Kaleed-ul-Tauheed Kalan

کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan – Urdu Translation


5/5 - (1 vote)

کلید التوحید (کلاں)  ( Kaleed ul Tauheed -Kalan) 

قسط نمبر11

ابیات:

طالبان را ہر مطالب خوش نما
اعتقاد صدق خواں و ز دل صفا

ترجمہ: طالبانِ مولیٰ اگر اعتقاد، صدق اور دل کی پاکیزگی سے اس کتاب کو پڑھیں تو وہ ہر مقصود باآسانی پا لیتے ہیں۔

درمیان یک ہفتہ دولت بیشمار
ہر مطالب می شود از کردگار

ترجمہ: وہ ایک ہی ہفتہ میں بے شمار روحانی دولت پاتے ہیں اور ان کا ہر مطلب حق تعالیٰ سے حاصل ہوتا ہے۔

دولت دنیا و عقبیٰ شد تمام
زیر زبرش گشت واضح ہر دوام

ترجمہ: دنیا و عقبیٰ کی ہر دولت انہیں حاصل ہو جاتی ہے اور ہر لمحہ زیر و زبر کی ہر شے کی حقیقت ان پر واضح ہوتی ہے۔

ہر کہ خواہد معرفت فیضش فضل
درمیان یک ہفتہ آید در عمل

ترجمہ: جو اللہ کی معرفت اور اس کا فیض و فضل چاہتا ہو وہ اسے (مرشد کامل سے) ایک ہفتہ میں حاصل کر سکتا ہے۔

علم اکسیر و بہ تکثیر کہ ہست
ہر مؤکل می نماید پیش دست

ترجمہ: مرشد کامل علمِ اکسیر اور تکثیر طالب کو عطا کرتا ہے اور ہر مؤکل کو اس کے تصرف میں دکھاتا ہے۔

ہر بدرجہ میرساند اسم ذات
علم را تحقیق کن از حاضرات

ترجمہ: اسمِ اللہ ذات ہی ہر درجہ تک پہنچاتا ہے اس لیے علم کو اسمِ اللہ  ذات کے حاضرات سے تحقیق کر۔

اسم اللہ بس ترا بہر از غنا
اسم اللہ حاضر آرد مصطفیؐ

ترجمہ: اگر تو غنایت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسمِ اللہ  ذات تیرے لیے کافی ہے کہ یہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حضوری میں پہنچاتا ہے۔

ہر مطالب طلب کن تو از نبیؐ
تا شوی صاحبِ ولایت ہم غنی

ترجمہ: اپنی ہر مراد توُ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے طلب کر تاکہ تو صاحب ِ ولایت اور غنی ہو جائے۔

ہر کرا باور نباشد مصطفیؐ
لعنتی بروی بگو شد روسیاہ

ترجمہ: جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتقاد و یقین نہیں رکھتا وہ روسیاہ ہو جاتا ہے اس پر لعنت بھیج۔

رحمتہ للعالمینی یا رسولؐ
از نظرش مصطفیؐ وحدت وصول

ترجمہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپؐ رحمتہ للعالمین ہیں آپؐ کی نظر سے ہی وحدت حاصل ہوتی ہے۔

بہر دنیا غم مخور خر خوار تر
و از سیم و زر بہتر بود نبویؐ نظر

ترجمہ: تو دنیا کی خاطر غمزدہ نہ ہو یہ گدھے سے بھی زیادہ خوار کرتی ہے۔ مال و دولت سے بہتر تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ ہے۔

نظر باھوؒ بر نظر نظرش نبیؐ
ہر کرا باور نہ اہل از شقی

ترجمہ: باھوؒ کی نظر کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ کی توجہ حاصل ہے جسے اس بات کا یقین نہیں وہ بدبخت ہے۔

بر محمدؐ جان فدا کن ہر چہ ہست
محرمِ اسرار گردد با الست

ترجمہ: تو اپنی جان اور جو کچھ بھی تیرے پاس ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر قربان کر دے تاکہ تو روزِ الست کے اسرار سے واقف ہو جائے۔

زاں کنہ کن آوازِ وحدت راز شد
قدس بر عنقا بجان شہباز شد

ترجمہ: وحدت میں (پہنچ کر) کن کی آواز کا یہ راز کھلا کہ عنقا (پرندہ) کو جب بزرگی حاصل ہوتی ہے تو وہ شہباز بن جاتا ہے۔

مگس را قدرت نباشد بال و پر
شہباز را از عرش بالا تر نظر

ترجمہ: شہباز کی نگاہ عرش سے بھی بلند ہوتی ہے جبکہ مکھی کو یہ قدرت اور طاقت حاصل نہیں۔

جثہ اینجا است جانم در حضور
با ذکر مذکور وحدت غرق نور

ترجمہ: میرا وجود اِس جہان میں جبکہ میری روح حضورِ حق میں ہے اور میں ذکرِ الٰہی کی بدولت نورِ وحدت میں غرق ہو چکا ہوں۔

می بداند آنکہ جان بجانان رسد
عام را قدرت نباشد دم زند

ترجمہ: اس حقیقت کو وہی جانتے ہیں جن کی جان محبوب تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ عام لوگوں کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ اس مرتبہ تک پہنچ سکیں۔

ہر کرا اینجا و آنجا یک نظر
از خضرؑ بہتر بود باطن خضرؑ

ترجمہ: جو دونوں جہان کو ایک نگاہ میں دیکھ سکتا ہو وہ باطنی رہنما کے طور پر خضر ؑ سے بھی بہتر ہوتا ہے۔

باھوؒ خضر امتِ مصطفیؐ فی اللہ فنا
دست بیعت کرد نبوی مصطفیؐ

ترجمہ: باھوؒ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کا خضر ہے جو فنا فی اللہ کے مرتبہ پر ہے اور جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود دستِ بیعت فرمایا۔

پس خلافِ نفس کیا ہے؟ ذکرِ موت۔ ذکر ِ موت کیا ہے؟ مراتبِ موت کو زندگی میں پانا۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا۔ یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا لا ق ط لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا۔ ذَالِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ ج   (سورۃ النبا37-39)
ترجمہ: (قیامت کے روز) کسی کو بات کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔ اس دن تمام ارواح اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے اور کوئی بھی کلام نہ کر سکے گا سوائے اس شخص کے جس کو رحمن نے اجازت دی ہو گی اور جس نے درست بات کہی ہوگی۔ یہ روزِ حق ہے۔

اے غافل خبردار ہو جا! فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ وَ تُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْھِمْ وَ تَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔ (سورۃ یٰسین۔65)
ترجمہ: اس دن ہم ان کے منہ پر (چپ کی) مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔

ابیات:

رخت بردار زیں سرائے کہ ہست
کلبۂ کاندرون نخواہی ماند

ترجمہ: اپنا سامان تیار رکھ کہ یہ دنیا سرائے کی مثل ہے جس میں تجھے ہمیشہ نہیں رہنا۔

بام سوراخ ابر طوفان بار
سال عمرت چہ دہ چہ صد ہزار

ترجمہ: چھت میں سوراخ ہے اور بادل طوفان کی خبر دے رہا ہے اب چاہے تیری عمر دس سال ہو یا سو ہزار سال ہو (ہر شے نے فنا ہونا ہی ہے)۔
جوابِ مصنف:

گہ نہ میرد آں کہ وحدت یافتہ
خویش را در غرق وحدت ساختہ

ترجمہ: جو وحدت کو پا لیتے ہیں وہ کبھی نہیں مرتے اس لیے تو بھی خود کو وحدت میں غرق کر۔

باھوؒ شد در دریائے فی اللہ غرق نور
نیست مرگ آنرا کہ باشد حق حضور

ترجمہ: باھوؒ نورِ الٰہی کے سمندر میں غرق ہے لہٰذا اس کے لیے موت نہیں جو حضورِ حق میں رہتا ہو۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُوْنَ بَلْ یَنْتَقِلُوْنَ مِنَ الدَّارِ اِلَی الدَّارِ 
ترجمہ: بیشک اولیا اللہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوتے ہیں۔
پس جن اولیا اللہ کی قبور سے جواب نہیں آتا اور نہ وہ ہمکلامی کرتے ہیں تو ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقلی اور ان کی زندگی کیسے معلوم ہو سکتی ہے؟ وہ اس لیے کہ وہ دلہن کی نیند سوئے ہوئے ہیں انہیں شہسوارِ قبر ضرب کے زور سے نیند سے جگا سکتے اور ان سے ہم کلام ہو سکتے ہیں۔ ابیات:

اولیا غالب شود بر اولیا
با توفیقش قوتے از مصطفیؐ

ترجمہ: ایک ولی دوسرے ولی پر تب ہی غالب ہو سکتا ہے جب اسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توفیق سے قوت حاصل ہو۔

باسخن گردد روحانی را ز روح
ذکر طوفان در وجودش ہمچو نوحؑ

ترجمہ: وہ ولی (قبر میں) روح سے ہم کلام ہوتا ہے۔ ذکر اس کے وجود میں طوفانِ نوح ؑ کی مثل جوش پیدا کرتا ہے۔

ناقصاں زیں بے خبر عبرت برند
لامکانی آنچہ دانند می زنند

ترجمہ: ناقص اس راز سے بے خبر ہیں اور اس بات سے عبرت حاصل کرتے ہیں کہ لامکان کے رہنے والے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔

ایں شرح قصہ شود حاضر رسولؐ
کے خورد رجعت کہ باشد حق وصول

ترجمہ: اس واقعہ کی شرح مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے معلوم ہو جاتی ہے کہ جسے حق سے وصال نصیب ہو جائے اسے رجعت کیسے ہو سکتی ہے! 

قبر گنج و ہم بہ رنج و ہم کرم
شہسوارِ قبر را ہرگز نہ غم

ترجمہ: قبر سے خزانہ یا رنج یا کرم حاصل ہوتا ہے لیکن شہسوارِ قبر کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

ہر مطالب طلب کن تو از قبر
قبر خلوت خانۂ اہل الخبر

ترجمہ: تو اپنی ہر مراد و مقصود اولیا اللہ کی قبر سے حاصل کر کیونکہ قبر اہلِ خبر کی خلوت گاہ ہوتی ہے۔

در قبر شیر است ترسند ناقصاں
شہسوارِ شیر آں عارف جہان

ترجمہ: اولیا اللہ اپنی قبر میں شیر کی مثل ہوتے ہیں جن سے ناقص خوفزدہ رہتے ہیں۔ اس شیر کا شہسوار عارفِ جہان ہوتا ہے۔

ہر مشکل می کشاید از قبر
از قبر روشن شود زیر و زبر

ترجمہ: اولیا کی قبر (پر دعوت پڑھنے) سے ہر مشکل حل ہو جاتی ہے اور ان کی مدد سے ہی ہر شے کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔

باھوؒ ایں عمل دعوت بود اہل قبور
روزِ اوّل شد مشرف حق حضور

ترجمہ: اے باھوؒ اہلِ قبور پر دعوت پڑھنے سے پہلے ہی روز حضورِ حق حاصل ہو جاتا ہے۔

جان لو کہ ترک و توکل، ذکر ِ وصال اور رجعت و زوال سے پاک دعوت میں کاملیت اور ہر مقام کی ابتدا و انتہا اسمِ  اللہ  ذات کے حاضرات اور کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  سے پلک جھپکنے میں حاصل ہو جاتے ہیں۔ یہ سبق روزِ اوّل ہی مرشد کامل سروری قادری سے حاصل ہوتے ہیں جسے قادری ہونے کی بنا پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ جو قادری طالب کسی دوسرے طریقے کی طرف رجوع کرتا ہے وہ گناہگار، گمراہ اور بے برکت ہو جاتا ہے اور اس کا ہر مرتبہ سلب ہو جاتا ہے۔
بیت:

عزیزی کہ از درگہش سر بتافت
بہر در کہ شد ہیچ عزت نہ یافت

ترجمہ: اے عزیز! جو قادری مرشد کی بارگاہ سے منہ پھیر لے پھر وہ کسی بھی در سے عزت نہیں پاتا۔
طریقہ قادری کے مطابق دیگر تمام طریقے خام ہیں۔ قادری طریقہ مکمل و جامع ہے۔ کامل کو کیا ضرورت کہ خام کی طرف رجوع کرے۔ 

بیت: 

در خیالے ہر چہ باشی عین آنی آن زمان
زر چو در آتش افتد دریک دمی اخگر شود

ترجمہ: تو جس بھی خیال میں گم رہے گا اسی وقت وہی بن جائے گا کیونکہ سونا جیسے ہی آگ میں ڈالا جاتا ہے اسی لمحے انگارہ بن جاتا ہے۔
جوابِ مصنف:

چوں شدم در غرق فی اللہ جز خدا دیگر نماند
از دہانم حق برآید جز خدا دیگر نخواند

ترجمہ: جب میں اللہ کی ذات میں فنا ہوا تو اللہ کی ذات کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا۔ میرے منہ سے حق کی بات ہی ادا ہوتی ہے اور میں حق کی بات کے سوا کچھ اور نہیں پڑھتا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
کُلُّ اِنَآئٍ یَتَرَشَّحُ بِمَا فِیْہِ 
ترجمہ: برتن سے وہی چیز برآمد ہوتی ہے جو اس کے اندر ہو۔

ابیات:

ای سرخ ز بیرون و سیہ کار بدل
اقرار بلب داری و انکار بدل

ترجمہ: اے منافق! تو ظاہری طور پر اچھا ہے لیکن درپردہ نہایت سیاہ کار ہے۔ تیرے ہونٹوں پر تو اقرار ہوتا ہے جبکہ دل سے تو اس کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔

دین ز تو دو رویہ شد مانند قلم
مصحف بزبان داری و زنار بدل

ترجمہ: تیرے اس رویے نے دین کو قلم کی مانند دوہری صفت والا بنا دیا ہے تیری زبان پر تو آیات ہوتی ہیں جبکہ دل میں زنار ہیں۔

روسیاہی بہتر است از دل سیاہ
دل سیاہی حبِّ دنیا سر گناہ

ترجمہ: دل کی سیاہی سے چہرے کی سیاہی بہتر ہے۔ دل کی سیاہی دنیا کی محبت کی بنا پر ہوتی ہے جو سراسر گناہ ہے۔

بر زبان تفسیر از دل بے خبر
ایں مراتب از نفاق است سر بسر

ترجمہ: تیری زبان پر تو تفسیر ہوتی ہے جبکہ تیرا دل اس سے غافل ہوتا ہے۔ یہ مراتب سراسر نفاق کی وجہ سے ہیں۔ 

صادقان را شد بہ تصدیق قلب
تصدیق باخلاص از مرشد طلب

ترجمہ: صادقین کے لیے تصدیقِ قلب ضروری ہے۔ اس لیے اخلاص کے ساتھ مرشد سے تصدیق طلب کر۔

ہر کرا مرشد نہ از سر ہوا
کے شود بے پیر و مرشد دل صفا

ترجمہ: جس کا مرشد نہ ہو وہ خواہشاتِ نفس کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پیر و مرشد کے بغیر دل کیسے صاف ہو سکتا ہے؟

ہر کہ جاہل قلب عالم بر زبان
ایں مراتب را کند نبویؐ بیان

ترجمہ: جو دل سے جاہل ہو وہ محض زبان کا عالم ہوتا ہے اس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے واضح طور پر فرما دیا ہے۔
اِتَّقُوْا اَلْعَالِمَ الْجَاہِلَ قِیْلَ مَنِ الْعَالِمَ الْجَاہِلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ عَالِمَ اللِّسَانِ وَجَاہِلَ الْقَلْبِ 
ترجمہ: جاہل عالم سے ڈرو۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! جاہل عالم سے کیا مراد ہے؟ فرمایا جو زبان کا عالم ہو مگر دل سے جاہل ہو۔

(جاری ہے)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں