چڑھ چناں تے کر رُشنائی Charh Channa Te Kar Roshnai

Rate this post

چڑھ چناں تے کر رُشنائی Charh Channa Te Kar Roshnai 

تحریر: محترمہ امامہ رشید سروری قادری

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو اپنی بے شمار نشانیوں سے مزین فرمایا ہے۔ دن کو سورج کی روشنی بخشی، رات کو چاند کا حسن عطا کیا اور ستاروں کو آسمان کی زینت بنایا، مگر ان تمام ظاہری روشنیوں سے بڑھ کر ایک نور ایسا بھی ہے جو نہ آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے بلکہ وہ انسان کے دل کو منور کرتا اور اسے اپنے ربّ کی معرفت عطا کرتا ہے۔

جب انسان اپنے باطن کی اصلاح کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی اُبھرتا ہے کہ آخر وہ روشنی کون سی ہے جس کے حصول کے لیے انبیا کرام علیہم السلام نے دعوتِ حق دی، اولیائے کاملین نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں؟ وہ کون سا نور ہے جس کے بغیر عبادت میں کیف پیدا نہیں ہوتا، علم دل پر اثر نہیں کرتا اور زندگی اپنی حقیقی روح سے محروم رہتی ہے؟

وہ نور جو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کے قلوب میں ودیعت فرماتا ہے وہ نورِ معرفت ہے۔ یہی نور مردہ دلوں کو حیات، بے چین روحوں کو سکون اور بھٹکے ہوئے انسانوں کو منزل عطا کرتا ہے۔ جب یہ نور کسی قلب میں جلوہ گر ہو جائے تو انسان کی فکر، کردار، اخلاق اور زندگی کا رُخ ہی بدل جاتا ہے کیونکہ اس کا تعلق دنیا سے زیادہ اپنے خالق سے مضبوط ہو جاتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
 اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (سورۃ النور۔ 35)
ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ (سورۃ الحدید۔ 28)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ، وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہارے لیے ایسا نور پیدا کر دے گا جس میں تم (دنیا و آخرت میں) چلا کرو گے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی اپنے ربّ سے نور کی دعا مانگی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے:
 اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا  وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا (صحیح البخاری 6316۔صحیح مسلم 1788)
ترجمہ: اے اللہ! میرے دل میں نور عطا فرما، میری آنکھوں میں نور عطا فرما، میرے کانوں میں نور عطا فرما۔

ایک حدیث ِمبارکہ میں آپؐ نے ارشاد فرمایا:
 بے شک اللہ نہ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے اور نہ صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم 6542)

ان آیاتِ قرآنی اور احادیث ِنبویؐ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کا اصل مقصد صرف ظاہری عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کے باطن کی اصلاح، قلب کی پاکیزگی اور معرفت ِالٰہی کا حصول ہے۔ یہی وہ عظیم مقصد تھا جسے انبیاکرام علیہم السلام نے اپنی دعوت کا محور بنایا اور بعد ازاں اولیا کاملین نے اسی پیغام کو ہر دور میں زندہ رکھا۔

اولیا کاملین کی تمام جدوجہد قرآن و سنت کی حقیقی روح کو عام کرنے کے لیے تھی۔ انہوں نے انسان کو نفرت سے محبت، تکبر سے عاجزی، غفلت سے ذکرِ الٰہی اور نفس کی غلامی سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلایا۔ ان کی خانقاہیں صرف عبادت گاہیں نہیں تھیں بلکہ ایسی روحانی درسگاہیں تھیں جہاں انسان کے ظاہر سے پہلے اس کے باطن کی اصلاح کی جاتی تھی۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے تقویٰ، اخلاص اور توکل کو روحانیت کی بنیاد قرار دیا، حضرت داتا گنج بخشؒ نے تصوف کو شریعت کی روح سے تعبیر کیا اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے محبت، خدمتِ خلق اور رواداری کو قربِ الٰہی کا ذریعہ بتایا۔ گویا تمام اولیائے کاملین کا پیغام ایک ہی تھا کہ اگر انسان اپنے دل کو نورِ الٰہی سے منور کر لے تو وہ خود بھی روشنی کا سرچشمہ بن جاتا ہے اور اس کا وجود معاشرے کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے۔

اسی سلسلۂ نور و ہدایت کی ایک درخشاں کڑی سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ ہیں جنہوں نے فقرِمحمدیؐ اور معرفتِ الٰہی کو نہایت سادہ مگر انتہائی مؤثر انداز میں اپنی تصانیف اور پنجابی ابیات کے ذریعے عام کیا۔ آپؒ کا ہر شعر محض شاعری نہیں بلکہ ایک روحانی درس اور دعوتِ معرفت ہے۔ انہی لازوال ابیات میں ایک مصرعہ ایسا بھی ہے جو صدیوں سے طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے:

چڑھ چناں تے کر رشنائی، ذکر کریندے تارے ھوُ

سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کا یہ مصرعہ محض ایک شعرکا اظہار نہیں بلکہ فقر و معرفت کی ایک مکمل روحانی دعوت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ بظاہر یہ چاند سے مخاطب معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں اس کا اشارہ اُس ہستی کی طرف ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہو کر انسانیت کے لیے ذریعۂ ہدایت بن جاتی ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں یہ مرشد کامل اکمل یا انسانِ کامل کی ذات ہے جس کے ذریعے طالبانِ مولیٰ کو قربِ الٰہی کی منزل نصیب ہوتی ہے۔ یہ گویا ایک روحانی التجا ہے کہ اے فقر کے چاند! طلوع ہو اور اپنی نگاہِ کامل سے اس جہان کو نورِ الٰہی سے منور کر دے۔

 آج انسان خواہشاتِ نفس، مادہ پرستی، ظلم اور غفلت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ ظاہری ترقی کے باوجود اس کا دل بے سکون اور روح پیاسی ہے۔ ایسے میں ایک کامل رہبر ہی وہ چراغ ثابت ہوتا ہے جو بھٹکے ہوئے قافلوں کو منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ نے ’’چاند‘‘ کا استعارہ نہایت حکمت سے اختیار فرمایا۔ چاند اپنی روشنی کا مالک نہیں ہوتا بلکہ سورج سے نور حاصل کرکے تاریک رات کو منور کرتا ہے۔ اسی طرح مرشد کامل بھی اپنی ذات سے نہیںبلکہ نورِ محمدی کے فیض سے طالبانِ مولیٰ کے قلوب کو منور کرتا ہے۔ اس کی نگاہِ کامل مردہ دلوں کو حیات، غافل کو ذکر، طالب کو معرفت اور عاشق کو اپنے محبوبِ حقیقی کے قرب سے آشنا کر دیتی ہے۔

یہ مصرعہ دراصل ہر اس طالبِ حق کے دل کی صدا ہے جو زمانے کی تاریکیوں میں ایک ایسے رہبر کا منتظر ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی پہچان عطاکرے۔ جب مرشد کامل کا نور جلوہ گر ہوتا ہے تو دلوں کے اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں، ذکرِ الٰہی کی لذت نصیب ہوتی ہے، نفس کی آلائشیں دور ہوتی ہیں اور انسان کی زندگی دنیا کی محبت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف مڑ جاتی ہے۔ یہی وہ روشنائی ہے جس کا ذکر حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنے اس لازوال بیت میں کیا ہے:

چڑھ چناں تے کر رشنائی، ذکر کریندے تارے ھوُ
گلیاں دے وِچ پھرن نمانے، لعلاندے ونجارے ھوُ
شالا مسافر کوئی نہ تھیوے، ککھ جنہاں توں بھارے ھوُ
تاڑی مار اُڈا ناں باھوؒ، اساں آپے اُڈن ہارے ھوُ

مفہوم: اے میرے فقر کے چاند! تو جلد طلوع ہوا اور نگاہ ِکامل سے اس دنیا کو جو ظلمت اور تاریکی میں ڈوب چکی ہے، نورِالٰہی سے منور کر دے۔ طالبانِ مولیٰ حق تعالیٰ کی طلب میں اس گمراہ دنیا میں بھٹک رہے ہیں اور تیرے جیسے ہادی کا انتظار کر رہے ہیں۔ تیرے منتظر یہ طالبانِ مولیٰ جو معرفتِ الٰہی کے خواص اور جوہر شناس ہیں، دربدر تیری تلاش اور جستجو میں پھر رہے ہیں۔ یہ اس دنیا میں مسافر ہیں اور حق تعالیٰ کی طلب میں عاجزی اور انکساری کی وجہ سے لوگوں میں بے قدرے ہو رہے ہیں۔ اے باھوؒ! یہ اہلِ دنیا ہم عالمِ ارواح کے باسیوں کو تنگ کر کے اس دنیا سے جانے پر مت مجبور کریں ہم تو پہلے ہی اس عالمِ فنا سے عالمِ بقا کو جانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن شریعت نے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

ایک اور بیت میں فرماتے ہیں:

چڑھ چناں تے کر رشنائی، تارے ذکر کریندے تیرا ھوُ
تیرے جیہے چن کئی سَے چڑھدے، سانوں سجناں باجھ ہنیرا ھوُ
جتھے چن اساڈا چڑھدا، اُوتھے قدر نہیں کجھ تیرا ھوُ
 جس دے کارن اساں جنم گوایا، باھوؒ یار ملے اک پھیرا ھوُ

مفہوم:اے فقر کے چاند (انسانِ کامل، فقیر کامل)! تو جلد طلوع (ظاہر) ہو کر اس ظلمت کدہ کو اللہ کے نور سے منور کر دے۔ طالبانِ مولیٰ اور مومنین تیرا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ سینکڑوں مصنوعی چاند تیرا روپ دھار کر طلوع ہو چکے ہیں اور اُمت کو دھوکہ دے چکے ہیں لیکن تیرے بغیر اے محبوب! دنیا ظلمت کدہ ہے۔ جہاں ہمارا چاند (محبوب) طلوع ہوگا وہاں دوسرے (مصنوعی) چاندوں کی روشنی جو اصل میں ظلمت ہے، ختم ہو جائے گی اور یہ جو دھو کہ باز راہنما بن کر امت کو دھوکہ دے رہے ہیں، بھاگ جائیں گے۔ اے باھوؒ! جس محبوبِ حقیقی کے لیے ہم نے ساری زندگی قربان کی ہے کاش! وہ ہمیں ایک بار مل جائے تو ہمارے سارے رنج اور سارے غم دور ہو جائیں۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

اسی روحانی پیغام کی تجدید اور اس کی عملی اشاعت موجودہ دور میں سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے جس فقرِمحمدیؐ کو اپنی تعلیمات کا محور بنایا، سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اسی امانت کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عام کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ ایسے وقت میں جب مادہ پرستی، نفسانیت اور ظاہری نمود و نمائش نے انسان کو اس کی اصل حقیقت سے دور کر دیا تھا، آپ نے امتِ مسلمہ کو دوبارہ اپنے باطن کی طرف متوجہ کیا اور یہ شعور عطا کیا کہ اللہ تعالیٰ کی قربت کا راستہ ظاہری رسوم سے زیادہ دل کی پاکیزگی، اخلاص اور معرفتِ الٰہی سے وابستہ ہے۔

آپ کی دعوت کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کرنا ہے۔ اسی لیے آپ نے ذکرو تصوراسمِ اللہ ذات، مرشد کامل اکمل کی صحبت، تزکیۂ نفس اور عشقِ رسولؐ کو فقرِ محمدیؐ کی اساس قرار دیتے ہوئے ہر طالبِ مولیٰ کے لیے ان روحانی نعمتوں کے دروازے کھولے۔ آپ کی تعلیمات اس حقیقت کو اُجاگر کرتی ہیں کہ جب تک دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زندہ نہ ہو اس وقت تک عبادات کی حقیقی لذت اور معرفتِ الٰہی کی منزل حاصل نہیں ہو سکتی۔

آپ مدظلہ الاقدس نے صرف روحانی تربیت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ تصنیف و تحقیق، جدید ذرائع ابلاغ اور تحریک دعوتِ فقر کے ذریعے اس پیغام کو دنیا کے ہر خطے تک پہنچانے کی مسلسل جدوجہد کی جو بلاتعطل ہر لمحہ مزید شدت سے جاری و ساری ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی متعدد کتب نے طالبانِ مولیٰ کے لیے فقر و تصوف کے پیچیدہ مضامین کو نہایت سادہ، مدلل اور عام فہم انداز میں پیش کیا جس کے باعث نئی نسل بھی اس روحانی ورثے سے مستفید ہو رہی ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس کی دعوت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں شریعت اور طریقت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا گیا بلکہ دونوں کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ آپ ہمیشہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ حقیقی فقر وہی ہے جو سنتِ نبویؐ کی کامل پیروی، اخلاصِ نیت، خدمتِ خلق اور معرفتِ الٰہی کے ساتھ وابستہ ہو۔ یہی وہ تعلیم ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح کرتی ہے۔

اگر موجودہ دور کے حالات پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے بے شمار مادی سہولتیں حاصل کر لی ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا دل سکون سے محروم ہے۔ علم میں اضافہ ہوا ہے مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے، وسائل بڑھ گئے ہیں مگر تعلقات کمزور ہو رہے ہیں، ترقی ہوئی ہے مگر روحانی اقدار ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں فقرِ محمدیؐ کی تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑتااور زندگی کا حقیقی مقصد عطا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تمام تر جدوجہد کا مرکز انسان کے دل کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے آباد کرنا اور اسے حضور نبی اکرمؐ کی کامل اتباع کی طرف راغب کرنا ہے۔ جب انسان اپنے باطن کی اصلاح کر لیتا ہے تو اس کے اخلاق، کردار، معاملات اور معاشرتی روّیے خود بخود سنورنے لگتے ہیں اور یہی ایک اصلاحی و فلاحی معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔

آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اسی باطنی بیداری کی ہے۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے کرے، ذکرِ الٰہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، قرآن و سنت کو اپنا رہنماسمجھے اور اولیائے کاملین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے تو معاشرے سے نفرت، بے چینی اور اخلاقی زوال کایقینی خاتمہ ممکن ہے۔

استفادہ کتب:
۱۔ابیاتِ باھوؒ کامل: تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۲۔شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۳۔حقیقتِ اسمِ اللہ ذات: ایضاً
۴۔مرشد کامل اکمل: ایضاً
۵۔نور الہدیٰ کلاں: تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۶۔عین الفقر: ایضاً

 

اپنا تبصرہ بھیجیں