Sultan-ul-ashiqeen-2 232

اُمتِ نبویؐ کی اصلاح کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی کاوشیں… Ummat-e-Nabi ki Islah kay leye Sultan ul Ashiqeen ki Kawishain

اُمتِ نبویؐ کی اصلاح کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی کاوشیں

تحریر: ناصر مجید سروری قادری۔ اسلام آباد

اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کائنات اور خاص کر انسان کو اس مقصد کے لیے تخلیق فرمایا کہ اس کی ذات کی پہچان ہو۔ اس کے ساتھ ہی اپنے اور انسانوں میں رابطے کے لیے انبیا کرام کا سلسلہ بھی شروع فرمایا تاکہ انسان اپنی اصلاح میں ناکام اور اس دنیا میں کھو کر اللہ کی ذات سے غافل اور دور نہ ہو جائیں۔ انبیا کرام اپنی قوم کی اصلاح کے لیے جدوجہد کرتے رہے اور صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کے لیے تبلیغ کرتے رہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام انبیا سے بڑھ کر اپنی امت کی اصلاح کے لیے فکرمند رہے اور اپنے وصال تک اللہ کی بارگاہ میں امت کی اصلاح اور بخشش کے لیے گریہ کناں رہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد امت کی اصلاح کا فریضہ فقرا کاملین اور مشائخ کے سپرد ہوا جس کی طرف مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے:
اَلشَّیْخُ فِیْ قَوْمِہٖ کَنَبِیِّ فِیْ اُمَّتِہٖ 
ترجمہ: شیخ (مرشد کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسے ایک نبی اپنی امت میں۔
سلسلہ سروری قادری کے امام اورمرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کی جامع تفسیر ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس دنیا بھر میں قرآن و سنت اور اسلام کی حقیقی تعلیمات یعنی فقر کے فروغ کے مشن کو لے کر نکلے ہیں اور امت کی اصلاح کے لیے فکرمند ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس قدمِ محمد پر ہیں اور اسم اللہ ذات اور اسمِ محمد کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں جو کہ قرب و وِصالِ الٰہی کا واحد ذریعہ ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام شبِ معراج جب اللہ کے دیدار سے مشرف ہوئے تو اپنی امت کے لیے بھی دیدار کی یہ نعمت تحفتاً مانگ لی یعنی قرب و وِصال کی اس گھڑی میں بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت کو فراموش نہیں فرمایا اسی طرح میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمداصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے جب مسجدِ نبوی میں بعد از نمازِ مغرب امانتِ فقرعطا فرمائی تو آپ مدظلہ الاقدس نے اُمت کے ساتھ محبت اور ان کی فکر کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا:
* ’’ یااللہ تعالیٰ! میرے مالک و مولیٰ! میں غیب کا علم تو نہیں جانتا لیکن مرشد پاک کی طبیعت اور حالت دیکھ کر ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا وقتِ آخر آگیا ہے۔ اللہ پاک میں اپنی بقیہ زندگی تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں تو میری بقیہ زندگی میرے مرشد کو لگا دے اور ان کی عمر بڑھا دے اور مجھے ان کی جگہ اس دنیا سے اٹھا لے بیشک یا اللہ! تو دعاؤں کو قبول کرنیوالا ہے اور تیرا یہ وعدہ ہے کہ یہ مقامات شعائر اللہ ہیں اور یہاں دعائیں کبھی ردّ نہیں ہوتیں اللہ پاک میرے مرشد پاک کو میری عمر لگا دے تاکہ ان کو اتنی مہلت مل سکے کہ وہ مجدد کی حیثیت سے ظاہر ہو کر اُمتِ مسلمہ میں فرقہ پرستی کا خاتمہ فرما کر ان کو حق پر متحد کر سکیں تاکہ عالمِ کفر مغلوب ہو اور دنیا میں خلافت کا نظام دوبارہ قائم ہو۔‘‘ (حیات و تعلیمات سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ )
اس مناجا ت کے پہلے حصہ میں آپ نے حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے فرمان ’’کیتی جان حوالے ربّ دے، اساں ایسا عشق کمایا ھُو‘‘ کے مصداق اپنی جان یارِ حقیقی پرقربان کر دی ۔
آپ نے عشق کے ہر امتحان کو رضائے الٰہی کے مطابق تن، من، دھن کی قربانی سے سَر کیا اور اسی داستانِ عشق و وفا سے آپ امانتِ الٰہیہ کے حامل قرار پائے اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمداصغر علی رحمتہ اللہ علیہ ہو بہو آپ مدظلہ الاقدس کی صورت میں جلوہ گر ہوگئے اس طرح آپ کی یہ دعا اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول ہوگئی اور اس دعا کے آخری حصہ‘ جو خاص اُمتِ مسلمہ کے لیے ہے‘ میں ذرا غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ وہ مجدد کی صورت میں ظاہر ہونیوالی، عالمِ اسلام کو ہر فرقہ سے پاک اور صاف کر کے عالمِ کفر پر غالب ہو کر دوبارہ خلافت کا نظام رائج کرنیوالی ہستی کوئی اور نہیں بلکہ خود سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ نے اسم اللہ ذات اور اسمِ محمد کے فیض کے فروغ اور فقر کی تعلیمات کو پوری دنیا میں عام کرنے اور مسلمانوں کے قلوب کو عشقِ حقیقی سے مزین کر کے پوری دنیا پر غالب کرنے کیلئے اپنی جان بھی اللہ پاک کے حوالے کر دی۔
دوسری عرض آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کریم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کی بارگاہ میں ان الفاظ میں کی :
* ’’ حضورِ عالمِ اسلام مختلف فرقوں میں بٹ چکا ہے تمام لوگوں اور خاص کر ماڈرن تعلیم یا فتہ لوگوں کی نظر حق کی طرف نہیں ہے۔ عالمِ اسلام کو عالمِ کفر نے متحد ہو کر گھیر رکھا ہے آپؒ مہربانی فرمائیں کہ اسلام کا بول بالا ہو اور شیطانی گروہ مغلوب ہو‘‘ ۔
مرشد پاک نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا:
’’ہمیں تو دل کا محرم مل گیا ہے‘‘۔یعنی ہمارا معاملہ تو حل ہوگیا اور کام بھی ختم ہوگیا۔( حیات و تعلیمات سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ )
سلطان الفقر کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ عالمِ اسلام کو متحد کر کے اور فقر سے سرفراز کر کے عالمِ کفر پر غالب کرنا یہ ذمہ داری اور ڈیوٹی محرم راز کا کام ہے کیونکہ وہ اَنْتَ اَنَا وَاَنَا اَنْتَ  (تو میں ہے اور میں تو ہے) کی تصویر ہے اور اشارہ منتقلی امانتِ الٰہیہ کی طرف ہے۔
ان واقعات سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس اس اُمت کی اصلاح کی خاطر کس قدر غمگین اور فکر مند ہیں کہ جہاں جا کر (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) انسان کے سارے غم ختم ہوجاتے ہیں آپ مدظلہ الاقدس وہاں بھی اُمت کے غم اور پریشانی کو لمحہ بھر بھی نہ بھولے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہِ عالیہ سے اُمت کی محبت و عشق،غم و تفکر اور اصلاحِ امت کی سوغات لیکر ایک جذبہ و ولولہ سے سرشار لوٹے۔

اصلاحِ اُمت بذریعہ فقر

جونہی زمانہ اکیسویں صدی میں داخل ہوا تو اپنے ساتھ انتہائی مہلک ترین اثرات لیکر ابھرا جو پوری دنیا اور بالخصوص عالمِ اسلام کیلئے بہت پریشانی کا باعث تھے۔ جدید ٹیکنالوجی جہاں ایک نعمت تھی اس کے غلط استعمال نے نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر دیا یعنی روحِ محمدؐ سے ان کو خالی کرنے کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اسکے علاوہ جب یہ اسلامی ریاست پاکستان مسلمان ممالک کے نمائندہ کے طور پر ابھری تو کفار اس پاک سرزمین کو ختم کرنے کے درپے ہوگیا۔
دوسری طرف عالمِ اسلام اور خاص طور پر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہوچکے تھے جن میں علما پیشوا اور خاص طور پر جعلی پیروں کی بھرمار تھی اور ابھی تک اس کا زور چلا آرہا ہے۔ غیر فطری حرکتوں کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ بہت سے فرقوں میں بٹ چکی تھی اور عام عوام ان کے ہتھکنڈوں میں پھنس جاتی اور جب ان کی حقیقت کھلی تو وہ اسم اللہ ذات اور فقر تو ایک طرف اسلام کے ظاہری وجود سے ہی بیزار نظر آنے لگے جس کا سب سے بڑا نقصان حقیقی مرشد کامل اکمل کی ذات کو پہنچا کہ لوگ مرشدِ حقیقی سے منہ موڑ بیٹھے اور تصور کر لیا کہ کوئی حقیقی مرشد نہیں ہے۔ اسلام کے نام کو اقتدار، شہرت اور کمائی کے لیے استعمال کیا گیا۔ نیز پوری امت مسلمہ تنزلی اور انتشار کا شکار تھی۔
ان انتہائی نامساعد حالات میں اکیسویں صدی کا آغاز ہوا تو ساتھ ہی میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے ازلی عشقِ حقیقی کی بدولت عشق و فقر کی بازی کو پلٹا اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرؒ کے وسیلہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ سے اکتیسویں شیخِ کامل اور امام الوقت کے طور پر فقر کے نئے کماندار و امانت دار منتخب ہوئے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اسی سلسلہ میں ایک جماعت ’تحریک دعوتِ فقر‘ کی بنیاد رکھی جس کے اغراض و مقاصد صرف اور صرف فقر کی تعلیمات اور اسم اللہ ذات کے فیض کو دنیا بھر میں پہنچانا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس نے تحریک دعوتِ فقر کے زیرِ اہتمام سلطان الفقر پبلیکیشنز کی بنیاد رکھی جس کا مقصد طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کے لیے فقر و تصوف کی تعلیمات پر مبنی تحقیقاتی کتب شائع کرنا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے بذاتِ خود فقر و تصوف کے موضوع پر چوبیس (24) کتب تصنیف فرمائی ہیں اور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی فارسی کتب کو اپنی نگرانی میں اردو و انگلش زبان میں ترجمہ کے بعد شائع کروا رہے ہیں۔ ان کتب کی دنیا بھر میں بآسانی فراہمی کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے ملٹی میڈیا اینڈ ڈیزائن ڈویلپمنٹ کا شعبہ بھی قائم فرمایا جس کے تحت ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کا ایک مضبوط اور مربوط نیٹ ورک قائم کیا گیا۔ اس کے علاوہ تحریک دعوتِ فقر کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی تمام روحانی محافل و تقریبات اور سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے تبلیغی دوروں کی ویڈیوز تیار کرنا اور اسے تمام ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے لیے فراہم کرنا بھی اس شعبہ کی ذمہ داری ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کی انہی سر توڑ کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں تعلیمات فقر پر آپ مدظلہ الاقدس سے زیادہ اور تحقیق شدہ کام کسی اور کا نہیں۔ اسی کاوش کا نتیجہ ہے کہ لوگ جوق در جوق اس حقیقت سے متعارف ہو کر معرفتِ الٰہی سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ جیسا کہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
آپ مدظلہ الاقدس شانِ فقر ہیں آپ کی بارگاہ میں جو ایک بار صدقِ دل سے آتا ہے وہ اپنے آپ کو عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سرشار پاتا ہے اور یہ آپ کی صحبت کا ہی فیض ہے کہ صادق طالبِ مولیٰ کے اندر ماسوائے اللہ کے کچھ نہیں رہتا اور عشقِ الٰہی سے وصالِ الٰہی کی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا 
ترجمہ:اور اللہ کی رسی ( اسم اللہ ذات ) کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ پڑو۔
آپ مدظلہ الاقدس اُمتِ مسلمہ کو ورثہ محمدی یعنی فقر محمدی کا فیض عطا فرما رہے ہیں اور جو کوئی اس راستہ پر چلتا ہے وہ خود بخود ہر فرقہ سے پاک ہو کر خاص الخاص اللہ تعالیٰ کی معرفت و عشق کے راستہ یعنی صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جاتا ہے۔ اور یہی فقر کی دولت اللہ کی مضبوط رسی ہے اور جو کوئی اس کو مضبوطی سے تھام لے گا وہ حقیقت سے روشناس اور تفرقہ سے پاک ہو کر اصلاح کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

فیض اسم اللہ ذات و اسمِ محمد

آپ مدظلہ الاقدس ملک بھر میں تبلیغی دورے فرماتے ہیں اور قریہ قریہ کوچہ کوچہ جا کر اپنی نگاہِ کامل سے تزکیہ نفس، تجلیہ روح اور تصفیہ قلب کر کے طالبانِ مولیٰ کی ارواح کو پھر سے ترو تازہ کرتے ہیں اور لوگوں کے قلوب کو اسم اللہ ذات کے جاودانی نور سے منور کرتے ہیں۔ یہ آپ مدظلہ الاقدس کی ہی کرامت ہے کہ جہاں سے آپ مدظلہ الاقدس کا گزر ہوتا ہے وہیں سے حق و معرفت کا سرچشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس بغیر بیعت اسم اللہ ذات کی پہلی منزل اَللّٰہُ ھُو  اور بیعت کے ساتھ اسم اللہ ذات کی آخری منزل سلطان الاذکار ھُو عطا فرماتے ہیں جو آج سے پہلے کسی شیخِ کامل نے عطا نہیں کیا۔ یعنی کہ آپ مدظلہ الاقدس جس طالب کو یہ ذکر عطا کر کے توجہ سے سرفراز فرماتے ہیں اس کا سفر شروع ہی عالمِ لاھوت سے ہوتا ہے جو کہ آپ مدظلہ الاقدس کی باطنی قوت کی طرف بھرپور اشارہ ہے۔ چونکہ آپ مدظلہ الاقدس حق پر ہیں اس لیے آپ بغیر بیعت کے ہی اسمِ اعظم عطا کردیتے ہیں تاکہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کے فرمان ’’ اسم اللہ ذات پہچان کرواتا ہے کہ اس کا دینے والا مرشد کامل ہے یا ناقص‘‘ کے مطابق طالب تحقیق کر لے اور جو کوئی مخلص طالب صدق کے ساتھ ذکر و تصور کرتا ہے تو اسکو باطنی مشاہدات بھی ہوتے ہیں جسکی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔اور یہ اس لئے بھی عطا کیا جاتا ہے کہ اکثر لوگ جعلی و ناقص مرشدوں سے دھوکہ کھائے ہوتے ہیں اور حقیقی مرشد کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ دھوکہ وہ اپنے نقص کی وجہ سے کھاتے ہیں لیکن آپ مدظلہ الاقدس پھر بھی مہربانی فرما کر انہیں پوری طرح تحقیق کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی آپ مدظلہ الاقدس نے اسم محمد کے فیض کو بھی طالبانِ مولیٰ میں عام فرمایا۔
میری اللہ تعالیٰ سے التجا ہے کہ وہ میرے مرشد کریم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو عمرِ داز عطا فرمائے تا کہ وہ اس فیض کو پوری دنیا میں عام فرما سکیں۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اُمتِ نبویؐ کی اصلاح کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی کاوشیں… Ummat-e-Nabi ki Islah kay leye Sultan ul Ashiqeen ki Kawishain” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں