مسجد ِزہراؓ کی تعمیر کا مقصد اور اس کی اہمیت | Masjid e Zahra ki Tameer ka Maqsad or is ki Ahmiyat

مسجد ِزہراؓ کی تعمیر کا مقصد اور اس کی اہمیت

اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ  اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ (سورۃ التوبہ۔18)
ترجمہ: اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا۔ پس اُمید ہے کہ یہی لوگ فلاح پانے والوں میں سے ہیں۔

یعنی مسجدیں آباد کرنا، ان کی تعمیر میں جانی و مالی تعاون کرنا، تعمیر کا بندوبست اور دیکھ بھال رکھنا، یہ سب ایمان کی علامتیں ہیں اور ایسے شخص کیلئے اللہ کی طرف سے ایمان کی گواہی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
’’جو اللہ کی رضا (اور خوشنودی) کیلئے مسجد بنائے گا تو اللہ کریم اس کیلئے جنت میں اس جیسا گھر بنا دے گا۔‘‘ (بخاری شریف)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے احادیثِ مبارکہ میں مساجد کو آباد کرنے اور تعمیر کرنے والوں کے لیے بے شمار بشارتیں اور انعامات کی نوید سنائی ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو کوئی ایک چیل کے گھونسلے جتنی مسجد بنائے (یعنی کوئی مسجد کی تعمیر میں اگر اتنا بھی حصہ ڈالے) تو  اللہ تعالیٰ اس کا گھر جنت میں بنائے گا۔‘‘ (اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے) 

حضرت انس رضی اللہ عنہٗ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٖہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اللہ تعالیٰ (کی رضا) کے لیے چھوٹی یا بڑی مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔‘‘ (اس حدیث کو امام ترمذی اور ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے)

 آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مساجد کو اللہ کا گھر اور جنت کا باغ قرار دیا اور اس کی تعمیر کو صدقہ جاری فرمایا۔ صحابہ کرام ؓ میں سے جو صحابی مسجد کی تعمیر میں جس قدر دلچسپی لیتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان سے اسی قدر زیادہ خوش ہوتے تھے۔
مسجد کو تعمیر کرنے کا مقصد عبادات کے ساتھ ساتھ اسے آباد کرنا بھی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’جو لوگ کثرت سے مسجد میں جمع رہتے ہیں وہ مسجد کے کھونٹے ہیں، فرشتے ان کے ہم نشین ہوتے ہیں اگر وہ بیمار ہوجائیں تو فرشتے ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی کام کو جائیں تو فرشتے ان کی اعانت کرتے ہیں۔‘‘ (مستدرک حاکم)

مساجد تعمیر کرنا اور پھر انہیں آباد کرنا اللہ کے مندرجہ بالا حکم کے عین مطابق اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنتِ عظیم ہے۔ مو جودہ دور کے انسانِ کامل و مرشد کامل اکمل اور بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک دعوتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس چونکہ عین قدمِ محمدؐ پر اور فقیرِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہیں اس لیے آپ مدظلہ الاقدس نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دینِ اسلام کی مزید سر بلندی اور امت کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے اور آپس میں جوڑنے کی خاطر مسجد کی تعمیر کا ارادہ فرمایا۔اس مقصد کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جہاں قرب و جوار میں کوئی بھی وسیع و عریض جامع مسجد موجود نہ تھی جو مرکزِ دین و فقر کا نمونہ بن سکے۔

مسجد کا سنگِ بنیاد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اپنے دستِ مبارک سے رکھا اور تعمیر مسجد کا کام زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے پنجتن پاک بالخصوص سیدّہ کائنات حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے والہانہ محبت کی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجدِزہراؓ رکھا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا ہی وہ واحد ہستی ہیں جن کا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے درمیان وہی مقام ہے جو انگوٹھی میں نگینہ کا ہے کہ ان سب پاک ہستیوں کا آپؓ سے بلاواسطہ تعلق ہے یعنی آپ رضی اللہ عنہا ان ہستیوں کو جوڑنے والی تھیں۔ اسی نسبت سے آپ مدظلہ الاقدس نے آپ رضی اللہ عنہا کے پاک و مقدس نامِ گرامی پر اس مسجد کا نام مسجد زہراؓ رکھا کہ یہ دینِ اسلام کا ایسا مرکز و محور ہوگا جو تمام امتِ مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر لے گا اور یہ مسجد نہ صرف موجودہ دور بلکہ آنے والے ادوار کے لیے ایک شاہکار اور نمونہ ہوگی انشاء اللہ۔ 

عطیات، صدقات، خیرات برائے  زیرِ تعمیر مسجد ِزہراؓ

تحریک دعوتِ فقر کی انتظامیہ اور ممبران آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے عطیات، صدقات، خیرات اور فنڈ اس نیک اور عظیم مقصد کو پورا کرنے کے لیے تحریک دعوتِ فقر کو دیں۔ آپ کا دیا ہوا ایک ایک روپیہ خالصتاً مسجد کی تعمیر میں استعمال کیا جائے گا اور جب تک مسجدِ زہرا قائم و آباد رہے گی اس کی تعمیر میں جانی و مالی تعاون کرنے والوں کو بھی اس کا اجر ملتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں