271

23 مارچ– یومِ قرار دادِ پاکستان– Youm-e-Qarardad

23 مارچ– یومِ قرار دادِ پاکستان

تحریر: وقار احمد سروری قادری

پاکستان‘ یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ‘جسے ایک دیوانے کا خواب کہا جاتاتھا۔ تصور کیا جاتا تھا کہ اوّل تو یہ ملک کبھی معرضِ وجود میں آ ہی نہیں سکتا اور بالفرض اگر حادثاتی طور پر ایسا ہو بھی گیا تو ایک سال سے زیادہ اپنا وجود دنیا کے نقشے پر برقرار نہ رکھ سکے گا۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا، اپنی ثقافت، تہذیب و تمدن، رہن سہن، رسم و رواج، لین دین، سماجی و معاشرتی معاملات کی بنا پر اپنی قومی حیثیت منوانا اور ایک الگ وطن کا مطالبہ کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ برطانوی نوآبادیوں(British Colonies) میں سے کتنی ہی ایسی تھیں جو پاکستان کے قیام سے قبل برطانوی راج سے آزاد ہو چکی تھیں پھر کیا وجہ تھی کہ برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے جب اپنے لیے آزاد اور الگ وطن کا مطالبہ کیا تو نہ صرف اس مطالبے کا مذاق اُڑایا گیااور دیوانے کا خواب تصور کیا گیا بلکہ اس منفی روّیے کو اس شدت سے اپنایا گیا کہ مسلمان نفسیاتی طور پر شکست تسلیم کر لیں اور اس خیال کو بھی اپنے دلوں سے نکال دیں۔ وہ بنیادی وجہ یہ نعرہ تھا جس نے لاکھوں مسلمانانِ برصغیر کو متحد کر دیا تھا:
پاکستان کا مطلب کیا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
اپنی حکومت کے خلاف بغاوت اور ایک نئے وطن کا مطالبہ بلاشبہ سیاسی و حکومتی لحاظ سے بہت تشویشناک تھا لیکن اس سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ تھا کہ علیحدہ وطن کا مطالبہ اسلام یعنی اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نام پر کیا جا رہا تھا۔ حکومتِ برطانیہ کے عیسائی‘ مسلمانوں کی تاریخ سے بخوبی واقف تھے لہٰذا وہ اس بات کو کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ایک طویل عرصہ تک تقریباً ساری دنیا پر حکومت کرنے والی یہ قوم اسلام کے نام پر ایک آزادانہ ریاست قائم کر لے۔ برصغیر پاک و ہند کے حدود اربع میں سے ایک حصے پر سے برطانوی راج کا چھن جانا شاید اُتنا تکلیف دہ نہیں تھا جتنا اسلامی ریاست کا قائم ہونا اور پھلنا پھولنا ، یعنی اصل مدعا اسلام سے بغض تھا۔
23 مارچ 1940ء تحریکِ پاکستان کا وہ سنہری دن ہے جب برصغیر پاک و ہند کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہوئے اور اپنے قائدمحمد علی جناحؒ کی قیادت میں ایک قرارداد منظور کی جو قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس ملک کا بچہ بچہ اس بات سے بحوبی واقف ہے کہ یہ قرارداد منٹو پارک لاہور میں پیش کی گئی جسے آج اقبال پارک کہا جاتا ہے اور اسی قرارداد کی یادمیں مینارِپاکستان تعمیر کیا گیا ۔ ہر سال 23مارچ کے روز کچھ مِلّی نغمے سن کر ‘ مینار پاکستان کی تعمیر و تکمیل اور ڈیزائن پر دستاویزی فلم دیکھ کر ہم خود کو بہت بڑا محبِ وطن سمجھتے ہیں لیکن کبھی بھی اس حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ہمارے آباؤ اجداد کس طرح اور کن حالات سے گزر کر یہاں تک پہنچے تھے۔ ٹی وی چینلز پر دو قومی نظریے پر تقاریر تو بہت پیش کی جاتی ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا جاتا کہ اس نظریے میں عملاًروح ڈالنے والی چیز کیاتھی اورکس نے اسے عملی جامہ پہنایا۔ وہ ہستی حکیم الامت، مفکرِ پاکستان، مصورِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا۔
علامہ اقبال ایک عظیم شاعر، مفکر اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ عارف بھی تھے جن کے دل پر اللہ تعالیٰ نے تصورِ پاکستان اتارا۔ عارف اس شخص کو کہتے ہیں جو اِسم سے مسمّٰی کو پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی عبادت کرتا ہے۔ عارف ہر عَالَم کا عِلم رکھتا ہے، عارف وہ ہوتا ہے جو نورِ الٰہی میں غرق ہو کر اسرارِ الٰہی کے موتی نکال لائے اور پھر ان کو اللہ کی مخلوق میں تقسیم کر دے۔
ڈاکٹر علامہ اقبال ہر لحاظ سے عارف کی تعریف پر پورا اُترتے ہیں کیونکہ انہوں نے نہ صرف راہِ فقر پر چل کر فقر کی انتہا حاصل کی بلکہ اس سے حاصل ہونے والے اسرارِ الٰہی کو اپنی شاعری کے ذریعے مخلوقِ خدا تک بھی پہنچایا۔
پاکستان کی تحریکِ آزادی سے منسلک سیاستدانوں اور قائدین نے ظاہری طور پر تو اس بات کی کھوج لگا لی تھی کہ برصغیر پاک و ہند کے ملسمانوں کے مسائل کا حل کیا ہے ؛وہ یہ کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک قوم نہیں ہو سکتے کیونکہ دینِ اسلام کی اپنی ایک جداگانہ حیثیت ہے جو کسی بھی صورت ہندو مذہب میں ضَم نہیں ہو سکتی لیکن حل صرگ ایک نظریے سے زیادہ اور کچھ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اس سوچ کو درحقیقت اس وقت تقویت ملی اور اس نظریے نے باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کی جب علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ باور کرایا کہ مسلمان کی طاقت اور حقیقت دینِ اسلام کی وہ روح ہے جسے ظاہر پرستی نے بری طرح پامال کر دیا ہے یعنی ’’فقرِ محمدیؐ ۔‘‘ جس کے متعلق حدیثِ نبوی ہے کہ:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ فَافْتَخِرُّ بِہٖ عَلٰی سَائِرِ الْاَنْبِیَآئِ وَالْمُرْسَلِیْنَ ۔

ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اورفقر مجھ سے ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔
علامہ محمد اقبال ؒ نے اپنی بے باک شاعری میں مسلمانوں کو نہ صرف ماضی کی شان و شوکت یاد دلائی بلکہ موجودہ دگر گوں حالات کو بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ آپؒ فرماتے ہیں:
؂سوچا بھی ہے اے مردِ مسلمان کبھی تو نے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیر جگر دار
اس بیت کا مصرع اوّل ہے کہ جس میں
پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار
ہے فکر مجھے مصرعِ ثانی کی زیادہ
اللہ کرے عطا تجھے ’فقر‘ کی تلوار
قبضے میں یہ تلوار بھی آجائے تو مومن
یا خالدؓ جانباز ہے یا حیدر کرارؓ
آپؒ مزید فرماتے ہیں کہ آج مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے فقر کی دولت کی قدر نہیں کی۔
؂کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
یہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولت سلمانیؓ و سلیمانیؑ
****
؂ لفظِ اسلام سے اگر یورپ کو کِد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے ’’فقرِ غیور‘‘
لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ فرنگیوں کو در حقیقت لفظ’’ فقر‘‘ سے ڈر تھا۔وہ غیر ہو کر اس بات کو جانتے تھے کہ یہی وہ نقطہ ہے جس کی بنا پر ایک مسلمان ’’ظِلِّ سبحانی‘‘ اور ’’روحِ قرآنی‘‘ بنتا ہے لیکن مسلمان اپنی ہی حقیقت سے نا آشناتھے۔ غیر مسلم قوتوں نے ہر طرح سے فقر کے اس پیغام کو مسلمانوں میں پھیلنے سے روکنا چاہا لیکن علامہ محمد اقبالؒ اپنے انداز میں مسلمانوں کی مسلسل حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ آپؒ نے کثرت سے اس بات کی تعلیم دی کہ ’’خود‘‘ کو پہچانو اپنے سلف صالحین کو دیکھو کہ وہ کیا تھے اور تم کیا ہو۔
؂ وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
***
؂ تم ہو گفتار سراپا ، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو ، وہ گلستاں بہ کنار
آپ نے انسان کے باطن کے لیے ’’خودی‘‘ کا لفظ متعارف کروایا لیکن اس لفظ کے پیچھے وہی مقصد جڑا تھا جسے قرآن و حدیث میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَاتُبْصِرُوْنَ۔ (الذّٰریٰت۔21)

 

 ترجمہ: اورمیں تمہارے اندر ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔
حدیثِ مبارکہ ہے:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ

  ترجمہ: جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناًاپنے ربّ کو پہچانا۔
علامہ اقبال اسی حقیقت کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں
؂ خودی میں گم ہے خدائی‘ تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ
مفکرِ پاکستان علامہ اقبالؒ مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلانا چاہتے تھے کہ صرف زبانی نعرہ لگا دینے سے کامیابی ممکن نہیں جب تک کہ مسلمان اپنے مقصدِ حیات، اپنی ذات اور اپنی حقیقت سے روشناس نہیں ہو جاتے۔

؂ خرد نے کہہ بھی دیا لَااِلٰہَ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
***
؂ دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
***
؂چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریّا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم
انسان کا مقصدِ حیات اس حدیثِ قدسی میں واضح بیان کیا گیا ہے:
*کُنْتُ کَنْزًامَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلَقۡ۔

ترجمہ:میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔
یہاں علامہ اقبالؒ کا تمام فلسفہ سمجھ میں آ جاتا ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک زبانی نعرہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ‘‘ کو عملی جامہ پہنایا۔ آپ نے مسلمانوں کو بتایا کہ اگر باطل قوتوں سے نبردآزما ہونا چاہتے ہو تو سب سے پہلے اسلام کی روح یعنی ’’فقر‘‘ کو سمجھو اور راہِ فقر پر چلنے کے لیے ضروری ہے کہ ’خودی‘ یعنی اپنی ذات کو پہچانواور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ جب تم اپنے مقصدِ حیات اور مقصدِ تخلیق یعنی معرفتِ الٰہی کو حقیقی معنوں میں اپنی زندگی کا مقصد بنا کر اس کے حصول کے لیے کوشش کرو۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج ہمارے معاشرے کا پڑھالکھا اور باشعور طبقہ، مفسر، مفکر، علما اور اساتذہ کرام بھی علامہ اقبالؒ کے اس سادہ سے فلسفے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس پر ظلم یہ کہ علامہ اقبالؒ مسلمانوں کوفقر کی ترغیب دیتے رہے اور آج اسے غربت و افلاس، تنگدستی اور محتاجی کا نام دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔
؂ افسوس‘ صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارے
***
؂ شکایت ہے مجھے یا ربّ خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
***
؂ غضب ہیں یہ مرشدانِ خود بیں خدا تیری قوم کو بچائے
بگاڑ کر تیرے مسلمانوں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں
زندگی نے علامہ اقبالؒ کو اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ سکتے۔ آپؒ 21 اپریل1938 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے لیکن آپؒ کی شاعری نے مسلمانانِ پاک و ہند کی سوچ کو جِلا بخشی اور ان کے ذہنوں میں پاکستان کا انمٹ خاکہ نقش کر کے جذبہ ایمانی کا ایسا رنگ بھرا کہ پھر تحریکِ آزادی کسی صورت روکے نہ رکی۔لوگوں نے اپنی جان‘ مال ‘ اولاد‘ آبرو یہاں تک کہ کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ 14 اگست 1947 ، 27 رمضان المبارک کی شب دنیا کے نقشے پر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک آزاد اسلامی ریاست قائم ہوئی جو برصغیر کے مسلمانوں اور حکیم الامت ‘ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کے خواب کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔
آج وطنِ عزیز کو معرضِ وجود میں آئے 70 برس گزر گئے لیکن ہمارا ملک اس انداز میں ترقی نہ کر پایا جیسے ہمارے بزرگوں نے سوچاتھا۔ اسکی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ جس سوچ اور مقصد کے تحت یہ ریاست قائم ہوئی تھی ہم اس مقصد کو یکسر بھلا بیٹھے ہیں۔ آج اس امر کی شدت سے ضرورت ہے کہ ہم وطنِ عزیز کے معرضِ وجود میں آنے کا مقصد نہ صرف سمجھیں بلکہ اسے عملی طور پر اپنانے کی بھرپور کوشش کریں۔ ایک سچے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اندر وہ روح بیدار کرنی ہے جس کا نقشہ علامہ اقبالؒ نے کچھ اس طرح کھینچا ہے:
؂ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
***
؂ دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری‘ نہ میری ضرب ہے کاری
***
؂ کھلتے نہیں اس قلزمِ خاموش کے اسرار
جب تک تو اسے ضربِ کلیمی ؑ سے نہ چیرے
آج ایک مرتبہ پھر ہمیں علامہ اقبالؒ جیسے ایک قائد، ایک استاد اور ایک راہنما کی ضرورت ہے جو قوم کے ہر فرد کوفقر کی حقیقت سے روشناس کرے۔ ایک ایسی ہستی جو نہ صرف فقر کی کنہہ سے آشنا ہو بلکہ پاکستان کے ایک ایک شہری کو اس قابل بنا دے کہ وہ فقر کی دولت سے مالا مال ہو سکے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلسلہ فقر کے اکیتسویں امام اور موجودہ دور کے شیخِ کامل اکمل کے درجے پر فائز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس آج کے اس پُر فتن دور میں بھی فقرِ محمدیؐ کی شمع کو اس کے حقیقی معنوں میں روشن کیے ہوئے ہیں۔ فقر کی تعلیمات کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لیے آپ نے ’’تحریک دعوتِ فقر‘‘ قائم کی۔ تحریک دعوتِ فقر بلا تفریق و بلا امتیاز عوام الناس میں فقر کی دولت تقسیم کر رہی ہے۔
آئیے اس 23 مارچ پر سچے دل سے ارادہ کریں کہ تحریک دعوتِ فقر کے پلیٹ فارم سے جڑ کر اپنی ذات کی حقیقت اور اپنے پیارے وطن کی تخلیق کا مقصد جاننا ہے اور ایک سچے محبِ وطن ہونے کا ثبوت دینا ہے۔
؂ اب تیرا دور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے زر و سیم
اللہ پاک ہمارے ملک پاکستان کو تا قیامِ قیامت شاد و آباد رکھے۔ آمین !
استفادہ کتب:
فقرِ اقبال از سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں