مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani

Rate this post

مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani

(تصنیف ِ لطیف: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن)

قسط نمبر   3                                                                    باب اوّل ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

’’تذکرہ اولیائے جھنگ‘‘ کے مصنف بلال زبیری بھی صاحب ِ مناقب ِ سلطانی سے متفق نظر آتے ہیں‘ لکھتے ہیں:
 اس پاک خاتون (بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا) کا انتقال شاہ جہان کے آخری سالِ حکومت 1068ھ میں ہوا۔ آپ کا جسد قبرستان بیبیاں ملتان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
جب تذکرہ اولیائے جھنگ کے پہلے، دوسرے اور تیسرے ایڈیشن میں اس عبارت کی اشاعت پر بہت زیادہ تنقید اور اعتراضات ہوئے تو بلال زبیری صاحب نے چوتھے ایڈیشن میں اِن اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے لکھا :
حضرت سلطان العارفین سلطان محمد باھُوؒ کی والدہ محترمہ کے مزار کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا۔ میری تالیف میں اُن کا مدفن قبر ستان بیبیاں ملتان میں مذکور ہے مگر بعض بزرگوں نے اسے غلط بتایاہے۔ ان کی خدمت میں دست بستہ گذارش ہے کہ مزار کے متعلق واضح ترین سند کوئی نہیں ہے صرف کتاب مناقب ِ سلطانی سے ہی مزار کے مقام کا تعین ہو سکتا ہے۔ حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کے حالات کے تحت متذکرہ صدر کتاب کا پورا حوالہ موجود ہے جس سے غلط فہمی کا ازالہ ہو سکتا ہے۔(صفحہ 10۔اشاعتِ  چہارم)

اب ہم تحقیق کے مطابق اس اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ صاحب ِ مناقب ِ سلطانی نے بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کے مزار مبارک کی جگہ ملتان میں کیوں تحریر کی۔ پہلے وہ منطقی دلائل تحریر کیے جاتے ہیں جو ہر صاحب ِتصنیف نے اپنی تصنیف میں اس لیے تحریر کیے ہیں کہ ثابت کیا جاسکے کہ آپؒ کے والدین پاک کے مزارات وہی ہیں جو شور کوٹ میں ’’مزارات مائی باپ‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہیں نہ کہ ملتان میں ہیں:
1۔ سلطان حامدؒ مناقبِ سلطانی میں ہی تحریر کرتے ہیں کہ سلطان العارفین حضرت سلطان باھُوؒ کے والد کا انتقال تو بچپن میں ہی ہو گیا تھا لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا اس وقت بھی حیات تھیں جب سلطان باھوؒ کی عمر 40سال تھی یعنی 1078ھ تک سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  کی والدہ محترمہ بقید ِ حیات تھیں اور یہ اورنگ زیب کا دورِ حکومت ہے نہ کہ شاہ جہاں کا۔ پھر آپؒ جب سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی ؒ کی بیعت کے لیے دہلی تشریف لے گئے تو آپؒ کی والدہ محترمہ اس وقت بھی زندہ تھیں اور شور کوٹ میں ہی قیام پذیر تھیں۔

2۔ کوئی ایسی روایت موجود نہیں ہے کہ حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا انگہ سے شور کوٹ منتقل ہونے کے بعد سے لے کر اپنے شوہر کی حیات میں یا وصال کے بعد شور کوٹ سے باہر تشریف لے گئی ہوں۔

3۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ کے والد نے شور کوٹ میں ایک وسیع جاگیر چھوڑی تھی۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ تو اس طر ف توجہ نہیں دیتے تھے اِس لیے تمام جاگیر کی دیکھ بھال بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کی ہی ذمہ داری تھی ۔اس ذمہ داری کی وجہ سے آپ رحمتہ اللہ علیہا کو کبھی شور کوٹ سے باہر نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔

4۔ والدہ محترمہ کے وصال کے وقت سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒچالیس سال یا اس سے زائد عمر کے تھے اور بوقتِ وصال حیات بھی تھے اور موجود بھی تھے۔ انہوں نے یقینا اپنی والدہ محترمہ کو اپنے آبائی شہر اور اپنے والد محترم کے پہلو میں ہی دفن کیا ہوگا نہ کہ کسی دور دراز علاقہ میں لے گئے ہوں گے۔

مندرجہ بالا تمام دلائل یہ حقانیت ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ والدہ محترمہ سلطان باھوؒ کا مزار مبارک شور کوٹ میں ہی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قبرستان بیبیاں جو اَب ملتان شہر کے ریلوے سٹیشن کے جنوب میں واقع ہے اور بی بی پاک دامن یا پاک مائی کے قبرستان کے نام سے مشہور ہے اس میں ’’بی بی راستی‘‘ کا فیروزی رنگ کی کاشی کی خوبصورت اینٹوں کا تعمیر شدہ قدیم مزار مبارک موجود ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی والدہ محترمہ ’’بی بی راستی‘‘ رحمتہ اللہ علیہا شور کوٹ میں مدفون ہیں تو یہ ’’بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا ‘‘ کون ہیں جو یہاں مدفون ہیں؟

تحقیق کے مطابق حضرت بی بی راستی ۱؎ رحمتہ اللہ علیہا جو یہاں مدفون ہیں وہ فرغانہ کی شہزادی تھیں اور اپنے والد سلطان جمال الدین محمد الفرغانی کے ہمراہ سہروردی سلسلہ کے مشہور بزرگ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت کے لیے آئی تھیں۔

 سلطان جمال الدین محمدالفرغانی نے حضرت بہاؤالدین زکریاؒ کے دست ِ مبارک پر بیعت کر لی اور اُن کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔ اُن کی صاحبزادی شہزادی بی بی راستیؒ کی شادی حضرت بہاؤالدین زکریا رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے بڑے صاحبزادے حضرت صدر الدین عارف رحمتہ اللہ علیہ سے کردی اور عصمت مآب اور پاک دامن کا لقب عطا فرمایا۔آپؒ پاک مائی بی بی پاک دامن کے لقب سے مشہور ہوئیںاور انہی بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کے بطن مبارک سے حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح ؒکی ولادت باسعادت ہوئی۔ شہزادی بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کا وصال 695ھ میں ہوا اور قبر ستان بیبیاں میں دفن ہوئیں۔

ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی ’’پاکستان میں صوفیانہ تحریکیں‘‘ میں بی بی راستیؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
 حضرت رکن الدین ابو الفتح عظیم المرتبت پیرِ طریقت تھے……حضرت صدر الدین عارفؒ کے فرزند اور حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ کے پوتے تھے۔  آپؒ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی راستی تھا جو زہد و تقویٰ کی وجہ سے اپنے وقت کی رابعہ بصری کہلاتی تھیں۔ انہوں نے اپنے سسر حضرت بہاؤ الدین زکریا رحمتہ اللہ علیہ سے روحانی و باطنی تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ قرآنِ مجید کی تلاوت سے انہیں خاص شغف تھا۔ روزانہ کلامِ مجید ختم کرتی تھیں۔ (فصل پنجم صفحہ389)

قبرستان بیبیاں (قبرستان بی بی پاک دامن یا پاک مائی) میں مدفون بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا حضرت بہاؤالدین زکریا رحمتہ اللہ علیہ کی بہو، حضرت صدر الدین رحمتہ اللہ علیہ کی زوجہ محترمہ اور حضرت رکن الدین ابوالفتح رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ ہیں ۔

یہ سہو صاحبِ ’مناقبِ سلطانی‘ سلطان حامدؒصاحب سے کیونکر ہوا؟اس سلسلہ میں عرض ہے کہ مناقبِ سلطانی کی تصنیف کے دوران سلطان حامد ملتان تشریف لے گئے تھے اور بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کے مزار پر حاضری دی تھی جس کا ذکر انہوں نے مناقبِ سلطانی میں بھی فرمایا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ نام کی مماثلت کی وجہ سے اُن سے یہ سہو ہو گیا ہو۔ سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو ؒ کے مستند سوانح نگار اس پر متفق ہیں کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے والد اور والدہ محترمہ کے مزارات وہی ہیں جو شور کوٹ میں ’’مزارات مائی باپ‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔   

ولادت باسعادت

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17۔جنوری 1630ئ) بروز جمعرات بوقتِ فجر شاہجہان کے عہدِحکومت میں قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔ صاحبِ مناقبِ سلطانی کے بیان کے مطابق حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا جب انگہ (وادی سون سکیسر) سے شورکوٹ پہنچیں تو اُمید سے تھیں اور انہیں الہاماً و کشفاً معلوم ہو چکا تھا کہ یہ بچہ عارفین کا سلطان ہوگا اور اس کی ولادت وادی چناب میں ہوگی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہا چونکہ پیدا ہونے والے بچے کے مقام سے آگاہ تھیں اور آپ رحمتہ اللہ علیہا کو نام بھی بتادیا گیا تھا اس لیے بحکمِ خداوندی آپؒ کا نام ’’باھوؒ‘‘ رکھا گیا۔ آپؒ  خود فرماتے ہیں:

نام باھوؒ مادر باھوؒ نہاد
زانکہ باھوؒ دائمی با ھُو نہاد

 ترجمہ: باھوؒؒ کی ماں نے نام باھوؒ رکھا کیونکہ باھوؒ ہمیشہ ھوُ کے ساتھ رہا۔

آپؒ سے قبل تاریخ میں کسی بھی شخص کا نام باھوؒ نہیں ہے۔سلطان باھوؒ  اِسمِ ھوُ کے عین مظہر ہیں اور اپنی تمام کتب میں ہرجگہ اپنے آپ کو فقیرباھوؒ فنا فی ھوُ  کہہ کر ذکر فرماتے ہیں اور جابجا اپنی فنا اور بقا اسمِ ھوُ  میں بیان فرماتے ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں:

 اگر بائے بشریت حائل نبودے باھوؒ عین یا ھوُ است

ترجمہ: اگر بشریت کی با درمیان میں حائل نہ ہو تو باھو عین یا ھوُ ہے۔

صاحبِ مناقبِ سلطانی سلطان باھوؒ کا پورا نام’’سلطان باھوؒ‘‘ لکھتے ہیں اور آج کل کچھ مصنفین آپؒ کا نام محمد باھوؒ یا سلطان محمد باھوؒ بھی لکھ رہے ہیں حالانکہ آپؒ نے اپنی تمام تصانیف میں اپنا نام ’’باھو‘‘ تحریر فرمایا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
 باھوُ کی والدہ نے اس کا نام باھوُ(رحمتہ اللہ علیہ)اِس لیے رکھا کہ وہ ہر لمحہ ھوُ کے ساتھ رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
 صد آفرین ہو باھوُ (رحمتہ اللہ علیہ) کی والدہ پر۔ باھوُ (رحمتہ اللہ علیہ) جو بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کا بیٹا ہے ذکرِ  یا ھوُ میں مسرور رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

جہاں تک ’’سلطان‘‘ کے آپؒ کے نام کا حصہ ہونے کا تعلق ہے تو انسانِ کامل کے بارے میں شیخِ  اکبر محی الدین ابنِ عربیؒ  فرماتے ہیں ’’انسانِ کامل سے مراد قطبِ زماں ہے اور وہ اپنے وقت کا ’سلطان‘ ہے۔‘‘(شرح فصوص الحکم والایقان) 

میرے مرشد پاک سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا فرمان ہے ’’ذکرِ ھوُ سلطان الاذکار ہے اور جو ھوُ میں فنا ہو کر فنا فی ھوُ ہو جائے وہی ’سلطان‘ ہے۔‘‘  حضرت سخی سلطان باھوؒ تو سلطانوں (عارفین) کے سلطان ہیں یعنی سلطان العارفین ہیں اور مرتبہ آپؒ کا سلطان الفقر ہے اس لیے ’سلطان‘ آپؒ کے نام کا حصہ بن گیا۔ بعد میں بعض مصنفین اور محققین نے عقیدت کے طور پر’’محمد‘‘ آپؒ کے نام کے ساتھ لکھنا شروع کردیا۔عوام الناس آپؒ کو ’حق باھوؒ ‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ رسالہ روحی شریف میں آپؒ فرماتے ہیں:
 اَلْمُلَقَّبُ مِنَ  الْحَقِّ بِالْحَقِ
ترجمہ: حق کی طرف سے اُسے (باھوؒکو)  یہ لقب ملا ہے کہ وہ (باھوؒ) حق کے ساتھ ہے۔
یعنی بارگاہِ حق تعالیٰ سے آپؒ کو ’حق باھوؒ‘ کا لقب عطا ہوا ہے۔ اسی نسبت سے عوام الناس میں آپؒ ’حق باھوؒ ‘کے نام سے مشہور ہو گئے۔

آپؒ کا فیض بچپن سے جاری ہوگیا

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی آنکھوں میں بچپن سے ہی ازلی نور چمک رہا تھا اور پیشانی نورِحق سے منور تھی۔ یہ نورِ ازل زمانہ شیر خواری میں ہی ا پنے جوہر دکھانے لگا۔ آپؒ کی والدہ ماجدہ عبادت یا ذکر و تصور اِسم اللہ ذات میں محو ہوتیں تو اس یقین کے ساتھ کہ یہ معصوم بچہ ان کی عبادت میں حارج نہیں ہوگا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ عالم تھا کہ آپؒ بھی محبوبِ سبحانی سیدنا غوث الاعظمؓ کی طرح رمضان المبارک کے دنوں میں دودھ نہیں پیتے تھے۔ آپؒ کی شخصیت بچپن میں ہی اتنی پُرکشش تھی کہ جس پر نظر ڈالتے اس کی زندگی کو ہی بدل دیتے اور وہ خود بخود بغیر کسی ترغیب اورتبلیغ کے کلمہ شہادت پڑھ کردائرہ اسلام میں آ جاتا۔ یہ ایک عجیب و غریب صورتحال تھی جس سے غیر مسلم حد درجہ خائف ہوگئے۔ چنانچہ انہوں نے باہمی صلاح مشورے کے بعد آپؒ  کے والد ماجد حضرت بازید محمدؒ  سے درخواست کی کہ جب بھی آپؒ کا بچہ اکیلا یا کسی کے ساتھ گھر سے باہر نکلے تو براہِ مہربانی منادی فرما دیاکریں تاکہ ہم خود کو اس بچے کی نظر سے دور رکھ سکیں۔ پھر شور کوٹ کی فضائیں عجیب منظر دیکھتیں کہ جب بھی آپؒ کے باہرنکلنے کا اعلان ہوتا تو غیر مسلم اپنے گھروں، دکانوں اور فصلوں میں چھپ جاتے لیکن جس پر آپؒ کی نظر پڑ جاتی وہ فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتا۔ آپؒ کی یہ کرامت آخر عمر تک جاری رہی کہ جس ہندو پر بھی حضرت سخی سلطان باھوؒ کی نظر پڑی وہ مسلمان ہوگیا۔ ایک دفعہ آپؒ کی طبیعت بہت ناساز ہوگئی تو آپؒ کے حکم سے برہمن طبیب سے علاج کے لیے رابطہ کیا گیا۔ برہمن طبیب نے جواب دیا میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں ان کی نگاہ کے سامنے گیا تو مسلمان ہو جاؤں گا۔ ان کا قارورہ (وہ برتن جس میں پیشاب ڈال کر حکیم مرض کی تشخیص کرتے ہیں) یہاں بھیج دو۔ جب آپؒ کا قارورہ اس طبیب کے ہاں پہنچایا گیا تو طبیب اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگیا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ صاحبِ مناقبِ سلطانی نے قارورہ کا ذکر کیا ہے لیکن سینہ بہ سینہ روایات کے مطابق اور میرے مرشد پاک حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے فرمایا تھا کہ قارورہ کی بجائے آپؒ کا کرتا بھجوایا گیا تھا۔

اوائل عمری میں ہی آپؒ وارداتِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی میں مستغرق رہتے۔ ایک دفعہ آپؒ ایک راستہ میں لیٹے ہوئے تھے کہ ہندو سنیاسیوں کا ایک گروہ وہاں سے گزرا۔ ان میں سے ایک نے بطور حقارت پاؤں کی ٹھوکر سے آپؒ کو اٹھا کر کہا ’’ہمیں راستہ بتاؤ‘‘ آپؒ نے اٹھتے ہی فرمایا ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘۔ سنیاسیوں کا یہ گروہ آپؒ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی کلمہ طیبہ کی ایک ضرب اور ایک نگاہ سے کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ اس گروہ کا بعد میں اولیا اللہ میں شمار ہوا۔

حصولِ علمِ ظاہری

حضرت سخی سلطان باھُوؒ نے کسی قسم کا کتابی اور ظاہری علم حاصل نہیں کیا۔ آپؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور میرے پاس علم ِظاہر نہ تھا۔ ہمیں علمِ حضوری عطا کیا گیا ہے جس کی واردات و فتوحات سے ظاہر اور باطن میں اتنا وسیع علم نصیب ہوا جس کو لکھنے کے لیے کئی کتابیں درکار ہیں۔

آپؒ فرماتے ہیں:

گرچہ نیست ما را علمِ ظاہر
ز علمِ باطنی جاں گشتہ طاہر

 ترجمہ: اگرچہ ظاہری علم میں نے حاصل نہیں کیا تاہم علم ِ باطن حاصل کرکے میں پاک و طاہر ہوگیا اس لئے جملہ علوم میرے جسم میں سما گئے۔
 ہمیں مکاشفات اور تجلیاتِ انوارِ ذاتی کے سبب علم ِ ظاہری کے حصول کا موقع نہیں ملا اور نہ ہی ہمیں ظاہری ورد و وظائف کی فرصت ملی ہے۔
اس قدر استغراق کے باوجود آپؒ شریعتِ محمدیؐ اور سنتِ نبویؐ پر اس قدر ثابت قدم رہے کہ زندگی بھر آپؒ  سے ایک مستحب بھی فوت نہیں ہوا۔ آپؒ فرماتے ہیں:

باھوؒ این مراتب از شریعت یافتہ
پیشوائے خود شریعت ساختہ

 ترجمہ: باھوؒ نے یہ مراتب شریعت کی پیروی سے پائے اور اس نے شریعت کو ہی اپنا پیشوا بنایا۔ (کلید التوحید کلاں)

تلاشِ حق-بیعت

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ مادرزاد ولی تھے اور پھر علومِ باطنی کے حصول کے لئے والدہ محترمہ کا سایہ ہی کافی تھا کیونکہ حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا عارفہ کا ملہ تھیں -آپؒ فرماتے ہیں کہ میں تیس(30)سال تک مرشد کی تلاش میں سرگرداں رہا لیکن مجھے اپنے پائے کا مرشد نہیں مل سکا۔

ایک دن دیدارِ الٰہی میں مستغرق آپؒ شورکوٹ کے نواح میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور، صاحبِ حشمت اور بارعب سوار نمودار ہوا جس نے اپنائیت سے پکڑ کرآپؒ کو قریب کیا اور بڑے دلنشین انداز میں آگاہ کیا کہ میں علی ابن ابی طالب(رضی اللہ عنہٗ) ہوں۔ آپؒ نے مولا علی کرم اللہ وجہہ کو دیکھا تو قریب تھا کہ خود کو آپ رحمتہ اللہ علیہ پر نثار کردیتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپؒ پر توجہ مرکوز کی اور فرمایا ’’فرزند آج تم رسول اللہؐ کے دربار میں طلب کیے گئے ہو‘‘۔

پھر جیسے وقت تھم گیا ہر شے ساکت ہوگئی اور آپؒ نے ایک لمحے میں خود کو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پایا۔ اس وقت اس بارگاہِ عالیہ میں حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہٗ، حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ، حضرت عثمان  رضی اللہ عنہٗ اور تمام اہل ِبیت رضی اللہ عنہم حاضر تھے۔ آپؒ کو دیکھتے ہی پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ  نے مجلس سے ا ٹھ کر آپؒ سے ملاقات کی اور توجہ فرما کر رخصت ہوئے۔ بعدازاں حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہٗ اور حضرت عثمان  رضی اللہ عنہٗ بھی توجہ کے بعد مجلس سے رخصت ہوگئے تو مجلس میں صرف اہلِ بیتؓ اور رسولِ مقبولؐ ہی رہ گئے۔ آپؒ  فرماتے ہیں کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میری بیعت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد فرمائیں گے لیکن بظاہر خاموش تھے۔ مگر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا ’’میرے ہاتھ پکڑو‘‘ اور مجھے دونوں ہاتھوں سے بیعت فرمایا۔

آپؒ  فرماتے ہیں ’’جب آنحضرتؐ نے ایک مرتبہ کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ تلقین فرمایا تو درجات اور مقامات کا کوئی حجاب نہ رہا۔ چنانچہ اوّل و آخر یکساں ہوگیا۔ جب آنحضرتؐ  سے تلقین سے مشرف ہوا تو خاتونِ جنت سیدۃ النسا حضرت فاطمتہ زہراؓ  نے مجھے فرمایا’’ تو میرا فرزند ہے‘‘۔  

(جاری ہے)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں