خوفِ خدا ضروری کیوں؟؟ | Khof e Khuda Zaroori Kyun

خوفِ خدا ضروری کیوں؟؟

تحریر: وسیم آصف سروری قادری ۔لاہور

حضرت علی بن عثمان الہجویری ؒ اپنی تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ میں خوف کی تعریف اس طرح کرتے ہیں ’’خوف اس مکروہ چیز کو کہتے ہیں جس کے آنے سے دل میں ناگواری یا جسم پر کوئی سختی آئے یا حاصل شدہ محب ومحبوب چیز کے گم ہونے کا خدشہ ہو‘‘ مثلاً دورانِ سفر حادثہ ہوجانے کا خوف، اپنی عزت یا مال جانے کا ڈر یا کسی بھی قسم کی سزا ملنے کا خوف وغیرہ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزائوں کا ڈر یا اللہ تعالیٰ کی عظمت، ہیبت اور اس کی بے نیازی سے ڈرا جائے۔

خوف کی کیفیت کو اللہ پاک نے انسان کی نفسیات کا حصہ بنایا ہے کیونکہ کوئی بھی انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب یا معاشرے کا حصہ ہے اس میں خوف کی کیفیات رونما ہوتی رہتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرہ یا جگہ پر قانون اور ضابطے بنائے جاتے ہیں تو ان قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سزائیں بھی مقرر ہوتی ہیں تاکہ سزا کے خوف سے لوگ جرم نہ کریں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔ 

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے نبی اور رسول بھیجے جنہوں نے نہ صرف مقصد ِ حیات یاد دلایا بلکہ فلاح یافتہ زندگی گزارنے کے لیے اصول و ضوابط بھی وضع کر کے دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں گزشتہ اقوام اور امتوں کے احوال اور ان پر آنے والے عذاب اور دیگر قصے بیان فرمائے تاکہ انسان ان سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے اور ہر عمل دیکھ رہا ہے اور ان اعمال کے مطابق ہی اسے جزا اور سزا ہوگی مگر جس طرح کچھ لوگوں نے دنیا کی عدالتوں سے بچ نکلنے کے طریقے نکال لیے اور بے خوف ہو گئے اس طرح عام مسلمان بھی اللہ کی پکڑ سے یا تو بے خوف ہوگئے یا پھر یہ گمان کر لیا کہ ہمارے گناہ معاف کرنا بھی اس کے اختیار میں ہے چاہے کرے چاہے نہ کرے۔ عام مسلمان بے خوفی کی اس حالت میں مزید بگڑتا جا رہا ہے کیونکہ یہ ساری حدیں اور ضابطے اس کے اندر موجود ’’نفس امارہ‘‘ کی سرشت کے خلاف ہیں اور یہ ہمیشہ ان سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے تاکہ بلا روک ٹوک جو مرضی کرے کھائے پیے،پہنے اور کہے اپنے نفس کی اس خصلت سے بے خبر وہ اس کی خواہشات کو مانتے ہیں جس سے ان کو فوری لذت اور آرام محسوس ہوتاہے کہ نفس ان پر غالب آتا جاتا ہے اور خوفِ خدا دب جاتا ہے۔

سیّدنا غوث الاعظم ؓ کا ارشاد ہے:
 جس کی آرزو اور تمنا (اللہ کے) خوف پر غالب ہوتی ہے وہ بے دین بن جاتا ہے۔ (الفتح الربانی مجلس 25)

موجودہ دور ایجادات کا دور ہے۔ سائنس کی ترقی میں جتنی ایجادات اب ہوئی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔ یہ تمام ایجادات اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور آسائشیں ہیں لیکن انسان انہی نعمتوں اور آسائشوں میں کھو کر خد اکو بھول جاتا ہے۔ جب خدا کو ہی بھلا دیا تو اس کا خوف کہاں سے آئے؟ 

خوفِ خدا کا نہ ہونا یا انتہائی کم ہونا بے باکی اور گناہوں پر جری کر دیتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے ’’ درحقیقت بندگانِ خدا میں علم والے ہی اللہ کا خوف رکھتے ہیں‘‘۔ (سورۃ فاطر28 )

 آئیے قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کی تعلیمات کی روشنی میں خوفِ خدا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

خوفِ خدا سے متعلق قرآنی آیات

وَ خَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (سورۃ آلِ عمران 175)
ترجمہ: اور مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔
وَ اِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ  (سورۃ البقرہ۔40)
ترجمہ: اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ 
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖجَنَّتٰنِ (سورۃ الرحمن۔46)
ترجمہ: اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کیلئے دو جنتیں ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَرَبَّھُمْ بالْغَیْبِ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ (سورۃ الملک۔12 )
ترجمہ: بے شک جو لوگ بن دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں ان کیلئے بخشش اور بڑا اجر ہے۔
وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ   (سورۃ آل عمران۔28)
ترجمہ: اور اللہ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (سورۃ الانفال۔2)
ترجمہ: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے ربّ پر ہی توکل کرتے ہیں۔
ھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُوْنَ (سورۃ الاعراف154)
ترجمہ: ہدایت اور رحمت ہے ان کیلئے جو اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں۔

خوفِ خدا سے متعلق احادیث

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ تم میں سے سب سے بڑھ کر کامل عقل والا وہ ہے جو ربّ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہے اور تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی میں زیادہ غور کرتا ہے۔‘‘
 حکمت کی اصل اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔
 جس مومن کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے آنسو نکلے اگرچہ مکھی کے پر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔ (شعب الایمان)
 جب مومن کا دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ سرورِ دوعالم، نورِ مجسم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کیلئے دو امن جمع کروں گا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کر دوں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروزِ قیامت اسے امن میں رکھوں گا۔‘‘ (شعب الایمان)

 جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر شے سے خوف زدہ کرتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ِتوجہ ہے کہ ایک مسلمان کے اندر اللہ کے خوف کے ساتھ لوگوں کا خوف بھی ہوتا ہے لیکن اس کا گناہوں سے خود کو روکنا صرف اللہ کی ناراضی کے خوف سے ہونا چاہیے نہ کہ لوگوں کی ملامت سے بچنے کیلئے اور لوگوں کے طعن سے بچنے کیلئے۔ اپنے پوشیدہ اعمال (عبادات) ظاہر نہیں کرنے چاہیے یعنی اپنی نیتوں اور اعمال کا دھیان رکھنا چاہیے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو ۔ (المائدہ 44 )

اگر ایک بندہ اس سلسلے میں اپنے اعمال کی حفاظت نہیں کرتا تو اس طرح کے لوگوں کیلئے ایک روایت غنیۃ الطالبین سے نقل کی جارہی ہے۔
حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن چند دوزخیوں کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا۔ یہ دوزخی جب جنت کے قریب پہنچیں گے اور اس کی خوشبوسونگھیں گے، وہاں کے محلات دیکھیں گے اور ان چیزوں کا مشاہدہ کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے جنت والوں کیلئے تیار کی ہیں تو یکا یک ندا آئے گی ’’انہیں واپس کردو ان کا یہاں کوئی حصہ نہیں ہے‘‘۔ اس وقت وہ ایسی حسر ت و پشیمانی کے ساتھ واپس ہوں گے کہ ایسی حسرت و پشیمانی سے کبھی نہ لوٹے ہوں گے۔ وہ کہیں گے ’’پروردگار! تو نے اپنے دوستوں کیلئے جو نعمتیں فراہم کی ہیں وہ ابھی ہم نے صحیح طرح سے دیکھی بھی نہیں تھیں کہ ہمیں دوزخ میں داخل کر دیا گیا ‘‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’ میری یہی مشیت تھی۔ تم تنہائی میں اور لوگوں کے سامنے اپنی پارسائی کا دعویٰ کرتے تھے اور ان کے سامنے عاجزی اور تواضع کا اظہار کرتے تھے جبکہ تمہارے دل میں اس کے برعکس ہوتا تھا، تم لوگوں سے تو ڈرتے تھے لیکن میرا خوف تمہیں نہیں آیا۔ تم لوگوں کو بڑا سمجھتے تھے لیکن مجھے بڑا نہیں جانا۔ تم نے لوگوں کی وجہ سے برے کام ترک کر دیے لیکن میرے ڈر سے برے کام ترک نہیں کئے۔ اس لیے آج میں تمہیں ثوابِ عظیم سے محروم رکھوں گا اور تم پر اپنا عذاب مسلط کروں گا۔‘‘(غنیۃ الطالبین)

خوفِ خدا کے متعلق اقوال بزرگان دین

سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں ’’خوف خداوندی دل کا کوتوال ہے اور دل کو نور بخشنے والا، وضاحت و شرح کرنے والا ہے‘‘۔ (الفتح الربانی۔56 )

 اگر اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو پیدا نہ فرماتا تو تب بھی اس کی ذات اس کی مستحق تھی کہ اس سے خوف کیا جائے اور اس سے امید رکھی جائے۔ اس کی ذات کے طالب بن کر ہی اس کی اطاعت کرو اور تمہیں اس کی عطا اور سزا کی غرض نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے حکم کو بجا لانے اور اس کی ممنوعات سے باز رہنے اور اس کی قضا و قدر پر صبر کرنے میں ہی اس کی اطاعت ہے۔ تم اس کی طرف رجوع کرو اور توبہ کرو، اس کے سامنے گریہ وزاری کرو اور اپنی آنکھوں اور دل کے آنسوؤں سے اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرو۔(الفتح الربانی مجلس 19 )

 اہل ِاللہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں جو کام بھی کرتے ہیں ان کے دل خوف زدہ ہی رہتے ہیں۔ (الفتح الربانی ۔ مجلس61 )

 اولیا کرام بڑے خطرے میں رہتے ہیں ان کا خوف اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر کے سکون حاصل نہ کرلیں اس لیے جس نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا اس کا خوف اور زیادہ بڑھ گیا۔ (الفتح الربانی مجلس49)

حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں ’’لوگ اس وقت تک راہِ راست پر ہی ہوتے ہیں جب تک ان کے دل سے خوفِ خدا نہیں نکلتا اور جب نکل جاتا ہے تو وہ راستہ ہی گم کر بیٹھتے ہیں‘‘۔
حضرت حاتم الاصمؒ فرماتے ہیں کہ ہر شے کیلئے کوئی چیز خوبصورتی کا باعث ہوتی ہے اور عبادت کی خوبصورتی خوفِ خدا کی بنا پر ہوتی ہے اور پھر خوف کی علامت یہ ہوتی ہے کہ انسان لمبی امیدیں نہ لگائے۔
 اللہ کے خوف سے تمام انبیا اور اولیااللہ یوں پگھلتے ہیں جیسے سونا کٹھالی میں پگھلتا ہے۔( عین الفقر)
 خاص فقیر وہ ہے جو ہمیشہ اپنے ربّ سے ڈرتا ہے۔  (عین الفقر)
حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں ’’بہت سے علم حاصل کرنا فرض نہیں لیکن فرض، واجب، سنت اور مستحب کا علم حاصل کرنا، گناہوں سے نجات حاصل کرنا، اللہ کا خوف رکھنا اور اس کی معرفت اور محبت حاصل کرنا اور ہدایت کی تلاش کرنا، غیبت و شکایت کو ترک کر دینا فرض ہے۔ ‘‘ (امیر الکونین)
 یہ درست ہے کہ آدمی کیلئے بہت زیادہ علم حاصل کرنا فرض عین نہیں سوائے علم ِ فرض و واجب و سنت و مستحب کے لیکن اللہ سے ڈرنا، گناہوں سے اجتناب کرنا اور حرص وحسد، کبروطمع سے خود کو پاک رکھنا فرضِ عین ہے۔ (محک الفقر کلاں)
 سن! جب تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ طاقتور ہے اور اللہ کے سوا سب کمزور ہیں پس جب اللہ تعالیٰ تیرا مددگار ہے تو تُو کمزور سے مت ڈر‘‘۔ (عین الفقر)
حضرت سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق اللہ کا طالب ہی وہ ہے جسے نہ تو جنت کی نعمتوں کا لالچ ہو اور نہ ہی دوزخ کی سزاؤں کا خوف ہو بلکہ وہ اللہ کا قرب چھن جانے سے خوفزدہ ہو۔ 

خوف کے درجات

حضرت امام محمد غزالیؒ کی تحقیق کی روشنی میں خوف کے تین درجات ہیں۔
1۔ ضعیف (کمزور): یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کو اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو مثلاً جہنم کی سزائوں کے حالات سن کر محض جھر جھری لے کر رہ جانا اور پھر سے غفلت و معصیت میں گرفتار ہو جانا۔
2۔ معتدل (متوسط): یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کو اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہو مثلاً عذابِ آخرت کی وعید کو سن کر ان سے بچنے کیلئے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ربّ تعالیٰ سے امید ِرحمت بھی رکھنا۔
3 ۔ قوی: یہ وہ خوف ہے جو انسان کو ناامیدی، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کر دے۔ (احیاء العلوم)

یاد رہے کہ ان سب میں بہتر درجہ ’’معتدل‘‘ ہے کیونکہ خوف ایک ایسے تازیانے کی مثل ہے جو کسی جانور کو تیز چلانے کیلئے مارا جاتا ہے لہٰذا اگر اس تازیانے کی ضرب اتنی ’’ضعیف‘‘ ہو کہ جانور کی رفتار میں ذرہ بھر بھی اضانہ نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر یہ ضرب اتنی ’’قوی‘‘ ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاسکے اور اتنا زخمی ہوجائے کہ اس کیلئے چلنا ہی ممکن نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں لیکن اگر یہ ’’معتدل‘‘ ہو کہ جانور کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ ضرب بے حد مفید ہے۔

حاصل تحریر یہ کہ اللہ کی ذات کا خوف رکھنا اور گناہوں سے بچنا ہی ایمان کی نشانی ہے۔ جو شخص اللہ کی ذات سے بے خوف ہو جائے وہ گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ 

اللہ کی ذات کا خوف اس وقت تک دل میں نہیں پیدا ہو سکتا جب تک اللہ کی معرفت حاصل نہ کی جائے کیونکہ جس ہستی یا ذات سے آشنائی اور واقفیت ہی نہ ہو اس سے خوف کیسے آ سکتا ہے۔ اسی لیے انبیا و مرسلین اور اولیا ئے کاملین سب سے بڑھ کر اللہ سے خوف رکھنے والے ہوتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی معرفت اور قرب حاصل تھا۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں تم سب سے زیادہ اللہ کی معرفت رکھنے والا ہوں او ر تم میں سب سے زیادہ اس سے خوف کرنے والاہوں‘‘  ( بخاری کتاب الایمان)

موجودہ دور میں سلسلہ سروری قادری کے امام، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دنیا بھر میں معرفت ِ الی اللہ کا پیغام عام فرما رہے ہیں۔ اس ضمن میں آپ مدظلہ الاقدس ذکر کی آخری منزل سلطان الاذکار ھُو اور تصور کیلئے اسم اللہ ذات کا نقش اور وجود کی پاکیزگی کیلئے مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا فرماتے ہیں۔

ذکر و تصور اسم اللہ ذات کی مشق کی بدولت جن طالبوں کا مرشد کی ذات پر یقین کامل ہو جاتا ہے اور وہ مرشد کی دائمی صحبت اختیار کرتے ہیں تو مرشد کی کامل نگاہ اور پاکیزہ صحبت کی بدولت انکے نفس کا تزکیہ ہونے لگتا ہے اور ان پر مشاہدہ کی راہ کھلنے لگتی ہے ایسے میں جو طالب ان لطف و کرم کو اپنی محنت کا پھل سمجھتے ہیں اور غرور و خود پسندی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کا باطنی و روحانی سفر رک جاتا ہے لیکن جو طالب اسے توفیقِ الٰہی سمجھتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے عاجزی اختیار کرتے ہیں وہ اس راہ میں آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ جس قدر عاجزی اختیار کرتے ہیں اسی قدر اللہ کی معرفت حاصل ہوتی جاتی ہے اور اللہ سے خوف میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ طالبانِ مولیٰ اس بات سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ ان کی کوئی غلطی انہیں اللہ سے دور نہ کر دے اور یہ خوفِ خدا دیگر تمام پریشانیوں اور اندیشوں پر غالب آتا جاتا ہے۔ لہٰذا ’’خوفِ خدا‘‘ راہِ فقر میں پہلی سیڑھی کی مانند ہے۔ یہ خوفِ الٰہی ہی ہے جو گناہوں سے کنارہ کرنے کی ہمت بخشتا ہے اور دل میں اللہ کی محبت کا دیا روشن کرتا ہے جو بعد ازاں عشق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔عشقِ الٰہی کے اسی جذبے کے تحت صادق طالبِ مولیٰ ہر چیز اور کام کو ترک کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ سے دور کرسکتی ہے۔ 

متلاشیانِ حق اور طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صحبت سے ہمکنار ہوں۔ 

 

39 تبصرے “خوفِ خدا ضروری کیوں؟؟ | Khof e Khuda Zaroori Kyun

      1. خوف کی کیفیت کو اللہ پاک نے انسان کی نفسیات کا حصہ بنایا ہے کیونکہ کوئی بھی انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب یا معاشرے کا حصہ ہے اس میں خوف کی کیفیات رونما ہوتی رہتی ہیں۔

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #khuda #khof

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #khuda #khof

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #khuda #khof

  4. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #khuda #khof

  5. MashaAllah
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #khuda #khof

  6. خوف کی کیفیت کو اللہ پاک نے انسان کی نفسیات کا حصہ بنایا ہے کیونکہ کوئی بھی انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب یا معاشرے کا حصہ ہے اس میں خوف کی کیفیات رونما ہوتی رہتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں