نظر اُن کی کرامات ہوتی ہیں اور ہم ان کرامات کی بدولت ہی کسی ولی کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں صحیح اور درست اسلوب یہ ہے کہ ہم اولیا کاملین کی کرامات کے ساتھ ساتھ ان کی حیات کے دیگر پہلوؤں کا بھی مطالعہ کریں کہ اُن کا علمی، فکری، معاشرتی، سیاسی اور عوام الناس کی خیرو بھلائی کے ضمن میں کیا کردار ہے؟ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی خدماتِ دینِ محمدیؐ (Deen-e-Mohammadi Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا جائزہ انہی دو زاویوں سے بیان کیا جا رہا ہے۔ صداقت یہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس نے جس طرز سے دینِ اسلام کو حیاتِ جاوداں بخشی اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ مضمون کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف دو پہلوؤں کا عمومی ذکر کیا جائے گا۔ اوّل پہلو ’’کرامت‘‘ کا ہے اور دوم ’’قلمی خدمات‘‘ کا ہے۔

کرامات

جہاں ولایت ہے وہاں کرامت کا ظہور بھی لازم ہے۔ کرامت ولایت کی گواہی ہے لیکن مدنظر رہے کہ کرامتِ ظاہری اور کرامتِ باطنی دونوں ثابت ہیں۔ ولی کی پہچان کی بنیاد باطنی کرامت کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے کہ یہی ہدایت کا منبع ہے۔ گو کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen ) کی کرامات کا شمار ممکن نہیں کہ جیسے بحرِ بیکراں کے قطروں کا شمار ناممکن ہے لیکن ادبِ شریعت، گمنامی کی طلب اور سنتِ خدا کہ خود کو ظاہر نہ کرنا ،کے باعث آپ مدظلہ الاقدس کی ازحد کوشش ہوتی ہے کہ ظاہری کرامت کا ظہور نہ ہو تاآنکہ طریقت، حقیقت اور معرفت کے عالم میں لازم قرار پائے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب آپ مدظلہ الاقدس سے ظاہری کرامت کا ظہور ہوتا ہے۔ باطن چونکہ عالم ہی طریقت، حقیقت اور معرفت کا ہے جس کی وجہ سے باطنی کرامات لاتعداد اور لافہم رہتی ہیں۔ جس کی جیسی فہم ہے وہ اتنے ہی ادراک کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہ کہنا اپنی جگہ حق ہے کہ باطنی کرامات ظاہر کے پردوں میں لپٹی ہوتی ہیں اور ظاہری کرامات باطن کے پردوں میں بھی چھپی ہو سکتی ہیں۔ 

مضمون کی مناسبت کے لحاظ سے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی ایک ظاہری اور ایک باطنی کرامت بیان کی جا رہی ہے کہ اہلِ حق کے لیے ایک جملہ بھی موجبِ ہدایت ہے جبکہ اہلِ باطل صاحبِ حجاب ہیں جو گدھے کی مثل ہیں، جس پر جتنی بھی کتابیں لاد دیں وہ علم سے نابلد ہی رہتا ہے۔ اہلِ دید کے لیے ایک شرارہ بھی کافی ہے جبکہ اندھا سورج سے بھی حجاب میں ہے۔

باطنی کرامت:

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے جب سے مسند ِتلقین و ارشاد سنبھالی ہے تب سے راہِ سلوک میں انقلاب برپا ہے جس کی ایک مثال آن لائن بیعت ہے۔ گزشتہ ادوار میں مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہونا لازم تھا یعنی حاضری اور بیعت لازم و ملزوم تھے لیکن آپ مدظلہ الاقدس کے کمال روحانی مرتبہ اور کامل معرفت کی بدولت آپ مدظلہ الاقدس نے یہ پابندی ہٹا دی۔ آن لائن بیعت سے لوگوں نے کیسے فیض پایا اس سلسلے میں ایک باطنی کرامت بیان کی جا رہی ہے۔ یہ باطنی کرامت بنگلہ دیش کے ایک طالبِ مولیٰ کے ساتھ اس وقت پیش آئی جب اس نے آن لائن بیعت کی۔ وہ طالبِ مولیٰ کہتے ہیں:

’’میں کافی عرصہ سے مرشد کامل اکمل کی تلاش میں تھا کیونکہ میں نے حضرت سخی سلطان باھوؒ کی کتب میں پڑھا تھا کہ دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ عطائے مرشد ہیں۔ میری تلاشِ مرشد کی اساس یہی فرمان تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق بنگلہ دیش میں ایک مرشد کے ہاتھ پر بیعت ہو گیا۔ اس کے بتائے ہوئے تمام مجاہدے کیے لیکن سب کچھ لاحاصل رہا۔ بیعت ہونے کے باوجود فیض نہ ملا۔ منزل سے دور ہونے کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ اللہ سے دوری برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر رویا اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کی دعا کی۔ اسی روز انٹرنیٹ پر مجھے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تصویر مبارک نظر آئی تو میں خوشی سے جھوم اٹھا کیونکہ ان بزرگ ہستی کو میں خواب میں کئی مرتبہ دیکھ چکا تھا۔ اب یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) پاکستان میں مقیم ہیں تو بیعت کیسے کی جائے۔ یہ پریشانی اس وقت خوشی میں بدل گئی جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ مدظلہ الاقدس نے پاکستان کے علاوہ باقی ممالک کے طالبانِ مولیٰ کے لیے آن لائن بیعت کی سہولت مہیا کر رکھی ہے۔ میں نے فوراً آن لائن بیعت کی۔ بیعت ابھی مکمل ہی ہوئی تھی کہ باطن کا دروازہ کھل گیا اور میرے سامنے کا منظر بدل گیا۔ میں نے اپنے آپ کو مسجد ِنبویؐ میں پایا جہاں باجماعت نماز کی تیاری ہو رہی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) امامت فرمانے والے تھے اور تمام مشائخ سروری قادری آپؐ کے پیچھے صفیں بنائے کھڑے تھے۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ میرے مرشد سلطان العاشقین (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) بھی اسی صف میں موجود ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے مجھے اپنے ساتھ صف میں کھڑا کر لیا۔ اس طرح میں نے اپنے مرشد کریم کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی امامت میں نماز ادا کی۔ نماز کے مکمل ہوتے ہی میں دوبارہ اپنی حالت میں لوٹ آیا۔‘‘ 

اس باطنی کرامت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کا فیض آن لائن بیعت والوں کے لیے بھی ویسا ہے جیسا حاضر ہو کر بیعت ہونے والوں کے لیے ہے۔ یہ بیعت ثبوت ہے کہ آ پ مدظلہ الاقدس نے دینِ اسلام کو حیاتِ نو بخشی ہے۔

کرامت ِظاہری:

مستقبل میں مسجدِ زہراؓ اور خانقاہ سلطان العاشقین (Khanqah Sultan ul Ashiqeen & Masjid-e-Zahra, Rangilpur Sharif) کا بطور مرکزِ فقر دینِ اسلام کی خدمت اور کردار کو قبل از وقت عیاں کرنا بہت ساروں کے لیے موجبِ آزمائش ہوگا۔ اہلِ حق تو پہلے ہی واقفِ حقیقت ہیں جبکہ بے باطن انکاری ہیں۔ اس معاملے میں ان کا انکار ان کو مزید گمراہ کر دے گا۔ اس لیے اس معاملے کے بیان میں احتیاط کا دامن تھامنا ضروری جبکہ حق کو اختصار کے ساتھ بیان کرنا بھی لازم ہے کہ راہِ سلوک کے مسافر اور دیدارِ الٰہی کے متمنی پیاسے نہ رہیں۔ مادہ پرستی اور گمراہی جب حد کو پہنچے گی تو دنیا مسجدِ زہراؓ اور صاحبِ مسجدِ زہراؓ کی طرف جوق در جوق رجوع کرے گی جو کہ اس دور میں گمراہی کے زہر کے لیے واحد تریاق ہوگا۔ 

ذیل میں جو کرامت بیان کی جا رہی ہے اس کا ظہور مسجدِ زہراؓ رنگیل پور شریف لاہور (Khanqah Sultan ul Ashiqeen & Masjid-e-Zahra, Rangilpur Sharif) میں ہوا۔ کثیر لوگ اس کرامت کے گواہ ہیں۔ مسجدِزہراؓ کی تعمیر اپنے آخری مراحل میں تھی۔ عمارت کا ڈھانچہ مکمل ہو چکا تھا جبکہ چھت پر کام ہونا باقی تھا۔ انہی دنوں بارشوں کا موسم تھا۔ چھت کا کام بارشوں سے قبل مکمل کرنا ضروری تھا کیونکہ بارش کی وجہ سے نہ صرف چھت کا کام رک جاتا بلکہ پوری عمارت کے لیے نقصان دہ ہوتا۔ 

مشکل یہ آن پڑی کہ جس روز چھت کا کام شروع ہوا اسی روز محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی کہ آج رات سے طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے جو ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔ مسجدِ زہراؓ کے انجینئر کو شدید پریشانی لاحق ہوئی کہ ان بارشوں کی وجہ سے لاکھوں روپے کا سامان ضائع ہو جائے گا۔ دوسری جانب مسجد کی تعمیراتی کمیٹی (جو کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے مریدین پر مشتمل ہے) اس وجہ سے پریشان تھی کہ اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو پوری عمارت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں انجینئر نے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنی پریشانی بیان کر دی۔ آپ مدظلہ الاقدس لجپالوں کے بھی لجپال ہیں، درد مندوں کے درد کو خوشی میں بدلنے والے اور بے سہاروں کا سہارا ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اس سے پوچھا کہ کام کتنے دن میں مکمل ہو جائے گا؟ انجینئر نے عرض کہ تین دن کا کام ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے قدرے توقف کے بعد فرمایا ’’ٹھیک ہے کام جاری رکھو تمہارے پاس پانچ دن ہیں۔‘‘

انجینئر جب واپس مسجدِ زہراؓ پہنچا تو اس وقت تک چاروں طرف گہرے بادل چھا چکے تھے۔ اسی شام سے بارشوں کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ گہرے بادلوں کے باوجود مسجدِ زہراؓ اور اس کے گرد و نواح میں ایک کلومیٹر تک بارش کا ایک قطرہ نہیں برسا جبکہ ایک کلو میٹر کی حد سے باہر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ پانچ روز تک مسلسل جاری رہا۔ مسجدِ زہراؓ کی تعمیراتی کمیٹی، انجینئر اور رنگیل پور گاؤں کے لوگوں نے مسلسل پانچ دن اس کرامت کا مشاہدہ کیا۔

قلمی خدمات

اگر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بات کی جائے تو آپ کی شخصیت مبارکہ ہمہ جہتی اوصاف کی حامل ہے جن میں سے کرامات صرف ایک جہت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی طرف بھی متوجہ ہوں۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم جن کے نام لیوا ہیں اور پوری دنیا جنہیں ’’سلطان العاشقین‘‘ کے لقب سے یاد کرتی ہے، ان کی تعلیمات کیا ہیں۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) نے جو کتب تصنیف فرمائی ہیں ان کی فقر و تصوف (Sufism) میں اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔ آپ کی کتب کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ان تمام موجودہ مسائل پر کتب تحریر کیں جن کی وجہ سے امت زوال کا شکار ہے۔ اس لحاظ سے آپ کا کردار ایک مجددِ دین کا ہے۔ ذیل میں آپ کی قلمی، ادبی اور تخلیقی کاوشوں کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:

۱۔ ہدایت کا منبع باطن ہے ظاہر بغیر باطن کے سراسر گمراہی ہے۔ باطن کو نظر انداز کرنا ہدایت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ مغز کو چھوڑ کر چھلکے پر اکتفا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ باطن کا دعویٰ کرنے والے خود بے باطن ہیں۔ روشنی دکھانے والے جب خود اندھیروں میں ہوں تو گمراہی عام ہو جاتی ہے۔ مزید برآں معالج تب معالج ہے کہ مرض شناسی اس کا خاصہ ہو۔ موجودہ دور میں کامل صاحبِ باطن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) ہیں کہ آپ نہ صرف صاحبِ باطن ہیں بلکہ باطن عطا کرنے والے ہیں کہ اللہ نے قرآن میں اکٹھی سات قسموں کے بعد کہا کہ نجات ان کے لئے ہے جن کا تزکیہ ہو گیا۔

تزکیہ ہونا باطن آباد ہونے کی دلیل ہے اس صورت میں اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ بغیر باطن کے نجات ممکن نہیں۔ جبکہ دورِ حاضر کے علما اور دینِ حق کے مدعی اس روش سے بے بہرہ ہیں۔ اس دور میں اگر کسی نے ظاہر پرستوں کے سامنے باطن پرستی،جو عین ہدایت ہے، کا عَلم بلند کیا ہے تو وہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی جدوجہد کو پابند ِزمان و مکاں کرنا ناانصافی ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ نے ایک کتاب تصنیف فرمائی ہے جو اس راہ میں مینارۂ نور ہے۔ اس کتاب کا نام ہے ’’تزکیہ نفس کا نبویؐ طریق‘‘۔ اس کتاب کو سچی نیت سے پڑھنے کا ثمر باطن آباد ہونا ہے، الجھی ڈور کا سرا ملنے کے مترادف ہے، ظاہر کو باطن ملنے کے مترادف ہے۔ اس کو پڑھنے والے ہدایت پاتے ہیں، کھویا ہوا راستہ اپنے سامنے پاتے ہیں۔اس کتاب کا انگریزی ترجمہ The Prophetic way of Purgation of Innerself کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

۲۔ حدیث شریف ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے ربّ کو پہچانا۔ نفس کی پہچان جیسے بنیادی نکتے پر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ’’نفس کے ناسور‘‘ کے نام سے ایک منفرد کتاب لکھی ہے جس میں نفس کی مختلف حالتوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اس کتاب میں ان تمام حجابات اور نفسانی بیماریوں کا ذکر فرمایا ہے جو انسان اور اللہ کی پہچان کے درمیان حائل ہیں۔ آپ نے یہ کتاب تصنیف فرما کر قیامت تک آنے والے طالبانِ مولیٰ کو بتا دیا کہ خود شناسی کے سفر کا آغاز کہاں سے ہو گا۔ اگر کوئی انسان اپنی پہچان حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ کتاب پڑھنا لازم ہے۔  اس کتاب کا انگریزی ترجمہ Purification of Innerself in Sufism کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

۳۔ امتِ مسلمہ کے زوال کا اوّلین سبب بلاشبہ یہ ہے کہ آج کے مسلمان محض کلمہ گو ہیں مومن نہیں۔ ایک مسلمان کے پاس دین کا صرف ظاہر ہوتا ہے جب کہ ایک مومن دین کے ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ مسلمان سے مومن بننے تک کے سفر میں آپ مدظلہ الاقدس نے تمام بنیادی ارکانِ اسلام کلمہ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ پر کتب تصنیف فرمائیں اور تمام ارکان کے باطن کو بیان کیا جیسے کہ حقیقتِ نماز، حقیقتِ روزہ، حقیقتِ حج اور حقیقتِ زکوٰۃ۔ کلمہ طیب کی حقیقت آپ نے اپنی تصنیف شمس الفقرا میں بیان فرمائی ہے۔

۴۔ آج کے تیز رفتار دور میں انسان کے لئے ممکن نہیں کہ سال ہا سال ریاضت و مجاہدے میں گزارے، ذکر و اذکار اور چلہ کشی کرے اور پھر اگر اللہ مہربانی فرمائے تو اسمِ اعظم (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam)  تک رسائی ہو۔ جبکہ انسان کی اوسط عمر بھی کم ہو گئی ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اس مشکل کو آسان کر کے دینِ اسلام کو حیاتِ نو بخش دی کہ آپ نے اسمِ اعظم کی حقیقت و رموز کو کھول کر بیان کر دیا اور ثابت کیا کہ اسمِ اعظم (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) کیا ہے۔ آپ اس نعمت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ اسمِ اعظم (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) کا سراغ لگانے کے لئے سولہ سال جنگلوں میں گھومتے رہے۔ جبکہ آپ مدظلہ الاقدس نے اس سولہ سالہ سفر کو ایک کتاب ’’حقیقت اسم اللہ ذات(Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam)‘‘ میں بند کر دیا کہ متلاشیانِ حق کا سفر جو سالوں پر محیط تھا وہ اب دن بھر میں طے ہو سکتا ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ The Divine Reality of Ism-e-Allah Zaat کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

۵۔ آج سے پہلے جو انسان اللہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتے تھے وہ صادق طالب اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کامل مرشد کی تلاش میں گزار دیتے تھے۔ مرشد ملے نہ ملے قسمت کی بات تھی۔ مرشد ملنے کے بعد پھر انسان اللہ کی طرف سفر شروع کرتا تھا۔ لیکن طالبانِ مولیٰ کے لئے کیا ہی خوشخبری ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) نے مرشد کامل اکمل پر ایک جامع تصنیف رقم کر کے یہ مشکل بھی آسان فرما دی اور قرآن و حدیث اور اولیا کاملین کی تعلیمات کی روشنی میں مرشد کامل اکمل کی خصوصیات بیان فرما دیں تاکہ طالبانِ مولیٰ کے لیے مرشد کی تلاش اور پہچان کا مرحلہ آسان ہو جائے۔اس کتاب کا انگریزی ترجمہ The Perfect Spiritual Guide کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

۶۔ دینِ اسلام کی بنیاد بلاشبہ عشقِ مصطفیؐ ہے جیسا کہ علامہ اقبالؒ بالِ جبریل میں فرماتے ہیں:

بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

عشقِ مصطفیؐ  (Ishq-e-Mustafa)کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ جن کو عشقِ مصطفیؐ (Ishq-e-Mustafa) حاصل نہیں ہو سکتا اس کی بنیادی وجہ ہے کہ وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے مقام و مرتبہ سے آگاہ نہیں ہوتے اور جب تک کسی کا مقام پتا نہ ہو اس کا ادب دل میں موجزن نہیں ہو سکتا جبکہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ یعنی اگر کسی نے عشقِ مصطفیؐ (Ishq-e-Mustafa) حاصل کرنا ہے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے اعلیٰ و ارفع مقام کو سمجھنا اور قبول کرنا پڑے گا۔ قبولیت کی شرط بھی یہ ہے کہ قبول کرنے والے کو مقام کا علم ہو، اگر علم ہی نہ ہو تو قبول کیا کرے گا۔ اس طرح حقیقت یہ سامنے آئی کہ دین کی بنیاد عشقِ مصطفیؐ (Ishq-e-Mustafa) ہے اور عشقِ مصطفیؐ (Ishq-e-Mustafa) کی بنیاد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقامِ حقیقی کا علم ہونا ہے جو کہ بنیاد کی بھی بنیاد ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے یہ بنیاد اپنی تصنیف مبارکہ ’’حقیقتِ محمدیہ‘‘ میں بیان کی۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے اصل مقام، جو کہ آپ کا مقامِ حقیقی ہے، کو بیان کیا کہ جس کی حدود کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں حضرت جبرائیلؑ نے کہا کہ اگر میں اس مقام سے ذرا بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا۔ یعنی آپ مدظلہ الاقدس نے یہ کتاب اس مقام کے بارے میں لکھی ہے جہاں حضرت جبرائیلؑ کی حدود ختم ہوتی تھی اور وہیں سے معراجِ انسانی کا آغاز ہوا۔ اس طرح آپ نے عشقِ مصطفیؐ  (Ishq-e-Mustafa)  کی بنیاد پر کتاب تصنیف فرما کر امتِ مسلمہ کا زوال سے نکلنے کا بندوبست فرمایا۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ The Mohammadan Reality کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

۷۔ ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک ہر دور میں دو گروہ ایسے موجود رہے ہیں جن میں سے ایک صحابہ کرامؓ کا مخالف ہے اور ان سے بغض رکھتا ہے، اس کو رافضی کہتے ہیں۔ دوسرا گروہ اہلِ بیتؓ سے بغض رکھتا ہے، ان کو خارجی کہتے ہیں۔ تاہم ان کے نام مختلف ادوار میں بدلتے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں، جبکہ صرف ظاہر پرستی رہ گئی ہے اور مسلمان باطن سے بے خبر ہیں، اس پیچیدہ صورتحال میں ان دونوں گروہوں کو پہچاننا مشکل ہو چکا ہے کیونکہ حق نے اپنے آپ کو چھپایا ہوا ہے۔ مزید برآں اس نازک صورتحال میں ان گروہوں کے حملے سے بچنا بھی مشکل ہے کہ کہیں نعوذ باللہ ان ہستیوں کے بارے میں کبھی کوئی غلط نظریہ دل میں گھر نہ کر لے۔ 

بنا بریں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) نے خارجیوں اور رافضیوں کا منہ بند کرنے اور ان کے باطل نظریات سے بچنے کے لئے تصنیف مبارکہ ’’فضائلِ اہل بیت و صحابہ کرامؓ‘‘ تحریر فرمائی۔ مزید یہ کہ اس تصنیف کو پڑھنے سے اہل بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کی محبت دل میں جاگزین ہوتی ہے جو دین کے لئے لازم ہے۔ 

۹۔ امتِ مسلمہ ایک اہم مسئلے میں الجھی ہوئی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف آپس کے اتحاد کو ختم کر رہا ہے بلکہ دین کی بنیاد کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ ہے عید میلاد النبیؐ (Eid Milad un Nabi) کا جشن منانے کا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے بطور مجدد یہ کوشش کی ہے کہ امتِ مسلمہ میں اتحاد قائم ہو اور دین صحیح معنوں میں اصل بنیادوں پر استوار ہو۔ اس سلسلے میں آپ نے جو کتاب تصنیف فرمائی اس کا نام ہے ’’حقیقت عید میلاد النبیؐ(Eid Milad un Nabi)‘‘۔ آپ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس نکتے کو بیان کیا ہے کہ عیدمیلادالنبیؐ (Eid Milad un Nabi) منانا کیوں اور کیسے جائز اور ضروری ہے۔ دنیائے اسلام دو گروہوں میں بٹ چکی ہے جو اس معاملے میں حد سے گزر گئے ہیں۔ ایک تو عید میلادالنبیؐ (Eid Milad un Nabi) منانے کے سرے سے ہی منکر ہیں جبکہ دوسرا گروہ اس کو مناتے ہوئے شریعت کی تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی تصنیف مبارکہ میں جشنِ عید میلاد النبیؐ منانے کا راستہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ Celebration of Mawlid Al-Nabi کے نام سے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔

۱۰۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے واقعہ سے دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے درمیان بہت اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اتحادِ امت پر اس کے ذریعے حملے کئے۔ ان حاسدوں اور دشمنوں کو یہ موقع اس لئے ملا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کے صرف ظاہری پہلو کو بیان کیا گیا ہے اور اگر کسی نے اس کے باطنی پہلو کو بیان کرنے کی کوشش بھی کی تو وہ مکمل طور پر بیان نہ کر سکا۔ جس کی وجہ سے اتحادِ امت پر ضرب آئی۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ’’سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس میں بطور مجددِ دین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی شہادت کا نہ صرف ظاہری پہلو بیان کیا بلکہ باطنی پہلو کے اسرار کو بھی عیاں فرمایا۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ Imam Hussain and Yazid کے نام سے سلطان الفقر پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

۱۱۔ سلسلہ سروری قادری خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) سے شروع ہو کر موجودہ دور میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) تک پہنچتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اس سلسلے کے نامور فقرا کاملین پر ایک نئے انداز کے ساتھ کتب تصنیف فرمائیں جن میں ان کی حیات کے اہم پہلو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے عارفانہ کلام اور تعلیمات کو آسان اور سادہ زبان میں بیان فرمایا۔ ان کتب میں حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ، سلطان باھوؒ(Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)، سوانحِ حیات سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات اور دیگر تصانیف شامل ہیں۔

۱۲۔ جیسا کہ بیان کیا گیا کہ سلسلہ سروری قادری حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) سے شروع ہو کر موجودہ دور میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس تک پہنچتا ہے۔ اس ضمن میں اہم مسئلہ یہ تھا کہ عوام الناس اس سلسلے کو حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) تک ہی جانتے اور مانتے تھے اور حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)سے آگے اس سلسلے میں اختلاف آ جاتا تھا کہ سلسلہ کے اصل اور حقیقی امام کون ہیں۔ سلسلہ سروری قادری (Silsila Sarwari Qadri) ہی اصل قادری سلسلہ ہے کیونکہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کے دور میں جب ہر کوئی قادری ہونے کا دعویٰ کرنے لگا اور لوگ نام نہاد پیر بن کر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) کے فیض کو تقسیم کرنے کا دعویٰ کر کے مخلوقِ خدا کو گمراہ کرنے لگے توحضرت سخی سلطان باھوؒ نے ان فتنوں کے پیشِ نظر اس سلسلہ کا نام قادری سے سروری قادری کر دیا تاکہ اصل فیض اپنی پہچان برقرار رکھے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)کی سنت پر عمل کرتے ہوئے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)سے آگے منتقلی امانت ِالٰہیہ کے ذریعے جاری ہونے والے سلسلہ کو مستند حوالوں اور ثبوتوں سے ثابت کیا کہ سلسلہ سروری قادری (Silsila Sarwari Qadri) کا حقیقی فیض کہاں سے جاری ہے اور اس حوالہ سے ایک اہم ترین کتاب ’’مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ کے نام سے تصنیف فرمائی۔ آپ کی اس کاوش نے دنیائے تصوف پر اہم نقوش چھوڑے ہیں اور تاقیامت آنے والے طالبانِ مولیٰ کے لئے راستہ ہموار کر دیا ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ The Spiritual Guides of Sarwari Qadri Order کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

۱۳۔ بلاشبہ علامہ اقبالؒ نے امتِ محمدیہ کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے اصل دین یعنی فقرِ محمدی کی طرف آنے کی دعوت دی۔ مشکل یہ درپیش ہے کہ آج کے دور میں علامہ اقبالؒ کی صوفیانہ شاعری کے صرف ظاہری مطلب کو دیکھا جاتا ہے جبکہ اکثریت ان اشعار کے پیچھے چھپے اصل معانی سمجھنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا شاعری اور کلام اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ حکیم الامت کی شاعری اور کلام ہر انسان سمجھے، اس نیک مقصد کی تکمیل کے لئے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ’’فقر اقبالؒ‘‘ تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں آپ مدظلہ الاقدس نے اقبالؒ کی شاعری کی بنیاد کو آسان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی یہ تصنیف پڑھنے کے بعد اقبالؒ کی شاعری کا مغز سمجھ آ جاتا ہے جس کی بدولت تمام اشعار کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے اور ان میں چھپے معانی کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ 

۱۴۔ آخر میں آپ مدظلہ الاقدس کی شہرہ آفاق کتاب ’’شمس الفقرا‘‘ کا تذکرہ کرنا لازمی ہے۔ اس تصنیف مبارکہ میں تصوف کے تمام اہم مقامات و منازل کا ذکر تفصیلی طور پر کیا گیا ہے۔ معرفت کے سفر  کی زادِراہ یہ تصنیف ہے۔ اس میں تصوف کے پیچ و خم آسان زبان اور سادہ انداز سے رقم کیے گئے ہیں کہ ہر نکتہ خودبخود سمجھ آ جاتا ہے۔ اس تصنیف کے بارے میں اہلِ تصوف کی رائے ہے کہ گمراہی کے اندھیروں میں یہ ہدایت کا سورج ہے۔ صدقِ دل سے پڑھنے والے کو یہ کتاب صراطِ مستقیم (Sirat-e-Mustaqeem) کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس مایہ ناز کتاب کا انگریزی ترجمہ Sufism-The Soul of Islam کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

اگر آپ مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)  کی تمام تصانیف کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ مسلمہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آپ نے جن اہم مسائل پر کتب تصنیف فرمائیں وہ کوئی مجدد ہی کر سکتا ہے۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ بمطابق حدیث مجدد ہر صدی کے آغاز میں ظاہر ہوتا ہے اور زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق از سرِ نو دین کی تکمیل کرتا ہے۔ اہلِ نظر و اہلِ حق جانتے اور مانتے ہیں کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) ہی مجددِ دین ہیں۔ مزید برآں حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو آپ مدظلہ الاقدس نے سلسلہ سروری قادری (Silsila Sarwari Qadri) کی مسندِتلقین و ارشاد سنبھال کر 2005ء میں بیعت کا آغاز فرمایا۔ قلمی کاوشیں، فیضِ علی کرم اللہ وجہہ کو ہر خاص و عام میں عام کرنا، امتِ مسلمہ کو زوال سے نکالنے کی جدوجہد، کراماتِ ظاہری و باطنی، فقرِمحمدیؐ کو عام کرنا، دیدارِ الٰہی کے سفر کو آسان کرنا، مجلسِ محمدیؐ کی حضوری عطا کرنا، راہِ فقر کے سفر کو طالب کے لیے آسان بنانا، بیعت کے پہلے ہی روز اسمِ اعظم عطا کر دینا اوردین کو حیاتِ جاوداں بخشنا آپ مدظلہ الاقدس کے مجددِ دین ہونے کی واضح نشانیاں ہیں۔ 

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ ہمیں آپ مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) سے فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 
 

40 تبصرے “مجددِ دوراں | Mujaddid e Doran

  1. ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے
    بس اک نگاہِ مرشدِ مے خانہ چاہئے

  2. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات سراپا نور ہےجن کی بدولت طالبِ دنیا کا تزکیۂ نفس اورتصفیۂ قلب ہوجاتا ہے جس سے وہ طالبِ مولیٰ بن جاتا ہے۔

  3. ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے
    بس اک نگاہِ مرشدِ مے خانہ چاہئے

  4. بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
    مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

  5. ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے
    بس اک نگاہِ مرشدِ مے خانہ چاہئے

  6. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے جب سے مسند ِتلقین و ارشاد سنبھالی ہے تب سے راہِ سلوک میں انقلاب برپا ہے جس کی ایک مثال آن لائن بیعت ہے۔

  7. مضمون پڑھ کر ۔ روح کو سکون ملا۔ سلطان العاشقین کی صحبت کا اثر اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے

  8. اللہ رب العزت ہمیں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی ذاتِ مبارکہ کی پہچان نصیب کرے آمین

  9. Allah Pak humein Sultan ul Ashiqeen madzillah ul aqdus k muqam o martaba ko samjhnay ki tofeeq atta farmaye Ameen

  10. آج کی گمراہی کے دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے دِن رات محنت کرکے دنیا کو دینِ اسلام کی صحیح صورت دی ہے۔

  11. سبحان اللہ۔۔۔خوبصورت۔۔۔۔❤️👌 سلطان العاشقین مرشد کامل اکمل زندہ باد۔۔۔۔❤️❤️❤️😍😍😍

  12. اللہ پاک سے دعا ہے کہ آ پ مدظلہ الاقدس سے ھمیں فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

  13. عشقِ الٰہی میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اس مقام تک پہنچے کہ مجلسِ محمدیؐ سے آپ کو ’’سلطان العاشقین‘‘ کا لقب ملا۔ دینِ اسلام میں اس طرح جان ڈالی کہ مجلسِ محمدیؐ سے آپ کو شبیہِ غوث الاعظم کا لقب ملا،

  14. ماشاءاللہ بہت ہی وضاحت سے بیان کیا ہے۔

  15. اہلِ نظر و اہلِ حق جانتے اور مانتے ہیں کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہی مجددِ دین ہیں۔ اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ ہمیں آپ مدظلہ الاقدس سے فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  16. اہلِ نظر و اہلِ حق جانتے اور مانتے ہیں کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہی مجددِ دین ہیں۔

  17. ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے
    بس اک نگاہِ مرشدِ مے خانہ چاہئے

  18. سلطان العاشقین لجپال سائیں مرشد میرا

  19. بے شک آپ مدظلہ الاقدس مجدد دین ہیں اور آپ نے امت مسلمہ میں ایک بار پھر روح محمدی کو تازہ کر دیا ہے

  20. ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے
    بس اک نگاہِ مرشدِ مے خانہ چاہئے

  21. بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
    مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

  22. بہترین مضمون ہے ماشاءاللّٰہ

  23. بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
    مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

  24. بہترین انداز میں سلطان العاشقین کی کاوشوں کوبیان کیا گیا ہے

  25. حاصل کلام یہ ہے کہ بمطابق حدیث مجدد ہر صدی کے آغاز میں ظاہر ہوتا ہے اور زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق از سرِ نو دین کی تکمیل کرتا ہے۔ اہلِ نظر و اہلِ حق جانتے اور مانتے ہیں کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہی مجددِ دین ہیں۔ مزید برآں حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو آپ مدظلہ الاقدس نے سلسلہ سروری قادری کی مسندِتلقین و ارشاد سنبھال کر 2005ء میں بیعت کا آغاز فرمایا۔ قلمی کاوشیں، فیضِ علی کرم اللہ وجہہ کو ہر خاص و عام میں عام کرنا، امتِ مسلمہ کو زوال سے نکالنے کی جدوجہد، کراماتِ ظاہری و باطنی، فقرِمحمدیؐ کو عام کرنا، دیدارِ الٰہی کے سفر کو آسان کرنا، مجلسِ محمدیؐ کی حضوری عطا کرنا، راہِ فقر کے سفر کو طالب کے لیے آسان بنانا، بیعت کے پہلے ہی روز اسمِ اعظم عطا کر دینا اوردین کو حیاتِ جاوداں بخشنا سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے مجددِ دین ہونے کی واضح نشانیاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں