بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen -Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen
قسط نمبر 21 مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری
کوفہ منتقل ہونے کی وجہ
11جون 2026: میرے مرشد سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فرمایا: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مدینہ سے کوفہ منتقل ہونے کی بیشمار وجوہات تھیں۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ آپ کرم اللہ وجہہ کے بہت سے وفادار اور ماننے والے کوفہ میں تھے اور دشمن بھی کافی تھے۔
آیات کو چھپانا
فرمایا: آج کل لوگ حق بات نہیں کرتے،ایک آیت بتاتے ہیں اور ایک چھپا لیتے ہیں۔ جیسے سورۃ توبہ میں اللہ فرماتا ہے:
٭ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَ اَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ٭ (سورۃ التوبہ ۔100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے۔
اب اس سے آگے کوئی نہیں بتاتاکہ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
٭ وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ط وَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ قف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ قف لَا تَعْلَمُہُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُہُمط سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ٭ (سورۃ التوبہ ۔101)
ترجمہ: اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں (بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جملہ منافقین کا علم اور معرفت عطا کر دی گئی)۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ (دنیا ہی میں) عذاب دیں گے۔ پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے۔
مزید فرمایا: اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس لیے نہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رنجیدہ نہ ہوں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت
فرمایا: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت کو تو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جب اللہ کسی کو فضیلت دے دے تو پھر بغض نہیں رکھنا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی درجات ہیں، شروع میں اسلام قبول کرنے والے اور فتح مکہ پر اسلام قبول کرنے والے برابر تو نہیں ہو سکتے۔
خاموشی
فرمایا: آج کل لوگ ایسے ہیں کہ کوئی حق بات بھی کرے تو ذلیل ہوتا ہے اور باطل بات بھی کرے تو ذلت اٹھاتا ہے۔ اس لیے خاموشی بہتر ہے۔ اسی وجہ سے پیر بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ پیر (مشائخ سروری قادری) خاموش رہیں گے۔ ورنہ آج کل توگھر بیٹھے بدنام کر دیا جاتا ہے۔ لوگ ایسے فتنے میں مبتلا ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی برا کہتے ہیں، اہل ِبیت رضی اللہ عنہم کو بھی برا کہتے ہیں، فقرا کوبھی برا کہتے ہیں اور جو اولیا دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو بھی برا کہتے ہیں۔
کربلا
فرمایا: کربلا کو زندہ رکھنے میں خواتین کا بہت کردار ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہاکی بدولت ہی دنیا نے شہادتِ امام حسینؓ اور کربلا میں ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو جانا۔ ہماری والدہ بھی ہمیں کربلا کا واقعہ سنایا کرتی تھیں۔
عاجزی
فرمایا: عاجزی راہِ فقر میں طالب کا ہتھیار ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک ہے جس تک عاجزی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں جاتا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب معراج پر گئے تو اللہ نے پوچھا میرے لیے کیا لائے ہو؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’عاجزی‘‘۔
ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہٗ سے عرض کیا کہ آپ تلقین فرمائیں۔ لیکن آپؓ خاموش رہے۔ حضرت داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ نے دوبارہ درخواست کی کہ اہل ِبیت رضی اللہ عنہم ہونے کے اعتبار سے اللہ نے آپؓ کو جو فضیلت بخشی ہے اس وسیلہ سے تلقین کرنا آپ پر ضروری ہے۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا: مجھے تو اپنا خوف ہے کہ روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہاتھ پکڑ کر یہ سوال نہ کر دیں کہ تو نے خود میری اتباع کیوں نہیں کی؟
یہ سن کر حضرت داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ سخت پریشان ہوئے کہ ان کا یہ عالم ہے تو پھر مجھے تواور زیادہ عاجز ہونا چاہیے۔ یہ حال تھا ان ہستیوں کا تو ہمارا کیا حال ہونا چاہیے؟
مولانا جامیؒ کا ایک مرید تھا، اس کے ماتھے پر نور چمکتا تھا۔وہ ایک دفعہ حج پر چلا گیا۔ جب واپس آیا تو وہ نور اس سے جاتا رہا۔ مولانا جامیؒ سے سبب پو چھا تو فرمایا: پہلے تیرے دل میں عاجزی بہت تھی اب تیرے اندر غرور آگیا۔ تو نے حج مکمل کرتے ہی دھو کہ کھایا اور سمجھا کہ اب میں کچھ اور ہو گیا ہوں اس لئے تو اس بلند مرتبے سے گر گیا، وہ نور تیرے سے چلا گیا ہے اس لئے اب وہ نظر نہیں آتا۔
سلسلہ سروری قادری کا فیض
فرمایا: سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ جنیدیہ سلسلہ سے تھے۔ جنیدیہ سلسلہ کا نام قادری سلسلہ ہو گیا۔ پھر قادری سلسلہ سے تمام سلاسل نے فیض حاصل کیا۔
چار بنیادی سلاسل ہیں۔ جہاں تک نقشبندیہ سلسلہ کی بات ہے تو حضرت بہاؤالدین نقشبند سولہ سال ریاضت کرتے رہے اور اسم ِاللہ ذات دل پر نقش کرتے رہے لیکن نہیں ہوا۔ آخرکار حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور اپنی درخواست عرض کی۔ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے دربار پاک پر جا کر عرض پیش کریں۔ جب حضرت بہاؤالدینؒ ادھر گئے اور عرض کی:
یا دستگیر عالم دستم را بگیر
دستم چناں بگیر کہ گوئندت دستگیر
ترجمہ: اے جہاں بھر کی دستگیری کرنے والے! میری دستگیری فرمائیں اور اس شان سے دستگیری فرمائیں جس بنا پر آپؓ کو دستگیر کہا جاتا ہے۔
یہ شعر ختم ہوتے ہی غوث پاک رضی اللہ عنہٗ کا ہاتھ مبارک مزار پاک سے باہر آیا جو اسمِ اللہ ذات کی شکل میں تھا اور فرمایا:
اے نقشبند عالم نقشم را بہ بند
نقشم چناں بہ بند کہ گوئندت نقشبند
ترجمہ: اے نقشبند ِعالم! میرے والا نقش جما اور ایسا جما کہ رہتی دنیا تک لوگ تجھ کو نقشبند کے نام سے یاد کریں گے۔
پھر حضرت بہاؤالدین نقشبند سے نقشبندیہ سلسلہ چلا۔
سلسلہ چشتیہ کے بانی حضرت معین الدین چشتی کو فیض تب ملا جب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے ’’قَدَمِیْ ہٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ‘‘ کا اعلان فرمایا تو وہ اس وقت سب سے پہلے سر جھکانے والوں میں تھے۔ اسی طرح ایک دن حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے چچا حضرت پیرانِ پیر رضی اللہ عنہٗ کی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ان پر مہربانی فرمائیں۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے حضرت شہاب الدین سہروردی کے سینہ پر اپنا ہاتھ پھیرا تو تمام علمِ ظاہر مٹ گیا اور پھر آپ کے گریبان میں پھونک ماری تو تمام کا تمام علم بشمول علمِ باطن کھل گیا۔
بچہ اللہ کی فطرت پر
21جون 2024 : فرمایا جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ فطرتِ سلیمہ پر ہوتا ہے یعنی اللہ کی فطرت پر ہوتا ہے، پھر ماں باپ اور حالات اسے ویسا بنا دیتے ہیں جیسا وہ ہوتا ہے۔ مرشد کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ مرید کو فطرتِ سلیمہ پر لے کر آتا ہے۔
علم و اَدب
فرمایا: عشق مجازی ہو یا حقیقی، ادب کے بغیر کچھ نہیں ملتا۔ عشق سکھاتا ہی ادب اور خوف ہے۔
ایک مرید کی طرف دیکھ کر فرمایا: علم کی طرف جاتے ہو، خیال کرنا۔ علیم جب اپنی تجلی کرتا ہے تو راستہ کھلتا ہے۔ جب وہ راستہ بند کرے تو پھر کوئی راستہ نہیں۔
مزید فرمایا: علم علیحدہ چیز ہے اور شعور علیحدہ چیز ہے۔ جیسے لوگوں کو علم ہے کہ شہید زندہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے’’ لیکن لوگوں کو شعور نہیں کہ وہ زندہ ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
٭ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ ط بَلْ اَحْیَآئٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ٭ (سورۃ البقرۃ۔ 154)
ترجمہ:اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مُردہ ہیں، (وہ مُردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔
اسی طرح اصحابِ کہف کا واقعہ ہے کہ لوگوں کو علم تو ہے لیکن اس کا شعور نہیں۔
رضائے الٰہی
فرمایا: اللہ کی رضا پر چلنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کسی معاملے پر رضا سے گر جاتے ہیں جبکہ دوسرے ہر حال میں رضا پر قائم رہتے ہیں۔ جو بھی مشکل آ جائے اللہ کی رضا پر قائم رہتے ہیں۔
ابنِ کثیر اور ابنِ خلدون
بات ابنِ کثیر اور ابنِ خلدون پر چل نکلی توآپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: ابنِ کثیر نیوٹرل ہو کر دماغ سے سوچتا تھا نہ کہ جذباتی ہو کر۔
لیکن جو چیز مستند مل جائے اسے ضرور لکھتا تھا۔ابنِ خلدون ابنِ کثیر سے سخت تھا لیکن اچھا ہسٹورین (تاریخ دان) تھا۔ اس نے پہلی بار ہسٹری پر ریسرچ کی اور اس سے نتیجہ بھی نکالا ورنہ اس سے پہلے بنو امیہ اور بنوعباس اپنی ہسٹری خود لکھواتے۔ مغل بھی ایسے کرتے تھے۔
قسطنطنیہ کی فتح
فرمایا: قسطنطنیہ آرتھوڈاکس عیسائیوں کا مرکز تھا جس کو فتح کرنا ناممکن تھا کیونکہ اس کے اردگرد پانی بہت تھا۔ ایک حدیث پاک ہے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ قسطنطنیہ کو میرا ہم نام فتح کرے گا۔ پھر اسے خلافتِ عثمانیہ کے بادشاہ محمد نے فتح کیا تھا۔
(جاری ہے)