توکل اور انسانی کوشش | Tawakal or Koshish

توکل اور انسانی کوشش

تحریر:فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور

 

توکل سے مراد اللہ کی ذات پاک پر بھروسا کرنا یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔ درحقیقت توکل اللہ اور انسان کے درمیان ایک ایسا انوکھا احساس ہے جس کا احاطہ بھروسا اور اعتماد جیسے الفاظ نہیں کر سکتے البتہ اس کی جامعیت کو سمجھنے کے لیے اسے بھروسا کہا جا سکتا ہے کیونکہ بھروسا کسی پر بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اللہ پر توکل خاص جذبے کا نام ہے اور توکل کا لفظ صرف اللہ کی ذات کے لیے ہی مخصوص ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جس سے اللہ اور بندے کا رشتہ قوی ہوجاتا ہے۔ جس شخص کا اللہ پر توکل مضبوطی سے قائم ہو جاتا ہے اس کے لیے ہر معاملے میں اللہ کافی ہو جاتا ہے۔ سورۃ الطلاق میں ہے:
 ’’جس نے اللہ پر توکل کیا اس کے لیے اللہ کافی ہے ۔‘‘
سورۃ آلِ عمران میں ہے:
 ’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکے گا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ایسا ہے جو تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو تو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔‘‘  

اللہ کے ساتھ توکل کے رشتے میں جڑنے کے لیے انسانی ہمت، محنت، کوشش اور لگن کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اللہ پر یقین اور توکل رکھنے سے ہر گز یہ مراد نہیں ہے کہ بندہ کوشش و محنت کو ترک کر دے اور نہ یہ کہ بندہ صرف اپنی محنت و ہمت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر معاملے میں اسی کو کافی سمجھ بیٹھے۔ انسانی کوشش اور اللہ پر توکل دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو ’توکل‘ یہ ہے کہ ہر کام کے آغاز میںاللہ پاک سے اس کام کو کرنے کی توفیق و ہمت کو طلب کیا جائے کیونکہ اللہ کی عطا کردہ توفیق اور ہمت کے بغیر بندہ حقیر اور کمتر ہے۔ جب وہ کام مکمل ہو جائے اور اس میں فتح و کامرانی بھی نصیب ہو جائے تو اس فتح کو محض اپنی محنت سے ہرگز منسوب نہ کیا جائے بلکہ یہی دلیل رکھی جائے کہ یہ کامیابی اللہ کی عطا ہے اسی نے مجھے اس کام کو سر انجام دینے کی ہمت عطا کی اور کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے جس سے چاہتا ہے کام لے لیتا ہے چاہے وہ کام دینی ہو یا دنیوی۔ اس صورت میں کہ محنت کے باوجوداس کام میں ناکامی سے دوچار ہونا پڑے تو ناامید ہوئے بغیر اسے اللہ کی رضا سمجھنا چاہیے کیونکہ بندے کا کام تو کوشش کرنا ہے کامیابی دینا یا نہ دینا یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کیونکہ تقدیر اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے اور تدبیر بندے کی کاوش۔

 سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ فرماتے ہیں: 
 توکل فقر کی بنیاد ہے اللہ پاک سے عشق کا تقاضا ہے کہ اپناہر کام اللہ کے سپرد کر دیا جائے ظاہری طور پر تو کوشش کی جائے لیکن باطنی طور پر اللہ پر توکل کر کے طالب اپنی مرضی سے دستبردار ہو جائے۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

جدوجہد کائنات کا اصول ہے۔ ہمت کرنے والا ہی پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر فتح و کامرانی کے جھنڈے گاڑتا ہے، کسان کی محنت سے ہی کھیت میں فصل اگتی ہے، دن کا اجالا رات کی تاریکی کو چاک کر کے حسین صبح کی کرنوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے، محنت کرنے والا طالبعلم ہی ہر میدان میں کامیاب ہوتا ہے، ہر سائنسی ایجاد کے پیچھے جدوجہد و عمل کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔
علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب فرمایا ہے ’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘۔ ایمان کا اصل امتحان بھی اسی طرح لیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ پر توکل قائم رکھتے ہوئے مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنا لے چاہے معاملہ رزق حاصل کرنے کا ہو یا امتحان میں کامیابی کا، مقصد جنگی تیاری ہو یا دینی و دنیوی فتح  حاصل کرنے کا، اللہ کی ذات پر توکل کا اظہار اسی صورت میں ممکن ہے کہ بندہ باطن میں خود کو اللہ کے سپرد کر دے اور ظاہری طور پر ہمہ تن مصروفِ عمل رہے نہ کہ یہ بندہ ہاتھ پر ہاتھ دھرا بیٹھا رہے کہ اللہ کی جانب سے اس کا معاملہ از خود حل ہو جائے گا یا پھر یہ کہ کوشش کر نے کی بجائے بس تسبیح کے دانے ہی پھیرتا رہے۔ ایسے شخص کو متوکل کیسے کہا جا سکتا وہ تو بس سست و کاہل ہی ہوا۔ (انسانی کوشش اور تقدیر ) 

اس ضمن میں دو نظریاتی فرقے وجود میں آتے ہیں اوّل مذہبِ قدر دوم مذہبِ جبر۔ 

مذہب ِقدر :

یہ وہ فرقہ ہے جو کہتا ہے اللہ نے بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ اچھے اور بُرے اعمال کا فیصلہ کرکے اپنے لیے درست راہ کا انتخاب کر سکتا ہے۔ وہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور نہیں ہے بلکہ آزاد اورخود مختار ہے۔ ان کے لیے انسانی کوشش اور آزادی ہی ان کے مذہب کا محور و مرکز ہے۔ (مسئلہ جبر و قدر)

مذہب ِجبر:

اس فرقہ والوں کا کہنا ہے کہ بندہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہے۔ تمام فیصلے کیے جا چکے ہیں کوئی بھی شے اللہ کے حکم کے بغیر بال برابر بھی حرکت نہیں کر سکتی۔ ان کے مذہب میں تقدیر کے سامنے خود کو بے بس جان کر انسانی کوشش کو ترک کرنے کا نظریہ ملتا ہے۔ (مسئلہ جبر وقدر)

اگر ان دونوں فرقوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو قدریہ مذہب میں توکل کا فقدان نظر آتا ہے اور انسانی کوشش اور فیصلہ سازی کو ہی مذہب کی بنیاد قرار دیا گیاہے اس کے برعکس جبریہ مسلک میں انسان کو تقدیر کے ہاتھوں مجبور کہہ کر انسانی کوشش کو ترک کرنے کا رویہ نظر آتا ہے۔ ایک مسلک انسانی کوشش کو بنیاد بناتا ہے اور دوسرا کوشش وہمت کو ترک کر کے تقدیر کے سامنے جھک جانے کو اپنا مذہب قرار دیتا ہے۔ان دونوں مسالک کا نظریہ قابل ِقبول نہیں کیونکہ ایک مسلمان کی زندگی میں ایمان کی بنیاد توکل ہے اور انسانی کوشش اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل ہے۔ علاوہ ازیں یہ دونوں مذاہب انتہا پسندیت کو ابھارتے ہیں جبکہ دین ِاسلام میانہ روی کا دین ہے۔ جس طرح انسانی وجود کے دو رخ ہیں ایک ظاہر اور دوسرا باطن، اسی طرح ایک مسلمان کے وجود کے دو رُخ ہیں باطن’’ توکل‘‘ سے عبارت ہے اور ظاہر ’’کوشش و ہمت‘‘ کا نام ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔ (سورہ یونس آیت نمبر 84)

انسان کو تقدیر کے ہاتھوں مجبور کہہ کر کوشش و ہمت کو ترک کر دینا ، اپنا حال تبدیل نہ کرنا، گناہوں سے باز نہ آنا، یہ سب نفس کی حیلہ گری و فتنہ ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر طاہر القادری اپنی انگریزی کتاب ’’Islam and Freedom of human will‘‘ میں لکھتے ہیں: 

Taftazani also discusses the concept of creation of human acts :

”It  is  said  that  the  disbeliever  is  bound  to  disbelieve  and  other  wrong  doers (are bound) to  commit  wrong,  then  how  are  they legally  supposed  to  adopt faith  and  submission (to Allah). We  will  say  in  reply  that  Allah  already  knows  that  they  will  adopt  ‘Kufr’  and  ‘Fisq’ on  the  basis  of  their  own  free choice.  Therefore,  there  is  no  determinism  because  God  already  knew  that they   would  adopt   the   wrong  path  by  their  own  free  will  and  intension,  without being  forced  or  motivated  by  any  prior decision. (pg 37) 

 مراد یہ ہے کہ بندہ صرف یہ سوچ کر کوشش و ہمت کو ترک نہیں کر سکتا کہ اللہ نے اس کے لیے یہی برائی کرنا لکھی تھی سو ایسا ہی ہوا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بے شک اللہ علیم و بصیر ہے وہ ازل سے جانتا ہے کہ کونسا بندہ کونسی راہ اپنائے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ صحیح و غلط کے مابین فیصلہ کر سکے۔ اللہ علیم و بصیر ہے اس سے مراد یہاں یہ ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ اگر اس بندے کو فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے تو وہ کونسی راہ کو اپنائے گا۔ 

 روزِ قیامت جزا اور سزا کا فیصلہ بھی انسانی کوشش و عمل کی بنا پر کیا جائے گا۔ جو شخص نیک اعمال کرے گا وہ فتح و کامرانی سے سرخرو ہو گا اور جو شخص برائی کی راہ کو اپنائے گا اسے اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ 

حضرت علی ؓ کا قول مبارک ہے ’’ایک شخص نے حضرت علیؓ سے تقدیر کے متعلق پوچھا کہ انسان کتنا مجبور ہے اور کتنا آزاد؟ اس پرآپؓ نے فرمایا ’’اپنی ایک ٹانگ اٹھاؤ ‘‘ اس شخص نے اٹھا لی۔ آپؓ نے فرمایا ’’انسان اتنا آزاد ہے۔‘‘ پھراس شخص کو ارشاد فرمایا ’’اپنی دوسری ٹانگ بھی اٹھاؤ‘‘ (جو کہ ناممکن تھا)۔ آپؓ نے فرمایا ’’انسان اتنا مجبور ہے۔ ‘‘

اس قول مبارک سے دو نکتے واضح ہوتے ہیں اوّل دینِ اسلام میانہ روی اور اعتدال کا دین ہے۔ دوم ‘تقدیر میں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے کیا لکھا ہے اس پر سوچنے کے بجائے اس بات پر اپنی تمام تر توانائی خرچ کی جائے جس کا اختیار اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اور وہ ہے اچھی نیت رکھ کرکوشش و ہمت کرنا۔ اب اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو کن معاملات کو اپنا مقصد ِ حیات بنانا چاہیے اور اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
 تمام ناسوتی معاملات (یعنی رزق ،شادی بیاہ، اولاد ، دولت) ان کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیاہے ۔ انسان کو چاہیے ان معاملات کو اپنا مقصد ِ حیات بنانے کی بجائے معرفت اور دیدارِ الٰہی کو اپنا اوّلین مقصد بنائے اور درحقیقت اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو کوشش کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور یہی انسان کی اصل آزمائش ہے جو شخص اس مقصد میں کامیاب ہو گیا وہ دین و آخرت دونوں میں کامیاب ہو گیا ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
’’بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے پیدا کیا اوراس کو سنتا دیکھتا بنایا۔‘‘ (سورہ الدھر ۔آیت ۲)

یہاں سنتا اور دیکھتا سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت اور عقل و فہم سے نوازا ہے تاکہ وہ صحیح و غلط راہ کے مابین تفریق کر سکے اور آزمائش میں کامیاب ہو سکے۔

اس مضمون کا مقصد صرف انسانی کوشش اور اس کی افادیت پر بات کرنا نہیں بلکہ دینِ اسلام کے خوبصورت اور متوازن پہلو کی جانب آگاہی فراہم کرنا ہے جس کا نام ’توکل اور انسانی کوشش‘ ہے۔ انسانی شخصیت کے اندر توازن یا میانہ روی کا پہلو اسی طرح پروان چڑھ سکتا ہے جب بندہ باطن میں توکل اور ظاہر میں کوشش و ہمت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے اور یہی دین ِاسلام کی اصل روح ہے۔ توکل سورج ہے تو انسانی کوشش سورج سے نمودار ہوتی کرنیں، توکل پھول ہے تو  انسانی کوشش خوشبو، توکل بصیرت ہے تو انسانی کوشش چشم۔ روح اگر توکل ہے تو جسم انسانی کوشش۔ 

توکل اور کوشش کے مفہوم کو اس مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک شخص بیماری کی حالت میں طبیب یا ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، اس سے اپنا علاج کرواتا ہے، اس کی تجویز کردہ دوا کا باقاعدگی سے استعمال کرتا ہے، خوراک کا خاص خیال رکھتا ہے تو یہ اس شخص کی بیماری کے خلاف لڑنے کی ہمت و کوشش کہلائے گی اور توکل یہ ہوگا کہ وہ باطن میں اس چیز پر اعتقاد رکھے کہ شفا دینا یا نہ دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میرے بس میں تو صرف کوشش کرنا ہے۔ اگر بندہ توکل کر کے بیماری کی حالت میں بیٹھا رہے اور اس بیماری سے لڑنے کی کوشش نہ کرے تو ایسے شخص کو متوکل کیسے کہا جا سکتا ہے!

توکل اور رزق

بحیثیت بندۂ  خدا اس حقیقت ِ ازلی پر صدقِ دل سے ایمان ہونا چاہیے کہ ہر شخص کا رازق وہی ہے جس نے بندے کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ وہی بندوں کا رازق ہے جو ایک بچے کو ماں کے پیٹ میں رزق مہیا کرتا ہے اور وہ رازق ربّ کریم ہے جو پتھر میں موجود ایک کیڑے کو بھی بھوکا نہیں رہنے دیتا۔ چرند، پرند، حیوانات و نباتات سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہے لیکن صد افسوس ان پر جو بے یقینی کا شکار ہو کر رزق کی خاطر مسبب الاسباب کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے گمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسا (توکل) رکھے گاوہ اس کی کفالت کرے گا، خدا جو چاہتا ہے وہ کر لیتا ہے۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ (طلاق۔ 3)   

رزق کی خاطر انسان کو کوشش کرنے کا ضرور کہا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے‘‘ لیکن رزق حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے میں بہت فرق ہے۔ خواہشاتِ نفس کا غلام بن جانا اور حلال کمائی کی خاطر تگ و د و کرنا مختلف عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) آپ نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشات کو اِلٰہ (معبود )بنا لیا ہے۔ (الجاثیہ۔23)   

انسان کی زندگی کا مقصد بس پیٹ بھرنا نہیں یا روزی روٹی کی خاطر ہر دم پریشان رہنا نہیں ہے۔ صبح کا کھانا کھا لینے کے بعد دوپہر کے کھانے کی فکر میں کمربستہ رہنا، جب رات ہوئی تو اگلے دن کی روزی کی فکر میں مشغول ہو جانا اور اسی کو مقصد ِ حیات بنا لینا توکل اِلی اللہ کے برعکس ہے۔

حضرت ابو درداؓء سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’رزق بندے کو اس طرح تلاش کرتا ہے جیسے اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے‘‘۔ 

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اسی طرح توکل کرو جیسے توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں پرندوں کی طرح روزی دی جائے گی کہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔‘‘ (ابن ِ ماجہ)   

پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؓ  نے فرمایا :
 تو اپنے رزق کے بارے میں فکر نہ کر کیونکہ رزق کو جتنا تو تلاش کرتا ہے اس سے زیادہ رزق تجھے تلاش کرتا ہے جب تجھے آج کے دن کا رزق مل گیا تو کل آنے والے دن کے رزق کی فکر نہ کر۔ جس طرح تو گزشتہ دن کو چھوڑگیا کہ وہ دن گزر گیا، آنے والے دن کا تجھے معلوم نہیں کہ آتا ہے یا نہیں، اس لیے تو آج کے دن میں مشغول رہ۔ (الفتح الربانی مجلس  17)         

روزی معاش کی فکر میں حلال و حرام کی تمیز کو بھول جانا یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ جبکہ اسلام نے ہر معاملے میں بنی نوع انسان کو توکل اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ پاک نے ہر ایک شخص کو دوسرے بندے کے لیے رزق کا وسیلہ بنا یا ہے مثلاً والد کو بچوں اور بیوی کے رزق کا وسیلہ بنایا ہے، ایک ٹھیکیدار کو کئی مزدوروں کے رزق کا وسیلہ بنایا ہے غرض مال و متاع یا صاحب ِ حیثیت شخص کو غریبوں کی روزی روٹی کا وسیلہ بنایا ہے۔ اس بات پر اترانا یا اپنے آپ کو دوسروں سے اس لیے برتر جاننا کہ میری وجہ سے کسی اور کو رزق مل رہا ہے‘ غرور و تکبر کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر بندہ رزق کے معاملے میں کسی دوسرے سے امید باندھ لیتا ہے کہ مجھے رزق دینے والا فلاں شخص یا فلاں مخصوص ادارہ ہے اور اسی کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تو یہ شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ بندہ اس بات پر اللہ کا شکر بجا لائے کہ اللہ نے اسے کسی دوسرے کے رزق کا وسیلہ بنایا ہے، اسی نے اسے توفیق عطا فرمائی ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ کوئی شخص یا بندہ رازق کیسے ہو سکتا ہے؟ صرف ربّ تعالیٰ غفوررحیم ہی ہے جو رزق عطا کرنے پر قادر ہے۔ جو شخص جوانی میں اس بات پر اعتقاد رکھے کہ میرا ربّ میرا رازق ہے تو ایسے شخص کو بڑھاپے میں کسی چیز کا کیا خوف و ڈر ہو گا۔ جو پوری زندگی اپنے زورِ بازو پر اتراتا رہا ہو یا دوسروں کے رزق کا وسیلہ بن کر انہیں طعنے دیتا ہو ایسے شخص کا بڑھاپا کیسا ہو گا اس کا اندازہ آج کے موجودہ حالات میں بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ 

سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا اس کے متعلق فرمان ہے:
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’ملعون ہے وہ شخص جس کا بھروسا (توکل) اپنی جیسی مخلوق پر ہو‘‘۔ کثرت کے ساتھ اس دنیا میں لوگ ہیں جو اس لعنت میں شامل ہیں۔ مخلوق میں ایک آدھ ہی ایسا ہو گا جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کیا اس نے مضبوط رسی کو پکڑ لیا اور جس نے اپنی جیسی مخلوق پر بھروسا کیا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص مٹھی کو بند کرے اور ہاتھ کو کھولے تو اس کے ہاتھ میں کچھ نظر نہ آئے۔ (الفتح الربانی مجلس 45)

عوام اور خواص کا رزق :

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
 متوکل طالب روزی معاش کی فکر نہیں کرتا۔ عام لوگوں کا رزق کوشش و جدوجہد کے نتیجے میں ملتا ہے لیکن خواص کا رزق اللہ تعالیٰ مہیا کرتا ہے۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :
 عوام کا رزق کسب و اعمال لے آتا ہے اور خواص کا رزق معرفت ِ ذاتِ حق لم یزال و لا زوال لے آتا ہے ۔ متوکل آدمی روزی معاش کی فکر میں نہیں پڑتا اور نہ ہی وہ ربیع و خریف کی فصل کا انتظار کرتا ہے (کیونکہ وہ جانتا ہے ) روزِ ازل جب رزق لکھا جا چکا تو نوکِ قلم ٹوٹ گئی تھی۔ مردہ دل آدمی کا رزق حرص ہے اور حرص کا پیٹ ہی نہیں اس لیے حریص آدمی کسی حال میں بھی مال سے سیر نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ غلط طریق پر رہتا ہے۔ اس کے برعکس عارف ہر وقت استغراقِ حق کی حالت میں وصالِ مطلق کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور ان کا رزق ہر وقت ان کے تعاقب میں سرگرداں اور پریشان رہتا ہے۔ اس حقیقت کو بھلا یہ بے توکل، بے معرفت، بے عمل، بے شعور، بے مذہب، جاہل،ناشائستہ لوگ کیا جانیں! چنانچہ گوبر کے کیڑے کا رزق گوبر ہے سو وہ اسی میں خوش رہتا ہے، عطار کا رزق عطر ہے اور وہ اس سے معطر رہتا ہے۔ جو آدمی طلب ِ الٰہی میں محو ہو جاتا ہے رزق اس کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

اس قول میں تین طرح کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے اوّل عام لوگوں کا جو رزق حاصل کرنے کی کوشش و ہمت کرتے ہیں، دوم مردہ دل لوگوں کا جن کا رزق حرص ہے اور ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا، سوم متوکل عارف کا جو روزی معاش کی فکر میں نہیں رہتا بلکہ رزق خود اس کے تعاقب میں سرگرداں رہتا ہے۔ یہ گرو ہ فقرائے کاملین کا ہے۔ جس طرح حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بعثت ِ نبوت کے بعد تجارت کو چھوڑ کر اللہ کے دین کو بلند کرنے میں ہمہ تن مصروفِ عمل رہتے تھے یہی مثال فقرائے کاملین کی ہے، وہ روزی و فکرِ معاش میں پریشان نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں لیکن عام لوگوں کے لیے یہ مرتبہ نہیں ہے یہ خواص کا مرتبہ ہے۔ یہاں یہ بات قابل ِ غور ہے کہ فقرائے کاملین اگرچہ روزی معاش کی فکر میں نہیں رہتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کوشش و ہمت کو ترک کر دیتے ہیں بلکہ وہ اپنی تمام تر توانائی اور قوت کو دین ِحق کی سر بلندی میں صرف کر دیتے ہیں۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒفرماتے ہیں:
 سارا جہاں دل و جان سے اسبا ب کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور بہت ہی کم لوگ ہیں جن کی نظر مسبب الاسباب پر ہوتی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
 سن ! اے جانِ عزیز ! میں تجھ سے مخاطب ہوں کہ خدا سے برتر کوئی شے نہیں ہے۔ مخلوق رزق کو تلاش کرتی ہے اور فقرا رازق کو تلاش کرتے ہیں۔ مخلوق کی نظر سیم و زر پر رہتی ہے اور فقرا کی نظر اپنے مولیٰ قادرِ اکبر پر رہتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’جو آدمی اللہ کی محبت میں مرا وہ شہید کی موت مرا‘‘۔ طالب ِ مولیٰ شہید ہے اور طالب ِ دنیا طلب ِ مولیٰ سے بے نصیب ہے۔ دونوں جہانوں میں طلب ِمولیٰ جیسی پیاری و برتر چیز اور کوئی نہیں۔ (محک الفقر کلاں)
 قسمت بھی چار قسم کی ہے ۔ فقرا کی قسمت یہ ہے کہ وہ جو کچھ کھاتے پیتے ہیں اس سے ان کے وجود میں معرفت ِ الٰہی کا نور پیدا ہوتا ہے، ان کا رزق توکل کی راہ سے آتا ہے۔ توکل اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جس ذریعہ سے بھی رزق پہنچاتا ہے وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ رزق کسب سے آتا ہے، بعض حصولِ رزق کے لیے علم پڑھتے ہیں، بعض ظلم و تعدی سے غریبوں سے چھین کر رزق حاصل کرتے ہیں۔ الغرض فقر ہی ایسی دولت ہے کہ جس میں سعادت و عزت و افتخار کے مراتب پائے جاتے ہیں۔ فقر کے مراتبِ عظمیٰ اللہ تعالیٰ اس صاحبِ عظمت کو عطا فرماتا ہے جو اس سے یگانہ ہو جاتا ہے، بیگانے تو فقر کا منہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ (محک الفقر کلاں) 

توکل کا پودا باطن میں مرشد ِ کامل کی نگرانی اور تصورِ اسم ِ اللہ ذات کے نور سے پروان چڑھتا ہے جو آہستہ آہستہ پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جس سے بالآخر انسان کا ظاہر اللہ کی رضا کے عین مطابق ہو جاتا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق کو اٹھا کر دیکھ لیا جائے تو توکل اور انسانی جدوجہد یا تقدیر کے مسئلے کو لے کر طویل بحث و مباحثہ موجود ہے۔ لیکن ایک سچے طالب ِ مولیٰ کو چاہیے کہ وہ بحث میں الجھنے کے بجائے توکل کی راہ اختیار کرے۔ 

حضرت سلطان باھُوؒ اس ضمن میں فرماتے ہیں:
 اللہ کی ماہیت کو سمجھتے سمجھتے عقل کے ہزاراں ہزار قافلے سنگسار ہوگئے لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ (رسالہ روحی شریف) 

یعنی ایک مومن اور سچے طالب ِمولیٰ کو چاہیے کہ وہ فلسفیانہ بحث میں الجھنے کی بجائے اپنی نظر جانب ِحق رکھے اور اپنی کوشش و محنت پریقین کرنے کے بجائے اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھے۔ مرشد کامل بھی طالب کی تربیت اسی انداز میں فرماتا ہے کہ اسے توکل پر راضی رہنا سکھا دیتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توکل اور توحید کو جڑواں بھائی قرار دیا ہے۔ توحید کیا ہے؟ توحید اللہ کی ذات ہے یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ توکل الی اللہ ہے ۔ 

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطا ن محمد اصغر علی ؒ فرماتے ہیں:
 متوکل طالب ِ مولیٰ پر شیطا ن کا زور نہیں چلتا وہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسا کرتا ہے جس سے اللہ کی مدد شامل ِ حال ہوتی ہے۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

حضرت سخی سلطان باھوؒ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں :

دلیلاں چھوڑ وجودوں، ہو ہشیار فقیرا ھُو

بنھ توکل پنچھی اُڈدے، پلے خرچ نہ زیرا ھُو

روز روزی اُڈ کھان ہمیشہ، نہیں کردے نال ذخیرا ھُو

مولا خرچ پہنچاوے باھُوؒ، جو پتھر وچ کیڑا ھُو

استفادہ کتب
الفتح الربانی تصنیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
کلید التوحید کلاں تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
محک الفقر کلاں    ایضاً
رسالہ روحی شریف  ایضاً
شمس الفقرا تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
مجتبیٰ آخر زمانی    ایضاً
سلطان العاشقین ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
مسئلہ جبر و قدر مصنف سید ابو الاعلیٰ مودودی
“Islam and Freedom of human will” by Dr. Tahir ul Qadri

 

37 تبصرے “توکل اور انسانی کوشش | Tawakal or Koshish

  1. متوکل طالب ِ مولیٰ پر شیطا ن کا زور نہیں چلتا وہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسا کرتا ہے جس سے اللہ کی مدد شامل ِ حال ہوتی ہے۔ (مجتبیٰ آخر زمانی) subhanallah

  2. MashaAllah
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #tawakal #kohshish

  3. ماشااللہ
    توکل سے مراد اللہ کی ذات پاک پر بھروسا کرنا یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔

  4. اللہ تعالٰی ہمیں بھی اللہ کی ذات پر توکل کرنے کی اور طالبِ مولی بننے کی توفیق عطا فرمائے! (آمین)

  5. توکل کا پودا باطن میں مرشد ِ کامل کی نگرانی اور تصورِ اسم ِ اللہ ذات کے نور سے پروان چڑھتا ہے جو آہستہ آہستہ پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جس سے بالآخر انسان کا ظاہر اللہ کی رضا کے عین مطابق ہو جاتا ہے۔

  6. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #tawakal #kohshish

  7. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #tawakal #kohshish

  8. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #tawakal #kohshish

  9. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #tawakal #kohshish

  10. ماشااللہ
    اللہ پاک ہمیں توکل کے ساتھ ساتھ کوشش کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے
    آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں