فرامین سلطان باھوؒ (اقتباس : عین الفقر )
Farameen Sultan-ul-Arifeen Ain-ul-Faqr
قسط نمبر 1 مترجم: پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن سروری قادری
عین الفقر
جان لے یہ کتاب جس کا نام ’’عین الفقر‘‘ رکھا ہے طالبانِ مولیٰ اور فقرا فنا فی اللہ کی ہر خاص وعام مقام پر، خواہ وہ ابتدائی، متوسط یا انتہائی مقام ہو، رہنمائی کرتی ہے اور انہیں صراطِ مستقیم پر گامزن کر کے اللہ کے رازوں کے راز، مشاہدات، عین ذاتِ توحیدکے انوار و تجلیات ، علم الیقین، عین الیقین،حق الیقین اور ذاتِ حق تعالیٰ سے محبت کے اعلیٰ مراتب تک لے جاتی ہے۔
معرفتِ الٰہی
اللہ تعالیٰ کی پہچان صرف وہ طالبانِ مولیٰ حاصل کرتے ہیں جو راہِ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی پہچان صرف وہ طالبانِ مولیٰ حاصل کرتے ہیں جو کبھی شریعت ِ محمدیؐ کے خلاف عمل نہیں کرتے۔
ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات
اسمِ اللہ ذات کے ذکر اور تصور کی تاثیر سے فقیر کا وجود پُر نور ہوتا ہے۔
جو کوئی دل کا محرم ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی نعمت سے محروم نہیں رہتا۔
اپنے وجود کو اسم (اللہ کے تصور) میں یوں غرق کر لے جس طرح بِسم اللہ میں الف گم ہوتا ہے۔
جب طالبِ مولیٰ اسمِ اللہ کو اپنا لباس بنا لیتا ہے تو اسم ِاللہ اس کی جان بن جاتا ہے۔
جب طالبِ مولیٰ اسمِ اللہ کو اپنا لباس بنا لیتا ہے تو اس کی زندگی ھُو کا نشان بن جاتی ہے۔
اسمِ اللہ ذات ہادی ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہدایت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور شیطان اہلِ ہدایت کی صور ت اختیار نہیں کر سکتا۔
جب اسمِ اللہ دل پر نقش ہو جاتا ہے تو اسمِ اللہ کی تجلی دل پر غالب آجاتی ہے۔ اس تجلی کے سوزسے نفس مغلوب ہو کر مر جاتا ہے اور قلب زندہ ہو جاتا ہے۔
اسم ِاللہ ذات (کانور) جب پیشا نی پر ظاہر ہوتاہے تو یہ اللہ تک رسائی کا ذریعہ بن کر مر تبہ حق الیقین تک پہنچا دیتاہے۔
اسمِ اللہ عین اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
جو بھی اسمِ اللہ کا ذکر کرتا اور اسے یاد رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتاہے۔
اسمِ اللہ ذات کو پڑھنے اور اس کا ذکر کرنے سے (ذاکر پر) علمِ لدنیّ کھل جاتاہے۔
سن! چاروں الہامی کتابیں یعنی توریت ،زبور، انجیل اور اّم الکتاب یعنی قرآنِ پاک اسمِ اللہ ذات کی شرح ہیں۔
جان لے کہ حضرت محمد رسولؐ اللہ اسمِ اللہ کی برکت سے عرش وکرسی اور لوح و قلم سے بالاتر قَابَ قَوْسَیْنِ کے مقام پر پہنچے جہاں اللہ اور ان کے درمیان کوئی حجاب نہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے کیونکہ اسمِ اللہ دونوں جہانوں کی چابی ہے۔
سات آسمانوں اور سات زمینوں کا بغیر کسی ستون کے قائم رہنا اسمِ اللہ کی ہی برکت سے ممکن ہے۔
تمام پیغمبروں کو پیغمبری اسم ِ اللہ کی بدولت ملی اور اسمِ اللہ کی ہی برکت سے انہیں کفار سے نجات اور ان پر فتح حاصل ہوئی کیونکہ انہوں نے کہا اَللّٰہُ مُعِیْنُ (اللہ ہی ہمارا مدد گار ہے)۔
بندے اور مولیٰ کے درمیان وسیلہ اسمِ اللہ ہے۔
تمام اولیا، غوث، قطب اور اہلِ اللہ کو ذکر، فکر، الہام مذکور، استغراقِ توحید، مراقبہ اور کشف و کرامات (کے سب مراتب) اسمِ اللہ کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں۔
ذکرِ اسمِ اللہ سے اس قدر علمِ لدنیّ کھلتا ہے کہ کوئی دوسرا علم پڑھنے کی حاجت نہیں رہتی۔
جسے اسمِ اللہ ذات کے ساتھ قرار نصیب ہو جاتا ہے وہ ہر غیر اللہ سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے۔
سن!اللہ تعالیٰ کے اسمائے صفات (کا ذکر کرنے) سے استدراج ہو سکتا ہے لیکن اسمِ اللہ ذات (کے ذکر) میں استدراج کی کمی یا زیادتی کا خدشہ نہیں۔
قرآن پاک میں اسمِ اللہ چار ہزار مرتبہ آیا ہے ۔اسم ِ اللہ کی برکت سے سارا قرآن بھی اسمِ اللہ ہے۔
آسمان (کائنات) اسی کا بنایا ہوا ہے وہ جب چاہے گا اسے سمیٹ لے گا مگر اسمِ اللہ ہمیشہ باقی رہے گا۔
فقرِ محمدیؐ
راہِ فقر کا مقصود ’دوڑو اللہ کی طرف‘ ہے جبکہ طالبِ دنیا مردود کا مطلوب ’دوڑو اللہ سے دور‘ہے۔
اس راہ (راہِ فقر )میں رازدانہ ریاضت کی ضرورت ہے نہ کہ ظاہری گفتگو اور وعظ و نصیحت کی۔
اے باھوؒ! لوگوں میں سے جو بھی ہمیں دیکھتا ہے ردّ کر دیتا ہے کیونکہ ہم نے فقر کو اختیار کیا ہے جسے عام لوگ اختیار نہیں کرتے۔ فقر کو بھی کسی کی حاجت نہیں۔
فقیر باھوؒ کہتا ہے کہ راہِ فقر میں استقامت اختیار کرنی چاہیے نہ کہ خواہشاتِ نفس اور کرامت۔
اس راہ (فقر) پر صر ف (حقیقی) انسان ہی چل سکتا ہے جس کی (باطنی) آنکھ کھلی ہو جس سے وہ (اس راہ اور عین ذات کو) دیکھ سکے۔
دنیا
وہ راہ جسے شریعت رد کر دے، کفر، شیطان، نفسانی خواہشات اور کمینی راہزن دنیا کی راہ ہے۔
شریعت کی راہ پر چلتے ہوئے میں عرش اور کر سی سے بھی بلند مقامات پر جا پہنچا اور تمام مقامات کا مشاہدہ کرتے ہوئے وحدت کے راز کو اپنے معبود وسے بلاواسطہ پا لیا۔
توحید
میرا وجود توحید میں غرق ہو کر سراسر توحید ہو گیاہے اور میں اس توحید ِ مطلق کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔
ہر حرف اور ہر سطر میں توحید کو دیکھ اور ہمیشہ توحید کے مطالعہ میں مصروف رہ یہاں تک کہ تجھے حق الیقین حاصل ہوجائے۔
راہِ باطن
باطن کی راہ پرچلنے والوں کو آگاہ ہو نا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مشرق و مغرب، جنوب و شمال اور بلندی و پستی میں نہیں سماتا۔
باطن کی راہ پر چلنے والوں کو آگاہ ہو نا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ چاند و سور ج،آگ وپانی اور مٹی و ہوا میں نہیں ملتا۔ نہ ہی اللہ تعالیٰ دن رات علم سیکھنے سے ملتا ہے اور نہ ہی جہل اور قیل و قال میں ہے۔
مرشد کامل اکمل
دانابن اور جان لے!اللہ تعالیٰ کا راز صاحب ِ راز (مرشد کامل اکمل) کے سینہ میں ہے۔اگر تو آئے تو دروازہ کھلا ہے اور اگر نہ آئے تو حق بے نیاز ہے۔
جو اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال کا طالب ہے اُسے چاہیے کہ سب سے پہلے مرشد ِکامل مکمل کی طلب کرے کیونکہ مرشد ِ کامل مکمل دل کے خزانوں کا مالک ہوتا ہے۔
مرشد کامل پلک جھپکتے ہی دو جہان سے گزار کر مقامِ فنا فی اللہ میں مستغرق کر دیتا ہے، نہ تو قصے سناتا ہے اور نہ ہی طالب ِمولیٰ کو زبانی ذکر میں مشغول رکھتا ہے۔
مرشد کامل کی ایک نگاہ دائمی عبادت سے بہترہے۔
مرشد کامل اکمل طالب ِ مولیٰ کا ہاتھ پکڑتے ہی اسے امن الامان کے اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (سورۃآل عمران97-)
ترجمہ: جو اس میں داخل ہو گیا وہ امن پا گیا۔
مرشدکامل طالبِ مولیٰ کو حضوریٔ حق عطا کر تا ہے۔
مرشد کامل مکمل واصل باللہ وہ ہے جو طالب کے وجود کو غیر ماسویٰ اللہ سے پاک کر کے اسے تمام پریشانیوں اور دکھاوے کی ریاضت سے نجات دلا دے۔
مرشد کامل مکمل کی ایک نظر ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
صاحبِ نظر (مرشد کامل اکمل صاحبِ مسمی) کی نگاہ ہی معرفت و وصالِ الٰہی کا اصل ذریعہ ہے۔
مرشد کامل مکمل اگر چاہے تو طالب ِ مولیٰ کو بغیر ذکر ، فکر اور زہدو تقویٰ کے ایک ہی لمحہ میں وصالِ الٰہی عطا کر سکتا ہے۔
مر شد طالب کا ہاتھ پکڑتا ہے اور اسے فوراً حضوریٔ حق میں پہنچا کر حق کے سپرد کر دیتا ہے۔
کسی مرد (مرشد کامل) کاہاتھ تھام تا کہ تو مرد بن جائے کہ مَردو ں کے سوا کوئی راہبری کی راہ نہیں جانتا۔
مرشد ِکا مل مکمل قدمِ محمد ؐپر ہوتا ہے اور ناقص مرشد شیطا ن کی طرح ہوتا ہے۔
صاحبِ نظر (مرشد کامل اکمل) جب طالبِ مو لیٰ پر نگاہ کرتا ہے تو اس کے وجود میں ذکر خود بخود جاری ہو جاتا ہے، اس کا دل زندہ ہو جاتا ہے اور اس کا نفس کمزور و لاچار ہو جاتا ہے۔
مرشد کامل اکمل کے ارد گرد کے لوگ اسے دیوانہ کہتے ہیں۔ وہ مخلوق سے بیگانہ مگر اللہ تعالیٰ سے یگانہ ہوتا ہے۔
سن! صاحب ِحضور فنا فی اللہ مرشد کے لیے طالب ِ مولیٰ کو وحدت میں غرق کرنا اور مجلس ِ محمدیؐ کی حضوری سے مشرف کرنا کونسا مشکل کام ہے؟
کامل مرشد کے لیے طالب کو حضوری دلوانا اسے ذکر فکر، زہد و تقویٰ میں مشغول رکھنے سے زیادہ آسان ہے۔
تسلیم و رضا
حضرت ابراہیم بن ادھمؒ فرماتے ہیں ’’جب تک تواپنے بیٹوں کو یتیم اور اپنی بیویوں کو بیوہ نہیں کر دیتا، خود کو کتے کی طرح خاک میں نہیں ملا دیتا، ’تم اُس وقت تک نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک تم اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کر دو‘(سورۃآل عمران۔ 92)کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھر بار کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کر دیتا اور ’اللہ ان سے محبت کرتاہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں‘ (سورۃ المائدہ۔54) کو ظاہر اور باطن میں اختیار کر کے ’اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے‘ (سورۃالبینۃ۔8) کا مقام و مرتبہ حاصل نہیں کر لیتا تب تک تیرا یار جانی تجھ سے کہاں راضی ہو گا؟
تسلیم و رضا کے خنجر سے ذبح ہونے والوں کو ہر لمحے غیب سے نئی زند گی ملتی رہتی ہے۔
دل
دِل کیا ہے ؟ چودہ طبقات سے وسیع تر ہے۔
استقامت
مردِ غازی یہ ہے کہ وہ ایک ہی وار میں غیر ماسویٰ اللہ کا سر قلم کر کے نفس کو خواہشات سے پاک کرلے اور اس لڑائی سے ہمیشہ کے لیے چھٹکا را پا کر استقامت اختیار کر لے۔
استقامت کرا مت اور مقا مت سے بہتر ہے۔
علم
لوگ صرف دنیا میں نام اور پیسہ کمانے یا دنیاوی بادشاہ کا قرب پانے کے لیے علم حاصل کرتے ہیں۔
اصل علم وہ ہے جو سینہ (یعنی قلب اور باطن) سے حاصل ہو۔
علمِ قیل وقال میں صرف سردردی ہے۔
پہلے علم حاصل کرو پھر راہِ فقر (راہِ خدا) میں قدم رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاہلوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
علمِ معرفتِ حق تعالیٰ روشن نور ہے جس کی مثل کوئی نور نہیں۔
علم گدھے پر لدے ہوئے بوجھ کی طرح نہیں ہونا چاہیے، اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
علمِ باطن مکھن اور علمِ ظاہر دودھ کی مثل ہے۔جس طرح دودھ کے بغیر مکھن نکالنا ممکن نہیں اسی طرح پیر کے بغیر بزرگی حاصل کرنا ممکن نہیں۔
(اصل) علم وہ ہے جو معلوم (اللہ تعالیٰ) تک پہنچائے اور ہر چیز سے باخبر کر دے۔
دوست (اللہ تعالیٰ) سے ملانے والا علم کتابوں میں نہیں ملتا۔
جو علم ہم نے کتابوں میں پڑھا وہ اس راہ (فقر) میں کسی کام نہیں آتا (اس راہ کا علم مرشد کامل سے بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے)۔
ایسا شخص جسے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں اگرچہ وہ ہزار کتابیں کیوں نہ پڑھ لے وہ سلک سلوکِ تصوف (راہِ باطن)کو نہیں جان سکتا ۔اس کی زبان زندہ لیکن دل مردہ ہے اور اس کا علم جانور پر لدے ہوئے بوجھ کی مانند ہے۔
فنا فی اللہ بقا باللہ
جہاں استغراق فنا فی اللہ بقا باللہ کا لازوال وصال ہے وہاں سالہا سال کی مشقت کی کیا حاجت!
جب اسم و جسم (ذات) یکجان و یک وجود ہو گئے تو رازِ پنہاں ظاہر ہو گیا۔
اس مقام پر غیر ماسویٰ اللہ ہر شے (طالب ِ مولیٰ پر) حرام ہو جاتی ہے۔اسم جسم میں پیوست ہو جاتا ہے اور جسم اسم ۔
طالب کو مقامِ فنا فی اللہ میں یوں غرق ہونا چاہیے کہ ایک سانس تو کیا اسے صدیاں گزر جانے کا بھی احساس نہ ہو۔
فقیرِ کامل اور طالبِ دنیا فقیر
فقیر ہی اللہ کے مقرب اور حبیب ہیں اور دونوں جہان میں بہترین مقام کے حامل ہیں۔
بعض فقیر صرف خلق ِ خدا میں مشہور ہونے کے لیے ذکر اسم ِاللہ ذاتمیں مشغول ہوتے ہیں۔ وہ اپنے نفس کے غلام ہوتے ہیں جو لوگوں کو مال و دولت کی خاطر اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔
اِن دونوں اقسام کے فقیروں (فقیر ِکامل اور طالب ِدنیا فقیر) کی پہچان ان کے دنیاوی معاملات اور دنیا کے متعلق گفتگو سے ہو جا تی ہے۔
فقیرِ کامل دنیا کا ذکر حقارت سے کرتا ہے اور ایسا کرنے سے دل سے (دنیا کی) میل صاف ہو جاتی ہے۔
فقیر کا لباس نور ہے جس سے معرفت کے راز اور دونوں جہانوں کی سیر نصیب ہوتی ہے۔
نور کا لباس پہننے والے فقیر کی ہر با ت اسمِ اللہ، معرفتِ اِلاَّ اللّٰہ اور جمالِ الٰہی کے متعلق ہوتی ہے۔
فقرا کو دونوں جہانوں کی یاد نہیں آتی کیونکہ یہ دونوں جہانوں سے آزاد ہو چکے ہیں۔
سالک دو قسم کے ہیں۔سالک مجذوب اور سالک محبوب۔ فقیر ان دونوں سے ماورا ہوتا ہے کہ وہ مالک الملکی محبوب صاحب ِ وھم اورصاحب ِتصرف ہوتا ہے۔
فقیر وہ ہے کہ جب آنکھیں بند کر ے تو دوجہان اور اٹھا رہ ہزار عالم کا مشاہد ہ کر لے۔
جو فقیر دنیا کا مال اور پیسہ جمع کرے اور اس پر راضی ہو جائے وہ فرعون کی مانند ہے۔
فقیر کا لباس نور ہے جس سے معرفت کے راز اور دونوں جہانوں کی سیر نصیب ہوتی ہے۔
نور کا لباس پہننے والے فقیر کی ہر با ت اسمِ اللہ، معرفتِ اِلاَّ اللّٰہ اور جمالِ الٰہی کے متعلق ہوتی ہے۔
فقرا کو دونوں جہانوں کی یاد نہیں آتی کیونکہ یہ دونوں جہانوں سے آزاد ہو چکے ہیں۔
دنیاوی مال و اسباب
اگر زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو لیکن دل میں دنیاوی مال و اسباب کے خیالات ہوں تو ایسی تسبیح پڑھنے کا کیا اثر ہوگا۔
جو مال اکٹھا کر کے اس پر بخل کرے وہ قارون ہے۔
جو اپنے مال پر غرور کرے وہ نمرود کی مثل ہے۔
جو دنیا کی عزت کرے وہ شدّاد کی مانند ہے۔
غیر ماسویٰ اللہ
اے حق شناس سن! اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہو جا اور غیر ماسویٰ اللہ ہر شے کو اپنی لوحِ ضمیر سے مٹا دے حتیٰ کہ تیرے دِل میں اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
میں نے اپنے دل سے دنیا اور آخرت کے غم کو نکال دیا کیونکہ دل میں یا تو دوست (اللہ تعالیٰ) کی محبت رہ سکتی ہے یا دیگر چیزیں۔
اللہ کی طلب کے سوا ہر شے گمراہی ہے۔
عارف باللہ
پس عارف باللہ جو بات بھی کرتا ہے اسمِ اللہ کے متعلق ہی کرتا ہے اور جدھربھی دیکھتا ہے اسمِ اللہ ہی دیکھتا ہے۔
عارف باللہ جو کچھ بھی سنتا ہے اسے اسمِ اللہ ہی سنائی دیتا ہے۔
(جاری ہے)