شان اولیا کرام– Shaan-e-Auliya karam

Rate this post

شان اولیا کرام

عبدالشکور سروری قادری۔اوچشریف

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ج لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ج ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ (یونس۔62-64)

ترجمہ: ’’خبردار! بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ کچھ خوف ہے نہ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ٗاللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘

جس طرح عالمِ اجسام میں بعض جسم محتاج ہیں اور بعض محتاج الیہ، یعنی بعض فیض دینے والے ہوتے ہیں اور بعض فیض لینے والے۔ چنانچہ آفتاب اور بارش فیض دینے والے جبکہ زمین، ہری بھری کھیتیاں اور باغات فیض لینے والے ہیں۔ اسی طرح عالمِ روحانیت میں انبیا کرام اور ان کے توسط سے اولیا اللہ مخلوق کو فیض دینے والے اور سارا عالم ان کا حاجتمند اور محتاج ہے۔
مولانا رومؒ فرماتے ہیں:

چونکہ ذاتش ہست محتاج الیہ
زاں سبب فرمود حق صلوا علیہ

ترجمہ: چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات محتاج الیہ ہے اس لیے اللہ نے فرمایا کہ اس سے دعا مانگو۔
ربّ تعالیٰ تک رسائی حضور علیہ السلام کے توسط سے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک رسائی اولیا اللہ کے توسط سے ممکن ہے۔ صحابہ کرامؓ نے سینۂمصطفویؐ سے بلاواسطہ نورِ نبوت کا فیض حاصل کیا جبکہ بعد والوں نے نورِ نبوت صحابہ کرامؓ کے سینوں سے حاصل کیا۔ ہمارے لیے اولیا اللہ کے قلوب وہ شفاف آئینے ہیں جن سے چھن کر نورِ نبوت تمام عالم کو منور کر رہا ہے۔ اسی لیے کامل اکمل مرشد جامع نور الہدیٰ کے دستِ اقدس پر بیعت کی جاتی ہے جو شیشے کی مثل ہوتا ہے تاکہ طالبانِ مولیٰ اس شیشے کے سامنے آجائیں اوربے نور نہ رہیں۔ انبیا کرام خلق کی ظاہری اور باطنی اصلاح کیلئے تشریف لائے اور سلسلہ نبوت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہونے کے بعد اصلاحِ امت کا فریضہ اولیا اللہ کے سپرد ہوا۔
جس طرح زنگ آلود لوہے کو صیقل کرنے کے لیے بھٹی کی ضرورت ہے اسی طرح زنگ آلود دل کیلئے صحبتِ اولیا لازم ہے۔ اولیا اللہ کی نظر آن کی آن میں کایا پلٹ دیتی ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
* اے اللہ کے بندے! تو اولیا اللہ کی صحبت اختیار کر کیونکہ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب کسی پر نگاہ اور توجہ کرتے ہیں تو اس کو زندگی عطا کر دیتے ہیں اگرچہ وہ شخص جس کی طرف نگاہ پڑی ہے یہودی یا نصرانی یا مجوسی ہی کیوں نہ ہو۔ (الفتح الربانی۔ ملفوظاتِ غوثیہ)
روایت ہے کہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی خانقاہ میں ایک شخص چوری کی نیت سے آیا مگر کچھ نہ پایا۔ آپؓ نے اپنے خادم سے ارشاد فرمایاکہ ہمارے گھر سے چور خالی ہاتھ جارہا ہے اس میں ہمارے در کی بدنامی ہے۔ مزید فرمایا کہ فلاں جگہ کا قطب انتقال کر گیا ہے اسے وہاں قطب بنا کر بھیج دو۔ سبحان اللہ! کیا شان ہے سیّدنا غوث الاعظمؓ کی چور کو بھی قطب بنا دیا۔

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

لیکن مشکل یہ درپیش ہے کہ کامل اولیا اللہ کی پہچان نہایت دشوار ہے۔ حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں ’’اولیا رحمتِ الٰہی کی دلہن ہیں جہاں تک سوائے اس کے محرم کے کسی کی رسائی نہیں۔‘‘
شیخ ابو عباس فرماتے ہیں ’’خدا کا پہچاننا آسان ہے مگر ولی کی پہچان مشکل ہے۔‘‘
بعض اولیا فرماتے ہیں کہ ولی کی پہچان یہ ہے کہ دنیا سے بے نیاز ہو اور فکرِ مولیٰ میں مشغول ہو، بعض نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جو فرائض ادا کرے، ربّ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل نورِ جمالِ الٰہی کی معرفت میں غرق ہو، جب دیکھے تو ذاتِ قدرت دیکھے جب سنے تواللہ کی باتیں سنے، جب بولے تو ربّ کی ثنا کے ساتھ بولے اور جو حرکت کرے اطاعت الٰہی میں کرے اور ہمہ وقت ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔
اولیا اللہ کے بے شمار فضائل ہیں جنہیں تحریر میں لانا نہایت دشوار کام ہے۔ آسمان کا قیام چاند تاروں سے ہے اور زمین کی بقا اولیا اللہ سے ہے۔ ظاہری نور اور روشنی چاند سورج سے ہے اور باطنی نور اولیا اللہ سے۔ قرآنِ کریم نے ان کے بڑے فضائل بیان کئے ہیں جیسا کہ فرمایا گیا کہ
* کشتگانِ خنجرِ حق کو مردہ نہ کہو۔
* ان کو مردہ نہ جانو یہ اپنے ربّ کے پاس زندہ ہیں اور انہیں برابر رزق ملتا ہے۔
* انہیں کوئی خوف اور غم نہیں۔
* دنیا میں ان کیلئے بشارتیں ہیں۔
جیسے کشتی بغیر ملاح کے نہیں چل سکتی ایسے ہی حیات کی کشتی کا بغیر اولیا اللہ منزلِ مقصود تک پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
اولیا اللہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ امور کی انجام دہی میں مشغول ہوتے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنی ضروریات حتیٰ کہ اپنی ہستی تک کو فراموش کر دیتے ہیں اور انعام کے طور پر اللہ انہیں ہر شے پر کامل تصرف عطا فرما دیتا ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
* جب بندہ اپنے وجود اور مخلوق سے فنا ہو جاتا ہے تو گویا وہ گمشدہ اور نابود ہو جاتا ہے۔ اس کا باطن مصائب کے آنے سے متغیر نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا حکم آنے پر موجود ہو جاتا ہے۔ بس امر کو بجا لاتا ہے اور نہی سے پرہیز کرتا ہے نہ کسی چیز کی وہ تمنا کرتا ہے اور نہ وہ کسی چیز پر حریص ہوتا ہے۔ تکوین اس کے دل پر وارد ہوتی ہے اور دنیا کی تمام چیزوں میں تصرف کا اختیار اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 51)
سلسلہ سروری قادری کے امام اور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جو فقیرِ کامل اکمل اور مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہیں۔ اس مادہ پرستی کے دور میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر کوئی مال و دولت کی ہوس میں پاگل ہے ‘ آپ مدظلہ الاقدس ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں اور اپنی نگاہِ کامل کی تاثیر اور پاکیزہ صحبت سے زنگ آلود قلوب کی میل دور کر کے انہیں باصفا بنا رہے ہیں۔ دلوں سے دنیا اور اس کے مال و دولت کی محبت نکال کر عشقِ حقیقی کی دولت سے سرفراز فرما رہے ہیں۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* مرشدانِ کامل (اولیا اللہ) کی مجالس اختیار کرو کیونکہ ان کی مجالس میں شرکت سے حلاوت اور مٹھاس حاصل ہوتی ہے اور ان کی نورانی صحبت اور مجلس میں انسانوں کے قلوب کے اندر اللہ تعالیٰ کی خالص محبت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں جن کی قیمت صرف وہی جانتے ہیں جن کو خفی ذکر اللہ (اسم اللہ ذات) کی توفیق حاصل ہو چکی ہو۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصانیف طالبانِ مولیٰ کے لیے روشنی کا مینار ہیں جو ظاہر و باطن کے ہر مقام پر ان کی کامل رہنمائی کرتی ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس طالبانِ مولیٰ کو معرفتِ حق تعالیٰ سے روشناس کروارہے ہیں تاکہ وہ اپنے مقصدِ حیات میں کامیابی حاصل کریں۔
آپ مدظلہ الاقدس فقر اور ولایت کے اس قدر بلند درجہ پر فائز ہیں کہ عام دنیا دار لوگوں کو بھی طالبانِ مولیٰ بنا دیتے ہیں۔ آپ کی بارگاہ میں سینکڑوں دنیادار لوگ طلبِ دنیا لے کر آئے لیکن آپ مدظلہ الاقدس کی شانِ ولایت کی بدولت وہ طالبانِ مولیٰ بن گئے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی شانِ ولایت کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت سے فیض پانے والے مرد و خواتین اپنی قلبی کیفیات کے تبدیل ہونے اور آپ کی نظرِ کرم کے کمال کا واضح مشاہدہ کرتے ہیں۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دامن سے وابستہ ہو کر اپنے قلوب کو منور کریں اور اپنے مقصدِ حیات میں کامیابی حاصل کریں۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے تحریک دعوتِ فقر میں شمولیت کی دعوتِ عام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں