امیر الکونین–ameer-ul-kaunain

امیر الکونین

تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ

قسط نمبر 03
مترجم احسن علی سروری قادری

جو فنا فی اللہ ہو اور مقامِ لی مع اللہ پر اللہ کے قرب کی انتہا پر ہو اس کے لیے ظاہری اعضا کے ساتھ ذکر فکر اور ورد وظائف بجا لانا گناہ ہے۔ غوث و قطب امرا کی مثل جبکہ مقربِ حق فقیر بادشاہ کی مثل ہوتا ہے۔ بادشاہ کو عدل سے سروکار ہوتا ہے نہ کہ محنت و مشقت سے۔ اس راہ (فقر) کا تعلق قیل و قال سے نہیں بلکہ حق کے روبرو حضوری سے مشرف ہونا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہ ط(البقرہ۔115)
ترجمہ: پس تم جدھر بھی دیکھو گے حق تعالیٰ کا چہرہ ہی پاؤ گے۔
ہر طرف بینم بیابم ذات نور
ہر کہ از خود بگذرد یابد حضور
ترجمہ: میں جس طرح بھی دیکھتا ہوں اس طرف ہی نورِ ذات پاتا ہوں۔ جو کوئی خودی سے نجات حاصل کر لے وہ حضورِ حق حاصل کر لیتا ہے۔
اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔بیت
روشن ضمیر را چہ غم از اختلاط خلق
دریا بہ مشت خاک مکدر نمی شود
ترجمہ: روشن ضمیر فقیر کو مخلوق سے میل ملاپ سے کیا پریشانی؟ سمندر ایک مٹھی خاک سے میلا نہیں ہوتا۔
یہ روشن ضمیری وحی القلوب کا مرتبہ ہے۔ بیت:
تا گلو پُر مشو کہ دیگ نہ ای
آب چندان مخور کہ ریگ نہ ای
ترجمہ: تُو گلے تک خود کو نہ بھر کیونکہ تو دیگ نہیں ہے اور نہ ہی اس قدر پانی پی کیونکہ تُو ریت نہیں ہے۔
لیکن کامل کا کھانا مجاہدہ اور اس کی نیند مشاہدہ ہوتی ہے۔ یہ وحی الروح کا مرتبہ ہے۔ بیت:
چو معدہ بود خالی از طعام
درآن وقت معراج باشد تمام
ترجمہ: جس وقت پیٹ طعام سے خالی ہوتا ہے اس وقت (طالب کو) مکمل معراج نصیب ہوتی ہے۔
مگر مکمل کے لیے کھانا اور نہ کھانا برابر، سیری اور بھوک برابر، مستی اور ہوشیاری برابر، نیند اور بیداری برابر۔ یہ وحی السرّ کا مرتبہ ہے۔ بیت:
خام را مستی بود وہم از خیال
مست را ہوشیار گرداند وصال
ترجمہ: خام کی مستی محض وہم و خیال ہوتی ہے جبکہ وصالِ حق سے حاصل ہونے والی مستی طالب کو ہوشیار بنا دیتی ہے۔
تاہم اکمل علمِ معرفت کا عامل ہوتا ہے نہ کہ سواری کا حامل۔ یہ وحی الزمان کا مرتبہ ہے جہاں وہ قربِ حضورِ حق اور مجلسِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معرفتِالَّا اللّٰہُ کا پیغام لاتا اور لے جاتا ہے۔ اس مقام پر اولیا اللہ علما باللہ ہر لمحہ حضورِ حق سے پیغام وصول کرتے ہیں لیکن وہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مرتبہ پر فائز نہیں ہوتے۔ لہٰذا دعوت پڑھنے کے لائق ہر وہ طالب ہوتا ہے جو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے پیغام وصول کر سکتا ہو۔ اس کا وجود نور و مغفور ہو اور وہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں منظور ہو۔ دعوت پڑھنا یہ ہے کہ طالب ذکرِ الٰہی کی بدولت مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں سوال و جواب اور عرض و التماس کر سکتا ہو۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔
جان لو کہ باطن میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں داخل ہو کر حضوری سے مشرف ہونا اور اہلِ مجلس کی صحبت میں ان سے ہم کلام ہونا اور جس وقت چاہے حضوری میں آناجانا اور سوال و جواب اور التماس کرنا اور حضوری میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قرب سے مشرف ہونا اور لازوال وصال پانا اور اسم اللہ ذات سے حضورِ حق کے تمام احوال سے واقف ہونا اور انہیں اختیار کرنا آسان کام ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق، ملک، علم، حلم، ترک، توکل، ارادت، سعادت، حکم، اجازت، ہدایت، فقر، غنایت، فنا، بقا، رضا، صبر اور حیا کی صفات کو اختیار کرنا بہت ہی مشکل اور دشوار کام ہے۔ لیکن اگر بخشش اور عطائے پروردگار ہو تو توفیقِ الٰہی اورمرشد جو غالب الامر ہو راہِ حق کا سالار ہو‘ اس کی رفاقت سے ان تمام خصوصیات کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ دین و دنیا کے خزانوں کو تصرف میں لے آنا اور تصور، ذکر، فکر، مراقبہ اور معرفتِ الَّا اللّٰہُسے غرق فنا فی اللہ ہونا، تجلیات کا مشاہدہ کرنا، اٹھارہ ہزار عالم کے مقامات کی سیر کرنا اور اس کی مخلوقات کو مسخر کر کے اپنی قبضہ و قید میں لے آناآسان کام ہے لیکن وجود میں وسیع حوصلہ پیدا کرنا مشکل اور بہت ہی دشوار کام ہے۔ مخلوق کے دئیے رنج، ملامت، غیبت اور تکالیف سے آزردہ مت ہو اور نہ ہی مخلوق کو تکلیف پہنچا کیونکہ مخلوق کو تنگ نہ کرنے میں ہی نجات ہے۔ تو جان لے کہ کافروں، کاذبوں، منافقوں اور حاسدوں کی (ایذاؤں سے) شکایت کی غرض سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
یَالَیْتَ رَبِّ مُحَمَّدٍ لَمْ یَخْلُقَ مُحَمَّدًا ط
ترجمہ: اے محمد کے ربّ! کاش آپ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو پیدا ہی نہ فرمایا ہوتا۔
پس کسی دوسرے کی کیا مجال کہ اعتراض کرے۔ جو کوئی تمامیتِ معرفت، فقر، ہدایت اور ملکِ ولایت تک پہنچ جاتا ہے تو لوگ اسے دیوانہ و خبطی کہتے ہیں اور اس کے اہلِ خانہ اسے احمق سمجھتے ہیں لیکن وہ آنکھوں کے اندھے اس کی حقیقت نہیں جانتے۔ وہ سب بے عقل اور حیوان کی مثل ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اَلْعَقْلُ یَنَامُ فِی الْاِنْسَانِ
ترجمہ: عقل انسان کے اندر سوئی ہوئی ہے۔
 اَلْاِنْسَانُ مِرْاَۃِ الرَّبِّ
ترجمہ: انسان حق تعالیٰ کا آئینہ ہے۔
صاحبِ نظر عارف باللہ بننے اور معرفتِ حق کے لیے دل کی آنکھیں چاہئیں وگرنہ ظاہری آنکھیں تو حیوان بھی رکھتے ہیں جیسا کہ کتے، خنزیر، ریچھ، بیل اور گدھے وغیرہ۔ عقل دو قسم کی ہے ایک عقلِ کُل جو کہ لازوال ہے دوسری عقلِ جز جو احوال کے حصول کا باعث ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
لَا فَرَقَ بَیْنَ الْحَیْوَانِ وَالْاِنْسَانِ اِلَّا بِالْعِلْمِ
ترجمہ: انسان اور حیوان میں علم کے سوا کوئی فرق نہیں۔
ابیات:
آنچہ مطلب بود کلی یافتم
کس نمی باید کہ پنہان ساختم
ترجمہ:میں نے سب علم اور مطالب پا لیے۔ اب کوئی بھی مجھ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔
این خزانہ شد نصیب با شعور
میشناسد عارفان اہل حضور
ترجمہ: یہ خزانہ باشعور لوگوں کو نصیب ہوتا ہے اور عارفین جو حضوری میں پہنچ چکے ہوں وہی اسے پہچانتے ہیں۔
کی شناسد عارفان را کور تر
می شناسد آن کہ می باشد خضر
ترجمہ: آنکھوں کے اندھے عارفین کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔ عارفین کو صرف وہی پہچانتے ہیں جو خضر ؑ کی مثل بصیرت رکھتے ہیں۔
باھُوؒ در ھُو گم شدہ فی اللہ فنا
نام باھُوؒ متصل شد باخدا
ترجمہ: باھُوؒ فنا فی اللہ ہو کر ھُو میں گم ہو چکا ہے اور باھُوؒ کا نام خدا کے ساتھ متصل ہو چکا ہے۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَاکُنْتُمْ (الحدید۔4)
ترجمہ: اور وہ (اللہ) تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو۔
مرشد کسوٹی کی مثل ہوتا ہے اور حضوری کی بدولت حکیم اور کریم صفت ہوتا ہے۔ مرشد کامل (ظاہری طور پر) طالبِ مولیٰ کا پیٹ طعام اور پانی سے پُر کرتا ہے اور طرح طرح کی نعمتیں اور پھل کھلاتا ہے اور باطنی توجہ اور توفیق سے تحقیقاً حضوری تک پہنچاتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ناقص مرشد اپنے طالبوں کو ذکر فکر میں ہی تھکائے رکھتا ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مرشد کامل طالب کو پہلے ہی روز کامل کے مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے۔ مرشد مکمل طالب کو روزِ اوّل مرتبہ مکمل اور مرشد اکمل طالب کو روزِ اوّل ہی اکمل کے مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے اور مرشدِ جامع طالب کو روزِ اوّل جامع اور صاحبِ نور مرشد طالب کو روزِ اوّل ہی نور میں فنا کر دیتا ہے اور صاحبِ حضور مرشد طالب کو روزِ اوّل حضوری میں لے جاتا ہے اور ان سب مراتب کا مجموعہ بھی مراتبِ فقر کی ابتدا کو نہیں پہنچ سکتا لیکن فقیر مرشد (کی توجہ) سے طالب روزِ اوّل ہی فقیر بن سکتا ہے کیونکہ فقیر فنا و بقا کے بعد مرتبہ اور مقام و منزل سے ماوراہوتا ہے۔ اس کی نظر میں  اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَہُوَ اللّٰہ(جہاں فقر مکمل ہوتا ہے وہی اللہ ہوتا ہے)ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اے احمق و خام ! یہ مراتبِ فقرا ہیں۔ فقیر اُسے کہتے ہیں جو بقا باللہ ہو چکا ہو اور اس نے خود کو اللہ کی ذات میں فنا کر کے حیاتِ ابدی پا لی ہو اور غیر ماسویٰ اللہ سے نجات پا کر خود پر اَللّٰہُ کا اثبات کر لیا ہو۔ اس کے لیے زندگی اور موت کے مراتب برابر ہوں۔ یہ فقیر صاحبِ نظر کا مرتبہ ہے جو ہر ملک کے بادشاہ پر حاکم اور غالب تر ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی نظر سے تمام زمین کو سونا و چاندی میں بدل سکتا ہے۔ فقیر فقرکی بدولت حیات ہے۔ اے احمق و حیوان! پس فقیر خدا سے نظر نہیں ہٹاتا۔ اے احمق و گدھے! تو طلبِ دنیا میں خوار ہو رہا ہے جبکہ دعویٰ کرتا ہے اللہ کی طلب و محبت اور معرفت و دیدار کا۔ حالانکہ تو ابھی تک نفس کی قید میں ہے۔ تیرا دل مردہ اور تیرا چہرہ شرمسار ہے اور تیری روح تجھ سے بیزار ہے۔ جو باطن باطل سے جدا ہو کر حق سے جڑ چکا ہو بلاشبہ وہی باطن برحق ہے۔ ظاہری طور پر اس کے تصرف میں توفیقِ الٰہی کی قوت ہوتی ہے۔ فقر کا سلوک سے کوئی تعلق ہیں کیونکہ فقیر سلطان الفقر صاحبِ سلطنت بادشاہ ہوتا ہے اور ہر سلوک اور ہر مقام اس کی نگاہ و نظر میں ہوتا ہے۔ انہیں ہر طالب مرید کے احوال سے آگاہی ہوتی ہے کہ وہ مرتبہ محبوب و مقصود پر ہے یا مرتبہ مردود پر یا مرتبہ مرتد یا لامرتد پر۔ پس جان لے کہ جس طرح ظاہری علم بے شمار ہیں اسی طرح باطنی سلک سلوک بھی بے شمار ہیں۔ میں اگر انہیں تحریر کروں تو ان کی شرح کے لیے بے شمار صفحات درکار ہیں لیکن تھوڑی سی شرح سے پتہ چلتا ہے کہ ایک سلک کامل ہے اور دوسرا سلک ناقص۔ سلکِ کامل میں قبض، بسط، سکر، صحو کے احوال ہیں اور ذکر، فکر، مراقبہ سے طالب پر ان احوال کے اسرار عیاں ہوتے ہیں اور سلک کی ابتدا اور انتہا ایک ہوتی ہے اور یہ سلک حق تعالیٰ کے قرب، مشاہدہ اور حضوری تک پہنچاتا ہے اور یہی معرفت اور وصال کی بنیاد ہے۔ جو سالک ان صفات سے موصوف نہیں ہوتا وہ ناقص ہوتا ہے جو اپنی تمام عمر سالہا سال مشقت میں گزار دیتا ہے لیکن احمق اور جاہل کی مثل خودی میں پھنسا رہتا ہے۔ جب تو کسی ایسے شخص کو دیکھے جو ظاہری طور پر امرا و بادشاہ کو مسخر کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت اور رنج و ریاضت میں مصروف ہو اور باطن میں معرفتِ الٰہی سے بے خبر ہو تو اس بات کی تحقیق کر لو کہ یہ مرد عام و ناقص ہے جو گمراہی کے جنگل میں پھنسا ہوا ہے اور لاھوت لامکان سے واقف خاص لوگوں کے شرف سے بے نصیب ہے۔ بیت:
اللہ ہر کرا خواہد دہد قرب و لقا
ہر کرا راندہ کند دوری جفا
ترجمہ: اللہ جس کسی کو چاہتا ہے اپنا قرب اور لقا عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے اس کی جفا کی بنا پر خود سے دور کر دیتا ہے۔
اہلِ لقا اور اہلِ جفا کو ایک دوسرے کی مجلس پسند نہیں آتی۔ بیت:
پند گویم ناقص و شرمندہ را
از ہوائے باز آ و آ جانب خدا
ترجمہ: میں ناقص اور شرمندہ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خواہشاتِ نفس سے باز آؤ اور خدا کی جانب بڑھو۔
اگر تو آئے تو دروازہ کھلا ہے اور اگر نہ آئے تو اللہ بے نیاز ہے۔ جو کوئی اللہ کا صادق طالب ہونے، اس میں فنا ہونے، اس کے ساتھ بقا پانے اور اس کی معرفت اور لقا حاصل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے لیے دو ’ل‘ گواہ ہونے چاہیے۔ ایک ’ل‘ لَا اِلٰہَ کا، یعنی مقامِ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا (مرنے سے قبل مر جاؤ) پر پہنچا ہو جہاں نفسانیت اور دنیا کی خواہشات سے فنا ہو چکا ہو اور اللہ کے سوا ہر شے کی نفی کر چکا ہو۔ اور دوسرا ’ل‘ لاھوت۔ دونوں گواہ لامکان تک پہنچاتے ہیں۔ اس طریقے سے اللہ کا دیدار قرآن کی اس آیت مبارکہ کے مطابق روا ہے جس میں اللہ فرماتا ہے:
وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی (بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ: جو اس دنیا میں (دیدارِ الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔
بیت:
اگر بگویم کور چشمی را بہ بین
کی بہ بیند کور چشمی بی یقین
ترجمہ: اگر میں (باطنی طور پر) نابینا شخص سے دیدار کرنے کا کہوں تو وہ نابینا کیسے دیدار کر سکے گا کیونکہ وہ بے یقین ہے۔
نابینا (بے بصیرت) اور بینا (صاحبِ بصیرت) کو ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی مجلس پسند نہیں آتی۔ اے نابینا! تو اس لیے اندھے پن، تاریکی اور ظلمات کا شکار ہے کیونکہ تیری آنکھوں پر شیطانی پردہ اور تیرے دل پر نفسانی پردہ ہے۔ تو طبیبِ بینا (صاحبِ بصیرت مرشد کامل اکمل) کی طلب کر جو تیری آنکھوں کی بینائی ٹھیک کرے اور تجھے معرفتِ الٰہی اور نورِ یقین عطا کرے اور تیری آنکھ پر جو پردہ اور حجاب پڑا ہے اسے ہٹا دے تاکہ تو صاحبِ بصیرت ہو جائے اور دیدارِ حق کر سکے۔ بیت:
نقطہ از غین غضبی دور کن
تا بیابی عین را از عین کن
ترجمہ: اپنے وجود سے ہر غیر اللہ کو نکال دے اور اللہ کے غضب (جلال) سے نجات حاصل کر لے تاکہ تو دیدارِ حق کے قابل ہو سکے۔
کن ز کن حاصل شود کنہش ز کن
عاقلان را بس بود این یک سخن
ترجمہ: عقلمندوں کے لیے بس یہی ایک بات کافی ہے کہ وہ کن کی حقیقت تک پہنچ کر کن کی طاقت اس کے مالک (اللہ) سے حاصل کر سکتے ہیں۔
پس جو شخص صاحبِ لفظِ کُن ہو جاتا ہے وہ اسی لفظ کن سے (اپنے طالبوں پر) سلک سلوک کی راہ کھول سکتا ہے لہٰذا صاحبِ کن کو سلک سلوک پر چلنے یا چلانے کی کیا ضرورت کہ وہ تو اسی ایک لفظ کن سے اللہ کی معرفت اور حضوری تک پہنچا سکتا ہے کیونکہ اسی لفظ کن کی بدولت وہ روزِ الست سے ہی اللہ کے ساتھ یکتا ہوتا ہے۔پس صاحبِ سلک سلوک اس لفظ ’کن‘ سے بے خبر اور (اس کی طاقت و تصرف سے) محروم ہوتا ہے اگرچہ مخلوق کی نظر میں وہ صاحبِ عظمت مخدوم ہوتا ہے۔ ابیات:
ہر کہ شد مخدوم از خدمت فقر
نظر فقرش بہ بود از سیم و زر
ترجمہ: جو صاحبِ فقر کی خدمت کرتا ہے وہ مخدوم بن جاتا ہے کیونکہ صاحبِ فقر کی نظر مال و دولت سے بہتر ہوتی ہے۔
خرس را آدم کند بایک نظر
بس بود تعلیم علم از سربسر
ترجمہ: فقیر ایک ہی نظر سے ریچھ کو آدمی بنا سکتا ہے اور اس پر علم و تعلیم کی انتہا کر سکتا ہے۔
گردن بزن این ناقصان طالب طلب
طلب کن ای طالبان کامل بہ ربّ
ترجمہ: ناقصوں کی ناقص طلب کی بدولت ان کی گردن اتار دے۔ اے طالب! تو اس کامل (مرشد) کی طلب کر جو ربّ تک پہنچا دے۔
عیسیٰ علیہ السلام کی صفت کے حامل اہلِ معرفت جو قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ (اُٹھ اللہ کے حکم سے) کہہ کر مردہ دل کو زندہ کر سکتے ہیں‘کو اولیا کی ارواح کی مجلس نصیب ہوتی ہے جہاں وہ ارواح سے ملاقات کرتے ہیں تو ایک دوسرے سے ذکر، فکر اور حقیقتِ حق کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔ یہ توفیق اسم اللہ ذات کے تصور سے حاصل ہوتی ہے جسکی تحقیق کی جا سکتی ہے جب تفکر سے اسم اللہ ذات کا تصور کیا جائے تو یہ مقامِ ازل پر لے جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
تَفَکَّرُ السَّاعَۃِ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیْنِ
ترجمہ: گھڑی بھر کا تفکر دونوں جہان کی عبادت سے افضل ہے۔
اس تفکر کا تعلق سیرِ طبقات سے نہیں ہے بلکہ فنا فی اللہ ہونے اور مشاہدۂ ذاتِ حق کرنے سے ہے جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
وَ اِلٰی رَبِّکَ فَرْغَبْ (الم نشرح۔8)
ترجمہ: اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنے ربّ کی طرف راغب ہوں۔
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں