شریعت اور فقر Shariat or Faqr

شریعت اور فقر

تحریر: محترمہ امامہ رشید سروری قادری۔لاہور

اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔جن میں سے ایک عظیم نعمت دینِ اسلام اور اللہ تک پہنچنے کازینہ ہے۔ اس کے مختلف درجات ہیں۔دینِ اسلام کا مکمل نفاذ احکامِ شرعیہ کی کامل پابندی کی بدولت ہی ممکن ہے۔ ان احکامات کی پابندی سے بندۂ مومن اپنی ذات، ساخت اور باطن کو سنوارتا اور نکھارتاہے۔
 شریعت اور فقر اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال کو پانے کے لیے ایک ہی راستے کی طرف رجوع کرنے کا نام ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فقر پر چلنے کے لیے شریعت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اور اس لیے فقر اور فقرا کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے نام نہاد ’’توحید پرست‘‘  لوگ اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ صوفیا کرام ظاہری شریعت سے گریزاں ہوتے ہیں اور بعض تو انہیں تارکِ شریعت تک قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ فقر اور فقرا کی جدوجہد کی ابتدا و انتہا شریعت ہے۔ درحقیقت شریعت اور فقر اپنے ظاہر و باطن کو سنوارنے کا نام ہے۔
شریعت کا تعلق ظاہری دنیا سے ہے اس لیے اس کے تمام احکامات کا تعلق بھی ظاہری اعضا کے اعمال سے ہے یعنی زبان سے توحید کا اقرار، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ۔ شریعتِ محمدیؐ وہ راہ ہے جس پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گامزن رہے اس لیے جو شخص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چل کر رات دن آپؐ کی پیروی کرتا ہے وہ آخر کار مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری پا لیتاہے۔ تاہم شریعتِ محمدیؐ کی اصل روح راہِ فقر پر چل کر ہی حاصل ہوتی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ ساری زندگی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اس طرح کاربند رہے کہ زندگی بھر آپؒ سے ایک مستحب بھی فوت نہیں ہوا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی تعلیمات میں بھی جا بجاطالبانِ مولیٰ کو شریعتِ محمدیؐ کی پیروی کرنے کا حکم دیتے نظر آتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:

باھوؒ ایں مراتب از شریعت یافتہ
پیشوائے خود شریعت ساختہ

ترجمہ: باھوؒنے تمام مراتب شریعت کی پیروی سے پائے اور اس نے شریعت کو ہی اپنا پیشوا بنایا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

حضرت سخی سلطان باھوُرحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تمام کتب میں بے شمار مقامات پر شریعتِ مطہر ہ کی پیروی پر زور دیا ہے اور بتایاہے کہ ظاہر و باطن کا کوئی مقام و مرتبہ شریعتِ مطہرہ سے باہر نہیں۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

شریعت شہر است آن دارالامن

ترجمہ: شریعت ایسا شہر ہے جہاں امن ہی امن ہے۔

باھوؒ سر راستی در شرع کوش
از شریعت معرفت توحید نوش

ترجمہ: باھوؒ اگر تو راستی کا راز پانا چاہتا ہے تو شریعت کی پیروی کر کیونکہ شریعت کی پیروی سے ہی توُ معرفتِ توحید کا دریا نوش کر سکتا ہے۔ (امیرالکونین)
آپ رحمتہ اللہ علیہ طالبِ مولیٰ سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
اے طالبِ مولیٰ! شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو حکم دیتی ہے اس کی فرما نبرداری اختیار کر۔(دیداربخش خورد) 
طالبِ صادق پر فرضِ عین ہے کہ وہ صبح و شام شریعت کی پیروی کرے اور جو شریعت حکم دے اس پر عمل کرے۔ جو کچھ شریعت اور قرآن کے خلاف ہے وہ نفس، دنیا اور شیطان ہے۔(دیداربخش)

فقر کا تعلق باطن سے ہے اور یہ وہ روحانی راستہ ہے جس کو اختیار کرنے سے انسان اللہ کے قرب اور وصال کی جانب سفر شروع کرتا ہے۔ فقر اسلام کی حقیقی روح ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم مردہ اور بے کار ہے اسی طرح اسلام فقر کے بغیر بے روح ہے۔ فقر کی مثال بادام کے مغز جیسی ہے جس کا ظاہر شریعت ہے۔ فقر سورج کی مانند ہے، جس طرح سورج کی روشنی پودوں کو طاقت اور غذا مہیا کرتی ہے اور زمین کے ہر حصے کو روشن کرتی ہے اسی طرح فقر شریعتِ محمدی ؐکو نور بخشتا ہے۔ فقر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حقیقی ورثہ ہے اور یہی وہ راہ ہے جو انسان کوباطنی بلندیوں کی جانب لے جاتی ہے۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
شریعتِ مطہرہ کی مکمل پابندی، پیروی اور اتباع کے بغیر فقر کا کوئی مقام اور منزل حاصل نہیں ہوسکتی اور فقر کے تمام مدارج شریعت کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں۔
ہم نے جو بھی مرتبہ حاصل کیا شریعت پر چل کر حاصل کیا۔
شریعت سے مراددین کے علمِ ظاہر اور علمِ باطن کا اکٹھا ہونا ہے۔ جس کے پاس ایک علم ہے وہ اہلِ شریعت ہونے کا دعویٰ نہ کرے۔ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
شریعتِ مطہرہ کی مکمل پیروی اوراتباع کے بغیر سلوک و معرفت کاکوئی مقام اورمنزل حاصل نہیں ہو سکتی اور فقر کے تمام مدارج بھی شریعت کی برکت سے ہی طے ہوتے ہیں۔
فقر کی ابتدا بھی شریعت ہے اور انتہا بھی شریعت ہے اور تارکِ شریعت فقر کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
جتنے بھی فقرا کاملین گزرے ہیں وہ سب شریعتِ مطہرہ پر سختی سے کاربند رہے۔
شریعت کی اصل حقیقت بھی راہِ فقرپر چل کر حاصل ہوتی ہے۔
شریعت کا تعلق عالم ِ ناسوت اور اس مادی جسم سے ہے۔ جب تک یہ جسم ہے شریعت کی پابندی اس پر لازم ہے اوراس سے رو گردانی پر سزا ہے۔
(بحوالہ کتاب: سلطان العاشقین)

ایک سچے اور صادق طالبِ مولیٰ کو چاہیے کہ وہ خلوصِ نیت سے شریعت کے ایک ایک حکم پر عمل پیرا ہو۔ اس کے بغیر وہ فقر تک نہیں پہنچ سکتا۔
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر سروری قادری مشائخ اپنے اپنے زمانوں میں فقر کی تعلیمات کو عام کرنے اور اس کا فیض عوام الناس میں پھیلانے کے لیے عمر بھر کوشاں رہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
فقر عین ذات ہے۔ (عین الفقر)
فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ (عین الفقر)
جو شخص دیدارِ حق تعالیٰ چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ (عین الفقر)
  جان لے کہ طلبِ فقر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلب ہے، صحابہ کرامؓ کی طلب ہے اور اولیا اللہ کی طلب ہے۔ (محک الفقر کلاں)

 سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق ارشادفرماتے ہیں:
فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقی وراثت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حقیقی وارث وہی ہے جو اس وارثت کا وارث ہے۔
فقر راہِ عشق ہے۔
  فقر دراصل اللہ تعالیٰ کے دیدار اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری کا علم ہے۔(سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات)

سلسلہ سروری قادری کے امام، مجددِ دین مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
فقر رضائے الٰہی پر سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔
فقر وہ راہ ہے جو بندے کو اللہ سے ملا دیتی ہے۔
  فقر کا ظاہر خلقِ محمدیؐ اور فقر کا باطن لقا و وصالِ الٰہی ہے۔
(بحوالہ کتاب سلطان العاشقین)

پس شریعت کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سمندر کی سطح اور فقر سمندر کی انتہا اور گہرائی۔ یعنی اگر سمندر کی تہہ یا انتہا تک پہنچنا ہے تو ہم سطح سمندر کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ سطح سمندر یعنی شریعت سے گزر کر ہی ہم فقر کی انتہا تک پہنچ سکتے ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں سے گوہر ِ نایاب نکال کر واپس سطح سمندرپر ہی آنا ہوتا ہے۔یعنی ابتدا بھی شریعت اور انتہا بھی شریعت اور شریعت سے باہر کچھ نہیں۔
شریعت ظاہری عبادات، اصول و ضوابط اور قوانین کا نام ہے جبکہ فقر قلبی و باطنی طور پر ہر وقت ،ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بغیر کسی لالچ و غرض کے محض رضائے الٰہی کی خاطر عاجزی سے سر جھکا دینے کا نام ہے۔

یہ واضح رہے کہ باطن، روحانیت اور فقر کا کوئی ایسا مقام نہیں جہاں شریعت سے روگردانی کی جا سکتی ہو چاہے وہ ابتدائی مقام ہو، متوسط یا انتہائی مقام۔ فقرائے کاملین بھی شریعت کی سختی سے پیروی کرتے ہیں۔ فقر پر چل کر ہی دین اور شریعت کی حقیقت سمجھ آتی ہے۔ فقر نفس کے تمام حجابات دور کر کے اللہ کا قرب و دیدار پانے کی راہ ہے جس کے بعد ہر عبادت اس کی حقیقی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ بغیر قرب و دیدارِ الٰہی کے تمام عبادات بے لذت و بے روح ہیں۔  حق یہ ہے کہ ہر عبادت کا اصل مقصد اللہ کا قرب و دیدار حاصل کرنا ہے جو صرف راہِ فقر پر چل کر ہی حاصل ہو سکتا ہے۔

دورِ حاضر میں سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخِ کامل مجددِ دین، امامِ مبین، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہر لمحہ طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کے لیے اس عالمِ ناسوت میں جلوہ افروز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے ہر طالب کو شریعت پر چلنے کی تلقین فرماتے ہیں اور تلقین و ارشاد کے ذریعے فقر کا نور ہر طالب کے قلب میں منور فرما رہے ہیں۔ جو کوئی فقر کو پانا چاہتا ہے اس کے لیے آپ مدظلہ الاقدس کے در کے دروازے ہر لمحہ کھلے ہوئے ہیں۔

استفادہ کتب:
 عین الفقر۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ 
 امیر الکونین : ایضاً
 دیداربخش خورد: ایضاً
 محک الفقر: ایضاً
 شمس الفقرا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات: ایضاً
سلطان العاشقین : ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز

 
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

29 تبصرے “شریعت اور فقر Shariat or Faqr

  1. شریعت اور فقر اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال کو پانے کے لیے ایک ہی راستے کی طرف رجوع کرنے کا نام ہے۔

  2. شریعت کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سمندر کی سطح اور فقر سمندر کی انتہا اور گہرائی۔ یعنی اگر سمندر کی تہہ یا انتہا تک پہنچنا ہے تو ہم سطح سمندر کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ سطح سمندر یعنی شریعت سے گزر کر ہی ہم فقر کی انتہا تک پہنچ سکتے ہیں۔

  3. دورِ حاضر میں سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخِ کامل مجددِ دین، امامِ مبین، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہر لمحہ طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کے لیے اس عالمِ ناسوت میں جلوہ افروز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے ہر طالب کو شریعت پر چلنے کی تلقین فرماتے ہیں اور تلقین و ارشاد کے ذریعے فقر کا نور ہر طالب کے قلب میں منور فرما رہے ہیں۔ جو کوئی فقر کو پانا چاہتا ہے اس کے لیے آپ مدظلہ الاقدس کے در کے دروازے ہر لمحہ کھلے ہوئے ہیں۔

  4. ایک سچے اور صادق طالبِ مولیٰ کو چاہیے کہ وہ خلوصِ نیت سے شریعت کے ایک ایک حکم پر عمل پیرا ہو۔ اس کے بغیر وہ فقر تک نہیں پہنچ سکتا

  5. فقر کا ظاہر خلقِ محمدیؐ اور فقر کا باطن لقا و وصالِ الٰہی ہے۔(فرمان مرشد کریم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس)

  6. فقر کا ظاہر خلقِ محمدیؐ اور فقر کا باطن لقا و وصالِ الٰہی ہے۔
    (بحوالہ کتاب سلطان العاشقین)

  7. باھوؒ اگر تو راستی کا راز پانا چاہتا ہے تو شریعت کی پیروی کر کیونکہ شریعت کی پیروی سے ہی توُ معرفتِ توحید کا دریا نوش کر سکتا ہے۔ (امیرالکونین)

  8. ماشااللہ بہت ہی بہترین مضمون ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 💯❤❤❤❤

  9. باھوؒنے تمام مراتب شریعت کی پیروی سے پائے اور اس نے شریعت کو ہی اپنا پیشوا بنایا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

  10. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
    شریعتِ مطہرہ کی مکمل پیروی اوراتباع کے بغیر سلوک و معرفت کاکوئی مقام اورمنزل حاصل نہیں ہو سکتی اور فقر کے تمام مدارج بھی شریعت کی برکت سے ہی طے ہوتے ہیں۔

  11. فقر کی ابتدا بھی شریعت ہے اور انتہا بھی شریعت ہے اور تارکِ شریعت فقر کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔

  12. فقر رضائے الٰہی پر سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ (سلطان العاشقین)
    بہت اچھا مضمون ہے 🌸

اپنا تبصرہ بھیجیں