صبر اور راہِ حق | Sabr or Rahe Haq

صبر اور راہِ حق

تحریر: وسیم آصف سروری قادری (لاہور)

صبر کے لغوی معنی روکنا برداشت کرنا یا باندھ دینا کے ہیں۔ صبر کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ نفس کو ہر اس چیز سے روکا جائے جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
بیشک انسان بے صبر اور حریص پیدا ہوا ہے۔ (سورۃ المعارج۔ 19)
یہاں ایک عام آدمی کی فطرت کے متعلق واضح کیا جارہا ہے کہ وہ بنیادی طور پر بے صبرا ہوتا ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں ’’انسان کو صبر کی تلقین کی گئی ہے اس لیے کہ یہ زندگی ہماری خواہشات کے مطابق نہیں ہوتی۔ جہاں ہماری پسند کی چیز ہمیں میسر نہ آئے وہاں صبر کام آتا ہے۔ جہاں ہمیں ناپسندیدہ واقعات اور افراد کے ساتھ گزارا کرنا پڑے وہاں بھی صبر کام آتا ہے۔‘‘ (دِل دریا سمندر) 

صبر بظاہر تین حرفی لفظ ہے مگر اپنے اندر ہمت، حوصلہ، برداشت، عمل، خیر، نرمی اور سکون کی پوری کائنات سموئے ہوئے ہے۔

صبر کے متعلق قرآنی آیات

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں 90 سے زائد مقامات پر صبر کا ذکر کیا ہے ان میں سے چند بیان کی جا رہی ہیں:
 اور صبر کرو بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۃ الانفال۔ 46)
اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کرو بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ (سورۃ لقمان۔17)
اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو۔ (سورۃ آلِ عمران۔ 200)
اور ہم ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ضرور ان کا اجر عطا فرمائیں گے ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے رہے تھے۔ (سورۃ النحل۔ 96)
بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ (سورۃ الزمر۔ 10)
اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے۔ اور (اے حبیبؐ) آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں بیشک ہم بھی اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔ (سورۃ البقرہ155-156) 

یہاں پر ’’ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے‘‘ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ دنیا مقامِ امتحان ہے جہاں پر انسان کو ضرور بالضرور آزمایا جاتا ہے نہ کہ مقامِ عیش جہاں کوئی آزمائش ہی نہ آئے گی جس پر صبر کرنا پڑے۔

صبر سے متعلق احادیث 

صبر کی اہمیت کے پیشِ نظر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صبر کو نصف ایمان قرار دیا ہے ۔
حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ قیامت کے روز جب مصیبت زدہ لوگوں کو (ان کے صبر کے سبب) اجر و ثواب دیا جائے گا تو اس وقت دنیا میں آرام و سکون (کی زندگی گزارنے والے) تمنا کریں گے کاش! دنیا میں ان کی جلدیں قینچیوں سے کاٹ دی جاتیں۔

حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام صحابہؓ کے ایک گروہ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم مومن ہو؟ وہ خاموش رہے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا ’’اے اللہ کے رسولؐ! ہم آسانی میں شکر کرتے ہیں اور ابتلا میں صبر کرتے ہیں اور قضا پر راضی رہتے ہیں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’کعبہ کے ربّ کی قسم! تم مومن ہو۔‘‘ 

 حضرت صہیبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بندۂ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کے ہر معاملہ اور ہر حال میں خیر ہی خیر ہے۔ لیکن اگر اسے کوئی رنج اور دکھ پہنچتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر اور موجبِ برکت ہوتی ہے۔‘‘ 

 آج کے دور کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جن میں صبر کرنا دہکتے کوئلے کو مٹھی میں پکڑنے کے مترادف ہوگا اور ایسے زمانے میں صبر کرنے والے کو اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘ 

صحیح بخاری و مسلم کی روایت ہے حضرت سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہؐ! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: انبیا کرام کی پھر درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے مقربین کی۔ آدمی کی آزمائش اس کے دینی مقام و مرتبہ (یعنی ایمانی حالت) کے مطابق ہوتی ہے اگر وہ دین و ایمان میں مضبوط ہو تو آزمائش سخت ہوتی ہے اگر دین اور ایمان میں کمزور ہو تو آزمائش اس کی دینی و ایمانی حالت کے مطابق ہلکی ہوتی ہے۔ بندے پریہ آزمائش ہمیشہ آتی رہتی ہیں حتیٰ کہ (مصائب پر صبر کی وجہ سے اسے یوں پاک کر دیا جاتا ہے) وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس پر گناہ کا کوئی بوجھ باقی نہیں رہتا۔‘‘
صبر ایک روشنی ہے۔
صبر میری چادر ہے۔
صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (احیاء العلوم)
صبر کشائش کی چابی ہے۔ 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک عورت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ’’صبر وہ ہے جو مصیبت کے آغاز میں کیا جائے۔‘‘ یعنی اصل صبر مشکل وقت یا بلا کے آغاز میں کیاجاتا ہے۔ یہ نہیں کہ شروع میں خوب واویلا کیا جائے اور سب کا سکون برباد کرنے کے بعد کہا جائے کہ اب میں صبر کر رہا ہوں۔

حضرت علیؓ کے اقوال 

صبر وہ سواری ہے جو کبھی ٹھوکر نہیں کھاتی۔
مصیبتوں پر صبر کرنا اللہ تعالیٰ کی نہایت بڑی بخشش ہے۔
جو شخص کسی مصیبت پر صبر کرتا ہے وہ ایسا خوش حال رہتا ہے گویا اس کو کوئی مصیبت پیش نہیں آئی۔
صبر اس کا نام ہے کہ انسان کو جو تکلیفیں پیش آئیں ان کو برداشت کرے اور جو باتیں غصے میں ڈالنے والی کسی سے سنے تو ان کو پی جائے۔
صبر تمام کڑوے اور تلخ کاموں میں معاون و مددگار ہے۔
ایمان میں صبر کی مثال ایسی ہے جیسے بدن میں سر۔ جس کا سر نہ ہو اس کا بدن نہیں ہوتا۔

بزگانِ دین کے اقوال 

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
صبر دنیا اور آخرت میں ہر نیکی و سلامتی کی بنیاد ہے اور صبر ہی کی بدولت مومن رضا اور موافقت کے مقام کی طرف ترقی کرتا ہے۔ (فتوح الغیب۔ مقالہ 30)

پس دنیا ایلوے کے درخت کی طرح ہے کہ پہلے اس کا پھل کڑوا ہے مگر اس کا انجام میٹھا ہے۔ کوئی بھی شخص اس کی تلخی پیئے بغیر اس کی مٹھاس حاصل نہیں کر سکتا‘ یعنی اس کی کڑواہٹ پر صبر کے بغیر حلاوت کا حصول ناممکن ہے‘ لہٰذا جو مصائبِ دنیا پر صبر کرتا ہے اس پر دنیاوی نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ (فتوح الغیب۔ مقالہ 45)

اے اللہ کے بندے! جس نے صبر کیا اس نے قدرت حاصل کی اور صاحب قدر ہوگیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’صبر کرنے والوں کو ان کا پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ ‘‘ (الفتح الربانی۔ مجلس 3)

فقر اور صبر دونوں سوائے مومن کے کسی دوسرے میں جمع نہیں ہو سکتے اور محبوبانِ رَبّ العالمین کی مصائب و آلام سے آزمائش کی جاتی ہے۔ پس وہ اس پر صبر کرتے ہیں اور باوجود بلاؤں اور آزمائش کے ان کو نیک کام کرنے کا الہام کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نئے مصائب پہنچتے ہیں وہ اس پر صبر کرتے ہیں۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 2)

اگر صبر نہ ہو تو تنگ دستی و مصیبت ایک عذاب ہے۔ اگر صبر ہو تو کرامت و عزت ہے۔ بندۂ مومن صبر کی معیت میں اللہ تعالیٰ کے قرب اور مناجات کے مزے لیا کرتا ہے اور وہاں سے ہٹنے کو پسند نہیں کرتا۔  (الفتح الربانی۔ ملفوظاتِ غوثیہ)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے بھی طالبانِ مولیٰ کو صبر کی بہترین انداز میں تلقین کی ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
اے عزیز! طالب کو چاہیے کہ خود کو مخلوق سمجھے جس کی تقدیر، مقصد اور رزق لکھا جا چکا ہے اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس لیے احکم الحاکمین کے حکم پر راضی اور خوش رہے کیونکہ رضائے حق تعالیٰ مخلوق کی رضا سے مختلف ہے۔ کبھی قسمت ساتھ دیتی ہے کبھی نہیں، کبھی تنگی پیش آتی ہے اور کبھی آسانی۔ اس لیے چاہیے کہ ہر چیز کو اللہ کی طرف سے سمجھا جائے اور جو کچھ بھی اللہ کی طرف سے عطا ہو اسے دل و جان سے قبول کیا جائے اور اس پر قناعت کرتے ہوئے خوش رہا جائے۔ ایسا کرنے پر طالب کو اللہ کا قرب نصیب ہوگا اور روزِ قیامت اس کا شمار صابروں میں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’بے شک اللہ صابرین کے ساتھ ہے‘‘ (البقرہ۔153)۔ (تلمیذ الرحمن)

 اہلِ ذکر صابر شاکر ہوتے ہیں۔ صبر اور شکر یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کی محبت پر صبر کیا جائے اور شکر کیا جائے الحمد للہ حق تعالیٰ نے مجھے فقر عطا کیا جو پیغمبروں کا ورثہ ہے۔ (عین الفقر)
صبر کرصبر! کہ صبر کے سو ا اور کوئی چارہ نہیں۔ اگر تو تسلیم و رضا اختیار نہ کرے گا تو کیا کرے گا۔ (کلیدا لتوحید کلاں) 

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں ’’تکلیف پر شکایت نہ کرتے ہوئے صبر کرنا بندگی کی علامت ہے اور بہترین علامت یہی ہے۔‘‘

حضرت ذوالنوّن مصریؒ فرماتے ہیں ’’اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں سے دور رہنا، مصائب کے غموں کو گھونٹ گھونٹ پینا اور معاش کی تنگی کے باوجود بے نیازی کا اظہار کرنا صبر ہے۔‘‘ 

حضرت امام ابنِ حبانؓ فرماتے ہیں ’’صبر تمام اچھے امور کی جڑ اور عقل کی بنیاد اور محافظ ہے اور خیر کا بیج اور اس کی تدبیر ہے۔‘‘ 

حضرت حارث محاسبیؓ فرماتے ہیں ’’ہر چیز کا ایک جوہر ہوتا ہے اور انسان کا جوہر عقل ہے اور عقل کا جوہر صبر ہے۔ پس صبر کرنا نفس کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘ (عوارف المعارف) 

حضرت سہلؒ بن عبداللہ فرماتے ہیں ’’صبر اللہ تعالیٰ کی جانب سے کشادگی کے انتظار کا نام ہے۔‘‘ ( عوارف المعارف) 

تمام انبیا کرام کی سیرت اور حالاتِ زندگی سے ہمیں صبر کے بیشمار واقعات ملتے ہیں جنہوں نے اپنی امتوں سے ملنے والی تکالیف پر صبر کیا لیکن حضرت ایوبؑ کے صبر کا خاص طور پر قرآن میں ذکر کیا گیا۔ اس مضمون میں حضرت ایوب علیہ السلام کے ساتھ ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صبر کے چند واقعات کو بیان کیا جا رہا ہے۔

حضرت ایوبؑ کا صبر 

حضرت ایوبؑ حلیم الطبع، صالح اور اعلیٰ درجے کے صابر تھے۔ اللہ نے آپؑ کو کثیر مال و اسباب اور اولاد سے نوازا تھا۔ آپؑ کثرت سے عبادات میں مصروف رہتے، مسکینوں کو کھانا کھلاتے اور ان کی ہر لحاظ سے مدد فرماتے۔ آپ ؑکے اس طرزِ عمل اور زندگی سے شیطان کو شدید حسد ہوا اور اس نے بارگاہِ خدا میں کہا کہ حضرت ایوبؑ کو چونکہ کثیر مال و اولاد جیسے اسباب میسر ہیں اس لیے وہ اتنی شکر گزاری کرتے ہیں اگر تمام مال و اسباب لے لیے جائیں تو وہ ایسی عبادات نہ کرسکیں گے اور نہ ہی شکر ادا کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوبؑ کے مال و اسباب ختم فرما دیئے۔ تمام مویشی اور اولاد مر گئی، تمام ازواج ساتھ چھوڑ گئیں۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام کوڑھ جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے جس کے باعث وجود سے شدید بو آتی حتیٰ کہ وجود میں کیڑے پیدا ہو گئے۔ قبیلہ والوں نے آپ کو قبیلے سے دور ایک ویرانے میں چھوڑ دیا۔ ان سب کڑے حالات کے باوجود حضرت ایوب علیہ السلام کے شکر اور صبر میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ ہمیشہ یادِ خدا میں رہتے۔ 

روایات کے مطابق اس طویل بیماری کا عرصہ 12سال سے 18 سال تک ہے۔ اتنے طویل عرصہ میں ہر مال و متاع اور ہر نعمت و آسائش ختم ہونے کے بعد بھی آپؑ نے صبر کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اس بیماری سے شفا دی۔ اس پر بھی آپؑ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت بھی دوبارہ عطا فرما دی۔ آپؑ کے صبر کے بارے میں اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے ’’بے شک ہم نے اسے ثابت قدم پایا۔ وہ کیا ہی اچھا بندہ تھا بیشک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ (سورۃ ص۔ 44)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا صبر

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ مطہرہ بھی صبر کا بہترین عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب نبوت کا اعلان فرمایا تو وہی مکہ والے جو آپ کو صادق اور امین کہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو (معا ذاللہ) ’جادوگر اور دیوانہ‘ کہنے لگے۔ اہلِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جسمانی و ذہنی اذیت دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھاتے، کبھی کوڑا کرکٹ پھینکتے۔ ایک مرتبہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پشت مبار ک پر حالتِ سجدہ میں اونٹ کی اوجھڑی رکھ دی گئی۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شعب اِبی طالب میں تین سال تک محصور رہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انتہائی تکلیف دہ زندگی گزاری مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے مشن پر صبر اور ضبط کے ساتھ ڈٹے رہے جیسا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم دیا :
’’اور صبر کیجیے ان کی (دل آزار) باتوں پر۔ ‘‘ (سورۃالمزمل۔10) 

ایک ہی سال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفادار بیوی حضرت خدیجہؓ اور چچا کے فوت ہو جانے اور تمام صاحبزادوں کی بچپن میں ہی وفات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دعوت و تبلیغ کے لیے طائف تشریف لے گئے تو وہاں کے اوباش لڑکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر پتھر برسائے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے لیے بددعا نہ کی بلکہ ہدایت کی دعا کی۔
ہجرت کے بعد بھی مدینہ میں مشرکین اور یہودیوں کی جانب سے مخالفتوں کا سامنا رہا۔ عبداللہ بن ابی جیسے منافقوں کی گھناؤنی سازشوں کو بھی صبر سے برداشت کیا۔ غرضیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تمام زندگی ہی صبر سے تعبیر ہے۔ 

صبر کی اقسام 

 علمائے کرام نے بنیادی طور پر صبر کی تین اقسام بیان کی ہیں:
(1) مصیبت پر صبر
(2) اطاعت کی مشقتوں پر صبر
(3) نفس کو گناہ سے روکنے پر صبر

مصیبت پر صبر: اس میں وہ تمام آزمائشیں شامل ہیں جو مشیتِ الٰہی کے تحت آتی ہیں جیسے آفات وبلیات، تنگ دستی، شدید بیماری اور اپنے پیاروں میں سے کسی کا فوت ہو جانا وغیرہ۔ ان کو ٹالنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ اس لئے ایسے مواقع پر شکوہ شکایت نہ کرنا، بے قراری طاری نہ ہونے دینا صبر ہے جبکہ ان مشکل حالات میں چیخنا چلانا، توڑ پھوڑ کرنا، مایوس ہو جانا بے صبرا پن ہے۔ اگر ہم موجودہ معاشرے کا جائزہ لیں تو ایسے مواقع پر لوگ اپنی اور دوسروں کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں اور رو کر برا حال کر لیتے ہیں۔ بلکہ بعض تو نفسیاتی بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں جس سے باہر آنے میں طویل وقت لگ جاتا ہے۔ واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:
تکلیف جسم کی ہو بیماری کی شکل میں یا روح کی تکلیف احساسِ مصیبت، احساسِ تنہائی یا احساسِ محرومی کی شکل میں‘ مقامِ صبر ہے۔
اطاعت کی مشقتوں پر صبر: ہم دیکھتے ہیں کہ دن رات کے اوقات اور موسموں کی شدت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور انسان کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ان سب تبدیلیوں کے دوران اللہ کے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جو کچھ بھی برداشت کیا جائے وہ صبر کے زمرے میں ہی آتا ہے مثلاً گرمیوں میں رمضان کے روزے طویل ہوتے ہیں اور پیاس بھی شدید لگتی ہے ایسے میں لوگ صبر کے ساتھ سارے روزے نہیں رکھ پاتے۔ اسی طرح سردی میں ٹھنڈے پانی سے غسلِ طہارت اور وضو کی وجہ سے عبادات بھی چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ حج کے سفر میں احرام کے دوران سخت پابندیاں اور ارکانِ حج کی ادائیگی کے دوران جو سخت حالات برداشت کرنے پڑتے ہیں اس کے باعث بھی لوگ حج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ یہ سب بے صبری کا ہی اثر ہے لیکن باہمت اور صابر لوگ ہر طرح کے موسموں اور سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ کی اطاعت اسی طرح کرتے ہیں جیسے عام حالات میں کرتے ہیں۔

نفس کو گناہ سے روکنے پر صبر: اللہ نے نفس کو ہوا و ہوس کا سرچشمہ بنایا ہے اس کی فطرت میں جلد بازی اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے کا میلان پایا جاتا ہے۔ انسان کے پاس اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے دو راستے ہوتے ہیں ایک حرام کا دوسرا حلال کا۔ حرام کا راستہ گناہوں سے بھرپور ہوتا ہے لیکن نفس و شیطان آدمی پر یہ راستہ چھوٹا اور آسان جبکہ حلال کا راستہ طویل اور مشکل ظاہر کرتے ہیں۔ صابر لوگ اس طویل راستے کو طے کر کے انتظار کے بعد اپنی مطلوبہ خواہش یا چیز حاصل کرتے ہیں جبکہ بے صبرے لوگ جلد بازی میں حرام کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں اور یوں ان کی زندگی سے برکت اور سکون ختم ہوجاتا ہے کیونکہ اس راستے کے آغاز میں کوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن بعد میں انسان یکے بعد دیگرے بہت سے گناہوں میں باآسانی ملوث ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں زنا، سود، دھوکہ دہی جیسی برائیاں بے صبرے پن کی وجہ سے ہی عام ہورہی ہیں۔ 

راہِ فقر اور صبر

راہِ فقر میں صبر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا طریقہ ہے۔ اس راہ میں جائز خواہشات کو حلال طریقے سے پورا کرنا نہیں بلکہ خواہشات کو ترک کرنا ہوتا ہے حتیٰ کہ اپنی ذات اور رشتے ناطوں کی بھی نفی کرنی پڑ جاتی ہے۔ صبر کی کمی نفس کی سر کشی کی وجہ سے ہوتی ہے نفس کی سر کشی ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے دور ہوتی ہے۔ ایک طالبِ مولیٰ پر جب اللہ کا فضل ہوتا ہے تو وہ سروری قادری صاحبِ مسمیّ مرشد کامل اکمل کے در پر پہنچ جاتا ہے اور مرشد کامل اکمل کی نورانی صحبت میں ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کرتا ہے تو اس کے باطن میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں وہ ظاہری طور پر بھی مرشد کی ذات اور ان کے مشن سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ جب وہ اپنا مال اللہ کی راہ میں قربان کرتا چلا جاتا ہے اور زیادہ وقت مرشد کی تفویض کردہ ڈیوٹیوں میں صرف کرتا ہے تو اس کے اہل و عیال اور دوست احباب اس کے اس طرزِ عمل پر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے اللہ کی راہ سے دور کرنے کے د رپے ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں طالبِ مولیٰ کو مندرجہ ذیل چیزوں پر صبر کرنا پڑ سکتا ہے:
(1) شہوتوں کو ترک کرنے پر نفس کو ثابت قدم رکھنے پر صبر
(2) نفس کی آرزوؤں اور رغبتوں پر صبر
( 3) لالچ و حرص پر صبر
(4) لوگوں کی جہالت اور بری سوچ پر صبر
(5) لوگوں کے بدلتے مزاج اور ان کی چالبازیوں پر صبر  

مندرجہ بالا چیزوں پر صبر گذشتہ صفحات پر بیان کی گئی صبر کی تین اقسام کے علاوہ ہے۔
میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس مرحلے کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:
جب انسان راہِ فقر اختیار کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں اس کا ٹھٹھا (مذاق) اُڑایا جاتا ہے ثابت قدمی پر دوسرے مرحلہ میں اس کو ڈرایا، دھمکایا یا خوف زدہ کیا جاتا ہے لیکن یاد رکھیں کہ پہلے دو مراحل اتنے آسان نہیں جتنے بیان کر دیے گئے ہیں۔ یہ طالب کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ کرنے والے اپنے ہی ہوتے ہیں۔‘‘  (سلطان العاشقین)

اگر طالب نے صبر کرنا نہ سیکھا ہو تو وہ گھبرا کر پیچھے بھی ہٹ سکتا ہے یا پریشانی کے غلبہ سے باطنی توجہ ذکرو تصور اسم اللہ ذات سے ہٹ جاتی ہے یا بہت کم ہوجاتی ہے ۔ اس لیے آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کے عشق میں جواں مرد بن کر منزل کی جانب بڑھتے رہنا چاہیے اور مشکلاتِ راہ سے ڈرنا یا گھبرانا نہیں چاہیے ۔ (سلطان العاشقین)
اللہ نے بھی قرآنِ مجید میں پچھلی امتوں کے نیک لوگوں کی یہی خصوصیات بیان کی ہیں:
 اور کتنے ہی انبیا ایسے ہوئے جنہوں نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے بھی شریک ہوئے،تو نہ انہوں نے ان مصیبتوں کے باعث جو انہیں پہنچیں‘ ہمت ہاری اور نہ وہ کمزور پڑے اور نہ وہ جھکے، اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۃ آلِ عمران۔ 146) 

واصف علی واصفؒ قرب کے مقام کے بارے میں فرماتے ہیں ’’دنیادار جس مقام پر بیزار ہوتا ہے مومن اس مقام پر صبر کرتا ہے اور مومن جس مقام پر صبر کرتا ہے مقرب اس مقام پر شکر کرتا ہے کیونکہ یہی مقام وصالِ حق کا مقام ہے ۔تمام واصلینِ حق صبر کی وادیوں سے بہ تسلیم و رضا گزر کر سجدۂ شکر تک پہنچے۔ ‘‘ (دل دریا سمندر) 

راہِ فقر میں بیشمار مقامات سے گزرکر حقیقی منزل پر پہنچا جاتا ہے اس لحاظ سے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی نے مزید دو چیزوں پر صبر کا تذکرہ کیا ہے:
فقر اور درویشی کو چھپانے پر صبر
اپنے کمالات و کرامات کو چھپانا اور اس کوشش پر صبر۔ (عوارف المعارف) 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں بیشمار روحانی مراتب و مقامات کا ذکر کیا ہے اور ساتھ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ مرشد پہلے ہی روز طالب کو یہ مراتب و مقامات عطا فرما دیتا ہے۔ یہاں ان طالبوں کا ذکر کرنا ضروری ہے جو ان تمام مقامات کو جلد از جلد حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں جبکہ ان کے اندر وہ تمام خصوصیات بھی موجود نہیں ہوتیں جن کا تذکرہ حضرت سخی سلطان باھوؒ نے بطور صادق طالبِ مولیٰ بیان کیا ہے۔ اگر یہ تمام خصوصیات مثلاً خلوص، عشق، استقامت، وفا اور قربانی وغیرہ طالب میں موجود ہوں تو سروری قادری مرشد کامل اکمل راہِ فقر کے مراحل تیزی سے طے کروا دیتا ہے جبکہ بہت سے طالب اپنی طلب میں صادق نہ ہونے کی بنا پر تیزی سے ان مراحل سے نہیں گزر پاتے۔ ان کی ظاہری و باطنی تربیت کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے لیکن خام و ناقص طالب اپنی جلد بازی کی بنا پر اس راہ سے ہی برگشتہ ہو جاتے ہیں۔ میرے مرشد کریم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں: 
 فقر میں ہر طالب کے ساتھ الگ معاملہ ہوتا ہے جس کی بنیاد اس کی اپنی طلب اور یقین پر ہے۔ (سلطان العاشقین)

اس لیے ان طالبوں کو صبر و استقامت سے اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے اور از خود کوئی مقام و مرتبہ حاصل کرنے کی امید اور خواہش پروان نہیں چڑھانی چاہیے اور نہ ہی ایسی صورتِ حال میں گھبرا کر یا مرشد سے بدظن و مایوس ہو کر اس راہ سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔

حاصل تحریر یہ ہے کہ یہ زندگی مقامِ آزمائش ہے جہاں ہر انسان خواہ وہ طالبِ عقبیٰ ہو یا طالبِ مولیٰ‘ کو طرح طرح کی مشکلات و بلاؤں کے ذریعے آزمایا جاتا ہے۔ جو طالب جتنے اچھے طریقے سے مختلف مقامات پر صبر کرتا ہے وہ اتنا ہی آسانی سے راہِ حق کا سفر طے کرتا ہے۔ صبر کی عادت سے ہی طالبوں کے اندر تسلیم و رضا کی صفت پختہ ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں انبیا علیہم السلام، صحابہ کرامؓ اور فقرائے کاملین کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صبر کو سمجھنے کے بعد استقامت سے راہِ فقر پر چلائے اور بلاؤں اور مصیبتوں میں ہماری حفاظت کرے۔ (آمین)

استفادہ کتب
الفتح الربانی تصنیف لطیف سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ 
تلمیذ الرحمن تصنیف لطیف حضرت سخی سلطان باھوؒ
عین الفقر    ایضاً
کلید التوحید کلاں   ایضاً
حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
عوارف المعارف تصنیف حضرت شیخ سہاب الدین سہروردیؒ
سلطان العاشقین ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
اقوالِ علیؓ کا انسائیکلوپیڈیا  از یوسف مثالی
دل دریا سمندر تصنیف واصف علی واصفؒ 
قصص الا نبیا

37 تبصرے “صبر اور راہِ حق | Sabr or Rahe Haq

      1. صبر کی اہمیت کے پیشِ نظر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صبر کو نصف ایمان قرار دیا ہے ۔

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #ramzanspecial #sabr #rahehaq

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #ramzanspecial #sabr #rahehaq

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #ramzan2021 #ramdanmubarak #ramzanspecial #sabr #rahehaq

  4. حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں ’’تکلیف پر شکایت نہ کرتے ہوئے صبر کرنا بندگی کی علامت ہے اور بہترین علامت یہی ہے۔‘‘

    1. حضرت علیؓ کا فرمان مبارک :

      مصیبتوں پر صبر کرنا اللہ تعالیٰ کی نہایت بڑی بخشش ہے۔ behtareen mazmoon

  5. ایمان میں صبر کی مثال ایسی ہے جیسے بدن میں سر۔ جس کا سر نہ ہو اس کا بدن نہیں ہوتا۔

  6. ماشا اللہ
    بہت ہی اچھا آرٹیکل ہے
    اللہ پاک سب کو مشکلات میں صبر کی توفیق دے آمین

  7. اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صبر کو سمجھنے کے بعد استقامت سے راہِ فقر پر چلائے اور بلاؤں اور مصیبتوں میں ہماری حفاظت کرے۔ (آمین)

  8. صبر کی عادت سے ہی طالبوں کے اندر تسلیم و رضا کی صفت پختہ ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں