سیّد نا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ صفات و کمالات | Syedna Hazrat Ali karam allah wajhu Sifaat o kamalat

یوم شہادت۔ 21 رمضان المبارک ۔ سیدّنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ صفات و کمالات

تحریر: مسز عنبرین مغیث سروری قادری۔ ایم اے ابلاغیات

رفیق پیغمبر، امام المتقین، مشکل کشا، شیرِ خدا امام عارفین حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہٗ کا مبارک قلب نورِ الٰہی کی ایسی روشن و پاکیزہ جلوہ گاہ تھا جس پر کبھی بھی کفر و شرک و معصیت کی گرد نہ پڑی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی پیدائش کے فوراً بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہٗ کو گود مبارک میں لے کر اپنا پاک لعاب دہن آپ رضی اللہ عنہٗ کے منہ میں ڈال کر کفر و معصیت کی تمام راہیں بند کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے بلند ترین مقامِ فقر و پایہ علم کی بنیاد ڈالی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی قلبِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے خصوصی نسبت و انسیت کی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں کبھی خود سے دور نہ رہنے دیا اور آپ رضی اللہ عنہٗ  بچپن میں ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سایہ عاطفت میں آگئے۔ ایسے معصوم پاکیزہ قلب کو نور محمدی کی شعاعیں جلا بخشتیں اور حسبِ استعداد علم الٰہی سے بھی مستفید کرتیں جس کا ظاہر نتیجہ یہ نکلا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین اسلام کو آپ رضی اللہ عنہٗ پر پیش کرتے ہی آپ نے فوراً حق کو بلا پس و پیش اور بغیر کسی بڑے کے مشورے کے ازخود قبول کر لیا۔ 

آغاز سے ہی آپ رضی اللہ عنہٗ کی فطرت میں اوصاف و کمالات نبویؐ گوندھ دیئے گئے اور وقت گزرنے پر یہ اوصاف ایسی جامع اور باکمال صورت میں ظاہر ہوئے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مبارک ذات میں پرتوِ نبوت واضح نظر آنے لگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے قلب سے منعکس ہو کر قلبِ علی رضی اللہ عنہٗ میں نظر آنے والا یہ نورِ الٰہی کا جلوہ اتنا خوبصورت لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’علیؓ کے چہرہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔‘‘ 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے کمالات و اوصاف کا شمار کرنا طاقتِ تحریر سے بعید ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی ذاتِ گراں قدر میں ایسے اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں جنہیں آبِ زر سے بھی لکھا جائے تو تحریر کا حق ادا نہ ہو پائے۔ 

شجاعت

حیدر کرار، شیرِخدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایسے شجاع تھے کہ دس سال کی عمر میں بڑے بڑے رعب دار سردارانِ عرب کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر علی الاعلان حق کو قبول کیا اور ہر حال میں اپنے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا جو مرتے دم تک نبھایا۔ ہجرتِ مدینہ کے وقت دشمنانِ حق کے سنگدل تلوار برداروں کی ذرہ بھر پرواہ کیے بغیر بڑے سکون سے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بستر پر سوگئے۔ تمام غزوات میں بہادری کے ایسے ایسے جوہر دکھائے کہ زمین آسمان کے تمام دیکھنے والے عش عش کر اٹھے۔ پہلے معرکۂ حق غزوہ بدر میں پہلا کافر آپ رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا جس کے بعد 13 سال کفارِ مکہ کے رعب میں رہنے والے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور ان کے لیے یہ غزوہ فتح کرنا آسان ہو گیا۔ غزوہ احد میں جب مسلمانوں پر مشکل کا وقت آیا تو شمشیر زنی کے ایسے جوہر دکھائے کہ لاشوں کے ڈھیر لگ گئے اور دشمن کی وقتی فتح کا مزہ کرکرا ہو گیا۔ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حاضر ہو کر آپ رضی اللہ عنہٗ  کی شجاعت کی تعریف کی۔ غزوہ خیبر میں آپ رضی اللہ عنہٗ نے تن تنہا اس قلعے کو فتح کیا جسے دوسرے صحابہ کرامؓ  اپنے لشکر کے ساتھ بھی فتح نہ کر پائے۔ قلعے کا دروازہ اکھاڑ کر اسے بطور ڈھال استعمال کرتے رہے۔ روایات کے مطابق وہ دروازہ چالیس آدمی مل کر بھی نہ اٹھا سکتے تھے۔ تلوار کے ایک ہی وار سے مرحب جیسے نامور پہلوان کا خاتمہ کر دیا۔ بازوئے حیدر میں اس قدر قوت تھی کہ تلوار نے لوہے کے خُود کو کاٹ کر اس کے سر کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی فقر و فاقہ کی زندگی میں کبھی پیٹ بھر کھانا نصیب ہوتا تھا کبھی نہیں۔ اس پر بھی اس قدر طاقت یقینا یہ صرف عشق و ایمان اور فقر کی قوت تھی۔

فقر و درویشی

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فقر و درویشی کا یہ عالم تھا کہ زندگی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور دینِ اسلام کی خدمت میں وقف کر دی اور کبھی کوئی خاص ذریعہ معاش اختیار نہ کیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد اگر کسی جگہ محنت مزدوری مل جاتی تو کر لیتے اور کچھ پیسے اپنے اعیال کے لئے کما لاتے ورنہ دونوں میاں بیوی اور بچے بھی سکون سے فاقے میں گزر بسر کر لیتے۔ زندگی بھر اس تھوڑے سے سامان میں اضافہ نہ ہو پایا جو سیدۃ النسا رضی اللہ عنہا جہیز میں لائی تھیں۔ اکثر نمک کے ساتھ روٹی کھایا کرتے۔ ایک بار آپ رضی اللہ عنہٗ کی صاحبزادی نمک اور روٹی کے ساتھ دودھ بھی لائیں تو آپؓ نے دودھ واپس کر دیا کہ میرے لئے نمک اور روٹی کافی ہے۔ اکثر رات کی تنہائیوں میں وہ دنیا کو ان الفاظ سے خطاب کرتے ہوئے سنے گئے ’’کیا میرے سامنے بن سنور کر آئی ہے اور مجھ پر کمند ڈالتی ہے؟ میں تجھے ہمیشہ کے لئے علیحدہ کر چکا ہوں۔ تیری عمر تھوڑی ہے، تیر ی مجلس حقیر ہے، تیری ہلاکت آسان ہے‘‘۔ 

سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن آپؓ کے حضور میں گیا۔ آپؓ کے گھر میں سوائے ایک بوریئے کے جس پر آپؓ لیٹے ہوئے تھے اور کچھ نہ تھا۔ میں نے عرض کیا یا امیر المومنین آپؓ مسلمانوں کے حاکم، سردار اور بیت المال کے مختار ہیں، آپؓ کے حضور میں بادشاہ اورقبائل کے ایلچی و قاصد آتے ہیں اور آپؓ کے گھر میں سوائے اسی پرانے بورئیے کے اور کچھ نہیں ‘‘ فرمایا ’’ اے سوید! عاقل ایسے گھر پسند نہیں کرتا جس سے اسے نقل کرنا ہو۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمیشگی کا گھر ہے۔ ہم اپنے سامان کو اسی میں نقل کر چکے ہیں اور عنقریب ہم بھی اس کی طرف جانے والے ہیں۔‘‘ سو ید کہتے ہیں کہ بخدا آپؓ کے کلام نے مجھے رُلا دیا۔فقر و درویشی کے باوجود سخاوت کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی کچھ مانگتا تو پاس موجود ہر شے دے دیتے خواہ خود فاقوں کی نوبت آ جائے۔

علم

راہِ فقر میں علم سے مراد علمِ معرفتِ الٰہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو جاننے اور پہچاننے، اللہ کی رضا، اللہ کی تخلیقات کو جاننے کا علم ہے۔ جس شخص کو مکمل معرفتِ الٰہی کا علم حاصل ہو جائے اس پر دنیا بھر کا کوئی علم مخفی نہیں رہتا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علمِ کامل کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہٗ کو حق تعالیٰ نے بوساطتِ نبویؐ  جمیع علومِ ظاہری و باطنی سے مشرف فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حروفِ مقطعات حٰمٓعٓسٓقٓ کی تفسیر میں جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب تعلیم کر دیا ہے۔‘‘ نیز آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’لوگو! مجھ سے آسمان کے راستے پوچھو، میں ان کو زمین کے راستوں سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہٗ  نے یہ بھی فرمایا ’’لوگو! مجھ سے کچھ پوچھ لو اس سے پہلے کہ میں فوت ہو جاؤں کیونکہ میرے پاس سمندر ناپیدا کنار کی طرح علوم ہیں۔‘‘ ایک اور مقام پر آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’اگر میرے لیے مسند بچھائی جائے اور میں اس پر بیٹھوں تو اہلِ توریت کے لیے ان کی توریت سے اور اہلِ انجیل کے لیے ان کی انجیل سے اور اہلِ زبور کے لیے ان کی زبور سے اور اہلِ قرآن کے لیے ان کے قرآن سے حکم کروں۔‘‘ 

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضرت علیؓ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی ’’ب‘‘ کے نقطہ کی شرح فرمانے لگے تو صبح ہوگئی مگر وہ تفسیر پوری نہ ہوئی۔ حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ جو اُمت کے بہت بڑے عالم شمار کئے جاتے ہیں فرماتے ہیں  ’’میرا علم حضرت علیؓ کے علم کے مقابلہ میں ایسے ہے جیسے سمندر کے مقابلے میں چھوٹا سا گڑھا۔‘‘

حضرت خواجہ پارساؒ رسالہ فضل الخطاب میں لکھتے ہیں ’’اگر امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنے غزوات سے فارغ ہوتے تو اُن کی طرف سے ہمارے لیے اس علم حقائق و تصوف کے متعلق وہ باتیں نقل کی جاتیں کہ دل جس کے متحمل نہ ہو سکتے۔‘‘ (فضل الخطاب شریف التواریخ)

حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فصاحت و بلاغت میں سید البلغا اور امام الفصحا تھے۔ عرب و عجم کے فصحا و بلغا آپ رضی اللہ عنہٗ کے خطبات کو سن کر جوش میں کچھ کہنے یا پوچھنے کو اٹھتے مگر پھر بے خود بت بن کر کھڑے رہ جاتے اور کچھ بولنے کی جرأت نہ کر پاتے۔ باوجود اس کے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ نے باضابطہ کسی استاد سے تعلیم حاصل نہ کی تھی، آپ رضی اللہ عنہٗ کو علمِ کلام، علمِ صرف و نحو، علمِ تجوید، علمِ طب، علمِ تاریخ، علمِ حساب، علم تعبیر الرویا، علم ِنجوم، علمِ فقہ، علم الاعداد غرضیکہ ہر طرح کے علم خاص طور پر علمِ فقر جو ان تمام علوم کا جامع اور ماخذ ہے، پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ان سب علوم کے لیے آپ رضی اللہ عنہٗ کے استاد خود علمِ کامل کے اصل سر چشمہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’کسی شخص نے علیؓ کی مثل فضل کا اکتساب نہیں کیا، وہ اپنے دوست کو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے اور برائی سے پھیرتا ہے۔‘‘ پس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تمام علوم امامِ فقر حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو حاصل ہوئے اور ان سے امت کے اہل افراد کو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے فضائل بیان کرتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت کے ساتھ برگزیدہ کیا اور علی رضی اللہ عنہٗ کو علم و شجاعت و فصاحت کے ساتھ ممتاز فرمایا اور ہمارے لیے اپنے پاک ناموں سے دو نام مشتق کیے۔ پس اللہ تعالیٰ محمود ہے اور میں محمدؐ ہوں اور اللہ تعالیٰ ’’اعلیٰ‘‘ ہے اور یہ علیؓ ہے۔‘‘

منصبِ قضا

حضرت علیؓ کے تمام علوم پر کامل عبور کے باعث حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اقضی امتی علی ابن ابی طالب یعنی ’’میری امت میں سب سے زیادہ قضا ( فیصلہ کرنے اور حکم دینے کا اہل) کا مستحق علی رضی اللہ عنہٗ ہے۔‘‘ اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں منصبِ قضا حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی ذات بابرکات سے تعلق رکھتا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعد تینوں خلفائے راشدین بھی ہر موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے علومِ دین سے مستفید ہوتے اور پیچیدہ معاملات میں ہمیشہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ  کے مشورے پر عمل کرتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ  کے دورِ خلافت میں فتویٰ دینے کا حق صرف حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو حاصل تھا۔ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ  نے ایک عورت کو سنگسار کرنے حکم دیا جو نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ جنی تھی لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہٗ  نے انہیں روکتے ہوئے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’حملہ و فصالہ ثلثون شھرا‘‘ (سورۃ الاحقاف۔15) یعنی بچہ کا حمل اور دودھ چھڑانا (کُل) تیس مہینوں کا ہے۔‘‘ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ’’وفصالہ فی عامین‘‘ (سورۃ لقمان۔ 14) یعنی بچہ کا دودھ چھڑانا دو برس (چوبیس ماہ) کے بعد کا ہے۔‘‘ پھر واضح فرمایا کہ سورۃ احقاف کی آیت کے مطابق تیس مہینوں میں سے چوبیس ماہ یا دو برس دودھ پلانے کے ہوئے اور چھ ماہ حمل کے۔ اس طرح ثابت کیا کہ چھ ماہ کا حمل ممکن اور جائز ہو سکتا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ  نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور فرمایا ’’لولا علی ھلک عمر‘‘ یعنی ’’اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہو گیا ہوتا۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ اکثر معاملات کو حل کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے پاس بھیج دیتے اور فرمایا کرتے ’’علیؓ آپؓ  کے بعد اللہ مجھ کو زندہ نہ رکھے۔‘‘

امامِ فقر

اپنے بلند پایۂ علم اور فقر میں سب سے ممتاز ہونے کے باعث حضرت علی کرم اللہ وجہہ بعد میں آنے والے تمام اولیا اللہ کے امامِ فقر ہوئے اور علمِ معرفتِ الٰہی آپ کرم اللہ وجہہ ہی کے توسط سے امت کو آگے منتقل ہوا۔ فقر و تصوف کے تین بڑے سلاسل قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ آپ رضی اللہ عنہٗ  سے ہی جاری ہوتے ہیں۔ 

روایات میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   کی خدمت میں راہِ فقر کے حصول کے لیے تلقین کی خواہش کا اظہار کیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہمیں وہ راستہ بتائیے جو خدا تعالیٰ سے بہت قریب اور نہایت افضل اور سہل الوصول ہو۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اے علیؓ! خلوت اور تنہائی میں اپنے اللہ کے ذکر کی مداومت کیا کر۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہٗ  نے عرض کی ’’ہم کس طرح ذکر کریں؟‘‘ فرمایا ’’اپنی دونوں آنکھیں بند کر لو اور مجھ سے تین مرتبہ سن اور پھر تو بھی تین مرتبہ سنا۔‘‘ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی آنکھیں بند کر کے بلند آواز سے تین مرتبہ کلمہ طیبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘  پڑھا اور آپ رضی اللہ عنہٗ نے سنا۔ اسی طرح آپ  رضی اللہ عنہٗ نے آنکھیں بند کر کے تین مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سنا۔ اس روز سے یہ ذکر صوفیا میں جاری ہوگیا۔ (ریحان القلوب۔ شریف التواریخ)

یعنی سب سے پہلے کلمہ طیبہ کی باطنی و حقیقی تلقین آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو فرمائی اور توحید کی تعلیم دے کر مرتبہ وحدت پر پہنچایا۔

سیرالاقطاب، شریف التواریخ اور آئینہ تواریخ تصوف میں منقول ہے کہ ایک روز حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محفل اقدس میں چاروں اصحاب کباررضی اللہ عنہم بیٹھے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا ’’ہم کو شبِ معراج میں جو خرقہ فقر جناب ربانی سے عطا ہوا تھا وہ اگر تم کو پہنایا جائے تو اس کا حق کس طرح ادا کرو گے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’یا حضرت! میں صدق اختیار کروں گا۔‘‘ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے بھی یہی پوچھا‘ انہوں نے عرض کیا ’’میں عدل اختیار کروں گا۔‘‘ پھر یہی سوال حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے پوچھا‘ انہوں نے کہا ’’میں حیا اور تحمل کروں گا۔‘‘ پھر جناب مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا ’’اگر خرقہ فقر مجھے عطا ہو تو میں اس کے شکریہ میں پردہ پوشی اختیار کروں گا‘ لوگوں کے عیب ڈھانپوں گا اور ان کی تقاصیر سے درگزر کروں گا۔‘‘ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہایت خوش ہو کر فرمایا ’’اے علیؓ جس طرح رضائے مولا و رضائے محمدؐ  تھی اس طرح سے تونے جواب دیا ہے۔ پس یہ خرقہ تیرا ہی حق ہے‘‘ اُسی وقت آپ رضی اللہ عنہٗ کو خرقہ فقر پہنایا اور بشارت دی کہ تم شہنشاہِ ولایت ہو اور میری تمام امت کے پیشوا ہو۔ 

دنیا بھر کے تمام اولیا کرام اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ معرفت و فقر میں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے بلند کسی کا مقام نہیں اور اس سلسلہ میں سب کے رہنما و پیر و مرشد وہی ہیں۔ کسی شخص نے حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ سے پوچھا کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ  بن ابو طالب کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ان کی ذات سے پوچھتا ہے تو وہ  لیس کمثلہٖ شیئٌ ہے اور اگر صفات سے پوچھتا ہے تو وہ ھو اللّٰہ الّذی لا الہ الا ھو عالم الغیب والشہادۃ ھو الرحمٰن الرحیم  ہیں اور اگر ان کی قوت سے پوچھتا ہے تو انما امرہ اذا اراد شیائً ان یقول لہٗ کن فیکون ہیں اور اگر ان کا فعل پوچھتا ہے تو وہ قل ھو اللّٰہ احد ہیں۔‘‘ (کتاب الفوائد)

مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کے اس کلام سے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ  کا مقام فنا فی اللہ بقا باللہ ظاہر ہوتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس حدیث کی حقیقت واضح ہوتی ہے ’’علیؓ کے چہرہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے‘‘ اور یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ  کا اسم گرامی اللہ کے اسم ’’اعلیٰ‘‘ سے ہے۔ غوث الاعظمؓ جن پر تمام سلاسلِ فقر و تصوف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آکر مجتمع ہوتے ہیں اور پھر انہی سے آگے پھیلتے ہیں‘ بھی ناصرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حسنی حسینی اولاد میں سے ہیں بلکہ ان کا اپنا سلسلہ طریقت بھی چودہ واسطوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ سیدّنا غوث الاعظمؓ  کے پیر طریقت حضرت ابوسعید مبارک مخزومیؒ نے آپؓ کو خرقہ ولایت پہناتے ہوئے فرمایا ’’اے عبدالقادرؓ یہ خرقہ جناب سرورِ کائنات رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ   کو عطا فرمایا۔ انہوں نے خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو عطا فرمایا اور ان سے دست بدست مجھ تک پہنچا۔‘‘

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’میں علم (فقر) کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ۔‘‘ یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی رہنمائی کے بغیر کوئی علمِ معرفت کے شہر میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ہر طالبِ مولیٰ کے لیے راہِ فقر و ہدایت حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی توجہ سے ہی کھلتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’جب کوئی طالبِ مولیٰ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں داخل ہوتا ہے تو اس پر چار نظروں کی تاثیر وارد ہوتی ہے‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ  کی نظر سے اس کے وجود میں صدق پیدا ہوتا ہے اور جھوٹ اور نفاق اُس کے وجود سے نکل جاتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ  کی نظر سے عدل اور محاسبہ نفس کی قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے وجود سے خطرات و ہوائے نفسانی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ   کی نظر سے ادب و حیا پیدا ہوتی ہے اور اس کے وجود سے بے ادبی و بے حیائی ختم ہوجاتی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ  کی نظر سے علمِ ہدایت و فقر پید اہوتا ہے اور اس کے وجود سے جہالت اور حبِ دنیا کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد طالب لائقِ تلقین بنتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُسے دستِ بیعت فرما کر مرشدی کے لاتخف ولا تحزن مراتب عطا فرماتے ہیں۔‘‘ (شمس العارفین)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ تمام سلاسل کے امام ہیں اور تمام سلاسل بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہی گزر کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتے ہیں۔ جس مرشد کامل اکمل کا سلسلہ بیعت در بیعت اور کڑی در کڑی حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے اسے فقر کی اصطلاح میں شیخِ اتصال کہتے ہیں۔ اس لیے جو طالب ایسے شیخ کامل اکمل کے دستِ مبارک پر تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح کے لیے بیعت کرتا ہے اس کا روحانی تعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قائم ہو جاتا ہے اس لیے ایسے کامل اکمل مرشد کی اتباع انہی کی اتباع ہے۔

موجودہ دور میں ایسے صاحبِ اتصال مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جن کے دستِ اقدس پر بیعت کے بعد خلوصِ نیت اور استقامت سے عشقِ الٰہی کی راہ پر چلنے والے طالب کو مجلسِ محمدیؐ کی حضوری نصیب ہوتی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے نہ صرف روحانی تعلق قائم ہوتا ہے بلکہ ان کا فیض بھی حاصل ہوتا ہے۔

استفادہ کتب:
۱۔ ریحان القلوب
۲۔ شریف التواریخ
۳۔ آئینہ تواریخ تصوف
۴۔ شمس العارفین

38 تبصرے “سیّد نا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ صفات و کمالات | Syedna Hazrat Ali karam allah wajhu Sifaat o kamalat

    1. حضرت علی کرم اللہ وجہہ تمام سلاسل کے امام ہیں اور تمام سلاسل بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہی گزر کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتے ہیں۔

  1. بہت بہترین مضمون ہے حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ الکریم کی شان میں۔

  2. علی کرم اللہ وجہہ تمام سلاسل کے امام ہیں اور تمام سلاسل بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہی گزر کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتے ہیں۔ جس مرشد کامل اکمل کا سلسلہ بیعت در بیعت اور کڑی در کڑی حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے اسے فقر کی اصطلاح میں شیخِ اتصال کہتے ہیں

  3. ماشاءاللہ بہت ہی اعلیٰ مضمون ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان مبارکہ میں۔

  4. ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    میں علم کا شہر ہوں اور علی علیہ السلام علم کا دروازہ ہیں!

    1. حضرت علی کرم اللہ وجہہ تمام سلاسل کے امام ہیں اور تمام سلاسل بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہی گزر کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتے ہیں۔ جس مرشد کامل اکمل کا سلسلہ بیعت در بیعت اور کڑی در کڑی حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے اسے فقر کی اصطلاح میں شیخِ اتصال کہتے ہیں۔ اس لیے جو طالب ایسے شیخ کامل اکمل کے دستِ مبارک پر تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح کے لیے بیعت کرتا ہے اس کا روحانی تعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قائم ہو جاتا ہے اس لیے ایسے کامل اکمل مرشد کی اتباع انہی کی اتباع ہے۔

  5. حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فصاحت و بلاغت میں سید البلغا اور امام الفصحا تھے۔

  6. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #yaali #hazratali #alimola #ramzanspecial

  7. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #yaali #hazratali #alimola #ramzanspecial

  8. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #yaali #hazratali #alimola #ramzanspecial

  9. حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات بابِ فقر ہے♥️♥️♥️♥️♥️

اپنا تبصرہ بھیجیں