تصرفات ۔ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ-Tasarufaat Murshid Kamil Akmal

Rate this post

تصرفات ۔ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ-Tasarufaat Murshid Kamil Akmal

تحریر: مسز نورین ناصر سروری قادری

مرشد کامل اکمل وہ ہستی ہے جو خود اللہ پاک کی معرفت پا چکی ہو اور اللہ کے حکم سے دوسروں کو معرفت کی راہ دکھاتی ہو۔ مرشد کی سب سے عظیم نشانی اس کے ’’تصرفات‘‘ ہیں۔ ’’تصرف‘‘ کے معنی ہیں حکم چلانا، اختیار رکھنا، تدبیر کرنا۔ 

یہ تصرفات وہ روحانی اختیارات ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندے کو عطا کرتا ہے۔ اصطلاحِ عام میں اس مقرب بندے کے لیے مختلف نام رواہیں جیسا کہ مرشد کامل اکمل،فقیر ِ کامل، فقیر مالک الملکی اور فقیرمالک الملکی جامع نور الہدیٰ وغیرہ۔اس کے تصرف سے مرید کے دل کا زنگ اتر جاتا ہے، باطن صاف ہو جاتا ہے اور اللہ کی معرفت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ یہ تصرفات مرشد ِ کامل کی توجہ، دعا اور نگاہ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جب مرشد فنا فی اللہ بقاباللہ کے مقام پر پہنچ جاتاہے تواللہ تعالیٰ اس کی زبان، اس کے دل اور اس کی نگاہ کو اپنا آلہ بنا لیتا ہے۔ جیسا کہ حدیث ِ قدسی ہے:
 میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوںجن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔  (بخاری۔ 6502)

فقیر(مرشد کامل اکمل)کی زبان اللہ کی تلوار ہوتی ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: 
 لِسَانُ الْفُقَرَآئِ سَیْفُ الرَّحْمٰنِ
ترجمہ: فقرا کی زبان رحمن کی تلوار ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہی ’’کُن‘‘ کے ایک کلمے کے ساتھ اٹھارہ ہزار عالموں اور ان کی تمام تر مخلوقات کو عدم سے وجود بخشا۔ اور آج بھی کائنات کا ذرّہ ذرّہ اِسی ’’کُن‘‘ کے اشارے پر رواں دواں ہے۔ وہی ربِ کریم اپنی قدرتِ کاملہ سے ہر لمحہ ان تمام عالموں اور مخلوقات کو حیات و حرکت عطا فرما رہا ہے۔ حدیث ِ قدسی کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں، یعنی فقرائِ کاملین کی زبان بن جاتا ہے اور ان سے راز و نیاز فرماتا ہے۔ 

مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہی امانت ِالٰہیہ کا حامل، نائب اور خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔یہی اپنے دور کا انسانِ کامل اور امام الوقت ہے لہٰذا ایسے کامل و اکمل مرشد،وارثِ فقر ِ محمدیؐ کے تصرفات کا احاطہ الفاظ کے دائرے میں لانا ممکن ہی نہیںکیونکہ ذاتِ حق تعالیٰ کی صفات لامحدود ہیں اور انسانی عقل و بیان ان کا ادراک نہیں کر سکتے۔  

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اور ان کے روحانی تصرفات

جب دنیا مادہ پرستی کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہو، جب دل غفلت کے زنگ سے سیاہ ہو چکے ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ایک نور (فقر) کا مرکز قائم کر دیتا ہے۔ موجودہ دور میں اہلِ دل کے نزدیک وہ مرکز سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہیں۔ 

’سلطان العاشقین‘ یعنی عشق ِالٰہی کے بادشاہ اور ’مدظلہ الاقدس‘ یعنی جن کا مقدس سایہ ہزاروں بھٹکے ہوئے دلوں کو پناہ دے رہا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اس دور کے ’’مرشد ِ کامل اکمل‘‘ ہیں۔ کامل، کیونکہ آپ مدظلہ الاقدس خود کمال پر فائز ہیں۔ اکمل، کیونکہ آپ دوسروں کو کمال تک پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں۔

موجودہ پُرفتن دور میں جب دلوں پر غفلت کا زنگ چڑھا ہوا ہے، سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے روحانی تصرفات اللہ کی رحمت کے حصول کا واحد راستہ ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت، آپ کی نگاہِ مبارک اور آپ مدظلہ الاقدس کی دعا وہ ذریعہ ہے جس سے طالب ِمولیٰ اپنے اندر کی ’میں‘ کو مٹا کر ’تو‘ تک پہنچ جاتا ہے۔

جس خوش نصیب پر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی نظر ِکرم ہو جائے، وہ دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی سرخرو ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مرشد کامل اکمل کا تصرف ہی طالب کو منزلِ معرفت تک پہنچانے کی ضمانت ہے۔آپ مدظلہ الاقدس کے چند تصرفات کی تفصیل طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کے لیے بیان کی جارہی ہے:

طالبِ مولیٰ

مرشد کامل کی ایک نظر طالب پر پڑ جائے تو چالیس سال کی ریاضت کا ثواب مل جاتا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی نگاہ (تصرف) وہ نور ہے جو دل کے مردہ تاروں میں روشنی بھر دیتی ہے۔ غافل لمحہ بھر میں عاشق بن جاتا ہے۔ گنہگار، تائب ہو جاتاہے اور طالب ِ دنیا، طالب ِ مولیٰ بن جاتا ہے۔ اس کا مقصد قربِ ذاتِ حق تعالیٰ بن جاتاہے اور اس کی طلب اللہ کی پہچان، دیدار اور معرفت ہو جاتی ہے۔دنیا و عقبیٰ کو ٹھکرا کر ذاتِ حق تعالیٰ کا متمنی ہو جاتا ہے اور اس دور میں طالبِ مولیٰ کو حق تعالیٰ تک پہنچانے والا واحد دروازہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہیں۔

آپ مدظلہ الاقدس سروری قادری مرشد کامل اکمل ہیں جن کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے فرمایا:
 سروری قادری مرشد جامع و مجمل ہوتا ہے۔ وہ باطن اور ظاہر میں ایسی کتاب ہوتا ہے جو طالبوں کے لیے کتب الاکتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ جس کے مطالعہ سے طالب فنا فی اللہ ہو جاتے ہیں اور اس ذات کو بے حجاب دیکھتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)

عرفانِ نفس

حدیثِ مبارکہ ہے:
 مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہُ
ترجمہ:جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا،پس یقینا اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔
عرفانِ نفس کا مطلب ہے’’خود کو جان لینا۔‘‘
مگر خود سے مراد جسم، نام، عہدہ نہیں۔ خود سے مراد ہے ’’میں کون ہوں؟ میں کہاں سے آیاہوں؟ میرا مالک کون ہے؟ میری حقیقت اور پہچان کیا ہے؟میرا مقصد ِ حیات کیا ہے؟؟‘‘

آپ مدظلہ الاقدس اپنے تصرف، اختیار اور نگاہ کے کمال سے اپنے مرید کے نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ فرما کر اسے آئینے کی مانند شفاف بنا دیتے ہیں۔ طالب کو تمام خصائص ِرذیلہ سے بالکل پاک فرما کر اس کے نفس کو امارہ سے لوامہ ، لوامہ سے ملہمہ اور ملہمہ سے مطمئنہ کے درجے تک پہنچا دیتے ہیں۔اورجب طالب کا نفس مرتا ہے، تب ’’اَنا‘‘ مٹتی ہے۔ اور ’’اَنا‘‘ مٹے تو ’’ھوُ‘‘ باقی رہ جاتا ہے۔اسی کو عرفانِ نفس کہتے ہیں۔

اسمِ اللہ ذات

آج کا انسان مادیت پرستی کی دوڑ میں اتنا تھک چکا ہے کہ اس کے پاس نہ وقت ہے، نہ حوصلہ۔ نفس کی بیماریوں کا علاج وہ ریاضتوں اور مجاہدوں سے کرنا چاہے تو راستے میں ہی ہار مان لیتا ہے۔اور المیہ یہ ہے کہ کثرتِ ورد سے دل صاف ہونے کے بجائے اکثر ’’میں کتنا عبادت گزار ہوں‘‘ کا غرور پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ غرور نفس کو مزید موٹا کر دیتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق اس کے لیے بہترین اور آسان ترین طریقہ ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات ہے اورسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اس روئے زمین پر اور مشائخ سروری قادری میں وہ واحد ہستی ہیں جو اپنے ہر طالب کو بیعت کے پہلے ہی روزسلطان الاذکار  ’’ھوُ‘‘ عطا فرما دیتے ہیں، تصور کے لیے اسمِ اللہ ذات (اسمِ اعظم)کا نقش اور ظاہری وجود کو پاک کرنے کے لیے مشق مرقومِ وجودیہ عطا فرما کر فقر کی انتہا پر پہنچنا آسان کر دیتے ہیں۔

حضرت سخی سلطان باھُوؒ اسم ِاللہ ذات کی شان ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ:
 اسمِ اللہ ذات عین ذات ہے۔ (عین الفقر)

اسمِ اللہ راہبر است در ہر مقام
از اسمِ اللہ یافتند فقرش تمام

ترجمہ: اسمِ اللہ ذات طالبانِ مولیٰ کی ہر مقام پر راہنمائی کرتا ہے اور اسمِ اللہ ذات سے ہی وہ کامل فقر کے مراتب پر پہنچتے ہیں۔ (محک الفقر کلاں)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے ساتھ ساتھ مرشد کامل اکمل کی رہنمائی بھی لازم و ملزوم ہے کیونکہ آج تک کوئی بھی طالب بغیر مرشد کامل اکمل کی رہنمائی کے حق تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکا۔

مجلسِ محمدیؐ

مجلسِ محمدیؐ باطن اور راہِ فقر میں اعلیٰ ترین مقام ہے اور اس مقام پر دورِ حاضر کے سروری قادری مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس  ہی اپنے تصرف سے پہنچا سکتے ہیں۔سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
 سروری قادری کامل کی ابتدا کیا ہے؟ کامل قادری (سروری قادری مرشد) اپنی نظر یا تصوراسمِ اللہ ذات یا کلمہ طیب کی ضرب یا باطنی توجہ سے طالبِ مولیٰ کو معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق کر دیتا ہے اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ یہ کامل قادری کا روزِ اوّل کا سبق ہے۔ جو یہ سبق نہیں پڑھاتا اور مجلسِ محمدیؐ تک نہیں پہنچاتا وہ کامل قادری نہیں۔ اُس کی مستیٔ حال محض خام خیالی ہے کیونکہ قادری ہمیشہ نور، معرفتِ الٰہی اور وصال میں غرق ہوتا ہے۔ (کلید التوحیدکلاں)

مجلسِ محمدیؐ آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح صحابہ کرامؓ  کے دور میں تھی۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی شاید ہی کوئی تصنیف ایسی ہو جس میں مجلسِ محمدیؐ کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ راہِ حق میں یہ ایک ایسا مقام ہے جس میں طالبِ مولیٰ باطن میں مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضور ی سے مشرف ہو جاتا ہے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی تربیت فرماتے ہیں اور باطن میں اسے معرفت ِ الٰہیہ کے مراتب طے کرواتے ہیں۔ 

دیدارِ الٰہی

 انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اور اس کی عبادات کا مغز اللہ کی پہچان ہے ۔جس نے اس مقصد سے رو گردانی کی بے شک وہ بھٹک گیا۔ نہ دین اس کا ہوا نہ دنیا۔ مرنے کے بعد قبر میں انسان سے پہلا سوال یہ پوچھا جائے گا  مَنْ رَبُّکَ بتا تیرا ربّ کون ہے؟جس نے اپنے ربّ کی پہچان ہی حاصل نہ کی ہو گی وہ اس سوال کا کیا جواب دے پائے گا۔ اگر اس کا جواب یہ ہوگا کہ کائنات کا خالق میرا ربّ ہے تو یہ جواب تو یہود و نصاریٰ کا بھی ہوگا پھر امتِ محمدیؐ ہونے کا امتیاز کیا ہوا؟؟
 اُمتِ محمدی اسی لیے خیر الامم ہے کہ اس کے لیے اللہ پاک کے دیدار و وصال کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ قرآن پاک میں کئی آیات میں اللہ سے ملاقات (معرفت و دیدار) کی طرف اُمت محمدیؐ کو راغب کیا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 وَمَنْ کَانَ فِیْ ہٰذِہِٓ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی (سورۃ بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ:جو شخص اس دنیا میں (لقائے الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی (دیدارِ الٰہی کرنے سے) اندھا رہے گا۔

حدیث ِ مبارکہ ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چودھویں تاریخ کے چاند کو دیکھ کر فرمایا ’’جس طرح تم اس چاند کودیکھ رہے ہو اسی طرح تم اپنے پروردِگار کودیکھو گے اور اللہ تعالیٰ کو دیکھنے میں تم کوئی اذیت اور تکلیف محسوس نہیں کر و گے۔‘‘ (بخاری4851)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
 قرآن و حدیث کی رُو سے دیدارِ الٰہی کے ان مراتب کو پانا تین طریقوں سے روا ہے۔ اوّل، خواب میں اللہ کا دیدار کرنا۔ ایسے خوابوں کو نوری خواب کہا جاتا ہے جو اللہ کے بے حجاب دیدار کے لیے خلوت خانہ کی مثل ہوتے ہیں اور ان میں طالب مشاہدۂ دیدار وحضوری پروردگار میں غرق ہوتا ہے۔ دوم،مراقبے میں دیدارِ الٰہی کرنا۔ یہ مراقبہ موت کی مثل ہوتا ہے جو حق تعالیٰ کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ سوم، عین خدا کو اس طرح دیکھنا کہ طالب کا جسم اس جہان میں اور جان (روح) لاھوت لامکان میں ہوتی ہے۔یہ تینوں مراتبِ عظیم مرشد کامل کے فیض و فضل سے حاصل ہوتے ہیں۔  (نور الہدیٰ کلاں)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنے باطنی کمالات، شفقت بھری نگاہ اور تصورِ اسمِ اللہ ذات کے نورانی فیض سے طالبانِ مولیٰ کو لقائے الٰہی کے بلند ترین مقام تک پہنچا رہے ہیں اور اس فیض کا دروازہ ہر اس شخص پر کھلا ہے جو خلوصِ نیت کے ساتھ اپنے دل سے تعصب کی آلائش دھو کر، صرف اور صرف طلبِ مولیٰ لے کر حاضر ہو۔ ایسے طالب کو آپ مدظلہ الاقدس کی ایک نظرِ کرم اس عظیم نعمت سے ضرور بہرہ مند فرما دیتی ہے۔

وصالِ حق تعالیٰ

خالقِ کائنات نے انسان کو اپنے قرب و وصال کے لیے تخلیق فرمایاہے۔یہی انسان کی معراج ہے۔ اور یہ معراج بغیر مرشدِ کامل اکمل کے ممکن نہیں۔ مرشد کامل اکمل وہ ہے جو طالب کو ماسویٰ اللہ سے آزاد کر کے، براہِ راست بارگاہِ حق تعالیٰ میں پیش کر دیتا ہے۔ 

وصالِ حق تعالیٰ کے حوالے سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ تصرفات مرشد کو اپنی تصنیف لطیف ’عین الفقر‘ میں یوں بیان فرماتے ہیں :
 قدرتِ توحید کا دریائے وحدت مومن کے دل میں موجزن رہتاہے۔جو اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال کا طالب ہے اسے  چاہیے کہ سب سے پہلے مرشد کامل مکمل کی طلب کرے کیونکہ مرشد کامل مکمل دل کے خزانوں کا مالک ہوتا ہے۔ اسمِ اللہ کے ذکر اور تصور کی تاثیر سے فقیر کا وجود پُرنور ہوتا ہے۔جو کوئی دل کا محرم ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی نعمت سے محروم نہیں رہتا۔(عین الفقر)

مرشد کامل اکمل طالبِ مولیٰ کو پل بھر میں ہر دو جہان سے بے نیاز کر دیتا ہے اور طالب کو پل بھر میں مقام فنا فی اللہ کا استغراق بخش دیتا ہے۔ مرشد کامل اکمل قصہ خوانی نہیں کرتا اور نہ ہی طالب کو زبانی ذکر اذکار میں مشغول کرتا ہے بلکہ مرشد کامل اکمل کی ایک نظر عبادت جاودانی (مسلسل اور کبھی ختم نہ ہونے والی عبادت) سے زیادہ کارگر ہوتی ہے۔ مرشد کامل اکمل طالب کا ہاتھ پکڑتے ہی اسے امن الامان کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:
 وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا  (سورۃ آلِ عمران۔ 97)
ترجمہ: جو اس میں داخل ہو گیا وہ امن پا گیا۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس وہ کامل اکمل مرشد ہیں جن کا باطن نورِ الٰہی سے منور ہے اور آپ طالبِ مولیٰ کو راہِ فقر میں ذکر اور تصوراسمِ اللہ ذات کے ذریعے وصالِ الٰہی کی منازل طے کرواتے ہیں۔

حاصلِ تحریر:

راہِ حق کی ہر منزل کا دروازہ ایک ہی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ چاہے بات اپنی ذات کی پہچان کی ہو یا معرفت ِالٰہی کے راز کی۔ چاہے زہد و ریاضت سے نجات درکار ہو یا نفس و شیطان کے فریب سے بچنا ہو۔چاہے اسم ِ اللہ ذات کا پردہ اٹھا کر طالبِ مولیٰ کو دیدارِ الٰہی کی نعمت عطا کرنی ہو یا اسمِ محمدؐ کی برکت سے مجلسِ محمدیؐ کی حضوری و منظوری دلانی ہو۔چاہے سیرِ اوھام کا جہان کھولنا ہو یا سیدھا وصالِ الٰہی کی منزل پر پہنچانا ہو۔ الغرض تمام درجات، تمام مقامات، تمام نعمت اور رحمت۔۔۔ یہ سب مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کے دستِ تصرف کے محتاج ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے ہر صاحبِ ایمان کے لیے یہ اٹل قانون بنا دیا ہے: جو بھی قرب و وصالِ حق تعالیٰ کا سچا طالب ہے، اس کے لیے مرشدِ  کامل اکمل کا وسیلہ لازمی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ  (سورۃ المائدہ۔35)
ترجمہ:اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
 لَا دِیْنَ لِمَنْ لَا شَیْخَ لَہٗ
ترجمہ:اس شخص کا دین ہی نہیں جس کا شیخ (مرشد) نہیں۔

لہٰذا اے طالبانِ مولیٰ! اپنے دین کی تکمیل اور قرب و صالِ حق تعالیٰ کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی بارگاہِ اقدس میں صدقِ دل سے حاضر ہو کر فیض یاب ہوں اور فقر کی لازوال نعمت اسمِ اللہ ذات کا ذکر و تصور حاصل کریں۔یہی وہ نعمت ہے جس کی بدولت نفس کا تزکیہ ممکن ہے۔ جب نفس امارہ سے مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جائے گا تو باطن کے اعلیٰ ترین مقامات یعنی دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری نصیب ہوگی۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنی کامل ترین معرفت اور قرب عطافرمائے اور ہمیں راہِ فقر میں استقامت عطا فرمائے۔ آمین

استفادہ کتب:
 شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس

 

اپنا تبصرہ بھیجیں