235

ارکانِ اسلام کی حقیقت–Arkan-e-Islam ki Hakikat

ارکانِ اسلام کی حقیقت

انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

اسلام کے پانچ ارکان ہیں ،جن کی حقیقت کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان مرد اورعورت پر فرض ہے۔ یہ ارکان کلمہ طیب (توحید)، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج ہیں۔

کلمہ طیب
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
اَفْضَلُ الذِّکْر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ 
ترجمہ: افضل ذکر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  ہے۔
اسلام کی بنیاد کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے ۔ یعنی کلمہ طیب اسلام کا پہلا رکن ہے کوئی بھی انسا ن اس کلمے کا اقرار باللسان (زبان سے ا قرار) کر کے مشرف بہ اسلام ہو جاتا ہے ۔ جو اس کلمے کی حقیقت اور کنہ کو سمجھ کر تصدیقِ قلب کے ساتھ اس کا اقرار کرتا ہے وہ مومن (عارف ) بن جاتا ہے۔ مسلمان اور مومن کا فرق سورۃ الحجرات میں یوں بیان کیاگیا ہے :
ترجمہ: ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام صحابہ کرامؓ میں مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کی ’’آقا! ہم بھی مومن ہیں ہم پر بھی عنایت فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دوسرے مومنین میں فرما رہے ہیں‘‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جواب دینے بھی نہ پائے تھے کہ وحی کا نزول شروع ہو گیا:
قَا لَتِ الْاَعْرَابُ اٰ مَنَّا ط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَاوَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط ( الحجرات۔14)
ترجمہ:’’یہ دیہاتی کہتے ہیں کی ہم ایمان لے آئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان سے فرما دیں کہ تم کہوہم اسلام لائے ہیں (یعنی زبانی کلمہ پڑھا ہے) اور ابھی ایمان تمہارے دِلوں میں داخل نہیں ہوا (یعنی ابھی تصدیقِ قلب کے مرتبہ پر نہیں پہنچے )۔‘‘
اس سے واضح ہوتا ہے کہ زبانی کلمہ پڑھنے والا مسلمان اور تصدیقِ قلب والا مومن ہے۔سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ پرفرماتے ہیں :
* ’’کلمہ طیب مسلمان ہونے کی بنیاد ہے جب کوئی کلمہ طیب پڑھتا ہے تو وہ زبان سے اقرار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہیں۔اس اقرار کے ساتھ ہی وہ مسلمان ہو جاتا ہے اور تصدیقِ قلب سے (دیکھ کر ) کلمہ پڑھنا خواص کا اور اس کی حقیقت تک پہنچ جانا عارفین کا مرتبہ ہے۔‘‘
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے :
قَائِلُوْنَ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کَثِیْرًا وَ الْمُخْلِصُوْنَ قَلَیْلاًط 
ترجمہ: زبان سے کلمہ طیب پڑھنے والے بہت زیادہ ہیں لیکن ان میں مخلص کم ہی ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کافرمان ہے:
مَنْ قَالَ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ خَالِصًا مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ بِلَا حِسَابٍ وَّبِلَاعَذابٍ ط 
ترجمہ : ’’جس نے خالص اور مخلص ہو کر لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھا وہ جنت میں بغیر حساب اوربغیر عذاب کے داخل ہو گا۔‘‘
اگرکسی کو تصدیقِ دل حاصل نہیں تو اس کا محض زبان سے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کا اقرار کر لینا اسے کوئی فائدہ نہ دے گا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ہر دو جہان علم کی قید میں ہیں اور علم کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی قید میں ہے اور کلمہ طیب اسم اللہ ذات کی قید میں ہے اور جو شخص کلمہ پڑھتا ہے اور دل سے اس کی تصدیق کرتا ہے اور کلمہ طیبہ کی کنہ اور حقیقت کو جانتا ہے اس سے کوئی بھی علم مخفی نہیں رہتا۔‘‘ (امیر الکونین)
کلمے دی کَل تداں پیوسے، جداں کلمے دل نوں پھڑیا ھُو
بے درداں نوں خبر ناں کوئی، درد منداں گل مَڑھیا ھُو
کفر اسلام دی کَل تداں پیوسے، جداں بَھن جگر وِچ وَڑیا ھُو
میں قربان تنہاں توں باھوؒ ، جنہاں کلمہ صحی کر پڑھیا ھُو
ہمیں کلمہ طیبہ کی حقیقت کا تب پتا چلا جب کلمے نے دل کے اندر پوشیدہ رازِ حقیقی سے آگاہ کیا۔ اسی طرح تصدیقِ دل کے ساتھ کلمہ تو عاشقانِ ذات نے ہی پڑھا ہے۔ علما اور دنیا داروں کو تو اس حقیقت کی خبر تک نہیں ہے۔ کفر و اسلام کا فرق بھی تب ہی سمجھ میں آیا جب کلمہ کی حقیقت کو پایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں ان طالبانِ مولیٰ کے قربان جاؤں جنہوں نے تصدیقِ دل کے ساتھ کلمہ پڑھ کر اس کی حقیقت اور راز کو پا لیا ہے۔ (ابیاتِ باھُو کامل)

فضائلِ کلمہ طیب

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
* جو شخص کلمہ طیب پڑھتا ہے اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے چوبیس حروف ہیں اور دن رات کے چوبیس گھنٹے ہیں۔ جب بندہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  کہتاہے تو اس کلمہ کا ہر حرف اس کے ہر گھنٹہ کے گناہوں کو اس طرح جلا کر ختم کر دیتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو جلاکر ختم کر دیتی ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  میرا حصار ہے اورجو میرے حصار میں آ جاتا ہے وہ میرے عذاب سے محفوظ رہتاہے۔
* تصدیقِ قلب کے ساتھ کلمہ طیّب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھنے سے ماسوائے اللہ تمام اغیار کی محبت ختم ہو جاتی ہے اور دل کا اغیار کی محبت سے پاک ہونا نصف ایمان ہے۔
* تصدیقِ قلب سے کلمہ پڑھنا صدیقین کے ایمان کا مقام ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جو شخص تمام عمر میں سو دفعہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتوں اندام پر دوزخ کی آگ حرام کر دیتا ہے۔ جب بندہ کلمہ طیب پڑھتا ہے تو کلمہ طیب عرش پر جا کر اس کے ستونوں کو ہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے عرش کے ستونو! ساکن ہو جاؤ‘‘۔ ستون عرض کرتے ہیں ’’یااللہ ! جب تک تو کلمہ طیبہ پڑھنے والے کو بخش نہیں دیتا اس وقت تک ہم سکون میں کیسے آ سکتے ہیں؟‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اسے بخش دیا۔
بیت:
لَآ اِلٰہَ  آمد و گناہ نماند
ذات آمد جاہ نماند
ترجمہ: ’’ لَآ اِلٰہَ کے آجانے سے گناہ باقی نہ رہے۔ جہاں ذات (حق تعالیٰ) آ جاتی ہے وہاں تکبر نہیں رہتا۔‘‘
کلمہ طیب کی حقیقت صرف اور صرف مرشد کامل اکمل کی مہربانی سے ہی طالب صادق پر عیاں ہوتی ہے ۔جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
کلمے دی کَل تداں پیوسے، جداں مرشد کلمہ دَسیا ھُو
ساری عمر وِچ کفر دے جالی، بِن مرشد دے دَسیا ھُو
شاہ علیؓ شیر بہادر وانگن، کلمے وَڈھ کفر نوں سٹیا ھُو
دِل صافی تاں ہووے باھوؒ ، جاں کلمہ لُوں لُوں رَسیا ھُو
کلمہ طیبہ کی کنہہ اور حقیقت سے تب آگاہی حاصل ہوئی جب ہمارے مرشد کامل نے ہمیں کلمہ پڑھایا اور کلمہ کی حقیقت نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی مثل کفر کو دِل سے کاٹ کر پھینک دیا۔ مرشد کے بغیر کلمہ کی حقیقت سمجھ ہی نہیں آتی اِس لیے مرشد کی راہبری کے بغیر کلمہ پڑھتے رہنا ساری عمر کفر میں گزارنے کے مترادف ہے اور دل کی صفائی تب ہوتی ہے جب کلمہ طیبہ لوں لوں کے اندر سرایت کر جاتا ہے ۔ (ابیاتِ باھُو کامل)
کلمہ طیب تزکیہ نفس کرنے والا، روح کو تجلیاتِ الٰہی سے منورکرنے والااور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہر دم حاضر کرنے والا افضل ذکر ہے ۔ اس کا پہلا درجہ ’’ لَآ اِلٰہَ‘‘ طا لبِ مولیٰ کے دل سے تمام غیر اللہ کی نفی کر کے نفس کا تزکیہ کرتاہے جس سے قلب روشن و منور ہو کر ’’اِلَّا اللّٰہُ ‘‘یعنی اللہ کا دیدار کر کے اس کی واحدانیت کا اقرار کرتا ہے اورطا لبِ مولیٰ تصدیقِ قلب سے توحید کی لازوال نعمت پاتا ہے اور پھر جب طا لبِ مولیٰ ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کہتا ہے تو اسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری کا شرف حاصل ہوتا ہے جہاں وہ تمام انبیا، صحابہ کرامؓ اوراولیا ئے کاملینؒ سے مصافحہ کرتا ہے لیکن کلمہ طیب کے ان تمام مراتب و مقامات تک صرف مر شد کامل اکمل کی مہربانی اور رہنمائی سے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ وہ مر شد کامل اکمل کی مہربانی اور رہنمائی کے بغیر ہی کلمے کی حقیقت کو پا لے گا تو یہ محض اس کی نگاہ کا دھوکا ہے اور وہ شخص شیطان اور نفس کی پیروی کر رہا ہے ۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں:
* ’’تصورِ اسم اللہ ذات اور آیاتِ قرآن و حدیث و اسمِ اعظم کی برکت اور کلمہ طیب(لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ) کی چابی سے دل کا قفل کھل جاتا ہے اور بے شک یہی راہ صراطِ مستقیم ہے اور صراطِ مستقیم ایک عطا ہے جو سروری قادری کامل اکمل جامع مرشد سے حاصل ہوتی ہے جو یومِاَلَسْتُ    اور یومِ کُنْ فَیَکُوْنَ سے ذکر و فکر کے جواہر لٹاتا آرہا ہو۔ ‘‘
بلاشبہ اب بھی یہ سلسلہ جا ری ہے جیسا حضور علیہ صلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے اَ لْاٰ نَ کَمَا کَانَ  ترجمہ’’جیسے پہلے تھا ویسا ہی اب ہے۔‘‘ کلمہ طیب کی حقیقت و کنہ خالص توحید کی کنجی ہے۔

توحید

کلمہ طیب کی بنیاد تو حید ہے ۔ توحید دل (قلب) کو غیر ماسویٰ اللہ سے پا ک کرنے کا نام ہے ۔توحید ’’ھُو‘‘ کی پہچان اور معرفت کا پُرنور راستہ ہے۔ کامل توحید سے ہی اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔‘‘توحید میں غرق طالب کے دل سے اللہ تعالیٰ اپنے اغیار کی محبت اور دنیا ناقص کے غم دور کر دیتا ہے ۔اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس پر سہولت و آسانی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں:
* ’’رازِ توحید کی چابی کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے جو شخص کلمہ طیب کی چابی سے دل کا قفل کھول کر معرفتِ الٰہی کا راز پا لیتا ہے وہ بے نیاز ولایحتاج طالب ہے۔‘‘
پس توحید تک پہنچنے کے لیے دِل سے غیر اللہ کی محبت،طلب اور خوف کے بتوں کو توڑنا ہو گا ۔ اللہ کے سوا ہر شے سے بے نیاز ہونے کا نام توحید ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کے باطن کا سفر بہت مشکل اور دشوار گزار ہے یہاں قدم قدم پر نفس اور شیطان مورچے لگائے بیٹھے ہیں جوہر دم طالب کو اپنے حصار میں کرنے کی کو شش کرتے رہتے ہیں۔ رازِ توحید کو صرف اور صرف مرشد کامل اکمل کی صحبتِ فیض اور نگاہِ کرم سے ہی پایا جا سکتا ہے کیونکہ مر شد کامل اکمل صاحبِ مسمّٰی مکمل نورِ حق ذات ہوتا ہے اور ’’نورِ حق‘‘ ہی ’’حق ‘‘کی طرف رہنمائی فرما سکتا ہے۔

نماز

حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے:
ترجمہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے توحید کے بعد نماز سے بڑھ کر محبوب اور کوئی چیز اپنے بندوں پر فرض نہیں کی۔‘‘نماز مومن کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ظاہری و باطنی حضوری کا مجموعہ ہے۔یعنی نماز کی ظاہری حالت میں اسے مقررہ وقت پر ادا کرنا،نمازی کا جسم،لباس اور جس جگہ نماز ادا کرنی ہو اس جگہ کا پاک ہونا اور نمازی کا قبلہ کی طرف رخ ہونا شامل ہے۔ جبکہ نماز کا باطن تمام تر نفسانی خواہشات سے نجات، حضورئ قلب اور دیدارو معرفتِ الٰہی کا حصول ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بار بارنماز قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔ جیسا کے فرمانِ حق تعالیٰ ہے :
وَ اَ قِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ  (البقرہ۔43)
ترجمہ:’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کر نے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘
وَ اَ قِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تُوا الزَّکوٰۃَ  وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (النور۔56)
ترجمہ:’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
اسی طرح قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر نہ صرف نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا اس بندے کے ساتھ وعدہ بھی ہے کہ جو فرض شدہ پانچ نمازوں کو ان کی مکمل اور جامع ظاہری و باطنی حالتوں کے ساتھ ادا کرے گا وہ بندہ اس پاک ذات کی امان میں رہے گا۔ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے کہ ان نمازوں کی مثال یوں ہے کہ جیسے کسی کے گھر کے سامنے سے ایک پاک و شفاف پانی کی ندی بہتی ہو اور وہ ہر روز پانچ مرتبہ اس میں نہاتا ہو تو کیا یہ ممکن ہے کہ میل کچیل کا کچھ اثر باقی رہ جائے؟عرض کیا گیا ہر گز نہیں۔ فرمایا یہ پانچ نمازیں بھی گناہوں کو اس طرح بہا کر لے جاتی ہیں جس طرح ندی کا پانی میل کو بہا کر لے جاتا ہے۔(حقیقتِ نماز)

نماز کی ر وح حضورِ قلب

نماز چونکہ اللہ اور بندے کے درمیان تعلق جوڑتی ہے،اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ خشو ع و خضوع اختیار کرے۔تاکہ اس کے جذبہ بندگی و عبودیت پر ربّ کی ربوبیت کا رعب و دبدبہ قائم رہے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْ مِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَا تِھِمْ خَاشِعُوْنَ ۔ (المومنون۔ 1-2)
ترجمہ: ’’فلاح پا گئے وہ مومن جو اپنی نماز خشوع (حضورِ قلب)سے ادا کرتے ہیں۔ ‘‘
حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے :
* ’’لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِحُضُوْرِ الْقَلْبِ‘‘
ترجمہ: ’’حضورِ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔‘‘
میرے مرشد کریم پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس سروری قادری شمس الفقرا میں فرماتے ہیں:
* ’’حضور یا حضوری کے معنی قلب کا خلق سے ہٹ کر حق تعالیٰ کے ساتھ حاضر ہونا ہے۔حضورِ قلب کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی بلکہ ریا کا درجہ رکھتی ہے۔ حضورِ قلب اسم اللہ ذات کے دائمی ذکر و تصور سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ جب تک نفس نہیں مرتا تو دل زندہ نہیں ہوتا اور جب تک دل زندہ نہ ہو حضورِ قلب ممکن ہے ۔ کثرتِ ذکر و تصورِ اسم اللہ ذات سے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ طالب کو دائمی حضورِ قلب حاصل ہو جاتا ہے اور پھر طالب کی یہ حالت ہو جاتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاَیْنَمَاتُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ o( البقرہ 115)
ترجمہ : جس طرف چہرہ پھیرو گے تم اللہ ہی کو پا ؤ گے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں:
* ’’ حضورِ قلب یہ ہے کہ دل خطراتِ شیطانی سے محفوظ ہو کر ہر وقت ذکرِ اللہ کے انوار و تجلیات سے معمور رہے ۔ ایسا صاحبِ قلب آدمی ہمیشہ باطن میں انبیا و اولیا سے ملاقات کرتا رہتا ہے۔‘‘
آپؒ مزید فرماتے ہیں:
دلے با حضوری شکم پُر طعام
کہ ایں است معراج واصل تمام
ترجمہ: جس دل کو حضوری نصیب ہو جائے وہ اگر پُر شِکم بھی ہو تو معراجِ کامل سے مشرف ہوتا ہے۔ (محکم الفقرا)

بے حضور کی نماز

قرآنِ مجید میں بے حضور نمازیوں کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
*فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ۔الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَا تِھِمْ سَاھُوْنَ۔الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآئُ وْنَ۔ (الماعون۔4-6)

ترجمہ:’’پھر اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے خرابی ہے جو اپنی نمازسے غافل رہتے ہیں اور وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔‘‘
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے’’کئی نماز میں کھڑے ہونے والے ایسے نمازی ہیں جن کو قیام میں تھکاوٹ اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں ملتا۔‘‘ (مکا شفۃ القلوب)
یہ آیات اور حدیث شریف اُن نمازیوں کے بارے میں ارشاد فرمائی گئی ہے جو ادائیگیِ نماز میں صرف اپنے ظاہری ا عضا پر توجہ دیتے ہیں اور دل کو غیر اللہ کی سوچوں میں مگن رکھتے ہیں۔
سلطان الفقر دوم حضرت خواجہ حسن بصریؓ فرماتے ہیں’’جس نماز میں دل حاضر نہ ہو وہ نماز عذاب سے قریب تر ہے۔‘‘
سلطان العارفینؒ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:
باجھ حضوری نہیں منظوری، توڑے پڑھن بانگ صلاتاں ھُو
روزے نفل نماز گزارن، توڑے جاگن ساریاں راتاں ھُو
باجھوں قلب حضور نہ ہووے، توڑے کڈھن سے زکاتاں ھُو
باجھ فنا ربّ حاصل ناہیں باھُوؒ ، ناں تاثیر جماعتاں ھُو
حدیث شریف ہے:’’ لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِحُضُوْرِ الْقَلْبِ‘‘ ترجمہ: ’’حضورِ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔‘‘ بلکہ حضورِ قلب کے بغیر کوئی بھی عبادت مقبولِ بارگاہِ الٰہی نہیں ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اس بیت میں اس حدیث پاک کی شرح فرمارہے ہیں :حضورِ حق تعالیٰ کے بغیر اذان، نماز اور زکوٰۃ قبول نہیں ہوتی خواہ دِن کو روزے رکھیں اور رات بھر بیدار رہ کر نوافل ادا کرتے رہیں اور تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب کے بغیر حضوری حاصل نہیں ہو سکتی، اپنی ذات کو فنا کیے بغیر وصالِ حق تعالیٰ اور دیدارِ الٰہی حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی عبادات میں حضوری حاصل ہوتی ہے۔ (ابیاتِ باھُو کامل)

علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:
بے حضوری ہے تیری موت کا راز
زندہ ہو تو تُو بے حضور نہیں
یعنی قلب کے تاریک ہونے کی وجہ سے تُو باطن میں مر چکا ہے، اگر تیرا باطن بیدار یا زندہ ہو جائے تو تُو بے حضور نہیں ہو گا۔

انبیا کرام و اولیا کاملین کی نمازیں

اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہے ۔بیشک وہ ہمارے تمام اعمال کو دیکھتا اور ہماری دعاؤں کو سنتا ہے اور جب کوئی صدق اوراخلاصِ نیت سے اس کے حضور سوال کرتا ہے تو وہ اس بندے کو جواب بھی دیتاہے یہی وجہ ہے کہ اللہ کے منتخب شدہ بندوں کی نمازیں دیدارِ الٰہی کے جلوؤں سے پُر نور رہتی ہیں ۔
* حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتیں ہیں ’’جب حضور علیہ الصلوٰۃو السلام ہم سے محوِ گفتگو ہوتے اور نماز کا وقت آجاتا تو حق تعالیٰ میں یوں مشغول ہو جاتے کہ لگتا تھا گویا وہ ہم کو پہچانتے ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دل میں اس قدر جو ش ہوتا گویا تانبے کی دیگ آگ پر جوش کھا رہی ہو اور آواز دے رہی ہو۔‘‘
* سیّدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو حضورِ قلب سے آپؓ کی آواز رندھ جاتی اور ایسے کھڑے ہوتے جیسے کہ خشک لکڑی زمین میں گاڑ دی ہو ۔ ان کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا، چہرے کا رنگ بدل جاتا اور فرماتے’’ اس امانت کو اٹھانے کا وقت آگیا ہے جیسے ساتوںآسمانوں اور زمین پر پیش کیا گیا تو وہ اسے اُٹھانے کی ہمت نہ کر سکے۔‘‘
* سیّدنا حضرت عمرفاروقؓ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپؓ کا جسم کانپنے لگتا اور دانت بجنے لگتے ۔پوچھنے پر آپؓ نے فرمایا : ’’امانت کی ادائیگی کا فرض پورا کرنے کا وقت آگیا ہے، نہیں معلوم کیسے ادا ہو گا۔‘‘
* سیّدنا حضرت علیؓ جب نماز شروع کرتے تو کانپ جاتے اور ان کا چہرہ زرد پڑ جاتا ۔پوچھنے پر آپؓ نے فرمایا ’’ اب اس امانت کو ادا کرنے کا وقت آگیا ہے جو آسمانوں،زمین اور پہاڑوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا اور میں نے اسے اٹھا لیا۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں:
* ایک دن حضرت شیخ جنید بغدادیؒ اور حضرت شیخ ابو بکر شبلی ؒ دونوں شہر سے نکل کر صحرا کی طرف چلے گئے ۔ جب نماز کا وقت ہوا اور انہوں نے وضو کر کے نماز کا ارادہ کیا تو ایک لکڑہارا آگیا۔اس نے سر سے لکڑیوں کا گٹھا اتارا، وضو کیا اور ان کی جماعت میں شامل ہو گیا۔ شیخ جنید بغدادیؒ کی باطنی فراست نے جان لیا کہ یہ ایک ولی اللہ ہیں اور اسے نماز میں پیش امام بنا لیا ۔انہوں نے نماز میں رکوع وسجود کو بہت طویل کیااور جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ یا حضرت کیا وجہ تھی کہ آپ نے رکوع و سجود کو اتنا طویل کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں تسبیح پڑھتا تھا تو جب تک بارگاہِ حق سے لَبَّیْکَ عَبْدِیْ (اے میرے بندے میں حاضر ہوں) کا جواب نہیں آتا تھا میں سجدے سے سر نہیں اٹھاتا تھااس لیے دیر ہو جاتی تھی۔ (عین الفقر)
* حضرت حلف بن یوسف ؒ حالتِ نماز میں تھے۔ انہیں بھڑ نے کاٹ لیا۔خون بہہ نکلا آپ ؒ کو محسوس نہ ہوا ۔پوچھا گیا آپؒ کو بھڑکا کاٹنا اور خون بہہ نکلنا محسوس نہ ہوا ؟ آپؒ نے جواباً فرمایا ’’جو ربِّ ذوالجلال کے سامنے کھڑا ہو، اس کے پیچھے ملک الموت ہو،اس کے بائیں طرف جہنم اور پاؤں کے نیچے پُل صراط ہو وہ کیونکر خون کا نکلنا محسوس کرے گا۔‘‘
آج کے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر پہلے اپنے زوال کی اصل وجہ یعنی حضورِ قلب سے محرومی کو تلاش کریں کیونکہ حضورِ قلب والے مومن کے حکم سے ہی دریا پر گھوڑے دوڑتے اور جانور جنگل خالی کر دیتے ہیں۔حضورِ قلب والے مومن کا حکم ہی ہر شے پر چلتا ہے،مردہ دل بے حضور کا نہیں۔ (حقیقتِ نماز)

روزہ

ارشادِباری تعالیٰ ہے:
یَآ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ۔ (البقرہ۔ 183)

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگو ں پر فرض کیے گئے تھے۔‘‘
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم2 ھ میں تحویلِ قبلہ سے کم و بیش پندرہ روز بعد نازل ہوا۔حضرت سلمان فارسیؓسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہم کو خطبہ ارشاد فرمایا:
ترجمہ: ’’اے لوگو! ایک بہت بڑے مہینہ نے تم پر سایہ کیا ہے‘ اللہ نے اس کے روزوں کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔اس ماہ میں جو شخص کسی نیکی کے ساتھ اللہ کی طرف ’’قرب‘‘ چاہے اس کو اس قدر ثواب ملتا ہے کہ گویا اس نے فرض ادا کیا۔ جس نے رمضان میں فرض ادا کیا اس کا ثواب اس قدر ہے گویا اس نے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر فرض ادا کیے۔ وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے‘ وہ مساوات‘ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ وہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے اور جو ایک روزہ دار کو روزہ افطار کرائے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کمی نہیں آتی۔‘‘
ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہم میں سے ہر شخص روزہ افطار نہیں کروا سکتا۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی یہ ثواب عطا فرماتا ہے جو ایک گھونٹ دودھ‘ ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے کسی کا روزہ افطار کرواتا ہے۔ جو روزہ دار کو سیر ہو کر کھانا کھلائے اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا‘ وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اوّل حصہ رحمت‘ درمیانہ حصہ بخشش اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے‘ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام (نوکر) کا بوجھ ہلکا کر دے اللہ اس کو بخش دیتا ہے اور آگ سے آزاد کر دیتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)
حدیثِ قدسی ہے: اَ لصَّوْمُ لِیْ وَ اَ نَاَ اَ جْزِ یْ بِہٖ
ترجمہ: ’’ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں خود ہوں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ’’ رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ، شعبان میرا اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ ‘‘
مزید ارشاد فرماتے ہیں:
ترجمہ: ’’جس نے رمضان شریف کے روزے ایمان اور یقینِ کامل کے ساتھ رکھے اس کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔‘‘

روزے کے فضائل و حقیقت

حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔‘‘ کتنی فضیلت ہے روزے کی جسے صرف اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرمایا۔طالبِ مولیٰ کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا پانے کے لیے ہوتا ہے لیکن روزہ ایسی عبادت ہے جس کی جزا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا قرب رکھا ہے۔ رمضان کے روزوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’روزہ ڈھال ہے جو گناہوں کے وار سے محفوظ رکھتی ہے۔‘‘
ایک بزرگ فرماتے ہیں ’’وہ بڑا دروازہ جس کے ذریعے بارگاہِ الٰہی میں داخل ہوا جا سکتا ہے، ترکِ غذا (روزہ) ہے ۔‘‘
حضرت جنید بغدادیؒ رمضان کے روزوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اَلصَّوْمُ نِصْفُ الطَّرِیْقَۃِ‘‘ ترجمہ:’’روزہ رکھنا نصف طریقت ہے۔‘‘
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کافرمان ہے’’صبر ایمان کا نصف حصہ ہے اور روزہ صبر کا نصف حصہ ہے۔‘‘یعنی ان لوگوں (طالبِ صادق) کے لیے اجروثواب کا کوئی حساب و شمار نہیں جو رضائے الٰہی کے لیے اپنی خواہشا تِ نفسانیہ پر قابو پانے کے لیے صبر کرتے ہیں۔ رمضان کے روزوں کی حقیقت قرآنِ مجید میں یو ں بیان کی گئی ہے: ترجمہ:’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (البقرہ۔ 183)
اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ روزوں کی فرضیت کا مقصد مسلمان کو متقی یعنی مومن بنانا ہے۔صوم کے لغوی معنی’’ روکنے ‘‘کے ہیں، جیسے کھانے پینے سے روکنا، آنکھ کو نظر کی شہوت سے روکنا، کان کو غیبت سننے سے،زبان کو بے ہودہ گفتگو کرنے سے اور جسم کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی مخالفت کرنے سے روکنا حقیقی روزہ ہے۔ جو طالبِ مولیٰ ان تمام باتوں پر عمل کرتا ہے اسے ہی رضائے الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اَذَا صُمْتَ فَلْیَصُمْ سَمْعُکَ وَبَصَرُکَ وَلِسَانُکَ
ترجمہ:’’جب کوئی شخص روزہ رکھے تو اپنے کان ،آنکھ ،زبان،ہاتھ اور جسم کے ہر عضو کے ذریعے روزہ رکھے ۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مزید فرما تے ہیں:
رُبَّ صَائمٍ لَیْسَ لَہٗ مَنْ صَوْمِہٖ اِلاَّ الْجُوْعَ وَالعَطَشِ۔ ترجمہ: ’’کیو نکہ بہت سے روزے دار ایسے ہیں جنہیں روزہ رکھنے کے نتیجے میں بھوکے پیاسے رہنے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (حدیث:7810مسند احمد بن حنبل )
غرض روزے کی حقیقت متقی ہونا ہے ۔حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کا فرمان ہے: ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے یعنی تقویٰ والا ہے۔ ‘‘
اب تقویٰ کیا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک مرتبہ تقویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انگلی سے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔
سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں صاحبِ مسمّٰی شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف مبارک ’’حقیقتِ روزہ ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’تقویٰ اصل میں قلب(باطن) کے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا نام ہے۔ جس قدر کسی کا قلب اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا ہے وہ اسی قدر متقی ہوگا یعنی تقویٰ قربِ الٰہی کا نام ہے۔ روزہ انسان کو قربِ الٰہی میں لے جاتا ہے‘ اس عبادت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے’’روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں خود ہوں‘‘ یعنی روزہ کی جزا قربِ الٰہی ہے۔ ‘‘
بلاشبہ رمضان المبارک میں روزے دار(صادق طالب) کا ہر عمل ہی خیرو برکت اور فضائلِ الٰہیہ سے بھرپور ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق روزے دار کی نفلی عبادات سے ہو یا فرض عبادتوں سے ، چاہے سحری سے ہو یا افطاری سے، روزے دار کا سونا ،جاگنا اور روزے کی حالت میں ذکرو تصور اسمِ اَللّٰہُ ذات میں مشغول ہر سانس لینا بھی عبادت ہے۔ایسے روزے دار پر اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنی نگاہِ رحمت فرمائے رکھتا ہے جوخالصتاًخشیتِ الٰہی میں سرشار رضائے الٰہی کی خاطر اپنے نفس سے جہاد کرتا رہتاہے ۔ہر دم اپنے نفس سے جہاد کرتے رہنا ہی حقیقی روزہ ہے۔حدیثِ نبوی ہے:
ترجمہ:’’جس نے اپنے نفس کوپہچان لیا اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔‘‘

زکوٰۃ

زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں لیکن اصطلاحِ شریعت میں مقررہ نصاب کے مطابق معینہ وقت پر ہر سال اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ’’زکوٰۃ‘‘ کہلاتا ہے اور یہ ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے۔ سیّد سلیمان ندوی ؒ سیرت النبی ؐ میں فرماتے ہیں:
’’زکوٰۃ کا لفظ عام صدقات کے معنوں میں ابتدائے اسلام ہی سے مروج ہو گیا تھا۔اس کا پورا نظام آہستہ آہستہ فتح مکہ کے بعد قائم ہوا۔ 8 ہجری میں زکوٰۃ کی فرضیت کی تصریح مل جاتی ہے اور محرم 9 ہجری میں زکوٰۃ کے تمام قوانین و احکام مکمل ہو کر نافذ ہو گئے تھے۔‘‘

قرآن و حدیث کی روشنی میں زکوٰۃ کی اہمیت
زکوٰۃ اسلام کا اہم رکن ہے قرآنِ مجید میں تقریباً بیس مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ
ترجمہ: ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔‘‘ (النور۔ 56)
ھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ oالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ (النمل۔ 2,3)

ترجمہ: ’’ہدایت و خوشخبری ہے ان مومنوں کے لیے‘ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْن اُوْلٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo (لقمان۔ 4,5)

ترجمہ:’’جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃد یتے ہیں اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنo (الروم۔39)

ترجمہ: ’’اور جو زکوٰۃ تم اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال کی خاطر دیتے ہو تو وہی لوگ اپنا مال بڑھانے والے ہیں۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:
ترجمہ: ’’زکوٰۃ دے کر اپنے مال کو مضبوط قلعے میں محفوظ کر لو۔ اپنے بیماروں کا علاج صدقہ کے ذریعہ کیا کرو اور مصیبت کے نزول کے وقت دعا اور عاجزی سے مدد مانگو۔‘‘ (ابوداؤد)
* حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہٗ روایت فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی اس کے مال کا شر اس سے جاتا رہا۔‘‘ (الحاکم فی المستدرک، طبرانی)
*حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب تُو نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تُو نے فرض ادا کر دیا۔‘‘ (بخاری)
*حضرت عبد اللہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مانتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ دے۔‘‘ (طبرانی)
*حضرت عقلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃوا لسلام نے فرمایا ’’تمہارے اسلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم اپنے مال کی (کامل) زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘ (طبرانی)

حقیقی زکوٰۃ
جس طرح نماز کی حقیقی روح اور صورت حضورِ قلب ہے اسی طرح زکوٰۃ کی حقیقی روح اور صورت اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی پانے کے لیے دل سے مال کی محبت ختم کرنا ہے ۔اگر زکوٰۃ صرف اس سوچ کے ساتھ ادا کی جائے کہ اس عمل سے ہمارا مال بڑھے گا تو یہ محض ایک شیطانی دھوکا ہے آخرت میں اس کا کوئی اجر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا’’ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا دوست، ولی اور حبیب نہ بنائیں جو اپنا گھر بار اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دے۔‘‘
فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط (النساء۔ 89)

ترجمہ: ’’آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان میں سے کسی کو اپنا ولی (دوست) نہ بنائیں جب تک اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار نہ چھوڑیں۔‘‘
یعنی کوئی بھی طالب راہِ فقر میں اس وقت تک صدق نہیں پا سکتا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اطاعت کی پختگی حاصل نہ ہو جائے یعنی طالب اپنی جان ومال اور حتیٰ کے اپنے بیوی بچوں سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت و اطاعت کو اہم رکھے۔بلاشبہ ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے اوّلین اہمیت مال و دولت کو حاصل ہے اس طرح مال و دولت آدمی کی محبوب ترین چیز ہے اور اس کے ذریعے سے آزمائش کی گئی اور فرمایا:
*لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ(آلِ عمران۔ 92)

ترجمہ: ’’جب تک تم اپنی محبوب چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہیں کرو گے ہر گز نیکی (بھلائی) کو نہ پاؤ گے اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ ‘‘ مزید فرمایا:
*وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍلا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَo (المنافقون۔ 10)

ترجمہ:’’ اور خرچ کرو (اللہ کی راہ میں) اس میں سے‘ جو رزق ہم نے تم کو عطا کیا ہے قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے پھر وہ کہنے لگے اے میرے ربّ! تُو نے مجھے تھوڑی مدت تک کی مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں صدقہ و خیرات کر لیتا اور صالحین میں سے ہو جاتا۔‘‘
اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْ مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْ لَھُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌo (الحدید۔7)

ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں سے اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے پس تم میں سے جو ایمان لائیں اور خیرات کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ضرورت سے زائد مال فوراً اللہ کی راہ میں خرچ فرما دیتے تھے۔ لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع میں ضرورت سے زائد تمام مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دینا سب سے اعلیٰ ترین سنت ہے اور یہی زکوٰۃِ حقیقی یا زکوٰۃِ حقیقت ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
’’اے آدم کے بیٹے! تُو ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور اگر تو اس کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لیے بُرا ہے اور بقدرِ کفایت روکنے پر ملامت نہیں۔‘‘ (مسلم، مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ’’ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرانی کا اثر تھا۔ میں سمجھی طبیعت ناساز ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ کے چہرہ مبارک پر کچھ گرانی ہے کیا طبیعت خراب ہے؟ فرمایا سات دینار رات آگئے تھے وہ بستر کے کونے پر پڑے ہیں اب تک خرچ نہیں ہوئے۔‘‘ (احیاء العلوم)

زکوۃ سنتِ خلفائے راشدین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پاکیزہ زندگی کا ہر لمحہ اطاعتِ الٰہی کا مظہر ہے اور آپ کی نگاہِ کرم سے فیض پانے والے تمام خلفائے راشدین اور دیگر اصحابؓ کے ہرعمل کا اوّلین مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت و فرمانبراری ہوتا۔
* غزوہ تبوک کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے جو کچھ گھر میں تھا، سب لا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دریافت فرمانے پر کہ گھر میں کیا چھوڑا؟ عرض کیا ’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یعنی ان کی رضا کو۔‘‘
پروانے کو چراغ ہے اور بلبل کو پھول بس صدیقؓ کے لیے خدا کا رسولؐ بس
* غزوہ تبوک کے موقع پر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صدقہ طلب فرمایا توحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ نے اپنے گھر کا آدھا مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔
* حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ نے اپنا تمام مال اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ غزوہ تبوک ہو، مدینہ کا قحط ہو، مسجدِ نبوی کی زمین کی خریداری ہو، مدینہ میں میٹھے پانی کے کنویں کی خریداری ہو یا ازواجِ مطہرات کے حج کے اخراجات ہوں، آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنامال ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا۔
* حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور آپ کے گھرانہ کو کبھی پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہ ہوا اگر مال آیا بھی تو تقسیم ہونے تک چین نہ لیا۔
تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہی حالت تھی کہ ان پر کبھی زکوٰۃِ شرعی واجب ہی نہیں ہوئی تھی کیونکہ زکوٰۃِ حقیقی کی ادائیگی کی وجہ سے صاحبِ نصاب ہی نہیں ہوتے تھے۔

مصارفِ زکوٰۃ
قرآنِ مجید میں ارشار ہے :
                        اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌO (التوبہ۔ 60)

ترجمہ: بے شک صدقات تو فقرا، مساکین اور عاملین (زکوٰۃ اکٹھا کرنے والے)، قلوب کی تالیف، گردنیں چھڑانے، قرض داروں کے قرض ادا کرنے میں، اللہ کی راہ اور مسافروں کے لیے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فرض کئے گئے ہیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
اس حکم کے تحت زکوٰۃ و صدقات کے خرچ کے آٹھ مصارف بنتے ہیں۔ یاد رہے یہاں فقرا سے مراد وہ لوگ ہر گز نہیں جو در در جا کر بھیک مانگتے ہیں۔بلکہ یہ لو گ بھکاری ہوتے ہیں اور بھکاروں کے لیے آخرت میں سخت عذاب کی وعید ہے ۔ میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:’’فقرا فقیر کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ولیٔ کامل ہے جو فنا فی اللہ ہو چکا ہو۔‘‘
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* فقیرِ کامل اسے کہتے ہیں جو اللہ کی نظر میں منظور ہو کر ہر لمحہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہے۔ (کلید التوحید کلاں)
* فقرا کے حکم کی تعمیل کر کہ ان کی مخالفت آدمی کو دونوں جہانوں میں خوار کرتی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
یہ فقرا فنا فی اللہ ہیں جو اللہ کی ذات میں فنا ہو کر ’’مرنے سے پہلے مر جاؤ‘‘ کے مرتبہ پر پہنچ چکے ہیں۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا قول ہے کہ فقیر وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ فقیر وہ ہے جو کہے کہ ’ہو جا‘ تو ہو جائے۔ (الرسالۃ الغوثیہ)

زکوٰۃ نہ دینے پر وعید
قرآن و حدیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو مشرکین میں شامل فرمایا ہے:
وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ لا الَّذِیْنَ لَایُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃ (حٰم ٓ السجدہ۔ 6,7)

ترجمہ:اور مشرکین پر افسوس‘ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
روایت میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج کی شب ایسے لوگوں کے قریب سے گزرے کہ جن کے پیچھے اور آگے دھجیاں تھیں، وہ اس طرح چر رہے تھے جس طرح جانور اور بکریاں ہوں اور وہ جہنم کی گرم اور کانٹے دار جھاڑی چرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا ’’اے جبرائیل ؑ ! یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ عرض کیا ’’یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرتا بھی نہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
صحاح کی حدیث شریف میں ہے ’’جو لوگ (نصاب کے برابر) سونا چاندی رکھتے ہیں اور ان کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ان کے سینے میں ایسا کاری زخم لگایا جائے گا کہ پشت سے پار اتر جائے گا ۔ پھر ویسے ہی پشت پرزخم لگایا جائے گا کہ وہ سینے سے پار ہو جائے گا اور جوچار پائے (گائے،بھینس،اونٹ ، گھوڑے ، گدھے،بھیڑ اور بکریاں وغیرہ) رکھتے ہیں اگر ان جانوروں سے زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے تو وہ روزِقیامت اُنہی پر وہی چارپائے مسلط کر دئیے جائیں گے اورجو انہیں اپنے سینگوں یا پاؤں سے روند یں گے اور جب ہر جانور انہیں روند چکا ہو گا پھر نئے سرے سے اسی طرح روزانہ شروع کر دیں گے یہ سلسلہ (جاری رہے گا ) یہاں تک کہ تمام مخلوقات کا حساب مکمل ہوجائے گا ۔‘‘(کیمیائے سعادت)
تمام قرآن و سنت کے احکامات کی روشنی میں یہ بات مکمل طو ر پر واضح ہو جاتی ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد اپنے مال کو بڑھانا یا پاک کرنا نہیں ہے بلکہ حقیقی زکوٰۃ یہ ہے کہ ادائیگیِ زکوٰۃ کے وقت بندے کے دل میں اللہ کی رضا اور خوشنودی پانے کا جذبہ ہو اللہ تعالیٰ کی رضاوخوشنودی کو اس وقت تک نہیں پایا جا سکتا جب تک صدق دل سے تزکیہ نفس کے لیے مر شد کامل اکمل کی غلامی اختیار نہ کی جائے یہی اصحابؓ کا طریق تھا۔

حج

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاًo (آلِ عمران۔ 97)

ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔‘‘
حج دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ حج کے لغوی معنی ’’زیارت کرنا‘‘ اور ’’ارادہ کرنا‘‘ کے ہیں لیکن اصطلاحِ شریعت میں یہ وہ مخصوص عبادت ہے جو اسلامی ماہ ذوالحجہ کے چھ دنوں 8 ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک منیٰ‘ میدانِ عرفات‘ مزدلفہ‘ بیت اللہ شریف میں ادا کی جاتی ہے۔ حج 9 ھ  ؁میں فرض ہوا اور ہر اُس صاحبِ استطاعت مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے جو عاقل‘ بالغ‘ تندرست اور آزاد ہو اور مالی لحاظ سے حجِ بیت اللہ کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: حج کے جانے پہچانے چند مہینے ہیں تو جو شخص ان میں حج کی نیت کر لے تو دورانِ حج نہ تو وہ کوئی بے حیائی کی بات کرے اور نہ کوئی گناہ کرے اور نہ کسی سے لڑائی جھگڑا کرے تم جو کوئی بھی خیر کا کام کرو تو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے اور تم اپنا زادِ راہ ساتھ لے کر چلو لیکن (خوب یاد رکھو) بہترین زادِ راہ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ اس لیے اے اہلِ شعور !مجھ سے ڈرتے رہو۔ (البقرہ۔ 197)
قرآنِ پاک کی اس آیت میں بہترین زادِ راہ تقویٰ کو قرار دیا گیا ہے۔ اصطلاحِ فقر میں قلب (باطن) کا خلق سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا نام تقویٰ ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ ’سلطان الوھم‘ میں فرماتے ہیں:
ترجمہ: ’’دِل کو ماسویٰ اللہ سے پاک کرنے کا نام تقویٰ ہے۔ ‘‘
مجددِ دین شبیہ غوث اعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیفِ مبارکہ ’’حقیقتِ حج ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ کسی عمل کو کرتے وقت جو دل کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے۔ وہی تقویٰ ہے۔ عمل سے مخلوق کے سامنے ریاکاری ہو سکتی ہے‘ لیکن قلب سے اللہ تعالیٰ کے حضور ریاکاری ممکن نہیں ہے اس لیے احادیث مبارکہ ہیں کہ’’ اللہ تعالیٰ نیتوں کو دیکھتا ہے اعمال کو نہیں۔‘‘
حج کی اہمیت کا اندازہ ان احادیث مبارکہ سے ہو جاتا ہے۔
*حضرت ابو ہر یرہؓ سے روایت ہے :
’’ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت کیا گیا کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ ‘پھر دریافت کیا گیا کہ اس کے بعدکون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘پھرد ریافت کیا گیا کہ اس کے بعدکون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’مقبول حج۔‘‘ (بخاری شریف)
* جس نے حج کیا اور پھر جسم کو فسق و فجور سے آلودہ نہ ہونے دیا، زبان کو بے ہودہ اور ناشائستہ باتوں سے پاک رکھا تو وہ تمام گناہوں سے ایسے ہی پاک ہوگیا جیسے کہ پیدا ہونے کے دن پاک تھا۔ (بخاری شریف،مسلم شریف)
* حضرت ابو ہر یرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ؐ نے فرمایا: ’’عمرہ کرنا دوسرے عمرہ تک گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مقبول حج کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ نہیں ۔(صحیح بخاری)

شرائطِ حج
فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے ان پانچ شرائط کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔
(۱) مسلمان ہو،(۲)آزاد ہو،(۳) بالغ ہو،(۴) عاقل ہو (۵)اور وقت پر احرام باندھے ۔(کیمیائے سعادت)

ادائیگیِ حج کی صورتیں
ادائیگیِ حج کی درج ذیل تین صورتیں ہیں:
* جس کے ساتھ عمرہ نہ ملایا جائے وہ حجِ افراد کہلاتا ہے۔
* حج اور عمرہ ایک ہی احرام سے ادا کرنے کو حجِ قران کہتے ہیں۔
* عمرہ اور حج ایک ساتھ کرے لیکن عمرہ کا احرام الگ باندھا جائے اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد کھول دیا جائے پھر 8 ذوالحج کو دوبارہ احرام باندھ کر حج کرے تو اس حج کو حجِ تمتع کہتے ہیں۔ (حقیقتِ حج)

حجِ شریعت:
حجِ شریعت یہ ہے کہ حجِ بیت اللہ کے تمام ارکان مکمل پابندی کے ساتھ ادا کیے جائیں۔اگرادائیگی ارکان میں کوئی نقص واقع ہو جائے تو حج بھی ناقص ہو اور فاسد ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ہمیں حج کو کامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

وَاَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ۔ (البقرہ۔196)
ترجمہ ’’اللہ کو راضی کرنے کے لیے عمرہ اور حج کا اتمام کرو۔‘‘
ارکانِ حج یہ ہیں: ’’پہلے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ میں داخل ہو‘ پھر طوافِ قدوم‘ پھر منیٰ میں قیام‘ عرفات میں وقوف‘ پھر مزدلفہ میں شب بسری‘ رمی جمرات اور منیٰ میں قربانی پھر بیت الحرام میں داخلہ‘ پھر طوافِ کعبہ‘ پھر مقامِ ابراہیم پر دو رکعت واجب الطواف پڑھنا‘ اس کے بعد وہ تمام باتیں حلال ہوجاتی ہیں جن کا کرنا اللہ تعالیٰ نے احرام کی حالت میں حرام قرار دیا ہے۔‘‘(حقیقتِ حج)

حجِ طریقت(حجِ حقیقی):
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* حج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حاجی بیت اللہ کا دیدار اور پتھروں کی زیارت کر کے گھر واپس آجائے بلکہ حج کا مقصد صاحبِ خانہ کی حضوری، مشاہدہ اور مکاشفہ ہے۔
* حج بظاہر ایک وقتی عبادت ہے مگر دراصل یہ ایک بندۂ مومن کی پوری زندگی کی تصویر ہے۔ یہ بندے کا اپنے ربّ کی ربوبیت ا ور اپنی عبدیت کا اقرار نامہ ہے۔ حج مومن کی زندگی کی تعبیر بھی ہے اور اس کی موت کی تعبیر بھی۔ حج‘ حق تعالیٰ کے دیدار کا نام ہے۔ یہ دنیا کی زندگی میں اپنے ربّ سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں‘ اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج بارگاہِ اقدس تک بندے کا پہنچ جانا ہے۔ کعبہ کے سامنے کھڑا ہو کر آدمی محسوس کرتا ہے گویا وہ خود اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے، طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے ربّ کے گرد پروانہ وار گھوم رہا ہے، وہ ملتزم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے گویااپنے ربّ کا دامن ہاتھ آگیا ہے‘ جس سے وہ بے تابانہ لپٹ گیا ہے‘ اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔ قلبِ انسانی پر مذکورہ کیفیات کا نزول تب ہی ممکن ہے جب قلب میں تقویٰ ہو ۔
حضرت خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ نے اپنے طالبِ خاص محرمِ راز حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے نام ایک خط تحریر فرمایا جس میں آپؒ نے اسلام کے پانچوں ار کان کے وہ اسرار کھول کر بیان فرمائے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر فارو قؓ کو تلقین کیے تھے۔ حقیقتِ حج کے باب میں آپؒ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمرؓ سے فرمایا:’’اے عمرؓ! یقین جانو کہ خانہ کعبہ انسان کا دل ہے۔ ‘‘
چنانچہ ارشادِ نبوی ؐ ہے کہ:قَلْبُ الْاِنْسَانِ بَیْتُ الرَّحْمٰنِ ترجمہ:یعنی انسان کا دل دراصل خانہ کعبہ ہے۔

فرمان مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے :قَلْبُ الْمُؤْمِنْ عَرْشُ اللّٰہِ تَعَالٰی۔ترجمہ: مومن کا دل عرشِ الٰہی ہے۔

پس کعبہ دل کا حج کرنا چاہیے۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کعبۂدل کا حج کس طرح کرنا چاہیے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ انسان کا وجود بمنزلہ ایک چار دیواری کے ہے۔ اگر اس چار دیواری میں سے شک ‘ وہم اور غیر اللہ کا پردہ دور کر دیا جائے تو دل کے صحن میں خدا کی ذات کا جلوہ نظر آئے گا۔ حجِ کعبہ کا یہی مقصد ہے ۔
نیز ایسا حقیقی حج کرنے سے یہ بھی مقصود ہے کہ انسان اپنی خودی اور ہستی کو اس طرح مٹا دے کہ ہستی کا ذرہ بھر بھی باقی نہ رہے حتیٰ کہ ظاہر و باطن یکساں پاکیزہ ہو جائے اور دل صفاتِ الٰہی سے متصف ہو جائے۔
حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ حضور اپنی ہستی سے فنا کیونکر حاصل ہو سکتی ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ محبوبِ حقیقی یعنی خدا تعالیٰ پر عاشق ہونے سے‘ جو شخص عاشقِ الٰہی ہو گیا وہ فنا فی اللہ ہو گیا اور جو فنا فی اللہ ہو گیا وہ ذاتِ حق کا مظہر ہوگیا۔پھر حضرت عمرؓ نے سوال کیا کہ حضرت! دل کو خانہ خدا اور عرشِ الٰہی کیوں قرار دیا ہے؟ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جواب دیا کہ ارشادِ باری ہے:
وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ۔ (الذاریت۔21)
ترجمہ: میں تمہارے اندر ہی ہوں پھر تم مجھے کیوں نہیں دیکھتے؟
اے عمرؓ! رہنے کی جگہ کو گھر کہتے ہیں۔ چونکہ خدا تعالیٰ دل میں رہتا ہے لہٰذااسے خانۂ خدا اور عرشِ الٰہی قرار دیا۔
پھر حضرت عمر نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ؐاس خاک کے پتلے میں بولنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا کون ہے اور کیسا ہے؟ پیغمبرِ خدا ؐ نے ارشاد فرمایا کہ وہی (خدا) بولنے والا ہے، وہی سننے والا ہے اور وہی دیکھنے والا ہے۔
حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ حضرت کعبۂ دل کا حج کون ادا کرتا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ خود ذاتِ خداوندی۔ یعنی جب بندہ نفس کا پردہ دور کر دیتا ہے اورعبدا و رمعبود کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا تو وہ صفاتِ الٰہی سے متصف ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں ذاتِ الٰہی کی سمائی ہو جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا بندے کے دل میں سمانا ہی کعبۂ دل کا حج (حجِ حقیقی) ہے۔
حضرت عمر نے پھر سوال کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام جب سب کچھ اسی ذاتِ مقدس کا ظہور ہے تو پھر یہ راہنمائی کس کو اور کیونکر ہے؟ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ وہ خود ہی راہنما ہے اور خود اپنی ہی راہنمائی کرتا ہے۔
حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام پھر یہ گوناں گوں نقش و نگار کیوں ہیں؟ پیغمبرِ خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ راہنمائی کی مثال سوداگری کی سی ہے کہ جس چیز کا کوئی گاہک ہو سوداگر اس کو وہی چیز دیتا ہے۔ گیہوں کے خریدار کو جو ہرگز نہیں دیئے جاتے اور نہ ہی جو کے خریدار کو گیہوں دیئے جاتے ہیں۔
اے عمرؓ! پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے اطبا۔ یعنی جس طرح طبیب مریض کی طبیعت اور مرض کے موافق دوا دیتا ہے اور اسی موافق طبع دوا کے اس مریض کو شفا حاصل ہوتی ہے اسی طرح پیغمبر بھی روحانی ایمانداروں کو ان کی باطنی استعداد اور روحانی مرض کے موافق دوائے معرفت عطا فرماتے ہیں جس کی بدولت مریض روحانی شفائے کلی پا کر عارفِ الٰہی بن جاتا ہے۔(اسرارِ حقیقی)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ ’’حاجی‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں:
* حاجی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک حاجی صاحبِ کرم اہلِ باطن اور دوسرے حاجی حرم اہلِ بطن۔ جب حاجی صاحب کرم ولی اللہ پورے اعتقاد کے ساتھ حرمِ کعبہ میں داخل ہوتا ہے تو حرمِ کعبہ اس پر قربِ حضور کی تجلی کرتا ہے اور جب حاجی خانہ کعبہ میں داخل ہو کر طواف کرتا ہے تو مشرفِ دیدار پر وردِگار ہو جاتا ہے جو حاجی باطنی خانہ کعبہ میں داخل ہو جاتا ہے اور طلبِ دنیا سے ہزار بار استغفار کرتا ہے‘دیدار کیے بغیر وہ ہرگز خانہ کعبہ سے باہر نہیں آتا لیکن اہلِ بطن حاجی ہر وقت غمِ روزگار میں مبتلا رہتا ہے۔ ولی اللہ حاجی جب میدانِ عرفات میں داخل ہو کر: لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ کہہ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان سے تمام حجابات اٹھ جاتے ہیں۔ جب ایسا حاجی حرمِ مدینہ میں داخل ہو کر روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حاضر ہوتا ہے تو بے شک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قبرا ور روضہ مبارک سے باہر آکر اس کی دستگیری فرماتے ہیں، اُسے مناصب اور مراتبِ فقر کے افتخار سے سرفراز اور ممتاز فرماتے ہیں، اُسے تلقین اور تعلیم سے آراستہ کر کے رخصت فرماتے ہیں۔ اس قسم کا حاجی فرمانبردار ہو کر دنیا سے تارک و فارغ ہو جاتا ہے اور پھر دنیا مردار کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ باطن میں مست اور ظاہر میں ہوشیار ہوتا ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ (امیر الکونین)
شیخ محمد بن فضل ؒ فرماتے ہیں:’’مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے گھر یعنی خانہ کعبہ میں جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ اپنے دل میں مشاہدۂ حق کی تلاش نہیں کرتے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ظاہری گھر خانہ کعبہ کبھی موجود ہوتا ہے اور کبھی موجود نہیں ہوتا یعنی اسے منہدم کر دیا جاتا ہے لیکن دل میں تو مشاہدۂ حق ہوتا رہتا ہے۔ اگر خانہ کعبہ کی زیارت کرنا فرض ہے کہ اس پر سال میں ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص نظرِ رحمت فرماتا ہے جبکہ دل پر اللہ تعالیٰ روزانہ تین سو ساٹھ مرتبہ نظرِ رحمت ڈالتا ہے اس لیے انسان کا دل خانہ کعبہ سے کئی گنا زیادہ زیارت کے قابل ہے۔اہلِ تحقیق کے لیے مکے کے ہر راستے میں ہر قدم پر قدرت کا ایک نشان ظاہر ہوتا ہے اور انسان جب حرم کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو ہر قدم کے عوض میں ایک خلعت حاصل کر لیتا ہے۔ ‘‘(کشف المحجوب)
حضرت بایزید بسطامی ؒ فرماتے ہیں:
ترجمہ: ’’ جب میں پہلی مرتبہ حج کے لیے گیا تو مجھے خانہ کعبہ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا، جب میں دوسری مرتبہ حج کے لیے گیا تو مجھے خانہ کعبہ کے ہمراہ اس کا مالک بھی نظر آیا،جب میں تیسری مرتبہ حج کے لیے گیا تو مجھے صرف خانہ کعبہ کا مالک ہی نظر آیا،خانہ کعبہ نظر نہیں آیا۔‘‘ (کشف المحجوب)
مختصر یہ کہ انسان کی زندگی کا واحد مقصد صرف اورصرف دیدارِ الٰہی اور رضائے الٰہی کے لیے صدا کوشش کرتے رہنا ہے ،ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اورمرشد کامل اکمل کی رہنمائی کے بغیر کوئی بھی اس مقصد کو نہیں پا سکتا ۔
اسمِ اللہ کی شان یہ ہے کہ اگر کوئی تمام عمر روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، تلاوتِ قرآنِ پاک اور دیگر عبادات میں مصروف رہے یا عالم و معلم بن کر اہلِ فضیلت میں سے ہو جائے مگراسمِ اللہ اور اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بے خبر رہے اور ان اسما مبارک کا ذکر نہ کرے تو اس کی زندگی بھر کی عبادت ضائع اور برباد ہو گئی اور اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ (عین الفقر)
(ایسے ہی لوگوں کے متعلق) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
’’لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ‘‘

ترجمہ:’’جیسے پیدا ہوئے ویسے ہی مر گئے اور جیسے مرے ویسے ہی دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

استفادہ:عین الفقر،شمس الفقرا، حقیقت ِ نماز، حقیقت ِ روزہ، حقیقت ِ زکوۃ، حقیقت ِ حج، کیمیائے سعادت، مکاشفتہ القلوب، کشف المحجوب، عوارف المعارف اور کلید التوحید کلاں، امیر الکونین، نورالہدیٰ کلاں، عین الفقر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں