امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

تصور اسم اللہ  ذات سے پڑھی جانے والی دعوت کی برکت سے طالب کا وجود ریاضت سے نجات حاصل کر لیتا ہے اس کے وجود میں اللہ کی محبت آ جاتی ہے جو اس کے قلب کو لطیف بنا دیتی ہے اور اس کا کھانا مجاہدہ اور نیند مشاہدہ بن جاتی ہے اور باطن میں وہ مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں ہوتا ہے ان مراتب کے حصول پر اسے مبارکباد۔ وہ مستی میں بھی ہوشیار اور نیند میں بھی بیدار ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی حضوری میں فنا اور شعوری طور پر اللہ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ باطن معمور طالب کے مراتب ہیں۔ جب دعوت کاملیت کے ان مراتب پر پہنچتی ہے توانبیا، اولیا، غوث، قطب، ابدال، اوتاد کی ارواح اور مؤکلات کے لشکر طالب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ہزاروں ہزار بلکہ بے شمار لوگ اس کے متعلق جانتے ہیں اور اسے باعیاں دیکھتے ہیں اور بہت سے ہیں جو اس کے متعلق نہیں جانتے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَاحَافِظٌ (الطارق۔4)
ترجمہ: اور کوئی نفس ایسا نہیں جس پر ایک محافظ نہ ہو۔
اور اس کا خطاب یہ ہوتا ہے:
لَایَمْلِکُوْنَ مِنْہُخِطَابًا(النبائ۔37)
ترجمہ: اور اس سے خطاب کرنے کا (مخلوق میں سے) کسی کو بھی یارا نہیں۔

ا س مقام پر ہزاروں ہزار بے شمار تجلیاتِ انوار ہر عضو، رگ، گوشت، مغز، ہڈیوں اور ہر بال سے ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ ہمہ اوست در مغز و پوست کے مراتب ہیں۔ اسی طرح تجلیٔ غیبی، تجلیٔ قلبی، تجلیٔ روحی اور تجلیٔ سرّی تصور اسم ِاللہ  ذات سے وجود میں پیدا ہوتی ہیں۔ اور تجلیٔ نورِ ایمان جو کہ غیر مخلوق ہے آفتاب کی مثل (وجود میں) طلوع ہوتی ہے اور وجود میں جو ظلماتِ ناشائستہ، نفس، شیطان، دنیا اور ظاہری و باطنی حواسِ خمسہ کی غلاظت ہے‘ اسے مکمل طور پر باہر نکال دیتی ہے اور اوصافِ ذمیمہ زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی معرفت اور وصال کے مراتب ہیں۔ ان مراتب پر پہنچ کر طالب وجود پر لباسِ شریعت پہن لیتا ہے اور شریعت پر ہی عمل پیر ا رہتا ہے اور باطن میں معرفت کا سمندر نوش کرتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلنِّھَایَۃُ ھُوَ الرَّجُوْعُاِلَی الْبِدَایَۃِ
ترجمہ: انتہا ابتدا کی طرف لوٹنے کا نام ہے۔

یعنی اسم اللہ ذات کے تصور سے وجود میں نور آ جائے اور ظلماتِ نار کو باہر نکالا جائے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَاٰمَنُوْا لا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (البقرہ۔257)
ترجمہ: اللہ مومنین کا دوست ہے جو انہیں ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے۔

یہ اللہ کی معرفت، قرب اور حضوری کے مراتب ہیں۔ بعض دعوت پڑھنے میں عامل و کامل ہوتے ہیں اور بعض محض عامل ہی ہوتے ہیں۔ اگر اہلِ دعوت عامل غضب کے باعث کسی ملک کو تباہ کرنے کے لیے بالترتیب سورۃ مزمل پڑھے تو وہ ملک یا علاقہ قیامت تک ویران ہو جائے گا اور اگر لطف و کرم کے ساتھ اخلاص سے آبادکاری کی نیت سے دعوت پڑھے تو وہ ملک یا علاقہ رنج، ظلم، ظالم کے شر اور آفات سے قیامت تک آباد و سلامت رہے گا۔

جاننا چاہیے کہ ازلی مومن جس کی روح فرحت یاب ہے اور اسے اللہ کا فیض و فضل حاصل ہے کے مراتب یہ ہیں کہ زندگی میں اس کا وجود نور ہوتا ہے اور مرنے کے بعد اس کی قبر کی مٹی میں اللہ کی ذات کے انوار کا شعلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا وجود ظاہر و باطن میں مغفور ہوتا ہے اور اسے نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی غم۔ اے درویش! دانا اور آگاہ بن۔ خبیث نفسِ امارہ اور شیطان ملعون بعض علما، فقرا، مومن اور مسلمان کی عبادت کو پیشہ بنا کر انہیں ثواب کے چکر میں الجھا دیتا ہے اور وہ ثواب کی بجائے اللہ کے غضب کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ نفس اور شیطان بندگی کو بھی پیشہ بنا دیتے ہیں اور اس بندگی میں منافقت اور ریا پیدا کر دیتے ہیں جو کہ بندے اور اللہ کے درمیان کثیف حجاب ہے۔ حق کے نزدیک یہ باطل ہے اور ناپسندیدگی کا باعث ہے۔ اے احمق و اہلِ ہوس! مرشد کی طلب کر اور سالک و عارفِ خدا ہو جا کیونکہ سالک حیّ و قیوم ذات کی طرف جانے والے راستے کی رسوم سے بے خبر نہیں ہوتا۔ وہ اپنی منزل اور مقام سے باخبر ہوتا ہے۔ عارف باللہ‘ نبی اللہ کی مثل صاحبِ نظر ہوتا ہے جو اللہ کی طرف باطنی طور پر سفر کر کے پہنچتا ہے اور وہاں پہنچ کر اللہ کی ذات میں فنائیت کے سفر کو جاری کرتا ہے۔ وہ باطنی خضر ہوتا ہے جو اپنی نگاہ کی تاثیر سے طالب کو زندگی میں نفس و شیطان سے نجات دلاتا ہے اور مرنے کے بعد بھی ان کی ارواح کو قبر میں حضوری کے مراتب عطا کرتا ہے۔ ابیات:

خلق داند زیر خاکش در قبر

در قبر شد قرب اللہ سربسر

ترجمہ: لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ قبر کی مٹی تلے مردہ ہیں لیکن قبر میں بھی انہیں اللہ کا قرب حاصل ہے۔

بے خلل خلوت قبر باربّ جلیس

درمیان کس نگنجد حق انیس

ترجمہ: قبر کی خلوت میں وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اللہ کے ہم صحبت ہوتے ہیں کیونکہ اللہ اور اس کے دوست کے درمیان کسی کی گنجائش نہیں۔ 

نیست آنجا فرشتہ جز بذات

در ممات یافتند دائم حیات

ترجمہ: وہاں ذات کے علاوہ فرشتہ نہیں جا سکتا وہ تو مرنے کے بعد دائمی حیات پا لیتے ہیں۔

در قبر رفتن است وحدت حق بنور

در قبر حق یافت حق باحق حضور

ترجمہ: ان کے لیے قبر میں جانا نورِ وحدتِ حق سے ملنا ہوتا ہے۔ عارفین قبر میں حق کی حضوری پا کر حق سے عین حق ہو جاتے ہیں۔

ہر پتھر قبلہ کی مثل لائقِ سجدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر پتھر کسوٹی ہے اور نہ ہی ہر پتھر پارس ہے اور نہ ہی ہر پتھر قیمتی لعل ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کا وجود اللہ کی معرفت اور وصال کے لائق نہیں اور نہ ہی ہر سر بادشاہت کے قابل ہے اور نہ ہی ہر دل خزائنِ الٰہی کا حامل بن کر وحدت کی گواہی دے سکتا ہے۔ نہ ہر پہاڑ کوہِ طور ہوتا ہے اور نہ ہر انسان موسیٰ کلیم اللہ کی مثل صاحبِ حضور ہوتا ہے نہ ہر پتھر سنگِ مرمر ہوتا ہے اور نہ ہر دل اللہ کی محبت کے قابل ہے۔ فقیر کا وجود کامل ہوتا ہے کیونکہ وہ فنا فی اللہ ہوتا ہے اور اسم ، مسمّٰی اور حکمت اس کے وجود میں ظاہر ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ تمام مطالب فقیر کو حاصل ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کے قرب کے باعث اس کا وجود فنا فی اللہ ہوتا ہے اور اس کا نفس تزکیہ کے بعد فانی ہو چکا ہوتا ہے اور اس کے قلب کا تصفیہ اور روح کا تجلیہ ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ دعوتِ عیاں پڑھتا ہے۔ تمام مخلوقات، جن و انسان، جانور اور پرندے، فرشتے اور اٹھارہ ہزار عالم جن پر تصرف کرنے کی ہر کوئی کوشش کرتا ہے‘ فقیر کے تصرف میں ہوتے ہیں اور وہ ہر زندہ اور روح سے ہم کلام ہوتا ہے۔ علم ِ منطق و معانی پڑھنے سے اس پر اللہ کے سب پوشیدہ خزانے ظاہر ہو جاتے ہیں اور عارف باللہ جو یہ دعوت دائمی دولت (قرب و دیدار) کے حصول کی خاطر پڑھتا ہے وہ دنیا و آخرت میں ہر شے سے لایحتاج ہو جاتا ہے کیونکہ انتہا ابتدا تک پہنچاتی ہے اور انتہا ابتدا تک۔ اور عارف باللہ ان دونوں مراتب کو ایک ہی سبق دعوت سے پڑھتا ہے۔ ابتدا نورِ الٰہی ہے اور انتہا فنا فی محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مراتب ہیں۔

بعض لوگوں کے احوال یہ ہیں کہ وہ ماضی، حال اور مستقبل کی حقیقت جانتے ہیں اور انہوں نے یہ علم مؤکلات یا فرشتوں اور جنوں سے سیکھا ہوتا ہے۔ یا وہ علمِ قال کے عامل و عالم ہوتے ہیں یا قسمت کے حال بتانے والے۔ اور یہ تمام مراتب انہوں نے علمِ دانش، عقل اور شعور سے حاصل کیے ہوتے ہیں اور ہر کام کی تحقیق علمِ نجوم سے کرتے ہیں اسی طرح وہ نیک و بد، سعد و نحس، دنوں، مہینوں اور سالوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ فقیر اہلِ حضور اور صاحبِ قرب وہ ہے جو بے نصیب کو اللہ سے اس کا نصیب دلا دے اور نحس دنوں کو سعد دنوں اور کم بخت کو نیک بخت میں تبدیل کر دے اور مردہ دل بے شعور طالب کو توجہ سے حضورِ حق میں پہنچا دے۔ ایسا فقیر صاحبِ قوت اور دیدار کرنے والا ہوتا ہے کہ وہ د ائمی طور پر حضورِ حق میں رہتا ہے اور اپنی نظر لوحِ محفوظ پر بھی نہیں ڈالتا۔ ابیات:

ہر کرا باشد حضوری ہر دوام

ہم سخن شد بامع اللہ ہر کلام

ترجمہ: جسے دائمی حضوری حاصل ہو وہ ہر معاملے میں اللہ کے ساتھ ہم کلام رہتا ہے۔

نظر آنرا بر نظر ناظر خدا

راہ ناظر این بود اہل از لقا

ترجمہ: اس کی نظر اللہ کی رضا پر ہوتی ہے کیونکہ وہ اللہ کو دیکھنے والا ہوتا ہے۔ دیدار کی یہ راہ اہلِ لقا سے حاصل ہوتی ہے۔ 

یہ مراتب فقیر کی ابتدا ہیں۔ 

ابیات:

کاملم ہم عاملم باطن نظر

لائق تلقین تعلیم و خضرؑ

ترجمہ: میں کامل و عامل ہوں اور میری نظر باطن پر ہوتی ہے اور میں تعلیم و تلقین کرنے کے لائق مرشد ہوں۔

این شرافت شرف امت مصطفیؐ

واقف اسرار گردد از اِلٰہ

ترجمہ: یہ شرف صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کے فقرا کو حاصل ہے کہ وہ اللہ سے بلا واسطہ اس کے اسرار سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

سب سے پہلے اس کتاب کا علم قاری کے وجود میں اثرات پیدا کرتا ہے اور اس میں تحریر کردہ علم ہر دوسرے علم رسوم پر غالب ہے اس کے بعد یہ علم علمِ حیّ و قیوم سے جمعیت بخشتا ہے۔ ہر مراتب شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوتے ہیں۔ 

بیت:

رفت ذکر رفت فکر و رفت مذکور و حضور

نور را از نور یابم غرق فی التوحید نور

ترجمہ: میں نے ذکر فکر کو بھی چھوڑ دیا اور مذکور کی حضوری کو بھی۔ نورِ توحید میں غرق ہو کر اس نور کے ساتھ نور ہو گیا ہوں۔

انتہا ابتدا کو تلاش کرتی ہے کیونکہ یہ مراتب ہدایت کے مطابق ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی    (طٰہٰ۔47)
ترجمہ: اور اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی۔

ابیات:

ہر کہ از خود گشت فانی بانظر

درمیان مردمان باشد خضرؑ

ترجمہ: جو خودی سے فنا حاصل کر لے وہ صاحب ِ نظر بن جاتا ہے اور لوگوں کے درمیان مرشد کی مانند ہوتا ہے۔

غرق فی التوحید شو آخر چہ سود

چون حباب در آب شد وحدت بود

ترجمہ: تو توحید میں غرق ہو جا۔ اس کا کیا فائدہ ہے؟ جیسے بلبلہ پانی میں غرق ہو کر پانی بن جاتا ہے (ایسے ہی تُو توحید میں غرق ہو کر عین توحید ہو جائے گا)۔ 

اگر طالب صادق اور جان فدا کرنے والا اور مستقل مزاج ہو اور طلبِ مولیٰ بھی رکھتا ہو تو مرشد کامل کے لیے اس کو اللہ کی معرفت عطا کر کے حضوری میں پہنچا دینا آسان کام ہے اور تب مشاہدہ اور دیدارِ پروردگار کے بغیر اس کا ایک سانس بھی باہر نہیں نکلتا اور وہ کامل انسان بن جاتا ہے اور یہی مراتب ِ جمعیت کی طرف لے جاتا ہے۔ ابیات:

ذکر فکر و بگذارد در ہر مقام

دیدہ بادیدار بکشاید تمام

ترجمہ: جس کی آنکھ مکمل طور پر دیدار میں مشغول رہتی ہے وہ ہر مقام پر ذکر اور فکر کو ترک کر دیتا ہے۔

دیدہ را بادیدار تر بیدار تر

بانظر ہرگز نہ بیند سیم و زر

ترجمہ: اور جو آنکھیں دیدار میں مشغول رہتی ہیں اس کا باطن مزید بیدار ہو جاتا ہے اور وہ آنکھیں ہرگز مال و دولت کی طرف نہیں دیکھتیں۔

لذتے دیدار بہ دیدار دہ

روشنے دیدار در چشم بہ نہ

ترجمہ: اے اللہ! لذتِ دیدار عطا فرما کیونکہ آنکھوں کے لیے دیدار کی روشنی سے بہتر کچھ نہیں۔

دادہ دیدار مارا ہر دوام

دیدہ بادیدار بیند ہر دوام

ترجمہ: ہمیں اللہ نے دائمی دیدار عطا فرمایا ہے اس لیے ہماری آنکھیں ہر لمحہ دیدار کرتی ہیں۔

باھوؒ جز بدیدارے نداند ہیچ راہ

دیدہ بادیدار شد وحدت اِلٰہ

ترجمہ: باھُوؒ دیدار کے سوا کوئی راستہ نہیں جانتا۔ اس کی آنکھیں وحدتِ الٰہی کے دیدار میں مشغول رہتی ہیں۔

(جاری ہے)

 

38 تبصرے “امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

      1. تصور اسم اللہ  ذات سے پڑھی جانے والی دعوت کی برکت سے طالب کا وجود ریاضت سے نجات حاصل کر لیتا ہے اس کے وجود میں اللہ کی محبت آ جاتی ہے جو اس کے قلب کو لطیف بنا دیتی ہے اور اس کا کھانا مجاہدہ اور نیند مشاہدہ بن جاتی ہے اور باطن میں وہ مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں ہوتا ہے ان مراتب کے حصول پر اسے مبارکباد۔ وہ مستی میں بھی ہوشیار اور نیند میں بھی بیدار ہوتا ہے

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ameerulkonain

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ameerulkonain

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ameerulkonain

  4. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ameerulkonain

  5. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے مرشد کامل اکمل کی صحبت بے حد ضروری ہے.

  6. بے شک راہِ فقر میں علم دعوت ایک مقام ہے جو طالب مولیٰ کی تربیت کے لیے ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں