امانت ِ الٰہیہ کیا ہے؟ | Amanat-e-llahia kia hai

امانت ِ الٰہیہ کیا ہے؟ (Amanat-e-llahia kia hai)

تحریر: محترمہ نورین  سروری قادری ۔ سیالکوٹ.

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ہم نے بارِ امانت (Amanat) کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا سب نے اسے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بے شک وہ (اپنے نفس کے لیے) ظالم اور (اپنی قدر و شان سے) نادان ہے۔ (سورۃ الاحزاب۔72)
امانت سے مراد امانتِ الٰہیہ(Amanat-e-llahia)، خلافتِ الٰہیہ، نیابتِ الٰہیہ یا امانتِ فقر ہے۔ نیابت خلافت کو کہا جاتا ہے اور خلافت کے وارث کو خلیفہ کہا جاتا ہے۔ خلیفہ کسی کے جانشین اور قائم مقام کو بھی کہتے ہے۔ اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کا لفظ اس کے لیے بولا جاتا ہے جسے اللہ نے لوگوں میں سے چن لیا ہو اور اسے لوگوں کا امام اور حاکم بنایا ہو۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے ربّ نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنا رہا ہوں۔ (سورۃ البقرہ۔30)

حضرت آدم علیہ السلام کو نیابت اور خلافت منتقل ہوئی اور وہ مسجودِ ملائکہ ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام میں روح پھونکی اور انہیں تمام علم الاسما عطا کیا جس کے متعلق قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اور آدم ؑکو تمام اسما کا علم عطا کیا گیا۔ (سورۃ البقرہ۔31)
حضرت آدم علیہ السلام سے تمام اسما کا یہ علم اولادِ آدم کوبھی منتقل ہوا۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اس نکتہ کی وضاحت اس طرح سے فرماتے ہیں:
’’روحِ قدسی تمام مخلوقات سے اشرف ہے۔ روحِ قدسی تمام مخلوقات کی ارواح کا مادہ یا جوہر تو ہے لیکن اپنی اُتم اور مکمل صورت میں موجود اور ظاہر صرف انسان میں ہوئی، اس لیے انسان اللہ کا خلیفہ، نائب اور مظہر کہلایا۔ ‘‘

 امانت (Amanat) کے بارے میں شاہ محمد ذوقیؒ اپنی تصنیف ’’سِرّدلبراں ‘‘ میں فرماتے ہیں: 
وہ بارِ امانت جس کے متحمل ہونے کی صلاحیت آسمان و زمین نے اپنے آپ میں نہ پائی اور جس کی تاب پہاڑ نہ لا سکے اور جو بوجھ نہ صرف آسمان بلکہ آسمان والوں سے بھی نہ اٹھ سکا اور حضرتِ انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا وہ ظہورِ وجود ہے۔ ظہورِ وجود یعنی ’’ظہور ذات مع الاسما و صفات‘‘ کا حامل صرف انسانِ کامل ہے۔ (سرّ دلبراں)

جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی نیابت اور خلافت کے منصب پر فائز فرما دیا تو یہ بات از خود یقین بن گئی کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے تمام کائناتی شعبوں میں انسان کو تصرف کا حق حاصل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عِلم الاسما کی روشنی میں انسان کو کائنات چلانے، کائنات کو متحرک رکھنے اور قائم رکھنے کا اختیار عطا کیا ہے۔ نیابت کا یہی اختیار ہے جس کواللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اپنی امانت فرمایا ہے۔یہ امانت انسان کو کس شکل میں عطا ہوئی؟ صوفیا کرام کے نزدیک امانت سے مراد اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) ہے۔ اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) نور ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اللہ (اسم ذات) نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ (سورۃ النور۔35)
اللہ (اسم ذات) دوست ہے ایمان والوں کا، نکالتا ہے انہیں ظلمت، کفر، شرک اور منافقت سے، اور لے جاتا ہے نورِ توحید (صراطِ مستقیم) کی طرف۔
یعنی انسان نے اللہ پاک کے نور میں اس کا دیدار کیا تھا اور یہی نور  بطورِ امانت انسان کے سینے میں پاک پردوں میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے۔ (سورۃ الروم۔8)
اور میں تمہارے اندر موجود ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔ (سورۃ الذاریٰت۔21)
اور ہم تو شہ رگ سے بھی قریب تر ہیں۔ (سورہ ق۔16)
اللہ پاک نے جب عالمِ احدیت سے نکل کر عالمِ کثرت کی طرف ظہور فرمایا تو اپنی پہچان ’’اسمِ اللہ ذات(Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam)‘‘ کے ذریعے کروائی۔

حدیثِ قدسی ہے:
کُنْتً کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ
ترجمہ: میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا۔میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔

اس پوشیدہ خزانہ سے مراد ذاتِ الٰہی مع اسما و صفات ہے۔ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اُس پوشیدہ خزانے کو ظاہر ہونے اور کل کائنات تخلیق کرنے کی راہ ہموار کی۔
یہ جذبہ عشق تھا جس سے انسان کی تخلیق ہوئی اور کائنات وجود میں آئی۔ عشق کی اسی بھاری امانت (Amanat) کو اٹھانے کے لیے اللہ پاک نے فرمایا ’’کون ہے جو میرے عشق کی امانت (Amanat) کا بار اٹھائے گا؟‘‘ لیکن ارواحِ انسانی کے سوا تمام مخلوقات نے اس امانت کو اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی اورانکار کر دیا۔ کیونکہ عشق ِ الٰہی کی امانت (Amanat) کوئی معمولی امانت نہیں ہے۔ (حقیقت اسمِ اللہ ذات)
عمومی طور پر سب کے سب انسان اللہ ربّ العزت کے خلیفہ ہیں۔ کچھ عمومی اور کچھ خلیفہ خاص ہیں جو انبیا و رُسل کہلاتے ہیں۔ خلیفہ خاص خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کئے جاتے ہیں جس میں انسان کا عمل دخل نہیں۔ عمومی خلافت ہر انسان کی اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال تک محدود ہے۔

اللہ پاک نے انسان کو کائنات میں موجود تمام مخلوقات سے افضل اور ممتاز بنایا ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے اختیارات سے انسان کا متصف ہونا، مسجودِ ملائکہ بننا اور کائنات کو مسخر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو اللہ پاک نے اپنی اُن صفات کا علم عطا کر دیا ہے جو کائنات میں موجود دوسری مخلوقات کو حاصل نہیں ہے۔ اسی علم کی بدولت انسان کو کائنات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ یہ سارے کا سارا علم اُس نظام سے متعلق ہے جس نظام کے تحت کائنات چل رہی ہے۔ اس کائنات کے انتظامی امور کو سمجھنا اور اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے عِلم الاسما کی روشنی میں ان انتظامی امور کو چلانا، نیابت کے دائرے میں آتا ہے۔ اِنسان کوبحیثیت خلیفہ عِلم الاسما کی حکمت اور تکوین کے اسرار و رموز سکھائے گئے تاکہ وہ نظامِ کائنات کے امور میں نائب کے فرائض پورے کر سکے۔
یہ سب علوم اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب بندہ اس علم سے واقف ہو جاتا ہے جس علم کو اللہ نے اپنی امانت قرار دیا ہے۔ ایسی امانت جو صرف انسان کو حاصل ہے۔ یہ وہی امانت (Amanat) ہے جس کی وجہ سے انسان اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے۔ جو جس کا نائب ہوتا ہے اس کے اختیارات بھی اُسے حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ خالق ہے۔ اللہ کے اپنے ذاتی اِختیارات تخلیقی ہیں۔ انسان جب زمین پر اللہ کا نائب بنا دیا گیا تو اسے اللہ کے تخلیقی اِختیارات بھی منتقل ہو گئے۔ ان ہی تخلیقی اِختیارات کو نافذ کرنے والے بندوں کے گروہ کو ’’اہلِ تکوین‘‘ کہا جاتا ہے۔

جس طرح دنیا میں کسی حکومت یا نظام کو چلانے کے لئے مختلف شعبے اور  ministriesقائم کی جاتی ہیں اسی طر ح اللہ تعالیٰ نے بھی کائنات کو چلانے کے لئے ایک باقاعدہ نظام قائم کیا ہوا ہے جس کا نام ’’نظامِ تکوین‘‘ہے۔ حکمت ِتکوین پر جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات زیرِ بحث آتی ہے کہ کائنات کس طرح وجود میں آئی۔ کائنات کی تخلیق چارشعبوں پر مشتمل ہے:
1۔ وسائل کے بغیر تخلیق
2۔ حرکت کا آغاز
3۔ ترتیب ِخودشناسی
4۔ قضا و قدر (اللہ تعالیٰ کی مرضی جس طرح اللہ چاہے)

1۔ کائنات کا پہلا مرحلہ اس طرح وجود میں آیا کہ کائنات کی موجودگی میں وسائل کا دخل نہیں ہے۔ بغیر اسباب و وسائل کے کائنات کی تخلیق کے مرحلے کو ابدا کہتے ہیں۔ یہ کائنات کا آغاز بھی ہے اور کائناتی انتظام کا پہلا شعبہ بھی۔ یعنی کائنات اس طرح وجود میں آئی کہ وسائل زیر بحث نہیں آئے۔ اللہ تعالیٰ نے جب کنُ فرمایا تو کائنات وجود میں آگئی۔

2۔ عالمِ موجودات میں شکل و صورت، حرکت و سکون کی طرزیں جب نمایاں ہوئیں اور زندگی کے مراحل وقوع میں آنا شروع ہوئے تو کائنات کا دوسرا شعبہ بنا۔ اس شعبے کا نام خلق ہے۔

3۔ تیسرا شعبہ تدبیر ہے جس میں موجودات کی زندگی کے تمام اعمال و حرکات ترتیب کے ساتھ مرتب ہو گئے۔

4۔ چوتھا شعبہ تدلیٰ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ افرادِ کائنات میں انتظامی امور کے تحت قضا و قدر کی حکمت اور فیصلے مرتب ہو گئے۔ (نورِ ہدایت)

نظامِ تکوین میں مختلف عہدے ہیں۔ چند اہم عہدوں کے نام کچھ اس طرح ہیں:
1۔ نجبا  2۔ نقبا  3۔ ابرار  4۔ اخیار  5۔ اوتاد  6۔ مخدوم شاہ ولایت  5۔ صاحب خدمت  6۔ اہلِ نظامت  7۔ اہلِ تفصیل 8۔ غوث  9۔مدار تفہیم  10۔ قطب  11۔ قطبِ عالم  12۔قطبِ تفہیم  13۔ قطبِ تعلیم  14۔ قطبِ مدار  15۔ قطب الاقطاب  16۔ کوچک ابدال  17۔ ابدالِ حق  18۔ ممثلین 19۔ صدر الصّدور

یہ حضرات اپنے عہدے اور عِلم کے مطابق تکوینی امور سر انجام دیتے ہیں۔  (بارانِ رحمت)
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت نقل ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میری اُمت میں چالیس ابدال ہمیشہ موجود رہیں گے بائیس شام میں اور اٹھارہ عراق میں۔ ان میں سے جب کوئی فوت ہو گا تو اس کی جگہ خلق میں سے کسی ابدال کو بنا دیا جائے گا۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ ابدالوں کی یہ تعداد چالیس سے ہرگز کم نہ ہو گی اور جب قیامت قائم ہونے کو آئے گی تو انہیں دنیا سے یکبارگی اُٹھا لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تین سو چھپن اسامی اولیا اللہ بھی ہیں جو ہر زمانے میں موجود رہتے ہیں، زمانہ ان سے کبھی خالی نہیں رہتا۔ ان میں تین سو ابطال ہیں، چالیس ابدال ہیں، سات سیاحین ہیں، پانچ اوتاد ہیں، تین قطب ہیں اور ایک غوث ہے۔

پس معلوم ہوا کہ اس مرتبے کے اولیا کی تعداد کسی وقت بھی تین سو چھپن سے کم نہیں ہوتی البتہ آفات و احیان کے مواقع پر اس تعداد میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے پہلے نمبر پر تین سو اولیا اللہ ہیں جنہیں اصطلاحِ سلوک میں ابطال کہتے ہیں انہوں نے راہِ ہوا و ہوس کو باطل کر رکھا ہے۔ دوسرے نمبر پر چالیس اولیا اللہ ہیں جنہیں ابدال کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اخلاقِ ذمیمہ کو اخلاقِ حمیدہ میں تبدیل کر رکھا ہے۔ تیسرے نمبر پر اہلِ سیاحت ہے۔ان کی تعداد سات ہے۔ ان کا کام سیروسیاحت اختیار کر کے اللہ کی مرضی و ارادے کے مطابق خلقِ خدا کی کارسازی ہے، وہ اسی کام میں مشغول رہتے ہیں۔ ان مذکورہ بالا تین سو سینتالیس حضرات میں سے کوئی بھی مقامِ ارشاد پر فائز نہیں ہوتا۔ ان کے علاوہ نو اولیا اللہ اور ہیں جو صاحبِ ارشاد ہیں۔ ان کی حقیقت تجلیاتِ ذاتیہ و اسمائے صفاتیہ کے بوجھ سے دب کر مضمحل و ناچیز ہو جاتی ہے اور حضرت واجب الوجود (ذاتِ حق) تکمیلِ ناقصاں کی خاطر بارہا ان کی تنزلی فرماتا ہے جس سے ان کے مراتب میں تفاوت پیدا ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے پہلے پانچ افراد وہ ہیں جنہیں اوتاد کہتے ہیں، پھر تین حضرات وہ ہیں جنہیں اقطاب کہتے ہیں اور ایک قطب الاقطاب ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جانشین ہے۔ (شمس الفقرا)

 حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا جانشین ہی ’’ورثۂ فقر‘‘ کا وارث ہوتا ہے، وہی حاملِ امانتِ الٰہیہ ہوتا ہے اور وہی روحانی سلسلہ کا سربراہ، امام اور اپنے زمانہ کا سلطان ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) خزانۂ فقر کے مختارِ کل ہیں۔

جس انسان کو امانتِ الٰہیہ (Amanat-e-llahia) یا امانتِ فقر منتقل ہونا ہوتی ہے وہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔ حاملِ امانتِ الٰہیہ (Amanat-e-llahia) وہ ہوتا ہے جو فنا فی فقر، فنا فی الرسولؐ اور فنا فی ھوُ ہوتا ہے۔ 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) امانتِ الٰہیہ کے حامل کو ’’صاحبِ مسمیّ‘‘ فرماتے ہیں۔ صاحبِ مسمیّ سے مراد فنا فی اللہ بقا باللہ فقیر (انسانِ کامل) ہے جو مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوتا ہے۔ یہی وہ ذات ہے جو مرشد کامل اکمل ہے اور اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) عطا کرنے پر منجانب اللہ مامور ہے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں:
 صاحبِ مسمیّ سے مراد وہ مظہرِالٰہی ہے جس میں ظہورِ ذات مع الاسما و صفات ہوتا ہے یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ طالب یا مرید جو مرشد کی ذات وتمام صفات کا مظہر ہوتا ہے اور اس کے لباس میں مرشد ہی ملتبس ہوتا ہے۔ یعنی وہ طالبِ مولیٰ جسے مرشد امانتِ الٰہیہ (Amanat-e-llahia) امانتِ فقر منتقل کرتا ہے۔ یہ واحد ہوتا ہے اور ہر زمانہ کی شان کے مطابق عام طور پر نئی جگہ پر ظاہر ہوتا ہے۔جسے تصوف میں خلیفۂ اکبر کہا جاتا ہے۔ (شمس الفقرا)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس(Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) کے خلیفۂ اکبر ہیں۔
21 مارچ 2001ء فقر کی تاریخ کا وہ عظیم الشان دن ہے جب سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ (Sultan ul Faqr VI Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Asghar Ali) نے امانتِ الٰہیہ اپنے محرمِ راز سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کو منتقل فرمائی۔ آپ مدظلہ الاقدس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے روحانی وارث موجودہ دور کے مرشد کامل اور فقیرِکامل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس(Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فقر کا آفتاب ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اُمتِ مسلمہ کو ورثۂ محمدیؐ یعنی فقر کا فیض عطا فرما رہے ہیں۔ جو کوئی اس راستے پر چلتا ہے وہ خاص الخاص اللہ تعالیٰ کی معرفت و عشق کے راستے یعنی صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جاتا ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اپنے محبوب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے وسیلہ سے میرے ہادی و میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کی عمر مبارک، زندگی اور صحت و تندرستی میں برکتیں عطا فرمائے تاکہ وہ فقرِ محمدی کے فیض کو پوری دنیا میں عام فرما سکیں۔ اور ہمیں آپ مدظلہ الاقدس کے زیرِسایہ اللہ تعالیٰ کی معرفت و پہچان اور عشق نصیب فرمائے۔ آمین

کہاں یہ بارِ امانت اٹھا سکا ہے کوئی
مرحبا آفتابِ فقر! حوصلے تیرے

استفادہ کتب:
۱۔شمس الفقرا؛ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۲۔حقیقت اسم اللہ ذات؛ تصنیف ایضاً
۳۔سرِ دلبراں ؛ تصنیف شاہ محمد ذوقیؒ
۴۔رسالہ روحی شریف؛ تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)
۵۔بارانِ رحمت؛ تصنیف خواجہ شمس الدین عظیمی
۶۔نور ہدایت؛ تصنیف آصف جاوید عظیمی

 
 

40 تبصرے “امانت ِ الٰہیہ کیا ہے؟ | Amanat-e-llahia kia hai

  1. حاملِ امانتِ الہٰیہ مجدد الدین، شبیہ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس ہیں۔

    1. حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا جانشین ہی ’’ورثۂ فقر‘‘ کا وارث ہوتا ہے، وہی حاملِ امانتِ الٰہیہ ہوتا ہے اور وہی روحانی سلسلہ کا سربراہ، امام اور اپنے زمانہ کا سلطان ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) خزانۂ فقر کے مختارِ کل ہیں۔

  2.  امانت کے بارے میں شاہ محمد ذوقیؒ اپنی تصنیف ’’سِرّدلبراں ‘‘ میں فرماتے ہیں
    وہ بارِ امانت جس کے متحمل ہونے کی صلاحیت آسمان و زمین نے اپنے آپ میں نہ پائی اور جس کی تاب پہاڑ نہ لا سکے اور جو بوجھ نہ صرف آسمان بلکہ آسمان والوں سے بھی نہ اٹھ سکا اور حضرتِ انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا وہ ظہورِ وجود ہے۔ ظہورِ وجود یعنی ’’ظہور ذات مع الاسما و صفات‘‘ کا حامل صرف انسانِ کامل ہے۔ (سرّ دلبراں)

  3. کہاں یہ بارِ امانت اٹھا سکا ہے کوئی
    مرحبا آفتابِ فقر! حوصلے تیرے

  4. جس انسان کو امانتِ الٰہیہ یا امانتِ فقر منتقل ہونا ہوتی ہے وہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔ حاملِ امانتِ الٰہیہ وہ ہوتا ہے جو فنا فی فقر، فنا فی الرسولؐ اور فنا فی ھوُ ہوتا ہے۔

  5. حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جانشین ہی ’’ورثۂ فقر‘‘ کا وارث ہوتا ہے، وہی حاملِ امانتِ الٰہیہ ہوتا ہے اور وہی روحانی سلسلہ کا سربراہ، امام اور اپنے زمانہ کا سلطان ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خزانۂ فقر کے مختارِ کل ہیں۔

  6. امانت الہیہ اسے منتقل ہوتی ہے جو سلسلہ سروری قادری کا آئندہ امام اور سربراہ ہوتا ہے

  7. یہ جذبہ عشق تھا جس سے انسان کی تخلیق ہوئی اور کائنات وجود میں آئی

  8. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفۂ اکبر ہیں

  9. MashaAllah SubhanAllah very nice article indeed Sultan ul Ashiqeen is the perfect spiritual guide of Sarwari Qadri Order

  10. جس انسان کو امانتِ الٰہیہ یا امانتِ فقر منتقل ہونا ہوتی ہے وہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔ حاملِ امانتِ الٰہیہ وہ ہوتا ہے جو فنا فی فقر، فنا فی الرسولؐ اور فنا فی ھوُ ہوتا ہے

  11. کہاں یہ بارِ امانت اٹھا سکا ہے کوئی
    مرحبا آفتابِ فقر! حوصلے تیرے

  12. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اس نکتہ کی وضاحت اس طرح سے فرماتے ہیں:
    ’’روحِ قدسی تمام مخلوقات سے اشرف ہے۔ روحِ قدسی تمام مخلوقات کی ارواح کا مادہ یا جوہر تو ہے لیکن اپنی اُتم اور مکمل صورت میں موجود اور ظاہر صرف انسان میں ہوئی، اس لیے انسان اللہ کا خلیفہ، نائب اور مظہر کہلایا۔ ‘‘

  13. پہلی مرتبہ امانتِ الٰہیہ پر اتنی مدلل تحریر پڑھنے کوملی ہے. بہت شکریہ

  14. کہاں یہ بارِ امانت اٹھا سکا ہے کوئی
    مرحبا آفتابِ فقر! حوصلے تیرے

  15. بہت اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے موضوع کو۔ انتہائی اہم اور ہر کسی کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں