صبرو شکر | Sabr o Shukar

صبرو شکر

تحریر: مسز عظمیٰ شکیل۔ اوکاڑا

صبر

صبر سے مراد برداشت سے کام لیناہے۔ صبر کے تین حروف ہیں ص، ب، ر۔ ’ص‘ سے صالح، ’ب‘ سے برداشت اور ’ر‘ سے رضائے الٰہی۔ پس صبر سے مراد ہے کہ رضائے الٰہی کی خاطر ہر تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے نیک اور صالح عمل کرنا۔
صبر بظاہر تو بہت چھوٹا سا حرف ہے مگر اس کے پیچھے پہاڑ جیسے بلند حوصلے کے ساتھ کسی بھی تکلیف کو برداشت کرنے کا جذبہ پنہاں ہے۔ صبر انبیا علیہم السلام کی سنت ہے۔ تمام انبیا نے اللہ تعالیٰ کا قرب صبر کی بدولت حاصل کیا ہے۔ مومنین کے لیے اس دنیا کو دکھوں کا گھر قرار دیا گیا ہے۔ طالبانِ مولیٰ اور طالبانِ عقبیٰ نے ازل سے خود پر دنیا کو حرام کر لیا ہے۔ جو شخص اللہ کی رضا میں راضی ہوگیا اس کے لیے اللہ نے بہتر ین انعام دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ انبیا، صحابہ اور اولیا سب نے اللہ کے عشق، اللہ کی طلب اور قربِ الٰہی کو بہترین انعام قرار دیا ہے اور اسی انعام کی بدولت اللہ نے انسان کو اٹھارہ ہزار مخلوقات میں سے اشرف ہونے کا شرف بخشا ہے۔ صبر کرنے والوں کے متعلق قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔(سورۃ البقرہ۔249)
ترجمہ: اور اللہ صابرین کے ساتھ ہے۔
حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’قیامت کے روز جب مصیبت زدہ لوگوں کو ان کے صبر کے سبب اجر و ثواب دیا جائے گا تو اس وقت دنیا میں آرام و سکون کی زندگی گزارنے والے تمنا کریں گے کاش! دنیا میں ان کی جلدیں قینچیوں سے کاٹ دی جاتیں۔‘‘

 حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
جو شخص مصیبت پر شکر کرتا ہے وہ ایسا خوش ہوتا ہے گویا اس کو کوئی مصیبت پیش نہیں آئی۔
صبر تمام کڑوے اور تلخ کاموں میں معاون اور مددگار ہے۔
جب کوئی شخص کسی مشکل وقت سے گز رہا ہو تو تو اسے چاہیے کہ بغیر شکوہ کیے اپنا رخ ربّ تعالیٰ کی جانب رکھے۔

سیدّنا غوث الاعظمؓ صبر کے متعلق فرماتے ہیں ’’صبر یہ ہے کہ بلا اور مصیبت کے وقت اللہ کے ساتھ حسنِ ادب رکھے اور اس کے فیصلوں کے آگے سرِ تسلیم خم کر دے۔‘‘

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس صبر کی تلقین کے ساتھ انعام کی نوید سناتے ہوئے فرماتے ہیں ’’صبر کرنا سیکھ لیں، اللہ سب جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے آپ کن دقتوں سے گزر رہے ہیں۔ یقین کریں وقت بد ل جائے گا کیونکہ تبدیلی کائنات کا اصول ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو بشارت دی ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو اسے کسی اور ساتھ کی بھلا کیا ضرورت؟ مگر وہ لوگ جو ناحق کسی کو ستاتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ وہ اللہ کے ساتھ سے محروم ہو چکے ہیں۔ ظالموں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا لِظَّالِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ (سورۃ البقرہ۔270) 
ترجمہ: اور ظالموں کے لیے کوئی مدد گار نہیں۔
انسان بظاہر ناتواں اور کمزور ہے مگر وہی انسان جب اپنی حقیقت کو سمجھ کر بلند حوصلے سے ہر تکلیف کو منجانب اللہ سمجھتا ہے اور پھر اس پر صبر کرتا ہے تو اسی کمزور انسان کا حوصلہ پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اللہ پاک انسان کو اگر کسی مشکل میں ڈالتا ہے تو خود ہی اس سے نکلنے کے راستے بھی بتا دیتا ہے کبھی دُعا کے ذریعے تو کبھی کسی مردِ کامل کی تلقین کی صورت میں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ (الاعراف۔126)
ترجمہ: اے ہمارے ربّ! ہم پر صبر کے سرچشمے کھول دے اور ہم کو (ثابت قدمی سے) مسلمان رہتے ہوئے (دنیا سے) اُٹھا لے۔
وَ تَوَاصَوْا  بِالصَّبْرِ  (سورۃ العصر۔3)
ترجمہ: اور باہم صبر کی تلقین کرتے رہیں۔
سورۃ العصر کی اس آیت پر غور کیا جائے یہاں تلقین کرنے کا بتایا گیا ہے۔ دین کی رو سے دیکھا جائے تو تلقین صرف وہی کر سکتا ہے جو صاحبِ عمل ہو یا یوں کہہ لیں کہ تلقین کرنے کا اختیار تو صاحبِ تلقین کو ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ صاحبِ تلقین کون ہے؟ 

تو سن اے عقل و فہم کے مالک! انبیا اور صحابہ کے بعد صاحبِ تلقین و ارشاد وہ مردِ کامل ہوتا ہے جو قدمِ محمدیؐ پر فائز ہو اور مخلوقِ خدا کو محض اللہ کے قرب اور مجلسِ محمدیؐ کی راہ دکھائے۔ جسے بھی عشقِ الٰہی نصیب ہوا یاجو بھی عشق کی راہ پر گامزن ہوا اسے پریشانیوں اور مصیبتوں کاسامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو اپنے قریب کرنے کے لیے کبھی انہیں عطا کرتا ہے تو کبھی آزمائشوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جو عاشق اپنے محبوب کی خوشنودی کے لیے تمام بلاؤں پر ادب و عشق کے ساتھ صبر کرتا ہے اس کے لیے اللہ نے اجرِعظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔

شکر

شکر سے مراد احسان مندی اور سپاس گزاری ہے۔ شکر کے بھی تین حروف ہیں ش، ک، ر۔ ’ش ‘سے شجاعت، ’ک‘ سے کاتبِ تقدیر اور ’ر‘ سے رضائے الٰہی۔ اس لفظ کی وضاحت کرنے کی غرض سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی شخص کا شجاعت کے ساتھ کاتبِ تقدیر یعنی اللہ کے ہر فیصلے اور نعمت پر باطنی اور ظاہری سپاس گزاری کا نام شکر ہے۔

شکر عموماً نعمتوں کے حصول پر کیا جاتا ہے۔ جواللہ کی عطا پر شکر کرتا ہے اللہ اس کو مزید نوازتا ہے۔ شکر مختلف انداز سے کیا جاتا ہے۔ انسان کے پاس جو بھی چیز ہے وہ ا س کے ربّ کی عطا ہے اس میں اسکا اپنا کوئی کمال نہیں ہے۔ شکر ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے کرنا چاہیے۔ شکر کرنے والے کو چاہیے کہ ہر اس نعمت کو مخلوقِ خدا میں تقسیم کر دے جو اسے اللہ کی جانب سے عطا ہوئی اور اس پر عاجزی اختیار کرے خواہ وہ نعمت عشق، حلم، اخلاقِ حسنہ یا مال کی صورت میں ہو۔ شکر کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (سورۃ ابراہیم۔7)
ترجمہ: اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا۔
جب کوئی شخص ظاہری اور باطنی طور پر بارگاہِ الٰہی میں اس کی عطا پر شکرگزار رہتا ہے تو اس کے بدلے اللہ اس کی نعمتوں میں برکت عطا فرما دیتا ہے۔
شکر کا لفظ جب بھی کہیں سنا، پڑھا یا لکھا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی نعمت کا لفظ جوڑ دیا جاتا ہے۔ نعمت کسے کہتے ہیں؟ ہر وہ چیز نعمت ہے جو قربِ الٰہی کا باعث بنے۔ قربِ الٰہی کا باعث تو صرف ایک ہی جذبہ ہے جسے عشق کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عشق اس کیفیت کا نام ہے جہاں سوچ اپنے محبوب کے گرد طواف کرے۔ عشق کا اصل حقدار کون ہے؟ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الااقدس فرماتے ہیں :ٔ
اللہ پاک کی ذات خود عشق ہے اور عشق صرف عشق سے کیا جاتاہے۔ جو یہ کہے کہ اُسے ماسویٰ اللہ کسی سے عشق ہے وہ جھوٹا ہے ملعون ہے۔(بحوالہ کتاب: سلطان العاشقین)
اس فرمانِ مبارک سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عشق صر ف اللہ کی ذات سے کرنا چاہیے۔ ہم شکرِ نعمت کی وضاحت کے لیے یہاں اس بات کا ذکر کرتے چلیں کہ عشق دل میں مسلسل تڑپ اور درد بھرے رہنے کا نام ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اصل نعمت تو عشق کی نعمت ہے اب درد پر شکر کیسے کیا جائے؟ تو سن اے راہِ حق کے مسافر! جس نے عشق جیسی نعمت پا لی وہ ہر دم اپنے ربّ کے سامنے عاجزی سے اسکا احسان مند رہتا ہے کہ اللہ نے بندے کو مردار دنیا کے پیچھے بھاگنے سے بچا کر اپنی طلب کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ صبر کے جذبے کو اگر شکر کے جذبے میں تبدیل کرنا ہو تو محض سوچ کا زاویہ بدلنا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص تکلیف میں مبتلا ہو اور وہ اس پر شکوہ نہ کرے تو یہ صبر کہلاتا ہے مگر جب وہی شخص یہ سمجھ لے کہ اللہ نے اسے اس تکلیف کے عوض اپنی یاد کی نعمت سے نواز دیا ہے تو وہ اسی مصیبت پر شکر کا جذبہ رکھے گا۔ شکر مصیبت پر نہیں بلکہ ان تمام عوامل پر کرنا چاہیے جن کی بدولت انسان اللہ کا قرب پالے۔ اب جو یہ چاہے کہ اس کی نعمت میں اضافہ اور برکتیں ہوں تو اُسے چاہیے کہ ہر دم شکر گزاری میں گزار دے۔
حدیثِ مبارکہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جسے شکر کرنے کی توفیق ملی وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ  یعنی اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا۔
درا صل انسان کو بصیرت تب ہی حاصل ہوتی ہے جب وہ ہر اس بات پر شکر کرے جس پر صبر کرنا بھی مشکل ہو۔شکر کے متعلق سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں ’’شکر کی حقیقت یہ ہے کہ عاجزی کرتے ہوئے اللہ عزّوجل کے احسان کو مانے اور سمجھ لے کہ وہ شکر ادا کرنے سے عاجزہے۔‘‘ (بہجتہ الاسرار)
شکر کی وضاحت کے لیے شیخ سعدیؒ کا ایک واقعہ درج کیا جا رہا ہے۔ شیخ سعدیؒ نے فرمایا ’’میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کو چیتے نے زخمی کر دیا تھا اور اس کا زخم ٹھیک نہ ہو رہا تھا۔ عرصہ دراز سے وہ اس تکلیف میں مبتلا تھا مگر پھر بھی وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کس بات کا شکر ادا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ مصیبت میں مبتلا ہوں گناہ میں نہیں۔‘‘

صبرو شکر میں درجہ کے لحاظ سے اعلیٰ کون؟

کسی تکلیف دہ چیز پر صبر اور عطا پر شکر کو کیفیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ایک جیسا درجہ رکھتے ہیں۔ درحقیقت مصائب تو نعمت کے ذریعے عطا کی دلیل ہوا کرتے ہیں۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے ہم سورۃ الشرح سے مدد لیتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ مَعَ الْعُسرِ یُسْرًا (سورۃ الم نشرح۔6)
ترجمہ: بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
تسکینِ دل کی خاطر اس آیت سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ خود پریشانی کے بعد آسانی کی خوشخبری سنا رہا ہو۔ قرآنِ حکیم میں صبر کا ذکر شکر کی نسبت زیادہ ہوا ہے۔ مگر درجہ کے اعتبار سے دونوں یکساں ہیں۔ مصائب پر صبر و تحمل سے اللہ کی شکر گزاری ادا کرنے کا عظیم مقام و مرتبہ ہے۔ یہاں پر عربی شاعر کے قول کا ترجمہ بیان کرتے ہیں ’’ میرے نفس کے لیے اس کے مرض کا راز فاش ہو گیا تو نفس نے اس کو منظر ِ عام پر لانے سے روگردانی کا رویہ اختیار کیا اور شکر و حمد کا دامن پکڑ کر اس سے دل کھول کر اپنے شکوے گلے بیان کر ڈالے۔ ‘‘ 

یہاں شاعر یہ بیان کر رہا ہے کہ جب اس کو نفس کے ناسور کا پتہ چلا تو اس نے ان تمام ناسور سے جان چھڑوا لی اور اللہ سے محبت و عشق میں شکوے گلے سے مراد گفتگو ہے۔
اشفاق احمد اپنی کتاب ’من کا سودا‘ میں لکھتے ہیں کہ مومن وہ ہے جو اللہ کی مانتا ہے اور اللہ کی ماننے سے مراد ہے کہ اللہ کے فیصلے پر سرِ تسلیم خم رکھنا چاہیے جو مزاجِ یار میں آئے۔ اللہ سے اس کے عشق کی نعمت کا سوال کرتے رہنا چاہیے اور اگر نصیب ہوجائے تو سلامتی کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

صبر و شکر کی راہ پر استقامت میں مددگار کون؟

صبر و شکر نفسِ مطمئنہ کی علامت ہے۔ نفسِ مطمئنہ کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ اے نفسِ مطمئنہ! لوٹ اپنے ربّ کی طرف ایسی حالت میں کہ وہ تجھ سے راضی ہو اور تو اس سے راضی ہو۔ پس میرے بندگانِ خاص کے حلقے میں شامل اور میری جنت (قرب و وصال) میں داخل ہو جا۔‘‘ (سورۃ الفجر۔27-30)
 اس آیت مبارکہ میں ’بندگانِ خاص کے حلقے‘ میں شمولیت سے مراد ہے کسی مردِ کامل کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کی صف میں شامل ہونا۔ مردِ کامل یا مرشد کامل اکمل کی بیعت انسان کے نفس کے ناسور باہر نکالنے، مسلمان کومومن بنانے اور راہِ حق پر استقامت میں مددگار ثابت ہوگی۔سیدّنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں:
تو نابینا ہے‘ تو اس کو تلاش کر جو تیرا ہاتھ پکڑ لے، تو جاہل ہے تو ایسے علم والے کو تلاش کر اور جب تجھے ایسا قابل مل جائے تو پس اس کا دامن پکڑلے اور اس کے قول اور رائے کو قبول کر اور اس سے سیدھا راستہ پوچھ۔ جب تو اس کی رہنمائی سے سیدھی راہ پر پہنچ جائے گا تو وہاں جا کر بیٹھ جا تاکہ تو اس کی معرفت حاصل کرلے۔ (الفتح الربانی مجلس۔ 4)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ تمام سلاسل کے امام ہیں اورتمام سلاسل بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے گزر کر ہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچتے ہیں۔ جس مرشد کامل اکمل کا سلسلہ بیعت در بیعت اور کڑی در کڑی حضرت علیؓ کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام تک پہنچتا ہے اسے فقر کی اصطلاح میں شیخِ اتصال کہتے ہیں۔ اس لیے جو طالب تزکیہ نفس، دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدیؐ کو پانے کی غرض سے بیعت اختیار کرتا ہے اسکا روحانی تعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے وسیلہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قائم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایسے مرشد کامل کی اتباع میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع سے مراد ربّ تعالیٰ کی اتباع ہے۔ موجودہ دور میں وہ شیخِ کامل مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جن کے دستِ اقدس پر بیعت کے بعد اخلاصِ نیت اور استقامت سے عشقِ الٰہی کی راہ پر چلنے والے طالب کو مجلسِ محمدیؐ کی حضوری نصیب ہوتی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نہ صرف روحانی تعلق قائم ہوتا ہے بلکہ فیض بھی حاصل ہوتا ہے۔ انسان پر سب سے پہلا حق اس کے مالکِ حقیقی کا ہے۔ آیئے وقت ضائع کیے بغیر راہِ حق پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کر کے دنیا اور آخرت آسان بنا لیں۔

کہہ رہا ہے بہتا دریا وقت کا
قیمتی ہے لمحہ لمحہ وقت کا
اہل ِہمت اپنی منزلیں پائیں گے
جو ہیں کاہل پیچھے وہ رہ جائیں گے 

حاصل تحریر:

صبرو شکر کے جذبے کو اگر آسان اور واضح الفاظ میں سمجھنا مقصود ہو تو یہ شعر ملاحظہ فرمایئے:

رہ تقویٰ صبر و شکر راضی بخدا
این چنین تقویٰ بود باطن صفا

ترجمہ: باطنی تقویٰ ،صبرو شکر اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنے کا نام ہے۔ یہی وہ تقویٰ ہے جس سے باطن کی صفائی نصیب ہوتی ہے۔
 اللہ عزوجل سے دُعا ہے کہ اللہ ہمیں ہمارے مرشد کے وسیلہ سے اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنائے اور مرشد کریم کے ساتھ تا ابد وفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

13 تبصرے “صبرو شکر | Sabr o Shukar

  1. اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
    لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ یعنی اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا۔

  2. حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
    جو شخص مصیبت پر شکر کرتا ہے وہ ایسا خوش ہوتا ہے گویا اس کو کوئی مصیبت پیش نہیں آئی۔

  3. وَ اللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔(سورۃ البقرہ۔249)
    ترجمہ: اور اللہ صابرین کے ساتھ ہے۔

  4. جو شخص مصیبت پر شکر کرتا ہے وہ ایسا خوش ہوتا ہے گویا اس کو کوئی مصیبت پیش نہیں آئی۔

  5. جب کوئی شخص کسی مشکل وقت سے گز رہا ہو تو تو اسے چاہیے کہ بغیر شکوہ کیے اپنا رخ ربّ تعالیٰ کی جانب رکھے۔

  6. ’’صبر کرنا سیکھ لیں، اللہ سب جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے آپ کن دقتوں سے گزر رہے ہیں۔ یقین کریں وقت بد ل جائے گا کیونکہ تبدیلی کائنات کا اصول ہے۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں