شانِ اولیا اللہ | Shan e Auliya

شانِ اولیا اللہ

تحریر: محترمہ فاطمہ برہان سروری قادری (لاہور)

اسلام فطرتِ دین کا نام ہے، اسلام قربِ الٰہی میں سرشار رہنے کا نام ہے، اسلام رازِ الٰہی پانے کا نام ہے، اسلام حقیقتِ خودی سے لبریز ہو کر سراغِ زندگی پانے کا نام ہے، اسلام دیدارِ الٰہی کا متمنی رہنے کا نام ہے، اسلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے والہانہ محبت رکھنے کا نام ہے، اسلام حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آل و اصحاب سے عقیدت و محبت رکھنے کا نام ہے، اسلام ‘ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھیوں، متقیوں اور اولیا اللہ سے وفا و قربانی و جانثاری کا جذبہ رکھنے کا نام ہے۔اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ غیر اللہ کی نفی کر کے خود کو عشق کی بھٹی میں جلایا جائے، عشق کی سیج دل میں سجائی جائے، عشق کی خوشبوسے با وضو رہا جائے اورنمازِ عشق ادا کی جائے۔ عشق ہے کیا؟ آدابِ عشق کیا ہیں؟ آدابِ عشق سکھانے والے بھی اولیا اللہ ہیں اور من میں عشق کا پودا لگاکر پروان چڑھانے والے بھی اولیا اللہ ہی ہیں۔ مولانا رومؒ اس کے متعلق فرماتے ہیں :

ہر کہ خواہی ہمنشینی با خدا

او نشیند صحبتی با اولیا

ترجمہ:جو کوئی اللہ تعالیٰ کی قربت چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اللہ والوں کی قربت اختیا ر کرے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں خود ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتاہے جو ہر دم یادِ الٰہی میں کمربستہ رہتے ہیں۔ جن کے صبح وشام ذکرِ الٰہی کی تسبیح میں گزرتے ہیں جن کی روح کی خوراک دیدارِ الٰہی ہوتی ہے، جن کا باطن عشقِ الٰہی کے شعلوں سے منور رہتا ہے، جن کا سوناجاگنا،اٹھنا بیٹھنا، بولنا، کھانا پینا سب حق ہوتا ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(اے میرے بندے!) آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کریں جو صبح شام اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں، اس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں، (اسکی دید کے متمنی اور اس کا مکھڑا تکنے کے آرزومند ہیں) آپ کی (محبت و توجہ کی) نگاہیں ان سے نہ ہٹیں۔ کیا (آپ ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتے ہیں اور آپ اس شخص کی اطاعت نہ کریں جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے زیادہ گزر گیا ہے۔ (سورۃالکہف ۔ 28)

موجودہ دور میں روحانیت کا فقدان

دین سے روحانیت کے پہلو کے ختم ہونے کی سب سے بڑی وجہ مادیت پرستی اور بد عقیدگی ہے۔ مادیت پرستی سے مراد باطن کو چھوڑ کر ظاہری اعمال کو ہی راہِ نجات سمجھنا ہے، حور و قصور، جنتی طعام و میوہ جات کی خواہش کو منز لِ مقصود سمجھنا اور دیدار ورضائے الٰہی کی طلب کودل سے نکال دینا، ظاہری سماعت و بصارت پر یقین رکھنا اور بصیرت کے عنوان کو نظر انداز کر دینا ہے۔ ظاہری کان جو کچھ سنتے ہیں،آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں ‘سب کا تعلق ظاہرسے ہے۔ لیکن انسان کا وجود’’ جسم و روح‘‘ دونوں کا مرکب ہے۔ روح بھی قوتِ سماعت و بصیرت رکھتی ہے ، طلب رکھتی ہے، منزل چاہتی ہے اور سب سے بڑ ھ کر مالکِ حقیقی کا دیدار چاہتی ہے۔ یہاں روحانیت سے مراد باطنی سفر ہے وہ سفر جس میں روح عالم ِ ناسوت سے ترقی حاصل کر کے عالم ِلاھوت تک جا پہنچتی ہے، یہاں باطن سے مراد اللہ والوں سے لَو لگانا ہے، ان کے در کی غلامی اختیار کرنا ہے، فقیروںاور اولیا اللہ سے عقیدت و محبت کا جذبہ رکھنا ہے۔ روحانیت کا موضوع چھیڑا جائے تو سب سے پہلی تنقید اولیا اللہ و فقیروں سے روحانی فیوض و برکت حاصل کرنے سے متعلق ہوتی ہے۔وہ تنقیدیا سوالات درج ذیل ہیں :

۱) گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے کی بجائے اولیا اللہ کے در سے وابستگی اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ 

۲)  اولیا اللہ سے محبت و عقیدت رکھنا شرک کے زمرے میں آتا ہے؟

۳)  اولیا اللہ کے در پر دعا مانگنا کیسا عمل ہے؟

۴)  موجودہ دور نام نہاد فقیر وں سے بھرا ہوا ہے جن کا مقصد محض عوام سے پیسے بٹورنا ہے۔ ایسے وقت میں کسی فقیر پرکس طرح یقین کیا جائے؟

ولیٔ کامل کے در سے وابستگی

ذہن کو سب سے زیادہ پراگندہ (confuse)کرنے والا سوال یہی ہے کہ اولیا اللہ اور صوفیا کو اللہ اور بندے کے مابین واسطہ بنانے کا ازروئے شریعت کیا جواز ہے؟اس سوال کا جواب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تو خود اپنے نیک بندوں کو لوگوں کی ہدایت اوراپنے تک پہنچنے کا وسیلہ بنایا ہے۔ ازل سے اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے لوگوں کو راہِ ہدایت کا راستہ دکھانے کے لیے کرۂ ارض پر نبی اوررسول مبعوث کرتا رہا ہے۔ بغیر وسیلے کے اللہ کی معرفت ممکن ہوتی تو وہ اپنے پیغمبر وں کو مبعوث نہ فرماتا ، وحی کی حاجت بھی نہ رہتی۔ اب جب نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے تو یہ فریضۂ حق سر انجام دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اولیا اللہ کو مامور فرمایا ہے اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری و ساری رہے گا۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قل ھو اللّٰہ احد (اے محبوب آپ ؐ فرما دیجیے اللہ ایک ہے)۔ یعنی اللہ براہِ راست لوگوں سے مخاطب نہیں ہو رہا بلکہ اپنے محبوبؐ کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے وسیلہ بنا رہا ہے۔ پھر جابجا قرآن میں نہ صرف اپنے محبوب کو وسیلہ بنا تا ہے بلکہ اپنے نبی کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیتا ہے ۔ وسیلہ بنانا قرآن سے ثابت ہے بغیر وسیلہ بنا ئے از خود اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونا یا اس تک پہنچنا یا اس کی معرفت حاصل کرنا ممکن نہیں۔ (شانِ اولیا اللہ)

سورۃ المائدہ کی آیت 35میں اللہ تعالیٰ وسیلے کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو اور اسکی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔‘‘ وسیلہ پکڑنے کو اگر دوسرے الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس سے مراد ’’بیعت ‘‘ کرنا بھی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی حیاتِ مبارکہ میں اپنے دستِ مبارک سے لوگوں کو بیعت فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد بیعت کا یہ سلسلہ مسلمانوں کے خلیفہ اوّل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے جاری رہا ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اس کے متعلق فرمایا ’’جب تک میں اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت کرنا‘‘۔ اسی طرح جب حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے خلافت سنبھالی تو لوگوں نے ان کے دست ِاقدس پر بیعت کی۔‘‘(بیعت کی اہمیت و ضرورت)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا لوگوں کو یہ ارشاد فرمانا کہ اگر میں اللہ اور اس کے رسولؐ  کی اطاعت چھوڑ دوں تو تم بھی میری اطاعت چھوڑ دینا بلاشبہ اس ارشادِ باری تعالیٰ کی روشنی میں تھا جس میں اللہ پاک فرما رہا ہے: ’’اور تو اس شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے‘‘۔ (سورۃالکہف ۔28)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ان خلفائے راشدین کے فیض کاتسلسل ان کی حیاتِ مبارکہ میں ان کی خلافت کے آغاز سے لیکر آج تک جاری ہے۔‘‘ (بیعت کی اہمیت و ضرورت)

مندرجہ ذیل قرآنی آیات و احادیث مبارکہ سے اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے اور بیعت کرنے کا حکم ملتا ہے: 
 اس کی اتباع کروجس نے میری جانب رجوع کیا۔ (سورہ لقمان۔15)

ہر قوم کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کو مبعوث فرمایا اور وہ لوگوں کو اللہ کی اتباع کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ وہ حق کا روشن مینار تھے ان کی جانب رجوع کرنے والا درحقیقت حق کی جانب رجوع کر تا تھا۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے جبکہ اس آیت میں حق والوں کی جانب رجوع کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہر قوم کو راہِ ہدایت کی ترغیب دینے کے لیے حق والے موجود ہوں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کے لیے کوئی نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو جہالت اور کفر و شرک کے باعث دنیا ختم ہو چکی ہوتی۔ دنیا تو قائم ہی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی بدولت ہے۔ حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں ’’ان ارواحِ مقدسہ کی برکت و حرمت سے ہی دونوں جہاں قائم ہیں۔‘‘ انہی کے صدقے اتنے گناہ کرنے کے باوجود ہم پر اللہ کی جانب سے کوئی بڑا عذاب نازل نہیں ہوتا۔ وہ اللہ والے اللہ کے نیک و محبوب بندے یعنی اولیا اللہ ہیں اور درحقیقت مذکورہ بالا آیت میں ان ہی کی جانب رجوع کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ 

  اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اور اسکی جو تم میں سے اولی الامر ہو۔ (سورۃ النسائ۔59)
یہاں پر اولی الامر سے مراد ولیٔ کامل، فقیرِ کامل، مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ ہے جو مظہرِ  ذاتِ حق تعالیٰ اور اپنے دور کا امام ہوتا ہے۔
  وہ دن (یاد کریں) جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے امام (پیشوا، مرشد) کے ساتھ بلائیں گے۔ (سورہ بنی اسرائیل ۔71)
متعدد احادیثِ مبارکہ میں بھی کسی راہبر و راہنما، مرشد کامل اکمل سے نسبت قائم کرنے اور بیعت کے متعلق ترغیب دی گئی ہے۔ 
  پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔
  اس شخص کا دین ہی نہیں جس کا شیخ (مرشد) نہیں ۔
  جس کا مرشد نہیں اسکا مرشدشیطان ہے ۔
  جو شخص اس حالت میں مرا کہ اسکی گردن میں کسی مرشد کامل کی بیعت نہیں وہ جہالت کی موت مرا۔
  شیخ (مرشد کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسا کہ ایک نبی اپنی امت میں ۔
  جس نے اپنے زمانے کے امام کو ادراکِ قلبی سے دریافت نہیں کیا پس وہ جہالت کی موت مرے گا ۔ 
  اللہ والوں کے پاس بیٹھنے والا شقی نہیں ہو سکتا ۔ (مشکوٰۃ شریف)

حاصلِ بحث: سیدنا غوث الاعظم ؓ تمام ولیوں میں سب سے اعلیٰ و ارفع مقام رکھتے ہیں۔  جب سلک و سلوک کی منازل طے کرنے کے لیے انہیں اپنے مرشد حضرت ابو سعید مبارک مخزومیؒ کی بیعت اور صحبت کی ضرورت تھی تو ہم جیسے گناہگار کیسے اس بات کا ادراک کر سکتے ہیں کہ بغیر کسی مرشد ِ کامل کا ہا تھ تھامے معرفت کا سفر طے کر سکتے ہیں ۔

کیااولیا اللہ سے محبت و عقیدت کا جذبہ رکھنا یا ان کے دربار یامحافل میں حاضر ہونا 

شرک کے زمرے میں آتا ہے ؟

جی نہیں! اولیا اللہ سے محبت و عقیدت کا جذبہ رکھنا یا ان کے دربار یا محافل میں حاضر ہونا شرک کے زمرے میں نہیں آتا البتہ غیر اللہ کو شریک ِخدا کرنا شرک کہلاتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں کفار ومشرکین کے لیے    مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ( یعنی غیر اللہ )کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اولیا اللہ کے لیے   مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (غیر خدا)کا لفظ استعمال کرنا کلامِ الٰہی کی رو سے جائز نہیں۔ کفار و مشرکین کے لیے  مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے وہ کہ وہ اللہ کی ذات میں شرک کرتے تھے۔ (عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور)

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
  وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْدُوْنِہٖ لاَ یَسْتَطِعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (سورہ اعراف۔198)
ترجمہ: اور جن (بتوں) کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے پر کوئی قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہی اپنے آپ کی مدد کر سکتے ہیں ۔
وَلاَ  َتسُبُّواالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمِ (الانعام۔108)
ترجمہ: اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں۔ پھر وہ لوگ (بھی جواباََ) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔

مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا لفظ غیر خدا کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ اولیا للہ کے لیے یہ لفظ کیسے استعمال ہو سکتا ہے جبکہ وہ تو اللہ کے دوست اور محبوب بندے ہیں۔ زمین میں چلتے پھرتے مظہرِ خدا ہوتے ہیں۔ اللہ نے خود قرآنِ کریم میں ان کی شان بیان کی ہے۔  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
  بیشک تمہارا (حقیقی مددگاراور) دوست تو اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اللہ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں۔ (سورہ المائدۃ ۔55)

  اور اہل ِایمان مرد اور اہل ِایمان عورتیں ایک دوسرے کے مددگار اور رفیق ہیں۔ وہ معرفت کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ عنقریب رحم فرمائے گا بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔ (سورہ توبہ۔71)

 لیکن واضح رہے اولیا اللہ کو لائقِ عبادت سمجھنا شرک ہے۔ یہ اصول ذہن نشین رہے کہ قرآن حکیم کی جن آیات میں عبادت و الوہیت اور پوجنے کا ذکر ہو وہاں انبیا و اولیا اللہ اور ملائکہ و مقربین ’’مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ‘‘  میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ عبادت فقط اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہے اور استحقاقِ عبادت کے لیے ماسویٰ اللہ ہر شے غیر ہے۔ (عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور)

 جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
  انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو ربّ بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو (بھی)حالانکہ انہیں بجز اس کے (کوئی) حکم نہیں دیاگیاتھاکہ وہ اکیلے ایک (ہی) معبود کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ (سورہ توبہ۔31)

کیاانبیا و اولیا اللہ کے مزار 

پر حاضری دینا درست ہے؟

قبورِصالحین پر حاضری دینا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معمول رہا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر طاہر القادری اپنی کتاب عقیدۂ زیارتِ قبور میں لکھتے ہیں: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بنفس ِنفیس شہدا و صالحین کی قبور پر تشریف لے جاکر دعا فرمائی اور آپؐ کی اتباع میں حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کا یہی معمول رہا۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ اولیا کی قبور پر جانا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ آئمہ حدیث و تفسیر امام عبد الرزاق، امام طبری، امام سیوطی اور امام ابن ِکثیر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معمول بیان کیاکہ آپؐ ہر سال شہداکی قبورپر تشریف لے جاتے۔ امام عبدالرزاق نے بیان کیا ہے کہ حضرت محمد بن ابراہیم التیمی سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سال کے آغاز میں شہدا کی قبروں پر تشریف لاتے اور فرماتے’’تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے صلہ میں آخرت کا گھر کیا خوب ہے۔‘‘ راوی نے کہا حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ؓ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

امام شافعیؒ کا امام ِ اعظمؒ کے مزار پر حاضری کا معمول

خطیب بغدادی نقل کرتے ہیں کہ امام شافعیؒ، امام ابوحنیفہؒ (متوفی ۱۵۰ھ) کے مزار کی برکت کے بارے میں خود اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’میں امام ابوحنیفہ (رحمتہ اللہ علیہ) کی ذات سے برکت حاصل کرتا ہوں اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لیے آتا ہوں۔ جب مجھے کوئی ضرورت یا مشکل پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز پڑھ کر ان کی قبر پر آتا ہوں اور ان کے پاس (کھڑے ہو کر) حاجت بر آوری کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ پس میں وہاں سے نہیں ہٹتا یہاں تک کہ (قبر کی برکت کے سبب) میری حاجت پوری ہو چکی ہوتی ہے۔‘‘ (عقیدۂ زیارت قبور)
سبحان اللہ !اگر غور کیا جائے تو اس ایمان افروز واقعہ سے ہمیں انتہائی اہم سبق سیکھنے کو ملتا ہے، اول اولیا اللہ کے مزار پر جانا مقبول عمل ہے اور دوم اگر کسی ولی اللہ سے سچی عقیدت رکھی جائے تو وہ اس دنیا سے ظاہری طور پر رخصت ہو جانے کے بعد بھی اپنے عقیدت مندوں کی مدد فرماتے ہیں بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ان سے مدد طلب کی جائے۔ 

کیااولیا اللہ کو حاجت روا  کہنا شرک نہیں؟ 

سب سے پہلے تو یہ وضاحت ہو جائے کہ اس معاملے میں شرک اس طرح ہو گا کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ مخلوق بھی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر بنفسہٖ نفع و ضرر کی مالک ہے تو یہ عقیدہ یقینا شرک ہے۔ اور اس کے علاوہ اگر اولیا اللہ کی بارگاہ میں دعا اس نیت سے مانگی جائے کہ وہ دعابمعنی عبادت ہو تو وہ بھی شرک ہے جیسا کہ مشرکین و کفار نے عبادت کے لیے بت بنائے ہوئے تھے اور وہ انہی سے اپنی مشکلات کے حل کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ اگرکوئی شخص انبیا و اولیا اللہ کی بارگاہ میں دعا بمعنی عبادت کی نیت سے حاضر ہوتا ہے تو یہ بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ عبادت کے لائق تو صرف اللہ کی ہی ذات ہے اس میں کسی قسم کے شرک کی گنجائش نہیں۔ لیکن جہاں بات اولیا اللہ کو حاجت روا  یا مشکل کشاکہنے کی ہو تو یاد رہے کہ قرآن و حدیث کی رو سے ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے مجازاً حاجت روا اور مشکل روا ہو سکتا ہے، مجازی و عرفی معنوں میں ایسا کہہ دینا شرک نہیں کیونکہ حقیقی حاجت روا، کارساز تو اللہ تعالیٰ کو ہی مانا اور سمجھا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیا و اولیا اللہ و صلحاکے وسیلے سے دعا کرنا مسنون ہے جس کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے۔ ’’اور اس (کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو۔‘‘ (سورہ مائدہ۔35) (بحوالہ عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور)

اس مفہوم کوڈاکٹرطاہر القادری مزید تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: جب ہم انبیا و اولیا اللہ سے استعانت و استغاثہ کی بات کرتے ہیں تو کبھی بھی انہیں اللہ کے مقابلے میں نہیں لاتے ۔ بعض لوگ جن آیات کا حوالہ دے کر شرک کا الزام لگاتے ہیں ان کا سیاق و سباق دیکھنے سے اس بات کا صاف پتا چلتا ہے کہ یہ آیات کفار و مشرکین کے لیے نازل ہوئی ہیں اور ان کا انبیا علیہم السلام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ لہٰذا ان کا اطلاق مسلمانوں پر کرناصریحاً گناہ ہے۔ مفسرین کے نزدیک روئے زمین پر بدترین مخلوق وہ ہے جو کفار و مشرکین کے حق میں اتری ہوئی آیات کا مسلمانوں اورمومنین پراطلاق کرتے ہیں۔

موجودہ دورمیں ہم کیسے کسی

 ولیٔ کامل پر یقین کر سکتے ہیں؟ 

اس کا جواب سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے یوں بیان فرمایا ہے:میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ آج کل مرشد کامل نایاب ہیں اور ہر طرف جعلی، فریبی، دھوکہ باز مرشد کا روپ دھار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بھائی اگر تم دنیا اور جنت کے لیے جاؤ گے تو انہی لوگوں کے ہتھے چڑھو گے۔ کوئی طالب صادق جو صدق سے اللہ تعالیٰ کے قرب کا خواہاں ہو وہ کبھی بھی جعلسازوں کے ہتھے نہیں چڑھتا کیونکہ اس کا نگہبان وہ (اللہ) ہوتا ہے جس کی تلاش میں وہ نکلا ہوتا ہے۔پہلے اپنی طلب کو دیکھ اور درست کر پھر مرشد کی تلاش کر تجھے منزل مل جائے گی۔جب اللہ تعالیٰ کی طلب رکھنے والے اور اس کی پہچان اور تلاش میں نکلنے والے ہی نہیں رہے تو مرشد کامل اکمل نے بھی دنیا داروں سے اپنے آپ کو چھپا لیا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں صادق دل اور خلوص نیت اوردل سے تعصب کی عینک اتارکر تلاش کرتجھے اپنی منزل مل جائے گی۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

استفادہ کتب:
رسالہ روحی شریف
بیعت کی اہمیت و ضرورت
عقیدۂ توحید اور غیر اللہ کا تصور
عقیدۂ زیارتِ قبور
شانِ اولیا اللہ  

 
 

44 تبصرے “شانِ اولیا اللہ | Shan e Auliya

    1. ماشاء اللہ بہترین مضمون ہے⁦❤️⁩⁦❤️⁩
      اس تحریر کے مطالعہ سے بہت سے سوالات کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں جاننے کا موقع ملا ہے۔

  1. ما شا اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #auliya #ishq

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #auliya #ishq

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #auliya #ishq

  4. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #auliya #ishq

  5. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #auliya #ishq

  6. جو کوئی اللہ تعالیٰ کی قربت چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اللہ والوں کی قربت اختیا ر کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں