رضائے الٰہی کا حصول کیوں ضروری ہے؟ | Raza e Ilahi kiun Zaroori hai


3/5 - (2 votes)

رضائے الٰہی کا حصول کیوں ضروری ہے؟

تحریر: مسز انیلا یاسین سروری قادری۔ (لاہور)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اور پھر اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے بڑھ کر) ہے یہی زبردست کامیابی ہے۔ (سورۃ التوبہ۔72)
وہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کے لیے نباتات و حیوانات پیدا کئے اور ساری کائنات کو آراستہ فرمایا۔ اپنے نور کی تجلیات کے رنگ بکھیرے اور ہر عالم کو سجایا۔ اسی اللہ نے انسان کو بِن مانگے ہر نعمتِ عظیم سے نوازا اور خود بھی اشرف المخلوقات انسان کے وجود میں مخفی راز بنا۔ الرسالۃ الغوثیہ میں سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا: اے غوث الاعظمؓ! انسان میرا راز اور میں انسان کا راز ہوں۔ اگر انسان جان لے کہ اس کا مرتبہ میرے نزدیک کیا ہے تو ہر سانس میں کہے کہ آج کے دِن ساری بادشاہت میرے سوا کسی اور کو سزاوار نہیں۔ (الرسالۃ الغوثیہ)
 بیشک اللہ ہی خالق و مالک اور معبودِ برحق ہے۔ اس لیے اب انسان کے لیے یہ فرض ہے کہ وہ صرف اللہ کو ہی اپنا معبودِ برحق مانے اور اس کی رضا کو مقدم رکھے۔ 

رضا کیا ہے؟ 

مختارِ کلُ نورِ ھوُ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’وہ شخص ایمان کا مزہ چکھ لیتا ہے جو اللہ کے پروردگار ہونے پر راضی ہو۔‘‘  (صحیح مسلم)  

سیدّنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: 
 جو کوئی تسلیم و رضا کے فرش پر بیٹھا ہو اسے اللہ کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف، تکلیف نہیں لگتی۔ جو سوال کی عادت بنا لیتا ہے وہ کسی حال میں بھی اللہ سے خوش نہیں رہتا۔ (عوارف المعارف)
سیدّنا امام حسینؓ فرماتے ہیں:
رضا ایک ایسی کیفیت ہے جو غم کو رخصت اور غفلت کو ختم کر دیتی ہے۔ (کشف المحجوب)
سیدّنا غوث الاعظمؓ مقامِ رضا کے بارے میں فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی رضا پر اعتراض کرنا، جو کہ عزت و جلال والا ہے، نزولِ تقدیر کے وقت دین اور توحید کی موت ہے اور توکل و اخلاص کی موت ہے اور یقین و روح کی موت ہے۔ مومن بندہ چوں و چرا کو نہیں جانتا بلکہ وہ صرف ہاں کہتا ہے اور سر جھکا دیتا ہے۔ (الفتح الربانی۔ مجلس1)
حضرت شیخ ابنِ عطاؒ فرماتے ہیں:
رضا کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کے لیے روزِ از ل سے جو مقرر کر دیا ہے اُس کا دل اس پر مطمئن ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جو کچھ انتخاب کیا ہے اس سے بہتر کوئی انتخاب نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس پر راضی رہنا اور کسی قسم کی ناراضی و ناگواری کا اظہار نہ کرنا رضا ہے۔ (عوارف المعارف)
حضرت شیخ حارثؒ فرماتے ہیں: حکمِ الٰہی کے تحت قلب کے مطمئن ہو جانے کا نام رضا ہے۔
روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا سے پوچھا گیا: اللہ کی رضا کیا ہے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہا نے فرمایا: ’’جب بندہ مصیبت پر اسی طرح خوش ہو جیسے وہ نعمت و راحت پر خوش ہوتا ہے۔‘‘ (عوارف المعارف)
حضرت شیخ حارث محاسبیؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے احکام جاری ہونے کے وقت دل کا پُرسکون رہنا رضا ہے۔‘‘ (کشف المحجوب)
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں: ’’رضا یہ ہے کہ بندہ کو کسی ناگوار صورتحال میں بھی بالکل ناگواری کا احساس نہ ہو اور وہ اللہ کی رضا میں راضی رہے۔‘‘ (اللہ تعالیٰ سے روحانی تعلق)
مرکزِ فقر مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے فرامین مبارک ہیں:
رضا وہاں ہوتی ہے جہاں سوال نہ ہو۔
رضا کی حقیقت یہ ہے کہ سالک اس امر پر پورا یقین رکھے کہ ہر چیز کی عطا یا مناہی اللہ کی مشیت اور ارادہ ہے۔ دنیا اور راہِ سلوک میں اس کی بہتری اسی بات میں ہے کہ ہر بات میں خوف اور امید میں رہے۔ اطاعت کے وقت اس پر فخر نہ کرے اور مصیبت کے وقت اس کے در سے مایوس نہ ہو۔ (سلطان العاشقین)

رضائے الٰہی کے ثمرات 

اللہ مالک ہے اور بندہ اس کا غلام۔ اصل غلامی کا حق بھی صرف وہی ادا کر سکتا ہے جس کی نظر ہمیشہ مالک کی رضا و خوشنودی پر رہے، وہ مالک کی رضا کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دے اور بدلے میں کسی منصب کی طلب نہ رکھے۔ ایسا غلام ہی مالک کا عزیز اور نورِ نظر رہتے ہوئے حقیقی قرب حاصل کرتا ہے۔ اللہ کا کسی بندے سے راضی ہو جانا درحقیقت اس بندے کا مقامِ محبوبیت کو پالینا ہے کیونکہ رضائے الٰہی کا طالب ہمیشہ ہر حال، ہر سوچ اور ہر فکر میں صرف اپنے آقا کا ہی طلبگار رہتا ہے۔ اسے زمانے کی کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی اور زمانے سے بے نیاز صرف مالک کی رضا میں مگن اور مست رہتا ہے۔ جو انسان رضائے الٰہی کے لیے کوشش کرتا ہے ان کے لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے ربّ کی طرف سے خصوصی رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پر ہیں۔ (سورۃ البقرہ۔ 157)
ہاں جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا وہ محسن (مرتبہ احسان تک پہنچنے والا یعنی اللہ کا دیدار کرنے والا) ہے اور اس کے لیے اپنے ربّ کی طرف سے اجر ہے اور اس کے لیے نہ کچھ خوف ہے اور نہ کوئی غم۔ (سورۃ البقرہ۔112)
سیدّنا عباسؓ بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے پروردِگارِ عالم (لائق عبادت) ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیغمبر ہونے پر راضی ہو گیا۔‘‘ (صحیح مسلم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت سے پوچھا: ’’تم کیا ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’ہم مومن ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :’’تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ہم ابتلا پر صبر کرتے ہیں، فراخی میں شکر کرتے ہیں اور قضائے الٰہی کے مقام پر راضی رہتے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ربّ کعبہ کی قسم! تم واقعی مومن ہو۔‘‘ (مکاشفتہ القلوب)
حضرت موسیٰؑ کے حالات میں ہے کہ بنی اسرائیل نے ان سے کہا : ’’اپنے ربّ سے ہمارے لیے یہ معلوم کیجیے کہ جب ہم یہ عمل کریں گے تو کیاوہ ہم سے راضی ہو جائے گا؟‘‘ حضرت موسیٰؑ نے کہا: ’’اے میرے اللہ تعالیٰ! آپ نے سن لیا جو وہ کہہ رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے موسیٰؑ !ان سے کہہ دو کہ وہ مجھ سے راضی رہیں، میں ان سے راضی ہوں۔‘‘ (مکاشفتہ القلوب)
حضرت خواجہ حسن بصریؓ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے میں تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔‘‘ (اللہ تعالیٰ سے روحانی تعلق)
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
 ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی قدر اور رضا پر راضی ہو کرصبر کرتا ہے اس کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار مدد ہے اور آخرت میں بے شمار نعمت ۔‘‘ (الفتح الربانی)
حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

کشتگانِ خنجر تسلیم را
ہر زمان از غیب جانِ دیگر است

ترجمہ: تسلیم و رضا کے خنجر سے ذبح ہونے والوں کو ہر لمحے غیب سے نئی زندگی ملتی ہے۔ (عین الفقر)
حضرت شہاب الدین سہروردیؒ فرماتے ہیں: ’’بندۂ حق کو جب رضائے الٰہی پر اطمینان حاصل ہو جاتا ہے تو رضا بھی اس کا مقام بن جاتا ہے۔‘‘ (عوارف المعارف)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
مقامِ رضا فقر کی منزل میں سے بہت بڑی منزل ہے اور مقامِ رضا کے بعد ہی باطن کے دو اہم اور آخری مقامات مشاہدہِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدیؐ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ (شمس الفقر)
مقامِ رضا پر پہنچ کر اللہ مومن کو اپنے خاص نور یعنی لقائے الٰہی سے سرفراز کرتا ہے اور ان کو ایک نئی زندگی ہر لمحہ غیب سے عطا ہوتی ہے۔ (سلطان العاشقین)
بے شک جوانسان خلوصِ نیت اور محبت سے رضائے الٰہی کے لیے جدوجہد کرتا ہے وہ ضرور بالضرور اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہو کرقرب ودیدارِ الٰہی کی نعمت سے فیض یاب ہوتا ہے۔

 رضائے دنیا ذلت و خواری کے سوا کچھ نہیں

جو انسان رضائے الٰہی سے منہ موڑتے ہیں اور اہلِ دنیا کی رضا میں مگن رہتے ہیں ان کے لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
جواللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بناتے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے جس نے اپنے لیے جالے کا گھر بنایا، اور بیشک سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھرہے۔ (سورۃ العنکبوت۔41)
اور مت رجوع کرو ظالموں کی طرف ورنہ ان کے ظلم کی آگ تمہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ (سورۃ ھود۔ 113)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جو میری قضا پر راضی نہیں ، میرے امتحان پر صابر نہیں ، میری نعمتوں پر شاکر نہیں اور میری عطا پر قانع نہیں وہ میرے سوا کوئی اور ربّ تلاش کر لے۔ (مکاشفۃ القلوب)
حدیثِ نبویؐ ہے:
جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے راضی نہیں ہوتا اس کا دِل ہمیشہ پریشان رہتا ہے، اور اس کا جسم مشقت کا شکار رہتا ہے۔ (کشف المحجوب)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف مبارکہ ’عین الفقر‘ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حدیث مبارک یوں تحریر فرماتے ہیں:
جو شخص کسی ظالم کا چہرہ ( محبت سے) دیکھتا ہے تو اس سے دین کا تیسرا حصہ چلا جاتا ہے۔ (عین الفقر)
حضرت خواجہ حسن بصریؓ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرنے والی ہستی کو چھوڑ کر دنیا کی طرف راغب ہونا مردہ دلی ہے جو تباہی کا باعث ہے۔‘‘ (اللہ تعالیٰ سے روحانی تعلق)
سیدّنا غوث الاعظمؓ  فرماتے ہیں:
جب تو کسی چیز (غیر اللہ) کی طرف متوجہ رہے گا قرب اور فضلِ الٰہی کی راہ تجھ پر نہیں کھلے گی۔ (فتوح الغیب۔مقالہ52)
اے بھلائی سے غائب ہونے والو! دنیا میں مشغول ہونے والو! عنقریب دنیا تم پر حملہ کر دے گی اور تمہارا گلہ گھونٹ دے گی اور تم نے جو کچھ باتوں سے جمع کیاوہ تمہیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور وہ تمام لذتیں جن سے تم مزے اڑاتے تھے کچھ کام نہ دیں گی بلکہ یہ تمام کا تمام تمہارے اوپر وبال ہی وبال ہو گا۔ (الفتح الربانی۔ مجلس18)
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے غیر سے راضی ہونا خسارے اور ہلاکت کا باعث ہے۔‘‘ (کشف المحجوب)
شانِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا فرمان مبارک ہے:
مخلوق کی خوشنودی کے لیے اللہ تعالیٰ کو ناراض نہ کرو، اگر اللہ تعالیٰ سے تمہارا رشتہ کٹ گیا تو کوئی بھی تمہارے کام نہیں آسکتا۔ (سلطان العاشقین)
بیشک رضائے دنیا کا حصول انسان کو کبھی بھی اورکسی بھی حالت میں کوئی فائدہ نہ دے گابلکہ ذلت و رسوائی کا موجب بنے گا۔

رضائے الٰہی کا حصول کیسے ممکن ہے؟

رضائے الٰہی کا حصول باطنی پاکیزگی، عشقِ الٰہی اور اخلاص کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ عشق وہ جذبہ ہے جو رضائے الٰہی کے حصول کی راہ میں حائل ہر آزمائش و رکاوٹ میں استقامت عطا کرتا ہے۔
حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ  اللہ علیہ فرماتے ہیں: 

جنہاں عشق خرید نہ کیتا باھوؒ، اوہ دوہیں جہانیں مارے ھوُ

مفہوم:جنہوں نے جان و مال کے عوض عشق کا سودا نہ کیا وہ دونوں جہانوں میں ناکام و نامراد ہو گئے۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں:
یہ عشق ہی ہے جو مجلسِ محمدیؐ کی حضوری عطا کرتا ہے عقل تو اس کا انکار کرتی ہے۔ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات وتعلیمات)
میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں:

جنہاں عشق خرید نہ کیتا عیویں آ بُھگتے
عشقے باہجھ محمد بخشا کیا آدم کیا کتے

ترجمہ: جنہوں نے اس دنیا میں عشق کا سودا نہ کیا اُن کی زندگی فضول اور بیکار گزری اور عشق کے بغیر آدم اور کتے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (شمس الفقرا)

الغرض کوئی طالب اس وقت تک اپنا مطلوب حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے مقصد میں جنون کی حد تک مگن نہ ہو جائے۔ قرب و رضائے الٰہی بھی  ایک کسوٹی ہے، جب تک طالب خود کو داؤ پر نہیں لگا لیتا تب تک اپنا مطلوب نہیں پا سکتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے خود کو قربان کر دینا جذبۂ عشق کی بدولت ممکن ہے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں:
یہ عشق ہی ہے جو تمام خاندان کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے دردی اور سنگدلی سے کربلا کے میدان میں ذبح ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ عقل تو اس کا انکار کرتی ہے اور جان بچانے کا حکم دیتی ہے۔ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات وتعلیمات)
آج کا انسان اگر رضائے الٰہی پانا چاہتا ہے تو اُسے جنت کے نوجوانوں کے سردار، امام الشہدا سیدّناحضرت امام حسینؓ کی حیاتِ طیبہ کو اپنانا ہوگا۔ رضائے الٰہی کے حصول کی جو مثال سیدّنا امام عالی مقامؓ نے رقم فرمائی اس کا نہ کوئی ثانی ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہماری نیتوں میں اخلاص کیسے پیدا ہو؟ اور جذبہ عشق کی نعمت کیسے حاصل ہو؟
 حضرت سخی سلطان باھوُفرماتے ہیں:
جو طالب مشقِ مرقومِ وجودیہ اور اسمِ اللہ ذات کا تصور ہمیشہ کرتا ہے اس کے وجود سے طمع، حرص، عجب و کبراور ناشائستہ خصائل کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خناس، خرطوم و خطرات مرجاتے ہیں۔ اسمِ اللہ ذات کے تصور کے غلبات سے جس کا قلب پاک ہو جاتا ہے وہ خناس و خرطوم اور شیطان سے خلاصی پا لیتا ہے اور اللہ کیساتھ دائمی مخلص، روشن ضمیر اور نفس پر حاکم ہو جاتا ہے۔ (قربِ دیدار)

اسمِ اللہ ذات کیاہے؟ 

مرکزِفقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں: ’’یہ اللہ کا ذاتی نام ہے جس کے وِرد سے بندے کااپنے ربّ سے خصوصی اور ذاتی تعلق قائم ہوتا ہے۔‘‘  (ابیاتِ باھوؒ کامل )

اسمِ اللہ ذات کس سے حاصل کرنا چاہیے؟

ہر علم استاد یا رہبر کی اطاعت سے ہی سیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی راہ کا علم بھی اللہ والے ہی سکھا اور سمجھا سکتے ہیں۔ چونکہ راہِ حق باطن کی راہ ہوتی ہے اور باطنی قفل ذکروتصور اسمِ اللہ ذات سے ہی کُھلتے ہیں چاہے ساری عمر ریاضت و عبادات میں گزر جائے۔
یاد رہے ہمیشہ وہی ذکروتصور اسمِ اللہ ذات ہی طالب کو کامیاب کر سکے گا جو سروری قادری صاحبِ مسمیّ مرشد کامل مکمل سے حاصل کیا گیا ہو۔ کیونکہ مرشد کامل مکمل کے بغیر محض علمِ باطن کی کتابوں سے پڑھے گئے ورد و وظائف سے طالب کو اپنا مطلوب ہرگز حاصل نہ ہو گا بلکہ ایسا کرنااس کے لیے تنگدلی، پریشانی اور غربت کا باعث بنے گا۔ 

اللہ پاک کا احسانِ عظیم ہے کہ جو اُس رحیم وکریم ربّ العزت نے آج کے گمراہ کن دور میں بھی اپنی مخلوق پر بھلائی فرماتے ہوئے اپنے محبوب ومقرب فقیرِ کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا ظہور فرمایا۔ آپ مدظلہ الاقدس صاحبِ  مسمیّ سروری قادری مرشد کامل جامع نور الہدیٰ ہیں یعنی آپ مدظلہ الاقدس اللہ کے اسم سے اس کی ذات تک کا سفر طے کرواتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس متلاشیانِ حق کو بیعت اور بغیر بیعت کے ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات عطا فرما کر ان کا باطنی تعلق اللہ سے جوڑ دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں آپ مدظلہ الاقدس کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ کی صحبت میں ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات کرنے والے ہزاروں، لاکھوں متلاشیانِ حق رضائے الٰہی کی نعمت کو پاتے ہوئے قربِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری پا چکے ہیں۔ اس کے لیے طالب کی طلب کا درست ہونا اور نیت میں صدق و اخلاص ہونا ضروری ہے وگرنہ جاسوس اور بدنیت انسان پر اللہ بھی رحم نہیں فرماتا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی شانِ ولایت اور بلند وبالا کامل تصرفات عقل کے محدود دائرے میں نہیں سما سکتے اور میرا قلم انہیں تحریر کرنے سے قاصر ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے ایک صادق مرید نے کیا خوب لکھا ہے: ’’جو اخلاص کے ساتھ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی کنہہ کو پالیتا ہے وہ صرف یہی کہتا ہے، ھوُ  کی حقیقت ھوُ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور ھوُ ہی ھوُ  کی تعریف کا سہرا باندھ سکتا ہے۔‘‘ (سلطان العاشقین)

آنکھ والا تیری قدرت کا تماشہ دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر، کیا دیکھے

استفادہ کتب:
الرسالۃ الغوثیہ تصنیفِ لطیف سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ
عین الفقر تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھوؒ
ابیاتِ باھوؒ کامل تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس 
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات وتعلیمات  تصنیف  ایضاً
سلطان العاشقین  ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور
عوارف المعارف تصنیف حضرت شہاب الدین سہروردیؒ
کشف المحجوب تصنیف حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ
مکاشفتہ القلوب تصنیف حجتہ الاسلام ابوحامد امام غزالیؒ
اللہ تعالیٰ سے روحانی تعلق مرتب سیدّ مقبول حسین

 

11 تبصرے “رضائے الٰہی کا حصول کیوں ضروری ہے؟ | Raza e Ilahi kiun Zaroori hai

  1. مرشد کامل مکمل کے بغیر محض علمِ باطن کی کتابوں سے پڑھے گئے ورد و وظائف سے طالب کو اپنا مطلوب ہرگز حاصل نہ ہو گا بلکہ ایسا کرنااس کے لیے تنگدلی، پریشانی اور غربت کا باعث بنے گا

  2. اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین❤❤❤

  3. اور پھر اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے بڑھ کر) ہے یہی زبردست کامیابی ہے۔ (سورۃ التوبہ۔72)

  4. مختارِ کلُ نورِ ھوُ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’وہ شخص ایمان کا مزہ چکھ لیتا ہے جو اللہ کے پروردگار ہونے پر راضی ہو۔‘‘ (صحیح مسلم)

    1. جنہاں عشق خرید نہ کیتا عیویں آ بُھگتے
      عشقے باہجھ محمد بخشا کیا آدم کیا کتے

  5. رضائے الٰہی کا حصول باطنی پاکیزگی، عشقِ الٰہی اور اخلاص کے بغیر ممکن نہیں۔

  6. اللہ مالک ہے اور بندہ اس کا غلام۔ اصل غلامی کا حق بھی صرف وہی ادا کر سکتا ہے جس کی نظر ہمیشہ مالک کی رضا و خوشنودی پر رہے، وہ مالک کی رضا کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دے اور بدلے میں کسی منصب کی طلب نہ رکھے۔ ایسا غلام ہی مالک کا عزیز اور نورِ نظر رہتے ہوئے حقیقی قرب حاصل کرتا ہے۔

  7. مرکزِ فقر مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے فرامین مبارک ہیں:رضا وہاں ہوتی ہے جہاں سوال نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں