نگاہِ سلطان العاشقین Nigah-e-Sultan-ul-Ashiqeen

نگاہِ سلطان العاشقین

تحریر: محترمہ مقدس یونس سروری قادری۔ رائیونڈ

نگاہِ مرشد سے عشق مصطفیؐ حاصل
خدا کا قرب دیتی ہے محبت پیر خانے کی

نگاہ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نظر،بصارت یادیکھنے کی صلاحیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نگاہ میں بہت تاثیر رکھی ہے۔
نگاہ دو قسم کی ہوتی ہے۔
۱)  عوام کی نگاہ
۲)  خواص کی نگاہ

عوام کی نگاہ

عام لوگوں کی نگاہ یعنی دیکھنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے جو صرف آس پاس موجود جاندار اور بے جان اشیا کو ہی دیکھ سکتی ہے۔ان کی تاثیر صرف ظاہری طور پر ہی ہوتی ہے جو صرف چند لمحوں کے لیے دل پر اثر انداز ہوتی ہے۔

خواص کی نگاہ

خواص اللہ کے مقرب بندے ہیں جن کی نگاہ ماسویٰ اللہ کسی چیز پر نہیں ہوتی۔ان کا ہر عمل اللہ کے لیے ہوتاہے۔ وہ اللہ کے عشق میں محو ہوتے ہیں۔

حضرت سخی سلطان باھوُرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عشق کی آگ وہ آگ ہے جو عاشق درویش کے سوا کہیں قرار نہیں پکڑتی۔ (عین الفقر)

ایسا درویش،فقیر فنافی اللہ بقاباللہ کے مرتبہ پر فائز ہوتاہے۔ اپنے زمانے کا امام، مجددِ دین، صاحبِ مسمیّٰ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہوتا ہے۔ فقیرکی نگاہ کامل ہوتی ہے جو انسان کا تزکیۂ نفس کرکے اس کے دل سے تمام باطنی بیماریوں کو ختم کردیتی ہے اور دل میں عشقِ الٰہی کی آگ بھڑکادیتی ہے۔

حضرت سخی سلطان باھوُرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد کامل اکمل کی کیا نشانی ہے؟ اس کی ایک نگاہ دائمی عبادت سے بہترہے۔ طالبِ مولیٰ کا ہاتھ پکڑتے ہی اسے امن الامان کے اس مقام پر پہنچادیتا ہے۔جس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’جو اس میں داخل ہوگیا وہ امن پا گیا۔‘‘(سورۃآلِ عمران۔97)  (عین الفقر)
مرشدِ کامل ہی وہ ہستی ہے جو طالبِ دنیا کو اپنی نگاہِ کامل سے بغیر کسی زہد و ریاضت کی رنجشوں میں ڈالے طالبِ مولیٰ بنا دیتی ہے۔مرشد کامل طالبِ مولیٰ کے ہر قول و فعل سے آگاہ ہوتا ہے خواہ طالب ہزاروں میل دور ہو یا قریب۔ 

شیخ ابو عامر عثمانؒ اور شیخ عبدالحائق حریمیؒ بیان فرماتے ہیں :
ایک مرتبہ ہم تین صفر 555ھ کو سیدّنا غوث الاعظمؓ کے مدرسہ میں حاضر تھے۔اچانک آپ اٹھے اور کھڑاؤں کو پہن کر وضو فرمایا پھر دو رکعت نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک چیخ ماری اور ایک پیر کی کھڑاؤں کو ہوا میں پھینک دیا اور وہ ہماری نگاہوں سے غائب ہوگئی۔ پھر دوسرے پیر کی کھڑاؤں بھی ہوا میں پھینک دی۔استفسار کی تو بھلا کس کو جرأت تھی۔ البتہ ہم نے دن اور تاریخ نوٹ کرلیا۔

تین دن کے بعد تاجروں کا ایک قافلہ آیا۔ آپؓ کی خدمت میں کچھ کپڑے اور نقد روپے بطور نذر پیش کیے اور ساتھ ہی اُس دن کی کھڑاؤں کو بھی حاضر خدمت کیا۔ ہم لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی۔ اس قافلے سے ہم نے حالات معلوم کیے تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا قافلہ جنگل سے گزر رہا تھا۔ رہزنوں نے ہمیں لوٹ لیا۔ اس وقت ہم نے سیدّنا غوث الاعظمؓ کو پکارا۔ فوراً ہم نے دو چیخیں ایسی سنیں کہ سارا جنگل دہل گیا۔ ہم سمجھے کہ شاید کوئی ہماری مدد کو آگیا ہے لیکن بظاہر کوئی نظر نہیں آیا۔ قافلے کا ہر فرد سیدّنا غوث الاعظمؓ کی مدد کا منتظر تھا کہ اتنے میں ان رہزنوں میں سے دو شخص پریشان حال بھاگتے  ہوئے آئے اور ہم سے آکر کہنے لگے کہ خدارا ہمارا قصور معاف کردو اور چل کر اپنا مال واپس لے لو۔ جب ہم لوگ اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں سردار مردہ پڑے ہیں اور یہ دونوں کھڑاؤں ان کے سینوں پر رکھی ہیں۔ پھر ان رہزنوں نے پورا واقعہ بیان کیا اور ہمارا مال و اسباب واپس کر دیا۔ پس اسی وقت اُس مال میں حضور کی نذر مان لی۔لہٰذا ہم لوگ اس وقت ادائے نذر کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں۔اس واقعہ کی تاریخ اور دن ملانے سے بالکل مطابق ہوا۔ (حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ)

میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں:

ہر مشکل دی کنجی یارو ہتھ مرداں دے آئی
مرد نگاہ کرن جس ویلے، مشکل رہے نہ کائی

 سیدّنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں:
اے اللہ کے بندے! تو اولیا اللہ کی صحبت اختیار کر کیونکہ ان کی یہ شان ہوتی ہے کہ جب کسی پر نگاہ اورتوجہ کرتے ہیں تو اس کو زندگی عطا کر دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ شخص جس کی طرف نگاہ پڑی ہے یہودی یا نصرانی یا مجوسی ہی کیوں نہ ہو۔ (الفتح الربانی۔ ملفوظاتِ غوثیہ)

مرشد کامل اپنی نگاہِ کرم سے طالب کی تربیت اس انداز سے کرتا ہے کہ وہ تمام برُی خصلتوں کو چھوڑ کر نیک اورپاکیزہ صفات والا انسان بن جاتا ہے۔ اس کے ہر عمل سے مخلوقِ خدا کے لیے شر کے بجائے خیر ہی خیر پھوٹنے لگتی ہے۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں:
مرشدِ کامل کی نگاہ نفس کے تمام امراض لالچ، حسد، تکبر، کینہ، انانیت،ہوس،بغض، حبِّ دنیااورحبِّ عقبیٰ کو ختم کر دیتی ہے۔ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات)

علامہ محمد اقبالؒ اپنی شاعری میں انسان کے باطن کا علاج’ نظر‘ بتاتے ہیں۔ 

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
(بالِ جبریل)

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
جب اہلِ اللہ فقرا ، دنیاداروں کے پاس سے گزرتے ہیں تو اپنی نظر رحمت سے ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے اہلِ دنیا کے وجود سے حرص ختم ہوجاتی ہے۔ (عین الفقر)
ایک دفعہ حضرت سخی سلطان باھوؒ مشرقی ریگستان کے علاقہ تھل میں چند طالبوں اور درویشوں کے ساتھ محوِ سفر تھے۔ راستہ میں کسی نے آپؒ سے دریافت کیا کہ اکسیرِنظر کسے کہتے ہیں؟اس وقت پاس ہی ایک شخص لکڑیوں کا ایک گٹھا جمع کرکے اسے اٹھانے کو ہی تھا۔ آپؒ نے اس کی طرف نگاہ ڈالی تو وہ شخص آنکھیں پھاڑ کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ آپؒ نے سوال کرنے والے سے کہا’’سفر سے واپسی پر جس وقت ہم اس جگہ آئیں گے جہاں یہ لکڑیاں اٹھانے والا ہمیں ملا ہے تو تمہارے سوال کا جواب یہی شخص دے گا۔‘‘
چنانچہ آپؒ سفر سے لوٹے اور آپ ؒکا گزر اسی جگہ سے دوبارہ ہوا جہاں وہ لکڑیاں اٹھانے والا آدمی ملا تھا تو ایک طالب نے آپؒ کو اس سوال کے جواب کی یاد دلا کر عرض کی جناب واپس اسی جگہ پر آگئے ہیں۔ آپؒ مہربانی فرما کر ہمیں اس سوال کا جواب دے دیں کہ اکسیرِنظر کیا ہے؟

آپؒ تمام طالبوں، درویشوں اور مریدوں کو اس آدمی کے پاس لے گئے تو اس شخص کو اُسی حالت میں پایا جس میں چھوڑ کر گئے تھے کہ لکڑیوں کا گٹھا اس کے سامنے پڑا ہوا ہے اوروہ آنکھیں پھاڑ کر آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آپؒ نے اپنے ہمراہی طالبوں سے کہا کہ اس آدمی سے اپنے سوال کا جواب پوچھو۔جب انہوں نے اس آدمی کو بلایا تو وہ بت کی طرح ساکت کھڑا رہا اور کوئی جواب نہ دیا۔ بار بار بلانے پر بھی جب اس نے کوئی توجہ نہ دی تو انہوں نے عرض کی ’’حضور آپ خود بلائیں۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ جس روز ہم یہاں سے گزرے تھے تم نے اس شخص کو کس حال میں دیکھا تھا؟انہوں نے عرض کی ’’حضور یہ شخص لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے کو تھا اور جس وقت آپ نے نظر فرمائی تو یہ آسمان کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ یہ شخص اُس روز سے اِسی حالت میں کھڑا ہے ۔پھر آپؒ نے دوسری دفعہ اس کی طرف توجہ کی تو وہ ہوش میں آگیا اور آپؒ کے قدموں پر گر کر زار و قطار رونے لگا اور فریاد کرنے لگا کہ خدا کے لیے مجھے پھر اسی حالت میں پہنچادیں۔ آپؒ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنی حالت بتاؤ۔ اس نے عرض کی ’’حضورجس روز آپ یہاں سے گزر رہے تھے میں یہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے کو ہی تھا کہ آپ نے میری طرف باطنی نگاہ ڈالی اور میں آپ کی اسی ایک نگاہ سے اللہ تعالیٰ کے دیدار میں غرق ہوگیا اور آج تک میں اسی لذتِ دیدار میں محو اور مدہوش رہا کہ آپ نے مجھے اس حالت سے نکال لیاہے۔ مجھے صبر اور قرار نہیں آرہا ، مجھے پھر اسی حالت میں پہنچادیں۔‘‘
آپؒ نے درویشوں اور طالبوں سے فرمایا ــ’’یہ اکسیرِنظر کی ادنیٰ سی مثال ہے جو تم نے دیکھی ہے۔‘‘
پھر آپؒ نے اس شخص سے فرمایا’’جا اپنے لکڑیوں کے گٹھے کو اٹھالے، پہلے تو مجذوب ابن الوقت تھا اب تو سالک ابوالوقت ہوگا۔اب یہ تیرے اختیار میں ہے کہ جب چاہے اس حالت میں چلا جایا کر اور جب چاہے واپس آجایا کر۔‘‘ (مناقبِ سلطانی)
تصوف کی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں جس میں گناہ گار انسان مرشد کامل کی نگاہ سے ایک لمحے میں برائی سے تائب ہو کر نیک بن گیا۔ساری عمر کی ریاضتیں، مشقتیں،چلیّ انسان کو اس مقام تک نہیں پہنچاسکتے جہاں مرشد کی نگاہ ایک لمحہ میں پہنچادیتی ہے۔

دیں مجو اندر کتب اے بے خبر
علم و حکمت از کتب، دیں از نظر

اے بے خبر ! دین کوکتابوں میں تلاش نہ کر۔ علم و حکمت تو کتابوں میں مگر دین(کسی ولی ٔ کامل کی) ’’نظر‘‘ سے ملتا ہے۔( پس چہ باید کرد)

حضرت سخی سلطان باھوُرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

باھو!ؒ مردمانرا شد حجابش خلوتش گوشہ نشین
از چہل چلہ بہتر است یک نظر مرشد عین بین

ترجمہ: اے باھوؒ! لوگوں کے لیے ان کی خلوت اور گوشہ نشینی ہی حجاب بن جاتی ہے۔ ان چالیس چلوں سے عین ذات کا دیدار کرانے والی مرشد کی ایک نظر بہتر ہے۔ (عین الفقر)

سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
فقیرِ کامل اپنی نگاہ سے زنگ آلودہ قلوب کو نورِ حق سے منور کرتا ہے اور تزکیۂ نفس کر کے قربِ الٰہی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ طالب اور سالک کی روح کی غذا فقیر ِ کامل کی صحبت اور قرب ہے۔ (سلطان العاشقین)

اگر کوئی طالبِ دنیا مرشد کامل کی صحبت میں آئے اور مرشدِ کامل کی نگاہِ کرم اس پر پڑ جائے تو اسے خاک سے اکسیراور پتھر سے پارس میں تبدیل کر دیتی ہے۔صرف مردِ کامل کی نگاہ اور رہنمائی ہی انسان کو برائی و شر سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

 اسلام کے ابتدائی تیرہ سالوں میں زیادہ عبادات فرض نہ تھیں۔خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی نگاہِ کامل اور پاکیزہ صحبت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیۂ نفس فرما کر انہیں عشقِ الٰہی کی نعمت سے نوازتے۔ جن صحابہ کرامؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیادہ صحبت اور نگاہ کا فیض حاصل کیا انہوں نے اتنا زیادہ مرتبہ پایا۔

قرآنِ پاک میں تزکیۂ نفس کے نبویؐ طریق کو اللہ پاک نے یوں بیان فرمایا ہے:
وہی اللہ ہے جس نے مبعوث فرمایا اُمیوں میں سے ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)جو پڑھ کر سناتاہے اُن کو اس کی آیاتِ قرآن پاک اور(اپنی نگاہِ کامل سے) اُن کا تزکیہ نفس کرتاہے اور انہیں کتاب کا علم اور حکمت (علمِ لدنیّ)سکھاتا ہے۔ (سورۃالجمعہ-2)

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے پھر نگاہِ کامل سے ان کا تزکیہ فرماتے تاکہ ان کے قلوب پاک ہو کر قرآن کے نور کو جذب کرنے کے قابل بن سکیں۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت،نگاہ اور توجہ صحابہ کرامؓ کے دلوں میں انوار و یقین کو اجاگر کرتی، نفوس میں ایمان کی چنگاری کو روشن کرتی، ان کی روحوں کومقدس فرشتوں کی سطح سے بھی بلندکرکے ان کے دلوں کو مادی آلودگیوں سے پاک کرتی اور ان کو دیدارِ الٰہی کی نعمت سے ہمکنار کرتی، اُسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جانشینوں کی نگاہ، توجہ اور صحبت طالبانِ مولیٰ کے نفوس کو پاک کرتی ہے اور ایمان میں زیادتی کا باعث اور زنگ آلودہ قلوب کو صیقل کرکے ان میں اللہ تعالیٰ کی یاد کو تازہ کرتی ہے۔ (تزکیۂ نفس کا نبویؐ طریق) 

سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نگاہِ مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں: 
نگاہ سے مراد صفت منتقل کرناہے جیساکہ مجلس ِ محمدیؐ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی نگاہ سے طالب میں صدق کی صفت منتقل ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ کی نگاہ سے عدل اورمحاسبہ نفس،حضرت عثمان غنیؓ کی نگاہ سے غنا اور ادب و حیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نگاہ سے علم وشجاعت کی صفت طالب میں منتقل ہوتی ہے۔ (سلطان العاشقین)

حضرت سخی سلطان باھوُرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

لکھ نگاہ جے عالم ویکھے، کسے نہ کدھی چاہڑے ھوُ
اِک نگاہ جے عاشق ویکھے، لکھاں کروڑاں تارے ھوُ

مندرجہ بالا تحریر سے یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ محض تلاوتِ قرآن کریم اور عبادت و ریاضت سے صحابہ کرامؓ بھی اپنے نفوس کا تزکیہ نہیں کرسکتے تھے بلکہ اس امر کے لیے وہ بھی محمدی شفا خانہ میں حاضر ہوتے تھے اورآقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی پاکیزہ صحبت سے ان کے نفوس کا تزکیہ فرماتے اور ان کو نگاہ سے علم و حکمت یعنی علم لدنیّ عطا فرماتے۔ تو آج اس پرُ فتن دور میں ایسی ہی نگاہِ کامل کی ضرورت ہے جو مردہ دلوں کو زندہ کرکے تزکیۂ نفس کرے اور معرفتِ حق تعالیٰ تک پہنچائے۔

بقول اقبالؒ

دنیا کو ہے اس ’’مہدی بر حق ‘‘ کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار
(ضربِ کلیم)

علامہ محمداقبالؒ بھی اس پستی اور جہالت کے دور میں ایسے مردِ کامل کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں جس کی نگاہ طالب کے دل سے دنیا کے خیالات کو نکال کر اللہ کی طرف متوجہ کردے۔ایسی صفات کے مالک مردِ کامل(مرشدِ کامل) کو کیسے ڈھونڈا جائے؟ اس کی کیا نشانی ہے؟

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 
پیر(مرشد) ایسا ہونا چاہیے جو بغیر ریاضت کے اپنی نگاہ سے گنج بخش دے اور طالب کے دل کو ذکرِاللہ کے ذریعے صاف کر دے، اس کے نفس کو چاک اور روح کو پاک کر دے جس کی بدولت طالب رحمن سے موافقت رکھنے والا اور شیطان کے مخالف بن جائے۔ (شمس العارفین )

سروری قادری مرشد ہی وہ مرشد کامل ہے جو بغیر رنج و ریاضت محض اپنی نگاہِ کامل اور ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات سے طالب کو سیر اِلی اللہ سے سیر فی اللہ کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔کلید التوحید کلاں میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
سروری قادری مرشد مجمل وجامع ہوتا ہے۔ وہ باطن اور ظاہر میں ایسی کتاب ہوتا ہے جو طالبوں کے لیے کتب الاکتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ جس کے مطالعہ سے طالب فنافی اللہ ہوجاتے ہیں اور اس ذات کو بے حجاب دیکھتے ہیں۔ 

موجودہ دور کے امام اور سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل، مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔اس مادہ پرستی کے دور میں آپ مدظلہ الاقدس اپنی نگاہِ کامل کی تاثیر اور پاکیزہ صحبت سے زنگ آلود قلوب کی میل دور کرکے انہیں باصفا بنا رہے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس نبویؐ طریق کے مطابق اپنی نگاہ سے طالبوں کا تزکیۂ نفس کرکے ان کے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کررہے ہیں۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے:
میری امت کے آخری دور میں اس طرح ہدایت پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچارہا ہوں۔ (مسلم)

آپ مدظلہ الاقدس قدمِ محمدؐ پر فائز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس طالب کو بیعت کے پہلے روز ہی ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات اور مشق مرقومِ وجودیہ عطا کرتے ہیں اور اپنی نگاہ اور صحبت سے طالب کے دل کو تمام باطنی بیماریوں سے پاک کرکے اسے روحانیت میں اعلیٰ مراتب عطا کرتے ہیں۔بقول اقبالؔ: 

کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
 (بانگِ درا)

آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت اور نگاہِ کامل سے فیض پانے والے مرد و خواتین اپنی قلبی کیفیات کے تبدیل ہونے اور آپ کی نگاہِ کرم کے کمال کا واضح مشاہدہ کرتے ہیں۔طالب چاہے سات سمندر پار ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں، آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہ ہمیشہ ان کی محافظ ہوتی ہے۔مرد و خواتین کے مشاہدات سلطان الفقر پبلیکیشنز کی شائع کردہ کتاب ’سلطان العاشقین‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔

کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہیے
جانانہ چاہیے در جانانہ چاہیے
ساغر کی آرزوہے نہ پیمانہ چاہیے
بس اک نگاہِ مرشد مے خانہ چاہیے
(بیدم شاہ وارثی)

مخلوقِ خدا کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ آئیں اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی نگاہِ کامل کے فیض سے اپنے قلوب کو منور کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوسکیں۔

استفادہ کتب
الفتح الربانی۔ ملفوظاتِ غوثیہ: تصنیفِ لطیف سیدّنا شیخ عبد القادرجیلانیؓ
عین الفقر : تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
تزکیۂ نفس کا نبویؐ طریق: ایضاً
فقرِ اقبال: ایضاً
سلطان العاشقین: ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
کلیاتِ اقبال

 
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

29 تبصرے “نگاہِ سلطان العاشقین Nigah-e-Sultan-ul-Ashiqeen

    1. ہر مشکل دی کنجی یارو ہتھ مرداں دے آئی
      مرد نگاہ کرن جس ویلے، مشکل رہے نہ کائی

  1. ہر مشکل دی کنجی یارو ہتھ مرداں دے آئی
    مرد نگاہ کرن جس ویلے، مشکل رہے نہ کائی

  2. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے انسانِ کامل ہیں جو اپنی نگاہ کاملہ سے مردہ قلوب کو حیات بخشے ہیں۔

  3. خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
    ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
    (بالِ جبریل)

    لکھ نگاہ جے عالم ویکھے، کسے نہ کدھی چاہڑے ھوُ
    اِک نگاہ جے عاشق ویکھے، لکھاں کروڑاں تارے ھوُ

  4. مرشدِ کامل ہی وہ ہستی ہے جو طالبِ دنیا کو اپنی نگاہِ کامل سے بغیر کسی زہد و ریاضت کی رنجشوں میں ڈالے طالبِ مولیٰ بنا دیتی ہے۔

  5. مرشد کامل اپنی نگاہِ کرم سے طالب کی تربیت اس انداز سے کرتا ہے کہ وہ تمام برُی خصلتوں کو چھوڑ کر نیک اورپاکیزہ صفات والا انسان بن جاتا ہے۔

  6. سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    فقیرِ کامل اپنی نگاہ سے زنگ آلودہ قلوب کو نورِ حق سے منور کرتا ہے اور تزکیۂ نفس کر کے قربِ الٰہی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ طالب اور سالک کی روح کی غذا فقیر ِ کامل کی صحبت اور قرب ہے۔ (سلطان العاشقین)

  7. مرشد کامل اپنی نگاہِ کرم سے طالب کی تربیت اس انداز سے کرتا ہے کہ وہ تمام برُی خصلتوں کو چھوڑ کر نیک اورپاکیزہ صفات والا انسان بن جاتا ہے۔ اس کے ہر عمل سے مخلوقِ خدا کے لیے شر کے بجائے خیر ہی خیر پھوٹنے لگتی ہے۔

  8. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی نگاہ مبارک اکسیر ہے

  9. ہر مشکل دی کنجی یارو ہتھ مرداں دے آئی
    مرد نگاہ کرن جس ویلے، مشکل رہے نہ کائی

  10. اگر کوئی طالبِ دنیا مرشد کامل کی صحبت میں آئے اور مرشدِ کامل کی نگاہِ کرم اس پر پڑ جائے تو اسے خاک سے اکسیراور پتھر سے پارس میں تبدیل کر دیتی ہے۔صرف مردِ کامل کی نگاہ اور رہنمائی ہی انسان کو برائی و شر سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

  11. کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہیے
    جانانہ چاہیے در جانانہ چاہیے
    ساغر کی آرزوہے نہ پیمانہ چاہیے
    بس اک نگاہِ مرشد مے خانہ چاہیے
    (بیدم شاہ وارثی)

  12. قرآنِ پاک میں تزکیۂ نفس کے نبویؐ طریق کو اللہ پاک نے یوں بیان فرمایا ہے:
    وہی اللہ ہے جس نے مبعوث فرمایا اُمیوں میں سے ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)جو پڑھ کر سناتاہے اُن کو اس کی آیاتِ قرآن پاک اور(اپنی نگاہِ کامل سے) اُن کا تزکیہ نفس کرتاہے اور انہیں کتاب کا علم اور حکمت (علمِ لدنیّ)سکھاتا ہے۔ (سورۃالجمعہ-2)

  13. کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
    نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

  14. ماشااللہ بہت ہی خوبصورت آرٹیکل ہے ، بشک سلطان العاشقین موجودہ دور کے کامل اکمل ولی ہیں 💯❤❤❤❤❤❤❤

    1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس قدمِ محمدﷺ پر ہیں جو اپنی نگاہ کاملہ سے زنگ آلود قلوب کو نور الہٰی سے منور فرماتے ہیں ❤❤🌷

  15. آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت اور نگاہِ کامل سے فیض پانے والے مرد و خواتین اپنی قلبی کیفیات کے تبدیل ہونے اور آپ کی نگاہِ کرم کے کمال کا واضح مشاہدہ کرتے ہیں۔طالب چاہے سات سمندر پار ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں، آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہ ہمیشہ ان کی محافظ ہوتی ہے۔مرد و خواتین کے مشاہدات سلطان الفقر پبلیکیشنز کی شائع کردہ کتاب ’سلطان العاشقین‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔

  16. حضرت سخی سلطان باھوُرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    عشق کی آگ وہ آگ ہے جو عاشق درویش کے سوا کہیں قرار نہیں پکڑتی۔ (عین الفقر)

  17. سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    فقیرِ کامل اپنی نگاہ سے زنگ آلودہ قلوب کو نورِ حق سے منور کرتا ہے اور تزکیۂ نفس کر کے قربِ الٰہی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ طالب اور سالک کی روح کی غذا فقیر ِ کامل کی صحبت اور قرب ہے۔ (سلطان العاشقین)

  18. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس مرشد کامل اکمل جامع نور الہدی فقیر مالک االملکی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں