21مارچ2001ء فقر کی تاریخ میں ایک روشن دن — 21March 2001 Faqr ki Tareekh main aik Roshan Din

21مارچ2001ء..فقر کی تاریخ میں ایک روشن دن 

فائزہ گلزار سروری قادری۔لاہور

اس کائنات کی ہر شے کسی نہ کسی خاص مقصد کی تکمیل کی خاطر پیدا کی گئی ہے چاہے وہ جاندار ہے یا بے جان۔ اور وہ شے اللہ تعالیٰ کی تفویض کردہ ذمہ داری کو سرانجام دینے میں کمر بستہ ہے۔اور اس سے سرمو انحراف نہیں کرتی۔ سورج کا کام روشنی اور حرارت دینا ہے۔ سورج کی روشنی نہ ہو تو پودے اپنی خوراک تیار نہیں کر سکتے۔انسانی جسم میں وٹامن ڈی بنانے کاواحد ذریعہ سورج کی روشنی ہے۔مختصر یہ کہ ہم جائزہ لیں توزمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے، سیارے، حیوان، چرند، پرندالغرض ایک ایک چیز اپنے فرائض سرانجام دینے میں مصروف ہے۔ اسی طرح اس دنیا کی امامت اور اللہ کی نیابت کی ذمہ داری انسان کو سونپی گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اس ذمہ داری کے لیے ’’امانت‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یّحْمِلْنَھَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلاً  (الاحزاب۔72)
ترجمہ: ’’ہم نے بارِ امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بے شک وہ (اپنے نفس کے لیے) ظالم اور (اپنی قدر و شان سے) نادان ہے۔‘‘
انسان بھی درجہ بدرجہ مختلف مراتب کے حامل ہیں اور بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ انسانوں میں سب سے افضل حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ظاہر اور باطن میں درجۂ کمال کو پہنچے۔حضرت سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ فرماتے ہیں:
’’وجودِ تعینات میں جس کمال میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم متعین ہوئے ہیں کوئی شخص متعین نہیں ہوا۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق، احوال، افعال اور اقوال اس امر کے شاہد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کمالات میں منفرد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انسانِ کامل ہیں اور باقی انبیا و اولیا اکمل الصلوٰۃاللہ علیہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسے ملحق ہیں جیسے کامل اکمل سے ملحق ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ وہ نسبت رکھتے ہیں جو فاضل کو افضل سے ہوتی ہے لیکن مطلق اکمل انسان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارک ہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم با لاتفاق انسانِ کامل ہیں۔‘‘
ظاہر اور باطن کوکمال درجہ تک پہنچانے کے جو اصول آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مرتب فرمادیئے وہ تا قیامت قائم رہنے والے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد اس امانت کو سنبھالنے اور امت کو منتقل کرنے کی اہل جو ہستی قرار پائی وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بابرکت ذات ہے۔جب یہ امانت سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے سلطان الفقر (سوم) سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی ذات تک پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے اس امانت کو بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق ظاہر کیا۔ جو غلط باتیں رواج پاگئی تھیں ان کا قلع قمع کیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی انہی خدمات کے اعتراف میں آج زمانہ آپ رضی اللہ عنہٗ کو ’’محی الدین‘‘ (دین کو زندہ کرنے والے) اور ’’مجددِ دین‘‘ کے خوبصورت القاب سے یاد کرتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے تمام خزانوں کے مختارِ کُل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی اور عظیم امانت جسے اٹھانے سے تمام مخلوقات عاجز ہیں وہ ایک ہستی کے اس دنیا سے پردہ کر جانے کے بعد کس کو منتقل کی جائے گی اس کا فیصلہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ عالی سے ہی صادر ہوتا ہے۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تصانیف میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر تفصیلاً موجود ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں تھی۔اورجب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کوئی فیصلہ صادر ہوجاتا ہے تو روئے زمین کی تمام قوتیں اس فیصلہ پر عمل کرانے کے لیے لپک پڑتی ہیں۔ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں انتخاب کے اپنے پیمانے ہیں۔ اس پاکیزہ اور نورانی مجلس میں کسی طالب کا انتخاب حسب نسب، تعلیم، شہرت، سیاسی منصب یا کسی عہدہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ صدق، اخلاصِ نیت، شدتِ عشق، وفا و قربانی اور مرشد کی بے لوث خدمت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اپنے کسی مرید کو امانت منتقل کیے بنا اس فانی دنیا سے تشریف لے گئے اور آپؒ نے یہ امانت اپنے اپنے وصال کے 139 سال بعد سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمائی جنہیں حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے منتخب فرما کر مدینہ منورہ سے آپؒ کی طرف روانہ فرمایا۔ جب سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو کوئی ایسا طالب نہ ملا جسے امانتِ الٰہیہ منتقل کی جا سکے تو پیر محمد عبدالغفورشاہ رحمتہ اللہ علیہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے منتخب کر کے ان کے پاس بھیجا۔پیر محمد عبدالغفورشاہ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفۂ اکبر اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانتِ الٰہیہ کے وارث پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اور خصوصاًسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے منتخب شدہ تھے۔پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ جب پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کے بعد سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں حکم دیا کہ آ پ کو سلطان الفقر پنجم کا جو خزانہ عطا ہوا ہے آپ نے وہ سلطان الفقر ششم کو منتقل کرنا ہے جو میری اولاد سے ہو گا۔ یہ سب فقر کے مختارِ کُل حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی بارگاہ سے منظور ہو چکا ہے اور سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اس پر مہر لگا چکے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ میری اولاد میں ایک مردِ کامل پیدا ہوگا جو ختنہ شدہ اور ناف بریدہ ہو گا‘ اس کے گھر سلطان الفقر ششم کی ولادت ہو گی۔ اسی طرح سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ بھی ازل سے منتخب تھے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے خود مزار مبارک سے نکل کر پیر سیّد محمد بہادرعلی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کروایا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے گھر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
جب ایک طالب کا انتخاب بطور وارثِ امانتِ الٰہیہ ہو جاتا ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اسے باطنی تربیت کے لیے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے سپرد فرما دیتے ہیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ اس طالب کی تربیت فرما لیتے ہیں تو اسے امانتِ الٰہیہ کے لیے حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں بھجوا دیتے ہیں۔ قیامت تک امانتِ الٰہیہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت اورمہر سے اسی در سے اور اسی ترتیب سے منتقل ہوتی رہے گی۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ امانت اور خلافت میں فرق ہوتا ہے۔

خلافت

خلافت کی دو اقسام ہیں، ایک خلافتِ ظاہری اور دوسری خلافتِ باطنی۔
ایک مرشد کامل کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان کے مزار مبارک اور خانقاہ وغیرہ کا انتظام کس طالب کے سپرد کیا جائے گا یہ خلافتِ ظاہری کہلاتی ہے۔
خلافتِ باطنی یہ ہوتی ہے کہ مرشد کامل اکمل اپنے ایک یا ایک سے زیادہ طالبوں سے راضی ہو کر کسی خاص صفت سے متصف فرمادیتے ہیں اور وہ طالب اسی صفت کا مظہر بن کر دوسروں کی تربیت اسی صفت کے مطابق کرتا ہے۔ وہ جو خلفا مرشد کامل اکمل کی ایک یا ایک سے زیادہ صفات کے مظہر ہوتے ہیں ان کو سلسلہ سروری قادری میں خلفا اصغر کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ خلیفہ ہوتے ہیں جو ذات و صفات میں مرشد کامل اکمل کی عین بعین فنا فی اللہ اور فنا فی رسول ہوتے ہیں انہیں خلفا اکبر کہا جاتا ہے۔ خلیفہ اصغر ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں جبکہ خلیفہ اکبر صرف ایک ہی ہوتا ہے اور وہی امانتِ الٰہیہ کا حامل ہوتا ہے۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہپنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:
جے توں چاہیں وحدت ربّ دِی، مَل مُرشد دِیاں تَلیاں ھُو
مُرشد لطفوں کرے نظارہ، گُل تھیون سبھ کلیاں ھُو
اِنہاں گُلاں وِچوں ہِک لالہ ہوسی، گُل نازک گُل پھلیاں ھُو
دوہیں جہانیں مُٹھے باھوؒ ، جِنہاں سنگ کیتا دو ڈلیاں ھُو
مفہوم: آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام سالکین کو تاکید فرما رہے ہیں کہ اگر تُو وحدتِ حق تعالیٰ (وصالِ الٰہی) حاصل کرنا چاہتا ہے تو ظاہر و باطن سے مرشد کی اتباع کر۔ اگر مرشد کامل نے توجہ فرمائی تو تمام صادق طالب جو کلیوں کی مانند ہیں ‘پھول بن جائیں گے یعنی اپنے کمال کو پہنچ جائیں گے اور اُن میں توحید کی خوشبو ہو گی (وہ اولادِ معنوی ہوں گے) مگر اِن تمام پھولوں کا سرتاج ایک پھول ہوگا جسے لالہ کہتے ہیں اور لالہ ایک ایسا پھول دار پودا ہے جوسیدھا اوپر کو ہی جاتا ہے اوردیگر پھولدار پودوں کی طرح زمین کی طرف ہرگز نہیں جھکتا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ طالبانِ مولیٰ میں ایک طالب ایسا ہوتا ہے جو کہ بالکل مرشد ہی کی ذات ہوتا ہے یا مرشد ہی اس کے لباس میں مُلتَبس ہوتا ہے اور دوسرے تمام طالبوں کے مقابلے میں علمِ توحید میں الگ ، خاص اور نمایاں مقام رکھتا ہے یعنی وہ فرزندِ حقیقی اور مرشد کا روحانی وارث ہے۔اس حدیثِ پاک مَنْ سَلَکَ عَلٰی طَرِیْقِیْ فَھُوَ  اٰلِیْ  (جو چلا میری راہ‘ وہی میری آل ہے) میں اسی طرف اشارہ ہے اور آخری مصرعہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس نے دو مرشدوں یا دو جگہ سے معرفتِ حق تعالیٰ حاصل کرنا چاہی تو وہ ناکام رہا اور اس نے دونوں جہانوں میں خسارہ اٹھایا۔
صوفیا کرام کے نزدیک خلافت ہمیشہ اہل لوگوں کی دی جاتی ہے خواہ وہ ان کی اولاد میں سے ہوں یا کوئی غیر۔ کیونکہ کسی کو منصبِ ولایت مل جائے تو طریقت کے اصولوں کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب ان کا بیٹا اور پوتا بھی (جو اہل نہ ہوں) ولی بن ولی کہلائیں گے اور منصبِ ولایت کے حقدار ضرور ہوں گے۔ صوفیا کرام نے اپنے حلقہ اثر کو بڑھانے یا دوسرے مشائخ کے حلقہ اثر کو گھٹانے یا مٹانے کے لیے کبھی کسی کو خلافت تقسیم نہیں فرمائی اور نہ ہی کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ کسی کامل ولی نے اپنی اولاد کو خلافت محض اس لیے عطا کی ہوکہ سلسلہ خاندان سے باہر نہ جانے پائے اور گدی پر غیر خاندان کا کوئی فرد نہ آنے پائے۔سلسلہ چشتیہ کے خواجہ خواجگان حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ ان کے صاحبزادے نہ تھے۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہکے جانشین بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ ان کے صاحبزادے نہ تھے اور حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین حضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ ان کے صاحبزادے نہ تھے۔ سلسلہ سروری قادری میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد جو امانت چلی اس میں بھی نسب کا دخل نہیں ہے۔ حضرت سخی سلطا ن سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ مدینہ شریف سے آئے تھے اور امانتِ الٰہیہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ان سے حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہنے حاصل کی اور اُن سے حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ نے حاصل کی اور اُن سے سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزرحمتہ اللہ علیہ نے حاصل کی۔ان سب میں نسب کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمداصغر علی رحمتہ اللہ علیہسلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند تھے لیکن امانت کے اصل حقدار اور ازل سے منتخب شدہ تھے اور اگر امانت نسب کی وجہ سے ملنا ہوتی تو آپؒ کے بڑے بھائی اور سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے صاحبزادے سلطان صفدر علی ؒ کو ملتی۔
فقرا کاملین کے مطابق ہر انسان پر فرض ہے کہ وہ مقصدِ حیات کو پانے اور اپنے باطن کی اصلاح کے لیے امانتِ الٰہیہ کی حامل ہستی کو تلاش کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:
مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفُ اِمَامِ زَمَانَۃِ مَاتَ مَیْتَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ 
ترجمہ: جو امامِ زمانہ کی معرفت (پہچان) کے بغیر مرجائے وہ جہالت کی موت مرا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حامل امانتِ الٰہیہ کی معرفت (پہچان) حاصل کرنا عام انسان کے لیے ایک مشکل امر ہے کیونکہ وہ ہستی عام انسانوں کی طرح کھاتی پیتی اور زندگی کے تمام امور سر انجام دیتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ حامل ، امانتِ الٰہیہ کی یہ پہچان بتاتے ہیں کہ وہ ہستی بیعت کے پہلے ہی روز طالب کو سلطان الاذکار اسمِ اعظم’’ ھُو‘‘عطا کر دیتی ہے اور اسم اللہ ذات تصور کے لیے عطا فرما دیتی ہے۔
اس دور کے طالبانِ مولیٰ نے اس زمانہ کے انسانِ کامل اور امام الوقت کو جس بابرکت ہستی کی صورت میں پہچانا وہ عظیم ذات شبیہِ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ہے جو سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے سلسلہ قادری جسے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے سلسلہ سروری قادری کے نام سے عروج عطا فرمایا، کے موجودہ شیخِ کامل ہیں اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی محمد اصغر علیرحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانتِ الٰہیہ کے حامل مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد پاک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہکے نقشِ قدم پر تھے۔ جس طرح سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانت جس طالب کے سپرد کی گئی انھیں حضور نے منتخب فرما کر بھیجا بالکل اسی طرح سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانت کس طالب کے سپرد کی جائے گی اس کا فیصلہ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے ہونا تھا۔ اس کے شواہد آپ رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ طیبہ میں جابجا موجود ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ بیس(20)سال (اپریل 1981ء تامارچ 2001ء)اس طالبِ مولیٰ کی تلاش میں رہے جسے امانتِ الٰہیہ منتقل فرما کر آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے۔ اس سلسلہ میں آپؒ نے ایک ایک طالب پر شدید محنت فرمائی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے13 اپریل1981ء کو مسندِ تلقین و ارشادسنبھالی اور فقر کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے اور طالبانِ مولیٰ کے تزکیہ نفس کے لیے27 فروری1989ء کو اصلاحی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ 1994ء تک آپ رحمتہ اللہ علیہ تندہی سے فقر کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کے زنگ آلود قلوب کونورِ الٰہی سے منورکرتے رہے۔ اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نے منتخب شدہ سالکین کو فقر کے مختارِ کُل حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کی بارگاہ میں پیش فرمانا شروع کیا۔اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تین بار مدینہ منورہ کی جانب بسلسلہ عمرہ مبارک سفر فرمایا لیکن بارگاہِ نبوی سے کوئی طالب بھی فقر کے انتہائی مقام کے لائق منتخب نہ ہو سکا۔ جس کے باعث آپ رحمتہ اللہ علیہ ظاہری طور پر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے۔ 12اپریل 1998ء کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس آپ رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی میں پہنچے اور آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد پاک کی ذات میں یوں فنا ہو ئے کہ اپنے مرشد پاک کی زندگی کا ہی ایک عکس بن کر رہ گئے اور ہر لمحۂ زندگی کو آپؒ کی ڈیوٹی اور غلامی کے لیے وقف کر دیا۔1998ء سے 2001ء تک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو ظاہری اور باطنی طور پر بہت سی آزمائشوں سے گزارا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیق کی بدولت آپ مدظلہ الاقدس ہر آزمائش اور امتحان میں پورا اترے۔ جب مرشد پاک نے امانت کے وارث کو اچھی طرح پرکھ لیا تو حج کا قصد فرمایا۔ 28 فروری 2001ء بروز بدھ آپؒ نو(9)منتخب طالبانِ مولیٰ اور تین خواتین کے ہمراہ حج کے لیے تشریف لے گئے۔ 9مارچ2001ء کو حج سے فراغت پا لی اور آپؒ 17مارچ بعد نمازِ عشاء مکہ مکرمہ سے مدینہ شریف کی طرف روانہ ہو ئے۔ آخر کار 21 مارچ2001ء کا وہ دن آگیا جس کا آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ بیس سال سے انتظارفرما رہے تھے کیونکہ ’’امانت‘‘ کی منتقلی کے لیے جس طالب کومنتخب کرکے آپؒ بارگاہِ نبوی میں تشریف لائے تھے وہ مقبول اور منظور ہو گیا۔ اس یادگار لمحہ کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس یوں بیان فرماتے ہیں:
’’مرشد کریم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حاضری سب سے بڑی سعادت اور خوش نصیبی تھی۔ مجھے تو21مارچ 2001ء کا دِن نہیں بھولتا جب نمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد تمام ساتھی مختلف کاموں کے سلسلے میں اِدھر اُدھر چلے گئے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ صرف میں رہ گیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حکم فرمایا چلیں آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضری دے آئیں۔ اس وقت باب السلام کے پاس رش اتنا زیادہ تھا کہ داخلہ مشکل ہو رہا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو رش اور ہجوم سے بچانے کے لیے میں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے راستہ بناتا گیا۔ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اس دِن کی حاضری میری زندگی کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ مجھ پر انوار و تجلیات کی بارش ہورہی ہے، آنسو میری آنکھوں سے جاری تھے۔ جیسے ہی مرشد کریم روضۂ رسولصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جالی کے سامنے پہنچے تو اچانک آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے والا آدمی‘ جو کہ ویل چیئر پر سوار تھا، کی ویل چیئر کا پہیہ قالین میں پھنس گیا اور لائن رک گئی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے چہرہ مبارک روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف کیا۔ اس وقت آپ رحمتہ اللہ علیہ کا چہرہ مبارک چاند سے زیادہ روشن نظر آرہا تھا۔ میری ایک نظر روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کودیکھتی اور پھر پلٹ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر پڑتی۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا حسین منظر کبھی نہیں دیکھا۔ عجیب محویت کا عالم تھا۔ اتنے میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس کھڑے شُرطے (سپاہی)نے مرشد کریم کی طرف اشارہ کرکے لائنوں کے دوسری طرف کھڑے شُرطوں کو آواز دی یَاشَیْخٌ (یعنی لائن اِس شیخ کی وجہ سے رکی ہے)۔ سبحان اللہ! اُن کے منہ سے بھی یا شیخ نکل گیا۔ شُرطے لپک کر مرشد کریم کی طرف بڑھے تو اس وقت وہاں کھڑے ہزاروں لوگوں کی نگاہیں میرے مرشد کریم کی طرف اُٹھ گئیں۔ ہر آدمی محویت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی طرف دیکھ رہاتھا یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ شُرطے نے بڑھ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کا بازو پکڑنا چاہا تو میں نے جلدی سے شُرطے کا ہاتھ پکڑ کر اس کو آگے ویل چیئر والے کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ لائن اس کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ شُرطوں نے جلدی سے ویل چیئر کا پہیہ سیدھا کیا اور یوں لائن دوبارہ حرکت میں آئی۔روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حاضری کے بعد ہم بابِ جبرائیل کے قریب کچھ دیر رکے تو میں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں عرض کی:
’’حضور عالمِ اسلام مختلف فرقوں میں بٹ چکا ہے، تمام لوگوں اور خاص کر ماڈرن تعلیم یافتہ لوگوں کی نظر حق کی طرف نہیں ہے، عالمِ اسلام کو عالمِ کفر نے متحد ہوکر گھیر رکھا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ مہربانی فرمائیں کہ اسلام کا بول بالا ہو اور شیطانی گروہ مغلوب ہو۔‘‘مرشدِ پاک نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور فرمایا :-
’’ہمیں تو دِل کا محرم مل گیا ہے۔ ‘‘
یعنی ہمارا معاملہ تو حل ہو گیا اور کام بھی ختم ہو گیا۔
وہیں پر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ پر کرم اور مہربانی فرما دی اور باطنی طور پر سیراب کردیااور ساتھ ہی باطنی طور پر اس راز کو راز رکھنے کیلئے طاقت بھی عطا فرما دی، اس دن کے بعد سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک اٹھا اور طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام بیماریاں اور پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’ہم جس مقصد کے لئے آقا پاک صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ میں آئے تھے وہ پورا ہو گیا اور اس عظیم مقصد کے طفیل جو ساتھی جو جو مراد لے کر آیا تھا خواہ وہ دنیا کی ہو یا آخرت کی اسکی وہ مراد بھی پوری ہوگئی۔‘‘ اور یہ اس خادم نے ہوتا بھی دیکھا کہ جو کاروبار کی ترقی کے لیے ساتھ گیا تھا اس کا کاروبار چمک اٹھا اور جو بھی جس مقصد کے لیے گیا حج کے بعد اس کا مقصد پورا ہو گیا۔ ظاہری طور پرایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سر سے بہت بڑی ذمہ داری اور کوئی بھاری بوجھ اُتر گیا ہو۔‘‘ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ حیات و تعلیمات)
ہر خاص دن کو منانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جو دن اور جو ساعتیں بہت محبوب ہیں اللہ پاک ان کو یادگار بنانے کے لیے اپنی خصوصی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے۔منتقلی امانتِ الہٰیہ کے دن کو منانابھی فقرا کاملین کی سنت مبارکہ ہے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ ہر سال 12-13 اپریل کو میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظیم الشان محفل منعقد فرماتے تھے کیونکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد کریم سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اسی روز یعنی 12اپریل1979ء کو امانتِ الٰہیہ منتقل فرمائی تھی۔ اسی سنتِ مبارکہ کی پیروی میں فقرا اور عارفین سے محبت رکھنے والے اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے عاشقین و مریدین ہر سال 21 مارچ کے روز پُر نور ساعت کی یاد میں میلادِ مصطفی ؐ منعقد فرماتے ہیں اور اپنی جھولیوں کو روحانی پاکیزگی اور انوار سے بھرتے ہیں۔
یہ وہ خاص دن ہے جس دن فقر کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صورت میں ایک نیا عنوان عطا ہوا اور اس کے بعد ہر طلوع ہوتا سورج سلطان الفقر ششمؒ کے اس فرمانِ مبارک کو حرف بہ حرف سچ ہوتا ہوا دیکھتا ہے:
’’ہم فقر کا عنوان ہیں اور آپ اس کی تفصیل ہوں گے۔‘‘
سلطان الفقر ششمؒ نے اس مادہ پرست دور میں فقر کے بند دروازے کو عوام الناس پر کھولا اور آپ مدظلہ الاقدس اسے دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں طالبوں اور مریدوں کو اسم اللہ ذات چار منازل میں ترتیب وار عطا کیا جاتا تھا یعنی اللّٰہ ، لِلّٰہ ، لَہٗ ، ھُو ۔طالب درجہ بدرجہ ان منازل سے گزرتا اور ساتھ ساتھ قربِ الٰہی میں بھی ترقی کرتا۔ اس عمل میں کافی عرصہ بھی لگ جاتا تھا اور جو طالب پہلی منزل پار نہ کر پاتا وہ اگلی منزل پر بھی پہنچ نہ پاتا تھا۔ اس طرح بہت سے طالب اپنی طلب میں ناقص ہونے کی وجہ سے ابتدائی منازل پارنہ کر سکتے اور ’ھُو‘ تک کبھی پہنچ ہی نہ پاتے تھے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے طالبوں میں سے آپ مدظلہ الاقدس وہ واحد ہستی ہیں جو اپنے طالبوں کو بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکاراسمِ اعظم ’ھُو‘ عطا فرما دیتے ہیں اور انہیں اپنی نگاہِ کامل سے اس روحانی بلندی پر پہنچا دیتے ہیں کہ وہ اس افضل ذکر کی تجلیات کو بآسانی برداشت کر لیتے ہیں۔
یہ بھی آپ مدظلہ الاقدس کا ہی طرۂ امتیاز ہے کہ آپ اسم اللہ ذات اور کلمہ توحید کی حقیقت سمجھا کرطالب کو اقرار باللسان سے تصدیق بالقلب کے مرتبہ پر پہنچادیتے ہیں۔ کلمۂ توحید کا اصل فیض اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے حقیقی معنوں میں پنہاں ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی تلقین سے طالب پر کلمۂ توحید کے اصل معنی کھول دیتے ہیں۔ سلطان الاذکار ’ھُو‘ کے فیض کو عوام الناس میں عام کرنے کے ساتھ ساتھ اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فیض کو عام کرنے کا سہرا بھی صرف اور صرف آپ مدظلہ الاقدس کے سر ہی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد پاک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ہزاروں لاکھوں مریدوں میں سے اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصور صرف آپ مدظلہ الاقدس کو ہی عطا فرمایا۔ مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فیض بھی اپنے طالبوں پر عام کر دیا۔ آپمدظلہ الاقدس کی ترتیب یہ ہے کہ ہر سال عید میلاد النبیؐ کے بابرکت موقع پر ان تمام طالبانِ مولیٰ کو اسمِ محمد عطا فرماتے ہیں جن پر اسمِ اللہ ذات کی حقیقت کھل چکی ہو اور جو روحانی ترقی کے ابتدائی مدارج طے کر چکے ہوں۔ چنانچہ ہر سال عید میلاد النبیؐ پر سینکڑوں طالبانِ مولیٰ (مرد و خواتین) کو آپ مدظلہ الاقدس کی جانب سے اسمِ محمد کا فیض جاری کیا جاتا ہے۔
جس طرح ظاہری دنیا میں رابطے کے بہت سے ذرائع ہیں مثلاً ٹیلی فون، موبائل فون، انٹرنیٹ وغیرہ جن کے ذریعے ہم اپنے عزیز رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطے میں رہتے ہیں اسی طرح باطنی دنیا میں بھی ہمارے تمام بزرگ اولیاؒ ، صحابہ کرامؓ اور انبیا ؑ سے رابطہ کا ذریعہ علمِ دعوت ہے۔سلطان الفقر پنجم حضرت سخی سلطان باھوؒ نے پہلی بار علمِ دعوت کو کھول کر اپنی کتب میں بیان فرمایا اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اسے صادق طالبانِ مولیٰ پر پہلی بار کھول کر عطا کر دیا۔آپ مدظلہ الاقدس کے دور سے قبل عام مسلمان علمِ دعوت کے تصور تک سے آگاہ نہ تھے لیکن آپ مدظلہ الاقدس نے کمال مہربانی سے یہ انتہائی اعلیٰ باطنی علم سینکڑوں صادق و مخلص طالبانِ مولیٰ کو عطا فرمایا اور ان کا روحانی تعلق ان کے بزرگ اور محبوب اولیا و صحابہ سے جوڑا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے مرد طالبوں کے ساتھ ساتھ خواتین طالبوں کو بھی گھر بیٹھے علمِ دعوت پڑھنے کی اجازت عطا فرمائی اور خصوصاً تمام کی تمام خواتین طالبانِ مولیٰ پر دعوت کھول دی۔
بے شک آپ کا وجود طالبانِ مولیٰ پر اللہ کا عظیم احسان ہے جس کا شکر کسی طور بھی ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس قدر بلند روحانی مراتب عطا فرمائے ہیں کہ ان کا اندازہ لگانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں لیکن آپ مدظلہ الاقدس ان سب کے باوجود خود کو ایک عام انسان ظاہر کرتے ہیں اور اپنے طالبوں کی بھی اس طرح تربیت فرماتے ہیں کہ ان میں عجز و انکساری نمایاں وصف بن کر ابھرتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
’’عاجزی شیطان کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہے۔‘‘
جب بھی کوئی آپ مدظلہ الاقدس سے فقر کا سوال سچے دل سے کرتا ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ وہ معاشرے کے کس طبقے ، مذہب اور فرقے سے تعلق رکھتا ہے‘ آپ مدظلہ الاقدس اسے کسی رنج و مشقت میں ڈالے بغیر خزانۂ فقر عطا فرما دیتے ہیں البتہ اس کے لیے بیعت ہونا ضروری ہے۔

عنایت تو دیکھو میرے کامل مرشد کی یارو
کہ جس نے مجھے پل بھر میں لاھوتی بنا دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں