القاب سیّدنا غوث الاعظمؓ | Alqabat Syedna Ghous ul Azam

القاب سیّدنا غوث الاعظمؓ

تحریر: مسز انیلایٰسین سروری قادری

بعدازختم ِنبوتؐ، صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین اور اب فقرائے کاملین ہیں جنہوں نے دین ِحق کو اپنی حقیقی شان کے ساتھ زندہ رکھا۔ ہر ولی‘ اللہ کا محبوب اور اعلیٰ روحانی مراتب کا مالک ہوتا ہے جو خلقِ خدا پر بحکمِ الٰہی فیض بخش ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’دیکھو ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور یقینا آخرت درجات کے لحاظ سے بہت بڑی ہے اور فضیلت کے لحاظ سے بھی بہت بڑی ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل:21)
بیشک اللہ پاک نے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ تمام اولیا اللہ میں عظیم المرتبت، اعلیٰ روحانی اوصاف کے مالک شہنشاہِ اولیا، سلطان الفقر سوئم سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ہیں۔ اگر تمام اولیا فلک پر چمکتے روشن ستاروں کی مانند ہیں تو سیّدنا غوث الاعظمؓ ماہتاب کی مانند ہیں۔ آپؓ کا مبارک وجود دین محمدیؐ کی نئی زندگی کا سبب ہے۔ فقر و تصوف کی دنیا میں آپؓ کی شانِ ولایت کو تاقیامت زوال نہیں۔

سیّدنا غوث الاعظم ؓ کا فرمان ہے:

اَفَلَتْ شُمُوْسُ الْاَوَّلِیْنَ وَ شَمْسُنَا
اَبَدًا عَلٰی فَلَکِ الْعُلٰی لاَ تَغْرُبٌ ِ

’’پہلوں کے آفتاب ڈوب گئے لیکن ہمارا آفتاب بلندیوں کے آسمان پر کبھی غروب نہ ہو گا۔ (حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ)  

تاقیامت فقرِ محمدیؐ کی احیا کے لیے آپؓ کے فرمان، وعظ و نصیحت، تدریس و خطابت اور خلقِ خدا پر آپؓ کا جاری و ساری کرم اس بات کی دلیل ہے کہ آپؓ کے اعلیٰ مراتب میں کوئی آپؓ کا ثانی نہیں۔ اس لیے آج بھی دنیا آپؓ کو ’’سیّدنا غوث الاعظم‘‘ (مشکل کشا، حاجت روا) کے لقب سے پکارتی ہے۔ (سبحان اللہ) 

غوث الاعظمؓ درمیان اولیا

چوں محمدؐ درمیان انبیا 

سیّدنا غوث الاعظمؓ  کی بلندپایہ شانِ عظمت کو مخلوقِ خدا پر ظاہر کرنے کے لیے اللہ جل جلالہٗ نے آپؓ کو بے شمار خوبصورت القابات سے نوازا۔ ان میں سے چندکی تفصیلات درج ذیل ہے:
1۔ سلطان الفقر سوئم           
2۔غوث الاعظمؓ
3۔محی الدین
4۔پیرانِ پیر دستگیر
5۔سلطان الاولیا
6۔بازِ اشہب
7۔محبوبِ سبحانی
8۔شیخ الشیوخ
9۔سردار الاولیا
10۔قندیل لامکانی
11۔السیّد السند
12۔قطبِ اوحد
13۔زعیم العلما
14۔امام الاولیا
15۔ابوصالح
16۔حسنی اباً ، حسینی اماً
17۔قطب ِ ربّانی
18۔حنبلی مذہباً
19 ۔ میر محی الدین

 سلطان الفقر سوئم

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا لقب ’سلطان الفقر‘ ہے۔ سلطان الفقر ہستی کی شان و عظمت کا ندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مرتبہ سلطان الفقر تمام اولیااللہ سے اعلیٰ، افضل اور ممتاز ہے۔ سلطان الفقر ہستیوں کے بارے میں سب سے پہلے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف’رسالہ روحی شریف‘ میں یوں بیان فرمایا ہے:
’’ان کا قدم تمام اولیا اللہ، غوث و قطب کے سر پر ہے۔ اگر انہیں خدا کہا جائے تو بجا ہے اور اگر بندۂ خدا کہا جائے تو بھی روا ہے۔اس راز کو جس نے جانا اس نے ان کو پہچانا۔اُن کا مقام حریمِ ذاتِ کبریا ہے۔‘‘

غوث الاعظمؓ

ولایت کے مدارج میں بلند ترین مرتبہ ’غوث‘کا ہے اور جب ’’غوث الاعظم‘‘ پکارا جائے تو اس سے مراداولیا کے ’سردار ‘ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو ’’غوث الاعظم‘‘ کے لقب سے ملقب فرمایا۔ غوث الاعظم سے مراد ’فریاد رس، مددگار‘ ہے۔
بیشک جب اللہ تعالیٰ نے سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو ’غوث الاعظم‘ کا لقب عطا فرمایاتو ساتھ ہی اللہ جل شانہٗ نے آپؓ کو خلقت کی فریاد رسی کے لیے تصرفاتِ کاملہ سے بھی بھرپُور نوازا۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا فرمان ہے:
’’میں اپنے مرید کی محافظت کرنے والا ہوں، ہر اس چیز سے جو اُس کو خوف میں ڈالے اور اُس کی نگہبانی کرتا ہوں ہر قسم کے شر اور فتنہ سے۔‘‘ (فتوح الغیب)

محی الدین

تاریخِ اسلام کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی پیدائش سے قبل دنیائے اسلام پر زوال کی گہری سیاہ گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ اگرچہ ظاہری طور پر تو اسلامی سلطنت کافی وسعت اختیار کر چکی تھی مگر باطنی طور پر نہایت شکستہ حال اور دین محمدیؐ سے ناواقف ہو چکی تھی۔ بدکاری، فسق و فجور، سیاسی ابتری اور اخلاقی انحطاط اپنے عروج کو پہنچ چکے تھے۔ مذہبی زوال پذیری کے ساتھ ساتھ روحانی صورتحال بدترین ہو گئی تھی۔ ایسے حالات میں ایک ایسی روحانی قوت کی ضرورت تھی جو انسانیت کو اخلاقی پستیوں سے نکال کر حقیقی عروج (قرب و دیدارِ حق تعالیٰ) کی راہ پر گامزن کرے اور جس کی طاقت قادرِ حقیقی کا عکس ہو۔ ایسے حالات میں سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ ہی وہ مبارک ہستی ہیں جنہوں نے دینِ محمدیؐ کو پھر سے حیاتِ نو بخشی۔ آپؓ کے روحانی تصرفات، وعظ و نصیحت، درس و تدریس اس بات کی دلیل ہیں کہ آپؓ نے اپنے جدّ امجد جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین کو اخلاقی پستیوں سے نکال کر حقیقی عروج عطا فرمایا۔ اسی وجہ سے آپؓ کو ’’محی الدین‘‘ کے مبارک لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔  

 بہجۃ الاسرار میں تحریر ہے کہ آپؓؓ نے ایک مرتبہ اپنے مشہورِ خلائق لقب ’’محی الدین‘‘ کے متعلق یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ’’511ھ میں ایک جمعہ کے روز میں سفر سے پابرہنہ بغداد کی طرف واپس آرہا تھا کہ ایک نہایت ہی لاغر اور نحیف بیمار پر میرا گزر ہوا۔ اس نے کہا: ’اسلام علیک یا عبدالقادر!‘ مَیں نے سلام کا جواب دیا۔کہنے لگا: ’مجھے اُٹھاؤ۔‘ مَیں نے اُٹھایا، پھر بیٹھا دیا تو اچانک اس کا چہرہ بارونق اور جسم موٹا تازہ ہو گیا۔ میں حیران ہوا۔ اس نے کہا: ’تعجب کی بات نہیں ،مَیں آپ کے جدّ پاکؐ کا دین ہوں جو مردہ ہو رہا تھا۔ اللہ پاک نے آپ کے ذریعے مجھے نئی زندگی عطا فرمائی ہے۔ آپ ’محی الدین‘ ہیں۔ جب میں مسجد کی حدود میں داخل ہوا تو ایک شخص نے اپنا جوتا اتار کر مجھے پہنا دیا اور ’’یاسیّدی محیّ الدین‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کیا۔ نمازِ جمعہ ہوئی تو لوگ دوڑتے ہوئے میری طرف آئے اور ’یا محی الدین‘، ’یامحیّ الدین‘ پکارتے ہوئے میرے ہاتھوں کو بوسہ دینے لگے۔ حالانکہ اس سے پہلے کبھی کسی نے مجھے اس نام سے نہیں پکارا تھا۔‘‘ (زبدۃ الآثار تلخیص بہجتہ الاسرار از شیخ عبد الحق محدث دہلوی) 

بازِ اشہب

’باز ‘سے مراد ’شہباز‘ ہے اور ’اشہب‘ سے مراد ’سرمئی‘ کے ہیں۔
آسمانوں میں سیّدنا غوث الاعظمؓ کا لقب ’’بازِ اشہب‘‘ ہے۔ یہ لقب آپؓ کے اعلیٰ اور بلند و بالا روحانی تصرفات کو ظاہر کرتا ہے۔ سیّدنا غوث الاعظمؓ قصیدہ غوثیہ شریف میں فرماتے ہیں:
بلاد اللّٰہ ملکی تحت حکمی
 یعنی اللہ تعالیٰ کے تمام شہر میرے تحت تصرف اور زیرِ حکومت ہیں۔
 سیّدنا غوث الاعظمؓ کے لقب بازِ اشہب کے بارے میں ایک بزرگ فرماتے ہیں ’’سیّدنا غوث الاعظمؓ کی ولایت باز کی قوت و طاقت سے بھی تیزہے۔ اس بازِ اشہب (سیّدنا غوث الاعظمؓ) کی غلامی سے ہرگز آنکھیں نہ پھیر۔ اگر اُنؓ کی محبت و غلامی سے آنکھیں پھیر لیں تو دیکھ تیرے ایمان کا طوطا تجھ سے اُڑ جائے گا یعنی تیرے ایمان کی خیر نہ ہو گی اور تمہارے ایمان کا نور تجھ سے چلا جائے گا اور بالآخر تو بے ایمان ہو کر رہے گا۔ (اللہ کے ولی) 

پیرانِ پیر دستگیر

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ ’’پیرانِ پیر دستگیر‘‘ کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔ یہ آپؓ کی شانِ عظمت اور تصرفاتِ کاملہ کا فیض ہی ہے کہ آپؓ تمام اولیا اللہ، غوث و قطب کے ’’پیر‘‘ اور ’’دستگیر‘‘ ہیں۔

شیخ ابوالبرکات بن صخرؒ فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ ہر ولی اللہ کے ظاہری و باطنی احوال پر نگاہ رکھتے ہیں اور کوئی ولی اللہ اپنے ظاہری و باطنی احوال میں آپؓ کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتا۔ ایسے ولی اللہ جو بارگاہِ الٰہی میں ہمکلام ہونے کے مرتبہ عالی پر فائز ہیں وہ بھی حضرت غوث الاعظمؓ کی اجازت کے بغیر دم نہیں مار سکتے۔ ان اولیا اللہ پر موت سے پہلے اور موت کے بعد بھی آپؓ کا ہی تصرف رہتا ہے۔ (زبدۃ الآثار تلخیص بہجۃ الاسرار)

  سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے ’’پیرانِ پیر دستگیر‘‘ ہونے کے متعلق شیخ ابی محمد قاسمؒ بن عبیدہ بصری فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت خضر ؑ سے سیّدنا غوث الاعظمؓ کے متعلق پوچھاتو آپؑ نے بتایا کہ وہ اِس وقت کے ’’فردِ احباب‘‘ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی ولی اللہ کو مرتبۂ عالی عطا نہیں فرماتا جب تک غوث پاکؓ کی منظوری نہ ہو۔ کسی مقرب ولی اللہ کو اس وقت تک منظوری نہیں دی جا سکتی جب تک وہ حضرت غوث الاعظمؓ کی بزرگی کا اعتراف نہ کر لے۔‘‘  (زبدۃ الآثار تلخیص بہجۃ الاسرار)

حسنی اباً ، حسینی اماً

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نجیب الطرفین سیّد ہیں۔ آپؓ کا معزز سلسلہ والد محترم کی جانب سے گیارہ واسطوں سے اور والدہ محترمہ کی جانب سے چودہ واسطوں سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔

والد محترم کی جانب سے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا سلسلہ نسب یوں ہے:
 سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ بن سیّد ابو صالح موسیٰ جنگی دوستؒ بن سیّد عبداللہ ؒ بن سیّد یحییٰ زاہدؒ بن سیّد محمدؒ بن سیّدداؤدؒ ؒبن سیّد موسیٰ ثانیؒ بن سیّد عبداللہ ثانیؒ بن سیّد موسیٰ الجونؒ بن سیّد عبداللہ المحضؓ بن سیّدنا حسن مثنیٰؓ بن سیّدنا امام حسن مجتبیٰؓ۔

والدہ محترمہ کی جانب سے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا سلسلہ نسب یوں ہے: 
 سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ بن سیّدہ اُم الخیرامۃ الجبار فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا بنت ِسیّد عبداللہ الصومعی الزاہدؒ بن سیّد جمال الدینؒ بن سیّد محمدؒ بن سیّد محمودؒ بن سیّد ابو العطا عبداللہؒ بن سیّد کمال الدین عیسیٰؒ بن سیّد ابو علاؤ الدین محمد الجوادؒ بن سیّدنا امام علی رضاؓ بن سیّدنا امام موسیٰ کاظمؓ بن سیّدنا امام جعفر صادقؓ بن سیّدنا امام باقرؓ بن سیّدناحضرت زین العابدینؓ بن سیّدنا امام حسینؓ۔
(حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ)

 شیخ الاسلام

جس عظیم المرتبت ہستی کے منہ میں شہنشاہِ کائنات نورِ ھُو جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور بابِ فقر و العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مبارک ذات کی جانب سے لعابِ دہن ڈالا جائے اس پاک ہستی کے علم و فراست کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی زبان مبارک سے نکلا ہو ا ہر حرف اپنے اندر بے شمار حکمت و معرفت کے خزانے چھپائے ہوئے تھا۔ فقرِ محمدیؐ کے خزانوں کو آپؓ نے اپنی دانش و بصیرت سے عوام الناس میں بے بہا لٹایا۔ آپؓ کا سینہ مبارک  فقر و علم کا گنجینہ تھا۔ آپؓ جب بھی کسی موضوع پر لب کشائی فرماتے معرفت و حکمت کے موتی بکھیر دیتے تھے۔ فقر و تصوف، علم و حکمت، فہم و فراست، علمِ فقہ اور دانش و بصیرت میں کوئی آپؓ کا ثانی نہیں۔ اس لیے آپؓ ’’شیخ الاسلام‘‘ کے لقب سے بھی پکارے جاتے ہیں۔

امام الاولیا

 

سروں پر لیتے ہیں جسے تاج والے

تمہارا قدم ہے وہ یا غوث الاعظمؓ

 سیّدنا غوث الاعظمؓ تمام اولیا کرام کے ’امام‘ ہیں۔آپؓ کے حکم کے بغیر امامت و ولایت کو کوئی نہیں پاسکتا۔ آپؓ کو ہر ولی کے حال پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس لیے آپؓ کی آمد سے قبل ہی آپؓ کے چرچے ہر صاحب ِبصیرت کی زبان زدِ عام تھے۔

شیخ ابوبکر بن ہوارؒ نے ایک روز اپنی مجلس میں فرمایا کہ عراق کے سات قطب ہوں گے:
1۔معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ
2۔احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ
3۔بشرحافی رحمتہ اللہ علیہ
4۔منصوربن عما ر رحمتہ اللہ علیہ
5۔جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ
6۔سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ
7۔عبدالقادر جیلی رضی اللہ عنہٗ

شیخ ابوبکر کے مرید شیخ ابومحمد شنکی کا بیان ہے کہ میں اس مجلس میں موجود تھا۔ شیخ کا ارشاد سن کر تعجب ہوا کہ ساتویں قطب یعنی عبدالقادر جیلیؓ کا نام تو ہم نے کبھی نہیں سنا۔ شیخ ابوبکر سے دریافت کیا ’’یاحضرت! عبدالقادر جیلیؓ کون ہیں؟‘‘ جواب دیا ’’عبدالقادر ایک عجمی مردِ صالح ہوگا اس کا ظہور پانچویں صدی ہجری کے آخر میں ہوگا۔ اس کی سکونت بغداد شریف میں ہوگی جو اعلان فرمائے گا ’میرا یہ قدم اللہ تعالیٰ کے ہر ولی کی گردن پر ہے۔‘‘ (حوالہ کتاب: امام الاولیائ)

شیخ الشیوخ

سیّدنا غوث الاعظمؓ ’’شیخ الشیوخ‘‘ کے لقب سے بھی مشہورہیں۔ آپؓ کی وعظ و نصیحت کی محافل میں ہزاروں مشائخ فیوض و برکات کے حصول کے لیے شرکت فرما کر نہ صرف اپنے قلوب نورِ الٰہی سے منور فرماتے بلکہ آپؓ کے دور کے مشائخ آپؓ کی خدمت قربِ الٰہی کے حصول کے لیے کیا کرتے تھے۔

روایت ہے کہ ’’شیخ ابو عمر عثمان صریفینیؒ ، شیخ بقا بن بطوؒ ، شیخ علی بن الہیتیؒ اور شیخ ابو سعد قیلویؒ سیّدناشیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے مدرسہ کی طرف آتے تھے، اُنؓ کے دروازے کے آگے جھاڑو دیا کرتے تھے۔ اُنؓ کی خدمت میں بغیر اذن کے نہ جاتے اور جب خدمت میں جاتے توآپؓ اُن سے کہتے بیٹھ جاؤ۔ وہ کہتے ’کیا ہمارے لیے امان ہے؟‘ سیّدنا غوث الاعظمؓ فرماتے ’ہاں‘ ہے۔ پھر وہ سب ادب کے ساتھ بیٹھ جاتے۔ آپؓ اُن کو اس کام سے منع فرماتے تو پھر وہ کہتے: ’’اس سے ہم خداکی طرف تقرب چاہتے ہیں۔‘‘ (امام الاولیائ)

السیّد السند

’’سیّد‘‘ کا لقب اُن کے لیے مخصوص ہے جو حضرت علی کر م اللہ وجہہ اور حضرت سیّدہ فاطمہ الزہراؓ کی اولاد ہیں۔ ’’سیّد‘‘ کا مطلب سردار کے ہیں جو کہ نسبت ِمحمدؐ کے باعث عطاکیا گیاہے۔ سیّدنا غوث الاعظمؓ وہ پاکیزہ ہستی ہیں جنہیں ’’ السیّد السند‘‘ کے مبارک لقب سے بھی نوازا گیا۔ آپؓ کا پاکیزہ نسب والد محترم کی جانب سے سیّدنا امام حسن مجتبیٰؓ اور والدہ محترمہ کی جانب سے سیّدنا امام حسینؓ سے جا ملتا ہے۔

 قطب اوحد

شیخ ابو سعید قیلویؒ فرماتے ہیں:
’’قطب وہ شخص ہے جس پر زمانہ کی ولایت ختم ہو، ولایت کے تمام بوجھ اس کی لپیٹ پر ہوتے ہیں اور تمام کائنات کا انتظام و انصرام روحانی اس کے ذمہ ہوتا ہے۔‘‘ (غوث و قطب القاب کی شرعی حیثیت)

قطب کو’ غوث‘ بھی کہا جاتا ہے اور ’غوث‘ اللہ تعالیٰ کے وہ واحد بندے ہوتے ہیں جنہیں منجانب حق تعالیٰ تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ ولایت کے تمام احوال و مقامات سے واقف اور تمام مشائخ کے احوال پر مکمل دسترس رکھنے والے ہیں۔ بحکم الٰہی آپؓ کے اذن کے بِنا کوئی بھی ولایت کی سیڑھی نہیں چڑھ سکتا۔ اس لیے آپؓ ’قطب اوحد‘ کے لقب سے بھی ملقب فرمائے گئے ہیں۔

زعیم العلما (علماکے سردار)

بلاشبہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی شان سب سے بلند و بالا اور افضل ہے۔ حق تعالیٰ نے آپؓ کودینی و روحانی سرفرازی عطا فرمائی۔ علمِ قرآن و حدیث اور علمِ فقہ میں بھی آپؓ کا کوئی ثانی نہیں۔ آپؓ کے افکار اور ملفوظات کو قلم بند کرنے کے لیے چار سو دواتیں مجلس میں لائی جاتی تھیں۔ یہ آپؓ کا ہی فیضِ علم ہے جس سے آج بھی طالبانِ حق اور علمائے حقیقی سیراب ہو رہے ہیں ۔ 

قندیل لامکانی

 

حدِ ادراک سے آگے ہیں سلسلے تیرے 

بجز خدا کے نہ جانے کوئی بھی مرحلے تیرے

اللہ تعالیٰ نے سیّدنا غوث الاعظمؓ کو قطبیت کبریٰ اور ولایتِ عظمیٰ کا مرتبہ عطا فرمایا۔ فرشتوں سے لے کر زمینی مخلوق تک آپؓ کے کمال، جمال اور جلال کا شہرہ تھا۔ آپؓ کو اللہ نے بخشش کے خزانوں کی کنجیاں اور جسمانی تصرفات کے لوازم و اسباق کے تمام اختیارات دئیے تھے۔

مصنف ’’تفریخ الخواطر‘‘ سیّد عبدالقادر اربلیؒ ، شیخ ابو القاسم بطائخیؒ سے روایت بیان کرتے ہیں ’’مَیں کوہ لبنان میں قیام پذیر تھا۔ کوہ لبنان میں ایک شیخ عبداللہ جیلیؒ ایک عرصہ سے قیام پذیرتھے۔ مَیں ان کے پاس جا بیٹھا اور پوچھنے لگا ’حضرت آپ کو یہاں قیام پذیر ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟‘ انہوں نے بتایا ’ساٹھ سال ہو گئے ہیں۔‘ مَیں نے دریافت کیا ’یہاں کوئی عجیب بات دیکھی ہو تو بیان فرمائیں۔‘ آپ نے فرمایا: ’مَیں یہاں اکثر دیکھتا ہوں کہ کوہستانی لوگ چاندنی رات میں روشن چہروں کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں اور قافلہ در قافلہ بغداد کی طرف پرواز کرتے ہیں، مَیں نے ایک ایسی پرواز کرنے والے سے پوچھا کہ آپ لوگ کدھر جاتے ہیں؟ اُس نے بتایا کہ ہمیں حکم ہوا ہے کہ ہم بغداد میں شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی خدمت میں حاضری دیا کریں۔ مَیں نے بھی ان کے ساتھ جانے کا اشتیاق ظاہر کیا اُس نے کہا آپ بھی چلیں۔ ہم ایک چاندنی رات بغداد پہنچے۔ حضرت سیّدنا غوث الاعظم ؓکے سامنے بیشمار اولیااللہ صف بستہ دست بستہ کھڑے تھے۔ آپؓ جدھر نگاہ اُٹھاتے اولیااللہ سر جھکادیتے۔ جب آپؓ اشارہ ابرو سے اجازت دیتے تو صف در صف اولیااللہ پرواز کرتے اپنے اپنے وطن کو روانہ ہو جاتے۔ جس دِن آپؓ نے  قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ اعلان فرمایا ہماری گردنیں جھک گئی تھیں۔ (حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ) 

 سلطان الاولیا

مقامِ ولایت میں سیّدنا غوث الاعظمؓ تمام اولیا اللہ کے سردار اور سلطان ہیں۔
روایت ہے کہ شیخ ابو الفتوح یحییٰ بن سعد اللہ بن حسین تکریتیؒ سے سُنا وہ فرماتے تھے کہ جب شیخ موسیٰ زولیؒ حج کر کے بغداد میں آئے تو مَیں اور میرے والد آپؒ کے ساتھ تھے اور جب شیخ عبدالقادرؓ کے پاس بغداد جا کر ملے تو ہم نے شیخ موسیٰ زولیؒ کو اُنؓ کا ایسا ادب وغیرہ کرتے دیکھا کہ کسی اور کے ساتھ ایسی عزت و احترام نہ کرتے تھے۔ پھر جب ہم علیحدہ و تنہا ہوئے تو میرے والد نے اِن سے کہاکہ ’آپ نے جیسی عزت ’’عبدالقادرؓ‘‘کی کی ہے،مَیں نے کسی اور کی ایسی عزت کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ’’شیخ عبدالقادر ہمارے زمانہ میں لوگوں سے بہتر ہیں اور ہمارے وقت کے سلطان الاولیا اور سیّد العارفین ہیں۔ مَیں ایسے شخص کا کہ جس کا ادب ملائکہ کرتے ہیں ادب کیسے نہ کروں۔‘‘ (امام الاولیائ)

محبوبِ سبحانی

سیّدنا غوث الاعظمؓ معرفت کی روح، ولایت کا تاج اور تمام مشائخ سے بلند و بالاتر ہیں۔ آپؓ جس مرتبۂ محبوبیت پر فائز ہیں کوئی اور ولی اللہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ آپؓ کا فرمان مبارک  ’’قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ‘‘ (ترجمہ: میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے) بارگاہِ الٰہی میں آپؓ کا محبوب و مقرب ہونے کی دلیل ہے۔

اقتباس الانوار کے مصنف شیخ محمد اکرم قدوسیؒ لکھتے ہیں ’’شیخ ابوالبرکاتؒ اپنے والد محترم سے روایت فرماتے ہیں ’حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے علاوہ مقتدین اور متاخرین میں سے کسی اور بزرگ نے بھی یہ کلمات فرمائے ہیں؟‘ انہوں نے جواب دیا: ’نہیں۔‘ مَیں نے پھر دریافت کیا کہ ’کیا غوث الاعظمؓ کو یہ کلمات کہنے کا حکم آیا تھا؟‘ انہوں نے جواب دیا ’بالکل حکم آیا تھا اور تمام اولیا اللہ کا گردنیں جھکا دینا اسی حکم کے باعث تھا۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ملائکہ نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت آدمؑ کو سجدہ کیا تھا۔ ‘‘ (سیّد الاولیائ)

ابو صالح

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کا ظہور اس وقت ہوا جب اسلامی اورمعاشی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ حرام حلال کا لباس پہن چکا تھا۔ نام نہاد مسلمان رہ گئے تھے اور اسلام کی روح قلوب سے خارج ہوتی جا رہی تھی۔ دولت کی فراوانی، نگاہ کی لذّت، عیش و عشرت کی رنگینی کے باعث معاشرہ کے ہر طبقہ پر اخلاقی انحطاط کا رنگ چڑھ چکا تھا۔ ان سب ناشائستہ حالات کے باوجود سیّدنا غوث الاعظمؓ کی عفت و عظمت پر لاکھوں کروڑوں سلام جنہوں نے ایسے نظام میںرہ کر بھی اپنے دامنِ عظمت کو طیب رکھا۔ آپؓ نے اپنی پوری زندگی طالب علمی سے لیکر آخر تک‘ نہ صرف اپنی عفت و ناموس کو برقرار رکھا بلکہ مخلوقِ خدا کی بھی اسی طرح تربیت فرمائی۔ آپؓ نے اپنے اعلیٰ عمل اور پاکیزہ اخلاق کے ذریعے سے لوگوں کی بے روح اور بے معانی زندگیوں پر ایسا براہِ راست اثر ڈالا کہ آپؓ کے عقیدت مند آپؓ کو ابوصالح کے نام سے پکارتے ہیں۔

 قطب ِربّانی

 جب سیّدنا غوث الاعظمؓ نے بحکم آقا پاک جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مولا کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ وعظ و نصیحت کا آغاز فرمایا تو عرب و عجم سے لوگ آپؓ کی محافل میں جواہر انوارِ الٰہی سمیٹنے آنے لگے۔ آپؓ کا وعظ جلالیت ِالٰہی اور نورِ معرفت سے بھرپور تھا۔ آپؓ نہایت پُرجوش اور دلفریب انداز میں وعظ فرماتے تھے۔ آپؓ کے وعظ میں کسی کی مجال نہ تھی کہ دورانِ وعظ اپنی جگہ سے ہل سکے۔ آپؓ فرمایاکرتے تھے ’’لوگوں کے دلوں پر میل جم گیا ہے جب تک اسے زور سے رگڑا نہ جائے دور نہ ہوگا۔ ‘‘ 

سیّدنا غوث الاعظمؓ کا وعظ و نصیحت کا یہ سلسلہ 521ھ سے 561ھ چالیس سال تک جاری رہا۔ ایک روایت کے مطابق پانچ ہزار سے زائد یہود و نصاریٰ نے آپؓ کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا۔ (بہجۃ الاسرار)   

اللہ پاک کی بارگاہ میں التجا ہے کہ وہ ہمیں سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے وسیلہ جمیلہ سے راہِ فقر میں آپؓ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے زیرِ سایہ فقر کی منازل طے کروائے اور فقرائے کاملین کی غلامی کا طوق صدا ہماری گردنوں میں رہے۔ آمین

استفادہ کتب:
حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ:تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
 زبدۃ الآثار تلخیص بہجۃالاسرار: تصنیف شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ
امام الاولیا
غوث و قطب القاب کی شرعی حیثیت 
تفریح الخاطر فی مناقب سیّدنا عبدالقادرؓ

 

36 تبصرے “القاب سیّدنا غوث الاعظمؓ | Alqabat Syedna Ghous ul Azam

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ghousulazam #alqabat

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ghousulazam #alqabat

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ghousulazam #alqabat

  4. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #ghousulazam #alqabat

  5. سبحان اللہ
    بلاشبہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی شان سب سے بلند و بالا اور افضل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں