عید الفطر | Eid ul Fitr

عید الفطر

تحریر:  وقار احمد سروری قادری

اسلام ایک عالمگیر اور فطری دین ہے۔ اللہ ربّ العزت نے دینِ اسلام کا ہر پہلو انسان کی فطرت کے عین مطابق ترتیب دیا ہے۔ شادی بیاہ، کاروبار،لین دین، معاملات غرضیکہ بچے کی پیدائش سے لے کر مُردے کی تدفین تک اللہ پاک نے کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا کہ جس میں راہنمائی کے لیے امتِ محمدیہ کو غیروں کی طرف دیکھنا پڑے یا ان کی تقلید کرنی پڑے۔ لہٰذا اسلام کا مطلب صرف مجموعۂ عبادات نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ تمام اقوامِ عالم اپنے اپنے مذاہب اور عقائد کے مطابق کچھ مخصوص دن عید کے طور پر خوشی اور جشن مناتے ہیں اور یہ روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ تاریخِ بنی نوع انسان۔ حضرت آدم علیہ السلام کی قوم اس دن عید منایا کرتی تھی جس دن آپ علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم اس دن کو بطور عید مناتی جس دن آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے زندہ باہر نکلے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم اس دن عید مناتی جس دن انہیں فرعون سے نجات نصیب ہوئی۔ شریعتِ محمدی گزشتہ تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی اور قیامت تک رائج رہنے والی ہدایت ہے اس لئے پچھلی امتوں کی روایات ، رسوم و رواج اور طور طریقے بھی منسوخ ہو گئے تاہم خوشی کا اظہار ایک فطری عمل ہے اس لیے اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کو اس معاملے میں احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہونے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو سال میں دو عیدیں عطا فرمائی ہیں؛ عید الفطر اور عید الاضحی۔

حضرت انس رضی اللہ عنہٗ سے ابو داؤد میں روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو اس زمانے میں اہلِ مدینہ دو جشن منایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کیسے دن ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم زمانہ جاہلیت سے خوشی کے دو تہوار مناتے چلے آ رہے ہیں۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن دئیے ہیں یعنی عید الفطر اور عید الاضحی۔‘‘

عید الفطر رمضان کے اختتام پر یعنی یکم شوال المکرم کو منائی جاتی ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام و اکرام کا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بے بہا برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اس دن اللہ ربّ العزت مومنین کو رمضان المبارک میں صوم و صلوٰۃ، عبادت و ریاضت، ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات، زکوٰۃ و عطیات، محبت ِ قرآن میں نمازِ تراویح، غم خواری، ہمدردی اور دیگر تمام نیکیوں کا پورا پورا اجر عطا کرتا ہے اس لیے اس دن یعنی عید الفطر کو ’یوم الرحمتہ‘  بھی کہتے ہیں۔ جن مومنین نے خلوصِ نیت سے اللہ کی رضا کی خاطر رمضان المبارک کے روزوں کا اہتمام کیا ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں ہر نیکی کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک دیتا ہوں لیکن روزہ میرے لیے خاص ہے اسکی جزا میں خود ہوں۔‘‘
حدیثِ قدسی ہے ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کی اللہ تعالیٰ بطور اجر اپنا آپ کیسے عطا فرمائے گا ؟ اس کی وضاحت مندجہ ذیل حدیثِ قدسی سے ہو جاتی ہے :
مَنْ طَلَبَنِیْ فَقَدْ وَجَدَنِیْ ط  وَمَنْ وَجَدَنِیْ عَرَفَنِیْ ط  وَ مَنْ عَرَفَنِیْ اَحَبَّنِیْ ط  وَمَنْ اَحَبَّنِیْ عَشَقَنِیْ ط  وَ مَنْ عَشَقَنِیْ قَتَلْتُہٗ ط  وَ مَنْ قَتَلْتُہٗ فَعَلَیَّ دِیَّتَہٗ ط  وَ اَنَادِ یَّتَہٗ۔
ترجمہ: جو میری طلب کرتا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے اور جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے۔ جو مجھے پہچان لیتا ہے وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے اور جسے مجھ سے محبت ہو جاتی ہے وہ مجھ سے عشق کرنے لگتا ہے اور جسے مجھ سے عشق ہو جائے میں اسے قتل کر دیتا ہوں اور جسے میں قتل کر دیتا ہوں اس کے لیے دیت ہے اور اس کی دیت میں خود ہوں۔

اپنا آپ عطا کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے بندۂ مومن کے دل میں اپنی معرفت و پہچان کی طلب پیدا کرتا ہے۔ یہ طلب بڑھتے بڑھتے محبت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی محبت باقی تمام محبتوں پر غالب آجاتی ہے اور اس قدر شدّت اختیار کر لیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسری محبت باقی نہیں رہتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَّدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ (البقرۃ ۔ 165)  ترجمہ: ’’اور جو ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرتے ہیں۔‘‘ درحقیقت یہی عشقِ حقیقی ہے۔ جب بندۂ مومن عشقِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے تو پھر اپنے محبوب یعنی اللہ کو راضی کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ اپنا گھر بار، مال و دولت، بیوی بچے، دوست احباب، رشتہ دارکسی کی پرواہ نہیں کرتا یہاں تک کہ اسے اپنی ذات کی بھی ہوش نہیں رہتی۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی بات ہوتی ہے کہ کس طرح اپنے محبوب یعنی اللہ کو راضی کرے۔ اپنی تمام تر خواہشات کو پسِ  پشت ڈال کر بندۂ مومن صرف اللہ کی رضا اورخوشی کو مقدم رکھتا ہے یہاں تک کہ اپنی ہستی کو بھی مِٹا دیتا ہے۔ یہ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا   یعنی مرنے سے پہلے مر جاؤ کا مقام ہے ۔ پھر اس بندۂ مومن کا دیکھنا اللہ کا دیکھنا، اس کا سننا اللہ کا سننا، اس کا پکڑنا اللہ کا پکڑنابن جاتاہے۔ اور جو شخص اس مقام کو پالے تو وہی اس حدیث شریف کے مطابق حقیقی خوشی پانے والا ہے ’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کی خوشی اور دوسری روئیت (دیدار) کی خوشی۔‘‘ 

 دراصل رمضان المبارک اور پھر اس کے فوراً بعد عید الفطر مندرجہ بالا ترتیب کا ایک نمونہ ہے وہ اس طرح کہ رمضان میں بندۂ مومن محض اللہ تعالیٰ کی رضاکی خاطر ایک مخصوص دورانیے تک خود کو پاک و حلال سے بھی باز رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زبان اور فکر سے اپنی سوچ کو مزینّ رکھتا ہے۔ نمازِ تراویح میں اللہ پاک کا کلام سن کر اس ذاتِ باری تعالیٰ کے احکامات کی یاد دہانی کرتا ہے تاکہ خود کو حدود اللہ کا پابند بنا سکے۔ آخری عشرہ میں دنیا سے کٹ کر گوشہ نشین ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انتہائی قرب و وصال کے حصول کی کوشش کرتا ہے اورجب بندۂ مومن اس تمام تر کاوش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اللہ تعالیٰ یکم شوال المکرم کو بے پناہ اجر و ثواب سے نوازتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ جب عید آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں پر فخر فرماتا ہے اور فرشتوں سے اپنے بندوں کے بارے میں یوں ہمکلام ہوتا ہے: ’’اس مزدور کی مزدوری کیا ہے جس نے اپنا کام پورا کر لیا ہو؟‘‘ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے میرے فرشتو! بندے اور بندیوں نے میرے اس فریضہ کو‘ جو ان کے ذمہ لازم آتا تھا‘ ادا کر دیا ہے۔ پھر وہ عید پڑھنے نکلے، دعا کے لیے پکارتے ہوئے۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! کرم اور بلندی اور بلند مرتبہ کی قسم! میں ان کی دعا قبول کروں گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے میرے بندو! لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری بدیاں اور گناہ نیکیوں میں بدل دئیے۔‘‘

لہٰذا مومنین اسی اجر کی خوشی میں عید الفطر بطور تشکر مناتے ہیں اور اپنے ربّ کی پاکی و بزرگی بیان کرتے ہیں۔ دیگر اقوام کے برعکس مسلمانوں کا خوشی منانے کا انداز بھی نرالا ہے۔ جہاں اقوامِ عالم رقص و سرود، شراب و شباب، لغویات اور خرافات میں ڈوب کر اپنے تہوار مناتے ہیں وہیں مسلمان خوشی کے اظہار پر ایک اضافی نماز یعنی نمازِ عید ادا کرتے ہیں۔ اپنے ربّ کی بڑائی بیان کرنے کے لیے نمازِ عید میں چھ زائد تکبیرات کہتے ہیں اور جمعہ کی نماز کی طرح دو خطبے سنتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نمازِ جمعہ میں خطبہ نماز سے پہلے جبکہ نمازِ عید پر خطبہ عید کی نماز ادا کرنے کے بعد پڑھا جاتا ہے۔

عید الفطر کی سنتیں

۱۔ شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا
۲۔ غسل کرنا
۳۔مسواک کرنا
۴۔ اپنی حیثیت کے مطابق عمدہ لباس پہننا
۵۔ خوشبو لگانا
۶۔ صبح جلدی اٹھنا
۷۔ جلدی عید گاہ جانا
۸۔ عید گاہ جانے سے قبل کوئی میٹھی چیز کھا کر جانا
۹۔ عید گاہ جانے سے قبل صدقہ فطر ادا کرنا
۱۰۔عید کی نماز عید گاہ میں ادا کرنا
۱۱۔ ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا
۱۲۔عید گاہ پیدل جانا اور آنا
۱۳۔راستہ میں دھیمی آواز میں تکبیرات پڑھتے ہوئے جانا    اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْد 

 عید کے مسائل

  عیدکے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ 

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دو دنوں میں ‘عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابو داؤد)
صدقہ فطر ‘جسے عرفِ عام میں فطرانہ بھی کہا جاتا ہے‘ عید کی نماز سے قبل ادا کر دینا چاہیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’بندہ کا روزہ آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک وہ صدقہ فطر ادا نہ کر دے۔‘‘
کوشش کرنی چاہیے کہ دورانِ رمضان ہی فطرانہ ادا کر دیا جائے تاکہ مستحقین بروقت اپنی ضرورت پوری کر سکیں اور ہمارے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
صدقہ فطر واجب ہے یعنی اگر پچھلے سال ادا نہیں کر سکے تو اس سال ادا کرے اور اس کے لیے روزہ کی بھی شرط نہیں ہے یعنی اگر روزہ نہیں رکھا تب بھی ادا کرناضروری ہے۔ گھر کا سربراہ تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے یہاں تک کہ نمازِ عید سے قبل پیدا ہونے والے نو مولود کا بھی صدقہ فطر ادا کرنا ہے۔ صدقہ فطردو سیر گندم یا اس کی مالیت کے برابر ہوتا ہے۔
عید الفطر پر تکبیرات    اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْد  دھیمی آواز میں پڑھتے ہوئے عید گاہ جانا چاہیے جبکہ عید الاضحی پر تکبیرات باآوازِ بلند پڑھنا سنت ہے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی طالبانِ مولیٰ کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ عید کے روز آپ مدظلہ الاقدس خانقاہ سلطان العاشقین میں تشریف لاتے ہیں جہاں ملک بھر سے طالبانِ مولیٰ آپ مدظلہ الاقدس کے دیدار اور ملاقات کے مشتاق ہوتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس فرداً فرداً تمام طالبانِ مولیٰ سے ملاقات فرماتے ہیں جس سے طالبانِ مولیٰ کی عید کی خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں۔

مریدین کے ہمراہ بہت سے عقیدتمند بھی عید کے روز سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے ملاقات کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور اس بابرکت روز سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر بیعت ہو کر ذکر و تصور اسم اللہ ذات کی نعمت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس بھی عید کے پُرمسرت روز حاضرین و طالبانِ مولیٰ کو خوب خوب نوازتے ہیں کہ طالبانِ مولیٰ عشقِ حقیقی کے جذبہ سے سرشار اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کے روزے اس کی اصل غرض و غایت سے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اس کے اجر کے طور پر عید الفطر کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قرب سے نوازے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں