عقیدہ ختم ِنبوتؐ | Aqeeda Khatm e Nabuwat

عقیدہ ختم ِنبوتؐ

محترمہ فرح ناز سروری قادری (ہارون آباد)

مسلمان ہونے کی شرطِ اوّلین اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار اور بطور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت کی تصدیق ہے۔ یعنی جب کلمہ طیب پڑھا جاتا ہے تو اس میں ہم اللہ کی وحدانیت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت پر ایمان لا رہے ہوتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاتم الانبیا ہونے پر جو  شک کرتا ہے وہ مسلمانوں کی صف سے نکل جاتا ہے اور اس کا ایمان زائل ہو جاتا ہے۔
ختمِ نبوت کے متعلق ارشادِ ربّانی ہے: 
مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ (سورۃ الاحزاب۔ 40)
ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسولؐ اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے) ہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام نبیوں اور رسولوں کے آخر میں تشریف لائے۔ نبوت و رسالت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہو گیا ۔گزشتہ انبیاعلیہم السلام کی تبلیغ و ہدایت اور نبوت و رسالت ایک علاقے یا ملک تک محدود رہی۔ انہوں نے کبھی عالمگیر دعوت و پیغامِ حق کا دعویٰ نہیں کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاپیغام عالمگیر تھا اور آپؐ کی مخاطب پوری دنیا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پوری کائنات کے لیے’بشیر‘ اور ’نذیر‘ بن کر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام مکمل اور  محفوظ شکل میں تمام دُنیا کے انسانوں کی ہدایت کے لیے باقی چھوڑا اورکسی نئے نبی یا رسول کے آنے کی ضرورت کو ختم کر دیا۔ اس لیے قرآنِ حکیم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ’’خاتم النبیین‘‘ کہا۔ عربی زبان میں ’’خاتم‘‘ کا معنی اس مہر کے ہیں جو لفافے پر اس لیے لگائی جاتی ہے تاکہ اس میں کوئی کمی بیشی نہ کی جا سکے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آنے سے نبوت و رسالت کا سلسلہ سر بہ مہر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد اب کوئی نبی نہ آئے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی گواہی خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کہہ کر دی ’’میری اور تمام انبیا علیہ السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمدہ اور خوبصورت عمارت بنائی اور لوگ اس کے آس پاس چکر لگا کر کہنے لگے ہم نے اس سے بہترین عمارت نہیں دیکھی مگر یہ ایک اینٹ (کی جگہ خالی ہے جو کھٹک رہی ہے) تو میں (اس عمارت کی) وہ (آخری) اینٹ ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم5959) 

تکمیلِ دین

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر دینِ اسلام کو مکمل کر دیا اور فرمایا: 
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضَیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (سورۃ المائدہ۔3)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت (نبوت و رسالت) پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کر لیا۔

اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر دین مکمل کر دیا اور دین کے مکمل ہونے کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں رہتی۔دین کی تکمیل سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعے ناصرف قرآن بلکہ اس کی ظاہری تعمیل بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک ایک عمل سے واضح کر کے دکھا دی۔ عبادات، اخلاقیات، معاملات غرض ہر لحاظ سے شریعتِ محمدی کی صورت میں ایک مکمل ضابطہ حیات مسلمانوں کے لیے موجود ہے لہٰذا اب اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں شریعت کا فلاح حصہ مکمل کرنے آیا ہوں تو وہ لعنتی ہے، کذاب ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد نہ تو کسی پر وحی نازل ہوگی اور نہ ہی کوئی الہامی کتاب۔ دین بھی مکمل ہو چکا اور احکاماتِ دین بھی۔

ختمِ نبوت سے متعلق ارشاداتِ نبویؐ 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے کئی ارشادات میں ختمِ  نبوت کو واضح کیا ہے جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل میں جب ایک نبی وفات پا جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)
اب رسالت ونبوت منقطع ہو چکی ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی۔
میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علیؓ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔
حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں ’’میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیا کی مساجد میں آخری مسجد ہے‘‘۔
حضرت عقبہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’میری امت میں جھوٹے پیدا ہوں گے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں‘‘۔
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ابوذرؓ! نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدمؑ اور سب سے آخری نبی محمدؐ ہیں‘‘۔
حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں‘‘۔ (جامع ترمذی)
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’رسالت اور نبوت تو ختم ہو چکی ہے میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔ یہ بات صحابہؓ پر شاق گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’مبشرات باقی ہیں‘‘۔ صحابہؓ نے عرض کیا ’’مبشرات کیا ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’سچے خواب اور وہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔‘‘ (جامع ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں اللہ کے نزدیک اس وقت خاتم النبیین مقرر ہو چکا تھا جبکہ آدمؑ ابھی گارے ہی کی شکل میں تھے۔‘‘ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مجھے چھ چیزوں کے ذریعہ دیگر انبیا پر فضیلت دی گئی ہے:
مجھے جامع کلمات عطا ہوئے، دشمنوں کے دل میں میرا رعب ڈال کر مجھے فتح و نصرت عطا فرمائی گئی،مالِ غنیمت میرے لیے حلال قرار دیا گیا، ساری زمین کو میرے لیے سجدہ کی جگہ اور پاک کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا، ساری مخلوق کے لیے مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیااور نبوت و رسالت کا سلسلہ مجھ پر ختم کر دیا گیا‘‘۔

فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود
ختمِ دَورِ رسالت پہ لاکھوں سلام 

 

اجماعِ صحابہؓ

تمام صحابہ کرامؓ کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی لیے حضرت ابو بکرؓ نے صحابہ کرامؓ کا ایک لشکر اس نبوت کے جھوٹے دعویدار کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا جس کی وضاحت کے لیے ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔

جنگِ یمامہ:

جنگِ یمامہ مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جس میں بہت سے صحابہ کرامؓ شہید ہوئے لیکن اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا گیا۔ خلیفہ اوّل سیدّنا ابو بکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: ’’لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے، اہلِ بدر ہوں یا اہلِ احد، یمامہ کا رخ کرو‘‘۔ بھیگتی آنکھوں سے وہ دو بارہ بولے:’’مدینہ میں کوئی نہ رہے حتیٰ کہ جنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں‘‘۔صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر حضرت علی المرتضیٰ سیدّنا صدیقِ اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔ 

ہزار کے مقابل بنو حنفیہ کے جنگجو اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔ جنگِ یمامہ وہ جنگ تھی جس کے متعلق اہلِ مدینہ کہتے تھے بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ پہلے کبھی لڑی نہ بعد میں لڑی۔ ختمِ نبوت کے دفاع میں صحابہ کرامؓ کٹے جسموں کے ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔ اے مسلمانو! تمہیں پھر بھی ختم نبوتؐ کی اہمیت معلوم نہ ہوئی۔ انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس جس کی بہادری کے قصّے عرب و عجم میں مشہور تھے اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا: اے اللہ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برات کا اظہار کرتا ہوں۔ چشمِ فلک نے وہ منظر دیکھا جب وہ اکیلا ہزار کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیرو سناں کا زخم نہ لگا ہو۔ عمر بن خطابؓ کے بھائی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے والوں کی صفِ اوّل میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں میں آخری خطبہ دیا ’’واللہ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کروں گا جب تک انہیں شکست نہ دے دوں یا شہید نہ ہو جاؤں‘‘۔ اے مسلمانو! تمہیں پھر بھی ختمِ نبوت کی اہمیت معلوم نہ ہوئی۔ بنو حنفیہ کا باغ حدیقتہ الرحمان میں اتنا خون بہا کہ اسے حدیقتہ الموت کہا جانے لگا، اس باغ کی دیواریں مثل قلعہ کی تھیں۔  کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا لشکر ہو اور برابن مالک کہے:’’اے مسلمانو! اب ایک ہی راستہ ہے کہ تم مجھے اٹھا کر قلعے میں پھینک دو میں تمہارے لیے دروازہ کھولوں گا‘‘۔ انہوں نے دیوار پر کھڑے ہوکر منکر ینِ ختمِ نبوت کے اس لشکر کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں چھلانگ لگا دی قیامت تک جو بھی بہادری کا دعویٰ کریگا یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!! ایک اکیلاشخص ہزاروں سے لڑرہا تھا۔ اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور پھر مسلمانوں نے منکرین ختمِ نبوت کو کاٹ کر رکھ دیا۔ 

اے مسلمانو! کاش کہ تم جان لیتے کہ تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ختمِ نبوت کا دفاع کیا ہے، کاش تمہیں رسولؐ کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتاجوایک مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حدِنگاہ تک پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔ 

اللہ کا قانون ہے کہ جس چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی وہ مٹا دی جاتی ہے اور جس شے کی ضرورت ہوتی ہے وہ باقی رکھی جاتی ہے اور اسے مٹنے سے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ خاتم الانبیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا آئے لیکن دنیا آج ان میں سے اکثر کے ناموں سے بھی آگاہ نہیں۔ قرآن مجید سے پہلے بہت سی کتابیں نازل ہوئیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ نہیں۔ جبکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہونے والا قرآن اور اس کا ایک ایک حرف محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شریعت کو محفوظ رکھا گیا جبکہ آپ سے پہلے انبیا کی شریعت یا تو مٹ گئیں یا ان میں اسقدر ردّ و بدل ہو گیا کہ وہ اپنی اصل صورت میں موجود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ مطہرہ کا ایک ایک پہلو روزِ روشن کی طرح واضح ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی سے قیامت تک لوگ ہدایت پائیں گے اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا درج ذیل فرمان مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے:
لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ 
ترجمہ: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ختمِ نبوت کو شاعر نے کیا خوب انداز میں بیان کیا ہے:

اُتارا دینِ اسلام اور افضل کر دیا اس کو
ختم کر کے رسالت ربّ نے اکمل کردیا اس کو

نبوت کی عمارت میں فقط اک اینٹ رہتی تھی
میرے آقاؐ کی آمد نے مکمل کر دیا اس کو

خدا نے لاج رکھی اس طرح شمعِ رسالت کی
کبھی جو بجھ نہیں سکتی وہ مشعل کر دیا اس کو 

کہاں رہتا شک و شبہ کوئی ختمِ نبوت میں
قرآنی آیتوں نے جب مدلل کر دیا اس کو 

نہیں ہے کوئی گنجائش نئے دین و پیغمبر کی
کہ دو سو دس حدیثوں نے مفصل کر دیا اس کو 

زمانۂ محمدؐ سے خدا نے روزِ محشر تک
بنا کے آخری امت مسلسل کر دیا اس کو 

محمدؐ لائے جو مہرِ نبوت پاک شانوں پر
نشانی دے کے اللہ نے مسجل کر دیا اس کو

’’نہیں آئے میرے بعد کوئی بھی نبی لوگو‘‘!
حقیقت میں حقیقت نے ہی اٹل کر دیا اس کو 

کیا جب بھی کسی کاذب نے دعویٰٔ پیغمبری
محمدؐ کے دیوانوں نے معطل کر دیا اس کو 

کرو ہر جھوٹے دعویدار کی بس عقل پہ ماتم
کہ مرزائیت نے عقل سے ہی پیدل کر دیا اس کو

یہ فتنہ کیوں اٹھایا جاتا ہے ہر تھوڑے عرصے بعد
کہ جب آئین پاکستان نے مقفل کر دیا اس کو
(جوہر عباد)

قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے۔ پس ہر صاحبِ ایمان کے ذمہ ہے کہ و ہ اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو۔ اے مسلمانو! تحفظِ ختمِ نبوت کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تاکہ قیامت کے دن خاتم النبیینؐ کی شفاعت نصیب ہو۔ 

وہ نبوت ہے مسلمان کے لیے برگِ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام

 

راہِ فقر اور عقیدہ ختم ِنبوت

راہِ فقرحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خاص راہ ہے۔ راہِ فقر کے سالکین کے لیے عقیدہ ختمِ نبوت پر یقین رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ راہ تو ہے ہی خاص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی راہ۔ جس پر چلنے کے لیے ضروری ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قدم بقدم پیروی کی جائے۔ اگر بطور آخری نبی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت پر یقین ہی نہ ہوگا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری کیسے حاصل ہو گی؟ راہِ فقر مشاہدہ اور حضوری کی راہ ہے۔ یعنی راہِ فقر پر چل کر اللہ کی معرفت حاصل کرنے والے برائے نام مسلمان نہیں رہتے بلکہ مرتبہ احسان کے حامل مومن بن جاتے ہیں۔ ادراکِ قلبی سے وہ معبودِ حقیقی کی پہچان حاصل کر لیتے ہیں۔ تصفیہ قلب کے بعد انہیں حضورِ قلب کی کیفیت حاصل ہو جاتی ہے اور مرشد کامل اکمل کی نگاہِ کرم کی بدولت وہ مجلسِ محمدیؐ کی حضوری حاصل کر لیتے ہیں۔ راہِ فقر کے راہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جسے حیات النبی پر اعتبار نہیں وہ دونوں جہان میں خوار ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر وہ شخص مردہ سمجھتا ہے جس کا دل مردہ ہو اور اس کا سرمایۂ ایمان و یقین شیطان نے لوٹ لیا ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
اس لیے طالبانِ مولیٰ کے لیے لازم ہے کہ نہ صرف خود عقیدہ ختمِ نبوت پر ثابت قدم رہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لیے بھی سرتوڑ کوششیں کریں تاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سچے طالب اور عاشق ثابت ہوں۔ مرشد کامل اکمل کی صحبت اور ذکر و تصور اسم اللہ ذات کی مدد سے اپنے نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کریں تاکہ روحانی و باطنی ترقی حاصل کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس تک رسائی حاصل کر سکیں۔
حق تعالیٰ جل شانہٗ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) 

36 تبصرے “عقیدہ ختم ِنبوتؐ | Aqeeda Khatm e Nabuwat

  1. بہت اچھا مضمون لکھا ہوا ہے۔ ہر بات کو صحیح طریقے سے سمجھایا گیا ہے۔

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #ramzanspecial #prophetmohammad #thelastmessanger

  3. حق تعالیٰ جل شانہٗ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

  4. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #ramzanspecial #prophetmohammad #thelastmessanger

  5. بہت خوبصورت تحریر ہے۔ ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #ramzanspecial #prophetmohammad #thelastmessanger

  6. فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود
    ختمِ دَورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

  7. ختم نبوت ہرمسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے ۔

      1. لا نبی بعدی۔
        میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

  8. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام نبیوں اور رسولوں کے آخر میں تشریف لائے۔ نبوت و رسالت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پوری کائنات کے لیے’بشیر‘ اور ’نذیر‘ بن کر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام مکمل اور محفوظ شکل میں تمام دُنیا کے انسانوں کی ہدایت کے لیے باقی چھوڑا اورکسی نئے نبی یا رسول کے آنے کی ضرورت کو ختم کر دیا۔ اس لیے قرآنِ حکیم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ’’خاتم النبیین‘‘ کہا۔

  9. نبوت کی عمارت میں فقط اک اینٹ رہتی تھی
    میرے آقاؐ کی آمد نے مکمل کر دیا اس کو

    1. زمانۂ محمدؐ سے خدا نے روزِ محشر تک
      بنا کے آخری امت مسلسل کر دیا اس کو

  10. وہ نبوت ہے مسلمان کے لیے برگِ حشیش
    جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام

  11. ماشاء اللہ بہترین مضمون♥️♥️♥️
    فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود
    ختمِ دَورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

  12. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام نبیوں اور رسولوں کے آخر میں تشریف لائے۔ نبوت و رسالت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پوری کائنات کے لیے’بشیر‘ اور ’نذیر‘ بن کر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام مکمل اور محفوظ شکل میں تمام دُنیا کے انسانوں کی ہدایت کے لیے باقی چھوڑا اورکسی نئے نبی یا رسول کے آنے کی ضرورت کو ختم کر دیا۔ اس لیے قرآنِ حکیم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ’’خاتم النبیین‘‘ کہا۔

  13. حق تعالیٰ جل شانہٗ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) 👌👌♥️♥️♥️

  14. ختم نبوت کو بہت ہی اچھوتے انداز میں بیان کیا گیا ہے ماشا اللہ.

  15. آپ ؐ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں