تجرد اور نکاح میں پوشیدہ حکمتیں | Tajarrud or Nikkah main Poshida Hikmatain

تجرد اور نکاح میں پوشیدہ حکمتیں

مراسلہ: ڈاکٹر عبدالحسیب سرفراز۔(لاہور)

اہل ِطریقت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سالکانِ حق میں مفرد اور تنہا لوگ افضل ہیں۔ بشرطیکہ ان کے دلوں میں خرابی نہ ہو اور وہ ارتکابِ معاصی اور حصولِ خواہشاتِ نفسانی سے روگردان ہوں۔ عام لوگ خواہشاتِ نفسانی کے لیے اس حدیثِ مبارکہ کا سہارا لیتے ہیں:
حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ ثَلَاثٌ اَلطَّیِبُ وَ النِّسَآئُ وَ جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ  (مسند احمد)
ترجمہ: تمہاری دنیا میں سے تین چیزیں مجھے محبوب ہیں خوشبو، عورت اور آنکھ کی ٹھنڈک نماز۔
چونکہ عورت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو محبوب تھی اس لیے نکاح کرنا افضل ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
لِیْ حِرْفَتَانِ اَلْفَقْرُ وَ الْجِھَادُ  (احیاء العلوم)
ترجمہ: میرے دو کام ہیں فقر اور جہاد۔
ان چیزوں سے کیوں دور رہتے ہو؟ اگر عورت محبوب تھی تو یہ کام بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو محبوب تھے۔ محض اپنی نفسانی رغبت کو محبوبِ پیغمبرؐ کہنا غلط ہے۔ کوئی آدمی پچاس برس تک ہوا و ہوس میں مبتلا ہو کر یہ کہے کہ وہ متابعِ سنت ہے تو وہ سخت غلطی کا مرتکب ہے۔

الغرض پہلا فتنہ جو دنیا میں ظہور پذیر ہوا وہ عورت کی وجہ سے تھا یعنی فتنہ ہابیل و قابیل۔ اسی طرح جب حق تعالیٰ کو منظور ہوا کہ دو فرشتوں کو مبتلائے عذاب کرے تو اس کا سبب بھی عورت ہی کو بنایا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنِ النِّسَآئِ  (صحیح بخاری و مسلم)
ترجمہ: میں نے اپنے پیچھے مردوں کے لیے عورت سے بڑھ کو کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔
جو ظاہر میں فتنہ ہے وہ حقیقت میں کیا ہوگا؟
میں (علی بن عثمان جلابی) گیارہ برس تک اس فتنہ سے محفوظ رہا۔ مگر بالآخر قضائے الٰہی اس فتنہ کا شکار ہوا۔ میرا دل بن دیکھے ایک پری صفت عورت کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو گیا اور میں پورا ایک سال اس آفت میں مبتلا رہا۔ قریب تھا کہ میرا دین برباد ہو جاتا مگر حق تعالیٰ نے کمال فضل و کرم سے مجھے ہلاکت سے بچانے کا سامان مہیا فرمایا اور اپنی رحمت سے مجھے نجات عطا فرمائی۔ حق تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کا شکر ہے۔

المختصر طریقت کی بنیاد تجرد پر ہے۔ نکاح کے بعد حالت بدل جاتی ہے۔ شہواتِ نفسانی کی آگ ایسی نہیں کہ کسی کی کوشش سے فرو کی جا سکے کیونکہ خود پیدا کردہ مصیبت کا علاج آدمی خود ہی کر سکتا ہے کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ یاد رکھو! خواہشِ نفس کا ازالہ ہر دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک تو انسان کی اپنی کوشش اور تکلیف ہے۔ دوسری صورت اس کے کسب اور مجاہدہ کے دائرہ امکان سے باہر ہے۔ تکلیف کے تحت فاقہ کشی ہے اور جو انسانی کوشش اور تکلیف سے باہر ہے وہ بیقرار رکھنے والا خوف ہے۔ یا سچی محبت ہے جو ہمت اور ارادے پر رفتہ رفتہ اثر انداز ہو کر بالآخر دل کی تسکین کا باعث ہوتی ہے۔ محبت آہستہ آہستہ تمام اعضائے انسانی پر اپنی حکومت قائم کر لیتی ہے اور تمام حواس کو معزول کر کے انسان کو معقولیت کے مقام پر فائز کر دیتی ہے اور اس کو جملہ ہزلیات (شوخیاں، مزاق) سے پاک کر دیتی ہے۔ 

احمد حمادی سرخسی رحمتہ اللہ علیہ مارواء النہر میں مقیم تھے تو لوگوں نے دریافت کیا ’’آپ شادی کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ کہا نہیں۔ پوچھا کیوں؟ تو کہا ’’میں یا اپنے آپ سے غائب ہوتا ہوں یا حاضر۔ جب غائب ہوتا ہوں تو مجھے ہر دو جہان کی کوئی چیز یاد نہیں ہوتی۔ جب حاضر ہوتا ہوں تو نفس کو اس منہاج پر رکھتا ہوں کہ اگر ایک روٹی مل جائے تو ہزار حور کے برابر ہوتی ہے۔ دل کی مشغولیت کارِ عظیم ہے۔ جس طرح بھی حاصل ہو سکے۔‘‘

ایک دوسری جماعت یہ سمجھتی ہے کہ نکاح و تجرد میں ہمارا کوئی دخل نہیں۔ دیکھنا چاہیے کہ تقدیر ِالٰہی کے مطابق پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ اگر مجرد رہنا مقدر ہے تو پاک رہنے کی کوشش لازم ہے۔ اگر نکاح مقدر ہے تو اتباعِ سنت ضروری ہے اور دل کو غفلت سے بچانا ضروری ہے۔ اگر تائید ِربانی شاملِ حال ہو تو مجرد رہ کر بھی آدمی محفوظ رہتا ہے مثلا حضرت یوسف علیہ السلام زلیخا کے ابتلا میں محفوظ رہے۔ جب زلیخا خلوت میں ملی تو آپ مراد حاصل کرنے پر قادر تھے مگر روگردانی فرمائی۔ مراد سے بے مراد رہ کر خواہشِ نفس کو مغلوب کرنے اور اپنے عیوب پر نظر رکھنے میں مشغول رہے۔ اسی طرح اگر نکاح میں بھی تائید ِربانی حاصل ہو تو وہ نکاح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ہوگا۔ ان کو حق تعالیٰ پر مکمل اعتماد تھا۔ انہوں نے گھریلو زندگی کو اپنا واحد مشغلہ نہیں بنایا۔ جب حضرت سارہ کے دل میں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے غیرت کا اظہار کیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت حاجرہ کو لے گئے اور مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئے۔ حق تعالیٰ نے جیسے چاہا ان کی پرورش فرمائی۔

القصہ آدمی کی ہلاکت نہ نکاح کرنے میں ہے اور نہ مجرد رہنے میں۔ ہلاکت دراصل اپنے اختیار کو بروئے کار لانے اور خواہشاتِ نفسانی کی متابعت کرنے میں ہے۔ عیالدار کے لیے شرطِ ادب یہ ہے کہ اس کے روزمرہ کے اوراد و وظائف قضا نہ ہوں، احوال ضائع نہ ہوں، اوقات برباد نہ ہوں۔ اہلِ خانہ سے شفقت سے پیش آئے۔ طیب کمائی سے روزی مہیا کرے، ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ظالم فرمانرواؤں کی رواداری نہ کرے تاکہ اس کی اولاد بھی اسی قماش کی پیدا نہ ہو۔

کہتے ہیں کہ احمد بن حرب نیشاپوری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک روز نیشاپور کے رؤسا اور سردار سلام کے لیے حاضرِخدمت تھے۔ آپ ان کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں آپ کا بیٹا شراب میں بدمست جھومتا ہوا آیا اور گاتا ہوا لاپروائی کے عالم میں پاس سے گزر گیا۔ سب کو رنج ہوا۔ احمد بن حربؒ نے پوچھا آپ لوگوں کا حال کیوں متغیر ہو گیا؟ سب نے جواب دیا کہ ہمیں اس لڑکے کے حال پر بے حد افسوس ہوا۔ اس نے آپ کا بھی کچھ خیال نہ کیا۔ فرمایا ’’وہ معذور ہے۔ ایک رات ہمارے گھر میں ہمسایہ کے گھر سے کھانا آیا تھا۔ میں نے اور میری بیوی نے کھایا۔ اسی رات اس لڑکے کا نطفہ قرار پایا۔ ہم پر نیند نے غلبہ کیا اور ہمارے تمام اوراد و وظائف قضا ہو گئے۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے جستجو کی اور اس ہمسایہ کے پاس گئے اور پوچھا جو کھانا ہمیں بھیجا تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟ معلوم ہوا کہ شادی کی ایک تقریب سے آیا تھا۔ ہم نے مزید تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ وہ کھانا بادشاہ کے گھر سے آیا تھا۔‘‘

آدابِ تجرد میں یہ شامل ہے کہ آنکھ ناشائستہ چیزوں پر نہ ڈالے، ناقابلِ شنید چیزوں کو نہ سنے۔ ایسی چیزوں کے متعلق نہ سوچے جو سوچنے کے لائق نہ ہوں۔ نفسانی خواہش کی آگ کو بھوک سے فرو کرے۔ دل کو دنیا اور دنیا کی دلچسپیوں سے بچائے۔ اپنی خواہش ِنفس کو علم اور الہام نہ کہے۔ شیطانی شعبدوں کی تاویل نہ کرے۔ یہی مقبولِ طریقت ہونے کا راستہ ہے۔ یہ صحبت و معاملہ کے آداب ہیں جو مختصراً بیان ہوئے۔ (اقتباس از کشف المحجوب)

 
 

15 تبصرے “تجرد اور نکاح میں پوشیدہ حکمتیں | Tajarrud or Nikkah main Poshida Hikmatain

  1. آدمی کی ہلاکت نہ نکاح کرنے میں ہے اور نہ مجرد رہنے میں۔ ہلاکت دراصل اپنے اختیار کو بروئے کار لانے اور خواہشاتِ نفسانی کی متابعت کرنے میں ہے۔

  2. ہر مقام کی حقیقت مرشد کامل اکمل کی مہربانی سمجھ آتی ہے لہذا نفس کے بے لگام گھوڑے کی لگام مرشد کامل اکمل کے ہاتھ میں تھما دینا کامیابی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں