خوش نصیبی—Khush Naseebi

خوش نصیبی

تحریر: عرشیہ خان۔ لاہور

انسان نے اپنی خوشی و مسرت کو زندگی کی رنگینیوں، آرائشوں‘ رشتوں کی محبت اور مال و دولت میں ڈھونڈ لیا ہے جن کے حاصل اور مہیا ہونے پر اپنے آپ کو خوش نصیب اور خواہشات کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں اپنے نصیب کو ’’بد‘‘ قرار دے دیتا ہے یعنی اپنی محدود عقل کی بنا پر خواہشات اور ضروریات پوری ہونے پر ہم خود کو خوش نصیب تصور کر لیتے ہیں۔ ہمارے لیے خوش نصیبی کا مطلب ایسی اشیا کا حصول ہے جن کو پا کر ہم دنیا میں آسودہ حال ہو جائیں یعنی مال و دولت، اچھی نوکری، بڑا گھر، پیسے کمانے کا سنہری موقع، حسین شریکِ حیات وغیرہ۔ ہماری وقتی خواہشات کے پورے ہونے پر ہم اپنے آپ کو دنیا میں خوش نصیب گمان کر لیتے ہیں۔ جیسے ہی یہ مادی اشیا ختم ہو جائیں گی ہماری خوشی اور خوش نصیبی بھی ان کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔اگر انسان اپنی زندگی کا مقصد دیکھے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرے تو اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ جائے گا کہ ہمارے لیے خوش نصیبی کا معیار کیا ہے؟
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میرے دل پر القا کیا گیا:
اَحْبَبْتَ مَنْ اَحْبَبْتُ فَاِنَّکَ مَفَارِقَۃٌ

 ترجمہ: دنیا کی جس شے کو چاہو دوست رکھو لیکن آخر اس سے تمہاری جدائی ہے۔
خواہ مادی اشیا ایک خاص مدت تک ہمارے ساتھ رہیں لیکن بالآخرتو ساتھ چھوڑہی جائیں گی اور اگر ہم نے اپنی خوشیوں اور خوش نصیبی کو ان کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے تو ان کے ساتھ چھوڑتے ہی خوش نصیبی بھی ساتھ چھوڑ جائے گی، پھر اس دائمی زندگی میں ہمارا نصیب کیا ہو گا؟
ہم دنیا اور اسکی لذتوں میں اس قدر مگن ہیں کہ آخرت میں کسی اچھے مقام کے حصول کو تو ہم نے خوش نصیبی کی فہرست میں کبھی شامل ہی نہیں کیا۔ ہم نے اس عارضی زندگی کو اپنا سب کچھ مان لیا ہے،اسی زندگی کے سکون کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ دنیا کا جادو یہ ہے کہ ظاہراً بڑی حسین و جمیل معلوم ہوتی ہے حالانکہ اس کے اس بناؤ سنگھار میں مصائب و آلام کے پہاڑ پوشیدہ ہیں۔ جب جاہل اور احمق اس ظاہری حسن و جمال اور بناؤ سنگھار کو دیکھتے ہیں تو اس کی زلفوں کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے کوئی بدصورت بڑھیا اپنے چہرے کو چھپا کر نہایت خوبصورت اور دیدہ زیب لباس پہن کر اپنے آپ کو آراستہ کر لے تو دور سے دیکھنے والا اس پر فریفتہ ہو کر فدا ہونے کو تیار ہو جائے لیکن وقتِ قربت جب اس کے چہرے سے نقاب اٹھائے تو اس کی بد صورتی کو دیکھتے ہی گھبرائے اور نادم و پشیمان ہونے لگے۔
حدیث شریف میں ہے کہ روزِ حشر دنیا کو بدصورت بڑھیاکی شکل میں لایا جائے گا اور اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی اور دانت باہر نکلے ہونگے اورایسی خوفناک شکل ہوگی کہ لوگ مارے خوف کے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیز پوچھیں گے یہ رذیل و بدصورت کون ہے؟ انہیں بتایا جائے گا یہ وہی تمہاری محبوب دنیا ہے جس کیلئے تم مرمٹنے پر تیار ہو جایا کرتے تھے اور ہمیشہ اس کی خاطر تم مخالفت پر آمادہ رہتے یہاں تک کہ تم ایک دوسرے کا خون بہاتے اور رحم کے نام سے تمہارے کان بہرے ہو جاتے تاکہ تم اس کے محب اور عاشق کہلاؤ اور پھر اس بدصورت دنیا کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اس کے دوستوں کو بھی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ( کیمیائے سعادت)
معلوم ہو اکہ چند خواہشات کے پورا ہونے پر ہم اپنے آپ کو خوش نصیب مان لیتے ہیں جنہوں نے آخر ایک دن ہمارا ساتھ چھوڑ جانا ہے اور اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے انسان کی اپنی زندگی کا بھی اختتام ہو جاتا ہے اور یہی خواہشات جو دنیا میں لذت دیتی تھیں آخرت میں ذلت کا باعث بنتی ہیں تو ذرا سوچیں اسے خوش نصیبی کیسے کہا جاسکتا ہے؟ خوش نصیبی تو وہ ہے جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے اور ہمیں خوشی اور سکون رہے۔ اگر اس جہاں میں اللہ ہمیں رزق کی تنگی دے کر ہمارے صبر کو آزمائے اور پھر بھی ہمیں شکر گزار پا کر آخرت میں اپنے قرب کا رزق دے دے تو وہ خوش نصیبی ہے لیکن اگراللہ ہمیں اس دنیا میں بہت سا مال و دولت دے اور ہم اس پیسے کو اللہ کی راہ میں دے کر اللہ کی رضا کے حصول کا باعث بنانے کی بجائے اس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اللہ کی ذات کو ہی بھلا دیں تو یہ یقیناًبدنصیبی ہے۔
ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا سے حیا کرو جیسا کہ حق ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ کیا ہم شرم و حیا نہیں رکھتے؟ فرمایا کہ اگر رکھتے ہو توجمع مال کی اتنی فکر کیوں ہے جس کا استعمال میں لانا بھی یقینی نہیں اور ایسی عمارتوں کا شوق کیوں ہے جن میں رہائش کی نوبت ہی نہ آئے۔
میرے مرشد میرے ہادی میرے رہنما سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
’’اللہ نے دنیا بندے کی آزمائش کیلئے بنائی اس لیے آزمائش میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے دنیا میں رہنا ضروری ہے لیکن بندہ دنیا میں یوں رہے کہ دنیا اس میں نہ رہے تو ہی وہ کامیاب ہوگا۔‘‘
اگر اللہ ہمیں رشتے ناطوں کی محبت کی کمی دے کر صرف اپنی محبت کی طرف متوجہ کرنا چاہے اور ہم اپنے رشتوں کی بے اعتنائی کا گلہ کر نے کی بجائے ان سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف راغب ہو جائیں تو یہ خوش نصیبی ہے لیکن اگر انہی رشتوں کی محبت ہمیں اللہ سے غافل کر دے تو یہ بد نصیبی ہے۔ یہ رشتے اللہ نے خود بنائے ہیں اور ہم ان رشتوں ناطوں کو اللہ کی ذات پر ترجیح دیتے ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام چیزوں سے محبوب نہ رکھے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ ایمان کا صحیح تر مفہوم کیا ہے ؟اور فرمایا بندہ اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے مال و عیال اور تمام مخلوق سے زیادہ عزیز نہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ’’ترجمہ: (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ فرمادیجئے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو‘ تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔‘‘ (سورۃ توبہ۔24)
جب انسان بیمار ہوتا ہے تو وہ اللہ پاک کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے لیکن اگر اس بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد اللہ کو بھلا کر دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے تو ایسی صحت یابی بدنصیبی نہیں اور کیا ہے؟ جس نے بندے کو اللہ سے دور کر دیا کیونکہ اس صحت کو تو پھر چلے ہی جانا ہے لیکن اللہ کاقرب پھر نہ ملے گا۔ ہاں اگر رزق، محبت اور صحت کے ہوتے ہوئے بھی بندہ اللہ کے قرب کا طلبگار رہے، ان خوشیوں کے عطا کرنے والے کی محبت اور یاد میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارے اور اپنے تمام اعمال کا مقصد اس مالک کی رضا کا حصول بنا لے تو یہ سب سے بڑی خوش نصیبی ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے کہ جب اس کا کوئی بندہ بیماری میں رات گزارتا ہے تواللہ اس کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ ایسی تنگی تو نعمت ہوئی جس کے نتیجے میں قربِ الٰہی حاصل ہو لیکن ہماری نظر اپنی زندگی میں ہی اٹکی رہتی ہے اور ہم اس کے بدلے میں حاصل ہونے والے قربِ الٰہی کو نظر انداز کر دیتے ہیں یوں قربِ خداوندی کی یہ خوش نصیبی ہمارے در پر دستک دے کر لوٹ جاتی ہے۔ ہم اس آزمائش میں اس راز کو نہیں پہچانتے کہ ’’ حقیقی خوش نصیبی‘‘ تو یہی تھی جب اللہ پاک خود فرماتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے تو ہم کیوں اس بات کو بھول جاتے ہیں اور چند دن کی پریشانی اور اپنے نفس کی خواہشات نہ پوری ہونے پر خود کو بدنصیب سمجھتے ہیں۔ رضائے الٰہی پر راضی رہنا بلند ترین مقامات میں سے ہے کہ اگر کہا جائے کہ یہی اصل مقام ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ محبت ہی وہ بلند مقام ہے جس سے آگے اور کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خوشی۔ ثمرِ محبت ہی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے ہر عمل اور فعل پر پیار آنے لگے اور راضی رہے اور اسی قضائے الٰہی پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارکہ ہے کہ قضائے الٰہی پر راضی ہو جانا ہی بارگاہِ الٰہی کا سب سے بڑا دروازہ ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* اللہ کی ذات پر بندے کا اعتراض کرنا جو کہ عزت و جلال والا ہے‘ نزولِ تقدیر کے وقت دین اور توحید کی موت ہے اور توکل و اخلاص کی موت ہے۔ مومن بندہ چوں و چرا کو نہیں جانتا بلکہ وہ صرف ہاں کہتا ہے اور سر جھکا دیتا ہے۔(الفتح الربانی۔مجلس1)
اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ پیغمبر حضرت ایوب علیہ السلام کو آزمائش کیلئے ایک عجیب بیماری میں مبتلا کر دیا ان کا تمام جسم گل گیا ور اس میں کیڑے پڑ گئے۔ بستی والوں نے انہیں بستی سے نکال دیا سب اپنے ساتھ چھوڑ گئے صرف آپ کی بیوی صبح و شام کھانا دے کر جاتی تھی۔ حضرت ایوب السلام اس حالت میں بھی اپنے ربّ کی رضا پر راضی رہے یہاں تک کہ اگر کوئی کیڑا ان کے جسم سے نیچے گر جاتا تو خود اسے اٹھا کر واپس اپنے جسم پر رکھ لیتے کہ اگر میرے اللہ نے ان کیڑوں کا رزق میرے جسم میں رکھا ہے تو میں انہیں اس سے کیوں محروم کروں۔ بالآخر ان کی آزمائش ختم ہوئی ، اللہ نے ان کے صبر اور تسلیم و رضا سے راضی ہو کر انہیں پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت جسم عطا فرمایا۔ بستی والے اور رشتے دار خوشی خوشی انہیں اپنے ساتھ واپس گھر لے آئے کچھ عرصہ بعد کسی نے پوچھا ’’آپؑ نے اتنے دن تنگی کے گزارے ہیں اور اب آپؑ ہر طرح سے آسودہ ہیں۔ آپؑ پہلے خوش تھے یا اب؟ حضرت ایوبؑ نے جواب دیا کہ جب میں بیمار تھا تو روز میرا ربّ مجھے یاد کر تا تھا اور پوچھتا تھا ’’اے ایوبؑ تیرا کیا حال ہے؟‘‘ اب میں ٹھیک ہوں تو مجھے یہ ندا نہیں آتی اس لیے میں ہر طرح کی آسودگی حاصل ہو جانے کے باوجود بیماری کی حالت میں زیادہ خوش تھا۔
بے شک اللہ پاک کے قرب اوراس کی رضا سے بڑھ کر کوئی خوش نصیبی نہیں۔ اللہ کی پسند پر اپنی پسند قربان کر دینا چاہیے اور جو چیز یا خواہش اللہ پاک سے دوری کا باعث ہو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔جو اللہ پاک کو خلوص دل سے محبوب رکھتا ہے اور اس کے قرب اور دیدار کو ہر اپنی ذاتی خواہش پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی زندگی کا واحد مقصد رکھتا ہے ایسے شخص کے بارے میں حدیثِ قدسی میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:’’ میرے نیک بندے میری ملاقات کے شوق میں بے قرار رہتے ہیں اور میں ان سے زیادہ ان کی ملاقات کا شوق رکھتا ہوں۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک دعا کے الفاظ یہ بھی ہوا کرتے تھے:
ترجمہ:’’یا خدا! میں تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں اور تیرے روئے زیبا کے دیدار کی لذت کا متمنی ہوں۔‘‘ (کیمیائے سعادت)
قربِ خداوندی اور دیدارِ الٰہی خوش نصیبی ہے جو دائمی ہے کبھی ساتھ نہیں چھوڑے گی۔ دنیا میں چند دن کی عارضی زندگی اگراللہ پاک کی رضا میں گزرے تو اس قربِ الٰہی کی بدولت آخرت یقیناًاچھی ہوگی۔ اس ہمیشہ کی خوش نصیبی یعنی قرب و رضائے الٰہی کی خواہش میں تمام پیغمبروں، صحابہ کرام، اولیا کرام اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام (جن کے پیروکار ہونے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں) نے دنیا کی تمام خوشیوں اور نعمتوں کو اللہ کی راہ میں دے دیا۔ اللہ پاک نے انہیں طرح طرح کی آزمائشوں سے آزمایا رشتے ناطے چھڑائے‘ اپنے پرائے سب دشمن بن گئے، رزق کی تنگی دی، بیٹوں کی جدائی دی مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اف تک نہ کی بلکہ اللہ کی رضا میں راضی رہے۔
اگر انسان کی سوچ کا مرکز اللہ کی رضا اور اسکا قرب حاصل کرنا بن جائے تو ظاہری ’’خوش ‘‘ یا ’’بد‘‘ نصیبی بے معنی ہو جاتی ہے ۔ لفظ ’’خوش نصیبی‘‘ ہمیشہ دنیا سے منسوب کی جاتی ہے۔ خوش یا بد نصیبی حقیقتاً انسان کی محض سوچ ہے اگر وہ اس بات کو ذہن نشین کرلے کہ بھیجی گئی پریشانی یا تکلیف اللہ کی طرف سے ہے اور میں نے ہر حال میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا تو وہ اس رضا میں بھی تقویت پاتا ہے، اس آزمائش میں بھی آسائش، اس بدسکونی میں سکون، غم میں سرور اور سزا میں جزا مل جاتی ہے۔ طالبِ مولیٰ جس کی زندگی کا مقصد ربّ کا قرب و دیدار ہوتا ہے‘ اس کی خوشی بھی باطنی ہوتی ہے اور طالبِ دنیا ظاہری چیزوں کے حصول میں اپنی زندگی گزاردیتا ہے اور انہیں پانے میں سارا وقت گزار دیتا ہے اپنے نفس کی پیروی کرتا اور اس کے بتائے طریقوں پر ناچتا ہے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں:
* ’’ طالب مولیٰ جب مقام رضا کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو قضا (تقدیر) اس کے حوالے کر دی جاتی ہے۔‘‘
* ’’تو اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوا کہ ہر کام تیری مرضی اور منشا کے مطابق ہو۔‘‘
اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ انسان نہ تو اپنی مرضی و منشا سے آیا ہے نہ واپس لوٹے گا تو یہ سفر اپنے مطابق کیسے گزار سکتا ہے؟ جو مالکِ کُل تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے، ہر چیز پر قادر بہت رحمان و رحیم ہے اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے وہ بھلا نصیب بُرا کیسے لکھ سکتا ہے ؟ ایسا سوچنے اور گمان کرنے کیلئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم میں ایمان و توکل کی بے حد کمی ہے۔ اس کی رضا پر راضی رہنے سے ہی عشقِ خداوندی جیسی نعمت عطا ہوئی ہے جو تمام پیغمبروں، صحابہ کرامؓاور اولیا اللہ کو حاصل ہوئی اور وہ باطنی خوش نصیبی یعنی قربِ خداوندی اور دیدارِ الٰہی کو حقیقی خوش نصیبی جانتے ہیں۔
ہمارے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کی خوشیوں سے زیادہ قربِ الٰہی کو خوش نصیبی قرار دیا ہے۔ ایک بار جب حضرت عمرؓ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہوئے توآقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کھجور کی چھال سے بنی چارپائی یا چٹائی پر آرام فرما رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُٹھ کر بیٹھے تو جسم مبارک پر چھال کے نشان پڑ چکے تھے یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ آبدیدہ ہو گئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا’’عمر کیا ہوا‘‘ تو انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! قیصر و کسریٰ تو کیسی عشرت میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ ان کے لیے صرف دنیا کی خوشیاں ہیں اور ہمارے لیے آخرت کی۔‘‘
اللہ پاک قرآن پاک میں خود فرماتا ہے:
ترجمہ:’’یہ دنیا کی زندگی سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ نہیں ہے بیشک آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے کاش وہ اس کو سمجھ پائیں۔ (العنکبوت۔64 )
انسان کے قلبی سکون کیلئے زندگی کی آسائشیں درکار نہیں بلکہ اللہ ربّ العزت کی معرفت اور قرب سے دل کو اطمینان میسر ہوتا ہے جو آج کل کا مسلمان زندگی کی رنگینیوں میں ڈھونڈتا ہے کیا وجہ ہے کہ آج ایک مکمل آسائشوں سے بھرپور پسندیدہ زندگی ہونے کے باوجود ہم اپنے آپ کو خوش نصیب نہیں سمجھتے اور ہر وقت روح کی بے چینی اور بے قراری ہمارا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ مزید کی جستجو اور کھوج لگی رہتی ہے۔اصل وجہ دنیا سے وابستگی اور اللہ سے دوری ہے۔ ہم اپنی فکر اور پریشانیوں کے پیچھے پاگل ہوگئے ہیں اور اللہ کی ذات کو فراموش کر بیٹھے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی ضروریات کی تکمیل کو ہی اپنا مقصدِ حیات بنا لیا ہے اس لیے تو ہماری عبادتوں میں وہ سرور اور لذت اور ہماری زندگیوں میں وہ راحت اور سکون نہیں جو ہونا چاہیے۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
نفس پلید بر تن جامہ پاک چہ سود
در دل ہمہ شرک سجدہ بر خاک چہ سود
ترجمہ: نفس پلید ہو تو تن پر پاک لباس کا کیا فائدہ؟ دل میں شرک بھرا ہو تو زمین پر سجدہ ریزی کا کیا فائدہ؟
انسان کے نفس نے اسے دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں میں اتنا الجھا دیا ہے کہ ان خواہشات کی وجہ سے عبادت کا مزہ بھی خراب ہو گیا ہے۔ حقیقتاً انسان کی روح اللہ کا دیدار اور قرب چاہتی ہے لیکن انسان ہے کہ اس کی مزید’’اور‘‘ پانے کی تلاش ختم نہیں ہو رہی۔ یہی وجہ ذہنی دباؤ (Depression) کا باعث ہے۔ قلب کے سکون و راحت کیلئے ذکر اسم اللہ ذات اور نفس پرستی سے نجات کیلئے نفس کے تزکیہ کی ضرورت ہے جو کہ کسی مرشد کامل کے وسیلہ کے بغیر ممکن نہیں۔ مرشد کامل اکمل ہی انسان کو ہوائے نفسانی اور گناہوں سے دور رکھتا ہے اور خیرو شرکی تمیز عطا کرتا ہے اور اللہ کے دیدار اور معرفت کی لذت سے بہرہ مند کرتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے انسانِ کامل ہیں آپ مدظلہ الاقدس کی مہربانی سے لاکھوں افراد فیض پا چکے ہیں آپ مدظلہ الاقدس اسم اللہ ذات کا ذکر و تصور عطا فرماکر زنگ آلود قلب کو پاک فرماتے ہیں ، دل کو اسم اللہ ذات کے نور سے سے منور فرماتے ہیں اور نفس کا تزکیہ فرما کر اسے نفسِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچا دیتے ہیں۔ اللہ کی رضا اور توکل کے معنی تلقین و ارشاد کے ذریعے دل میں جما دیتے ہیں۔حقیقی خوش نصیبی کا در س دیتے ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق کا بیج لگا کر سب سے بڑی خوش نصیبی عطا فرما تے ہیں۔ بے شک مرشد ہی وہ وسیلہ ہے جو طالب اور اللہ کا رشتہ مضبوط کرتا ہے اور اللہ کی بندگی کرنا سکھاتا ہے ، مرشد کی نگاہ دوا کاکام دیتی ہے اسکے کلام میں شفا ہے، وہی روح کی غذا’’ اسم اللہ ذات ‘‘ عطا فرماتا ہے جو ہر چیز سے بے نیاز کردیتا ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اس کے رشتے میں حقیقی خوش نصیبی کے معنی سے روشناس فرمائے تاکہ ہم عارضی خوش نصیبی کے شکنجے اور گرفت سے نکل پائیں۔ آمین

خوش نصیبی—Khush Naseebi” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں