حسد کی تباہ کاریاں| Hasad Ki Tabah Kariyan

 حسد کی تباہ کاریاں

تحریر: محمد یوسف اکبر سروری قادری۔لاہور

لغوی معنی:حسد کا لفظ حسدل سے بنا ہے جس کے لغوی معنی چیچڑی (جوں کے مشابہ قدرے لمبا کیڑا) ہے۔ جس طرح چیچڑی انسان کے جسم سے لپٹ کر اس کا خون چوستی رہتی ہے بالکل اسی طرح حسد بھی حاسد کے دل سے لپٹ کر گویا اس کا خون چوستا رہتا ہے اسی لیے اسے حسد کہا جاتا ہے۔ (لسان العرب)
اصطلاحی معنی: امام راغب اصفہانی حسد کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں ’’جس شخص کے پاس نعمت ہو، اس کی اس نعمت کے زوال کی تمنا کرنے کو حسد کہتے ہیں۔ (بحوالہ المفردات)

حسد کی تعریف:

ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب البصری الماوردیؒ نے حسد کی تعریف یوں بیان کی ہے ’’حسد کی حقیقت یہ ہے کہ انسان محترم شخصیات کی خوبیوں، اوصاف اور نعمتوں پر شدید افسوس میں مبتلا ہوجائے یا ان کی مخالفت میں مشغول ہو جائے۔‘‘ حسد تو کسی سے بھی ہو سکتا ہے لیکن اس شخص سے حسد ہو جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جس سے میل جول زیادہ ہو یا وہ اس کا ہم پیشہ یا ہم پلہ ہو۔ یا پھر اس سے قریبی تعلق ہو، بعض لوگ مال اور اقتدار میں کسی کی فضیلت کی بنا پر بھی حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا پھر کسی کی ترقی و عروج کی بنا پر بھی حسد کرتے ہیں۔ حسد بہت بری بلا ہے، اس سے کینہ و بغض پیدا ہوتا ہے اور معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے۔

حسد قرآن کریم کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ حسد کی ممانعت کرتے ہوئے قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
انہوں نے اپنی جانوں کا کیا برا سودا کیا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر رہے ہیں محض اس حسد میں کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (وحی) نازل فرماتا ہے پس وہ غضب در غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے۔ (البقرہ۔90)
مندرجہ بالا آیت کریمہ میں یہودیوں کے حسد کا ذکر ہے۔ یہود فقط اپنے حسد کی بنا پر ایمان سے محروم رہے کیونکہ یہودیوں کی خواہش تھی  کہ ختم ِنبوت کا منصب بنی اسرائیل میں سے ہی کسی کو ملتا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ بنی اسماعیل کو نبوت سے سر فراز کر دیا گیا اور وہ  محروم رہے تو وہ بوجہ حسد منکر ہو گئے اور انواع و اقسام کے غضب  میں مبتلا ہوئے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے بازپرس ہوگی۔ (بنی اسرائیل۔36)
علامہ سید محمود آلوسی بغدادی (متوفی 1270ھ) تفسیر روح المعانی میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ’’یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آدمی کے دل کے افعال پر بھی پکڑ ہو گی مثال کے طور پرکسی گناہ کا پکا ارادہ کر لینا یا دل کا مختلف امراضِ باطنی مثلا حسد، کینہ، عجب (خود پسندی) اور غیر شرعی و غیر اخلاقی کاموں میں مبتلا یا مشغول ہو جانا۔ اگرچہ علما کرام نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ دل میں کسی گناہ کے بارے سوچنے پر پکڑ نہ ہو گی جبکہ اس کے کرنے کا پختہ ارادہ  نہ رکھتا ہو۔ (تفسیر روح المعانی)

حسداحادیث مبارکہ کی روشنی میں

حضرت ابو ہریرہ ؓروایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فر مایا ’’تم حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد) 
حضرت انسؓ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی حسد کرو نہ ایک دوسرے سے دشمنی رکھو اور اللہ تعالیٰ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ہادیٔ عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ لوگوں میں افضل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: زبان کا سچا اور مخموم القلب مسلمان۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ! یہ تو ہم جانتے ہیں کہ زبان کا سچا کون ہے لیکن مخموم القلب سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا، ہر قسم کے گناہ،سرکشی، دھوکہ دہی اور حسد سے بچنے والے کو مخموم القلب کہتے ہیں۔ (سنن ابن ِماجہ) 
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے دل میں ایمان اور حسد اکٹھے جمع نہیں ہو سکتے۔ (سنن نسائی)

حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری طرف پچھلی قوموں کی برائیاں حسد اور بغض سرایت کر آئیں گی جو مونڈ ڈالیں گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈ دیں گی بلکہ یہ دین کو مونڈ دیں گی۔ (سنن ترمذی۔2510)

حسد کے متعلق صوفیائے کرام کا نکتہ نظر

پیران پیر دستگیر سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ حسد کے متعلق فرماتے ہیں ’’اے تقدیر الٰہی اور تقدیر ازلی پر ایمان لانے والے! میں تجھے پڑوسی کے کھانے پینے، نکاح، مکان اور اس کی دولت مندی اور عیش کرنے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور عطا کردہ حصوں پر حاسد کیوں دیکھتا ہوں۔‘‘ (شرح فتوح الغیب، مطبوعہ فیڈرل بی ایریا کراچی)

حضرت امام الغزالی ؒحسد کے متعلق یوں فرماتے ہیں:
 حسد اس لیے بہت بڑا گناہ ہے کہ حسد کرنے والا گویا اللہ تعالیٰ پر اعتراض کررہا ہے کہ فلاں آدمی اس نعمت کے قابل نہیں تھا، اس کو یہ نعمت کیوں دی؟ آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اللہ تعالیٰ پر کسی قسم کا اعتراض کرنا کتنا بڑا گناہ ہو گا۔ (احیاء علوم)
حسد کے باعث حاسد کا دل اندھا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ (منہاج العابدین)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ حسد کے متعلق فرماتے ہیں:
 حسد کرنے والے کا دل جب دنیا کی ظلمت میں گھر کر خطراتِ شیطانی اور ہوائے نفسانی کی آماجگاہ بن چکا ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہیں پڑتی اور جس دل پر اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہ پڑے وہ سیاہ و گمراہ ہو کر حرص و حسد اور کبر سے بھر جاتا ہے۔ (عین الفقر)
آپؒ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
 ضروری ہے کہ تو نفس و شیطان و دنیا کو بھلا کر اپنے قلب اور اپنی روح کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اسم اللہ ذات میں اس طرح غرق کردے کہ ہمہ وقت عشق و محبت ِالٰہی اور اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ کرتا رہے اور تیرے وجود میں حرص و حسد کبر و ہوائے نفسانی اور شہوت کا نام و نشان باقی نہ رہے۔ (عین الفقر)

سب سے پہلا حاسد

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد سب سے پہلا حسد کرنے والا حاسد ابلیس ہے جس نے حضرت آدم علیہ السلام کے اللہ کے نائب اور خلیفہ بننے پر حسد کیا اور یہ حاسدین کا سر غنہ ہے۔جبکہ اولادِ آدم ؑمیں حسد کی آگ میں جلنے والا سب سے پہلا شخص قابیل ہے جس نے حسد کی بنا پر اپنے ہی بھائی ہابیل کو قتل کیا۔ قرآن میں اس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے فرمایا:
(اے نبی مکرم) آپ ان لوگوں کو آدم ؑ کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کی خبر سنائیں جو بالکل سچی ہے۔ جب دونوں نے (اللہ کے حضور) قربانی پیش کی سو ان میں سے ایک (ہابیل) کی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) سے قبول نہ کی گئی تو اس (قابیل) نے (ہابیل سے حسداً اور انتقامًا) کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا۔ اس (ہابیل) نے (جواباً) کہا بے شک اللہ پرہیزگاروں سے ہی (نیاز) قبول فرماتا ہے۔ (سورۃ المائدہ۔27)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حسد نفسیاتی مرض ہے اور اسی حسد کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کے ساتھ خونی رشتہ ہونے کے باوجود خونی رشتے کا لحاظ کیے بغیر اپنے سگے بھائی کو قتل کر ڈالا۔ 

حسد کے درجے:

حسد کے تین درجے ہیں۔
پہلا درجہ: حسد کا پہلا درجہ یہ ہے کہ حاسد دوسروں کی نعمت کا زوال چاہتا ہے کہ خواہ مجھے نہ ملے مگر اس کے پاس بھی نہ رہے۔ اس قسم کا حسد کرنامسلمانوں کے حق میں گناہِ کبیرہ ہے جبکہ کافر اور فاسق کے حق میں حسد کرنا جائز ہے مثلا کوئی مالدار اپنے مال سے کفر یا ظلم کر رہا ہے، اس کے مال و سلطنت کا اس لیے زوال چاہنا کہ دنیا اس کے ظلم و کفر سے محفوظ ہو جائے‘ جائز ہے۔

دوسرا درجہ: حاسد دوسروں کی نعمت خود لینا چاہتا ہے کہ فلاں کا باغ یا اس کی جائیداد میرے قبضہ میں آجائے یا اس کی ریاست پر میں قابض ہو جاؤں۔ یہ حسد بھی مسلمانوں کے حق میں حرام ہے۔

تیسرا درجہ: حاسد جس نعمت کے حاصل کرنے سے خود تو عاجز ہوتا ہے اس لیے خواہش کرتا ہے کہ دوسرے کے پاس بھی نہ رہے تاکہ وہ مجھ سے بڑھ نہ جائے۔ اسلام اس طرح کے حسد سے بھی منع کرتا ہے۔

حسد اک شر ہے
حسد کو شر قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
 وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَد (الفلق ۔5) 
ترجمہ: (اے نبی کہہ دیجیے) کہ میں پناہ مانگتا ہوں حسد کرنے والے کے حسد سے جب وہ حسد کرے۔
اس آیت مباکہ میں اللہ تعالیٰ نے حسد کرنے والوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔
مفسرین کرام نے حسد کو جادو سے بھی خطرناک اور بد تر جرم قرار دیا ہے کیونکہ سورۃ الفلق میں خود خالق ِکائنات نے دوسرے شرور کے ساتھ حسد کا ذکرخصوصیت سے فرمایا ہے۔
آج کل مسلمان معاشرے میں یہ برائی تیزی کے ساتھ سرائیت کرتی جا رہی ہے اور بہت سے افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک مرض ہے ایسا خطرناک کہ جس میں حا سد محسود کو قتل کرنے جیسے انتہائی مذموم اقدام سے بھی گریز نہیں کرتا۔ حسد معاشرے میں بغض وعداوت اور نفرت کے بیج بوتا ہے جس سے معاشرہ بدامنی کا شکار ہو جاتا ہے۔

حسد کا علاج

حسد کے متعلق تمام ضروری عوامل کو قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور اولیا کاملین کے نقطہ نظر سے اجمالی طریق پر بیان کر دیا گیا ہے۔  حسد ایک نفسانی و نفسیاتی مرض ہے جس کا علاج خود ممکن نہیں۔ اس کے علاج کے لیے مرشد کامل اکمل صاحب ِمسمّٰی کی نگاہِ کامل اور صحبت کی ضرورت ہے جو تزکیہ نفس کر کے اس نفسانی مرض سے نجات عطا کرے۔ اب مرحلہ در پیش آتا ہے تلاشِ مرشد کامل اکمل کا تو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس موجودہ دور کے کامل انسان اور مرشد کامل اکمل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس خانقاہ سلطان العاشقین رنگیل پور شریف میں تشریف فر ما ہوتے ہیں۔ آپ کی بارگاہ سے لاکھوں مرد و خواتین فیضیاب ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ متلاشیانِ حق یہاں پر تشریف لاتے اور آپ کے دست ِاقدس پر بیعت ہو کر اپنی تشنگی کی تسکین کا جام نوش کر کے لوٹتے ہیں۔ آپ کی بار گاہِ عالی شان سے جام جہاں نما سے مستفیض ہوا جا سکتا ہے اور مخموم القلب بنا جا سکتا ہے۔

دل کوعشق و ایماں کی تجلی سے اگر بھرنا ہو
اسے سلطان العاشقین کے حوالے کردو!
بھلائی پاؤ گے، ہر اک شر سے حفاظت ہو گی
کاسہ فکر اسی مرد کامل کے زیر قدم دھر دو!

استفادہ کتب:
تفسیر روح المعانی
شرح فتوح الغیب، مطبوعہ فیڈرل بی ایریا کراچی
عین الفقر تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ
احیاء العلوم تصنیف ابوحامد امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ

 

32 تبصرے “حسد کی تباہ کاریاں| Hasad Ki Tabah Kariyan

  1. حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے دل میں ایمان اور حسد اکٹھے جمع نہیں ہو سکتے۔ (سنن نسائی)

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #hasad

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #hasad

  4. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #hasad

  5. MashaAllah
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #hasad

اپنا تبصرہ بھیجیں