سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا اندازِ تربیت Sultan-ul-Ashiqeen Ka Andaz-e-Tarbiyat

Rate this post

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا اندازِ تربیت(تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین کی روشنی میں)

 Sultan-ul-Ashiqeen Ka Andaz-e-Tarbiyat

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری

 سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس موجودہ د ور کے مرشد کامل اکمل ہیں ۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کو بیعت فرما کر ان کی ظاہری و باطنی تربیت فرماتے ہیں ۔ مرشد کامل کون ہوتا ہے اور طالب ِحق کون ہوتا ہے، اس کے متعلق سلسلہ سروری قادری کے مشائخ کرام کی تعلیمات سے روشنی ڈالتے ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :
 مرشد کامل کسے کہتے ہیں اور مرشد کن خواص اور صفات کا مالک ہوتا ہے؟ مرشد کس طرح طالبِ مولیٰ کو راہِ سلوک پر چلا کر توحید میں غرق کرتا ہے اور حضرت محمد رسولؐ اللہ کی مجلس کی حضوری سے مشرف کراتا ہے؟ مرشد سے کیا چیز حاصل ہوتی ہے اور وہ کس مقام ، منزل اور مرتبہ کا حامل ہوتا ہے؟ مرشد صاحب ِتصرف فنا فی اللہ بقا باللہ فقیرہوتا ہے ۔ یحیی ویمیت لایحتاج  ترجمہ:’’(دلوں کو) زندہ کرنے والا اور (نفس کو)  مارنے والا ہوتا ہے اور کسی کا محتاج نہیں ہوتا‘‘۔ مرشد پارس کے پتھر کی طرح ہوتا ہے۔ مرشد کسوٹی کی طرح ہے۔ اسکی نظر سورج کی طرح (فیض بخش) ہے جو بدخصائل کو (نیک عادات سے) تبدیل کر دیتی ہے۔ مرشد رنگریز کی طرح ہے۔ مرشد تنبولی کی طرح باخبر ہوتا ہے جو پان کے پتوں (کی خصوصیات) سے آگاہ ہوتا ہے (اسی طرح مرشد بھی اپنے مریدوں کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوتا ہے)۔ (عین الفقر )

طالبانِ مولیٰ کون ہوتے ہیں اس کے متعلق سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف ِ مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں لکھتے ہیں :
 طالبانِ مولیٰ وہ ہوتے ہیں جن کی عبادات اور جدوجہد کا مقصود دیدارِ حق تعالیٰ اوراس کا قرب و وصال ہے۔ یہ نہ تو دنیا کے طالب ہوتے ہیں اور نہ بہشت، حور و قصور اور نعمت ہائے بہشت کے۔ ان کا مقصد ذاتِ حق تعالیٰ ہوتاہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے طالب اور عاشق ہوتے ہیں۔ اس طلب کے لیے یہ دونوں جہانوں کو قربان کر دیتے ہیں اور دنیا و عقبیٰ کو ٹھکرا کر ذاتِ حق کے دیدار کے متمنی رہتے ہیں۔ عارفین ہمیشہ طالب ِمولیٰ بننے کی تلقین کرتے ہیں۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ طالبانِ مولیٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
 مولیٰ کے چار حروف ہیں، ان چاروں حروف کی تاثیر سے طالبِ مولیٰ میں چار اوصاف پائے جاتے ہیں حرف ’م‘ سے طالب ِ مولیٰ اپنے نفس کو اس کی مراد اور لذت نہیں پہنچاتا اور معرفت میں محو رہتا ہے ۔ حرف ’و‘ سے طالب ِ مولیٰ واحدانیت میں غرق رہتا ہے ۔ حرف ’ل‘ سے دنیا مردار کے تعلقات کو چھوڑ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے لائق بنتا ہے۔ حرف ’ی‘ سے یادِ حق میں اس قدر محو رہتا ہے کہ اسے دوست (اللہ) کے سوا نہ مال یاد رہتا ہے نہ اولاد اور نہ ہی اپنا آپ۔  (عین الفقر ) 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا اندازِ تربیت 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی روشنی میں مرشد اور مرید کا تعلق ایسا روحانی ہوتا ہے جس کی اساس ’عشق‘ اور ’تسلیم و رضا‘ پر قائم ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس مرشد کامل اکمل ہیں اور آپ طالب اللہ (مرید) کی تربیت اسی طریقہ سے کرتے ہیں جس طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ کی تربیت فرمائی تھی کیونکہ آپ مدظلہ الاقدس موجودہ زمانہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امانت ِفقر کے وارث ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم واجازت سے فیضِ فقر کو عوام الناس تک پہنچا رہے ہیں۔ قرآنِ پاک میں آقاپاکؐ کے اندازِ تربیت کو یوں بیان کیا گیا ہے :
 ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ  (سورۃالجمعہ ۔2)
ترجمہ: وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو بھیجا جو اُن کو آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ 

سورۃ جمعہ کی آیت ِمذکورہ میں حق تعالیٰ نے منصب ِ نبوت میں ان امور کو شامل فرمایا ہے:
 1) (آیات پڑھ کر سنانا یعنی دعوتِ حق دینا اور اللہ کے احکام پہنچانا (2)تزکیۂ نفس کرنا (3) احکامِ الٰہی کی عملی تعلیم دینا اور (4)حکمت (علمِ لدنی) عطا کرنا۔ 

1)۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل ہیں اور آپ طالبا نِ مولیٰ کو دعوتِ الی اللہ دینے کے لیے ذکر وتصوراسمِ اللہ ذات عطا کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اسم ِاللہ ذات کا فیض گلی گلی، نگر نگر پہنچایا اور حضرت سخی سلطان باھوؒ ایسے ہی مرشد کو کامل مرشد فرماتے ہیں جو اسمِ اللہ ذات کا فیض عوام الناس میں تقسیم فرماتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق تزکیۂ نفس کے لیے بھی سب سے مؤثر ذریعہ ذکر و تصوراسمِ اللہ ذات اور نگاہِ مرشد کامل اکمل ہے۔ اسی لیے آپؒ نے ’’تصوراسمِ اللہ ذات‘‘ کے ذریعے نفسِ مطمئنہ کے حصول پر زور دیا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں :
 تصوراسمِ اللہ ذات کی مشق کرنے سے وجود کے اندر نفس ایسے بیمار ہو جاتاہے جیسے انسان کو خسرہ کی بیماری ہو۔ تصوراسمِ اللہ ذات کی مشق کی بدولت نفس کسی بھی حالت اور حال میں قرار اور آرام نہیں پاتا اور (بالآخر) فنا ہو جاتا ہے۔ تب یہ نافرمان نفس فرمانبردار بن جاتا ہے اور رات دن غلام کی مثل حکم کے تابع رہتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں ) 

 آپ مدظلہ الاقدس بھی تزکیۂ نفس کے لیے طالبانِ مولیٰ کو بیعت کے پہلے روز ہی ذکر و تصوراسمِ اللہ ذات عطا کرتے ہیں۔ تزکیۂ نفس کے متعلق آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
 شیطان کی چالوں، نفس کے حیلوں، ہر طرح کے جہل، کفر و شرک سے بچاؤ اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمدؐ کے تصور میں محو ہو جانے سے ہی ممکن ہے ۔ 

مرشد کامل اکمل کا اپنے طالبوں کو بیعت کرنے کا مقصد ان کا تزکیۂ نفس ہوتا ہے اور وہی طالب مرشد سے اپنا روحانی و باطنی علاج کرواتا ہے اور اس مقصد میں کامیاب ہوتا ہے جو مرشد پر کامل یقین رکھتا ہے کہ مرشد کے ہر عمل و فعل کا مقصد تزکیۂ نفس ہے۔ وہ طالب جو اپنی ضداور اَنا پر قائم رہے اور اپنی فطرت کو تبدیل نہ کرے، مرشد پر بھروسہ نہ کرے وہ طالب تزکیۂ نفس میں کامیاب نہیں ہوتا۔ تزکیۂ نفس، یہ کوئی آسان مرحلہ نہیں اس میں مرشد طالب کو گراتا ہے اٹھاتا ہے، اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اس حوالے سے فرماتے ہیں :
 تزکیۂ نفس کرنے کے لیے مرشد کو طالب کے اندر چھپی بیماریاں باہر نکالنی پڑتی ہیں جیساکہ بیماری جب تک جسم میں چھپی رہے تب تک ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جب ظاہر ہو جائے تو ہی ڈاکٹر اس کا علاج کرتا ہے۔ مرشد بھی طالب کے اندر چھپی نفسانی بیماریاں ایک ایک کر کے نکالتا ہے اور ان پر چوٹیں لگاتا ہے۔ جو عاشق ہوتا ہے وہ ہر چوٹ کو برداشت کرتا ہے اور اپنا تزکیۂ نفس کروا لیتا ہے۔ جو جعلی عاشق ہوتا ہے، کھوٹا سکہ ہوتا ہے ، اندر سے پیتل کا ہوتا ہے اوپر سے سونا چڑ ھایا ہوتا ہے وہ بھاگ جاتا ہے ۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین )

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
 طالبِ  مولیٰ کو چاہیے کہ دن رات ہر وقت، ہر لمحہ نفس کی مخالفت کرے او ر کسی بھی وقت نفس سے غافل نہ رہے کیونکہ نفس کافر ہے۔ (عین الفقر)

احکامِ الٰہی کی عملی تعلیم کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نہ صرف اپنے مریدین کو وعظ و نصیحت اور تلقین و ارشاد فرماتے ہیں بلکہ اس مقصد کے لیے موجودہ دور کے جدید ذرائع ابلاغ بھی استعمال کر رہے ہیں مثلاً سوشل میڈیا، یوٹیوب وغیرہ۔ اس کے علاوہ فقر و تصوف کے موضوع پر کتب تصنیف فرما کر طالبانِ مولیٰ کو دینِ اسلام کی اصل روح سے روشناس کروا رہے ہیں۔ علمِ لدنی باطنی فیض کا نام ہے اور مرشد کامل اکمل اس فیض کا وسیلہ ہے یعنی مرشد کامل کے ذریعہ طالب ِ مولیٰ کو علم ِلدنی حاصل ہوتا ہے اور آپ مدظلہ الاقدس کے مریدین اس کے شاہد ہیں کہ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہِ کامل سے طالب ِمولیٰ کو علم ِ لدنی کا خزانہ حاصل ہو رہا ہے اور وہ تحریک دعوتِ فقر اور سلطان الفقر پبلیکیشنز، ماہنامہ سلطان الفقر کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتب اور میگزین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ یہ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہِ فیض کا ہی کمال ہے کہ فقر و تصوف کے دقیق مسائل اور قرآنی آیات کی اصل روح اور معنی طالب کے قلب پر روشن ہوتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس علمِ لدنی کا وہ سمندر ہیں جس سے طالبانِ مولیٰ ہر گھڑی سیراب ہو رہے ہیں۔ 

مسلمان سے مومن بننے کا سفر

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کی تربیت اس انداز میں فرماتے ہیں کہ طالب آپ کی زیر نگرانی مسلمان سے مومن بننے کا سفر طے کرتا ہے اور اس سفر کا نصاب وہی ہے جو ازل سے چلتا ہے یعنی طالب کی آزمائش مصائب، تکالیف، قربانی، بیماری سے کی جاتی ہے اور کامیاب ہو جانے والا مرتبہ مومن سے سرفراز ہوتا ہے۔ ایک مرشد ظاہری و باطنی تلقین کے ذریعہ طالب کو یہی سکھاتا ہے کہ ان مصائب سے کیسے گزرنا ہے۔ جو طالب مرشد کی اس تربیت اور رہنمائی پر مکمل یقین رکھتا ہے اور عمل اور اخلاص کو اپنا زادِ راہ بناتا ہے تو مرشد بھی ایسے طالب کو کامیاب و کامران کرتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی زیرِ نگرانی جو طالب فقر کی راہ طے کرتے ہیں اس کانصاب قرآنِ کریم اور احادیث میں درج کر دیا گیا ہے۔ ان کے لیے آزمائش سزا نہیں بلکہ باطنی تربیت کا انداز ہوتی ہے۔حدیثِ نبویؐ ہے:
 حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بے شک بڑی جزا بڑی آزمائش کے ساتھ ہے کیونکہ اللہ عزوجل جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزماتا ہے، جو شخص اس پر راضی ہو تو اسے رضا مندی حاصل ہو جاتی ہے اور جو شخص ناراضی کا اظہار کرے تو وہ اس کی ناراضی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔‘‘ ( رواہ الترمذی و ابن ماجہ)(مشکوٰۃ 1566)

حقیقی سودا (بیع )

مرشد کامل اکمل طالبِ مولیٰ کو حقیقی سودا (بیع )سکھاتا ہے جس کا ذکر درج ذیل آیت ِقرآنی میں درج ہے اور اس آیت کو آیتِ بیع بھی کہا جاتا ہے۔
 اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ قف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ ط وَ مَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ ط وَ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ٭  (سورۃالتوبہ ۔111)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے اہل ِایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لیے (وعدۂ) جنت کے عوض خرید لیے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں (انسانی حرمت کے تحفظ اور معاشرے میں قیامِ امن کے اعلیٰ تر مقاصد کے لیے) جنگ کرتے ہیں، سو وہ (دورانِ جنگ) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی ) قتل کیے جاتے ہیں۔ (اللہ نے) اپنے ذمہ ٔ کرم پر پختہ وعدہ (لیا) ہے، تورات میں (بھی ) انجیل میں (بھی ) اور قرآن میں (بھی)، اور کون اپنے وعدہ کو اللہ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے سودے پر خوشیاں مناؤ جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے اور یہی تو زبردست کامیابی ہے ۔

مزید فرمایا:
 اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ ط وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ٭  (سورۃالتوبہ ۔112)
ترجمہ: (یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گزار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے۔ 

اولاد کی تربیت 

جان و مال کے ساتھ ساتھ صدقِ دل سے اولاد کو بھی اللہ کے حوالے کرنا سنتِ عظیم ہے۔ حضرت اسماعیلؑ سے لیکر حضرت امام حسینؓ تک اگر قربانی کے باب کو پڑھ لیا جائے تو یہی نصاب سامنے آتا ہے۔ اولاد کی تربیت یہ بھی مرشد کامل اکمل ہی کرتا ہے۔ اللہ وحدہٗ لاشریک ہے وہ اسی قلب میں جلوہ گر ہوتا ہے جہاں اس کاکوئی شریک موجود نہ ہو اور اولاد سے انسان اس قدر شدید محبت کر بیٹھتا ہے کہ اس کو اپنا بت سمجھ لیتاہے۔ مرشد کامل اکمل طالب کے دل سے اس بت کو گرانے اور مرتبۂ توحید تک پہنچانے کے لیے طالب کو اپنی اولاد کو اللہ کے سپرد کرنا سکھاتا ہے۔ والدین اور اولاد دونوں کی تربیت اس انداز میں فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی نظر میں قبول و منظور ہو جائیں۔ اس حوالے سے فرمانِ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہے :
 انسان کی تربیت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ماں باپ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت کی ہے دراصل وہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ دو بچے اگر جڑواں ہوں اور ایک ہی والدین ان کی پرورش کرتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ایک دنیا کی راہ پر چلتا ہے اور ایک اللہ کی راہ پر۔ انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ انسان کے ہاتھ میں صرف ایک ہی چیز ہے وہ کوشش ہے لیکن اس کا نتیجہ نہیں۔ 

جلال و جمال

مرشد کامل اکمل طالبِ مولیٰ کے تزکیۂ نفس کے لیے اسے جلال و جمال سے گزارتا ہے۔ مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
 مرشد طالب کو ٹھیک کرتا ہے۔ اس ٹھیک کرنے کے عمل میں طالب پر آزمائشیں آتی ہیں۔ مرشد جلال برساتا ہے تو طالب سب کچھ خوشی خوشی برداشت کرتا ہے۔ طالب تو وہی ہوتا ہے جو جلال کے دوران اور بعد میں بھی مرشد کے ساتھ رہے۔ جمال تو ہر کسی کو بھاتا ہے لیکن جلال صرف عاشق ہی سہتے ہیں اور خوشی خوشی سہتے ہیں۔ (ملفوظاتِ سلطان العاشقین )

 عشق کا اصل امتحان جلال سے لیا جاتا ہے ۔ جمال کو توسب محبوب رکھتے ہیں۔ نفس پرست طالب محبوب کے جلال میں آنے پر اس سے دور ہو جاتے ہیں جبکہ صادق عاشقوں میں جلال مزید تڑپ پیدا کرتا ہے اور وہ محبوب کی طرف زیادہ شدت سے بڑھتے ہیں۔ 

دنیا و عقبی سے بے رغبتی 

مرشد کامل اکمل طالبِ مولیٰ کی تربیت اس طرح فرماتا ہے کہ اس کا دل دنیا و عقبیٰ کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ طالبِ مولیٰ کی اس آزمائش کا تعلق وعدۂ الست سے ہے کہ جب اللہ نے ارواح کو تخلیق کیا اور ان کی آزمائش کے لیے دنیا کی آسائشیں ایک طرف رکھ دیں اور دوسری طرف بہشت کی نعمتوں کو رکھ دیا اور ارواح کو اختیار دیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو چن لیں۔ وہ ارواح جو طلب ِمولیٰ میں صادق تھیں انہی نے اللہ سے اس کی رضا کے سوا کچھ اور طلب نہ کیا اور وہ ارواح جن کی نظر دنیا وعقبیٰ کی طرف مائل ہو گئیں انہی نے اللہ سے کیا ہوا عہد توڑ ڈالا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
 اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (سورۃ الاعراف ۔ 172)
ترجمہ:کیا میں تمہارا ربّ (یعنی تمہیں پالنے والا) نہیں ہوں ؟ 

تو تمام ادنیٰ و اعلیٰ ارواح نے یک زبان ہو کر جواب دیا:
 قَالُوْا بَلٰی  ( سورۃ الاعراف۔ 172)
ترجمہ: سب نے کہا: بے شک (تو ہی ہمارا ربّ ہے)۔ 

وعدۂ الست ارواح کے لیے آزمائش تھی، طالب ِمولیٰ کے لیے یہ دنیا  آزمائش ہے کیونکہ اللہ نے یہ دنیا اس لیے بنائی کہ اللہ اس کے ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ کے اقرار کو آزما سکے۔ مرشد کامل طالبِ مولیٰ کو ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ کی آزمائش میں ثابت قدم رہنے کے لیے تیار کرتا ہے، اس کا تزکیہ فرماتا ہے تاکہ اس کا دل نہ دنیا کی طرف مائل ہو اور نہ جنت کی طرف۔ وہ اللہ کی رضا کے سوا اپنے دل سے باقی ہر خیال کو نکال دے ۔ 

اس حوالے سے حضرت رابعہ بصریؒ کا قول مشہور ہے کہ حضرت رابعہ بصری ؒ ایک ہاتھ میں پانی کا پیالہ اور دوسرے ہاتھ میں آگ کے انگارے لیے جا رہی تھیں کہ لوگوں نے پوچھا ’’اے رابعہؒ! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘ آپؒ نے جواب دیا ’’میں چاہتی ہوں کہ آگ سے جنت کو جلا دوں اور پانی سے جہنم کو بجھا دوں کہ ان دونوں نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رکھا ہے اور طلبِ الٰہی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔‘‘ (شمس الفقرا)

امر بالمعروف ونہی عن المنکر

ہر دور کا امام الوقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ظاہری و باطنی اجازت سے امتِ محمدیہ کی تربیت اور رہنمائی کرتا ہے اور جیسا کہ قرآنِ کریم میں ذکر ہے ’’ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جس کا مقصدلوگوں کو حق کی دعوت اور برائی سے روکنا ہو۔‘‘ یعنی وہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتا ہے ۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
 وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورۃ آلِ عمران ۔ 104)
ترجمہ: اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور (اللہ کی) معرفت کا حکم دیں اور  (جو اللہ کی معرفت کے منکر ہیں انہیں) انکارسے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔

 اس مقصد کے لیے مرشد کامل اکمل اپنے مخلص طالب کی ظاہری و باطنی تربیت فرماتا ہے، ایک جماعت کی بنیاد رکھتا ہے۔ جو طالب جتنا مخلص ہو کر مرشد کے اس مشن میں اس کا ساتھ دیتا ہے وہ اتنی جلدی رضا کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اسی حوالے سے موجودہ دور میں تحریک دعوتِ فقر کی بنیاد رکھی جو جدید تقاضوں اور ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے امر بالمعروف ونہی عن المنکرکا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ اور اسی حوالے سے اپنے طالبوں کی تربیت بھی فرما رہے ہیں۔

باطنی تربیت

دنیا کا قانون ہے کہ ہر استاد اپنی صلاحیت اور مرتبہ کی بنا پر طالب کی تربیت کرتا ہے۔ مرشد کامل اپنے طالب کی تربیت زبان سے نہیں کرتا کیونکہ زبان سے تربیت عالم کرتا ہے۔فقر کے نظامِ تربیت کی ابتدا باطن سے ہوتی ہے ۔

 ایک مرتبہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے ایک مرید نے آپ سے ظاہری طور پر کوئی حکم لینا چاہا تو آپ نے فرمایا ہم ظاہری حکم نہیں دیتے بلکہ باطن کو تبدیل کرتے ہیں تو ظاہر خود تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ظاہر و باطن کا ایک ہو جانا ہی اصل کامیابی ہے ۔  

 مرشد کامل وہ ہوتا ہے جوباطنی تصرف سے طالب کے دل میں بات جما دیتا ہے اور جو مخلص طالب ہوتے ہیں وہ تو مرشد کی رضامرشد کے چہرہ سے ہی جان لیتے ہیں۔ ان کے لیے مرشد کا چہرہ کتاب کی مانند ہوتا ہے۔سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
 طالب اپنے مرشد کے اشاروں کنایوں کو مکمل سمجھتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ آقا پاک ؐ کی ہر بات اور اشارے کو سمجھتے تھے۔ 

ڈیوٹی (مجاہدہ ) کے ذریعہ طالب کی تربیت 

دنیا کے ہر ادارے کا نظام چند اصولوں کے تحت چل رہا ہے اسی طرح راہِ فقر، راہ ِباطن کا اصول ہے جو حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تصانیف مبارکہ میں بھی درج ہے کہ مشاہدہ کا راستہ مجاہدہ سے کھلتا ہے۔ آج کے دور میں مجاہدہ کو سمجھنا ہو تو اس سے مرادمرشد کی دی ہوئی ڈیوٹی ہے۔ جو طالب جتنا مجاہدہ (ڈیوٹی) کرتا ہے مرشد بھی اپنے فضل و مہربانی سے طالب پر مشاہدہ کی راہ کھولتا جاتا ہے یعنی ظاہری و باطنی تربیت کے مراحل طے ہوتے جاتے ہیں۔ مجاہدہ (ڈیوٹی) اللہ کی طرف توجہ قائم رکھنے کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
 ہمیں جو کچھ ملا ہے ڈیوٹی سے ملا ہے۔ جیسے انسان نمازپڑھتا ہے اور توجہ اللہ کی طرف رہتی ہے تو ہی نماز قبول ہے (حدیثِ مبارکہ ہے:حضور ِقلب کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی) اسی طرح جب طالب مرشد کی دی ہوئی ڈیوٹی کرے تو توجہ مرشد کی طرف رہنا ضروری ہے تبھی طالب کو مرشد خود باطن میں ڈیوٹی مکمل کرنے کی ہمت اور استقامت عطا کرتا ہے، ڈیوٹی کرنے کا طریقہ بتاتا ہے اور ڈیوٹی کے بعد فخر و غرور سے بچاتا ہے۔

طالب کب نقصان اٹھاتا ہے؟

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اس حوالے سے فرماتے ہیں :
 طالب اگر مرشد کی کی گئی تربیت کے مطابق چلتا رہے تو صحیح رہتا ہے ۔ جب اس سے اعراض کرتا ہے تو نقصان اٹھاتا ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں ’’زندگی بے بندگی شرمندگی است ‘‘ یعنی بندگی کے بغیر زندگی شرمندگی ہے۔

حاصلِ کلام : 

یہ مضمون تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے مرشد کامل اکمل ہیں۔ آپ اپنے طالبوں کی تربیت کیسے فرماتے ہیں اور راہِ فقر کی کون کون سی منازل ہیں جہاں سے طالب کو گزارتے ہیں اس کا مکمل علم اور ادراک کسی طالب کے لیے ممکن نہیں۔ یہ سب مرشد کے راز و انداز ہیں کہ وہ ہر طالب سے کیسے معاملات رکھتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت اور تعلیمات عشق ِمرشد اور معرفت ِالٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کا اندازِ تربیت اور فرمودات کے متعلق مزیدجاننے کے لیے آپ کی تصانیف کا مطالعہ ضرورکریںکیونکہ ایک تصنیف مصنف کا آئینہ دار ہوتی ہے۔  

استفادہ کتب:
۱۔شمس الفقرا : تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۲۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین: ترتیب و تدوین مسز عنبرین مغیث سروری قادری
۳۔عین الفقر : تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۴۔کلید التوحید کلاں : ایضاً

 

اپنا تبصرہ بھیجیں