شانِ غوث الاعظمؓ Shan-e-Ghous Azam

شانِ غوث الاعظمؓ

تحریر: محترمہ فقیہہ صابر سروری قادری

روایات میں موجود ہے کہ حضرت سید ابوصالحؒ موسیٰ جنگی تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ عنفوانِ شباب میں راہ چلتے دریا کے کنارے پڑا ایک سیب کھالیا۔ بعد میں خیال آیا کہ پتہ نہیں یہ کس کا سیب تھا۔ مالک کی تلاش میں نکلے اور تھوڑا دور سیبوں کا باغ نظر آیا۔ اس کے مالک حضرت عبداللہ صومعیؒ سے معافی کے خواستگار ہوئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ باغ کی رکھوالی کی شرط عائد کی جو کہ آپ ؒنے قبول فرمائی۔ معینہ مدت کی تکمیل پر آپؒ نے پھر معافی چاہی تو انہوں نے فرمایا کہ اب آخری شرط باقی ہے۔ میری ایک بیٹی ہے جو آنکھوں سے اندھی، کانوں سے بہری، ہاتھوں سے لنجی اور پاؤں سے لنگڑی ہے۔ اس کے ساتھ نکاح کر لو، تمہاری خطا معاف کر دوں گا۔ حضرت ابوصالحؒ نے یہ شرط بھی قبول فرما لی۔
بعد از نکاح جب اپنی بیوی کو دیکھا تو تمام ظاہری عیوب سے مبرا ہونے کے ساتھ ظاہری حسن و جمال سے بھی متصف پایا۔ خیال آیا کہ شاید کوئی اور لڑکی ہے۔
حضرت عبداللہ صومعیؒ کے پاس آئے تو انہوں نے ارشاد فرمایاـ: ’’میری بیان کردہ صفات صحیح تھیں لیکن ان کا مفہوم یہ تھا کہ اس نے کبھی غیر محرم کو نہیں دیکھا، نہ کسی سے بات کی، نہ کسی کی بات سنی، نہ کبھی کوئی خلافِ شرع کام کیا اور نہ کبھی گھر سے باہر قدم رکھا۔‘‘ (سیرت غوث الثقلین)

ان دو مقدس اور پاکباز ہستیوں کے گھر میں جو مولودِمسعود ہوا اسے دنیا شہبازِ لامکانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، پیرانِ پیر دستگیر، محی الدین، غوثِ اعظم سیدّناشیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے نام سے یاد کرتی ہے جنہیں ربِّ ذوالجلال نے اولیائے امتِ محمدیہ میں سب سے بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔
آپؒ کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ (17مارچ 1078) بروز جمعتہ المبارک ایران کے ایک قصبہ جیلان میں ہوئی جس کی وجہ سے آپؓ کو جیلانی بھی کہا جاتا ہے۔

’’حیات و تعلیمات سیدّنا غوث اعظمؓ‘‘ میں امام سلسلہ سروری قادری سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تحریر فرماتے ہیں:
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ نجیب الطرفین سیدّ ہیں۔ آپؓ کا معزز سلسلہ والدِمحترم کی جانب سے گیارہ واسطوں سے اور والدہ محترمہ کی جانب سے چودہ واسطوں سے امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔

والد محترم کی جانب سے سیدّنا غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کا سلسلہ نسب یوں ہے:
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی بن سیدّ ابو صالح موسیٰ جنگی دوستؒ بن سیدّ عبداللہؒ بن سیدّ یحییٰ زاہدؒ بن سیدّ محمدؒ بن سیدّ داودؒ بن سیدّ موسیٰ ثانیؒ بن سیدّ عبداللہ ثانیؒ بن سیدّ موسیٰ الجونؒ بن سیدّ عبداللہ المحضبنؓ سیدّنا حسن مثنیٰؓ بن سیدّنا حضرت امام حسن مجتبیٰؓ بن امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ۔

والدہ محترمہ کی جانب سے سیدّنا غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کا سلسلہ نسب یوں ہے:
سیدّنا غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی بن سیدّہ اُم الخیرامۃ الجبار فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ سیدّ عبداللہ الصومعی الزاہدؒ بن سیدّ جمال الدینؒ بن سیدّ محمدؒ بن سیدّ محمودؒ بن سیدّ ابو العطاعبداللہؒ بن سیدّ کمال الدین عیسیٰ ؒ بن سیدّ ابو علاؤالدین محمد الجوادؒ بن سیدّنا امام علی رضاؓ بن سیدّنا امام موسی کاظمؓ بن سیدّنا امام جعفر صادقؓ بن سیدّنا امام باقرؓ بن سیدّنا حضرت زین العابدینؓ بن سیدّناحضرت امام حسینؓ بن امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔

آپؓ کی ولادت باسعادت پر اللہ کے محبوب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مع صحابہ کرام، آئمہ کرام اور اولیا عظام آپؓ کے والد محترم کو بشارت دی:
’’اے ابا صالح! اللہ عزوجل نے تم کو فرزندِصالح عطا کیا ہے، وہ میرا محبوب ہے اور خدائے پاک و برتر کا محبوب ہے اورتمام اولیا و اقطاب میں اس کا مرتبہ بلند ہے۔‘‘(حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

غوثِ اعظمؓ درمیانِ اولیا
چوں محمدؐ درمیانِ انبیا 

ترجمہ: اولیا اللہ کے درمیان غوثِ اعظم ؓ ایسے ہیں جیسے انبیا کے درمیان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔ 

دیگر انبیا کرام علیہم السلام نے بھی آپؓ کے والد محترم کو بشارت دی:
تمام اولیا اللہ تمہارے فرزندِارجمند کے مطیع ہوںگے اور اُن کی گردنوں پر اِن(غوث الاعظم) کا قدم مبارک ہو گا۔ (سیرت غوث الثقلین)

جس کی منبر بنی گردنِ اولیا
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام 

پیر مہر علی شاہؒ ارشاد فرماتے ہیں:
’’حضور غوث اعظمؓ کی شبِ ولادت باسعادت میں 220 لڑکے تولد ہوئے اور آپؓ کی برکت سے سب کے سب اولیا ہوئے۔‘‘

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے مناقبِ غوثیہ میں لکھا ہے:
سیدّنا غوث الاعظم ؒ کی شبِ ولادت صوبہ جیلان میں تقریباً گیارہ صد لڑکے پیدا ہوئے جو سب کے سب مرتبہ ولایت پر فائز ہوئے۔ (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

آپؓ کی پیدائش کے وقت عالمِ اسلام بڑے کٹھن حالات سے گزر رہا تھا۔ اخلاقیات کا نام و نشان نہ تھا، بدکاری عروج پر تھی۔ طوائف الملوکی کی وجہ سے ہر طرف انتشار کا دور دورہ تھا۔ بدکاری، فسق و فجور، سیاسی ابتری اور اخلاقی انحطاط اپنے عروج کو پہنچ چکے تھے۔ مذہبی زوال پذیری کے ساتھ ساتھ روحانی صورتحال بدترین ہو گئی تھی۔ دین کی روح ختم ہو چکی تھی۔ ایسے حالات میں ربِّ ذوالجلال نے سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کے ذریعے دینِ حق کو نئی زندگی بخشی۔ روحانی اقدار بلند ہوئیں، ایک انقلاب برپا ہوگیا اور اشاعتِ اسلام اور ترویج و تبلیغ دین کا سنہری دور شروع ہوا۔ اسی بنیاد پر آپؓ محی الدین کے لقب سے کائنات میں مشہور ہوئے۔

’بہجۃ الاسرار‘ میں تحریر ہے آپؓ نے ایک دفعہ اپنے مشہورِ زمانہ لقب ’’محی الدین‘‘ کے متعلق یہ وضاحت فرمائی:
511ھ میں ایک جمعہ کے روز میں سفر سے برہنہ پا بغداد کی طرف واپس آرہا تھا کہ ایک نہایت ہی لاغر اور نحیف بیمار پر میرا گزر ہوا۔ اس نے کہا ’السلام علیکم یا عبد القادر!‘ میں نے سلام کا جواب دیا۔ کہنے لگا ’’مجھے اٹھاؤ‘‘ میں نے اٹھایا، پھر بٹھا دیا تو اچانک اس کا چہرہ بارونق اور جسم موٹا تازہ ہو گیا۔ میں حیران ہوا۔ اس نے کہا ’’تعجب کی بات نہیں، میں آپ کے جدّ پاکؐ کا دین ہوں جو مردہ ہو رہا تھا۔ اللہ پاک نے آپ کے ذریعے مجھے نئی زندگی عطا فرمائی ہے۔ آپ محی الدین ہیں۔‘‘ 

جب میں مسجد کی حدود میں داخل ہوا تو ایک شخص نے اپنا جوتا اتار کر مجھے پہنا دیا اور ’’یا سیدّی محی الدین‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کیا۔ نمازِ جمعہ ہوئی تو لوگ دوڑتے ہوئے میری طرف آئے اور ’’یامحی الدین، یا محی الدین‘‘ پکارتے ہوئے میرے ہاتھوں کو بوسہ دینے لگے حالانکہ اس سے پہلے کبھی کسی نے مجھے اس نام سے نہیں پکارا تھا۔ (زبدۃ الآثارتلخیص بہجۃ الاسرار )

حضرت قبلہ عالمؒ ارشاد فرماتے ہیں:
’’جو لطافت دوسرے اولیا اللہ کی روحوں کو حاصل ہے وہ حضور غوث پاکؓ کے بدن مبارک کو حاصل ہے۔‘‘ اس لیے آپؓ کی شان جداگانہ ہے۔آپؓ پیشوائے کاملاں اور مقتدائے سالکاں ہیں۔ طالبِ مولیٰ آپؓ کے وسیلہ جلیلہ سے ہی بارگاہِ اقدس میں باریاب ہوتا ہے اور منصب قطبیتِ کبریٰ آپ ؓکی ذات کو ہی تفویض کیا گیا ہے۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ’’اخبارالاخیار‘‘ میں رقمطراز ہیں:
جب خاتمِ نبوت کی خلافت حضرت علیؓ کی ذاتِ گرامی تک پہنچی تو اس شجر ِعلم و ولایت سے درخت طوبیٰ کی مانند بے شمار شاخیں پھوٹیں جن کے کمالات ہر جانب سایہ فگن ہوئے اور ساری دنیا حضرت علیؓ کے نورِ جمالِ ولایت سے روشن ہوگئی۔ خاندانِ نبوتؐ سے نورِ ولایت نہ تو کبھی منقطع ہوا نہ ہوگا۔آسمانِ ولایت نے بغیر ان اقطاب کے کبھی قرار نہیں پکڑا۔ انہی میں سے اللہ نے جسے چاہا قطب الاقطابِ عالم، غوثِ بنی آدم اور مرجع جن و انس بنا کر مشرق و مغرب میں مشہور و معروف کر دیا۔ حضرت سیدّ عبدالقادر جیلانیؓ کو دین کو دوبارہ زندہ کرنے والا بنایا۔ اگرچہ جمالِ محمدیؐ تمام آل میں تاباں و درخشاں ہے مگر محی الدین سیدّ عبدالقادر جیلانیؓ میں اس کا کچھ اور ہی رنگ ہے جو حقیقتاً جمالِ احمدی اور کمالِ محمدی کا مظہرِاُتمّ ہے۔‘‘ (اخبارالاخیار)

اکابرینِ اسلام کی سیدّناشیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے بارے میں پیش گوئیاں:

1۔شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی پیدائش سے 6 سال قبل حضرت شیخ ابواحمد عبد اللہ بن علی بن موسیؒ نے فرمایا:
میں گواہی دیتا ہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے جس کا فرمان ہوگا کہ   قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃٍ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ     میرا قدم تمام اولیااللہ کی گردن پر ہے۔ 

 2۔ حضرت شیخ عقیل سنجیؒ سے پوچھا گیا ’’اس زمانہ کے قطب کون ہیں؟‘‘ فرمایا ’’اس زمانہ کا قطب مدینہ منورہ میں پوشیدہ ہے۔ سوائے اولیا اللہ کے اسے کوئی نہیں جانتا۔‘‘ پھر عراق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ’’اس طرف سے ایک عجمی نوجوان ظاہر ہوگا، وہ بغداد میں وعظ کرے گا۔ اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گا۔ وہ فرمائے گا ’میرا قدم تمام اولیااللہ کی گردن پر ہے‘۔‘‘ 

’’سالک السالکین‘‘ میں ہے:
جب سیدّنا عبدالقادر جیلانیؓ کو مرتبۂ غوثیت و مقامِ محبوبین سے نوازا گیا تو ایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہوگئی اور اس وقت زبانِ فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے:
  قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃٍ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ  
ترجمہ: میرا قدم تمام اولیا اللہ کی گردن پر ہے۔
منادی غیب نے تمام عالم میں ندا کر دی کہ جمیع اولیا اللہ اطاعتِ غوث پاکؓ کریں۔ یہ سنتے ہی اولیا اللہ جو زندہ تھے یا پردہ فرما چکے تھے سب نے گردنیں جھکا دیں۔(زبدۃ الآثارتلخیص  بہجۃ الاسرار) 

سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سیدّنا غوث الاعظمؓ کی اس شان کے متعلق فرماتے ہیں:
  قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃٍ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ    سے مرادصرف یہ ہی نہیں کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کا مرتبہ تمام اولیا سے بلند تر ہے بلکہ تمام سلاسل اسی طریقے سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ اس قول سے یہ بھی مراد ہے کہ سیدّنا غوث الاعظم ؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے ولایت و فقر کے تمام خزانوں کے مالک و مختار ہیں اور آپؓ کی اجازت اور مہربانی کے بغیر کوئی انسان ولایت اور فقر کے ادنیٰ مراتب کو بھی نہیں پا سکتا۔ (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

آپؓ کی شان میں امام احمد رضا خان بریلویؒ فرماتے ہیں:

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا 

اگرچہ سیدّنا غوث الاعظمؓ کی شان اور بلند مرتبہ کو الفاظ کے احاطہ میں لانا کسی ذی روح کے بس کی بات نہیں لیکن سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں آپؓ کی شان بیان فرمائی ہے جو درج ذیل ہے:
مرشد کو ایسا صاحب نظر ہونا چاہیے جیسا کہ میرے پیر محی الدینؓ ہیں جو ایک ہی نظر میں ہزارہا طالبوں اور مریدوں میں سے بعض کو معرفت ِاِلَّا اللّٰہ میں غرق کردیتے ہیں اور بعض کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی (مجلس کی) حضوری سے مشرف کر دیتے ہیں۔(شمس العارفین)  

شفیع امت سرورؐ بود آں شاہ جیلانیؓ
تعال اللہ چہا قدرت خدایش داد ارزانی 

ترجمہ: شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہٗ سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کے شفیع ہیں۔ اللہ بزرگ و برترنے انہیں کس قدر عظیم قدرت عطا کی ہوئی ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں) 

 حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنے ابیات میں بارہا سیدّنا غوث پاکؓ کی شان بیان فرمائی ہے۔ ان ابیات کی تشریح میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے بڑے پیارے اور آسان لفظوں میں بیان فرمائی ہے۔

طالب غوث الاعظمؓ والے، شالا کدی نہ ہوون ماندے ھوُ
جیندے اندر عشق دی رتی، سدا رہن کرلاندے ھوُ
جینوں شوق ملن دا ہووے، لے خوشیاں نت آندے ھوُ
دوہیں جہان نصیب تنہاں دے باھوؒ،جیہڑے ذاتی اسم کماندے ھوُ

مفہوم: سیدّنا غوث الاعظم کے طالب (مرید) کبھی بھی پریشان نہیں ہوتے اور جس کے اندر رتی بھر بھی عشق حق تعالیٰ ہو وہ ہمیشہ دیدار یار کے لیے فریاد کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے بے قراراور بے چین رہتے ہیں اور محبوبِ حقیقی سے ملاقات کی خوشی میں راہِ فقر میں آنے والی مشکلات اور آزمائشیں بڑی خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔  دونوں جہانوں میں وہی با نصیب ہیں جو اسم اللہ ذات کا ذکر اور تصور کرتے ہیں۔(ابیاتِ باھوؒ کامل)

کوئی بندہ آپؓ کی شان کو مکمل بیان نہیں کر سکتا۔ آپؓ کی شان ستاروں سے بلند ہے۔ ہر ولی کو ولایت آپؓ کے درسے ہی عطا ہوتی ہے خواہ وہ روحانیت اور فقر کے کسی بھی مقام و مرتبہ پر فائز کیوں نہ ہو۔ ہر ولی آپؓ کے مقام و مرتبہ سے بخوبی واقف ہے۔

امام حسن بصریؓ سے چودہ سلاسل جاری ہوئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ کمزور ہو چکے تھے۔ سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ نے انہیں نئے سرے سے ترتیب دیا اور یوں آپؓ سے چار سلاسل جاری ہوئے جن میں قادری، چشتی، سہروردی اور نقشبندی شامل ہیں یعنی آپؓ ان تمام سلاسل کے امام ہیں۔ ان سلاسل میں سے قادری سلسلہ آپ کا اپنا سلسلہ ہے۔آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر حکمرانی عطا فرمائی۔شیخ شہاب الدین سہروردیؒ فرماتے ہیں:
میں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ اے چچا!آپ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا اس قدر کیوں ادب کرتے ہیں؟فرمایا’’ میں ان کا ادب کیوں نہ کروں جب کہ اللہ نے ان کو تصرفِ کامل عطا فرمایا ہے۔ عالمِ ملکوت پر بھی ان کو فخر حاصل ہے۔ میرا کیا تمام اولیا اللہ کے احوالِ ظاہر و باطن پر ان کو تصرف دیا گیا ہے جس کو چاہے روک لیں جس کو چاہے چھوڑ دیں۔‘‘(حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی شان کو تحریر کا جامہ پہنانا ممکن نہیں۔ آپؓ کی ایسی بلند و بالا شان اور عظمت کے باوجود اگر کوئی اس سے انحراف کرے تو وہ یقینادل کا اندھا اور بدبخت ہوگا۔ اسی حوالے سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒفرماتے ہیں:
جو غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؓکا منکر ہے وہ بے دین، بد مذہب اور پریشان حال ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے سلسلہ قادری کے دشمن کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
طریقہ قادری کا دشمن تین حکمت سے خالی نہیں ہوتا اوّل رافضی و خارجی دوم ناقص و کاذب و حاسد سوم مردود و منافق۔ (نور الہدیٰ کلاں)

اللہ پاک ہمیں سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے وسیلہ سے آپؓ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی حقیقی معنوں میں مکمل اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

استفادہ کتب:
حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ؛ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
ابیات باھوؒ کامل؛ تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
کلید التوحید کلاں؛ تصنیف لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
شمس العارفین:  ایضاً
اخبار الاخیار:  شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ
زبدۃ الآثارتلخیص  بہجۃ الاسرار:  ایضاً
سیرت غوث الثقلین؛ تصنیف سید غلام معین الحق گیلانی 

ہمارا فیس بک پیج ضرور لائک کیجیے!
https://www.facebook.com/hayat.o.taleemat.Syedna.Ghaus.ul.Azam

 
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

35 تبصرے “شانِ غوث الاعظمؓ Shan-e-Ghous Azam

  1. حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہٗ سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کے شفیع ہیں۔ اللہ بزرگ و برترنے انہیں کس قدر عظیم قدرت عطا کی ہوئی ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں)

    1. شفیع امت سرورؐ بود آں شاہ جیلانیؓ
      تعال اللہ چہا قدرت خدایش داد ارزانی
      ترجمہ: شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہٗ سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کے شفیع ہیں۔ اللہ بزرگ و برترنے انہیں کس قدر عظیم قدرت عطا کی ہوئی ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں)

  2. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒفرماتے ہیں:
    جو غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؓکا منکر ہے وہ بے دین، بد مذہب اور پریشان حال ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

    1. آپؒ کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ (17مارچ 1078) بروز جمعتہ المبارک ایران کے ایک قصبہ جیلان میں ہوئی جس کی وجہ سے آپؓ کو جیلانی بھی کہا جاتا ہے۔

  3. سرکار غوثِ اعظمؓ نظرِ کرم خدارا

    سلطان الفقر پبلیکیشن بہت اچھا کام کر رہی ہے

    تحریک دعوتِ فقر زندہ باد

  4. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس قدمِ محمدﷺ پر ہیں جو اپنی نگاہ کاملہ سے زنگ آلود قلوب کو نور الہٰی سے منور فرماتے ہیں ❤❤🌷

  5. اللہ پاک ہمیں سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے وسیلہ سے آپؓ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی حقیقی معنوں میں مکمل اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  6. حضرت قبلہ عالمؒ ارشاد فرماتے ہیں:
    ’’جو لطافت دوسرے اولیا اللہ کی روحوں کو حاصل ہے وہ حضور غوث پاکؓ کے بدن مبارک کو حاصل ہے۔‘‘ اس لیے آپؓ کی شان جداگانہ ہے۔آپؓ پیشوائے کاملاں اور مقتدائے سالکاں ہیں۔ طالبِ مولیٰ آپؓ کے وسیلہ جلیلہ سے ہی بارگاہِ اقدس میں باریاب ہوتا ہے اور منصب قطبیتِ کبریٰ آپ ؓکی ذات کو ہی تفویض کیا گیا ہے۔

    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ’’اخب

  7. واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
    اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
    سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
    اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

  8. اللہ پاک ہمیں سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے وسیلہ سے آپؓ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی حقیقی معنوں میں مکمل اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  9. غوثِ اعظمؓ درمیانِ اولیا
    چوں محمدؐ درمیانِ انبیا
    ترجمہ: اولیا اللہ کے درمیان غوثِ اعظم ؓ ایسے ہیں جیسے انبیا کے درمیان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔

  10. واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
    اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
    سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
    اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

  11. ماشااللہ انتہائی خوبصورت آرٹیکل ہے۔اللہ پاک ہمیں سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے وسیلہ سے آپؓ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی حقیقی معنوں میں مکمل اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ❤❤❤❤

  12. غوثِ اعظمؓ درمیانِ اولیا
    چوں محمدؐ درمیانِ انبیا
    ترجمہ: اولیا اللہ کے درمیان غوثِ اعظم ؓ ایسے ہیں جیسے انبیا کے درمیان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔

  13. سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سیدّنا غوث الاعظمؓ کی اس شان کے متعلق فرماتے ہیں:
    قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃٍ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ سے مرادصرف یہ ہی نہیں کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کا مرتبہ تمام اولیا سے بلند تر ہے بلکہ تمام سلاسل اسی طریقے سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ اس قول سے یہ بھی مراد ہے کہ سیدّنا غوث الاعظم ؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے ولایت و فقر کے تمام خزانوں کے مالک و مختار ہیں اور آپؓ کی اجازت اور مہربانی کے بغیر کوئی انسان ولایت اور فقر کے ادنیٰ مراتب کو بھی نہیں پا سکتا۔ (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

اپنا تبصرہ بھیجیں