واقعہ کربلا اور اقبال ؒ– waqia karbala aur Iqbal

Rate this post

واقعہ کربلا اور اقبالؒ

تحریر: مسز سونیا نعیم سروری قادری۔ لاہور

در نوائے زندگی سوز از حسینؓ
اہلِ حق حریت آموز از حسینؓ
(رموزِ بیخودی)

ترجمہ: میری زندگی کے نغموں میں سوز حسینؓ سے ہے اوراہلِ حق نے ہمیشہ آزادی کا سبق حسینؓ سے حاصل کیا۔
نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت امام حسینؓ کی لازوال قربانی اور حق و باطل کا معرکۂ کربلا تاریخِ انسانی کا وہ ناقابلِ فراموش واقعہ ہے جسے کوئی بھی صاحبِ شعور انسان نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ اہلِ علم کے مطابق شعر اور شاعر کا لفظ شعور سے مشتق ہے لہٰذا جو جتنا باشعور ہوگا اس کے اشعار میں اتنی ہی گہرائی اور سعت ہو گی۔ ہر دور کے شعرا نے واقعہ کربلا پر اپنے اپنے انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ علامہ اقبالؒ وہ عظیم شاعر ہیں جن کی شاعری عقل و شعور اور حقیقتِ ذاتِ خداوندی سے بھر پور ہے۔ درحقیقت اقبالؒ عارف تھے اور راہِ فقر پر چل کر فقر کی انتہا تک پہنچے پس مشرق کے بلند پایہ عارف، شاعر، مفکر، عاشقِ رسولؐ و اہلِ بیتؓ ہونے کی حیثیت سے آپؒ کی شاعری میں واقعہ کربلا کو جو اہمیت حاصل ہے اس کی مثال نہیں۔ علامہ اقبالؒ نے مختلف نظموں اور غزلوں میں فرزندِ زہراؓ کی قربانی کا ذکر بہت خوبصورتی سے کیا ہے اور بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔
واقعہ کربلا توحید پر یقین کا ایک واضح ثبوت ہے، ربّ ذوالجلال کے علاوہ کسی سے نہ ڈرنے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے رموزِ بیخودی میں اس کا اظہار اس خوبصورتی سے کیا ہے۔

ہر کہ پیماں با ھو الموجود بست
گردنش از بند ہر معبود رست

ترجمہ:جس شخص نے ذاتِ باری تعالیٰ سے اپنا رشتہ استوار کر لیا اس کی گردن ہر دوسرے معبود کی بندش سے آزاد ہوگی یعنی جو لوگ حاضرو ناظر اور زندہ و قائم کو ماننے والے ہوتے ہیں وہ نمرودوں، فرعونوں اور یزیدوں کے سامنے کبھی نہیں جھکتے۔

ماسوا اللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

ترجمہ: یاد رہے کہ مسلمان خدا کے سوا کسی کا غلام نہیں اور نہ ہی اس کا سر کسی فرعون کے آگے جھک سکتا ہے۔
واقعہ کربلا ایک عاشق کا اپنے ربّ کے ساتھ عشق کا معاملہ ہے کیونکہ عشق ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو بے خوف کر دیتی ہے۔ یہ واقعہ عشق کی اعلیٰ ترین مثال ہے ورنہ عقل تو اس کی نفی کرتی ہے۔علامہ اقبالؒ  فرماتے ہیں :

آں شنیدستی کہ ہنگام نبرد
عشق با عقل ہوس پرور چہ کرد 

ان اشعار میں علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں کیا تو نے سنا کہ میدانِ کربلا میں عشق نے ہوس پرور عقل کے ساتھ کیا سلوک کیا! یہاں عشق کے علمبردار حضرت امام حسینؓ کو کہاگیا ہے اور یزید اور اس کا ساتھ دینے والے ہوس پرور عقل کی علامت ہیں۔
پھر فرماتے ہیں:

مومن از عشق است و عشق از مومن است
عشق را ناممکن ما ممکن است

یعنی مومن کی ہستی عشق پر موقوف ہے اور عشق کا وجود مومن پر موقوف ہے۔ عشق ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
اقبال ؒ نے عشق کی مدحت یوں بھی بیان کی ہے:

مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ 
عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام

بالِ جبریل میں اقبال ؒ عشق کی تعریف یوں بیان فرماتے ہیں:

صدقِ خلیل ؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق 
معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

راہِ حق میں عشق جس تیزی سے قدم اُٹھاتا ہے عقل وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ واقعہ کربلا سراسر عشقِ حق کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

حضرت امام حسینؓ کی شان بے انتہا بلند ہے آپ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لال۔ آپؓ نے تسلیم و رضا کا وہ مقام حاصل کیا جو اپنی مثال آپ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے آپؓ کی شان میں بہت خوبصورت اشعار تحریر کیے ہیں:

آں امامِ عاشقاں پورِ بتولؓ
سرو آزادے زبستانِ رسولؐ

ترجمہ: امام حسینؓ عاشقوں کے امام ہیں اور حضرت فاطمہؓ کے فرزند ہیں جنہیں آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے باغ میں سروِآزاد کی حیثیت حاصل ہے۔
واقعہ کربلا میں جن کے پورے گھرانے کو قربان کر دیا گیا اور جن کا سر نیزے پر رکھا گیا علامہ اقبال ؒ اس عظیم ہستی کا رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تعلق بیان فرماتے ہیں :

بہر آں شہزادۂ خیرالملل 
دوش ختم المرسلینؐ نعم الجمل

ترجمہ: سب سے بہتر اُمت یعنی ملت اسلامیہ کے اس شہزادے کی شان یہ تھی کہ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کندھے مبارک آپؓ کی سواری تھے۔
مندرجہ بالا اشعار میں اقبال ؒ نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دونوں جہانوں کے سرکار وجۂ تخلیقِ کائنات نے امام حسنؓ اور حسینؓ کو دونوں کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا کہ کسی نے کہا ’’نعم الجمل (کتنی اچھی سواری ہے)‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ سوار بھی تو اچھے ہیں‘‘ ۔
کربلا حق و باطل کا معرکہ ہے، کربلا ایک جابر سلطان کے سامنے حق کہنے کا نام ہے۔ یزید نے اللہ کے قانون اور شریعتِ مصطفی ؐ پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی۔ فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کا راستہ روکا اور قربانیاں دے کر اپنے نانا کے دین کو زندہ و جاوید کر دیا ۔
علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

زندہ حق از قوتِ شبیریؓ است
باطل آخر داغِ حسرت میری است 
چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت
حریت را زہر اندر کام ریخت
خاست آں سر جلوۂ خیر الاممؓ
چوں سحاب قبلہ باراں در قدم
(رموز بیخودی)

یعنی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق قوتِ شبیریؓ سے زندہ رہتا ہے اور حضرت امام حسینؓ جیسی اعلیٰ مرتبہ کی حامل شخصیت ہی ایسی خدمت انجام دیتی ہے۔ باطل شکست و نامرادی سے دوچار ہوتا ہے اور حق کا بول بالا قوتِ خیر سے ہوتا ہے جبکہ باطل قوتوں کا انجام ذلت و خواری ہے۔ بظاہر امام حسینؓ خا ک و خون میں لت پت ہوگئے، ان کا سرِ مقدس کربلا سے دمشق لے جایا گیا، ان پر فرات کا پانی بند کر دیا گیا لیکن درحقیقت وہ سرخرو اور سرفراز ہوئے۔ اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ جب خلافت کا تعلق قرآن سے منقطع ہوگیا اور مسلمانوں کے نظام میں حریتِ فکر و نظر باقی نہ رہی تو اس وقت امام حسینؓ اسطرح اٹھے جیسے قبلے کی جانب سے گھنگھور گھٹا اُٹھتی ہے اور اُٹھتے ہی جل تھل کر دیتی ہے۔ یہ گھنگھور گھٹا کربلا کی زمین پر برسی اور ویرانوں کو لالہ زار بنا دیا۔ امام حسینؓ کی موجِ خون نے حریت کا گلزار کھلا دیا۔
امام حسینؓ نے یہ جنگ صرف اپنے نانا کے دین کو بچانے کیلئے لڑی تاکہ خلافت ان اصولوں کے مطابق قائم ہو جو قرآنِ مجید نے پیش کئے۔ علامہ اقبال ؒ بھی واقعہ کربلا کی اس حقیقت کو اپنے اشعار میں بیان فرماتے ہیں :

مدعایش سلطنت بودے اگر
خود نکردے باچنیں سامان سفر
دشمناں چوں ریگ صحرا لاتعد
دوستان او بہ یزداں ہم عدد

یعنی اگر امام حسینؓ سلطنت کے خواہاں ہوتے تو اتنے تھوڑے آدمیوں اور معمولی سروسامان کے ساتھ کیوں مکہ معظمہ سے کوفہ کی طرف جاتے۔ ان کے دشمن صحرا کے ذروں کی طرح بے شمار تھے جبکہ دوستوں اور رفیقوں کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی یزداں کے اعداد کی ہے۔
(ی = 10 + ز= 7 + د= 4 + ا= +1 ن= 50) حروف ابجد کے حساب سے ’یزداں‘ کے 72 عدد بنتے ہیں۔ امام حسینؓ کے تمام ساتھی بھی کربلا میں 72 ہی تھے۔
اقبالؒ امام حسینؓ کے مقصد کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:

تیغ بہر عزتِ دین است و بس
مقصد او حفظِ آئین است و بس

مفہوم:مومن کی تلوار ہمیشہ دین کے غلبہ و اقتدار کیلئے اُٹھتی ہے۔ امام حسینؓ کا تلوار اٹھانے کا مقصد صرف شریعت کی حفاظت اور دین کو بچانا تھا۔ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض نہیں تھی۔
اقبالؒ کی نظر میں امام حسینؓ حق و صداقت کا وہ میزان ہیں جو ہر دور میں حق و باطل کی کسوٹی ہیں۔ جب یزید نے مدینہ منورہ کے والی ولید اور مروان کے ذریعے امام حسینؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا تو آپؓ نے ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو ہمیشہ حق کی باطل پر فتح کو ثابت کرتا رہے گا آپؓ نے فرمایا ’’ مجھ جیسا شخص یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔‘‘ بے شک آپؓ انسانِ کامل تھے آپ کیونکر باطل کے سامنے جھکتے ۔جس نے کربلا کو دو شہزادوں کی جنگ کہا یا سمجھا وہ انسانیت اور اخلاقی اقدار سے بہت دور ذلت اور پستی میں جاگرا۔ کہاں جوانانِ جنت کا سردار اور کہاں شام کے تخت پر بیٹھا ایک شرابی اور بدمعاش، کہاں رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چمن کا پھول اور کہاں انسانیت کا دشمن۔ آج حسینؓ ضمیر کی آواز بن کر باضمیر نفس کے رہبر ہیں۔ حسینیت نام ہے احترامِ انسانیت کا جبکہ یزیدیت نام ہے ظلم و جور کا۔ یزیدیت انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔
علامہ اقبال ؒ نے اس تقابل کو یوں بیان کیا:

موسیٰؑ و فرعون و شبیرؓ و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

ترجمہ: موسیٰؑ اور فرعون، حسینؓ اور یزید یہ دو قوتیں جب سے زندگی کا آغاز ہوا تب سے ایک دوسرے کے مقابل آئیں ۔موسیٰؑ اور حسینؓ حق کے نمائندے اور فرعون اور یزید باطل کے پیروکار ہیں۔
اسی طرح علامہ اقبالؒ نے بانگِ درا میں فرمایا:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز 
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی

یعنی دنیا میں ازل سے ہی حق و باطل کی قوتیں آپس میں جنگ کرتی رہیں ہیں اور اگر دنیا میں قوتِ شبیریؓ نہ ہوتی تو حق کب کا مٹ چکا ہوتا۔ امام عالی مقام رضی اللہ عنہٗ ایک ابدی حقیقت ہیں جس کو کوئی حق پرست نہیں جھٹلا سکتا۔
کربلا جرات و بہادری، عزم و حوصلے اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا نام ہے۔ حق پر استقامت کا جو مظاہرہ کر بلا میں دیکھنے کو ملتا ہے تاریخِ عالم اس کی مثال لانے سے قاصر ہے۔ وہ کیا صبر اور حوصلہ ہو گا جوذرّہ برابر بھی کم نہیں ہوتا بلکہ ہر نئی مصیبت کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ کربلا کے ریگزاروں میں کون سی مصیبت تھی جو آلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے رفقا کو درپیش نہ آئی ہو لیکن آفرین ہے حضرت امام حسینؓ کے حوصلہ پر جس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس طرف علامہ اقبال ؒ نے رموزِ بیخودی میں یوں اشارہ کیا ہے۔

عزم او چوں کوہساراں استوار
پائدار و تند سیر و کامگار

ترجمہ: حسینؓ کا عزم و استقلال پہاڑوں کی مانند مضبوط اور استوار تھا او روہ اپنی تلوار کو دینِ حق کی عزت و بقا کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔اس کو اقبال ؒ نے یوں بھی بیان کیا ہے:

تیغ لا چوں از میاں بیروں کشید 
از رگِ اربابِ باطل خوں کشید
نقش الااللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت

ترجمہ: امام حسینؓ نے اپنی تلوار میان سے باہر کھینچی تو تمام صاحبانِ باطل کی رگوں سے خون نکال دیا۔ انہوں نے الااللہ یعنی توحید کا نقش صحرا کے سینے پر کھینچا اور یہ نقش ہماری نجات کے عنوان کی سطر کے طور پر لکھ دیا۔
کربلا نام ہے ذبحِ عظیم کا جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے۔ کربلا میں جن افراد کی شہادت ہوئی وہ حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کا ہی تسلسل ہے۔ ربّ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کو مؤخر کر دیا تھا جس کی تکمیل کربلا کے صحرا میں آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نواسے حضرت امام حسینؓ نے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی قربانیاں دے کر کی۔ کربلا قربان گاہ بن گئی اور امام حسینؓ کی قربانی وَ فَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ  ترجمہ: اور ہم نے ایک بڑی قربانی کے ساتھ اس کا فدیہ دے دیا۔ (سورۃ الصفات ۔ 107)کی تفسیر بن گئی۔ چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے تھے اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے ہوں۔‘‘
اسی بات اور نظریہ کو اقبال ؒ نے اپنی شاعری میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

سرّ ابراہیمؑ و اسمٰعیلؑ بود
یعنی آں جمال را تفصیل بود

ترجمہ: وہ (حضرت امام حسینؓ) ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کے راز تھے یعنی ان کے واقعۂ قربانی کی تفصیل بیان کرنے والے۔ ان کی قربانی اجمالی تھی اور حسینؓ کی تفصیلی۔
اسی قربانی کا تذکرہ یوں بھی کیا ہے :

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبحِ عظیم آمد پسر

ترجمہ: امام حسینؓ کے والد حضرت علی کرم اللہ وجہہ بائے بسم اللہ یعنی علومِ قرآنی کا دروازہ ہیں اور اما م حسینؓ ذبحِ عظیم کی تفسیر ہیں۔
علامہ اقبال ؒ بالِ جبریل میں فرماتے ہیں :

غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعیل ؑ 

واقعہ کربلا نے انسانی غلامی کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا اور اس یزیدی سوچ کو بھی جو جبر کے ساتھ انسان اور انسانی افکار کو اپنا غلام بنانا چاہتی ہے۔ شعرا، علما،ادبا،دانشور، مفکر اور باضمیر انسان اس عظیم قربانی کو عشق کی نظر سے دیکھتے ہوئے اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ امام حسینؓ کی قربانی نے آزادیٔ انسان کی تمام تحریکوں کو جِلا بخشی ۔ جیسا کہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

رمزِ قرآں از حسینؓ آموختیم
ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم
شوکتِ شام و فر بغداد رفت
سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت
تار ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیر او ایماں ہنوز
( رموزِ بیخودی)

ترجمہ و تشریح: ہم نے قرآن کے اسرارو رموز امام حسینؓ سے ہی سیکھے ہیں اور انہی کی روشن کی ہوئی آگ سے شعلے سمیٹ رہے ہیں۔ دنیا کی کئی حکومتیں آئیں اور مٹ گئیں‘شام کی شوکت مٹ گئی اور بغداد کا جاہ و جلال ختم ہوگیا غرناطہ کی سطوت اور رعب بھی رخصت ہوگیا مگر اس کے مقابلے میں کربلا کی یاد آج بھی زندہ ہے۔ امام حسینؓ کی مضراب ہمارے ساز کے تاراَب تک چھیڑ رہی ہے جن سے نغمے نکل رہے ہیں اور اب تک نعرۂ تکبیر کی صدا سے ہمارے ایمان تازہ ہو رہے ہیں۔
علامہ اقبال ؒ جہاں واقعہ کربلا کے انقلابی پہلو کو انتہائی خوبصورت انداز سے بیان فرماتے ہیں وہاں کربلا کے لق و دق صحرا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مظلومیت آپؒ کو بے تاب کر دیتی ہے۔ غمِ حسینؓ میں اپنے گریہ اور آہ و زاری کو یوں بیان فرماتے ہیں:

رونے والا ہوں شہیدِ کربلا کے غم میں 
کیا درِّ مقصد نہ دیں گے ساقیِ کوثر مجھے

پھر رموزِ بیخودی میں بیان کرتے ہیں:

اے صبا اے پیک دور افتادگاں
اشک ما بر خاکِ پاکِ او رساں

ترجمہ: اے بادِ صبا! اے دور رہنے والوں کا پیغام لے جانے والی ہوا! ہمارے آنسوؤں کا ہدیہ امام حسینؓ کے مرقد مقدس (روضہ مبارک ) پر پہنچا دے۔
علامہ اقبالؒ نے کربلا اور امام حسینؓ کے ساتھ اُمتِ مسلمہ کے تعلق کو اپنی شاعری میں یوں بیان فرمایا ہے:

درمیاں امت آں کیواں جناب
ہمچو حرفِ قُلْ ھُوَ اللّٰہ در کتاب

ترجمہ: اُمت کے درمیان امام حسینؓ کی حیثیت وہی ہے جو سورۃ اخلاص کو قرآن میں حاصل ہے۔ جس طرح سورۃ اخلاص (قُلْ ھُوَ اللّٰہ) کو قرآنِ مجید میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اسطرح امام حسینؓ کو ملتِ اسلامیہ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔

اسلام پر آج جو کڑا وقت آیا ہے اور مسلمانوں کی جو زبوں حالی ہے اس کا علاج اقبالؒ کی نگاہ میں صرف حسینیت ہی ہے۔ آپؒ اُمت مسلمہ کو بیدار کرنے کیلئے زبورِ عجم میں کیاخوب فرماتے ہیں:

ریگِ عراق منتظر، کشتِ حجاز تشنہ کام
خونِ حسینؓ بازدہ کوفہ و شام خویش را

ترجمہ: عراق کی ریت انتظار کر رہی ہے اور حجاز کے کھیت پیاسے ہیں۔ کوفہ و شام کو پھر سے خونِ حسینؓ کی ضرورت ہے یعنی حق کی آواز بلند کرنے والے اور دین کی خاطر قربانی دینے والے کی ضرورت ہے۔
بالِ جبریل میں اقبالؒ اسی نظریہ کو یوں بیان فرماتے ہیں:

قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں 
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

علامہ اقبال ؒ نے ناصرف کربلا کی حقیقت کو زمانے کے سامنے عیاں کیا بلکہ اسلام کے لبادے میں خوارج و یزیدی عناصر چاہے وہ چودہ سو سال پہلے کے ہوں یا موجودہ دور کے، علامہ اقبال ؒ نے ہر دور کی یزیدیت کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا:

عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کٹا حسینؓ کا سر نعرہ تکبیر کے ساتھ

اس طرح ایک اور جگہ اقبال ؒ بیان کرتے ہیں

ناحق کیلئے اُٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ

فقرآقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ورثہ ہے اس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ کے رازوں اور آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے اہلِ بیتؓ کے اقدامات کی حقیقت کو جان لیتا ہے۔ اسی فقر پر آقا نے فخر کیا ہے۔ علامہ اقبالؒ بالِ جبریل میں فقر کے متعلق بیان کرتے ہیں:

اک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہانگیری
اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری 
اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری
اک فقر ہے شبیریؓ، اس فقر میں ہے مِیری
میراثِ مسلمانی، سرماےۂ شبیریؓ

فقر ہی حضرت شبیرؓ کا سرمایہ ہے اور اسی میں اُمت کی بقا کا راز مضمر ہے۔
دورِ حاضر میں فقر کی یہ امانت سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے پاس ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اس کا فیض طالبانِ مولیٰ میں تقسیم فرما رہے ہیں اور انہیں اسلام کی اصل حقیقت سے روشناس کرواتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دیدار و قرب سے سرفراز فرماتے ہیں۔ جس عاشقِ حسینؓ کو ان کے سرمایۂ فقر کی طلب ہے اس کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ تحریک دعوتِ فقر میں شمولیت اختیار کر کے حقیقتِ حسینؓ و کربلا تک رسائی حاصل کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں