خوش نصیبی—Khush Naseebi

خوش نصیبی

تحریر: عرشیہ خان۔ لاہور

انسان نے اپنی خوشی و مسرت کو زندگی کی رنگینیوں، آرائشوں‘ رشتوں کی محبت اور مال و دولت میں ڈھونڈ لیا ہے جن کے حاصل اور مہیا ہونے پر اپنے آپ کو خوش نصیب اور خواہشات کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں اپنے نصیب کو ’’بد‘‘ قرار دے دیتا ہے یعنی اپنی محدود عقل کی بنا پر خواہشات اور ضروریات پوری ہونے پر ہم خود کو خوش نصیب تصور کر لیتے ہیں۔ ہمارے لیے خوش نصیبی کا مطلب ایسی اشیا کا حصول ہے جن کو پا کر ہم دنیا میں آسودہ حال ہو جائیں یعنی مال و دولت، اچھی نوکری، بڑا گھر، پیسے کمانے کا سنہری موقع، حسین شریکِ حیات وغیرہ۔ ہماری وقتی خواہشات کے پورے ہونے پر ہم اپنے آپ کو دنیا میں خوش نصیب گمان کر لیتے ہیں۔ جیسے ہی یہ مادی اشیا ختم ہو جائیں گی ہماری خوشی اور خوش نصیبی بھی ان کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔اگر انسان اپنی زندگی کا مقصد دیکھے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرے تو اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ جائے گا کہ ہمارے لیے خوش نصیبی کا معیار کیا ہے؟
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میرے دل پر القا کیا گیا:
اَحْبَبْتَ مَنْ اَحْبَبْتُ فَاِنَّکَ مَفَارِقَۃٌ

 ترجمہ: دنیا کی جس شے کو چاہو دوست رکھو لیکن آخر اس سے تمہاری جدائی ہے۔
خواہ مادی اشیا ایک خاص مدت تک ہمارے ساتھ رہیں لیکن بالآخرتو ساتھ چھوڑہی جائیں گی اور اگر ہم نے اپنی خوشیوں اور خوش نصیبی کو ان کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے تو ان کے ساتھ چھوڑتے ہی خوش نصیبی بھی ساتھ چھوڑ جائے گی، پھر اس دائمی زندگی میں ہمارا نصیب کیا ہو گا؟
ہم دنیا اور اسکی لذتوں میں اس قدر مگن ہیں کہ آخرت میں کسی اچھے مقام کے حصول کو تو ہم نے خوش نصیبی کی فہرست میں کبھی شامل ہی نہیں کیا۔ ہم نے اس عارضی زندگی کو اپنا سب کچھ مان لیا ہے،اسی زندگی کے سکون کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ دنیا کا جادو یہ ہے کہ ظاہراً بڑی حسین و جمیل معلوم ہوتی ہے حالانکہ اس کے اس بناؤ سنگھار میں مصائب و آلام کے پہاڑ پوشیدہ ہیں۔ جب جاہل اور احمق اس ظاہری حسن و جمال اور بناؤ سنگھار کو دیکھتے ہیں تو اس کی زلفوں کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے کوئی بدصورت بڑھیا اپنے چہرے کو چھپا کر نہایت خوبصورت اور دیدہ زیب لباس پہن کر اپنے آپ کو آراستہ کر لے تو دور سے دیکھنے والا اس پر فریفتہ ہو کر فدا ہونے کو تیار ہو جائے لیکن وقتِ قربت جب اس کے چہرے سے نقاب اٹھائے تو اس کی بد صورتی کو دیکھتے ہی گھبرائے اور نادم و پشیمان ہونے لگے۔
حدیث شریف میں ہے کہ روزِ حشر دنیا کو بدصورت بڑھیاکی شکل میں لایا جائے گا اور اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی اور دانت باہر نکلے ہونگے اورایسی خوفناک شکل ہوگی کہ لوگ مارے خوف کے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیز پوچھیں گے یہ رذیل و بدصورت کون ہے؟ انہیں بتایا جائے گا یہ وہی تمہاری محبوب دنیا ہے جس کیلئے تم مرمٹنے پر تیار ہو جایا کرتے تھے اور ہمیشہ اس کی خاطر تم مخالفت پر آمادہ رہتے یہاں تک کہ تم ایک دوسرے کا خون بہاتے اور رحم کے نام سے تمہارے کان بہرے ہو جاتے تاکہ تم اس کے محب اور عاشق کہلاؤ اور پھر اس بدصورت دنیا کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اس کے دوستوں کو بھی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ( کیمیائے سعادت)
معلوم ہو اکہ چند خواہشات کے پورا ہونے پر ہم اپنے آپ کو خوش نصیب مان لیتے ہیں جنہوں نے آخر ایک دن ہمارا ساتھ چھوڑ جانا ہے اور اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے انسان کی اپنی زندگی کا بھی اختتام ہو جاتا ہے اور یہی خواہشات جو دنیا میں لذت دیتی تھیں آخرت میں ذلت کا باعث بنتی ہیں تو ذرا سوچیں اسے خوش نصیبی کیسے کہا جاسکتا ہے؟ خوش نصیبی تو وہ ہے جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے اور ہمیں خوشی اور سکون رہے۔ اگر اس جہاں میں اللہ ہمیں رزق کی تنگی دے کر ہمارے صبر کو آزمائے اور پھر بھی ہمیں شکر گزار پا کر آخرت میں اپنے قرب کا رزق دے دے تو وہ خوش نصیبی ہے لیکن اگراللہ ہمیں اس دنیا میں بہت سا مال و دولت دے اور ہم اس پیسے کو اللہ کی راہ میں دے کر اللہ کی رضا کے حصول کا باعث بنانے کی بجائے اس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اللہ کی ذات کو ہی بھلا دیں تو یہ یقیناًبدنصیبی ہے۔
ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا سے حیا کرو جیسا کہ حق ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ کیا ہم شرم و حیا نہیں رکھتے؟ فرمایا کہ اگر رکھتے ہو توجمع مال کی اتنی فکر کیوں ہے جس کا استعمال میں لانا بھی یقینی نہیں اور ایسی عمارتوں کا شوق کیوں ہے جن میں رہائش کی نوبت ہی نہ آئے۔
میرے مرشد میرے ہادی میرے رہنما سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
’’اللہ نے دنیا بندے کی آزمائش کیلئے بنائی اس لیے آزمائش میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے دنیا میں رہنا ضروری ہے لیکن بندہ دنیا میں یوں رہے کہ دنیا اس میں نہ رہے تو ہی وہ کامیاب ہوگا۔‘‘
اگر اللہ ہمیں رشتے ناطوں کی محبت کی کمی دے کر صرف اپنی محبت کی طرف متوجہ کرنا چاہے اور ہم اپنے رشتوں کی بے اعتنائی کا گلہ کر نے کی بجائے ان سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف راغب ہو جائیں تو یہ خوش نصیبی ہے لیکن اگر انہی رشتوں کی محبت ہمیں اللہ سے غافل کر دے تو یہ بد نصیبی ہے۔ یہ رشتے اللہ نے خود بنائے ہیں اور ہم ان رشتوں ناطوں کو اللہ کی ذات پر ترجیح دیتے ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام چیزوں سے محبوب نہ رکھے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ ایمان کا صحیح تر مفہوم کیا ہے ؟اور فرمایا بندہ اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے مال و عیال اور تمام مخلوق سے زیادہ عزیز نہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ’’ترجمہ: (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ فرمادیجئے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو‘ تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔‘‘ (سورۃ توبہ۔24)
جب انسان بیمار ہوتا ہے تو وہ اللہ پاک کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے لیکن اگر اس بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد اللہ کو بھلا کر دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے تو ایسی صحت یابی بدنصیبی نہیں اور کیا ہے؟ جس نے بندے کو اللہ سے دور کر دیا کیونکہ اس صحت کو تو پھر چلے ہی جانا ہے لیکن اللہ کاقرب پھر نہ ملے گا۔ ہاں اگر رزق، محبت اور صحت کے ہوتے ہوئے بھی بندہ اللہ کے قرب کا طلبگار رہے، ان خوشیوں کے عطا کرنے والے کی محبت اور یاد میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارے اور اپنے تمام اعمال کا مقصد اس مالک کی رضا کا حصول بنا لے تو یہ سب سے بڑی خوش نصیبی ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے کہ جب اس کا کوئی بندہ بیماری میں رات گزارتا ہے تواللہ اس کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ ایسی تنگی تو نعمت ہوئی جس کے نتیجے میں قربِ الٰہی حاصل ہو لیکن ہماری نظر اپنی زندگی میں ہی اٹکی رہتی ہے اور ہم اس کے بدلے میں حاصل ہونے والے قربِ الٰہی کو نظر انداز کر دیتے ہیں یوں قربِ خداوندی کی یہ خوش نصیبی ہمارے در پر دستک دے کر لوٹ جاتی ہے۔ ہم اس آزمائش میں اس راز کو نہیں پہچانتے کہ ’’ حقیقی خوش نصیبی‘‘ تو یہی تھی جب اللہ پاک خود فرماتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے تو ہم کیوں اس بات کو بھول جاتے ہیں اور چند دن کی پریشانی اور اپنے نفس کی خواہشات نہ پوری ہونے پر خود کو بدنصیب سمجھتے ہیں۔ رضائے الٰہی پر راضی رہنا بلند ترین مقامات میں سے ہے کہ اگر کہا جائے کہ یہی اصل مقام ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ محبت ہی وہ بلند مقام ہے جس سے آگے اور کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خوشی۔ ثمرِ محبت ہی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے ہر عمل اور فعل پر پیار آنے لگے اور راضی رہے اور اسی قضائے الٰہی پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارکہ ہے کہ قضائے الٰہی پر راضی ہو جانا ہی بارگاہِ الٰہی کا سب سے بڑا دروازہ ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* اللہ کی ذات پر بندے کا اعتراض کرنا جو کہ عزت و جلال والا ہے‘ نزولِ تقدیر کے وقت دین اور توحید کی موت ہے اور توکل و اخلاص کی موت ہے۔ مومن بندہ چوں و چرا کو نہیں جانتا بلکہ وہ صرف ہاں کہتا ہے اور سر جھکا دیتا ہے۔(الفتح الربانی۔مجلس1)
اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ پیغمبر حضرت ایوب علیہ السلام کو آزمائش کیلئے ایک عجیب بیماری میں مبتلا کر دیا ان کا تمام جسم گل گیا ور اس میں کیڑے پڑ گئے۔ بستی والوں نے انہیں بستی سے نکال دیا سب اپنے ساتھ چھوڑ گئے صرف آپ کی بیوی صبح و شام کھانا دے کر جاتی تھی۔ حضرت ایوب السلام اس حالت میں بھی اپنے ربّ کی رضا پر راضی رہے یہاں تک کہ اگر کوئی کیڑا ان کے جسم سے نیچے گر جاتا تو خود اسے اٹھا کر واپس اپنے جسم پر رکھ لیتے کہ اگر میرے اللہ نے ان کیڑوں کا رزق میرے جسم میں رکھا ہے تو میں انہیں اس سے کیوں محروم کروں۔ بالآخر ان کی آزمائش ختم ہوئی ، اللہ نے ان کے صبر اور تسلیم و رضا سے راضی ہو کر انہیں پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت جسم عطا فرمایا۔ بستی والے اور رشتے دار خوشی خوشی انہیں اپنے ساتھ واپس گھر لے آئے کچھ عرصہ بعد کسی نے پوچھا ’’آپؑ نے اتنے دن تنگی کے گزارے ہیں اور اب آپؑ ہر طرح سے آسودہ ہیں۔ آپؑ پہلے خوش تھے یا اب؟ حضرت ایوبؑ نے جواب دیا کہ جب میں بیمار تھا تو روز میرا ربّ مجھے یاد کر تا تھا اور پوچھتا تھا ’’اے ایوبؑ تیرا کیا حال ہے؟‘‘ اب میں ٹھیک ہوں تو مجھے یہ ندا نہیں آتی اس لیے میں ہر طرح کی آسودگی حاصل ہو جانے کے باوجود بیماری کی حالت میں زیادہ خوش تھا۔
بے شک اللہ پاک کے قرب اوراس کی رضا سے بڑھ کر کوئی خوش نصیبی نہیں۔ اللہ کی پسند پر اپنی پسند قربان کر دینا چاہیے اور جو چیز یا خواہش اللہ پاک سے دوری کا باعث ہو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔جو اللہ پاک کو خلوص دل سے محبوب رکھتا ہے اور اس کے قرب اور دیدار کو ہر اپنی ذاتی خواہش پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی زندگی کا واحد مقصد رکھتا ہے ایسے شخص کے بارے میں حدیثِ قدسی میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:’’ میرے نیک بندے میری ملاقات کے شوق میں بے قرار رہتے ہیں اور میں ان سے زیادہ ان کی ملاقات کا شوق رکھتا ہوں۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک دعا کے الفاظ یہ بھی ہوا کرتے تھے:
ترجمہ:’’یا خدا! میں تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں اور تیرے روئے زیبا کے دیدار کی لذت کا متمنی ہوں۔‘‘ (کیمیائے سعادت)
قربِ خداوندی اور دیدارِ الٰہی خوش نصیبی ہے جو دائمی ہے کبھی ساتھ نہیں چھوڑے گی۔ دنیا میں چند دن کی عارضی زندگی اگراللہ پاک کی رضا میں گزرے تو اس قربِ الٰہی کی بدولت آخرت یقیناًاچھی ہوگی۔ اس ہمیشہ کی خوش نصیبی یعنی قرب و رضائے الٰہی کی خواہش میں تمام پیغمبروں، صحابہ کرام، اولیا کرام اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام (جن کے پیروکار ہونے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں) نے دنیا کی تمام خوشیوں اور نعمتوں کو اللہ کی راہ میں دے دیا۔ اللہ پاک نے انہیں طرح طرح کی آزمائشوں سے آزمایا رشتے ناطے چھڑائے‘ اپنے پرائے سب دشمن بن گئے، رزق کی تنگی دی، بیٹوں کی جدائی دی مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اف تک نہ کی بلکہ اللہ کی رضا میں راضی رہے۔
اگر انسان کی سوچ کا مرکز اللہ کی رضا اور اسکا قرب حاصل کرنا بن جائے تو ظاہری ’’خوش ‘‘ یا ’’بد‘‘ نصیبی بے معنی ہو جاتی ہے ۔ لفظ ’’خوش نصیبی‘‘ ہمیشہ دنیا سے منسوب کی جاتی ہے۔ خوش یا بد نصیبی حقیقتاً انسان کی محض سوچ ہے اگر وہ اس بات کو ذہن نشین کرلے کہ بھیجی گئی پریشانی یا تکلیف اللہ کی طرف سے ہے اور میں نے ہر حال میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا تو وہ اس رضا میں بھی تقویت پاتا ہے، اس آزمائش میں بھی آسائش، اس بدسکونی میں سکون، غم میں سرور اور سزا میں جزا مل جاتی ہے۔ طالبِ مولیٰ جس کی زندگی کا مقصد ربّ کا قرب و دیدار ہوتا ہے‘ اس کی خوشی بھی باطنی ہوتی ہے اور طالبِ دنیا ظاہری چیزوں کے حصول میں اپنی زندگی گزاردیتا ہے اور انہیں پانے میں سارا وقت گزار دیتا ہے اپنے نفس کی پیروی کرتا اور اس کے بتائے طریقوں پر ناچتا ہے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں:
* ’’ طالب مولیٰ جب مقام رضا کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو قضا (تقدیر) اس کے حوالے کر دی جاتی ہے۔‘‘
* ’’تو اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوا کہ ہر کام تیری مرضی اور منشا کے مطابق ہو۔‘‘
اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ انسان نہ تو اپنی مرضی و منشا سے آیا ہے نہ واپس لوٹے گا تو یہ سفر اپنے مطابق کیسے گزار سکتا ہے؟ جو مالکِ کُل تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے، ہر چیز پر قادر بہت رحمان و رحیم ہے اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے وہ بھلا نصیب بُرا کیسے لکھ سکتا ہے ؟ ایسا سوچنے اور گمان کرنے کیلئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم میں ایمان و توکل کی بے حد کمی ہے۔ اس کی رضا پر راضی رہنے سے ہی عشقِ خداوندی جیسی نعمت عطا ہوئی ہے جو تمام پیغمبروں، صحابہ کرامؓاور اولیا اللہ کو حاصل ہوئی اور وہ باطنی خوش نصیبی یعنی قربِ خداوندی اور دیدارِ الٰہی کو حقیقی خوش نصیبی جانتے ہیں۔
ہمارے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کی خوشیوں سے زیادہ قربِ الٰہی کو خوش نصیبی قرار دیا ہے۔ ایک بار جب حضرت عمرؓ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہوئے توآقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کھجور کی چھال سے بنی چارپائی یا چٹائی پر آرام فرما رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُٹھ کر بیٹھے تو جسم مبارک پر چھال کے نشان پڑ چکے تھے یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ آبدیدہ ہو گئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا’’عمر کیا ہوا‘‘ تو انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! قیصر و کسریٰ تو کیسی عشرت میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ ان کے لیے صرف دنیا کی خوشیاں ہیں اور ہمارے لیے آخرت کی۔‘‘
اللہ پاک قرآن پاک میں خود فرماتا ہے:
ترجمہ:’’یہ دنیا کی زندگی سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ نہیں ہے بیشک آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے کاش وہ اس کو سمجھ پائیں۔ (العنکبوت۔64 )
انسان کے قلبی سکون کیلئے زندگی کی آسائشیں درکار نہیں بلکہ اللہ ربّ العزت کی معرفت اور قرب سے دل کو اطمینان میسر ہوتا ہے جو آج کل کا مسلمان زندگی کی رنگینیوں میں ڈھونڈتا ہے کیا وجہ ہے کہ آج ایک مکمل آسائشوں سے بھرپور پسندیدہ زندگی ہونے کے باوجود ہم اپنے آپ کو خوش نصیب نہیں سمجھتے اور ہر وقت روح کی بے چینی اور بے قراری ہمارا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ مزید کی جستجو اور کھوج لگی رہتی ہے۔اصل وجہ دنیا سے وابستگی اور اللہ سے دوری ہے۔ ہم اپنی فکر اور پریشانیوں کے پیچھے پاگل ہوگئے ہیں اور اللہ کی ذات کو فراموش کر بیٹھے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی ضروریات کی تکمیل کو ہی اپنا مقصدِ حیات بنا لیا ہے اس لیے تو ہماری عبادتوں میں وہ سرور اور لذت اور ہماری زندگیوں میں وہ راحت اور سکون نہیں جو ہونا چاہیے۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
نفس پلید بر تن جامہ پاک چہ سود
در دل ہمہ شرک سجدہ بر خاک چہ سود
ترجمہ: نفس پلید ہو تو تن پر پاک لباس کا کیا فائدہ؟ دل میں شرک بھرا ہو تو زمین پر سجدہ ریزی کا کیا فائدہ؟
انسان کے نفس نے اسے دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں میں اتنا الجھا دیا ہے کہ ان خواہشات کی وجہ سے عبادت کا مزہ بھی خراب ہو گیا ہے۔ حقیقتاً انسان کی روح اللہ کا دیدار اور قرب چاہتی ہے لیکن انسان ہے کہ اس کی مزید’’اور‘‘ پانے کی تلاش ختم نہیں ہو رہی۔ یہی وجہ ذہنی دباؤ (Depression) کا باعث ہے۔ قلب کے سکون و راحت کیلئے ذکر اسم اللہ ذات اور نفس پرستی سے نجات کیلئے نفس کے تزکیہ کی ضرورت ہے جو کہ کسی مرشد کامل کے وسیلہ کے بغیر ممکن نہیں۔ مرشد کامل اکمل ہی انسان کو ہوائے نفسانی اور گناہوں سے دور رکھتا ہے اور خیرو شرکی تمیز عطا کرتا ہے اور اللہ کے دیدار اور معرفت کی لذت سے بہرہ مند کرتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے انسانِ کامل ہیں آپ مدظلہ الاقدس کی مہربانی سے لاکھوں افراد فیض پا چکے ہیں آپ مدظلہ الاقدس اسم اللہ ذات کا ذکر و تصور عطا فرماکر زنگ آلود قلب کو پاک فرماتے ہیں ، دل کو اسم اللہ ذات کے نور سے سے منور فرماتے ہیں اور نفس کا تزکیہ فرما کر اسے نفسِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچا دیتے ہیں۔ اللہ کی رضا اور توکل کے معنی تلقین و ارشاد کے ذریعے دل میں جما دیتے ہیں۔حقیقی خوش نصیبی کا در س دیتے ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق کا بیج لگا کر سب سے بڑی خوش نصیبی عطا فرما تے ہیں۔ بے شک مرشد ہی وہ وسیلہ ہے جو طالب اور اللہ کا رشتہ مضبوط کرتا ہے اور اللہ کی بندگی کرنا سکھاتا ہے ، مرشد کی نگاہ دوا کاکام دیتی ہے اسکے کلام میں شفا ہے، وہی روح کی غذا’’ اسم اللہ ذات ‘‘ عطا فرماتا ہے جو ہر چیز سے بے نیاز کردیتا ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اس کے رشتے میں حقیقی خوش نصیبی کے معنی سے روشناس فرمائے تاکہ ہم عارضی خوش نصیبی کے شکنجے اور گرفت سے نکل پائیں۔ آمین

75 تبصرے “خوش نصیبی—Khush Naseebi

  1. Hey there! I simply want to offer you a huge thumbs up for the great info you have got here on this post. I’ll be coming back to your blog for more soon. Here is my web blog; Loyd

  2. wonderful points altogether, you just won a emblem new reader. What could you recommend in regards to your publish that you simply made some days in the past? Any certain? Feel free to surf to my website Leonore

  3. I’m more than happy to discover this web site. I need to to thank you for your time for this fantastic read!! I definitely loved every part of it and I have you bookmarked to see new stuff on your blog. Feel free to visit my web page: Clay

  4. First off I want to say wonderful blog! I had a quick question in which I’d like to ask if you do not mind. I was interested to find out how you center yourself and clear your thoughts prior to writing. I’ve had a hard time clearing my thoughts in getting my thoughts out. I truly do take pleasure in writing but it just seems like the first 10 to 15 minutes are generally wasted simply just trying to figure out how to begin. Any recommendations or tips? Thank you! Look into my web site http://virimax.net/

  5. I truly love your blog.. Excellent colors & theme. Did you build this web site yourself? Please reply back as I’m hoping to create my own personal blog and would love to learn where you got this from or just what the theme is named. Kudos! Feel free to visit my webpage … http://dominxmaleenhancement.net/

  6. We wish to thank you again for the wonderful ideas you offered Janet when preparing a post-graduate research and, most importantly, for providing each of the ideas within a blog post. If we had been aware of your web page a year ago, i’d have been rescued from the needless measures we were employing. Thank you very much. My web page http://optimallifeketo.net/

  7. Thanks for another great post. Where else could anybody get that kind of info in such an ideal method of writing? I have a presentation subsequent week, and I am on the look for such info. Here is my page; KetoYou Reviews

  8. I loved as much as you will receive carried out right here. The sketch is attractive, your authored material stylish. nonetheless, you command get bought an impatience over that you wish be delivering the following. unwell unquestionably come more formerly again since exactly the same nearly a lot often inside case you shield this hike. Check out my web-site: Green Vibration CBD Reviews

  9. I simply wanted to jot down a brief remark to be able to appreciate you for all the superb hints you are placing on this site. My time-consuming internet look up has at the end been recognized with excellent know-how to go over with my contacts. I would mention that we site visitors actually are really blessed to exist in a fine site with many marvellous people with very beneficial basics. I feel somewhat lucky to have seen your entire webpage and look forward to so many more brilliant moments reading here. Thank you once more for everything. Stop by my webpage :: Tipton

  10. Heya this is kind of of off topic but I was wanting to know if blogs use WYSIWYG editors or if you have to manually code with HTML. I’m starting a blog soon but have no coding knowledge so I wanted to get guidance from someone with experience. Any help would be enormously appreciated! my web blog: Fitness keto diet

  11. Thank you for each of your work on this website. My niece really loves carrying out research and it’s simple to grasp why. We all know all relating to the dynamic means you make rewarding techniques through the website and as well strongly encourage contribution from the others about this situation while my simple princess is without question becoming educated so much. Take pleasure in the remaining portion of the new year. You have been doing a really great job.[X-N-E-W-L-I-N-S-P-I-N-X]I’m extremely impressed along with your writing talents as neatly as with the format to your blog. Is that this a paid topic or did you modify it yourself? Anyway keep up the excellent high quality writing, it is rare to look a nice weblog like this one today. Stop by my web site Top Burn Keto Reviews

  12. It’s appropriate time to make a few plans for the longer term and it’s time to be happy. I’ve read this put up and if I may just I desire to counsel you few fascinating things or suggestions. Perhaps you can write next articles regarding this article. I wish to learn more things about it! My homepage: Cole

  13. When I originally commented I clicked the “Notify me when new comments are added” checkbox and now each time a comment is added I get several e-mails with the same comment. Is there any way you can remove people from that service? Thanks a lot! Feel free to visit my web site – Veola

  14. I believe what you said made a lot of sense. However, what about this? suppose you wrote a catchier title? I mean, I don’t want to tell you how to run your blog, however what if you added a title that grabbed a person’s attention? I mean خوش نصیبی—Khush Naseebi | ماہنامہ سلطان الفقر لاہور | mahnama-sultan-ul-faqr-lahore is a little boring. You could look at Yahoo’s home page and see how they create article titles to get viewers to open the links. You might add a video or a related pic or two to get readers excited about everything’ve got to say. In my opinion, it could bring your posts a little bit more interesting. My site :: Fitness Keto Diet Pills

  15. Thanks for your personal marvelous posting! I genuinely enjoyed reading it, you could be a great author.I will always bookmark your blog and may come back down the road. I want to encourage one to continue your great job, have a nice afternoon! Feel free to surf to my webpage – Optimal Life Keto Reviews

  16. Have you ever considered writing an ebook or guest authoring on other websites? I have a blog based on the same information you discuss and would really like to have you share some stories/information. I know my readers would value your work. If you are even remotely interested, feel free to shoot me an email. my website; Express Shipping

  17. If some one needs to be updated with most recent technologies therefore he must be pay a quick visit this website and be up to date daily. Feel free to surf to my web blog: Jennifer

  18. I do not even understand how I finished up right here, but I believed this put up used to be great. I do not know who you’re but certainly you are going to a well-known blogger in case you are not already. Cheers! my web blog … Viri Max

  19. Fantastic beat ! I wish to apprentice while you amend your web site, how could i subscribe for a blog website? The account helped me a acceptable deal. I had been a little bit acquainted of this your broadcast provided bright clear concept Feel free to surf to my web blog – https://clareskinserum.com/

  20. Can I just say what a relief to uncover someone that actually knows what they’re discussing over the internet. You certainly understand how to bring a problem to light and make it important. A lot more people really need to read this and understand this side of your story. I was surprised that you are not more popular given that you definitely have the gift. My web page BrookesJorg’s Website

  21. Thanks for your marvelous posting! I quite enjoyed reading it, you could be a great author.I will ensure that I bookmark your blog and will come back down the road. I want to encourage you continue your great job, have a nice day! Stop by my website – http://clareskinserum.net/

  22. Thanks on your marvelous posting! I truly enjoyed reading it, you can be a great author. I will remember to bookmark your blog and definitely will come back sometime soon. I want to encourage that you continue your great work, have a nice evening! my web site: Superior TRT Male Enhancement

  23. I do consider all of the concepts you have introduced to your post. They’re very convincing and will definitely work. Still, the posts are too quick for starters. Could you please extend them a bit from next time? Thank you for the post. Review my blog post; Hulda

  24. After checking out a number of the blog posts on your web page, I really appreciate your technique of writing a blog. I added it to my bookmark webpage list and will be checking back in the near future. Please check out my website as well and tell me how you feel. Feel free to surf to my web-site … 真空烘箱

  25. Write more, thats all I have to say. Literally, it seems as though you relied on the video to make your point. You definitely know what youre talking about, why waste your intelligence on just posting videos to your weblog when you could be giving us something informative to read? Also visit my site: Krystle

  26. I blog frequently and I seriously appreciate your content. The article has really peaked my interest. I’m going to take a note of your website and keep checking for new information about once per week. I opted in for your Feed too. my web page – Dena

  27. We’re a gaggle of volunteers and opening a new scheme in our community. Your site provided us with helpful info to work on. You have performed a formidable process and our whole community will probably be grateful to you. Also visit my web blog Craig

  28. Wow, superb blog layout! How long have you been blogging for? you made blogging look easy. The overall look of your site is magnificent, let alone the content! Also visit my homepage: Seo backlinks

  29. I feel this is among the so much significant information for me. And i’m happy studying your article. But should remark on some basic things, The web site style is wonderful, the articles is in reality great : D. Excellent activity, cheers Also visit my homepage – web design

  30. I’ve read some good stuff here. Definitely worth bookmarking for revisiting. I wonder how so much effort you put to make such a great informative web site. Here is my web blog Leonor

  31. Part of it is definitely an us-versus-them mentality that comes out of the front office staff who feel their tasks are more challenging because they handle customers (compared to Finance, who cope with numbers). There are plenty of stuff that that can be done once you refinance that does not only raise your home’s value but cut the eye you’ll pay. HMRC have argued that it must be not, in reality, retrospective which is simply making certain the legislation has correctly applied, and that it only came to light in 2004 using new disclosure rules. Feel free to surf to my web blog – Bisnis Properti

  32. In fact, it truly brings forth the fact being confident doesn’t need ahead in the worth of feeling great. Cycling gloves – When you go shopping for a set of cycling gloves, you will find that there are several types and variants. It is important to wear the proper shoes and definitely worth the money and time to select them properly in order that they don’t injure feet. Feel free to visit my webpage :: Sepatu Olahraga

  33. An easy way to get this done is always to do your window shopping of recent furniture on the Internet. If you’re stepping into completely new premises you might have some idea of what you would like them to take a look like. Bush Furniture presently may be the 8th largest furniture company within the U. Look into my blog post – Perabot Unik

  34. Paralegals can interview clients and witnesses, do legal research, draft pleadings, and organize files. And anyone who watches the bingo long enough and figures out, slowly rises to the top if they choose to dump their moral authority, and have fun playing the game full tilt. Without getting too deep in the weeds, the liberal left likes to cite Jean-Jacques Rousseau within their “what-ever is useful for the collective” procedure for philosophy and society, while Sir Edmund Burke is the father of modern conservative believed that champions the rights in the individual and also the merits of a free-market economic structure. Also visit my web-site :: Berita Hari Ini

  35. In fact, avoidance of the liabilities by about 50% isn’t any big a deal. Somebody else got hurt – namely, the parties who sold their stock to Sokol without access to the information that Sokol would soon put Lubrizol on Warren Buffet’s shopping list. HMRC have argued it is not, in fact, retrospective since it is simply making certain the legislation has correctly applied, understanding that it only came to light in 2004 using new disclosure rules. Feel free to surf to my webpage – Finance News

  36. Nowadays, even design houses are churning out their unique undertake the classic wellington boot. Another trend that has emerged in earnest lately belongs to extremely bright colors. To be eligible for summer internships abroad 2010 you might have to be over eighteen years and possess either enrolled on, started or simply completed a diploma level course. Also visit my homepage :: Jam Tangan Branded

  37. On the opposite hand, in the event the residence is traditional it’s smart to remodel the bathroom to demonstrate a normal vintage appeal. If you decide to go along with genuine leather you will find a wide range of prices. If you feel that there is a potential for receiving a deal, politely request it, and you will be blown away at what you can acquire. Look into my page Peralatan Rumah Tangga

  38. This is often a must if you intent to tackling the Singkong Goreng (Cassava tuberoot – twice fried) Perfect with an ice-cold beer. At night few locals like to venture on this mainly abandoned portion of the city, because ghosts of Politik Indonesia‘s dark past are said to stalk the dark, ill lit streets, and abandoned buildings. Pai, Thailand – Throw the spirit of Haight-Ashbury circa 1967 in a misty valley within the foothills of northern Thailand and something resembling Pai may just materialize.

  39. In fact, avoidance of the liabilities by about 50% isn’t big a deal. There are plenty of items that you can do if you refinance that not only enhance your home’s value but cut a persons vision you are going to pay. Without warning in September 2008, the initial signs of flaws for the reason that optimism appeared. my site; Politik Dalam dan Luar Negeri

  40. Appreciating the dedication you put into your blog and in depth information you offer. It’s awesome to come across a blog every once in a while that isn’t the same outdated rehashed material. Wonderful read! I’ve bookmarked your site and I’m including your RSS feeds to my Google account. My web page :: Sbobet88

  41. ” We already have an executive branch plus a legislative branch that must account for the voters. A religious hardliner often regarded as being a puppet in the hands with the Muslim Fundamentalist, Ahmadinejad is not any stranger to controversy within his country either. Why is it that Scotland is identified as a country, when in reality it is exactly what nationalists wish it to become. my website :: Politik Indonesia

  42. In fact, reduction of the liabilities by about 50% isn’t big a deal. And even individuals who have enough income to consider buying will not be able to be entitled to a mortgage. HMRC have argued it is not, in reality, retrospective because it is simply ensuring that the legislation has correctly applied, understanding that it only came to light in 2004 using new disclosure rules. Feel free to visit my blog – Fashion Article

  43. You simply need to support your son or daughter during he or she is in training and help him perform very well. The back bettor that likes to bet on the draw can have a simple time of getting good odds for the exchanges. This means they avoid playing Germany within the 2nd round and definately will face Ghana. Here is my web page – Berita Teknologi

  44. In fact, reduction of the liabilities by about 50% isn’t big a deal. Now, that may be quite alarming and some have realized so that it is exceedingly alarming. HMRC have argued that it is not, the truth is, retrospective which is simply ensuring that the legislation is being correctly applied, and that it only came to light in 2004 using new disclosure rules. my blog post; Slot Online

  45. Part of it is an us-versus-them mentality that comes from the front office staff who feel their tasks are harder simply because they take care of customers (in comparison to Finance, who deal with numbers). There are plenty of things that that can be done if you refinance that not only improve your home’s value but cut a persons vision you are going to pay. It is probably time to seek small company tax assistance by getting a CFO or possibly a Chief Financial Officer. Also visit my homepage … Game Slot

  46. Pingback: URL
  47. 328359 998747Thanks for your time so a lot for your impressive and incredible guide. I will not be reluctant to endorse your web websites to any individual who ought to receive direction on this issue. 649100

اپنا تبصرہ بھیجیں