عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

Rate this post

عقلِ بیدار Aqal-e-Baydar

تصنیفِ لطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ
قسط نمبر 5                                               مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

حدیثِ مبارکہ ہے:
 مَنْ عَرَفَ رَبَّہٗ فَقَدْ کَلَّ لِسَانُہٗ 
ترجمہ:جو اپنے ربّ کو پہچان لیتا ہے پس یقینا اس کی زبان گونگی ہو جاتی ہے۔

اہلِ حضور خاموش رہتے ہیں اور اس خاموشی کے دوران وہ حضوری میں خونِ جگر پیتے ہیں جبکہ بے عقل شور مچاتے ہیں اور اس شور کے ذریعے خود فروشی کرتے ہیں۔ 

ابیات:

عقل کلی گنج نورش با حضور
بی حضوری بی عقل و ز حق بدور

ترجمہ: عقل ِکُل اس کے نور کا خزانہ ہے جو حضوری عطا کرتا ہے جبکہ بے حضور شخص بے عقل اور حق سے دور ہوتا ہے۔

عقل بیدار است خوابش را مگیر
عاقل آن غالب بود روشن ضمیر

ترجمہ: عقل بیدار ہوتی ہے اسے مت سلا۔ عاقل وہ ہے جو غالب اور روشن ضمیر ہو۔

سرّ ہدایت عقل طالب معرفت
بی عقل در طلب دنیا سگ صفت

ترجمہ: عقل سر ّ ِہدایت ہے جس کا حامل معرفت کا طلبگار ہوتا ہے جبکہ بے عقل سگ صفت ہے جو دنیا کی طلب میں رہتا ہے۔

علم سہ حرف است ہم عقل سہ حرف
عالم و عاقل یکشود انسان شرف

ترجمہ: جس طرح علم کے تین حروف ہیں اسی طرح عقل کے بھی تین حروف ہیں۔ جب کوئی عالم ہونے کے ساتھ ساتھ عاقل بھی ہو تو وہ انسان ہونے کا شرف حاصل کر لیتا ہے۔

عاقلان در طلب اللہ ہر دوام
ہر مطالب در طلب حق شد تمام

ترجمہ: عاقل ہمیشہ اللہ کی طلب میں رہتے ہیں اور ان کے تمام مطالب طلب ِحق سے ہی پورے ہو جاتے ہیں۔

انبیا را عقل بودن حق عطا
اولیا را عقل بردہ با خدا

ترجمہ: انبیا کو حق کی طرف سے عقل عطا ہوتی ہے۔ اولیا کو عقل اللہ کی طرف لے جاتی ہے۔

عاقلان ناظر نظر حاضر نبیؐ
عاقلی جز طالبی دنیا شقی

ترجمہ: عاقل صاحب ِدیدار ہوتے ہیں اور ہمیشہ مجلسِ محمدیؐ کی حضوری کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی عاقل دنیا کا طالب بن جائے تو وہ بدبخت ہے۔

سن! مخلوق اگرچہ طالب ِمولیٰ کو بے عقل سمجھتی رہے لیکن علم ِمعرفت ِالٰہی کے مطابق وہ اللہ کے نزدیک عاقل ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
 مَنْ مَاتَ فِیْ حُبِّ اللّٰہِ فَقَدْ مَاتَ شَھِیْدًا
ترجمہ: جو حبِ الٰہی میں مرا پس یقینا وہ شہید کی موت مرا۔

مخلوق اگرچہ فقیر کو جاہل سمجھتی رہے لیکن وہ علمِ توحیدِ الٰہی میں عالم فاضل ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں بذریعہ الہام اس کے ساتھ ہم کلام ہو کر علم کے دور کرتا ہے۔ وہ صاحب ِذکر مذکور اور صاحب ِحضور ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
 فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ (سورۃ البقرہ۔152)
ترجمہ: پس تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔ 

عاقل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے جبکہ بے عقل طمع ِنفس، حرص اورخواہشاتِ نفسانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ تو نے کس چیز کو اختیار کیا ہے؟ راہِ معرفت اختیار کی ہے یا باطل دنیا کی طرف رجوع کیا ہے؟ اصل سرمایۂ ایمان (غیر اللہ سے) آزادی اور کم آزاری ہے۔ جان لو کہ حضوری میں تجلیاتِ انوار کی بدولت عقلِ کلُ، حکمت اور شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ طالبعلم علما اور طالبِ مولیٰ فقیر اولیا کے مراتب کیا ہیں اور ا ن کے درمیان کیا فرق ہے؟ علما علم بیان کرتے ہیں جبکہ فقیر اولیا اللہ اس علم سے بعینہٖ عین مشاہدہ کراتے ہیں۔ علما کا طریق یہ ہے کہ تمام مقامات اور طبقات کی طے کی تحقیق کرتے ہیں جبکہ فقرا کا طریق یہ ہے کہ توفیق کے ذریعے تمام آفات سے سلامتی سے گزار دیتے ہیں۔ اگر کوئی جاہل، حاسد، منافق، مردہ دل، کاذب، فرزند ِشیطان اور وسوسہ ٔخناس میں گھرا ہوا، منکر ِپیر و مرشد، بے پیر و مرشد اور معرفت سے محروم شخص یہ دلیل پیش کرے کہ اس زمانہ میں لائقِ ارشاد پیر اور صاحبِ قوت فقیر مرشد موجود نہیں اس لیے پیر و مرشد کا وسیلہ اختیار کرنے کے بجائے مطالعۂ کتب سے حاصل کردہ علم ہی کافی ہے تو یہ سب حیلۂ شیطانی اور فریب و مکرِ نفسانی ہے اور وہ شخص خودپسندی اور خواہشاتِ نفس کے غلبہ کے باعث راہزن ہے جو اللہ کی معرفت و ہدایت اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے باز رکھتا ہے۔ اپنا یقین قائم رکھو اور اس شخص کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ ایسے شخص کا دل مردہ اور وہ کتے کی مثل مردار کا طلبگار ہے۔ علم کتابوں میں محدود رہ جاتا ہے اور علمائے عامل قبروں میں پہنچ جاتے ہیں۔ صرف مرشد کامل ہی ظاہر و باطن میں صاحبِ حضور اور اللہ کے خزانوں کے خزانچی ہوتے ہیں۔ صاحبِ ولایت مخلوقِ خدا کی حفاظت سے ایک گھڑی بھی غافل نہیں رہتے۔ یہ ایک دوسرے کے قائم مقام ہوتے چلے آرہے ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت نہیں رکے گا۔ یہ اولیا آفتاب کی مثل فیض بخش اور عوام کے راہنما ہیں۔ ان کے طالب و مرید اپنے اپنے مرتبہ اور منصب کے مطابق حضوری سے مشرف ہوتے ہیں۔ 

ابیات:

گر بیائی طالبا حاضر کنم
جثہ را از قہر غصہ بر کشم

ترجمہ: اے طالب! اگر تو آئے تو میں تجھے حضوری سے مشرف کر دوں گا اور تیرے وجود سے قہر و غصہ نکال دوں گا۔

تا شناسی معرفت حق اولیا
میشود حاصل ترا وحدت خدا

ترجمہ: تاکہ تو اللہ کی معرفت حاصل کرکے اس کے اولیا میں شامل ہو جائے اور تجھے وحدتِ حق نصیب ہو جائے۔

صاحب گنج تصرف صد کرم
عارف باللہ بود آن جان من

ترجمہ: عارف باللہ صاحبِ گنج ہوتا ہے جو ان خزانوں کو کرم نوازی سے تقسیم کرتا ہے۔ ایسا عارف باللہ میری جان ہے۔

جو باطن صفا ہو اسے نظر ِعیاں اور تحقیق حاصل ہو جاتی ہے اور وہ توفیق اور حق کی رفاقت سے تمام خزانوں پر تصرف پا لیتا ہے۔ طالبوں کو سب سے پہلے راہِ حق میں خرچ کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا:
 خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَنْفَعُ النَّاسَ 
ترجمہ: لوگوں میں بہترین وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے۔

پس معلوم ہوا کہ فقیر کا وجود کرم کا منبع اور فقیر کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کنہ کن پر مبنی بیش قیمت موتی ہے۔ اے پریشان حال احمق و حیوان! فقیر کے قہر ِجلالیت سے خبردار رہو۔ فقرا کا قہر اللہ کے قہر کا نمونہ ہوتا ہے۔ فقیر کی ہر بات، اس کی لب کشائی، نظر، توجہ، نشست و برخاست اور اس سے سرزد ہونے والا ہر کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
 فِعْلُ الْحَکِیْمِ لَا یَخْلُوْا عَنِ الْحِکْمَۃِ
ترجمہ: حکیم کا فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

اگر طالب و مرید کو پیر و مرشد سے سب سے پہلے دنیاوی خزانوں پر تصرف سے سیری کی تعلیم حاصل نہ ہو تو اس طالب کو معرفت اور فقر ِاختیاری کیسے نصیب ہو سکتا ہے! حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
 عَذَابَ الْجُوْعِ اَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
ترجمہ: بھوک کا عذاب قبر کے عذاب سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔

 اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْفُقَرَآئِ الْغَنِیِّ 
ترجمہ: بیشک اللہ غنی فقرا کو پسند کرتا ہے۔
جس نے فقر کا گلہ کیا اس نے گویا خدا کا گلہ کیا۔ ایسا فقیر جس کی زبان پر حکایت اور فقر کی شکایت ہو وہ فقر ِاضطراری پر ہے۔ اُسے اپنی مفلسی پر شرمندگی اور خواری ہوگی۔ حدیثِ مبارکہ ہے:
 نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْفَقْرِ الْمُکِبِّ 
ترجمہ:میں فقر ِمکب (یعنی فقر ِاضطراری) سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

کیا تو جانتا ہے کہ شیطان عالم ہے اور اپنے علم کی قوت سے اس نے تمام عالم کو اپنی قید و قبضہ میں کیا ہوا ہے۔ ہزار میں سے کوئی ایک ہی ایسا ہوتا ہے جو علم ِشیطان کے دائرہ سے نکل جاتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ شیطان چاروں کتب یعنی توریت، زبور، انجیل اور فرقانِ حمید کے علم اور علم ِ ہدایت سے محروم اور بے نصیب ہے۔ علمائے عامل، فقیر درویش کامل اور غوث قطب مکمل کے علاوہ بنی آدم میں سے ہر کسی پر شیطان قوی اور غالب آجاتا ہے۔ وہ اولیا اللہ کو حضورِ حق سے دور رکھتے ہوئے اپنے حکم میں لانا چاہتا ہے۔ ایسا وہ کس علم کے ذریعے کرتا ہے؟ وہ طمع و حرص کا علم ہے۔ شیطان نفس کو یہی علم سکھاتا ہے، بالآخر علم ِطمع اور لذتِ حرص کے باعث نفس بے دین ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ دنیا کی طمع، زینت اور لذت سب شیطان کی متاع ہیں۔ جو شیطان کی اس متاع کو ہاتھ میں لیتا ہے گویا شیطان کے ہاتھ پر عہد کرتا ہے۔ پس اسی وجہ سے سب سے پہلے دنیا کو اپنے تصرف میں لانا چاہیے تاکہ پھر دنیا کی ضرورت ہی نہ رہے اور شیطان بھی غالب نہ آسکے۔ جو طالب دنیا طلب نہیں کرتا وہ طالبِ مولیٰ ہے اور وہی نفس و شیطان پر غالب رہتا ہے۔ فقیر غنی اور تصرف عطا کرنے میں غالب ہوتا ہے۔ کامل فقیر دستگیر اور سارے جہان کے لیے فیض بخش ہوتا ہے۔فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
 قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ  (سورۃ النسا۔77)
ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرما دیجئے کہ متاعِ دنیا قلیل ہے۔

قلیل عورت کے حیض سے خون آلود کپڑے کو کہتے ہیں۔ عرب کا قول ہے:
 یَا اَخِیْ لَا تَجْلِسْ عَلَیْھَا لِاَنَّ تَحْتِھَا قَلِیْلٌ
ترجمہ: اے بھائی! اس جگہ پر نہ بیٹھ کہ اس کے نیچے قلیل ہے۔

پس اہلِ فیض عارف فقیر اہل ِحیض دنیا کو قبول نہیں کرتا۔ اہلِ فیض اور اہلِ حیض کو ایک دوسرے کی مجلس پسندنہیں آتی۔ ظاہری علمِ دنیا (اللہ اور بندے کے درمیان) ایک دیوار کی مانند ہے جو بے حیائی کی طرف لے جاتا ہے اور حیادار سے بے حیا بنا دیتا ہے جبکہ علم ِمعرفت لامحدود ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔ اسمِ اللہ ذات کی بدولت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ نفسِ امارہ اور مکار دنیا کی طمع شیطان کا مقرب بناتی ہے جبکہ قلب ِسلیم کی طمع اور حق تسلیم کرنے والی روح کی طمع رحمن کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ جب تک اللہ سے ملاقات کا شوق اور اشتیاق پیدا نہ ہو ملاقات اور حضوری ہرگز حاصل نہیں ہوتی۔ جاننا چاہیے کہ ذکر فکر باعثِ حیرت ہے، مطالعہ علم باعثِ غیرت ہے، تصور سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور تصرف سے جمعیت اور استقامت ملتی ہے۔ عشق میں ملامت، محبت میں سوز اور فقر میں ہمیشہ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر علم سے مرتبہ حاصل ہوتا تو ابلیس میدان سے گیند کھینچ لے گیا ہوتا، اگر تقویٰ کے باعث حاصل ہوتا تو بلعم باعور بازی لے گیا ہوتا، اگر جہالت کی بنا پر حاصل ہوتا تو ابوجہل کامیاب ہو چکا ہوتا۔ اللہ کی معرفت کس چیز میں ہے اور کس علمِ دانش کی بدولت اس کا ادراک کیا جا سکتا ہے؟ کیا تو جانتا ہے کہ اصحابِ کہف کے کتے کو محبت نے کس (اعلیٰ) مقام تک پہنچا دیا اور شیطان اپنے علم (پر تکبر) کے باعث کس (ادنیٰ) درجہ پر پہنچ گیا؟ نفس کی انانیت کی وجہ سے اس کا علم روح کے خلاف تھا۔ نفس کی ابتدا یہی ہے کہ یہ خدا سے دور کرتا اور بے یقین بنا دیتا ہے۔ علم کے ساتھ اگر یقین بھی حاصل ہو تو یہ زادِ راہ ہے جبکہ معرفت کے بغیر حاصل ہونے والا علم گمراہ کر دیتا ہے۔ معرفت کسے کہتے ہیں؟ معرفت علم کا نور ہے جو انانیت، تکبر اور غرور سے محفوظ رکھتا ہے۔ دونوں جہان کا علم فقیر کی زبان پر تحریر ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے بیان کر دیتا ہے چاہے کوئی اسے قبول کرے یا ردّ۔ حدیثِ مبارکہ ہے:
 لِسَانُ الْفُقَرَآئِ سَیْفُ الرَّحْمٰنِ
ترجمہ: فقرا کی زبان رحمن کی تلوار ہے۔

جاننا چاہیے کہ اگر کوئی تمام عمر اس قدر عبادت کرے کہ اس کی کمر جھک کر کبڑے کی مثل ہو جائے، کثرتِ ریاضت و خلوت نشینی اور تنہائی میں چلّے کرنے کے باعث اس کا جسم بال کی مانند باریک ہو جائے اور وہ خوفِ گناہ کی بنا پر آہ و زاری کرتے ہوئے شب و روز ایسے جلتا رہے جیسے آگ خشک لکڑی کو جلاتی ہے تو بھی وہ اللہ کی معرفت اور قرب سے محروم رہتا ہے کیونکہ یہ سب ظاہری اعضا کے اعمال ہیں اور ظاہری اعمال سے دل پاک نہیں ہوتا۔ عاشقی، معشوقی، محبوبی، مرغوبی اور محبوب القلوبی کے مراتب تصور اسمِ اللہ ذات اور مشق مرقومِ وجودیہ سے حاصل ہوتے ہیں جن کی بدولت وجود کے  ہفت اندام نور بن جاتے ہیں اور مشق کرنے والا یکبارگی حضوری میں پہنچ جاتا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ انسان کو چند بیماریاں اور امراض لاحق ہیں۔ مریضِ دنیا کا طبیب شیطان ہوتا ہے جو اسے نفاق کی دوا دے کر پریشان رکھتا ہے۔ مریضِ عقبیٰ کا طبیب تقویٰ ہے جو اسے نفس کو مارنے کا حکم اور فتویٰ دیتا ہے۔ مریضِ عشق لاعلاج ہے جس کی کوئی دوا نہیں سوائے لقا و دیدارِ الٰہی کے۔ جو لقا چاہتا ہے اسے اپنا سر قلم کروانا پڑتا ہے۔ مرشد کامل جس کسی عالم فاضل کو تلقین کرتا ہے اسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں لے جاتا ہے جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اسے اپنی زبانِ مبارک سے فرماتے ہیں ’’اے عالم طالبِ مولیٰ! یہی مرشد تجھے عارف ولی اللہ کے مقام تک پہنچانے کا وسیلہ ہے۔‘‘ بعد ازاں اس صاحبِ علم عالم فاضل کو یقین حاصل ہو جاتا ہے۔ اس طالب کی نشانی یہ ہے کہ وہ عارف واصل بن جاتا ہے ورنہ ہزاروں ہزار طالبوں کو ایک نظر سے دیوانہ بنا دینا کونسا مشکل کام ہے! جاہلوں کو دیوانہ اور مجنوں بنا دینا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مرشد صاحبِ توفیق ہوتا ہے اور عالم فاضل طالبِ مولیٰ صاحبِ تحقیق ہوتا ہے۔ جاہل ہرگز عارف باللہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی معرفتِ الٰہی تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ وہ قومِ زندیق سے ہے۔ فقیر کو فقر، معرفت اور ہدایتِ الٰہی کے دو گواہ حاصل ہوتے ہیں: اوّل یہ کہ وہ اس راستے کے خاص علم سے آگاہ ہوتا ہے اور علمِ تفسیر کا کامل عالم فاضل اور مفسر ہوتا ہے۔ دوم گواہ یہ کہ وہ علمِ باطن اور قربِ الٰہی بخشنے والا ہوتا ہے۔ جو مرشد فقرِ محمدیؐ کے یہ دو گواہ نہیں رکھتا وہ معرفتِ الٰہی کی راہ نہیں جانتا۔ جاہل تجھے جو بھی مشاہدہ کرواتا ہے وہ سراسر استدراج ہے کیونکہ جاہل معراج سے غافل ہوتا ہے۔ بیت:

علم را آموز اوّل علمش حق نما
جاہلان را پیش ایزد نیست جا

ترجمہ: سب سے پہلے وہ علم حاصل کر جو حق تعالیٰ تک راہنمائی کرے کیونکہ جاہلوں کی بارگاہِ ایزدی میں کوئی گنجائش نہیں۔

جو مرشد بظاہر جاہل مگر بباطن عالم ہو جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام، وہ اس مرشد سے بہتر ہے جو بظاہر عالم ہو لیکن بباطن جاہل جیسا کہ شیطان۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
 اِتَّقُوْا مِنْ عَالِمِ الْجَاہِلِ قِیْلَ مَا عَالِمُ الْجَاہِلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ط  قَالَ عَالِمُ اللِّسَانِ وَ جَاہِلُ الْقَلْبِ
ترجمہ: جاہل عالم سے ڈرو۔ پوچھا گیا ’’یا رسولؐ اللہ! کیا عالم بھی جاہل ہوتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’وہ جو زبان کا عالم مگر دل سے جاہل ہو۔‘‘
فقیر سے تصدیق ِقلب اور ارشاد کا علم طلب کر۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
 رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ  (سورۃ القصص۔24)
ترجمہ: اے ربّ!تو جو بھی خیر میری طرف نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔

اقرار کے ساتھ تصدیق ضروری ہے اور تصدیق کے بعد اقرار لازم۔ ایسا عالم جو ان دونوں علوم کا حامل ہو وہ عارف فقیر صاحب ِتوفیق اور حق کا رفیق ہوتا ہے۔ وہ علم اور تحقیق کھولنے والا ہوتا ہے کیونکہ اس کا وجود معرفت کا دریائے عمیق ہوتا ہے۔ فنا فی اللہ میں مستغرق اسے کہتے ہیں جو دیدار کرنے والا اور کروانے والا ہوتا ہے۔ وہ غم کو مٹا کر فرحت عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھے دونوں جہانوں میں خیر عطا فرمائے۔ 

راہِ حق دکھانے والے علما انبیا کے وارث ہیں اور وہ ہر طریقِ علم سے مسائل بیان کرتے ہیں۔ فقیر فنا فی اللہ اور عارفِ خدا ہوتا ہے جو اللہ کی معرفت، حضوری اورقرب عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا مشاہدہ بھی کرواتا ہے۔ لہٰذا بیان کرنے اور مشاہدہ کروانے میں فرق ہوتا ہے۔ جس کے وجود میں اسمِ اللہ ذات تاثیر کرتا ہے تو اسے عمل کی توفیق بخشتا ہے اور اس کا رفیق بن جاتا ہے۔ ایسا شخص توفیق کی بدولت ظاہر و باطن میں صاحب ِگنج اور صاحبِ تصرف ہوتا ہے۔ وہ جس طالبِ مولیٰ کو چاہتا ہے اس کے سر سے پاؤں تک وجود کے ساتوں اندام اور قلب و قالب کو پاک کر کے نور بنا دیتا ہے جس سے وہ یکبارگی معرفتِ الٰہی حاصل کر لیتا ہے، ہمیشہ اللہ کی نظر میں منظور رہتا ہے، مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں داخل ہو جاتا ہے، تکبر، خواہشاتِ نفسانی اور غرور سے نجات حاصل کر لیتا ہے، اٹھارہ ہزار عالموں میں مشہور ہو جاتا ہے اور بذریعہ ذکرِ مذکور اور الہام اللہ کے ساتھ مشغول رہتا ہے۔ اس کا باطن معمور اور وجود مغفور ہوتا ہے اور وہ اللہ کے ذوق و شوق میں مست اور استغفار میں مسرور رہتا ہے۔ وہ اسمِ اللہ ذات کے تفکر، تصور اور مشق مرقومِ وجودیہ کی تعلیم اور تلقین و ارشاد کرتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کے احوال اسے معلوم ہو جاتے ہیں۔ اسے اللہ تعالیٰ کی محبت، عشق اور معرفت، مراقبہ، مجلسِ محمدیؐ میں ملاقات کی توفیق، فنا فی اللہ ذات کا مشاہدہ، حضوری اور مقامات کی تحقیق حاصل ہو جاتی ہے۔ 

(جاری ہے)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں