لادینیت سے معراجِ دین کا روحانی سفر Secularism se Miraj e Deen ka Safar

لادینیت سے معراجِ دین کا روحانی سفر

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور

لادینیت، الحاد، دہریت، جسے انگلش زبان میںAtheism بھی کہتے ہیں، سے مراد مذہب کو نہ ماننا اور خدا کے وجود کا انکار کرنا ہے۔ اس مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بنیادی نظریات میں یہ نظریہ شامل ہے کہ دنیا اور نظامِ کائنات از خود وجود میں آئے، روزِ قیامت اور حشر جیسی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ملحدین صرف انہی چیزوں پر یقین رکھتے ہیں جن کا ادراک ہماری بصارت سے ممکن ہے اور جن کے متعلق سائنسی اور عقلی دلائل و شواہدپیش کیے جا سکیں۔ ایسی سوچ رکھنے والے افراد ہر دور اور ہر زمانہ میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں ایسی سوچ رکھنے والے افراد میں حد درجہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس صورتِ حال نے مذہبی طبقہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیاہے کہ ایسی کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہماری نوجوان نسل لادینیت جیسے ناسور کا شکار ہو رہی ہے اور اس باطنی و ذہنی بیماری کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

قرآنِ کریم میں ایسی قیاس آرائیوں، بحث اور نافرمانی کرنے والوں کے متعلق فرمایا گیا ہے :
اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری دنیوی زندگی کے سوا (اور) کچھ نہیں ہے۔ ہم (بس) یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانے کے (حالات و واقعات کے) سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا (گویا خدا اور آخرت کا مکمل انکار کرتے ہیں) اور انہیں اس (حقیقت)کا کچھ بھی علم نہیں۔ وہ صرف خیا ل اور گمان سے کام لے رہے ہیں۔ (سورۃ الجاثیہ۔ 24)  

ملحدانہ سوچ کی بنیادی وجوہات

۱) سب سے پہلی دلیل جو ایک ملحد دیتاہے وہ یہ کہ جس خدا کو ماننا ہے اس کا ادراک ہماری ظاہری آنکھوں سے ممکن نہیں ہے۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کر لیا جائے کہ خدا نہیں ہے۔
۲) موجودہ دور مادیت پرستی اور سائنسی ٹیکنالوجی کا ہے جس میں کسی مذہبی عقیدے کی گنجائش نہیں۔
۳) لادینیت کی ایک وجہ ہمارا نظامِ تعلیم ہے۔ اکثر کالج وںاور یونیورسٹیوں میں ایسی کتابیں، مضامین اور مواد پڑھایا جاتاہے جس سے لادینیت کو تقویت مل رہی ہے۔ نہ صرف اس قسم کی تعلیم بلکہ اس قسم کی ویب سیریز، بلاگز، فیس بک پیجزبنائے جا رہے ہیں اور ان کو ’’Rational Thinking‘‘ کے نام سے لوگوں کے ذ ہنوں پر مسلط کیا جا رہا ہے جوہماری نوجوان نسل کے ذہنوں کو منتشر کر رہاہے۔
۴) اسلام کے نام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑا جا رہا ہے  جو کہ لاادری (Agnosticism) اور ملحدانہ سوچ کی ایک بڑی وجہ ہے۔
۵) اسلام فطرت کا دین ہے۔ ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی کا راز دینِ محمدیؐ کے ظاہری و باطنی پہلوؤں کی مکمل اطاعت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ صد افسوس کہ ہمارے ہاں تمام توجہ اسلام کے ظاہر (شریعت) پردی جا تی ہے اور اسلام کے باطن یا راہِ معرفت جوکہ دینِ محمدیؐ کی اصل روح ہے، پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ لادینیت کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ دین کے ظاہر کو تھام لینا اور باطن کو فراموش کر دینا۔ اگر اسلام کی روح (Essence) کو سمجھ لیا جائے تو لادینیت جیسی بیماری کبھی ہمارے معاشرے میں پروان نہیں چڑھ سکتی۔ تاہم یہ اُسی صورت ممکن ہے جب دینِ اسلام کے ظاہر ی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ باطنی تقاضوں پر بھی عمل درآمد کیا جائے۔ 

سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس ضمن میں فرماتے ہیں :
دینِ اسلام کی اصل بنیاد اللہ تعالیٰ اور آقا پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام سے سچا عشق، اخلاص، وفاداری اور آپؐ کی کامل ظاہر ی و باطنی اتباع ہے۔ اس کے برعکس آج کل تمام تر توجہ صرف ظاہری اتباع پر دی جاتی ہے۔ اگر اصل دین صرف ظاہری اعمال پر مبنی ہوتا تو اکابر صحابہ کرامؓ کے اسلام قبو ل کرتے ہی نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ فرض کر دئیے جاتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تمام عملی ارکانِ دین کی فرضیت ہجرت کے بعد ہوئی۔ اس سے پہلے تمام صحابہ کرامؓ کے لیے دین صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے وفا اور عشق تھا۔ ان کی نماز اور درود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دیدار تھا، ان کا روزہ مشرکینِ مکہ کی طرف سے دی گئی تکالیف پر صبر تھا۔(سلطان العاشقین)

آپ مدظلہ الاقدس اپنی مایہ ناز تصنیفِ مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں فرماتے ہیں:
آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ’’باطن‘‘ کو فراموش کر دیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ’’آفاق‘‘ اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔ (شمس الفقرا)

۶) لادینیت کی ایک بڑھتی ہوئی وجہ دینی و روحانی تعلیمات کا فقدان ہے اور ساتھ ہی ساتھ دین کی حقیقت کے متعلق سوال کرنے والوں کو تسلی بخش جواب نہ دینا ہے۔ ہمارے ہاں عام روّیہ ہے کہ جب بھی کسی نے خدا یا خدا کے متعلق سوال کیا ہے یا تو اس پرکفر کافتویٰ لگا دیا جاتاہے یا سوشل بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے یاBlasphemy  کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ زبردستی نہ کسی پر دین مسلط کیا جا سکتا ہے اور نہ دل میں اُٹھنے والے شکوک و شبہات کو دور کیے بغیر دین پر چلایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دین کے ظاہرو باطن کی مکمل تعلیم رکھنے والے راہنما کوتلاش کیاجائے۔ 

حدیث ِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔(مستدرک الوسائل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وہ لوگ جنہیں یہ مشرک پکارتے ہیں وہ خود ڈھونڈتے ہیں اپنے ربّ کی طرف وسیلہ کون سا بندہ اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔57)

وجودِ خدا کے لیے دلائل

کائنات کے فطری نظام کو دیکھتے ہوئے چند دلائل پیش کیے جا رہے ہیں :
دلیلِ علتّ
دلیلِ مقصدیت

1۔دلیلِ علتّ (Cosmological Argument)

کائنات کی ہر شے ’’ علت اور محلول‘‘ کے نظام کے تحت کام کر رہی ہے جسے ریلیشن آف کاز اینڈ ایفکٹ (Relationship of Cause and Effect) بھی کہتے ہیں۔ جب ہم اس آفاقی نظام کی جانب جھانکتے ہیں تویہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس آفاقی نظام کی بھی تو کوئی پہلی وجہ ہوئی ہو گی جس کے نتیجہ میں یہ کائنات وجود میں آئی۔ کائنات اگر کسی ایک خاص عمل کا نتیجہ (Effect) ہے تو اس  Effect کا بھی کوئی Cause ہو گامثلاًاگر کائنات ایک بگ بینگ(Big Bang) دھماکہ کا نتیجہ (Effect) ہے تو اس  Effect کا بھی تو کوئی Cause ہو گا۔
علت و محلول کے تسلسل کا نظام صرف اُسی صورت اختتام پذیر ہو سکتاہے جب یہ ایک ’’First Cause‘‘ پر آکر رک جائے جو علت العلل یعنی خدا ہے۔
اگر اس کائنات کا آغاز ایک مادہ (Matter) سے ہوا ہے تو وہ مادہ بھی تو کسی نے تخلیق کیا ہوگا۔ لہٰذا یہاں خدا (Creator) کا تصور ناگزیر ہے ورنہ کائنات کا یہ پیچیدہ معمہّ کبھی حل نہ ہو سکے گا۔
  (36 Arguments For The Existence Of God)

2۔دلیلِ مقصدیت (Teleological Argument)

کائنات کے فطری نظام یا نظم و ضبط کی طرف نظر دوڑائی جائے تو تمام کائنات اس بات سے آگاہ کرتی ہے کہ ہر شے ایک مقصد یامنصوبہ کے تحت کام کر رہی ہے۔ کائنات کے نظام میں موجود منصوبہ یا مقصد کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو معین کرنے والا کوئی منصوبہ ساز ہے جس نے ہر شے کو بڑے توازن کے ساتھ مقرر کیا ہوا ہے۔ جس کا حکم اور قدرت ہر شے پر غالب ہے۔ یعنی کائنات کا نظام ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ایک واحد و یکتا ذات موجود ہے جو ہر شے کی قوت و حیات اور نظم وضبط کا باعث ہے۔ (36 Arguments For The Existence Of God)

ذیل میں کائنات کے فطری نظام کو دیکھتے ہوئے چند سائنس دانوں کے خیالات اور ان کی آ را کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ان کے نزدیک کائنات میں موجود حیرت انگیز نظام، نظم و ضبط، اعتدال اور مقصد نے انہیں خدا کے وجود پر ایمان لانے پر مجبور کر دیا ہے۔
سائنسی طریقہ کار کے بانی سر فرانسس بیکن (1561-1626) کا کہنا ہے ’’یہ کہنا بالکل درست ہے کہ تھوڑا سا فلسفہ پڑھنے سے ایک شخص ملحد بن سکتا ہے لیکن فلسفے میں گہرائی کا نتیجہ مذہب سے تعلق کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔‘‘ (وجودِ باری تعالیٰ: فلسفہ ، سائنس اور مذہب کی روشنی میں)
ماڈرن فلاسفی کے بانی رینے ڈیکارٹ (1596-1650) کا کہنا ہے ’’میں یہ واضح طورپر دیکھ رہا ہوں کہ سائنس میں جو بھی سچائی اور قطعیت ہے اس کا انحصار اکیلے سچے خدا کے بارے میں علم پر ہے، وہ اس طرح کہ خدا کو جانے بغیر میں کسی بھی چیز کامکمل علم حاصل نہیں کر سکتا تھا۔‘‘ (وجودِ باری تعالیٰ: فلسفہ ، سائنس اور مذہب کی روشنی میں ) 
ماڈرن سائنس کے بانی سر آئزک نیوٹن (1642-1727) کا کہنا ہے ’’خدا کا انکار حماقت ہے۔ جب میں نظامِ شمسی میں غور کرتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ ہماری زمین سورج سے ایک خاص فاصلے پر موجود ہے تاکہ وہ اتنی ہی حرارت اور روشنی حاصل کر سکے جو اس کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ (وجودِ باری تعالیٰ: فلسفہ، سائنس اور مذہب کی روشنی میں ) 

کیا ہم فطری طور پر مذہبی عقائد کو قبول کرنے کے اہل ہوتے ہیں؟ اس نکتے کو انسان کے اندر پائی جانے والی تین طرح کی قدرتی صلاحیتوں کی روشنی میں زیرِ بحث لاتے ہیں۔

1۔دولخت ادراک (Decoupled Cognition)

’’ہم انسانوں میں ایک زبردست صلاحیت یہ پائی جاتی ہے کہ ہم ایک اَن دیکھے شخص، باس، بیوی، دوست کے ساتھ اپنے ذہن کے اندر ایک پیچیدہ تعامل قائم کر سکتے ہیں جو وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ آپ نے کسی کے ساتھ بحث کی۔ آپ غلطی پر تھے اور اب معذرت کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کو اس سے پہلے اس کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ آپ اس کی ذہنی ریہرسل کرتے ہیں اور اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مقابل کیا ردِ عمل دکھائے گا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہوتا ہے جب آپ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس عمل کو دولخت ادراک (Decoupled Cognition) کہا جاتا ہے اور یہ مذہبی عقیدے کی کلید ہے۔‘‘ (خدا کیوں؟)

2۔مخلوط غایات (Promiscuous Teleology) 

’’بچے میں قدرتی طور پر ایک چیز ہوتی ہے جسے مخلوط غایات (Promiscuous Teleology) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بنیادی ترجیح ہے جس میں کوشش کی جاتی ہے کہ دنیا کو اس کے مقصد کی رُو سے سمجھا جائے۔ اس سے ہمیں بچوں کے نظریات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ بچے بڑوں کے کہے بغیر خودبخود خدا اور تخلیق کردہ دنیا کا تصور پیدا کر لیتے ہیں۔ اندر سے ہم سب پیدائشی طور پر تخلیقِ دنیا پر یقین رکھنے والے ہیں۔ عدم یقین محنت مانگتا ہے۔ بڑے بھی بہت زیادہ منطقی نہیں ہوتے ۔ انہیں بھی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہر چیز کے پیچھے مقصد تلاش کریں۔ درحقیقت مذہب کی تعریف ہی میں مقصد کا عنصر موجود ہے۔‘‘ (خدا کیوں ؟)

3۔فاعل کی شناخت کا ضرورت سے زیادہ سرگرم آلہ

’’انسان کے اندر ایک رجحان پایا جاتا ہے جس کے تحت وہ بغیر کسی شہادت کے ہر چیز کو کسی نہ کسی فاعل کی کاروائی قرار دیتا ہے۔ اسے فاعل کی شناخت کا ضرورت سے زیادہ سرگرم آلہ (Hyperactive agency detection device)کہا جاتا ہے۔ یہ آلہ مذہبی خیالات کی ترویج میں اپنا حصہ ڈالتا ہے کیوںکہ نہ صرف یہ اَن دیکھے فاعل کی اجازت دیتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔‘‘ (خدا کیوں؟)

یہ تینوں صلاحیتیں جن کا ذکر کیا گیا ہے، انسان کے اندر قدرتی طور پر موجود ہوتی ہیں بلکہ انسان کے دماغ میں ایک حصہ موجود ہوتا ہے جو نظریات، احساسات اور عقائد کو قبول کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ زمانہ جتنی بھی ترقی کر لے پھر بھی مذہبی عقائد اور خدا کی تلاش، اس آفاقی نظام میں اس کے وجود کی حقیقت کو جاننے پہچاننے کی لگن کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ 

تصنیف ’’خدا کیوں‘‘ میں ایک اور جگہ درج ہے:
دماغ کے اگلے حصے میں، آنکھوں کے بالکل پیچھے، دروں بینی، غیر جسمانی خصوصیات سے آگہی اور ہماری جذباتی کیفیات، خواہشات اور تمناؤں کے سرکٹ موجود ہیں۔ یہ دماغ کا وہ حصہ بھی ہے جس کی مدد سے ہم تجریدی معاملات پر غور کرتے ہیں جیسے دوسرے لوگوں کے ذہن، ان کے عزائم، عقائد، خواہشات اور احساسات۔ یہ صلاحیت سیکھی نہیں جاتی بلکہ ہر بچہ اس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ (خدا کیوں؟)

 کامل اور مکمل دین صرف ’’دینِ اسلام ‘‘ ہے ! 
اسلام ہی وہ واحد اور مکمل دین ہے جو ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہماری دنیاوی اور اخروی کامیابی کا جوہر پوشیدہ ہے۔ دینِ اسلام پر صدقِ دل سے ایمان لانے کے لیے جو سنہری اصول اللہ ربّ العزت نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے وہ ’’غیب پر ایمان‘‘ ہے۔ یہ وہ اصول ہے جس کے ذریعہ تمام بحث و مباحثہ سے دامن چھڑایا جا سکتا ہے اور خالصتاً اللہ کی رضا میں اپنا سرِتسلیم خم کیا جا سکتا ہے۔ دینِ اسلام کی مہر اپنے سینوں پر ثبت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ’’غیب پر ایمان‘‘ یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اتاری گئی آخری الہامی کتاب ’’قرآن‘‘ اور اس سے پہلے نازل ہونے والی الہامی کتب پر ایمان لایا جائے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الٓمٓ۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو آپؐ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور جو آپؐ سے پہلے نازل کیا گیا ہے (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں۔ وہی اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی حقیقی کامیابی پانے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرہ ۔1,5)

پوری دنیا میں تین بڑے مذاہب موجود ہیں: اسلام، عیسائیت اور یہودیت۔ ان تینوں مذاہب کے عقائد میں الہامی کتب پر ایمان لانا شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو غیب پر ایمان لانے کی قوت سے نوازا ہے جیسا کہ اوپر تین صلاحیتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہمارے دماغ میں ایسا حصہ موجود ہے جو اس قسم کے عقائد کو قبول کر سکتا ہے۔ اگر اللہ پاک نے انسانی دماغ کو اس قابلیت سے نوازا ہی نہ ہوتا تو ہمیں غیب پر ایمان لانے کی جانب راغب ہی نہ کرتا۔ 

محبتِ الٰہی اور غیب پر ایمان

 صدقِ دل سے غیب پر ایمان لانے کا راستہ محبتِ الٰہی کی راہ میں پوشیدہ ہے۔ اللہ کی محبت، شوقِ دیدار اور وصال کی تڑپ کے بغیر غیب پر ایمان نہیں لایا جا سکتا کیونکہ جذبۂ عشق ہی وہ طاقت ہے جو انسان کے اندر سے چوں و چرا جیسے سوالات کا خاتمہ کرتی ہے اور اسے قرب و دیدارِ الٰہی کی لازوال راہ کی جانب گامزن کرتی ہے۔ 

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور جو ایمان لائے اللہ کے لیے ان کی محبت بہت شدید ہے۔ (سورۃ البقرہ۔ 165)
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلمان بھی کافر و زندیق

 دلیلِ مقصدیت قرآن کی روشنی میں

اللہ واحد ہے اور ساری کائنات کا خالق و مالک ہے، ہر شے میں اسی کا جلوہ عیاں ہے۔ تمام آفاقی نظام میں موجود نظم و ضبط اورمقصدیت  اسی کے کن کی وجہ سے ہے۔ وہی ہے جو بارہا اہلِ ایمان کو غور و تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ بیشک اس (تخلیق) میں اہلِ ایمان کے لیے (اس کی وحدانیت اور قدرت کی)  نشانی ہے۔ (سورۃ العنکبوت ۔44)

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:
جس نے سات بار (یا متعدد) آسمانی کرّے باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق در طبق) پیدا فرمائے، تم (خدائے) رحمن کے نظامِ تخلیق میں کوئی بے ضابطگی اور عدم تناسب نہیں دیکھو گے، سو تم نگاہ (غور و فکر) پھیرکر دیکھو، کیا تم اس (تخلیق) میں کوئی شگاف یا خلل (یعنی شکستگی یا انقطاع) دیکھتے ہو؟ تم پھر نگاہ (نگاہِ تحقیق) کو بار بار (مختلف زاویوں اور سائنسی طریقوں سے) پھیر کر دیکھو، (ہر بار ) نظر تمہاری طرف تھک کر پلٹ آئے گی اور وہ (کوئی بھی نقص تلاش کرنے میں) ناکام ہو گی ۔ (سورۃالملک ۔3,4)

 لادینیت سے باطنی معراج کا سفر تزکیۂ نفس سے ممکن ہے 

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ لادینیت کی سب سے بڑی وجہ اسلام کی باطنی تعلیمات کو فراموش کرنا ہے۔ دین صرف شریعت کا نام نہیں ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ دینِ اسلام نفس کی تربیت کا نام ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ آپؐ اپنے دور میں صحابہ کرام ؓ کے نفوس کا تزکیہ فرماتے اور انہیں دینِ حق پر استقامت کے ساتھ گامزن رہنے کی توفیق عطا فرماتے۔ دینِ حق کی تبلیغ سے پہلے عرب میں ہر طرف جہالت عام تھی۔ ایسی کونسی برائی تھی جو ان میں موجود نہ تھی! یہ آپ ؐ کی ظاہری و باطنی تعلیمات کا ہی کمال تھا کہ کچھ عرصہ میں ہی  جہالت میں ڈوبی ہوئی عرب قوم دنیا کی مہذب ترین قوم بن کر ابھری۔

موجودہ دور میں اگر ہماری قوم لادینیت جیسی بیماری سے پاک ہونا چاہتی ہے تو اس کے لیے ہمیں اپنی توجہ تزکیۂ نفس کی جانب مبذول کرنا ہو گی۔ تزکیۂ نفس کے لیے ایسے مرشد کامل کے دامن سے وابستہ ہونا ہو گا جو نفس کی تمام چالبازیوں، بیماریوں اور چالاکیوں سے واقف ہو اور طالب کو باطنی مراتب طے کرواتے ہوئے اللہ کی امان میں پہنچا دے۔ اگر کوئی خدا کو نہ پہچاننے و جاننے کی وجہ سے دین سے دوری اختیار کرتا ہے تو ایسے میں مرشد کامل اکمل ہی ربّ کی حضوری میں پہنچانے کا وسیلہ ہوتاہے ، وہی ہے جو دل سے تمام شکوک و شبہات کے بت توڑ کر غیب پر ایمان لانے کی قوت عطا کرتا ہے۔ وہی ہے جو دل میں عشقِ الٰہی کی شمع روشن کرتا ہے۔ وہی ہے جوآفاقی نظام پر غوروفکر کرنے کی حقیقت سے روشناس کرواتا ہے۔ وہی ہے جس کے وسیلہ سے اللہ کو جانا اور پہچانا جا سکتا ہے۔ وہی ہے جو عقل کی حدود پار کروا کر لامکان تک لے جاتا ہے۔ وہی کامل ہستی ہے جو نفس کی تربیت فرما کر ا سے امارہ سے لوامہ، لوامہ سے ملہمہ اور پھر ملہمہ سے مطمئنہ کر دیتا ہے۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں :
نفس کو مارنے کا واحد طریقہ ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل اکمل کی نگاہ ہے۔ (شمس الفقرا)

 موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ’’سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ‘‘ ہیں۔مندرجہ بالا بیان کیے گئے تمام تصرفات پر آپ مدظلہ الاقدس کی ذات ہر لحاظ سے پورا اترتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں پر بے شمار باطنی نوازشات کی بارش برسا کر انہیں تمام باطنی بیماریوں سے محفوظ فرما دیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کا کامل وجود طالبوں کے لیے نعمتِ عظیم ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہِ کامل سے ہی باطنی و روحانی معراج کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ جو خلوصِ نیت سے آپ مدظلہ الاقدس کے در پر آتا ہے وہ تمام ظاہری و باطنی کمالات سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ جو آئے در کھلا ہے اور جو نہ آئے تو اللہ کی ذات بے نیاز ہے۔ 

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
(علامہ اقبالؒ)

استفادہ کتب:
شمس الفقرا : تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ  الاقدس
تزکیۂ نفس کا نبویؐ طریق :  ایضاً
سلطان العاشقین: ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
خدا کیوں ؟  : جے اینڈر سن ٹامن جونیئر ، ایم ڈی ہمراہ کلیئر او کوفر
وجودِباری تعالیٰ مذہب ، فلسفہ اور سائنس کی روشنی میں :  تصنیف ڈاکٹر حافظ محمد زبیر 
 36 Arguments for the existence of God: A Work of Fiction. Book by Rebecca Newberger Goldstein

 
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

33 تبصرے “لادینیت سے معراجِ دین کا روحانی سفر Secularism se Miraj e Deen ka Safar

  1. اسلام ہی وہ واحد اور مکمل دین ہے جو ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہماری دنیاوی اور اخروی کامیابی کا جوہر پوشیدہ ہے۔

  2. سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں :
    نفس کو مارنے کا واحد طریقہ ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل اکمل کی نگاہ ہے۔ (شمس الفقرا)

  3. اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
    نہ ہو تو مردِ مسلمان بھی کافر و زندیق

    Behtreen mazmoon 👌

  4. اسلام فطرت کا دین ہے۔ ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی کا راز دینِ محمدیؐ کے ظاہری و باطنی پہلوؤں کی مکمل اطاعت کرنے میں پوشیدہ ہے۔

  5. بےشک سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس دین اسلام کی حقیقی روح سے دلوں کو منور فرما رہے ہیں اور آپ مدظلہ الاقدس نے لاتعداد لوگوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر گامزن فرمایا ہے

  6. الٓمٓ۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو آپؐ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور جو آپؐ سے پہلے نازل کیا گیا ہے (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں۔ وہی اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی حقیقی کامیابی پانے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرہ ۔1,5)

  7. صدقِ دل سے غیب پر ایمان لانے کا راستہ محبتِ الٰہی کی راہ میں پوشیدہ ہے۔ اللہ کی محبت، شوقِ دیدار اور وصال کی تڑپ کے بغیر غیب پر ایمان نہیں لایا جا سکتا کیونکہ جذبۂ عشق ہی وہ طاقت ہے جو انسان کے اندر سے چوں و چرا جیسے سوالات کا خاتمہ کرتی ہے اور اسے قرب و دیدارِ الٰہی کی لازوال راہ کی جانب گامزن کرتی ہے

  8. ماشااللہ بہت ہی خوبصورت انداز سے یہ آرٹیکل تحریر کیا گیا ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین 💯❤❤❤❤❤

  9. موجودہ دور میں اگر ہماری قوم لادینیت جیسی بیماری سے پاک ہونا چاہتی ہے تو اس کے لیے ہمیں اپنی توجہ تزکیۂ نفس کی جانب مبذول کرنا ہو گی

  10. آپ مدظلہ الاقدس اپنی مایہ ناز تصنیفِ مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں فرماتے ہیں:
    آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ’’باطن‘‘ کو فراموش کر دیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ’’آفاق‘‘ اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔ (شمس الفقرا)

  11. اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
    نہ ہو تو مردِ مسلمان بھی کافر و زندیق

  12. علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

    اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
    نہ ہو تو مردِ مسلمان بھی کافر و زندیق

  13. آپ مدظلہ الاقدس اپنی مایہ ناز تصنیفِ مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں فرماتے ہیں:
    آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ’’باطن‘‘ کو فراموش کر دیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ’’آفاق‘‘ اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔ (شمس الفقرا)

  14. سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں :
    نفس کو مارنے کا واحد طریقہ ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل اکمل کی نگاہ ہے۔ (شمس الفقرا)

اپنا تبصرہ بھیجیں