Alif 224

الف-Alif

الف

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس صاحبِ مسمّٰی سروری قادری مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ کی تمام جامع صفات کا مجموعہ ہیں۔سروری قادری مرشد کے تمام تصرفات اور اختیارات آپ مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات میں جمع ہیں جن کا مشاہدہ آپ کا ہر وہ طالب مرید اپنے باطن میں کرتا ہے جس کا قلب آپ مدظلہ الاقدس کی مہربانی اور نگاہِ فیض سے زندہ ہو کر عالمِ لاھوت تک پرواز کرنے کے لائق ہو چکا ہے۔ البتہ جو طالب ابھی مقامِ ناسوت یعنی اس ظاہری دنیا میں ہی قید ہے وہ آپ مدظلہ الاقدس کی حقیقت سے بے خبر رہتا ہے اور آپ مدظلہ الاقدس کو ایک عام بشر ہی سمجھتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ترتیب بھی یہی ہے کہ جو طالب جس مقام پر ہوتا ہے آپ اس سے اسی کے مقام کے مطابق گفتگو فرماتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے ہر طالب کی ہر ظاہری و باطنی حالت سے مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں کہ یہی سروری قادری مرشد جامع نور الہدیٰ کا کمال ہے کہ اس کا کوئی طالب کسی بھی لمحہ اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتا خواہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہو۔جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* مرشد کامل وہ ہے جو طالب کے ہر حال‘ ہر قول‘ ہر فعل‘ حالتِ معرفت و قرب و وصال اور ہر حالت خطرات و دلیل ا و روہم و خیال سے باخبر رہے۔ مرشد کو اس قدر ہوشیار ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت طالب کی گردن پر سوار رہے اور اس کی ہر بات اور ہر دم نگہبانی کرتا رہے۔ مرشد اس قدر باطن آباد ہو کہ طالب اسے حاضرات اسم اللہ ذات کی مدد سے ظاہر و باطن میں ہر وقت حاضر ناظر سمجھے اور اس سے کامل اعتقاد رکھے۔ ہر عام و خاص مرشدی کا اہل نہیں ہوتا۔ مرشد تو پارس پتھر کی مثل ہوتا ہے جسے چھو کر لوہا سونا بن جاتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
آپ مدظلہ الاقدس اپنے تصرف‘ اختیار اور نگاہ کے کمال سے مرید طالب کے نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کر کے اسے آئینے کی مانند شفاف بنا دیتے ہیں۔ بطور طبیب اسے اس کی تمام باطنی بیماریوں حسد‘ تکبر‘ لالچ‘ ہوس‘ کینہ‘ عجب یا خود پسندی‘ بہتان وغیرہ سے مکمل طور پر نجات دلا کر اسے تمام خصائص رزیلہ سے بالکل پاک فرما دیتے ہیں اور پھر اس کے نفس کو امارہ سے لوامہ اور لوامہ سے ملہمہ کے درجے تک پہنچاتے ہوئے اسے تمام اوصافِ حمیدہ سچائی‘ خلوص‘ نیک نیتی‘ اللہ کی بے غرض محبت‘ صبر‘ استقامت‘ عاجزی‘ تسلیم و رضا‘ شکر سے مزین و آراستہ کر دیتے ہیں۔ طالب کی پرانی شخصیت کو اپنی صحبت و قرب کے فیض سے یکسر تبدیل کر کے اسے ایسی باکمال‘ خوش اخلاق‘ نور ایمان سے بھرپور شخصیت عطا کر دیتے ہیں کہ طالب خو دبھی اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتا۔ طالب کو ظلمت و جاہلیت سے نکال کر نورِ معرفت عطا کرتے ہیں جس کی روشنی میں وہ اپنے نفس کو پہچان کر اپنے اندر اپنے رب کی پہچان حاصل کرتا ہے۔ جیساکہ حدیث قدسی میں فرمایا گیا :
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ۔
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے ربّ کو پہچانا۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں